195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 21

عاشر کے ذاتی کاموں کے لئے ایک لڑکا رکھ دیا گیا تھا کیوں کہ سحر نہیں چاہتی تھی کہ عاشر اس حلال رشتے کو جانے بنا سحر کی اتنی قربت پر سحر کے کردار کو مشکوک سمجھے ۔۔۔۔اس کے علاوہ زين بھی وقت فوقتأ آجایا کرتا اور عاشر کی صفائی ستھرائی میں اس کی مدد کر دیتا گو کہ وہ اب تک زين کے ساتھ اپنی دوستی کو یاد نہیں کر پایا تھا مگر وہ اس کی سنگت میں خوش رہتا ۔۔۔

عاشر کو گھر آۓ ایک ہفتہ ہو چکا تھا سب اچھا جا رہا تھا اس کے پاؤں کا زخم تیزی سے بھر رہا تھا سب اس کی طبیعت سے مطمئن تھے

عاشر کو وقت پر دوائی اور کھانا کھلانے کا کام سحر نے اپنے ذمے اٹھا رکھا تھا جو وہ خوش اسلوبی سے نبھا رہی تھی

سحر عاشر کے جاگنے تک اس کے کمرے میں رہتی اس کے سوتے ہی وہ گیسٹ روم میں آ کر سو جاتی ۔۔۔

صبح کا وقت تھا سحر عاشر کو ویل چیئر پر باہر لان میں لے کر بیٹھی تھی عاشر نے پانی مانگا تھا وہ ہر وقت سر سے پيروں تک بڑی سی چادر اوڑھے رہتی ۔۔۔

کچن کی کھڑکی باہر کی طرف کھلتی تھی وہ وہاں سے گزر کر اندر جانے کو تھی جب بےبی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی

“کم اون مایا وقت کم ہے ۔۔۔۔۔جلدی ہی کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔تم روز اچھا سا تیار ہو کر عاشر کو وقت دینا شروع کرو ۔۔۔۔اسے اتنا بے چین کردو کہ میں جیسے ہی تم سے شادی کی بات کروں وہ فورا مان جائے ۔۔۔۔اس سحر کو میں مزيد برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔وہ ویسے بھی جو حلیہ بناے رکھتی ہے عاشر کبھی بھی اسے ایک خادمہ سے زیادہ اہمیت نہیں دے گا ۔۔۔رات کو عاشر اکیلا ہوتا ہے وہ لڑکا تو سو جاتا ہے تم رات عاشر کے روم میں رکنا شروع کرو ۔۔۔۔مرد کی سب سے بڑی کمزوری عورت کی خوبصورتی اور بے باکی ہے ۔۔۔۔

وہ زیادہ دیر تم سے دور نہیں رہ سکے گا ۔۔۔۔

سحر کا سر بری طرح چکرایا تھا آج صبح سے یہ دوسری بار تھا جب سحر کو کمزوری کے ساتھ چکر محسوس ہوۓ تھے

بےبی کی باتوں سے سحر کا دل بے چین ہوا تھا وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پهنسا کر ادھر ہی کھڑی ہوئی تھی

“سحر گلہ سوکھ رہا ہے پانی جلدی لے آؤ”

عاشر کی آواز سے سحر ہوش میں آئی تھی وہ جلدی سے پانی لینے اندر گئی تھی جہاں بےبی فون بند کیے اب پُرسکون سی کھڑی تھی سحر نے بےبی کو کچھ بھی محسوس کرواۓ بغیر پانی کا گلاس بھرا تھا وہ فورا باہر آئی تھی عاشر کو پانی دے کر وہ دوپہر کے کھانے کی تیاری کے لئے کچن میں آئی تھی

وہ سالن کا مصالہ بھون رہی تھی جب ایک دم سے وہ خوشبو اسے بری طرح ناگوار گزری تھی وہ منہ پر كپڑا رکھ کر وہ سالن بمشکل پکا پائی تھی ۔۔۔اسی وقت فون بجا تھا امی جان کا نام روشن ہوا تھا

“السلام علیکم امی آپ کیسی ہیں ؟؟؟؟”

“وعلیکم السلام ۔۔۔۔اللّه کا لاکھ لاکھ شکر ہے بیٹا ۔۔۔۔میری بیٹی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ؟؟؟”

“امی آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے میری آواز سے ہی کہ میں کب کیسی ہوں ؟؟؟”

“یہ تو میں خود بھی نہیں جانتی بیٹا ۔۔۔۔بس یہ اللّه کے معجزوں میں سے ہے جو ایک ماں اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر اولاد کو پیدا کرتی ہے ۔۔۔بس اسی کا انعام ہے یہ کہ ایک ماں اولاد کی آواز سنتے ہی اس کی دلی اور جسمانی کیفیت کو جان لیتی ہے ۔۔۔۔”

“لو جی ۔۔۔۔امی یہ کیا بات ہوئی ؟؟؟”

سحر نے بمشکل سالن میں چمچ چلاتے ہوۓ اپنی ابکائی روکی تھی

“جب تمہاری اولاد تمہاری گود میں آئے گی نہ پھر پوچھوں گی میں کہ یہ کیا بات ہوئی ؟؟؟”

عقیلہ بيگم ترکی با تركی قہقہ لگا کر بولی تھیں

“ایک منٹ امی”

سحر فون شیلف پر رکھ کر سنک کی طرف بھاگی تھی وامِٹ کرنے بعد وہ دوبارہ فون کی طرف آئی تھی

“ہیلو امی”

وہ چہرہ اپنے دوپٹے سے خشک کرتی ہوئی بولی تھی

“کیا ہوا تھا سحر ؟؟؟ایسے فون کیوں رکھ دیا تھا ؟؟؟”

“امی بس صبح سے بی۔پی لو تھا شاید چکر آ رہے تھے ابھی مصالہ بھونتے بھونتے متلی ہوئی اور ابھی الٹی ہوئی ہے مگر ابھی بھی دل پر بوجھ سا بنا ہوا ہے

“ماشاءالله ماشاءالله ۔۔۔۔اللّه میری بیٹی کو صدا سہاگن رکھے ۔۔۔۔بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔۔نگینہ کدھر ہے ؟؟عاشر کو پتہ ہے ؟؟؟”

“آنٹی تو اپنے کمرے میں ہوں گی ۔۔۔عاشر باہر لان میں مگر امی آپ کی سمجھ نہیں آئی میری طبیعت خراب ہے اور اپ ہیں کہ خوش ہو رہی ہیں ؟؟؟”

سحر نے ناراض ہوتے ہوئے کہا تھا

“بیٹا طبیعت تو خراب ہو گی ۔۔۔۔۔ماں کا رتبہ ایسے ہی تھوڑی ملتا ہے ۔۔۔۔”

“کیا مطلب امی ؟؟؟”

“عاشر باپ بننے والا ہے سحر ۔،۔۔۔۔چلو اب نفل پڑھ لوں میں ۔۔۔تم بھی اپنا پہلے سے زیادہ خیال رکھو۔۔۔”

“الله حافظ”

عقیلہ بيگم نے کال کاٹ دی تھی سحر کا چہرہ خوشی سے لال ہوا تھا اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اللّه کی اس خوبصورت عنایت پر صدق دل سے شکر ادا کیا تھا ۔۔۔

“بیشک میرا رب ہمیں نا امید نہیں کرتا ۔۔۔۔۔وہ ہمیں تب نوازتا ہے جب ہم زندگی سے جڑی ہر امید سے نا امید ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔”

سحر نے کھڑکی سے لان میں عاشر کی طرف دیکھا تھا جو چپ چاپ خلاء میں دیکھ رہا تھا

“کاش عاشر میں آپ کو باپ بننے کی یہ خوش خبری سنا سکتی ۔۔۔۔مگر اب میں اکیلی نہیں ہوں میرے ساتھ آپ کی اولاد بھی ہے جو آپ کی کمی پوری کرے گی ۔۔۔اب آپ سے ہمیں کوئی بھی الگ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔میں اب اکیلی نہیں ہوں ۔۔۔۔عاشر ۔۔۔۔۔۔۔”

سحر خوشی سے جھومتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی تھی ایک زبردست سا سوٹ نکال کر پریس کر کے وہ نہانے گھسی تھی ۔۔۔

آج وہ دل سے تیار ہوئی تھی آج سوٹ کے ساتھ کا دوپٹہ اوڑھے اپنے کالے گھنے بالوں کو کھولا چھوڑا تھا ۔۔۔۔

پھلکا ميک اپ اس کی سادگی کو چار چاند لگا گیا تھا اس کی خوبصورتی کی وجہ وہ اندرونی خوشی تھی جس نے سحر کو جینے کی نئی امید دی تھی وہ عاشر کے پاس جانے کے لئے لان کی طرف آئی تھی

“عاشر ۔۔۔۔۔۔آئی لو یو سو مچ ۔۔۔۔۔۔۔”

مایا عاشر کا سر اپنے برہنہ وجود سے لگاے بول رہی تھی جبکہ عاشر آنکھیں بند کئے خاموش تھا

سحر یہ دیکھ کر الٹے قدم واپس کمرے کی طرف بھاگی تھی وہ بیڈ پر بیٹھی روہانسی ہوئی تھی

“سحر اب بات تمہاری اولاد کی پہچان کی ہے تم اب اس طرح ہمت نہیں ہار سکتی۔۔۔۔تم اس کی بیوی ہو ۔۔۔۔بیوی ۔۔۔۔عاشر کے سیاہ سفيد کی مالک ۔۔۔۔۔وہ دو ٹکے کی مایا کس حیثیت سے تمہارے شوہر پر اس طرح حق جتاتی پھر رہی ہے ؟؟؟؟”اٹھو اور اپنے شوہر کی ڈھال بنو ان گناہوں کے آگے جن میں اس کی ماں اور یہ لڑکی اس کو مبتلا کرنے کے درپے ہیں ۔۔۔۔

تمہارا اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے سحر ۔۔۔۔

سحر کے اندر کی سحر نے سحر کو تھپکی دی تھی

“اگر مرد واقعی ہی اتنا کمزور ہے کہ عورت فقط اپنے جسم سے اسے اپنا اسیر بنا سکتی ہے اس سے یہ بھلا سکتی ہے کہ اس کی ایک عدد بیوی بھی ہے تو جسم تو میرے پاس بھی ہے ۔۔۔”

سحر نے شیشے میں خود کو دیکھا تھا وہ دوپٹہ بيڈ پر رکھ کر ایسے ہی باہر نکلنے کو تھی

“جو محبت جسم سے ہو وہ محبت نہیں ہوتی سحر بی بی ۔۔۔۔۔۔جسم محض جسم کی ضرورت پوری کر سکتا ہے ۔۔۔۔محبت کی محتاج تو روح ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔”

“مگر ظاہری خوبصورتی تو شروعات ہوا کرتی ہے نا محبت کی ۔۔۔۔”

دماغ نے اپنی تجویز پیش کی تھی

“میں اس کی محرم ہوں ۔۔۔۔میرا جوڑ تو اس رب نے بنایا ہے ۔۔۔مجھے میرا نکاح اس کے دل تک لے کر جائے گا ۔۔۔۔۔مجھے ان اوچھے ہتھکنڈوں کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔”

سحر کر پاؤں اپنی ضمیر کی آواز پر رکے تھے

“آپ کو واپس آنا ہوگا عاشر ۔۔۔۔۔۔اپنی سحر کی محبت کے لئے ۔۔۔۔اپنی اولاد کے لئے ۔،۔۔۔”

سحر نے بيڈ سے دوپٹہ اٹھا کر سلیقے سے سر پر ڈالا تھا وہ تیزی سے عاشر کے پاس گئی تھی جو مایا کو خود کو اکیلا چھوڑ دینے کا کہہ رہا تھا وہ سحر کو دیکھ کر فورا بولا تھا

“اچھا ہوا تم آگئی سحر ۔۔۔۔مجھے میرے کمرے میں لے چلو ۔۔۔مجھے کھانا کھلاؤ اپنے ہاتھ سے بہت بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔”

عاشر کی بات پر مایا پیر جھٹکتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھی تھی جبکہ سحر کو سجا سنورا دیکھ کر عاشر کا دل ایک پل کے لئے زور سے دھڑکا تھا

سحر عاشر کو کمرے میں لے جا کر کھانا کھلا رہی تھی آج عاشر کا دیہان کھانے سے زیادہ سحر میں تھا اسی وقت زين نے دروازے پر دستک دی تھی

سحر نے خود کو اچھے سے ڈھک کر اسے اندر آنے کی اجازت دی تھی

وہ عاشر کے ایکسیڈنٹ کے بعد سے سحر کے کہنے پر سحر کو بھابھی کی بجاۓ سحر آپی کہتا تھا تاکہ عاشر کا دماغ کسی قسم کی الجھن سے پاک رہے ۔۔۔

“سحر آپی پرسوں عاشر کو ہسپتال لے کر جانا ہے میں آجاؤں گا وقت پر آپ بھی تیار رہیے گا ۔۔۔”

وہ جلدی میں تھا اپنی بات کر کے باہر نکلا تھا

سحر نے عاشر کو نوالہ دے کر ہاتھ نیچے کیا تھا جیسے عاشر نے اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے جکڑ لیا تھا سحر اس خوشی کے موقعے پر عاشر کا لمس شدت سے محسوس کرنا چاہتی تھی اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں

“سحر ۔۔۔تم اس گھر میں موجود ہر کسی سے اپنا چہرہ چھپا لیتی ہو مگر مجھ سے نہیں چھپاتی ایسا کیوں ہے ؟؟؟مجھ سے ایسا کیا رشتہ ہے تمہارا ؟؟؟”

سحر عاشر کے اس سوال سے ایک دم ہوش میں آئی تھی اس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچا تھا

“زیادہ باتیں کرنا آپ کے لئے اچھی نہیں مسڑ عاشر ۔،۔۔۔میرا خیال ہے آپ کا پیٹ بھر گیا ہے۔۔۔میں چلتی ہوں”

سحر کھانا اٹھا کر کمرے سے فورا نکلی تھی

عاشر کو ملازم لڑکے نے بیڈ پر لیٹا دیا تھا وہ تھوڑی دیر کے لئے دوپہر کے کھانے کے بعد سو جایا کرتا تھا

سحر کچن میں آلو بوائل کر کے ان میں پیاز،ٹماٹر،ہری مرچ باریک باریک کاٹ کر ان میں نمک مرچ اور لیموں نچوڑ کر مزے سے کھانے میں مصروف تھی اس کی سوں سوں کی آواز لال مرچ کی بہتات کا پتہ دے رہی تھی بےبی جو کھانا کھانے کچن میں آئی تھی سحر کو اس طرح الو کی چاٹ کھاتا دیکھ حیران ہوئی تھی ان کو سحر کی حالت کا کچھ کچھ اندازہ ہوا تھا جس سے ان کی بھوک اڑی تھی وہ سحر کو پتہ چلے بغیر اپنے کمرے میں گئی تھیں

“جہانگیر عاشر باپ بننے والا ہے”

“اب جلدی ہی کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔اچھا ۔۔۔۔ہاں ٹھیک ہے ۔۔۔۔جتنی جلدی ہو ۔۔۔۔ سحر کی آج رات کی ہی ٹکٹ کنفرم کرواؤ ۔۔۔”

وہ کال کاٹ کر مکروہ مسكراہٹ لئے مسکرائی تھی ۔۔۔۔

۔****************

رات سب فجر کے بعد سوۓ تھے نیا دن چڑھ چکا تھا ابھی تک سب سو رہے تھے سیف کی آنکھ جلدی کھل گئی تھی اس نے گھر فون کر کے دعا کی خیریت دريافت کی تھی

چونکہ ٹھنڈ تھی وہ دوبارہ رضائی میں گھس گیا تھا تھوڑی دیر بعد ندیم بھی جاگ گیا تھا وہ سیف کی چارپائی پر رضائی میں پاؤں ڈال کر بیٹھ گیا

“سیف ۔۔۔۔عنایا آپی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟؟؟”تم کیا کہتے ہو اس معاملے میں ؟؟؟”

“یار طلاق کے بعد آپ لوگ مزید کر بھی کیا سکتے ہو ؟؟؟؟”

ندیم سیف کی بات پر پزل ہوا تھا

“اور یہ ماہی کا کس نے کہا ہے وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی ؟؟؟؟”

سیف نے سرگوشی میں ندیم کے قریب ہوتے ہوۓ پوچھا تھا

“اماں کہتی ہے جتنی وہ سادی ہے اس کے بچے کبھی نہیں ہونے ۔۔۔اگر ہوۓ بھی تو اس کی طرح بھولے ہی ہوں گے ۔۔۔۔”

“یار ندیم یہ سب فضول باتیں ہیں ۔۔۔۔ماہی ہم جیسی واقعی نہیں ہے کیوں کہ ہم مکار اور دھوکے باز ہیں وہ سادہ دل کی لڑکی ہے جھوٹ اور فریب سے بالاتر ۔۔۔۔۔۔اصل میں ایبنارمل ہم ہیں وہ نہیں ۔۔۔۔رہی بات اولاد کی تو وہ اللّه نے قسمت میں لکھی ہو تو میں کہتا ہوں خواجہ سرا سے بھی پیدا ہو جائے اور اگر نا لکھی ہو تو کوئی مکمل عورت بھی نہ دے سکے ۔۔۔۔یہ میرے رب کی حکمتیں ہیں ہم انسان اس میں نا ہی پڑیں تو اچھا ہے ۔۔۔۔۔ماہی سے شادی کر لے تو ندیم ۔۔۔۔ساری عمر تم نے لوگوں کی بہن ،بیٹی کو دوستی کے نام پر ذلیل اور رسوا کیا ہے ۔۔۔۔سچ پوچھے تو مجھے عنایا کے گھر برباد ہونے کی اصل وجہ ہی تم اور تمہارا تاریک ماضی لگتا ہے ۔۔۔۔۔”

سیف نے ندیم کو صاف صاف آئینہ دکھایا تھا جس پر ندیم شرم سے پانی پانی ہوا تھا

“اماں نہیں مانے گی سیفی یار ۔۔۔۔”

“میں کرتا ہوں بات تیری اماں سے بس تم لوگ فلحال عنایا کا تماشہ نا بناؤ ۔۔۔اسے ساتھ لے چلو ۔۔۔۔اس کو سکون سے عدت پوری کرواؤ ۔۔۔۔۔پھر جس گارمینٹس فیکٹری میں شفٹ لاتا لے جاتا ہوں وہاں کی جو ہیڈ ہیں وہ بہت اچھی خاتون ہیں ادھر کام پر لگوا دوں گا ۔۔۔۔بہت زبردست سسٹم ہے ادھر باپردے طریقے سے صرف خواتین کا سیٹ اپ لگایا گیا ہے ۔۔۔دل خوش ہو جاتا ہے بندے کا اتنا اعلی نظام ہے ۔۔۔۔”

سیف پر جوش سا بولا تھا

ناشتہ کرنے کے بعد ندیم کے والدین عنایا کو سیف کی گاڑی میں ہی اپنے ساتھ گھر لے آئے تھے ۔۔۔

آج سیف نے جاتے جاتے ماہی کو بہن کی نظر سے دیکھا تھا اور اسے اچھا بھائی ثابت ہونے کا وعدہ بھی کیا تھا جس پر ماہی نے خوشی کا اظہار کیا تھا ۔۔۔۔

سب بدل گیا تھا ۔۔۔۔۔جب اللّه نے کہہ دیا ۔۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔۔۔۔پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے ۔۔۔۔جب سیف نے سچے دل سے ماہی کو عزت اور بہن کا رتبہ دے دیا تو ماہی کا دل بھی اللّه نے بدل دیا تھا ۔۔۔۔وہ سرشار سی اپنا سر جھکا گئی تھی ۔۔۔۔

وہ نماز قران کی پابند ایک عام سی لڑکی کم نہیں تھی ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔بلکہ وہاں تو زیادتی ہی زیادتی تھی خلوص اور سچائی کی ۔۔۔۔۔

ہم انسان بھی کتنے عجیب ہوا کرتے ہیں ۔۔۔اگر کوئی ہم سے زیادہ تیز ہو تو وہ چلاک اور مکار ہے ۔۔۔۔اور اگر کوئی ہماری طرح چلاک اور مکار نا ہو ۔۔۔۔سفيد کو سفيد کہنے والا تو وہ بھولا ہے ۔۔۔۔نا سمجھ ہے ۔۔۔۔جهلا ہے ۔۔۔۔

ماہی بھی ویسی ہی تھی ۔۔۔۔اپنی عمر سے کچھ سال کم ۔۔۔ذہنی طور پر ۔۔۔۔۔مگر جسمانی لحاظ سے وہ مکمل عورت تھی ۔۔۔ مگر اس کی سادہ طبیعت سے ان عورتوں کو وہ نا مکمل لگتی تھی جن کو ویسے تو سادہ،گونگی اور بہری بہو چاہیے ہوتی ہے مگر ماہی کی سادگی سے جب یہ نقص نہیں نکل سکتا تھا تو ان کو نسل نا بڑھنے کا ڈر تھا ۔۔۔۔

بات ساری انسانی فطرت کی ہے ۔۔۔۔۔جب بھی جس کو بھی جہاں بھی انتخاب کا اختیار ملا ہے وہ فرعون ضرور بنا ہے ۔۔۔۔

کتنا مزہ آتا ہے نا ہم ۔۔۔۔۔۔ہم دوسروں کی عمر بھر کی جیتی جاگتی کمائی کو من چاہا لیبل لگا کر چھوڑ سکتے ہیں ۔۔۔۔

کہیں قد کم ہے تو کہیں عمر زیادہ ہے ۔۔۔۔۔کہیں رنگ پکا ہے تو کہیں منہ پر داغ زیادہ ہیں ۔۔۔۔کہیں وزن زیادہ تو کہیں لڑکی سوکڑے کی شکار ہے ۔۔۔۔

مطلب نہ وہ کسی کی بہن بیٹی ہے نا ہی وہ عقل شعور رکھتی ہے ۔۔۔۔۔وہ تو مجرم ہے ۔۔۔۔یہ سب تو جرم ہیں ارے صرف انکار کرنا کافی نہیں ہے ۔۔۔۔اس پر تو اس جرم کی پاداش میں تیزاب ڈال دو ۔۔۔۔تاکہ تمہارے بعد اس کے پاس وجہ موجود ہو کسی مجرم کی طرح اپنا چہرہ،اپنی ذات اپنی پہچان چھپانے کی ۔۔۔

یہی عورتیں جب اپنی بیٹی کی باری بھیگی بلی بن کر بیٹھ جاتی ہیں ۔۔۔۔تب آنے والوں سے رحم کی امید کی جارہی ہوتی ہے مگر اپنی باری وہ یہ بھول جاتی ہیں کوئی ماں فکر سے اپنی انگلیاں مروڑ رہی ہوگی ۔۔۔۔۔

نا جی نا جی ہم خود کسی صورت نہیں سدهر سکتے ۔۔ مگر ہاں ہمیں ہر بندہ سدهرا ہوا ہی ملے ۔۔۔۔

عنایا کی عدت پوری ہو چکی تھی ندیم نے سیف کو اپنے اور ماہی کے سادگی سے نکاح کا بتایا تھا رخصتی کی تاریخ اسی ہفتے کی رکھی گئی تھی بارات میں قریبی رشتہ داروں کو بلانے کا خیال ظاہر کیا گیا تھا

سیف بہت خوش تھا وہ ماہی کا گھر بسا دیکھنا چاہتا تھا ایک سکون تھا جو اس کی روح کو سرشار کر گیا تھا ۔۔۔۔

وہ ندیم کے بلانے پر اس کے گھر گیا تھا ندیم کی ماں اور عنایا نے ماہی کے گھر تیاری کے سلسلے میں جانا تھا

عنایا عبایا پہنے گاڑی میں ماں کے ہمراہ آ کر بیٹھی تھی وہ پورا راستہ بہت کم بولی تھی مگر جب بھی بولی اس کا کردار اس کی آواز میں بول رہا تھا

آج اور اس رات کی عنایا میں دن اور رات کا فرق تھا

یہ عنایا خوش اور بااعتماد تھی ۔۔۔۔۔والدین اور بھائی کے سہارے نے اس کو زندگی بخشی تھی وہ بات بات پر مسکرا رہی تھی ۔۔۔

بھائی کے گھر بسنے کی خوشی اس کے ہر رنگ سے نمایاں ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔

آج پھر ایک بہن اپنی بھابھی لانے کی خوشی میں اپنی خوشی ڈھونڈ کر نہال ہو رہی تھی ۔۔۔۔

سیف نے اس معصوم لڑکی کو نا چاھتے ہوۓ نوٹ کیا تھا ۔۔۔

“امی میں ایک اور جوڑا بھی لوں گی ۔۔۔بارات کے لئے آخر اكلوتی دوست ہوں میں ماہی کی ۔۔۔۔”

“پتر اپنی بری میں سے کوئی پرانا کام والا نکال کر پہن لینا”

ندیم کی ماں کی اس بات پر عنایا کا چہرہ پھول کی طرح مرجهایا تھا ۔۔۔

“نہیں امی ۔۔۔۔اس شخص سے جوڑی کوئی بھی چیز میں استعمال نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔میں بہت مشکل سے خود کو ماضی سے نکال پائی ہوں ۔۔۔۔۔جسم کے زخم تو مندمل ہو گئے ہیں مگر روح کے زخم جاتے جاتے ابھی عرصہ لگا دیں گے امی ۔۔۔۔”

عنایا کے لہجے میں اداسی آ چکی تھی ۔۔۔۔

“اچھا بیٹا یہاں پھلوں کی دوکان پر گاڑی روک دینا تھوڑا تازہ پھل خریدلیتے ہیں ۔۔۔”

عنایا کی امی نیچے اتر چکی تھیں ۔۔۔

اب گاڑی میں سیف اور عنایا اکیلے بیٹھے تھے

“عنایا ۔۔۔۔۔۔کچھ کہنا چاہتا ہوں آپ سے ۔۔”

“جی سیف بھائی بولیں ۔۔۔۔میں سن رہی ہوں”

عنایا پرس میں کچھ دھونڈتی ہوئی مصروف سی بولی تھی

*میرے بارے میں جانتی ہیں آپ ؟؟؟”

“جی بھائی ۔۔۔۔آپ کی وائف شہلا ۔۔۔۔۔بہت زیادہ دکھ ہوا ۔۔۔۔آپکی بیٹی دعا ۔۔۔۔سنا ہے بہت پیاری بچی ہے ۔۔۔”

“صاف صاف کہوں گا عنایا ۔۔۔۔۔۔میری بیٹی کو ماں اور مجھے ہم سفر کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔آپ کے لئے اپنی امی کو بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔”

عنایا کو سیف کی بات سے کرنٹ لگا تھا وہ فورا بولی تھی

“پلیز ایسا مت کیجئے گا ۔۔۔ابو امی فورا ہاں کر دے گے ۔۔۔اور میں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں بنا کسی مرد کے سہارے اور نام کے ۔۔۔۔میں کھلی فضا میں سانس لینا چاہتی ہوں ۔۔۔۔”

“دو سال قيد با مشقت کاٹی ہے میں نے بنا کسی قصور بنا کسی جرم کے ۔۔۔۔۔میں اتنی آسانی سے پھر اپنی آزادی کو نہیں کھونے دے سکتی ۔۔۔۔”

عنایا کی آواز میں التجاء تھی