Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 1
Rate this Novel
Imtehaan Episode 1
دروازے پر مسلسل دستک سے زبیدہ بيگم کی آنکھ کھلی تھی
“کون ہے ؟؟”
نيند میں ڈوبی آواز میں پوچھا گیا تھا
“السلام علیکم ۔۔۔آنٹی میں سیفی کا دوست ندیم ہوں”
“بیٹا وہ تو ۔۔۔”
“میں دو منٹ میں آتا ہوں ندیم”
زبیدہ بيگم کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی سیفی آنکھیں ملتا ہوا پیچھے سے نمودار ہوا تھا
“آج تمہاری چھٹی تو نہیں ہے سیف پھر ادھر کدھر جانے کی حامی بھری ہے ؟؟؟”
زبیدہ بيگم نے بیٹے کو آڑے ہاتھوں لیا تھا
“امی دوستوں کے ساتھ رات کو پلان بنا ہے لاہور جا رہے ہیں ہم سب گھومنے رات تک آجائیں گے ۔۔۔”
“ندیم یار توں جا باقی کامران،زلفی اور وکیل کو بول میں بس دس منٹ میں آیا ۔۔۔”
وہ کہہ کر جلدی سے غسل خانے تولیہ لئے گھسا تھا
زبیدہ بيگم نے غصے سے بیس سالہ سیف کی طرف دیکھا تھا جو باپ کے بعد اپنی چار بہنوں اور چھوٹے بھائی کا واحد سہارا تھا
سیف مشینی انداز میں تیار ہو کر بنا ناشتہ کئیے باہر نکلا تھا ۔۔۔
بیوہ ماں کے پاس دانت پیسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔۔۔
سیف پورے گروپ میں سب سے خوبصورت تھا دراز قد،گورا رنگ ،کالے بال وہ کہیں سے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا ۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ ہر لڑکی سیف پر ہی فدا ہوتی تھی جس سے دل ہی دل میں ہر دوست سیف کو حسد کی نگاہ سے دیکھتا تھا مگر سیف جس کی زندگی دوستوں سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہوتی تھی وہ ان آستين کے سانپوں سے بے خبر تھا ۔۔۔
سیف کے باپ کی موت کو لگ بھگ ایک سال ہوا تھا وہ چھ ماہ مسلسل علیل رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار چکے تھے جس کے بعد اب پورے گھر کی ذمہ داری بیس سالہ سیف کے ناتواں کندھوں پر تھی جسے وہ گرتے پڑتے نبھانے کی پوری کوشش کررہا تھا بس دوستوں کے انتخاب میں اس سے چونک ہوئی تھی جس کا خمیازہ اسے مرتے دم تک بھگتنا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر کالج وین کے انتظار میں بس اسٹاپ پر کھڑی تھی وہ مسلسل موبائل پر ٹائم دیکھ رہی تھی جو کہ شام کے پانچ بجا رہا تھا موبائل کی بیٹری بھی ایک لائن شو کر رہی تھی اوپر سے موسم بھی خراب ہو رہا تھا
یہ روڈ زیادہ رش والا نہیں تھا بہت کم بسیں ادھر سے گزرتی تھیں کالج کے پاس والے اسٹاپ پر رکنے والی کوئی بھی بس اس کے گھر کی طرف نہیں آتی تھی مجبورا سحر کو وہ روڈ کراس کر کے دو گلی پیدل چل کر اس بس اسٹاپ پر آنا پڑتا جہاں سے گزرنے والی چند بسیں اس کے گاؤں کی طرف جانے والے راستے پر اسے اتار دیتیں جہاں سے دس منٹ کے مسافت دوبارہ سحر کو پیدل طے کرنی پڑتی ۔۔۔مگر آج یہ ہوتا نظر نہیں آرہا تھا آخری بس پانچ بجے آتی تھی مگر وہ بھی اب تک آتی نظر نہیں آرہی تھی ۔۔۔
کچھ مرد اور عورتیں بھی اس کے ساتھ کافی دیر سے بس کی منتظر تھیں مگر اب وہ سب وہاں سے واپس جا رہے تھے کیوں کہ اب تیز آندھی چلنے لگی تھی جو کچی سڑک کی مٹی اڑا اڑا کر خاص آواز پیدا کر رہی تھی ۔۔۔
شام کے پانچ بجے رات کے کسی پہر کا منظر پیش کر رہے تھے کالے بادل سرمئی ہوتے سورج کو وقت سے پہلے ہی آج مغرب میں بھیج چکے تھے ۔۔۔
سحر جو بڑی سی چادر اوڑھے لوگوں کو ادھر سے جاتے دیکھ کر پریشان تھی اس تیز آندھی سے وہ اچھی خاصی خوفزده ہوئی تھی ۔۔۔
وہ اب موبائل نکال کر اپنے ابو کو فون کر رہی تھی جن کی بہت سی مسڈ کالز سکرین پر نظر آرہی تھیں جو ہوا کے شور میں وہ سن نہ سکی تھی ۔۔۔
“Low bettery connect to charger”
کال بیک کرنے پر موبائل نے معذرت کی تھی ۔۔۔
اب دھول اڑاتی آندھی میں بارش کے قطرے بھی شامل ہوۓ تھے ۔۔۔
سحر کی چادر ہوا میں معلق تھی اس کے ہاتھ میں محض ایک سرا تھا جو اس نے ایک ہاتھ میں مضبوطی سے جکڑا ہوا تھا جب کہ دوسرے ہاتھ میں کتابیں سینے سے لگائی ہوئی تھیں اور چھوٹا سا کالج بیگ کندھے سے بمشکل لٹکایا ہوا ۔۔۔
اسکی چادر اس کے سر سے اتار کر اب ہاتھ سے بھی چھینتے ہوۓ ہوا کا زور جیت چکا تھا اس چادر کے پیچھے بھاگتے ہوۓ کتابیں ہاتھ سے گر کے بکھر گئیں تھیں اب وہ بس کالج بیگ دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑے ہراساں سی آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں سے اب بارش تیزی سے برس رہی تھی وہ بری طرح بھیگ چکی تھی ۔۔۔
اس ٹھنڈ والے موسم میں بھی سحر کو سخت پیاس نے آگھیرہ تھا گلا خشک ،کانٹا چبھتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
جسم ٹھنڈ سے کانپ رہا تھا مگر پھر بھی سحر کو اپنی آنکھوں سے آتے آنسوؤں کی گرمائش گالوں پر آگ کی طرح تپتپاتی محسوس ہورہی تھی ۔۔۔
“پانی ۔۔۔۔پانی ۔۔۔”
“کوئی مجھے پانی دے دو ۔۔۔”
وہ منہ میں بے ساختہ بڑبڑائی تھی ۔۔۔
پھر وہ ہی آواز آئی تھی جس آواز کو وہ سو آوازوں میں بھی پہچان سکتی تھی ۔۔۔
“سحر میری بچی ۔۔۔ہاتھ کرو ۔۔۔پانی دیتی ہوں ۔۔ ٹھنڈا پانی ۔۔۔”
بیگ پھینک کر سحر نے اپنی دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر پانی کی جگہ بنائی تھی وہ پانی کے انتظار میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی ۔۔۔مگر کچھ دیر کے انتظار نے طول
پکڑا تھا ۔۔۔
اس نے منہ اوپر کی طرف کر کے اس شناسا چہرے کو دیکھا تھا جو محبت کی مورت بنے سحر کو بغور دیکھ رہا تھا ۔۔۔
“پانی ؟؟؟”
سحر نے ترس کر مدھم سی تھکی ہوئی آواز میں کہا تھا
اب وہ دوبارہ اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں پانی گرنا شروع ہوا تھا
اس نے اس گرم کھولتے پانی سے اپنے نازک ہاتھوں کے چمڑے کو جلتے ہوۓ دیکھا تھا مگر وہ بے بس سی محض اس چہرے کو اپنی آنکھوں سے برستی بارش لئے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
اب اس چہرے کی آنکھوں میں شیطانیت تھی وہ بلند قہقہ لگاتا سحر کے ہاتھوں پر وہ کھولتا پانی گراتا چلا گیا ۔۔۔
سحر بند آنکھیں کئے اس تیز بارش میں سنسان کچی سڑک پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔
ایک دم اس گرم پانی کی جگہ ٹھنڈی برف اس کے ہاتھ پر محسوس ہوئی تھی ۔۔۔اس آبلہ زدہ ہاتھ کو برف نے بھی اتنا ہی جلایا تھا ۔۔۔
درد کی “سی” نے دل کو اندر تک بےقرار کر دیا تھا
پانی کی دونوں حالتیں ہی جب انتہا تک پہنچتی ہیں ۔۔۔نتیجہ خاتمہ ہی نکلتا ہے ۔۔۔انسانی جان کا خاتمہ ۔۔۔
اب اس بارش میں کسی نے اس کے ہاتھوں پر برف رکھنے کے بعد اس کے سر پر چادر اڑائی تھی اسکی کتابیں اٹھا کر اس کے ہاتھوں میں تھمائی تھیں اس کے بند آنکھوں سے بہتے آنسوصاف کر کے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی ۔۔۔
“آئ لوو یو سو مچ سحر ۔۔۔”
سحر ہڑ بڑاکر ایک ہی جھٹکے میں سیدھی اٹھ کر بیٹھی تھی وہ بری طرح پسینے میں بھیگی ہوئی تھی وہ سچ مچ روئی تھی اس کا بھیگا چہرہ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت تھا ۔۔۔
“امی ؟؟؟؟”
“امی ؟؟؟”
وہ پھولی سانسوں کے ساتھ چلائی تھی
عقیلہ بيگم ہاتھ میں پیڑا پکڑے بھاگ کر کچن سے برآمد ہوئی تھیں
“کیا ہوا سحر ؟؟؟؟”
وہ آٹا ہاتھ میں گھماتی حیرت سے بولی تھیں
“امی ۔۔۔۔وہ خواب ۔۔۔”
سحر اپنی اوڑھنے والی چادر سے اپنا چہرہ خشک کرتے ہوۓ تھوک نگل کر بمشکل بول پائی تھی
“کتنی بار کہا ہے مت سویا کرو عصر کے بعد ۔۔۔پتہ نہیں یہ نئی نسل کیا ثابت کرنا چاہتی ہے قدرت کے ساتھ ضد لگا کر ۔۔۔”
“اٹھو مغرب ہونے والی ہے نماز پڑھو کھانا بھی تیار ہے”
“اور ہاں بائیں طرف تھوک کر بھول جاؤ جو بھی دیکھا ہے”
وہ سحر کو گھور کر دوبارہ کچن کا رخ کر چکی تھیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیف اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ مینار پاکستان پر لڑکیاں تاڑرنے میں مصروف تھا
ہر آتی جاتی لڑکی کا گویا ایکسرا یا سکین نکالا جارہا تھا وہ سب خاموشی سے ہر عمر ہر لباس حتی کے عبایا پہنے خواتین اور لڑكیوں کو بھی حیوانیت سے بنا پلکیں جھپکاے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
سیف کے دوستوں میں کامران،ندیم،زلفی اور وکیل شامل تھے یہ چاروں شکل و صورت سے مناسب سے تھوڑے نیچے درجے کے تھے سیف ان سب میں کسی ہیرے کی طرح دور سے چمكتاتھا ۔۔۔
مگر چونکہ سیف کی ذہنیت ان جیسی غلیظ تھی یہی واحد وجہ ان سب کو جوڑے ہوئے تھی
ہر گزرنے والی جنس ان سب میں سیف پر نظر ڈال کر گزر رہی تھی شاید ہر بندہ ہی اس کی پرسنلیٹی کو ان لنگوروں میں دیکھ کر حیران ہو رہا تھا وہ بلیو چیک والی شرٹ میں بلیو جینز کے ساتھ خوبصورت گوری رنگت میں دلکش مسكراهٹ لئے وہ ہی سب کر رہا تھا جو اس کے دوست ۔۔۔۔۔
ہر نظر سیف پر آکر رک جاتی جس کا اندازہ اس کے دوستوں کو بخوبی ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ دل ہی دل میں سیف کو مغلظات سے نواز رہے تھے مگر بظاھر دوستی کا لبادہ اوڑھے ہوۓ تھے ۔۔۔
سیف شرما کر چاروں کی طرف دیکھتا جو اسے مسکرا کر اپنے اندر کا زہر دبائے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
“سنیں”
ایک خوبصورت لڑکی سیف سے مخاطب ہوئی تھی
“کون میں ؟؟؟”
سیف نے سر پر ہاتھ پھیر کر کسی فلمی ہیرو کی طرح شوخ ہو کر پوچھا تھا
“جی آپ۔۔۔۔۔کیا ہم بات کر سکتے ہیں ؟؟؟”
وہ لڑکی اس کی طرف ایک چھوٹا سا کاغذ بڑھا کر بولی تھی
“کیوں نہیں ۔۔۔”
کامران نے جھپٹ کر وہ کاغذ لیا تھا
“آپ نہیں بھائی صاحب میں آپ کے ان دوست سے بات کرنا چاہتی ہوں”
اس لڑکی نے وہ پرچی کامران سے واپس لیتے ہوۓ سیف کی طرف بڑھا کر کہا تھا جس پر کامران نے چاروں دوستوں کی طرف باری باری دیکھ کر شرمندگی سے اس لڑکی کو غصے سے دیکھا تھا ۔۔۔
“میں آپ کو فون کروں گا ۔۔۔۔”
سیف نے کامران کو يكسر نظر انداز کر کے لڑکی کو شرارتی نظروں سے دیکھ کر پرچی پر موجود نمبر کو اپنے موبائل میں ڈائل کیا تھا جس کی بیپ اس لڑکی کے پرس سے سنائی دی تھی
“آپ بہت خوبصورت ہیں”
وہ لڑکی ہاتھ سے کال کا اشارہ کر کے جاتے جاتے بولی تھی ۔۔۔۔
“مجھے بھی سینڈ کر سیفی”
چاروں اپنا اپنا موبائل نکال کر یک مشت بولے تھے
“صبر رکھو بھیج رہا ہوں یار”
پانچوں بہت خوش تھے جس مقصد سے لاہور کا رخ کیا تھا وہ پورا ہوا تھا ۔۔۔
“نمبر آگیا نہ سب کے پاس ؟؟؟”
“اب آج پہلے میں فون کروں گا تم لوگ کل کرنا اوکے ؟؟؟”
سیف نے سب کی طرف دیکھا تھا جس کا جواب سب نے ہاتھ کا اشارہ کر کے دیا تھا
“چلو شاہی قلعہ چلتے ہیں اب پھر شالیمار جائیں گے ۔۔۔”
