Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 9
Rate this Novel
Imtehaan Episode 9
آج فرحانہ کا نکاح تھا فاریہ رات سے ہی اس میں شرکت کرنے شہلا اور شاہجہان کے ہمراہ آگئی تھی شاہ جہان کو زبیدہ بيگم نے خاص فون کر کے بہت عزت دے کر اس میں مدعو کیا تھا وہ زندگی میں پہلی بار سسرال سے عزت ملنے پر بہت مشكور تھا وہ بیوی اور بیٹی کو لیئے سمجھو سر کے بل چل کر آیا تھا وہ تمام انتظامات میں پیش پیش تھا زبیدہ بيگم کا کام شاہ جہان نے مانو آدھا کر دیا تھا وہ اتنی ذمہ داری سے بنا کہے سارے کام نپٹا رہا تھا
شاہ جہاں کی خوش دلی اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت تھی کہ عزت کی بھوکی صرف بہو ہی نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات ہم داماد کو بھی اس عزت سے محروم رکھ کر اپنی ہی بیٹی کی ازدواجی زندگی کوجہنم بنا دیتے ہیں ۔۔۔۔
بہو ہو یا داماد بہرحال سسرال کی طرف سے ذرا سی اہمیت اور توجہ ان کو نہال کردیتی ہے کچھ رشتے ہمارے پیار کے نہی ہماری عزت،توجہ،لحاظ اور خاص کر خاص اہمیت کے خوا ہاں ہوتے ہیں اور بہو اور داماد کا تعلق اسی قسم میں ہوتا ہے ۔۔۔
نکاح ظہر کے بعد رکھا گیا تھا زبیدہ بيگم نے ضروری ضروری قریبی رشتہ داروں کو مدعو کیا تھا باراتی 12بجے تک سیف کے گھر آ چکے تھے ادھر بھی مہمانوں میں بہتات نہی تھی ریحانہ بيگم کی شکل پر صاف پڑھا جا سکتا تھا کہ وہ زبردستی کی مہمان بنا کر لائی گئیں ہیں وہ ایک سائیڈ پر منہ بنا کر بیٹھ گئی تھیں
عثمان فرحانہ کو اپنی زوجہ بنا کر کسی فاتح کی طرح وہاں موجود لوگوں سے مبارک باد سمیٹ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ محبت بہت خوش نصیب ہوتی ہے جسے نکاح نامے پر دستخط کرنا نصیب ہوتا ہے ۔۔۔۔
شہلا جدید طرز کا لباس پہنے کہیں سے بھی معمولی نہی لگ رہی تھی وہ زبیدہ بيگم کے پاس ان کے پہلو میں جا کر بیٹھی بہت محبت سے ان سے باتیں کر رہی تھی جب سیف جو کہ آج معمول سے کافی زیادہ ہنڈسم لگ رہا تھا شہلا پر ایک نظر ڈال کر ماں سے مخاطب ہوا تھا
“امی ۔۔۔۔کھانا ہو گیا ہے موسم کو مدنظر ركهتے ہوۓ کشمیری چاۓ بنوانے کا آرڈر دیا تھا وہ لینے جا رہا ہوں۔۔۔باقی سب کو کھانا اپنی نگرانی میں کھلا چکا ہوں آپ بے فکر رہیں ۔۔۔۔
وہ سعدت مندی سے بول رہا تھا
“مامی میں بھی جاؤں سیف کے ساتھ ؟؟؟”
شہلا سیف کے بات مکمل کرتے ہی بولی تھی
“ہاں بیٹا جاؤ ۔۔۔۔میری بیٹی ۔۔۔”
وہ سر پر ہاتھ پھیر کر خلوص سے گویا ہوئی تھیں ۔۔۔
شہلا بال کندھوں پر سیٹ کر کے اٹھی تھی سیف حیرانگی سے اسے دیکھتا رہ گیا
“امی میں نے شہلا کو نہی لے کر جانا میرے ساتھ میرے دوست ہو گے ۔۔۔میں کام سے جا رہا ہوں ۔۔۔دوسرا اس کا حلیہ تو دیکھیں ۔۔۔۔اس حلیہ میں یہ میرے ساتھ مردوں کے ہوٹل جائے گی ؟؟؟”
“دوپٹہ لے لی گی سیف ۔۔ میں چادر دے دیتی ہوں اپنی ۔۔۔دوستوں کو مت لے کر جاؤ نہ بچی کا دل ہے لے جاؤ “
زبیدہ بيگم کا ہر لفظ محبت میں ڈوبا ہوا تھا
“امی میرا دماغ نہ خراب کریں”
سیف باہر نکل گیا تھا
“شہلا بیٹا میں فاریہ اور شاہ جہان سے بات کرتی ہوں کہ کچھ دن تم لوگ یہاں میرے پاس رک جاؤ ۔۔۔پھر گاڑی اپنی ہے کل ساری تیاری کر کے کھانا شانا بنا کر گھومنے چلے گے ۔۔۔۔کھانا ساتھ لے جائے گے ۔۔۔
شہلا کو یہ آپشن زیادہ پسند آئی تھی وہ زبیدہ بيگم کے گلے لگی تھی
نکاح کے بعد سارے مہمان جا چکے تھے شاہ جہان نے فاریہ اور شہلا کو دو دن رکنے کی اجازت دے دی تھی مگر اپنی مصروفیت بتا کر وہ عثمان لوگوں کے ساتھ ہی وہ لاہور چلا گیا تھا
رات کا کھانا کھا کر سیف کی چاروں بہنیں شہلا کے ساتھ گپ شپ کرنے میں مصروف تھیں جبکہ فاریہ زبیدہ بيگم کو اپنے دکھڑے سنانے میں مشغول تھیں ۔۔۔۔
سیف حسب عادت بہنوں کے پاس آکر بیٹھا تھا وہ فرحانہ کو پیار دے کر مبارک باد دے کر رو دیا تھا
سیف کو روتا دیکھ چاروں بہنیں بھائی کو چپ کروانے اس کے گرد جمع ہوئی تھیں
سیف میں بہنوں کی جان بستی تھی ۔۔۔چھوٹا بھائی بھی ان کو عزیز تھا مگر جس طرح سیف نے خود بچہ ہو کر باپ کے بعد ان کو باپ بن کر رکھا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ سیف کو باپ کے درجے پر رکھتی تھیں اس کا رونا ان کے دل پر لگا تھا
“آپی مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں اپنی حرکت پر ۔۔۔۔مجھے نفرت ہونے لگی ہے اپنے وجود سے ۔۔۔جب سے آپ پر ہاتھ اٹھایا ہے ۔۔۔دل کرتا ہے یہ ہاتھ کاٹ کر ۔۔۔اسے سزا دوں ۔۔۔آپ پر اٹھنے کی ۔۔ “
وہ اب اپنا ہاتھ دیوار پر لگاتار مار رہا تھا
زبیدہ بيگم شور سن کر فورا فاریہ کے ہمراہ وہاں آئی تھیں
“وہ بیٹے کو گلے لگا کر ریلکس کر رہی تھیں”
“بھائی مجھے آپ سے کوئی شکایت نہی ۔۔۔۔بس اتنا کہوں گی ۔۔۔بہنیں بھی دل ركهنے والی،سانس لیتی،جیتی جاگتی انسان ہوتی ہیں ۔۔۔۔ہماری کچھ چاہتیں ہمیں گمراہ کر بھی دیں تو اس میں ہم بے بس ہوتی ہیں ۔۔۔۔ہم بھی تو انسان ہوتی ہیں نہ ۔۔۔۔خطا کار انسان ۔۔۔”
“مگر بھائیوں کو اپنی عزت بہن کے کندھے پر بندوق رکھ کر ہی کیوں بنانی ہے ؟؟؟”
“اس کو ایسا کیوں لگتا ہے اگر بہن نے کسی کو پسند کر لیا اور وہ اس بات پر خاموش رہا تو وہ بے غیرت بھائی ہے ؟؟؟”
“کیا صرف بہن کو اس کی خوشی سے باز رکھ کر ہی بھائی کی مردانگی ثابت ہوگی ؟؟؟”
“بھائی کو اگر کوئی پسند آجاتی ہے ہم بہنیں تو اسے اسی لمحے بھابھی مان لیتی ہیں اور اسے بھابھی بھابھی کہتے نہی تهكتیں پھر ایک بہن اپنی پسند اپنے بھائی کو کیوں نہیں بتا سکتی؟؟؟اس کو یہ ڈر کیوں ہوتا ہے کہ اس بات کو بھائی برداشت نہی کرے گا ؟؟؟ اسے چھپانے پر مجبور کرتا کون ہے ؟؟؟”
“بہن کی پسند کو بے باکی کیوں سمجھا جاتا ہے؟؟؟”
“کوئی لڑکی پسند آجانے پر لڑکے فخر سے اپنے دوستوں سمیت اپنے گھر میں بھی سب کو کسی معرکے کی طرح بتا رہے ہوتے ہیں جس کی بات کی جا رہی ہوتی ہے کیا وہ کسی بھائی کی غیرت نہی ہوتی ؟؟؟”
“ہمیشہ بہن،بیٹی ،بیوی غیرت کے نام پر قتل ہوتی آ رہی ہے کبھی مرد ذات کسی بھی مقام پر غیرت کے نام پر ونی یا قتل کیوں نہی ہوا ؟؟؟ بیٹے یا بھائی کی باری بے غیرتی کیوں برتی جاتی ہے؟؟؟؟؟؟؟”
“تب نظریں کیوں نہی جھکتیں ؟؟؟؟”
“بیٹی سے انسان ہونے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے وہ کوئی غلطی کر ہی نہی سکتی کیوں کہ وہ صِنف نازک ہے تو کیا اس کے سینے میں دل نہی ہے ؟؟؟”
“جب لڑکے لڑکی کو چھپ چھپ کر بات کرنے، گھر والوں کو دھوکہ دینے کے طریقے بتا کر اپنی فتح کا جشن مناتے ہیں تب وہ کیوں نہی سوچتے کہ یہ مفيد مشورے ان کے گھر میں بیٹھی بہن كو بھی کوئی دے سکتا ہے ؟؟؟”
“بات اپنی بہن پر آئے تو بھائی اس پر ہاتھ اٹھاتے عمر کا فرق کرنا بھی بھول جاتا ہے چاہے اس بہن نے اپنی گود کی گرمی سے اس بھائی کو ماں بن کر پالا ہو ؟؟؟”
فرحانہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رونے لگی تھی
“مجھے معاف کردو فرحانہ ۔۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر اب نیچے بیٹھ گیا تھا
“بھائی ایک بات کا جواب دے دیں مجھے ۔۔۔صرف ایک بات کا جواب ۔۔۔۔پھر میں آپ کو معاف کردوں گی ۔۔۔”
“سیف نے سوالیہ نظروں سے بہن کو دیکھا تھا
“اگر عثمان مجھ سے نکاح نہ کرتا تو کیا آپ اس طرح مجھ سے اس وقت معافی مانگتے ؟؟؟”
“کیا میں پھر بھی آپ کی نظر میں باعزت ہی رہتی ؟؟؟”
اس سوال نے وہاں موجود سب لوگوں کو کشمكش میں مبتلا کیا تھا
“ہم بہنوں کا جب اعتبار ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوتا ہے نہ ۔۔۔تو وہ سب سے پہلے ہمارے ہاتھوں کو خون آلود کرتا ہے ۔۔۔تب ہمیں اپنوں کے مرهم کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔مگر ایسا نہی کیا جاتا ۔۔۔۔جن اپنوں نے سر پر ہاتھ رکھنا ہوتا ہے وہ ہی ہمیں پہلی پیشی میں سزائے موت کا پروانہ تهما دیتے ہیں ۔۔۔”
“To be Hanged till then death”
“کوئی یہ نہی سوچتا اس کا دل ٹوٹا ہے اس کو تو پہلے ہی سبق مل گیا ہے ۔۔۔۔اندھا اعتبار کرنے کا سبق ۔۔۔۔محبت کرنے کا سبق ۔۔۔۔آج کے اس نفرتوں کے دور میں مخلص رہنے کا سبق۔۔۔۔”
“مگر نہی ۔۔۔۔بھائی اور باپ اگر اس کو اپنے حصے کا ذلیل نہ کریں تو کیا وہ مرد کہلائیں گے ؟؟؟”
“مردانگی خطرے میں نہی پڑ جائے گی ؟؟؟؟”
“بہت فخر سے بتایا جاتا ہے فلاں نے بہن کو اس حرکت پر مار مار کر لہولہان کر دیا ہے ۔۔۔۔فلاں کسی کی بیٹی بهگا لایا ہے ۔۔۔۔اس بات پر کوئی کسی بیٹے کو لہولہان کیوں نہی کرتا ؟؟؟؟ کوئی بھائی کوئی، باپ بے غیرت کیوں نہی کہلواتا ؟؟؟”
“بس کردو فرحانہ ۔۔۔۔میں مزيد نہی سن سکتا”
سیف تڑپ کر بولا تھا
“میں بس کیا کروں بھائی ۔۔۔۔بس آپ بھائیوں کو بھی کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔کیوں کہ ہر فرحانہ سے ہر عثمان نکاح نہی کرتا ۔۔۔۔”
“آپ کو کیا لگتا ہے اللّه نے اگر بھائی اور باپ کو شادی سے پہلے بہن بیٹی کا سرپرست بنایا ہے تو صرف اس کا مطلب اتنا ہی نكلتا ہے کہ بہن بیٹی کی غلطی پر سب سے پہلے اسے بد چلنی کا سرٹیفیکٹ تهما دو ؟؟؟”
“میرا گناہ تو اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کچھ بدلہ ہے تو وہ عثمان كی طرف سے ۔۔۔میں تو اب بھی وہیں کھڑی ہوں پھر اب میں معتبر کیسے ہوگئی ہوں سیف میرے بھائی ؟؟؟؟”
“اگر ہر عثمان ہر فرحانہ کو اپنانے سے انکاری ہو جائے تو فرحانہ کدھر جائے گی ؟؟؟؟؟؟؟”
“مطلب ایک مرد ہی طے کرے گا کہ بہن،بیٹی کے ساتھ اس جرم پر کیا کیا کیا جائے ۔۔۔۔۔بس رشتہ بدلے گا کبھی بھائی کبھی باپ کبھی کوئی عثمان ؟؟؟؟”
“جس دن ہر لڑکی کی پسند کو اتنی ہی اہمیت دی جانے لگی جیسے ہر گھر میں لڑکے کی پسند کو دی جاتی ہے اس دن کوئی بھی عثمان اس بات کا فائدہ نہی اٹھائے گا کہ یہ اپنے گھر والوں سے چھپ کر بات کرتی ہے، اس سے غلط فرمائشیں کرتے ہیں”
“میں یہ نہی کہتی کہ گهروں میں بہن بیٹیوں کو کھلا چھوڑ دو بیٹے كی طرح ۔۔۔۔میں یہ چاہتی ہوں کہ بیٹوں کو بھی لگامیں ڈال دو ۔۔۔پل پل کا حساب رکھو جیسے بیٹیوں کا رکھتے ہو ۔۔۔کیوں کہ میرا اللّه بھی یہی کہتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ہی اپنی شرم گاہ کے محافظ ہیں ۔۔۔ان کو حکم دیا گیا ہے اس حفاظت کا ۔۔۔۔جب اللّه نے دونوں فریقین کو ایک جیسا حکم دیا ہے ۔۔۔۔۔۔
پھر بیٹے کے ہر گناہ کو معمولی کیوں سمجھا جاتا ہے ؟؟؟؟ جب خود خدا نے دونوں کے اس فعل پر برابری کی سزا رکھی ہے ؟؟؟”
“ارے دوسروں کی بہن بیٹیوں کو جب تک پامال کرنا نہی چھوڑو گے ۔۔۔۔۔۔اپنی بہن کی حفاظت تم نہی کر سکتے سات پردوں میں بھی چھپا کر دیکھ لو ۔۔۔۔۔۔”
“جب تک دھوکے کی فصل بھائی بوتے رہیں گے روز ایک فرحانہ وہ فصل کاٹتی رہے گی ۔۔۔۔
بس ۔۔۔ اور خاتمہ اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ آپ لوگ ہیں بھائی ۔۔۔۔کیوں کہ ہم بہنیں تو قرض چکانے کے لئے ہیں ۔۔۔۔۔”
فرحانہ آنسو صاف کرتے ہوۓ سیف کے سر پر ہاتھ رکھ کر کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔۔
سیف نے اپنا منہ گھٹنوں میں چھپا لیا تھا آج ایک مرد کا دل رو رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر کالج یونیفارم پہنے کچن میں ناشتہ کرنے آئی تھی
“بیٹا رات کیا ہوا تھا ؟؟؟اب طبیعت کیسی ہے ؟؟؟”
“امی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔بس تهکاوٹ کی وجہ سے سر چکرا گیا تھا”
“بیٹا عاشر کا فون آیا تھا جہاز ٹیک اف ہونے سے پہلے تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا”
“پھر آپ اٹھا دیتیں امی مجھے میں نے فجر پڑھنے بھی تو اٹھنا ہی تھا تھوڑی دیر تک ۔۔۔”
“جلدی میں تھا میں نے کہا سو رہی ہے تو کہتا کوئی بات نہیں مت اٹھائیں پہنچ کر کال کروں گا ۔۔”
سحر نے انڈے پراٹھے کے ساتھ ناشتہ شروع کیا تھا جب کاشف وہاں آیا تھا آنکھیں ملتا ہوا ۔۔۔
“کاشف تم کیوں جلدی اٹھ گئے اب تو فلحال میٹرک کے رزلٹ تک فری ہو نہ ۔۔۔مزے کرو ۔۔۔”
“آپی ماسٹر جی نے بلايا تھا آج کہہ رہے تھے وقت نہی ضائع کرنا ۔۔۔۔۔انہوں نے کوئی مصروفیت ڈھونڈی ہے میرے لیئے ۔۔۔جا کر پتہ چلے گا ۔۔۔امی نہانے جا رہا ہوں کوئی جوڑا استری کر دیں”
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی تھی کاشف دیکھنے گیا تھا
“السلام علیکم ۔۔۔”
وہ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس شخص جو 28 سے 30 کے درمیان ہوگا نہایت پیشہ ورانہ انداز میں بنا کسی تاثر کے بولا تھا
“جی وعلیکم السلام”
“کیا یہ مسز عاشر کا گھر ہے ؟؟؟”
کاشف اس سوال پر کچھ پریشان ہوا تھا
“جی ۔۔۔مگر آپ ؟؟؟”
“پریشان مت ہو ۔۔۔مجھے عاشر سر نے بھیجا ہے آج سے مسز عاشر کو کالج لانا لے جانے کا کام میرا ہوگا یہ میری گاڑی ہے میں عاشر صاحب کا ملازم ہوں “
کاشف نے کالی لش لش لینڈ کروزر کی طرف دیکھا تھا جو شاید آج کل میں ہی شوروم سے نكالی گئی تھی”
“عاشر سر کے بتاے گئے وقت کے مطابق تو ان کا ٹائم ہو چکا ہے”
وہ کالی مہنگی گھڑی کی طرف دیکھ کر بولا تھا
“جی میں بلا کر لاتا ہوں آپی کو”
کاشف بھاگ کر اندر کچن میں پراٹھے کے ساتھ انصاف کرتی سحر کے پاس گیا تھا
“آپی آپ کی تو لاٹری نکل آئی ہے”
سحر نے اس بات پر کاشف کو گھورا تھا
“کیا بک رہے ہو کاشف بہن کو ۔۔۔کون تھا دروازے پر ؟؟؟”
عقیلہ بيگم نے چمٹے سے پراٹھا پلٹتے ہوۓ پوچھا تھا
“امی،آپی آپ دونوں آئیں میرے ساتھ باہر دروازے پر خود ہی آ کر دیکھیں ۔۔۔۔”
کاشف اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے باہر نکلا تھا
سحر چادر میں اچھے سے سر تا پیر اور
منہ ڈھانپ کر باہر آئی تھی اس لڑکے نے جس نے خود کو عاشر کا خاص ملازم بتایا تھا اسی بات کو دوبارہ دہرایا تھا
“مگر ہم کیسے یقین کریں کہ آپ کو عاشر نے ہی بھیجا ہے ؟؟؟”
سحر نے پوچھا تھا
“آپ ان سے بات کرلیں میں کال ملا دیتا ہوں ۔۔۔۔لیکن ابھی تو وہ فلائٹ میں ہو گے ۔۔۔۔نمبر بند آ رہا ہے ۔۔۔لندن کی فلائٹ لمبی ہوتی ہے ۔۔۔”
وہ کچھ سوچ کر بولا تھا
“جاؤ بیٹا اپنا بیگ لے کر آؤ “
عقیلہ بيگم نے سحر کو حکم دیا تھا وہ خوشی سے بیہوش ہونے کو تھیں
سحر نے ماں کو بھی اندر آنے کا اشارہ کیا تھا
“امی آپ عاشر سے بات تو کر لیں پہلے ۔۔۔جہاں اتنا ٹائم کھپی ہوں آج بھی ویسے ہی چلی جاؤ گی ۔۔۔ایسے جلدبازی مت کریں پتہ نہی کون ہے اور آپ مجھے چلتا کر رہی ہیں بنا تصدیق”
“تم بس جاؤ میں نفل پڑھنے جا رہی ہوں میرا وقت مت ضائع کرو”
عقیلہ بيگم اور ہی دنیا میں تھیں
“امی ؟؟؟؟”
سحر نے جھنجلا کر بولا تھا
“بیٹا ۔۔۔یہ وہ دعا ہے ۔۔۔وہ خواب ہے جو میں نے اپنی سحر کے لئے دیکھا تھا ۔۔۔سنا تھا تہجد میں مانگی دعا اوپر والا رد نہی کرتا ۔۔۔آج دیکھ بھی لیا اب جاؤ ۔۔ ۔۔۔میری بچی یہ میرا اور رب کا معاملہ ہے تم نہیں سمجھو گی “
عقیلہ بيگم وضو کرنے جا چکی تھیں
سحر لمبی سانس بھر کر بیگ لئے باہر گئی تھی جہاں اس ڈرائیور نے فورا گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تھا
سحر بیٹھ گئی تھی
“میم ۔۔یہ سر نے آپ کو دینے کو کہا ہے اس میں سم موجود ہے وہ لیںنڈنگ کرتے ہی آپ سے اسی پر رابطہ کرے گے “
جديد آئی فون ڈبے سمیت اس نے سحر کی طرف بڑھایا تھا
“اور میرا نام زوہیب ہے ۔۔۔۔پاک میں ان کا ہر اہم کام میں ہے سرانجام دیتا ہوں”
سحر نے کوئی جواب نہیں دیا تھا
“یا اللّه ۔۔۔۔۔۔یہ زندگی کا کیسا موڑ ہے ۔۔۔۔نہ خوش کررہا ہے نہ دکھ دے رہا ہے ۔۔۔۔بس عجیب سا لگ رہا ہے کسی حسین خواب کی مانند ۔۔۔۔”
سحر نے باہر لہلاہاتے کھیتوں کی
طرف دیکھتے ہوۓ سوچا تھا ۔۔۔۔
