195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 19

عاشر کو سٹی۔سکین کے لئے اندر لے کر گئے تھے اس کی ایک ٹانگ کی ہڈی بری طرح فریکچر ہوئی تھی پورے جسم میں جابجا چھوٹی چھوٹی چوٹیں لگی تھیں مگر سب سے زیادہ پریشانی اس کی مسلسل بے ہوشی کی تھی جس کا سسب سر میں انٹرنل بلیڈنگ تھی بےبی اور سحر اپنی سانسیں روکے باہر کھڑیں تھیں

بےبی مسلسل رو رہی تھی جبکہ سحر ہاتھ میں تسبیح لیئے خود کو سنبھال رہی تھی

زين عاشر کے ساتھ اندر گیا تھا اب وہ عاشر کو باہر لے کر آیا تھا اس کے ساتھ اکسیجن اور مانیٹر لگا ہوا تھا جس میں اس کی پل پل کی حالت ظاہر ہو رہی تھی

ایک سینئر ڈاکٹر جو بےبی كی ریپوٹیشن کی پیش نظر عاشر کے ساتھ مسلسل موجود تھا وہ باہر آیا تھا اس نے بےبی اور سحر کو اندر بلايا تھا جبکہ زين عاشر کو دوبارہ آئی۔سی۔یو میں لے گیا تھا

اس ڈاکٹر نے دونون کو بیٹھنے کا اشارہ کر کے اپنی بات شروع کی تھی

“عاشر کے سر میں خون بہہ کر جم گیا ہے کچھ تو دوائیوں کے ساتھ سوکھ کر ختم ہو جائے گا مگر ایک خون کا کلاٹ جو کہ دماغ کی ایسی جگہ پر جم گیا ہے جہاں سے اس کا ہٹانا بہت ضروری ہے مگر سرجری بہت زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے اس میں مریض كی جان بھی جا سکتی ہے ۔۔۔۔دوائی اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے مگر وہ بہت زیادہ لمبا عرصہ لگاۓ گی ۔۔۔۔۔

“اگر یہ نا ہٹایا جائے اور دوائی دے کر اس کے خود سے ہٹنے کا انتظار کیا جاتا ہے تو تب تک مریض کی کیا حالت رہے گی ؟؟؟

“مسز عاشر ۔۔۔۔۔۔۔تب تک ہو سکتا ہے یہ لمبے عرصے تک کومے میں رہیں یا ان كی یاداشت کا ایک اچھا خاصا حصہ ان کی میموری سے کچھ عرصے یا ہمیشہ کے لئے مٹ جائے ڈیلیٹ ہو جائے ۔۔۔۔یا ان کی یاداشت مکمل طور پر ہمیشہ کے لئے چلی جائے ۔۔۔۔”

بےبی اور سحر نے اپنا سر پکڑ لیا تھا وہ دونوں شکستہ قدموں چل کر باہر آئی تھیں ۔۔۔

“یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔۔میرا عاشر ۔۔۔۔”

بےبی پھوٹ پھوٹ کر دروازے کے باہر پڑے بینچ پر بیٹھ کر رونے لگی تھی سحر نے خود بھی روتے روتے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا

زين نے دونوں کو آئی۔سی۔یو آنے کا کہا تھا کیوں کہ وہ اب گھر جانا چاہتا تھا وہ رات سے ادھر تھا اس کے والدین الگ سے پریشان ہو رہے تھے وہ دوبارہ جلدی آنے کا کہہ کر چلا گیا تھا

عاشر کو ٹانگ کی سرجری کے لئے لے جایا جا چکا تھا اس کے سر پر 6ٹانکیں لگے تھے ماتھے پر جو جگہ سٹیرنگ سے ٹکڑائی تھی ۔۔۔

سرجری کے بعد اب اسے دوبارہ آئی۔سی۔یو میں لایا جا چکا تھا

رات سے دن اور دن سے دوبارہ رات ہو چکی تھی سحر نے بےبی کو گھر بھیج دیا تھا وہ خود جائے نماز پر بیٹھی اللّه کو اپنا دکھ بتاتی رہی ۔۔ آج دل پھٹنے کو تھا کسی پل رو کر بھی سکون نہیں مل رہا تھا اسی دوران سجدے كی حالت میں ہی سحر کی آنکھ لگ گئی تھی ۔۔۔

اور پھر وہ خواب شروع ہوا تھا جو وہ اکثر دیکھا کرتی تھی مگر اب جب سے عاشر سے نکاح ہوا تھا وہ آنا بند ہوا تھا

آج سحر نے اس عورت کا چہرہ پہچان لیا تھا جو اس کے ہاتھوں پر کھولتا پانی ڈالا کرتی تھی وہ بےبی آنٹی تھیں ۔۔۔

اس سے پہلے کہ اس کی آنکھیں کھلتی دوسرا خواب شروع ہوا تھا ۔۔۔۔

عاشر سر جھکاۓ بیٹھا ہوا تھا وہ مسلسل اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا سحر ہاتھ سے سفری بیگ کھینچتی ہوئی ایک بڑے خالی میدان نما جگہ پر جا رہی تھی وہ بار بار عاشر کی طرف دیکھتی کہ شاید وہ مجھے آواز دے کر روک لے مگر عاشر خود میں مگن سا بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔

“عاشر ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔صرف ایک آواز دے کر روک لیں مجھے ۔۔۔ پلیز ۔۔ “

سحر بری طرح روتے روتے عاشر کی طرف چلتے چلتے دیکھتے ہوۓ مسلسل بول رہی تھی ۔۔۔

پھر ایک دم تیز آندھی آتی ہے اور دھول اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ سحر بے چین سی اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے ۔۔۔۔

آندھی کافی دیر بھیانک آواز لئے چلتی رہتی ہے ۔۔۔وہ جیسے ہی خاموشی ہونے پر آنکھیں کھول کر عاشر كی طرف دیکھتی ہے وہ وہاں نہی ہوتا وہ پاگلوں كی طرح عاشر کو ڈھونڈتی ہوئی پوری قوت سے عاشر کہہ کر چلاتی ہے ۔۔۔

مگر اس کی آواز دب جاتی ہے وہ باوجود کوشش كی بھی عاشر کا نام نہیں لے پا رہی تھی ۔۔۔

خشک گلا ۔۔۔۔کانٹوں کی طرح چبھتی ہوئی پیاس وہ اس تکلیف سے ایک دم آزاد ہوئی تھی اس کی آنکھ کھل گئی تھی وہ فورا عاشر کے پاس جا کر کھڑی ہوئی تھی وہ عاشر کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے بے آواز رونے لگی تھی

“عاشر ۔۔۔۔۔پلیز جلدی سے ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔۔میں بہت اکیلی ہوگئی ہوں آپ کے بغیر ۔۔۔۔”

“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی ۔۔۔عاشر اپنی سحر پر رحم کریں ۔۔۔”

وہ کرب سے عاشر کے کان کے پاس آہستہ آہستہ بولی تھی ۔۔۔

مگر عاشر اسے سن پا رہا ہوتا تو یقینا فورا جواب دیتا وہ بیچارہ تو نا آسمان پر تھا نا ہی زمین پر ۔۔۔اس کی تقدیر رب کے فیصلے کی منتظر فلحال خاموشی سے اپنا وقت پورا کر رہی تھی ۔۔۔

سحر تھکی سی پاس موجود صوفے پر لیٹ گئی تھی ۔۔۔

جب اس کی آنکھ کھلی تو صبح ہو چکی تھی آج سحر کی فجر قضا ہو چکی تھی وہ پریشان سی اپنی اس لاپروائی پر خود کو کوستی ہوئی وضو کر کے آئی اور قضا نماز فجر ادا کی، جائے نماز کا کام وہ رات سے اپنے سوٹ کے دوپٹے سے لے رہی تھی اتنے میں ڈاکٹروں کا پورا گروپ عاشر کو دیکھنے آیا تھا بےبی اور مسڑ جہانگیر بھی ان کے ہمراہ اندر آئے تھے

وہ آپس میں مختلف ڈسکشنز کرتے ہوۓ واپس چلے گئے تھے جب کہ صرف ایک ڈاکٹر وہاں موجود رہے انہوں نے آسان الفاظ میں بولنا شروع کیا تھا

“اگلے 24 گھنٹے مسڑ عاشر کی آنے والی زندگی کا فیصلہ کریں گے ان کا اتنی دیر اس طرح بیہوش رہنا بہت خطرناک ہے اگر تو یہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی ہوش میں نہیں آتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ۔۔۔۔۔۔۔اب باقی کی زندگی اسی طرح لیٹ کر ۔۔۔۔مطلب کومے میں ہی گزاریں گے ۔۔۔۔دوسرا خطرہ وہ ہی ۔۔۔ان کی یاداشت کا ہے ۔۔۔۔۔مطلب دونوں صورتوں میں آپ سب کو ذہنی طور پر تیار رہنا ہے ۔۔۔۔۔یہ کسی بھی وقت ہوش میں آ سکتے ہیں ۔۔۔۔ایسی صورت میں زیادہ احتیاط كی ضرورت ہے ۔۔۔ان کو کوئی بھی رشتہ زبردستی،جبراً یاد کروانے کی کوشش نا کی جائے ۔۔۔اگر وہ کسی کو دیکھ کر کچھ یاد کرنے كی کوشش کر کے ذہن پر زور ڈالتے ہیں تو یہ چیز ان کے لئے جان لیوا ہو سکتی ہے ۔۔۔۔لہذا ایسی صورت میں اس شخص سے ان کو دور رکھا جائے ۔۔۔

ڈاکٹر صور پھونک کر گویا اپنا پیشہ ورانہ فرض ادا کر رہا تھا مگر سحر کے پیروں سے سرکتی زمین کسی کو نظر نہیں آئی تھی وہ دیوار پکڑ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی تھی جبکہ مسڑ جے بےبی کے گرد اپنے ہاتھوں کا حصار بنائے اس کو حوصلہ دے رہا تھا بےبی اپنا سر مسڑ جے کے سینے میں دئیے سوں سوں کر رہی تھی ۔۔

وہاں کوئی نہیں تھا جو سحر کے نقصان کو سمجھ سکتا ۔۔۔۔اسے دو بول حوصلے کے کہتا ۔۔۔۔اس کا دل بند ہونے کو تھا وہ بھاگ کر ہسپتال سے باہر نکلی تھی ۔۔۔

آج سورج کا نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ہلکی ہلکی برف گرنا شروع ہوئی تھی وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنی بڑی سی چادر میں چھپاۓ گم نام منزل پر چلتے چلتے ایک دم ہانپتے ہوۓ رک گئی تھی یہ ایک مسجد تھی جہاں اس وقت کسی نماز کا وقت نا ہونے کی وجہ سے کوئی خاص رش نہیں تھا وہ بھاگ کر اندر گئی تھی اندر اور بھی خواتین موجود تھیں وہ خاموشی سے بیٹھی شاید نوافل ادا کر رہیں تھیں

سحر ایک کونے میں جو کے باقی لوگوں سے نسبتا الگ تھا وہاں بیٹھ گئی تھی وہ مزيد اس دکھ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی تھی وہ بنا کسی کی پرواہ کئیے پھوٹ پھوٹ روتی رہی اور بولتی رھی۔۔۔۔۔

“یا اللّه ابو کو آپ نے اپنے پاس بلا لیا میں نے آپ کی رضا پر صبر کیا شکوے کا ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا مگر اب عاشر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا اللّه ایسا مت کرنا ۔۔۔۔اللّه توں اپنے بندے پر ان کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔۔۔۔۔یا اللّه توں تو جانتا ہے نا میرے دل کو ؟؟؟؟؟”

“یا اللّه یہ بوجھ میری برداشت سے باہر ہے “

“یا اللّه ؟؟؟؟؟؟؟”توں مجھے سن رہا ہیں نا ؟؟؟؟

وہ بلند آواز سے روتی آسمان کی طرف دیکھ کر بولتی جا رہی تھی وہاں موجود خواتین میں سے ایک درمیانے سے عمر کی روشن پر نور چہرہ پر حجاب پہنے سحر کے پاس آئی تھی اس نے سحر کو گلے لگا کر بس رونے دیا تھا سحر جو دو دن سے کسی کندھے کی تلاش میں تھی بنا دیکھے کہ وہ عورت کون ہے وہ اس کے گلے سے لگ کر دل کھول کر روتی رہی ۔۔۔۔

وہ عورت سحر کی کمر سہلاتے شفقت سے ہاتھ پھیرتی رہی ۔۔۔۔

۔***************

قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے

ڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے

جنت بھی گوارا ہے ،مگر میرے لئے

اے کاتب تقدیر،مدینہ لکھ دے ۔۔۔۔۔۔

تاجدارے حرم ۔۔۔۔۔۔۔

تاجدارے حرم ،ہو نگاہِ کرم

تاجدارے حرم،ہو نگاہِ کرم ۔۔۔۔۔۔

ہم غریبوں کے دن بھی،سنور جائیں گے

حامی بے کساں،کیا کہے گا جہاں

حامی بےکساں،کیا کہے گا جہاں

آپ کے در سے خالی اگر جائیں گے

تاجدارے حرم ۔۔۔۔۔۔

تاجدارے حرم ۔۔۔۔۔

سیف شہلا کو ہاتھ سے پکڑے داتا دربار میں داخل ہوا تھا جہاں قوال خوبصورت آواز میں عقیدت سے یہ قوالی پڑھنے میں مصروف تھے ۔۔۔

ایک سماں سا بندہ گیا تھا وہاں دُکھی دل لئے ہر بندہ اس قوالی کے الفاظ میں کھو کر آنسو بہا بہا کر اپنا اپنا بوجھ کم کر رہا تھا

شہلا زار و قطار روتی وہاں سیف کا ہاتھ پكڑے گرتے ہوۓ نیچے بیٹھ گئی تھی

کوئی اپنا نہیں،غم کے مارے ہیں ہم

کوئی اپنا نہیں،غم کے مارے ہیں ہم

آپ کے در پر فرياد لاۓہیں ہم

ہو نگاہ کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم

ہو نگاہ کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم

آپ کا نام لے،لے کے مر جائیں گے

تاجدارے حرم ۔۔۔۔

تاجدارے حرم ۔۔۔۔۔

جب سے شہلا کو اپنی بیماری کا علم ہوا تھا وہ ایک بار بھی کھل کر روئی نہیں تھی مگر آج ضبط کا ہر بند ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔۔

سیف کے لئے شہلا کو سنبهالنا نا ممکن سا ہو رہا تھا وہ خود شہلا کی وجہ سے شب و روز رو کر

گزارنے لگا تھا ہمت گویا دم توڑرنے لگی تھی ایسے میں اس قوالی نے زخموں پر نمک کا کام کیا تھا ۔۔۔

اس وقت شہلا اور سیف کی حالت اس بچے کی مانند تھی جو ماں کی غیر موجودگی میں ہر غم چپ چاپ سہتا چلا جاتا ہے مگر ماں کا سامنے آتے ہی اس کا ہر دکھ تازہ ہو جاتا ہے اور وہ ماں کے گلے لگتے ہی باآواز بلند اس گزری ہوئی تکلیف کی یاد میں بلک بلک کر رونے لگتا ہے ۔۔۔

زندگی بہت خاص اور نایاب نعمت ہے میرے رب کی ۔۔۔اس کی قدر زندگی میں ہی ہو جائے تو اچھا ہے ۔۔۔

مرنے سے زیادہ سیف اور اپنی معصوم چند ماں کی بچی کو چھوڑ کر جانے کا غم شہلا کو جیتے جی مار رہا تھا ۔۔۔

افسوس شہلا کو چپ کروانے کے لئے سیف کے پاس کوئی دلاسہ کوئی حرفِ تسلی نہیں تھا ۔۔۔

وہ اس کے آنسو صاف کرتا رہا جو آج کسی سیلاب کی طرح ایک ساتھ امڈ آۓ تھے

بہت سا وقت ایسے ہی گزرا تھا شہلا نڈھال سی ہو گئی تھی وہ سیف کی طرف دیکھ کر آہستہ سے بولی تھی ۔۔۔

“سیف ۔۔۔۔ میں بہت بری ہوں ۔۔۔۔۔”

سیف نے اس کے ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوۓ نفی میں سر ہلایا تھا

“آج میں آپ کی ایک پریشانی ختم کرنا چاہتی ہوں سیف ۔۔۔”

سیف نے بنا کچھ کہے شہلا كی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا

“آپ ہمیشہ زنا کا قرض اپنی بیٹی کے ذریعے دینے سے ڈرتے ہیں نا۔۔۔مت ڈرا کریں ۔۔۔آپ یہ قرض کب کا ادا کر چکے سیف ۔۔۔۔”

“کیا مطلب ؟؟”

“آپ کا اور میرا ماضی ایک جیسا تھا سیف ۔۔۔۔میں بھی انہی گناہوں میں ملوث رہی ہوں جن میں آپ رہے تھے ۔۔۔۔”

“میں ناپاک عورت تھی ۔۔۔۔۔اللّه نے آپ کو برابری کا شریک حیات دے کر یہ قرض لے لیا تھا سیف “

اس بات پر سیف کو غصہ آنے کی بجاۓ آسودگی نے آگھیرا تھا وہ شہلا کا ماتھا چوم کر خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔۔شاید وہ اللّه کا شکر ادا کررہا تھا کیوں کہ اپنی اولاد پر حرف آۓ یہ کوئی بھی باپ برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔

“سیف مجھے معاف کر دیں ان گناہوں کے لئے ۔۔۔۔میرا خدا جانتا ہے جب سے آپ کو دیکھا تھا وہ سب اسی دن چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔بہت سے دلوں کو توڑا تھا میں نے ۔۔۔اسی کی سزا میں اللّه نے مجھے آپ سے محبت کی سزا سونپ دی ۔۔۔۔”

“ایک ایسے انسان كی محبت جس کا حال کھلی کتاب تھا ۔۔۔۔۔میں نے آنکھوں دیکھی مكهی خوشی خوشی کھلی آنکھ نگل لی ۔۔۔”

“سیف ؟؟؟جانتے ہیں میں یہاں کیا دعا مانگنے آئی ہوں ؟؟”

“کیا ؟؟”

سیف نے تھکے سے لہجے میں پوچھا تھا

“اللّه آپ کو پاکباز عورت کا ساتھ دے ۔،۔۔جو آپ کے ان ندامت اور ہر پل پچھتاوے کا مداوا ثابت ہو۔۔۔۔میں آپ کو دل و جان سے میرے بعد دوسری شادی کی اجازت دیتی ہوں ۔۔۔۔۔بس میری دعا کے حقوق سے اپنی آنکھیں بند مت کرنا سیف ۔۔۔۔۔سوتیلی ماں ۔۔۔۔اپنی ماں کبھی نہیں بن سکتی ۔۔۔”

شہلا کے رونے میں ایک بار پھر شدت آئی تھی ۔۔۔بدلے میں سیف کے پاس کہنے کو اب بھی کچھ نہ تھا ۔۔۔۔

“شہلا ۔۔۔۔بس کر دو خدا کے لئے مت سزا دو مجھے ۔۔۔۔مت کرو ایسی دل دہلا دینے والی باتیں ۔۔۔۔”

“سیف اب جب میں سدهر گئی ہوں تو ۔۔۔۔۔میرے پاس مہلت ختم ہو گئی ہے ۔۔۔۔سیف ۔۔۔۔۔۔سیف میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔میں مرنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔میں آپ کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔میں سب کیسے ٹھیک کروں سیف ؟؟؟؟”

وہ روتے روتے چیخی تھی ۔۔۔۔

سیف نے اسے گلے سے لگا کر پر سکون کرنے کی کوشش کی تھی کچھ لمحات ایسے ہی گزرے تھے ۔۔۔وہ پر سکون ہو کر خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔۔

سیف کا دل بھی مطمئن سا ہوا تھا اس کی خاموشی پر اس نے اسے اٹھانے كی غرض سے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا تھا اس کی آنکھیں بند تھیں اس کے چہرے پر بلا کا سکون تھا جس نے سیف کو بے سکون کیا تھا

وہ سیف کی گود میں جھول چکی تھی سیف نے کچھ سوچھے سمجھے بغیر اسے اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگنا شروع کر دیا تھا وہ اب بلند آواز سے رونے لگا تھا وہاں موجود لوگ اس کی طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔۔۔

کچھ لوگ اس كی مدد کی غرض سے اس کے پیچھے بھاگے تھے

تیری آنکھوں کے دریا کا ،اترنا بھی ضروری تھا

محبت بھی ضروری تھی،بچھڑنا بھی ضروری تھا

ضروری تھا کہ ہم دونوں طواف آرزو کرتے

مگر پھر آرزؤں کا بکھرنا بھی ضروری تھا

تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا

بتاؤ یاد ہے تم کو ،وہ جب دل کو چرایا تھا

پرائی چیز کو تم نے خدا کا گھر بنایا تھا

وہ جب کہتے تھے میرا نام تم تسبیح میں پڑھتے ہو

محبت کی نمازوں کو قضا کرنے سے ڈرتے ہو

مگر یاد آتا ہے وہ باتیں تھیں محض باتیں

کہی باتوں میں مکرنا بھی ضروری تھا

تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا

محبت بھی ضروری تھی

بچھڑنا بھی ضروری تھا