Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 3
Rate this Novel
Imtehaan Episode 3
“اچھا تھوڑی دیر میں بات کرتی ہوں”
“امی؟؟؟؟”
“بند کریں یہ فون میری بات سنیں”
شہلا بدتمیزی سے بولی تھی
“دس منٹ تک میں تجھے رنگ کرتی ہوں پھر کرتے ہیں بات”
فاریہ شہلا کی ماں کسی رونگ نمبر کے ساتھ بات کرنے میں مشغول تھیں جب شہلا نے ان کا سکون غارت کیا تھا
“کیا تکلیف ہے ؟؟؟ تیرا باپ آنے والا ہے وہ بس پیسوں کی طرف آنے ہی والا تھا تم ٹپک پڑی آخر مسئلہ کیا ہے تمہارا شہلا نہ خود سکون سے رہتی ہو نہ ہی مجھے رہنے دیتی ہو ؟؟؟”
“امی میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں آپ ایسے لوگوں سے باتیں مت کیا کریں مجھے اچھا نہیں لگتا”
“امی آپ ایسا کیوں کرتی ہیں ؟؟؟ابو سے تو آپ کی پسند کی شادی ہوئی تھی نہ پھر آپ کا دل مان کیسے جاتا ہے ان دو ٹکے کے مردوں سے گھنٹوں پیار محبت کی باتوں کے لئے ؟؟؟”
شہلا نے فاریہ بيگم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر محبت سے پوچھا تھا
“محبت ؟؟؟ محبت کی “م ” سے بھی واقف ہے تمہارا باپ ؟؟؟”
“کوئی محبت نہیں کرتا مجھ سے بس زندگی برباد کردی میری اپنوں سے دور کر دیا ۔۔۔انتقام میں شادی کی مجھ سے ۔۔۔”
فاریہ بيگم نفرت سے بولی تھیں
“امی آپ ان کے آتے ہی ان کے بنا کہے ان کا ہر کام کرتی ہیں ۔۔۔پھر اگر آپ کو اتنی نفرت ہے ابو سے پھر یہ منافقت آپ کر کیسے لیتی ہیں ؟؟؟”
شہلا حیرانگی اور دکھ کے ملے جلے تاثرات لیئے بولی تھی
“تو کیا کروں اور ؟؟؟اس عمر میں طلاق لے لوں اس خر دماغ سے ؟؟؟ اب مجھ میں باقی بچا کیا ہے جو انا کی نذر کر کے اس منافق سے پنگے لوں ؟؟؟؟”
فاریہ بيگم دکھ سے بولی تھیں
“ساری عمر گزر گئی میری ایک دن بھی تنخوا کا ایک نوٹ میری تلی پر نہیں رکھا ۔۔۔کم عمری میں شادی کی تھی تیرے تلانگے باپ سے ۔۔۔بہت ارمان ہوا کرتے تھے مجھے اچھے کپڑوں اور زیور کے ۔۔۔مگر سب محبت کے نام پر قربان کر دئیے میں نے ۔۔۔بدلے میں کیا ملا مجھے ؟؟؟دھوکہ ؟؟؟وہ میرے ہوتے ہوۓ یہاں وہاں وقت گزاری کرتا رہا ؟؟؟نہیں معاف کروں گی اب ۔۔۔۔اپنی ہر خواہش پوری کروں گی ۔۔۔یہ رونگ نمبر وہ سب کہتے ہیں جو میں سننا چاہتی ہوں ۔۔۔وہ میری تعریف کرتے ہیں ۔۔۔ مجھے پیسے دیتے ہیں جس سے میں وہ سب خریدتی ہوں جو تیرے باپ نے حسرت بنا دیا تھا ۔۔۔۔مجھ سے محبت کا دم بھرتے ہیں ۔۔۔تیرے باپ کی طرح اپنی ضرورت نہیں پوری کرتے مجھ سے بس ۔۔۔ “
وہ کسی ٹرانس میں بولتی چلی گئی ۔۔۔
“امی آپ کو ابو سے ذرا بھی محبت نہیں ہے اب ؟؟”
شہلا کی آنکھوں سے ایک آنسو بہہ کر گال پر آیا تھا
“نہیں ۔۔۔۔”
“نہیں ۔۔۔اللّه کرے مر جائے تیرا باپ ۔۔۔آج گھر واپس نہ آئے ۔۔۔۔”
“دیگ مانی ہے میں نے جس دن میں بیوہ کہلواؤں گی “
اب فاریہ بيگم اطمینان سے بولی تھیں
“چلو اٹھو سالن بناؤ آتا ہوگا خر دماغ ۔۔۔”
“امی کیا محبت کے لئے یہ کافی نہیں ہوتا کہ وہ انسان آپ کے ساتھ ہے آپ کا محرم بن کر جس نے آپ کے دل پر پہلی دستک دی تھی ؟؟”
“محبت وحبت کچھ نہیں ہوتا شہلا جو انسان آپکی محبت کی اپنی تنہائی میں بھی لاج نہیں رکھ سکتا اس سے محبت کی امید لگائے رکھنا سب سے بڑا دھوکہ ہے ۔۔ اپنی ذات کے ساتھ ۔۔۔”
“چلو جاؤ اب سٹمنا نہ ضائع کرو میرا ان فضول اور بے وقعت باتوں سے ۔۔۔میں لفظ محبت کے منہ پر تھوک کے بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں دوبارہ یہ لفظ میرے سامنے دوہرایا تو سر پھاڑ دوں گی میں تمہارا”
فاریہ بيگم اب کسی کو مسڈ کال کررہی تھیں
شہلا نے دکھ سے ماں کو دیکھا تھا وہ بہت گھٹن محسوس کررہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر کچن میں مہمانوں کے لئے انتظامات کررہی تھی یخنی پلاؤ دم پر تھا رائتہ بھی تیار تھا بس اب کباب تلنا باقی تھا میٹھے میں کسٹرڈ عقیلہ بيگم پہلے ہی بنا کر فریج میں رکھ چکی تھیں
“Excuse me….”
“اپ مِس سحر ہیں نہ ؟؟”
نہایت ہی خوبصورت آواز میں پوچھا گیا تھا وہ وجود بلکل سحر کے پیچھے کھڑا تھا
سحر جو ابھی تک کالج یونیفارم میں تھی جھنجھلائی سی پیچھے مڑی تھی
کباب کا چمچا اس وجیہ وجود کے سینے سے ٹکڑاتے ٹکڑاتے بچا تھا
“Are you ok princess??”
“جی ۔۔۔”
“آپ کو کچھ چاہیے تھا ؟؟”
سحر نے اپنی گھبراہٹ کو چھپاتے ہوۓ فورا پوچھا تھا
“No I need nothing”
وہ سلاد کی پلیٹ سے کھیرے کا ایک ٹکڑا اٹھا کر سکون سے بولا تھا
“ماما کہتی ہیں آپ میری خالہ کی بیٹی ہیں خالہ مطلب ۔۔۔۔؟؟”
“میری امی آپ کی امی کی سٹیپ سسٹر ہیں ۔۔۔”
سحر نے کباب تھلتے ہوۓ کہا تھا
“Do you know my name??”
وہ سحر کے بلکل ساتھ کھڑا ہوا تھا
“Yes I do…”
“یہ آپ کا لندن نہیں ہے عاشر ۔۔۔۔پلیز فاصلہ رکھ کر بات کریں ۔۔۔”
“Ok princess…”
وہ تھوڑا دور ہوا تھا
“ویسے آپ کیا بنا رہی ہیں؟؟”
“خوشبو تو بہت کمال کی آ رہی ہے”
“جو بن رہا ہے تھوڑی دیر میں آپ کو مل جائے گا ۔۔۔ہم غریب لوگ ہیں کچھ خاص خوشی نہ ہو شاید آپ کو ہمارے دسترخوان پر ۔۔۔”
سحر نے اس خوبصورت دراز قد 22سالہ نوجوان پر
ایک سرسری نظر ڈال کر کہا تھا جو کہیں سے بھی اس گھر میں ایک لمحہ گرزارنے کے قابل نہیں تھا وہ کسی سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا اور یہ فرسودہ سا گھر کسی جھوپڑی کا منظر پیش کر رہا تھا ۔۔۔
عاشر سر سے پاؤں تک وجاہت کی مورت تھا ۔۔۔وہ کسی بھی زاویے سے غیر معمولی نہیں تھا ۔۔۔
“اب ایسا بھی نہیں ہے پرنسز ۔۔۔۔۔میری ماما نے جیسے میری اردو پر خاص توجہ دی ہے ویسے ہی مجھے ہر طرح کا کھانا بہت عزت سے کھانا سکھایا ہے ۔۔۔”
“Now you are exaggerting…princess”
وہ ایک بار پھر بہت پاس آکر سحر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا
“O please …can you stop this calling me princess??”
“سحر نام ہے میرا ۔۔۔۔call me sehar….”
عاشر اس بے تكے حملے کے لئے تیار نہیں تھا وہ کھیرے کا کچھ حصہ شلف پر رکھ کر تیزی سے کچن سے نکلا تھا ۔۔۔
“بندہ برا نہیں ہے بس کاش میں غریب نہ ہوتی ۔۔۔اپنا کھوکھلاپن چھپاتے چھپاتے میں کتنی گستاخ ہو گئی ہوں ۔۔۔۔مہمانوں کی عزت کرنا بھی یاد نہیں رہا۔ ۔۔۔۔۔یا اللّه ۔۔۔۔ آج کل یہ محرومی بڑھتی کیوں جا رہی ہے ۔۔۔۔”
سحر نے عاشر کی پینٹ کو دیکھتے ہوۓ سوچا تھا
“بیٹا سب تیار ہوگیا ؟؟”
عقیلہ بيگم کچن میں دسترخوان والا کپڑا اٹھا کر بولی تھیں ۔۔۔
“جی امی آپ کھانا لگانا شروع کر دیں ۔۔”
“امی یہ امیر زادی بہن آپ کی اپنے امیرزادے کو لے کر کب جائیں گی ؟؟”
وہ ہر لفظ چبا چبا کر بولی تھی
“منہ بند رکھو سحر تمہیں کیا تکلیف ہے؟برسوں بعد میرے میکے سے کوئی آیا ہے تمہیں میری خوشی ہضم کیوں نہیں ہورہی میری ساس کیوں بن گئی ہو؟؟؟”
سحر کو اب خاموشی میں ہی عافیت لگی تھی بلکہ ڈر بھی لگ رہا تھا کہ وہ خالہ کا چہیتا کہیں اپنی عزت افزائی کی خبر عقیلہ بيگم کو نہ سنا دے ۔۔۔
عقیلہ بيگم دسترخوان بچھانے کچن سے نکلی تھیں سحر سینک میں گندے برتن رکھ رہی تھی جب باہر کی طرف کھڑکھی میں اس کی نظر عاشر پر پڑی تھی جو بظاہر کاشف کے ساتھ فٹ بال اٹھاے کھیل رہا تھا مگر نظر اور کان سحر کی طرف ہے تھے ۔۔۔
سحر شرم سے پانی پانی ہوئی تھی کچھ دیر پہلے اپنی تنگ دلی والے جملے پر ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سیفی؟؟؟”
“جی امی ؟؟؟”
زبیدہ بيگم چاۓ کا کپ لے کر موبائل یوز کرتے سیف سے مخاطب ہوئی تھیں
“بیٹا بہت کم پیسے دینے لگے ہو ۔۔۔۔۔گزارا نہیں ہوتا ۔۔۔”
“تھوڑا کام پر دهیان دو ۔۔۔”
“جی امی ۔۔۔خیال رکھوں گا ۔۔۔”
سیف نے ہمیشہ کی طرح سعادت مندی سے جواب دیا تھا
“امی جا رہا ہوں آج رات گھر نہیں آ سکوں گا ندیم کے گاؤں جارہا ہوں ایک سواری کو لے کر رات ادھر ہی ركوں گا ۔۔۔”
“ادھر کس کے پاس ؟؟”
“امی ندیم کے کوئی رشتہ دار ہیں ۔۔۔اچھا نکل رہا ہوں چاۓ پینے کا دل نہیں ہے “
وہ گاڑی کی چابی لے کر نکلا تھا
“ہیلو ندیم ؟؟؟آرہا ہوں چوک پر گاڑی لے کر تم سواری کو بولو ریڈی رہیں ۔۔۔”
وہ فون پر ندیم کو اطلاع دے کر بیٹھ گیا تھا
سواری کو اس کی منزل پر پہنچاتے پہنچاتے رات کے اڑھائی بج چکے تھے ۔۔۔
“چل ندیم یہ کام تو ہو گیا اب بتا رات کدھر کریں گے ؟؟”
“ندیم نیند میں اپنے موٹے ہونٹ بمشکل ہلا کر بولا تھا
“یار ادھر میرے چاچے کا گھر ہے ادھر لے لے گاڑی “
وہ نیند میں ہاتھ کے اشارے سے پتہ بتا رہا تھا اپنی کتابوں میں ۔۔۔
“یار آنکھیں کھول اٹھ کر بیٹھ ادھر ہی اتار دوں گا تمہیں ۔۔ ٹھیک سے پتہ بتاؤ۔۔۔”
سیف نے بریک لگا کر ندیم کو جھنجھوڑکر کہا تھا
وہ پوری آنکھیں کھول کر اب بیٹھ گیا تھا اور صحیح سے پتہ بتا رہا تھا
تھوڑی دیر میں ایک حویلی کے آگے گاڑی رکی تھی
ایک بڑا سا پرانا سا گیٹ تھا جس پر ندیم کے چاچا ٹھنڈ سے بچاؤ کے لئے موٹی چادر اوڑھے ان کے منتظر تھے ۔۔۔
وہ بہت گرمجوشی سے دونوں سے ملے تھے
اس بڑی حویلی میں بہت سے کمرے تھے وہیں ایک کمرے میں ان دونوں کے سونے کا انتظام کیا گیا تھا چاچا گرم پانی سے ان دونوں کو ہاتھ منہ دھلا کر اب اس کمرے میں ان کو لے آئے تھے جہاں ان کو رات گزارنی تھی ۔۔۔۔
وہاں کھانا ان کی آمد سے پہلے ہی لگا دیا گیا تھا ندیم کی چاچی وہیں موجود تھی وہ دونوں کھانا کھانے بیٹھ چکے تھے جب ایک لڑکی وہاں پانی کا جگ لئے اندر آئی تھی
“اماں پانی ۔۔۔”
وہ جگ رکھ کر واپس مڑی تھی
