Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 2
Rate this Novel
Imtehaan Episode 2
“امی دروازہ بند کر لیں میں کالج جا رہی ہوں”
سحر نے چادر کو اپنے گرد اچھے سے لپیٹ کر منہ کو ڈھانپتے ہوۓ کہا تھا
“سحر تیرے بھائی کے کچے پیپر ہونے والے ہیں تیرا ابا کہہ رہا تھا ماسٹر جی نے انکو کہلوا بھیجا ہے کہ اگر ان پیپروں میں نمبر اچھے نہ آئے تو آگے داخلہ مشکل ہے ۔۔۔ذرا آج سے اس کو وقت دینا شروع کردو ۔۔۔”
“جی امی کالج سے تو جلدی ہی فارغ ہو جاتی ہوں بس ۔۔۔بس ہی نہیں ملتی ۔۔۔آتے آتے عصر ہونے کو آجاتی ہے ۔۔۔۔”
سحر افسرده سی ہوئی تھی
“تیرے ابے کا کام مندا چل رہا ہے ۔۔۔جیسے ہی چار پیسے زیادہ آنا شروع ہوۓ بس رکشہ پکا لگوا کر دیتی ہوں میں تجھے ۔۔۔۔”
عقیلہ بيگم نے سحر كو سر پر شفقت سے پیار دیا تھا
“امی کب سے یہی سن رہی ہوں ۔۔۔اچھا کاشف کو اٹھا دے اسکول کے لئے لیٹ ہو رہا ہے “
وہ تیزی سے دروازہ پار کرتے ہوۓ بولی تھی
دس سے پندرہ منٹ کی پیدل مسافت کے بعد اب وہ ایک کٹھارا بس میں دروازے کے پاس کھڑی تھی کیوں کہ بس سواریوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی
بھانت بھانت کے لوگ رنگ برنگی خوشبویں لیئے ہوۓ تھے
“یا اللّه کاش کے میری زندگی میں کوئی ایسا دن آئے میں عزت سے رکشے میں بیٹھ کر سکون سے آیا جایا کروں ۔۔۔۔ان گندی نظروں اور گندی خوشبوؤں کو سونگھے بغیر ۔۔۔”
سحر نے بس کے دم گھٹتے ماحول سے نالاں ہو کر دل میں شدت سے دعا مانگی تھی ۔۔۔
باجی آگیا ہے آپ کا اسٹاپ ۔۔۔کنڈیکٹر نے سحر کو تقریبا نیچے کی طرف دکھیلتے ہوۓ کہا تھا
سحر بمشکل ایک پاؤں ہی نیچے رکھ پائی تھی جب ڈرائیور نے بس چلا دی تھی وہ گرتی گرتی بچی تھی بس میں موجود کچھ جوان لڑکے اس کو دیکھ کے بے اختیار ہنسے تھے ۔۔۔
سحر رونا نہیں چاہتی تھی مگر آنسو گلے میں پھنس چکے تھے ۔۔۔آنکھیں بھیگ چکی تھیں ۔۔۔۔موتی گر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
“اللّه ہم غریب ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟؟؟؟”
“میرے پاس وہ سب کیوں نہیں ہے جو دولت مندوں کے پاس ہے ؟؟؟؟”
“یہ دولت کا فرق کیوں رکھا ہے تو نے جب تیری نظر میں ہم سب ایک جیسے ہی ہیں ؟؟؟؟”
“یہ تضحیک آخر کب تک برداشت کروں ؟؟؟؟”
وہ گلی میں چلتے چلتے مسلسل روتے ہوۓ اللّه سے شکوے شکایات کرتی ہوئی جا رہی تھی آنسو آج کسی سیلاب کی مانند اسکی گردن کو بھگو رہے تھے ۔۔۔
کالج کا گیٹ کب آیا کب وہ اندر گئی کچھ پتہ نہیں چلا وہ کلاس میں بیٹھی گم سم کتابوں کو گھور رہی تھی جب اس کی دوست انیتا اس کے پاس آکر بیٹھی تھی
“کیا ہوا سحر ؟؟؟ تم ٹھیک ہو ؟؟؟گھر میں سب خیریت ہے ؟؟؟”
“آنٹی انکل کاشف ؟؟؟؟؟”
“سب ٹھیک ہیں ؟؟؟”
“سب ٹھیک ہے بس آج بہت تنگ ہو کر آئی ہوں تو دل بھر آیا میرا ۔۔”
سحر نے آنسو صاف کرکے مختصر جواب دیا تھا
“لو جی ۔۔۔۔پاگل نہ بنو ۔۔۔۔میں امی سے کہتی ہوں میری پاکٹ منی بڑھا دیں ۔۔۔پھر رکشہ میں لگوا دوں گی تمہارے لئے تم بس اپنا دل نہ چھوٹا کرو ۔۔۔میری چندہ ۔۔۔۔”
انیتا نے سحر کو اپنے ساتھ لگا کر خلوص سے کہا تھا
جس سے سحر کے رونے میں پہلے سے زیادہ شدت آئی تھی ۔۔۔
“چلو کینٹین چلتے ہیں گرم گرم کافی پیتے ہیں تمہیں پسند ہے نہ ؟؟؟
” آج ہم پہلا لیکچر بنک کریں گے ۔۔۔”
انیتا نے شرارت سے سرگوشی میں کہا تھا
“نہیں یار کلاس لینے کے لئے ہی میں جلدی آنے کے چکر میں ذلیل ہو کر آئی ہوں وہ نہیں مس کرنی “
سحر دوپٹہ سر پر ٹھیک کرکے اب بیگ سے بکس نکال رہی تھی
“میری پالی پالی پڑھاكو کیڑی ۔۔۔”
انیتا نے سحر کی ناک کو پیار سے چھوا تھا
“چلو نیتی اوپن یور بکس “
سحر نے لال ہوتی ناک کو ٹیشو سے صاف کرتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
“سحر تم واقعی اتنی حسین ہو یا مجھے لگتی ہو ؟؟؟”
اب دونوں کا قہقہ بلند ہوا تھا
دوستی کا رشتہ بھی اللّه کی موجودگی کا بولتا ہوا ثبوت ہے بیشک ۔۔۔۔
انسان ایک ایسے انسان کو اپنے دل کا حال بتاتا ہے جو خون میں آپ کا شریک نہیں ہوتا ۔۔۔۔
جو سمجھو تو کچھ نہیں لگتا آپ کا مگر سمجھو تو اس جتنا کوئی آپ کا اپنا نہیں ۔۔۔۔
اکثر مسائل دوست کے گوش گزار کرنے سے لگتا ہے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں ۔۔۔
بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے فون پر صرف دوست کا ہیلو سن کر ہی وہ دنیا میں سب سے قریب ترین لگتا ہے ۔۔۔
کوئی بھی بات ہو اگر آپ اپنے دوست کو بتاتے ہیں تو ایک وہ ہی تو ہوتا ہے جس کو اپنی سائیڈ کی وضاحت نہیں دینی پڑتی ۔۔۔۔
وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔دل کے کسی کونے میں ۔۔۔۔۔۔کسی خوشبو کی طرح ۔۔۔۔ جس سے پوری زندگی مہکتی ہے ۔۔۔
غم ہو یا خوشی جب تک دوست کو نا بتائی جائے وہ مکمل نہیں ہوتی ۔۔۔۔
سحر کی ہر خوشی انیتا سے جڑی تھی ۔۔۔دونوں میں ایک دوسرے کی جان بستی تھی ۔۔۔۔
انیتا سحر کی نسبت اچھے گھر سے تھی وہ دو بھائیوں کی اکلوتی اور لاڈلی بہن تھی ۔۔۔
باقی کا پورا دن آج اچھا گزرا تھا واپسی پر آج بس آسانی سے ملی تھی ۔۔۔۔
وہ سحر جو صبح بس کی سواری پر پریشان تھی
آج تو اسکی زندگی کا امتحان شروع ہونا تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آج تو صرف ٹریلر تھا پوری پکچر تو ابھی باقی تھی ۔۔۔
وہ گھر پہنچی تھی جہاں ایک علیشان گاڑی اس کے گھر کے باہر کھڑی تھی ۔۔۔
گاؤں کے بچے اس کے گرد جھمگھٹا لگاے کھڑے تھے کاشف سب کو منع کرتا خوشی سے اچھل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دو بج رہے تھے جب سیف گھر آیا تھا زبیدہ بيگم نے دروازہ کھولا تھا
“سیفی کھانا کھاؤ گے ؟؟؟”
“نہیں امی “
وہ فون کان سے لگائے جلدی میں بولا تھا
“امی میں ایک دوست سے ضروری بات کر رہا ہوں آپ سو جائیں میں چھت پر جا رہا ہوں ۔۔۔”
زبیدہ بيگم مطمین سی واپس سونے لیٹ گئی تھیں
“جی جناب اب بولیں ۔۔۔۔”
سیف اوپر اسٹور میں موجود ٹوٹی چارپائی میں سکون سے لیٹ کر خمار زدہ آواز میں بولا تھا
“شادی کب کرو گے مجھ سے سیف ؟؟؟”
تم جانتے ہو نہ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔میں دل لگی کے لئے بات نہیں کرتی تم سے ۔۔۔۔شادی ۔۔۔۔”
“ہو جائے گی شادی بھی فریحہ ۔۔۔۔جلدی کس بات کی ہے ۔۔۔۔ابھی بہت تھکا ہوا ہوں صبح اسی کپڑے کی دوکان پر آجانا ۔۔۔ملنا چاہتا ہوں تم سے ۔۔۔”
سیف اپنے ہی نشے میں تھا
“میرے تین بھائی ہیں سیف اوپر سے باجی بھی آئی ہوئی ہیں اپنے شوہر کے ساتھ گھر سے نكلنا بہت مشکل ہے ۔۔۔میں نہیں ۔۔۔”
فریحہ کا جملا پورا ہونے سے پہلے ہی سیف غصے سے دھاڑا تھا
“دماغ مت کھاؤ میرا اس وقت تم ۔۔۔چلو فون رکھو ۔۔۔اتنی نیک بی بی ہو تو رات کے دو بجے کیوں بات کر رہی ہو مجھ سے ؟؟؟
اس وقت مر گئے ہیں سب ؟؟؟کوئی نہیں تمہیں دیکھنے والا ؟؟؟”
“سیف پلیز تم ناراض مت ہو ۔۔۔۔میں آجاؤں گی ۔۔۔میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے ایسے ناراض مت ہوا کرو میری سانس رکنے لگتی ہے ۔۔۔”
فریحہ بے بس سی روہانسی آواز میں بولی تھی ۔۔۔
“اچھا ۔۔۔بارہ بجے تک گزر ہوگا میرا تب تک آجانا ۔۔۔”
سیف نرم پڑا تھا اسی دوران لاہور والی لڑکی کی کال آنا شروع ہوئی تھی ۔۔۔
“ہیلو ؟؟؟
“سیف آپ چپ کیوں ہیں ناراض ہو گئے ہیں اپنی فریحہ سے ؟؟؟”
وہ گویا سانس روکے پوچھ رہی تھی
“نہیں ناراض نہیں ہوں بس سونے لگا ہوں “
سیف نے فورا کال کاٹ کر اس نئی لڑکی کی کال اٹینڈ کی تھی
“جی السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔”
وعلیکم السلام ۔۔۔۔کیا نام ہے آپ کا مسٹر ہنڈسم ۔۔۔؟؟؟
“سیف ۔۔۔۔سیف کہتے ہیں ۔۔۔۔لوگ ہمیں ۔۔۔۔۔۔جو لوگ ہم پر مر مٹ جائیں وہ سیفی بھی کہ سکتے ہیں ۔۔۔”
سیف اب اس گودام نما اسٹور میں کسی بولی وڈ کے ہیرو کے انداز میں گویا ہوا تھا
“اہاں ۔۔۔۔۔۔۔میرا نام نیلم ہے ۔۔۔۔عمر میں آپ سے زیادہ ہی ہونگی ۔۔۔۔۔۔”
“میں کب سے آپ کو فون کر رہا تھا ۔۔۔”
“جی وہ ذرا میں بزی تھی گیسٹس کے ساتھ وہ ابھی سب سونے گئے ہیں تو سوچا آپ کو یاد کیا جائے ۔۔۔”
پھر وہ ہی باتیں شروع ہوئی تھیں تو جو انسان کو کھائی میں دھکا دینے کے لئے کافی سے زیادہ ہوتی ہیں ۔۔۔۔”
یہ نئی نسل رات کے اندھیرے میں یہ بھول جاتی ہے کہ وہ خدا نہ سوتا ہے اور نہ ہی اسے اونگ آتی ہے ۔۔۔وہ سب دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔
بعض گناہ ایسے ہیں جو دنیا میں ہی ہماری عزت کو زلالت میں بدل دیتے ہیں جنكی سزا ہمیں دنیا کی زندگی میں ہی مل جاتی ہے ان تمام گناہوں میں ایک گناہ زنا ہے ۔۔۔۔جو رزق بھی روکتا ہے ۔۔۔۔رسوا بھی کرتا ہے ۔۔۔۔اور اپنا بدلہ بھی لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
کاش انسان اس خسارے کو سمجھ پاتا ۔۔۔۔۔
سیف کا بيک وقت اتنی لڑكیوں کے ساتھ رابطہ تھا کہ شاید ہی ایک کال کے بعد پورا دن اسے اس پہلی لڑکی کے بارے میں سوچنے کا وقت بھی ملتا ۔۔۔
وہ گناہوں کے دلدل میں تھا ۔۔۔
وہ یہ سب محض وقت گزاری کے لئے کرتا ۔۔۔۔وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس کی یہ حرکتیں اس کو پوری عمر ناكوں چنے چبوانے والی تھیں ۔۔۔۔
وہ یہ بھول گیا تھا کہ
“پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہی ہوتی ہیں”
اکثر لڑکیاں اس جیسی ہی تھیں جن کے لئے وہ محض ایک خوبصورت ساتھ تھا ۔۔۔مگر فریحہ اور ایک اور لڑکی اس کے ساتھ واقعی مخلص تھی جن کی آہ اس کی زندگی کو کڑے امتحان میں ڈالنے والی تھی ۔۔۔
اور ایک ناپاک عورت کاساتھ اس کے مقدر میں لکھا جا چکا تھا ۔۔۔۔
جو جسمانی نہیں مگر جزباتی طور پر بارہا تقسیم ہوچکی تھی ۔۔۔
وہ پہلا مرد نہیں تھا اس کی زندگی میں ۔۔۔۔۔۔
مگر سیف اس سب سے بےخبر رات کے اندھیرے میں اپنی زندگی کو اندھیروں سے بھر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ کافی دیر تک اس نیلم کے ساتھ خدا کی حد اور محبت کی پاکیزگی کو مليا میٹ کرنے کے بعد فجر کی اذان ہوتے ہی سونے گیا تھا ۔۔۔
نئی نسل کی رات فجر کی اذان کے بعد شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔
افسوس ۔۔۔۔۔صد ہا ۔۔۔۔۔۔افسوس ۔۔۔۔۔
