Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 15
Rate this Novel
Imtehaan Episode 15
عاشر سو چکا تھا سحر کو آج بے چینی سی ہو رہی تھی وہ کمرے میں واک کرتے کرتے باہر لان میں آ گئی تھی ہر طرف خاموشی کا راج تھا
“امی اور کاشف بہت خوش تھے آج دونوں اپنی اپنی نئی مصروفیت سے،عاشر نے پینٹنگز ہٹانے پر بھی کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔پھر دل کیوں بے چین ہے ۔۔۔”
وہ لان میں چکر کاٹتی سوچ رہی تھی جب مسڑ خان نے گیٹ کھولا تھا بےبی کی گاڑی اندر آئی تھی
بےبی کا ہم عمر ایک آدمی جلدی سے نیچے اترا تھا اس نے تیزی سے دروازہ کھول کر بےبی کو سہارا دیا تھا وہ لڑکھڑاتی بےبی کو ان کے کمرے میں لے کر گیا تھا
“آنٹی کا ایکسیڈنٹ ؟؟؟؟”
سحر کو پریشانی نے آگھیرا تھا وہ باہر کھڑی اس آدمی کے جانے کی منتظر رہی تقریبا آدھ گھنٹہ گزر چکا تھا وہ آدمی باہر نہ نکلا ۔۔
“مجھے عاشر کو اٹھانا چاہیے ۔۔۔لگتا ہے کوئی سیریس چوٹ لگ گئی ہے ۔۔۔”
“پتر تسی اس وقت اتھے کیا ہوا پتر جی ؟؟؟”
مسڑ خان کی نظر پریشان سحر پر پڑی تھی اس نے ان کی آواز پر اپنا چہرہ اچھے سے ڈھکا تھا
“انکل وہ بےبی آنٹی کی طبیعت شاید خراب ہے وہ انکل ان کو سہارہ دے کر لے کر جا رہے تھے ان کے جانے کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔”
اس بات پر مسڑ خان شرمندہ ہوۓ تھے وہ سحر کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے سحر حیرانگی سے ان کو جاتا دیکھ رہی تھی
“خود ہی جا کر دیکھتی ہوں”
وہ بےبی کے کمرے کے باہر کھڑی دروازہ کھٹکٹھا رہی تھی دروازہ لاک ہونے پر وہ پریشان ہوئی تھی لگ بھگ دس منٹ بعد بےبی آنٹی نے دروازہ کھولا تھا
“What are you doing here right now???”
وہ غصے میں پوچھ رہی تھیں
سحر بےبی آنٹی کا حلیہ دیکھ کر بیہوش ہوتے ہوتے بچی تھی اس نے ان کو ہاتھ سے پیچھے ہٹا کر اندر جھانکا تھا وہ شخص بےبی کے بیڈ پر کچھ معیوب حلیے میں بےبی کا منتظر تھا
“یہ یہاں کیا کر رہے ہیں بےبی آن۔۔۔۔۔ٹی ۔۔۔۔؟”
سحر نے پھولی سانس سے بمشکل پوچھا تھا اس کے اعصاب شل ہو چکے تھے
“Whhht??????
“None of your business just get lost”
بےبی نے دروازہ سحر کے منہ پر دے مارا تھا
سحر حیران پریشان لاؤنچ میں موجود صوفے پر گرتے ہوۓ ڈھیر ہوئی تھی
“اور ہم چاھتے ہیں کہ تم اچھائی کا حکم دو اور برائی سے روکو”(مفہوم)
ایمان کے تین درجے ہیں جب برائی دیکھو تو ان میں سے جو توفیق ہو اس پر چلو ۔۔۔
1 -ہاتھ سے روکو
2 -زبان سے روکو
3 -دل میں برا جان لو
سحر سر پکڑے کسی کتاب میں لکھے جملوں کے متعلق گہری سوچ میں تھی
“اور بے شک تم سے اس کے بارے استفسار(باز پرس،پوچھنا) کیا جائے گا “
“تو کیا میں دل میں ہی برا مان لوں؟؟؟؟”
سحر نے سر اٹھایا تھا
“پس حق کا ساتھ دو بے شک نا تو کوئی تمہارا رزق روک سکتا ہے نا ہی تمہیں موت دے سکتا ہے”(مفہوم)
اس آیت سے سحر کو کرنٹ لگا تھا وہ آنسو صاف کرتی بجلی کی تیزی سے بےبی کا دروازہ فل توانائی سے بجانا سٹارٹ ہوئی تھی وہ مشتعل سی باہر نکلی تھیں سحر نے انہیں پیچھے دکھیل کر تقریبا چیختے اس آدمی کو مخاطب کیا تھا جو لحاف اوڑھے شاید سو رہا تھا وہ آنکھیں موندے بدمزہ ہوا تھا
“ہیلو مسڑ آپ سے ہی کہہ رہی ہوں اٹھیں اور دفع ہو جائیں یہاں سے ورنہ میں آپ کا حشر بگاڑ دوں گی”
سحر جس انرجی سے بولی تھی وہ فورا اٹھا تھا وہ اسی نائٹی میں ہی کمرے سے نکل کر جا رہا تھا
“بے شرم آدمی کپڑے پہن کر جاؤ”
اس نے اس پر عمل کیا تھا
“تم کہیں نہیں جاؤ گے جہانگیر یہ میرا گھر ہے یہاں کون آئے گا اس کا فیصلہ نگینہ کرے گی یہ کل کی آئی لڑکی نہیں”
بےبی نے جے کو ہاتھ پکڑ کر روکا تھا جو خوفزدہ سا سحر کی جانب دیکھ رہا تھا
“یہ گھر آپ کا ہے مگر اس بے حیائی کا حق آپ کو حاصل نہیں ۔۔۔۔اگر آپ کے لئے تنہائی بوجھ تھی تو اسی آدمی سے ابھی ابھی نکاح کر لیں آپ کو کون روکے گا ؟؟؟ مگر یہ سب میں آپکو ہرگز نہیں کرنے دوں گی”
“ارے جاؤ ۔۔۔۔اپنا کام کرو ۔۔۔دو ٹکے کی لڑکی اب میرے ہی گھر میں مجھے بتائے گی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے(گالی)
سحر نے آنکھیں بند کر کے ضبط کو جمع کیا تھا
“آپ ابھی تک ادھر ہی ہیں ؟؟؟”
مسڑ جے بےبی کو ناگواری سے گھور کر اپنی نائٹی بیڈ پر پھینک کر جانے کے لیے مڑے تھے مگر سحر کی آواز کی گونج سے انہوں نے واپس دیکھا تھا
“اپنا یہ غلیظ لباس بھی لیتے جائیے اور اب مولوی کے ساتھ ہی اپنی شکل دکھائیے گا”
“تم (گالی) خود کو سمجھتی کیا ہو تمہاری یہ ہمت کے تم میرے ہی گھر میں میرے خاص مہمان کے ساتھ بد تمیزی ۔۔۔۔۔۔”
بےبی نے سحر کو مارنے کے لئے پوری قوت سے ہاتھ اٹھایا تھا جو سحر کے چہرے کو رنگنے سے پہلے ہی روک لیا گیا تھا بےبی نے حیران پریشان عاشر کو دیکھا تھا جو غصے سے لال ہوتی آنکھوں سے ماں کو دیکھ رہا تھا
“She is my wife mom”
“This is the limit”
وہ بےبی کا ہاتھ جھٹک کر سحر کر گرد بازو حائل کئے کھڑا ہوگیا تھا بےبی زور سے چیخی تھی
“And tell me once”
“Who I am??????”
“You should know that really who are you mom”
عاشر طنزیا بولا تھا
“اور ویسے بھی ایسا کیا کر دیا میری دو دن کی بیوی نے جو آپ کو اس قدر گرنا پڑا ؟؟؟میں کمرے میں سو رہا تھا مر تو نہیں گیا تھا مجھے بتاتیں یہ کونسا روپ ہے آپ کا مام ؟؟؟؟”
“I am really surprised that…..who are you???”
بےبی پہلے سے زیادہ زور سے چیخی تھی
“Ask her……just ask her”
“میرے مہمان کو یو آدھی رات کو کیوں ذلیل کیا ہے اس نے ؟؟؟”
“ماما ۔۔۔۔کیا آپ مجھے بتائیں گی وہ اس وقت اس طرح آپ کے کمرے میں کر کیا رہے تھے؟ ؟؟”
“یہ اکثر آتے ہیں ۔۔۔۔اور تم یہ بات اچھی طرح جانتے بھی ہو پھر اپنی ماں کو اس ذلیل لڑکی کے سامنے اس طرح امتحان میں ڈالنے کا کیا مقصد ہے عاشر ؟؟؟
“یہ ذلیل لڑکی میری بیوی ہے مام ڈونٹ فورگیٹ”
“And Mr J……is my …..”
بےبی اپنی ہی بات میں جزبز ہوگئی تھیں q
“بولیئے ۔۔۔۔چپ کیوں ہو گئیں آپ آنٹی؟؟؟”
“I will see you in office baby good bye”
مسڑ جہانگیر کہہ کر رکے نہیں تھے بےبی اپنے بیڈ پر جا کر زور قطار رونا شروع ہوئی تھیں حسب توقع عاشر نا ان کے کمرے میں آیا نا ہی کوئی سوری بولا وہ سحر کو چپ کرواتا ہوا اپنے کمرے میں لے گیا تھا ماں پر ایک غصیلی نظر ڈالے ۔۔۔۔
وہ سحر کو کمفرٹر اوڑھا کر اب سلانے کی کوشش کر رہا تھا
“عاشر آپ جانتے ہیں ا یک عورت اکیلی جہنم میں نہیں جاتی ۔۔۔۔”
“کیا مطلب سحر ؟؟؟”
سحر نے عاشر کی طرف کروٹ لی تھی
“وہ اگر کسی برائی کی شکار ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار چار مرد ہوتے ہیں ۔۔۔
باپ،بھائی،شوہر اور بیٹا۔۔۔۔
“سمجھ نہیں آئی سحر تمہاری بات کی کونسا بھائی ،کونسا باپ کونسا شوہر کونسا بیٹا اپنی ماں کو کسی برائی کی دعوت دیتا ہے ؟؟؟پھر ذمہ دار ہم کیسے ہوۓ ؟؟؟”
“اگر کوئی عورت جہنم میں جائے گی تو وہ سب سے پہلے اپنے باپ کو اپنی اچھی تربیت نا کرنے پر،اچھائی اور برائی میں فرق نا سمجھانے پر،پھر بھائی کو اپنی غیرت کی حفاظت کی ذمہ داری اچھے سے نا نبھانے پر،پھر شوہر کو اپنے نکاح کو جواز بنا کر پھر سے اچھائی اور برائی میں فرق کی تربیت نا دینے پر اور آخر میں وہ بیٹے کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گی کہ اس نے اپنی ہر ضد منوائی مگر اپنی ماں کو برائی میں ملوث دیکھ کر بھی کوئی دھمکی نہیں دی ۔۔۔۔یہ نہیں کہا کہ امی میں کھانا تب تک نہیں کھاؤں گا یا یہ نہیں کہا کہ امی آپ نے اگر یہ گناہ نہ چھوڑا تو میں اپنی جان لے لوں گا ۔۔۔۔وہ رو رو کر اللّه کو کہے گی اللّه اگر یہ چاروں میری نگرانی کرتے مجھے کسی بھی طریقے سے روکتے تو میں اس گناہ کی وجہ سے آج جہنم میں نا بھیجی جا رہی ہوتی ۔۔۔۔یہ چاروں میرے گناہ میں برابر کے شریک ہیں لہذا ان چاروں کو میرےساتھ بھیجا جائے ۔۔۔۔اور اللّه پھراسی بات کا حکم دے گا ۔۔۔۔”
“آنٹی کے اس گناہ میں ۔۔۔آپ بھی گناہ گار ہیں عاشر”
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی عاشر کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپک کر گال پر آیا تھا ۔۔۔
“سحر ۔۔۔۔وہ تو میں بچپن سے دیکھتا آ رہا تھا ۔۔۔۔۔جب ڈیڈ زندہ تھے تب سے ۔۔۔۔مجھے تو کبھی لگا ہی نہیں یہ کوئی قابل اعتراض بات ہے ۔۔۔ پھر میں مام کو روکتا بھی تو ۔۔۔۔۔کیسے ۔۔۔۔؟؟؟”
اب عاشر کی آنکھیں پوری طرح نم ہوئیں تھیں فجر کی نماز کا آلارم بجا تھا سحر سے پہلے عاشر وضو کرنے اٹھا تھا ۔۔۔
سحر نے آسمان کی طرف دیکھا تھا وہ اب بھی رو رہی تھی مگر وہ آنسو تشکر کے تھے ۔۔۔
“یا اللّه تیرا شکر ۔۔۔۔آپ نے میرے ہم سفر کو اپنی ملاقات کی اجازت کا شرف بخشا ۔۔۔”
کاش انسان ان چند سجدوں کی اہمیت مٹی کے اوپر رهتے ہوۓ ہی سمجھ سکے ۔۔۔۔
کاش آج کا مسلمان یہ سمجھ سکتا کہ نماز نہ پڑھنے کا خسارہ واحد خسارہ ہے جو مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔۔۔
۔***************”
سیف شہلا کو گھر چھوڑ کر کسی سواری کا کہہ کر جلدی سے ہسپتال واپس آیا تھا وہ بھاگا بھاگا آپریشن تھیٹر کے باہر اس بوڑھی عورت کی تلاش میں آیا تھا وہ کہیں نہی تھی اسی کشمکش میں اس کی نظر اسی نرس پر پڑی تھی جو تب فیس جمع کروانے کا کہہ رہی تھی وہ بھاگ کر اب اس کے پاس آیا تھا
“سسٹر کچھ دیر پہلے جو ایک حاملہ دل کی مریضہ کا آپریشن ہو رہا تھا ۔۔وہ اب ۔۔۔”
“وہ سرجری شروع ہونے سے پہلے ہی مر گئی تھیں ان کی میت کچھ دیر میں سرد خانے منتقل کی جائے گی “
وہ نرس بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بولی تھی
“سرد خانے ۔۔۔۔۔۔کیوں ان کے ورثہ ؟؟؟”
“ان کے میاں پاگل ہیں ساس کو بس پوتے سے مطلب تھا جو نہیں رہا تھا وہ خبر لگتے ہی میت کا چہرہ تک بنا دیکھے نکل گئی تھیں”
سیف کا دل دماغ سب سائیں سائیں کرنے لگا تھا دل میں درد کی ٹیس اٹھی تھی اس کا دل آج چیخ چیخ کر رونے کو کیا تھا
“سسٹر میں ان کا همسايا ہوں میں ان کی میت کو لے کر جانا چاہتا ہوں میرا گھر ان کے میکے میں ہے”
“دیکھیں اس طرح ہم میت نہیں دے سکتے خونی رشتے کے علاوہ ۔۔۔۔آپ ایسا کریں
ان کے گھر والوں کو بلوا دیں ۔۔۔”
“ٹھیک ہے مگر کیا میں ان کو ابھی دیکھ سکتا ہوں ؟؟؟”
اسی وقت وارڈ بوائے ایک میت لئے وہاں سے گزر رہے تھے نرس نے ان کو روک کر میت کی شناخت کی تھی اور ان کو دس منٹ تک آنے کا کہا تھا وہ سیف سے مخاطب ہوئی تھی
“ایسے اجازت نہیں ہوتی کسی انجان شخص کودیکھانے کی آپ ادھر ہی دیدار کر لیں پتہ نہیں کیوں میں آپ کو یہ رعایت دے رہی ہوں ۔۔۔۔۔بس دل کہہ رہا ہے ۔۔۔۔کوئی بہت خاص تھیں یہ اپ کی ۔۔ “
“چلو بس دس منٹ ۔۔ “
وہ سیف کے کندھے پر دلاسے کی تھپکی دے کر سائیڈ پر ہوئی تھی ۔۔۔
سیف نے بھاری دل بھاری ہاتھ کے ساتھ میت کے چہرے سے سفيد چادر ہٹائی تھی ۔۔۔۔
“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں سیف ۔۔۔۔پلیز مجھے کبھی دھوکہ نہیں دینا ۔۔۔ میں آپ کے بغیر جی نہیں پاؤں گی ۔۔۔۔۔میں نے خدا رسول کے بعد آپ کو اپنا سب کچھ مانا ہے ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں جو آپ سے کرنے لگی ہوں سیف یہ فقط محبت نہیں ہے ۔۔۔۔عشق ۔۔۔۔۔عشق کرنے لگی ہوں میں آپ سے ۔۔۔۔آپ جس طرح کی تصویریں چاہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔یہ میری پاکیزہ معصوم محبت کی تز لیل ہیں ۔۔۔۔۔پلیز ایسا مت کہیں ۔۔۔۔”
“چل نکل فون مت کرنا اب جب بھیجنی نہیں تھیں تو اتنی لمبی تقریر کیوں سنا رہی ہو کب سے ؟؟؟گالی ۔۔۔۔اب آیندہ تمہارا میسج یا فون آیا تو تمہارے گھر آجاؤں گا سیدھا ۔۔۔۔میں مانتا ہی نہیں تمہاری محبت کو جب تم مجھ سے اپنا آپ شئر نہیں کرنا چاہتی ۔۔ “
“اچھا بھیجتی ہوں ۔۔۔سیف ۔۔ “
سیف کے اندر ایک طوفان آ چکا تھا وہ اس کو سینے سے لگا کر آج دل کھول کر رو دینا چاہتا تھا ۔۔۔
اس کے معصوم چہرے پر جگہ جگہ چوٹوں کے نشان تھے ۔۔۔۔خون سوکھ کر کالا ہو رہا تھا ۔۔
سیف نے اس کے ہاتھ سے کپڑا ہٹایا تھا اس کی ایک انگلی پر دوپٹے کی ٹاکی سی بندھی ہوئی تھی شاید یہ بھی رات کی مار ۔۔۔۔۔۔
سیف کے لئے سب برداشت سے باہر ہو چکا تھا وہ چیخا تھا جس پر وہاں آس پاس کے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوۓ تھے
“میں ایک نالی کا کیڑا ہوں اور تم مجھ غلیظ انسان سے عشق کرنے لگی تھی ؟؟؟؟ کاش میں تمہاری قدر کر لیتا فریحہ ۔۔۔ . کاش ۔۔۔۔۔۔تو ۔۔۔تو آج یہ بچہ ہماری گود میں ہوتا ۔۔۔۔۔میں خدا سمجھنے لگا تھا خود کو خود ہی فیصلہ کر لیا کہ تم بھی اپنی بہنوں کی طرح بانجھ ۔۔۔۔۔۔۔”
“میں نے کھو دیا تمہیں ۔۔۔۔۔فریحہ ۔۔۔۔”
وہ سٹریچر کے پاس نیچے بیٹھا دیوانہ وار رو رہا تھا
“تم نے خود کشی کر کے مجھے اپنی محبت کا ثبوت بھی دینا چاہا مگر میں کم عقل پھر بھی نا سمجھا ۔،۔۔مجھے رحم نہیں آیا تمہاری ذات پر ۔۔۔۔کاش میں تم سے معافی مانگ پاتا ۔۔۔ “
اتنی دیر میں فریحہ کی ساس اس کے تینوں بھائیوں اور والد کے ہمراہ وہاں پہنچی تھی سب کا برا حال تھا ہر فریق فریحہ کو اس حال تک پہنچا کر اب ضمیر کی آواز پر چیخ چیخ کر رو رہا تھا
“جھوٹ کہتے ہیں جو کہتے ہیں ہماری بیٹی بوجھ نہیں ۔۔۔۔۔میں فریحہ کا باپ آج اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ بیٹی بوجھ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ہوتی ہے بیٹی بوجھ ۔۔۔۔۔ورنہ آج میری بیٹی دو وقت کی روٹی کی خاطر اس حال تک نا پہنچتی ۔۔”
فریحہ کا بھائی باپ کے گلے لگا تھا ابا چپ کر جا ۔۔۔۔چلی گئی ہے میری گڑیا اب کیا فائدہ ابا ۔۔۔”
“جب بھی ملنے جایا کرتا تھا ہر بار دروازے پر مجھے جاتے ہوۓ کہتی تھی بھائی اسلم بہت مارتا ہے ساتھ لے جاؤ بے شک ایک وقت کی روٹی دینا مگر یہاں سے ۔۔۔۔”
“فریحہ ؟؟؟؟؟؟؟”
وعدہ کرتا ہوں ساتھ رکھوں گا بس ایک بار آواز تو دو اپنے ویر کو ۔۔۔”
وہ زمین پر بیٹھ کر دھاڑے مار مار کر رونے لگا تھا جس پر ہسپتال کا سٹاف آیا تھا اور میت کو ضروری کاروائی کے بعد فوری طور پر لے جانے کا کہا تھا ان کے حساب سے ہسپتال میں ایسا کرنا باقی مریضوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے وہ گرتے پڑتے روتے دھوتے میت کو گھر لے آئے تھے ۔۔۔سیف بھی ساتھ آیا تھا
ساس کا کہنا تھا میرا بیٹا کبھی اس کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا یہ چپ کر کے کسی مجرم کی طرح اس کی وحشت کا نشانہ بن کر سزا کا ٹتی رہی ۔۔۔میں پوچھتی تو کہتی اماں میرے لئے پریشان مت ہوا کر میں اپنی حصے کی زندگی جی چکی ہوں ۔۔۔۔
سیف کے ساتھ گزرے پل آج بھی اس کے لئے زندگی کے مترادف تھے ۔۔۔
گندم کی گولیوں سے بچنے کے بعد وہ اکثر بیمار رهنے لگی تھی شروع شروع میں سب اس بات پر پریشان ہوتے تھے مگر جب ڈاکٹر نے صحت خرابی کی وجہ اس خود کشی کو بتایا تو وہ سب کو کھٹکنے لگی تھی ۔۔۔۔آخر ایک رشتہ کسی بھی قسم کی تسلی کئے بنا طے کر لیا گیا تھا وہ فریحہ کو سزا دینا چاھتے تھے اس محبت كی سزا ۔۔۔جو ادھوری تھی ۔۔۔۔۔جو اسے بھی ادھورا کر گئی تھی ۔۔
وہ اس کے شوہر اسلم کی ہر زیادتی کو بہن کی غلطی اور جھوٹ کہتے ۔۔۔۔وجہ سیف تھا ۔۔۔۔
جب اللّه کی کسی خاص دی ہوئی نعمت کی ہم قدر نہیں کرتے نا ۔۔۔۔تو ہم نا شکرے بن جایا کرتے ہیں ۔۔۔پھر ۔۔۔۔
اللّه وہ نعمت ہم سے سنبھال لیتا ہے ۔۔۔۔اپنے پاس ۔ ۔۔اور بیٹی سے بڑی ۔۔۔۔
بھی بھلا کوئی نعمت ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔
فریحہ کو بھی اللّه نے ان چار میں سے تین بے قدروں رشتوں سے اپنے پاس بلا لیا تھا ۔۔۔۔۔اصل موت تو ان تینوں کی ہوئی تھی فریحہ کا تو امتحان ختم ہوا تھا ۔۔۔۔
یہ عارضی زندگی کی چاہت ہمیں ابدی زندگی میں کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔۔۔۔
پھر وہ ہی ہوتا ہے ۔۔۔
جی وہ ہی ۔۔۔۔
“گھر کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نا گھاٹ کا ۔۔۔۔۔”
۔*****************
سیف غم سے بے حال گھر آیا تھا جہاں شہلا غصے سے بھری بیٹھی اس کی منتظر تھی جبکہ زبیدہ بيگم کسی مجرم کی طرح اس کے آگے ہاتھ جوڑے موجود تھیں سیف نے حسب روایت نا تو شہلا سے آج کی عدالت کی وجہ پوچھی نا ہی ہاتھ پکڑ کر اپنی محبت کا راگ الاپا وہ چپ چاپ آ کر بیٹھ گیا تھا سیف کی لال آنکھوں سے زبیدہ بيگم کا دل بیٹھ گیا تھا وہ بہو کو چھوڑ بیٹے کے غم میں نڈھال ہوئیں تھیں
“اس سے پوچھیں کہاں سے آ رہا ہے یہ کونسی خاص سواری کو چھوڑ کر آ رہا ہے آج پھر جھوٹ بول کر ؟؟؟”
شہلا نے معمول کے قسط وار ڈرامے کا پہلا ڈائیلاگ بولا تھا مگر آج اس کی اپنی آواز سیف کی خاموشی سے ٹکڑا کر واپس آئی تھی وہ دوبارہ چیخی تھی ۔۔
“طلاق چاہیے تمہیں ؟؟؟؟دوں ؟؟؟؟”
سیف نے اٹھ کر اس کو منہ سے پکڑا تھا جس پر وہ حیران پریشان ہوئی تھی کیوں کہ یہ اس پورے عرصے میں پہلی بار ہوا تھا
“ٹھیک سمجھی ہو میں بہت خاص انسان کے پاس تھا آج ۔۔۔۔۔وہ کتنا خاص ہے کاش میں وقت پر جان لیتا تو آج تم عذاب بن کر میری زندگی جہنم نا کر رہی ہوتی ۔۔۔”
شہلا کی آنکھوں سے تکلیف سے آنسو ٹپکا تھا
“کتنا پاگل تھا میں جو تم سے ۔۔۔۔تم سے معافی مانگتا رہا اپنے دلی سکون کی خاطر ۔۔۔۔جس کومیں نے جیتے جی موت کی گھاٹ اتار دیا تھا اس سے کبھی معافی مانگنے کا خیال ہی نہیں ۔۔۔ آیا ۔۔ “
سیف شہلا کو چھوڑ کر بیٹھ کر دوبارہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگ گیا تھا
شہلا کا سارا غصہ ہوا ہوا تھا وہ سیف کا ہاتھ محبت سے تھام کر اس کے ساتھ بغیر وجہ جانے رونے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔زبیدہ بيگم بھی بیٹے کو دیکھ کر تڑپ اٹھی تھیں ۔۔۔
کاش فریحہ ۔۔۔۔۔۔۔۔تم مجھے اتنی مہلت دے دیتی کہ میں تم سے معافی مانگ لیتا اب میں پوری زندگی اس بوجھ تلے کیسے . . ۔۔ کیسے گزاروں گا ۔۔۔۔
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ھے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
کبھی تقدیر کا ماتم،کبھی دنیا کا گلہ
منزلِ عشق میں ہر گام پہ رونا آیا
مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلہ نوحہ گِری کا
اس قدر گردشِ ایام پہ رونا آیا
جب ہوا ذکر زمانے میں، محبت کا شکیل
مجھ کو اپنے دلِ ناکام پہ رونا آیا
