195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 4

“بےبی کھاؤ نا تم تو کچھ کھا ہی نہیں رہی کھانا اچھا نہیں لگا تمہیں ؟؟؟”

“No its not like that aqeela”

بس تھوڑا ویٹ کا خیال رکھنا پڑتا ہے سارا بزنس ہم ماں بیٹا دیکھتے ہیں اور پھر جو ہمارا کام ہے اس میں ہمارا اپنا آچھا لگنا بہت ضروری ہے ۔۔۔”

بےبی آنٹی جن کا اصل نام نگینہ تھا وہ شادی کے بعد بہت کم پاکستان آئیں تھیں ان کی شادی ایک ویل سیٹلڈ آدمی سے ہوئی تھی جو عمر میں ان سے ڈبل تھے مگر کروڑوں کی جائیداد کے اکلوتے وارث تھے ۔۔۔

بےبی جو کہ عقیلہ کی سوتیلی بہن تھی اس کی ماں بےبی کی پیدائش کے ساتھ ہی اللّه کو پیاری ہو گئی تھی پھر اس کی پرورش کی ساری ذمہ داری عقیلہ کی ماں نے ہی اٹھائی تھی سوتن کی بیٹی کو وہ جتنی محبت سے رکھتی تھی لوگ اس کی مثالیں دیتے تھے ۔۔۔ وہ اپنی ماں کی طرح بے حد حسین تھی یہی وجہ تھی کہ جوانی کی حدود پار کرتے ہی ان کے حسن کے چرچے اس عمر رسیدہ رئیس زادے تک پہنچے تھے جس کو بس کم عمر حسین بیوی کی تلاش تھی بس شادی کے فورا بعد نگینہ لندن چلی گئی تھی جہاں شادی کے دو سال بعد شوہر کے علاج کے بعد اللّه نے عاشر سے نوازا تھا وہ بھی ماں کی طرح بے پناہ حسن کا مالک تھا اور بارعب وضع قطع اسے باپ کی طرف سے ورثے میں ملے تھا عاشر ابھی دس سال کا تھا جب ایک کار ایکسیڈنٹ میں وہ نگینہ اور عاشر کو اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گئے تھے ۔۔۔

بےبی نے اس سب کا بہت ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا نہ صرف شوہر کے پوری دنیا میں پھیلے ہوۓ کاروبار کو سنبھالا۔۔۔۔۔ ساتھ ساتھ عاشر کی تعلیم و تر بیت پر بھی خاص توجہ دی ۔۔۔

وہ اپنے شوق کے لئے ماڈلنگ اور ڈریس ڈیزائنر کا سائیڈ بزنس بھی شروع کر چکی تھیں جس سے وہ نگینہ سے بےبی بنی ۔۔۔

آج بہت لمبے عرصے بعد پاکستان اپنے بیٹے کے ساتھ آئی تھیں جو یہاں سیروتفریح کا خواہش مند تھا جیسے جادوگر کی جان طوطے میں ہوتی ہے ویسے ہی نگینہ کی جان اپنے اکلوتے بیٹے میں بستی تھی وہ بس عاشر کو دیکھ دیکھ کر جی رہی تھیں ۔۔۔

“عاشر ؟؟؟”

“My dearest only son….why you are not taking food baby ???”

وہ بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیر کر پچکارتے ہوۓ پوچھ رہی تھیں

“مما کھا رہا ہوں ۔۔۔”

وہ نظریں نیچے کئے آہستہ سے بولا تھا

“لگتا ہے ان کو کھانا اچھا نہیں لگابے بی آنٹی ۔۔۔”

سحر اسی وقت کمرے میں آئی تھی

عاشر نے سحر کی اس بات پر اپنا ہاتھ کھانے سے روک لیا تھا

وہ چمچ پلیٹ میں پکڑے سوچ میں پڑا تھا نظریں ہنوز نیچے تھیں

عاشر نے پلاؤ کی ٹرے سے ڈھکن ہٹایا اور اپنی پلیٹ بھر لی زیادہ سا رائیتہ ڈالا چار کباب رکھے بازو ٹانگے اورپلیٹ ہاتھ میں پکڑ کر ہاتھ سے ہی بڑے بڑے نوالے لینے لگا ۔۔۔

سب دم سادھے اس کی اس حرکت پر حیران ہوۓ تھے ۔۔۔

بےبی شرمندہ شرمندہ سب کی طرف دیکھ رہی تھیں

عاشر نے وہ سب کھایا پلیٹ بھی چاٹی پھر سحر کی طرف گھور کر وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔

سحر کی دھڑکن بے ترتیب ہورہی تھیں اسے شرمندگی نے آگھیرا تھا

سحر کے ابو نے سحر کو کمرے میں بلایا تھا

“بیٹا کیا بات ہے آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟؟کوئی پریشانی ہے ؟؟”

وہ بیٹی سے شفقت سے پوچھ رہے تھے

“نہیں ابو میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔بس کاشف کے امتحانات ہونے والے ہیں نہ تو بس اسی کی فکر ہے اور تو کچھ نہیں ۔۔۔۔”

“آپ کا باپ ابھی زندہ ہے بیٹا کوئی بھی بات ہے تو کوئی ضرورت نہیں ہے پریشان ہونے کی ۔۔۔جب تک میں سر پر ہوں بھول کر بھی کوئی پریشانی سر لینے کی اجازت بلکل نہیں ہے ۔۔۔”

ایک باپ کا، باپ ہونے کا بھرم بول رہا تھا ۔۔۔

کتنی عجیب سی بات ہے نہ وہ لڑکی جس کی تھوڑی سی پریشانی بھی باپ سے چھپتی نہیں ہے وہ بے چین ہو جاتا ہے ۔۔۔۔وہ ہی لڑکی شادی کے بعد ساری رات رو کر بھی گزار دے تو ساتھ لیٹے فرد کو بھنک تک نہیں پڑتی ۔۔۔۔

واہ رے مرد تیرا دوغلا معیار ۔۔۔۔

بیٹی تو بیٹی ہے نہ پھر وہ آپ کی ہو یا آپ کے سسر کی ۔۔۔۔

جب دل دکھتا ہے نہ تو رونا آتا ہے ۔۔۔۔بہت رونا آتا ہے ۔۔۔۔

سحر نے باپ کی محبت سے سینا تانا تھا ۔۔۔۔کاش کے ہر سحر کا باپ ہمیشہ سر پر موجود رہے ۔۔۔اسکا مان بن کر ۔۔۔۔کسی بہت اپنے کے دلاسے کی طرح ۔۔۔

سحر اپنے کمرے میں آکر بیٹھ گئی تھی وہ بہت ہلکا ہلکا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

“میں عاشر سے زیادہ امیر ہوں ۔۔۔۔میرے پاس باپ ہے ۔۔۔۔اسکا کندھا ہے جس پر سر رکھ کر میں اپنا دکھ رو سکتی ہوں ۔۔۔۔”

“اس کے کاغذ کے چند ٹکڑے باپ کی پدرانہ شفقت کا نعم بدل تو نہیں ہو سکتے نہ ۔۔۔۔”

“میں زیادہ امیر ہوں ۔۔۔۔”

“مگر میں اس کی نعمتوں کا مقابلہ کیوں کر رہی ہوں ؟؟؟”

“پاگل ہوں میں بھی ۔۔ “

سحر نے اپنے سر پر چپت رسید کی تھی

سحر باجی باہر آجائیں سب کھیتوں میں واک پر جا رہے ہیں پتہ ہے بیچارے عاشر بھائی نے گاؤں كی شام کبھی نہیں دیکھی ۔۔۔”

کاشف منہ پر ہاتھ رکھ کر قہقہ دبا کر کہہ رہا تھا

چلو آپ کے عاشر بھائی بھی کیا یاد رکھیں گے کس رئیس زادی سے پالا پڑا تھا (ایک باپ کے چند عام سے الفاظ سحر کی صبح کی چھائی محرومی کے بادل کو چھٹانے کے لئے کافی ثابت ہوۓ تھے وہ بنا پر کے اڑنے لگی تھی)

سحر بڑی سی چادر میں خود کو پاؤں تک چھپاتے ہوۓ بولی تھی

عاشر دروازے میں کھڑا اس کی طرف دیکھا رہا تھا وہ منہ پر ہاتھ رکھے مسکراہ رہا تھا

“بیچارے عاشر بھائی “

وہ کہہ کر اس کے پاس سے گزر کر کمرے سے نکل کر گیٹ کی طرف آ گئی تھی جہاں عقیلہ اور نگینہ ان سب کی منتظر تھیں ۔۔۔

“آجاؤ میری بیٹی میری گڑيا “

وہ بہت محبت سے سحر کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھیں

وہ سب پیدل ہی کھیتوں کی طرف چل پڑے تھے

سورج غروب ہونے کا منظر بہت حسین لگ رہا تھا سب ہی عاشر کے ساتھ اس منظر کو مگن ہو کر دیکھ رہے تھے ۔۔۔

سورج نارنجی رنگ کا ہو چکا تھا کھیتوں میں نمی نمی سی تھی چڑیاں چیں چیں کر کے درختوں پر شور مچا رہی تھیں وہ شام کی سیاہی آنے سے پہلے پہلے اپنی اپنی سونے کی جگہ بانٹ رہی تھیں کبھی ایک دم سب ایک ساتھ اڑ جاتیں اور غول کی صورت ایک چکر کاٹ کر واپس درخت پر آبیٹھتیں ۔۔۔

کتنی دکھ کی بات ہے رب کی تمام تخلیقات میں انسان واحد تخلیق ہے جو اپنے مدار سے بلکل باہر نکل چکی ہے اس نے رب کے بناے سونے جاگنے کے تقاضے اپنی جدید ٹیکنالوجی کی اوٹ میں جڑ سے اکھاڑ پھینکے ہیں ۔۔۔۔

انسان ہی واحد ذات ہے جیسے اللّه نے نہ صرف بے تحاشہ عقل سمجھ سے نوازا ہے بلکہ اپنی چاہ اپنی مرضی سے زندگی کو گزارنے کا حق بھی دیا ہے مگر افسوس وہ ہی انسان اپنی بنیادیں چھوڑ کر عجیب طرز سے زندگی کو گزار رہا ہے ۔۔۔

اب جس وقت نیند آجائے یا جو وقت آپ کو دنیاوی کاموں سے فارغ ملے بس سو لیا جاتا ہے ۔۔۔پھر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اب کونسی نماز قضا ہو رہی ہے یا اللّه کیا کہتا ہے اس وقت سونے کے متعلق ۔۔۔۔

اکثر لوگ شام کی اذانوں کے وقت سو جاتے ہیں پھر عیشاء کے بعد فجر تک مختلف بے تُکے شیطانی کاموں میں خود کو الجھائے ركهتے ہیں ۔۔۔۔

جس انسان کو سب سے زیادہ فہم عطاء کیا گیا ہے اللّه نے اپنے ہونے کا، وہ ہی سب سے گمراہی اور تاریکی کی زندگی گزار رہا ہے ۔۔۔

مگر یہ دو پروں والی چڑیاں ازل سے آج تک سورج کے ساتھ سوتی اور جاگتی ہیں ۔۔۔

اپنی عبادت کرتی ہیں خدا کی حمدوثنا۔۔۔۔

سحر ایک دم اس منظر سے اداس ہوئی تھی

“کیا ہوا سحر ؟؟آپ کو اچھا نہیں لگا سورج کا غروب ہونا ؟؟”

“مجھے سورج کا ڈوبنا اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔میرا دل بھی ڈوب جاتا ہے ۔۔۔”

وہ سورج کو گھورتی ہوئی نم آنکھوں سے بولی تھی

“come on yar don’t be so filmy”

عاشرنے اس کی آنکھ سے بہتے آنسو کو انگلی سے ہٹا کر ہوا میں پھینکا تھا

“سحر آپ بہت عجیب ہو ۔۔۔اب سورج تو اللّه کے حکم کے تابع ہے پھر اس کے ڈوبنے سے دل کے ڈوبنے کا کیا تعلق ہے ؟؟؟”

“عاشر عجیب تو آپ ہیں جو ساری اب تک کی عمر ویسٹ میں گرزا کر بھی آپ اسلام کو اچھے سے جانتے ہیں”

“میری ایک دوست ہیں وہاں وہ مجھے اس طرف لے کر آئی ہیں”

“She is very close to Allah”

“سحر آپ بہت اچھی ہیں خود کو پہچانیں ۔۔۔ایسے بات بات پر کم تری کا شکار مت ہوا کریں “

وہ شخص چند گھنٹوں کی ملاقات میں سحر کو وہ بات کہہ رہا تھا جو سولہ آنے درست تھی ۔۔سحر حیرانگی سے اس شناسائی پر اس کی طرف دیکھتی رہ گئی تھی ۔۔۔۔وہ اس کی محرومی کو جان چکا تھا بس وہ ہی ہوا تھا جس کا ڈر تھا ۔۔۔

وہ دونوں ساتھ چل رہے تھے جب بےبی کی نظر ان دونوں پر پڑی تھی وہ عقیلہ کے ساتھ کسی پرانے قصے پر قہقہ لگا کر ہنسی تھیں

“Come here Ashir my lovely son”

عاشر کی ماں نے فورا اسے اپنے پاس بلایا تھا

“جی مما ؟؟”

“آؤ آپ کو ٹیوب ویل دکھاتی ہوں ٹھنڈہ صاف پانی”

“جی مما ۔۔”

وہ ماں کے گرد بازو حائل کیے ساتھ چل پڑا تھا

سحر کبھی ڈوبتے سورج کی آخری جھلک کی طرف دیکھتی کبھی عاشر کو ماں کے ساتھ جاتا دیکھتی ۔۔۔دونوں میں مماثلت کیا تھی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔وہ بے چین دل لئے پیچھے چل پڑی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیف اور ندیم دن بارہ بجے تک رج کے سوۓ تھے بھوک سے پیٹ میں بل پڑرہے تھے سیف بنیان پہنے کمرے سے باہر آیا تھا کھانوں کی خوشبو اس کو بے چین کر رہی تھی ۔۔۔

“السلام علیکم ۔۔۔اٹھ گئے آپ ۔۔۔اب٘اں کام سے گئے ہیں ۔۔۔اماں اور میں نے کھانا بنا دیا ہے ۔۔۔آپ یہ تولیہ لیں اور نہا لیں میں نے پانی برابر کر دیا ہے ۔۔۔”

وہ مناسب سے نقوش کی سانولی سی لڑکی تھی

سیف نے اس جملے کے دوران ہی اس کا سکین ،الٹراساؤنڈ اور ایکسرے سب کر لیا تھا ۔۔۔

“جی بہتر ۔۔۔”

وہ تولیہ لے کے سعدت مندی سے بولا تھا

کھانا کھالینے کے بعد اب وہ جانے کی تیاری میں تھے جب وہ لڑکی گاڑی کے پاس آئی تھی

وہ اپنے ابے کی تسلی کر لینے کے بعد سیف کے پاس آئی تھی جو گاڑی کا پانی وغیرہ دیکھ رہا تھا

“آپ کا کیا نام ہے ؟؟”

“سیف”

“بہت پیارا نام ہے ۔۔۔بلکل آپ کی طرح ۔۔۔”

وہ دانتوں میں دوپٹے کا پلو دبا کر شرما کر بولی تھی

“فون ہے تمہارے پاس ؟؟”

“ہاں”

وہ موبائل دیکھا کر بولی تھی

سیف نے گرد میں اٹی ہوئی گاڑی کے شیشے پر اپنا نمبر لکھا تھا جیسے وہ جلدی جلدی نوٹ کر رہی تھی

“پتر رک جاتے کچھ دن ۔۔۔جیسے ندیم میرا بیٹا ہے ویسے ہی آپ بھی میرے بچے ہو ۔۔۔اس کو اپنے چاچے کا گھر سمجھو۔۔۔۔جب کبھی آنا ہوا ادھر ہمارے غریب خانے پر ضرور آنا ۔۔۔”

ان کا ہر لفظ خلوص میں تر تھا

سیف نے گاڑی پر ٹاکی مار کر اپنا نمبر کمال مہارت سے اس کے باپ کی نظر پڑنے سے پہلے ہی مٹایا تھا

“یہ میری بیٹی ہے ماہی کہتے ہیں ہم سب اس جھلی کو ۔۔۔اس کا بھائی نہیں ہے نہ ۔۔۔تو بس کوئی بھی لڑکا دیکھتی ہے تو بس بھائی کا دورہ پڑ جاتا ہے”

میری اکلوتی دھی ہے تھوڑی جھلی ہے ۔۔۔رب نے ایک ہی اولاد دی ہے بس تھوڑی معصوم ہے بیٹا”

(ہاۓ رے ہمارے خوش فہم بھولے والدین ۔۔۔)

سیف نے بس مسکرنے پر اکتفا کیا تھا

وہ وہاں سے نکل گئے تھے اب وہ واپسی کی طرف رواں دواں تھے

“ندیم تیری یہ کزن تو بڑی چالو لڑکی ہے خود ہی فری ہو رہی تھی میرے ساتھ “

ندیم نے سیف کو دو منٹ تک بنا کوئی جواب دیے محظ گھورا تھا

“یار وہ ذہنی بیمار ہے ۔۔۔وہ اپنی عمر سے آدھی ہے دماغی طور پر ادھر رب کا معاملہ ہے اس سے دور رہو”

“هاهاهاهاهاها”

سیف کھل کر هنسا تھا

“پھر تو میں بلکل بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔۔۔”

“سیف وہ میرے چاچے کی کل کائنات ہے جو ہے سب اسی کا ہے اگر تمہیں وہ پسند آگئی ہے تو سیدھا سیدھا بولو میرا چاچا بیٹی کی خوشی کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے وہ بہت محبت کرتا ہے ماہی سے مگر ایسے اس کی عزت پر ہاتھ مت ڈالو ۔۔۔”

“وہ گھر کے سارے کام بہت اچھے سے کر لیتی ہے بس آج کل کی لڑکیوں کی طرح تیز طرار نہیں ہے سادہ سی ہے بھائی کی بہت خواہش ہے اسے ہر کسی میں اپنا بھائی ڈھونڈتی ہے تم اس کو غلط مت سمجھو ۔۔۔”

“اچھا مطلب وہ سیف کو یعنی کے مجھے بھی بھائی ہی سمجھی ہے ؟؟”

“جی بلکل ایسا ہی ہے”

ندیم غصے سے بولا تھا

“اتنا ہی ترس آتا ہے تمہیں اپنی کزن پر تو تم کیوں نہیں کر لیتے اس سے شادی ؟؟؟”

“میری امی کہتی ہیں وہ کبھی اولاد نہیں دے سکے گی وہ اس نیعمت سے محروم ہے ۔۔۔”

“ارے واہ ۔۔۔۔یہ تو کمال ہی ہو گیا پھر تو”

سیف کمینگی کی آخری حد پار کر کے بولا تھا

“یار چل چھوڑ ماہی کو وہ لاہور والی کا کیا بنا ؟؟”

دونوں ان ہی باتوں میں مصروف ہو چکے تھے جس کے دوران ہر جوان لڑکا یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے گھر میں بھی بہن بیٹی موجود ہے ۔۔۔

رات تک وہ گھر پہنچے تھے

زبیدہ بيگم اپنی بیٹوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھیں جب سیف اندر آیا تھا

“امی بہت تھکا ہوا ہوں بس بستر کر دیں میرا”

بہنوں نے بھائی کو پانی دے کر باری باری اس کا سر دبایا تھا

سیف کے علاوہ گھر میں ایک ہی موبائل تھا جو زبیدہ بيگم کے زیرِ استعمال تھا مگر سیف کی سب سے بڑی بہن فرحانہ چھپ چھپ کر اپنے ایک کزن کے ساتھ اس پے رابطے میں تھی وہ محبت میں بہت آگے جا چکی تھی جہاں سے واپسی شاید اب نہ ممکن تھی ۔۔۔وہ محبت کے نام پر موبائل پر تصاویر کی صورت اتنے ثبوت فراہم کر چکی تھی کہ اب اس کے پاس دو ہی راستے بچے تھے ۔۔۔

اس عثمان نامی پھپھو زاد سے شادی ۔۔۔۔یا پھر خودکشی ۔۔۔۔۔۔

زبیدہ بيگم اپنے موبائل کے استعمال سے خاص واقف نہیں تھیں فون سننے اور کرنے کے علاوہ تیسرا کوئی فیچر ان کی سمجھ سے باہر تھا نہ ہی وہ میسج پڑ سکتی تھیں ۔۔۔

فریحہ نے عثمان کا نمبر نو سکرینینگ پر لگایا تھا(ایسا کرنے سے میسج ایک ہیڈن جگہ پر سیو ہوتے ہیں اور متعلقہ نمبر کی كالز آنے پر کوئی بھی بیپ یا وائبریشن نہیں سنائی دیتی)

فلحال سارا کام بہت پردے میں ہو رہا تھا عثمان کی ماں کسی صورت فریحہ کو اپنی بہو بنانے کے حق میں نہ تھی مگر فریحہ کے لئے اب اس محبت کے محاذ کو لڑکر جیتنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا عثمان بھی اب تنگ آچکا تھا وہ بات بات پر فریحہ کو ذلیل کرتا ۔۔۔

جو درد سیف دوسروں کی بہنوں کو دے رہا تھا اس کی تکلیف کے آنسو فریحہ کا مقدر بنتے جا رہے تھے وہ ہر وقت چھپ چھپ کر روتی رہتی ۔۔۔

آج بھی وہ رضائی میں لیٹی رو رہی تھی جب سیف اس کے پاس آیا تھا

“آپی ؟؟؟”

“آپی ؟؟؟”

“میری باڈی میں درد ہے تنگ مت کرو سو رہی ہوں”

وہ بھاری آواز میں بولی تھی

“اسی وقت زبیدہ بيگم کا موبائل بجنا شروع ہوا تھا فون پر عثمان کی ماں تھیں

فون سیف نے اٹھایا تھا

“السلام علیکم ۔۔۔۔آنٹی کیسی ہیں آپ ؟؟؟”

وہ بیٹھ کر محبت سے بولا تھا

“اپنا حرافہ بہن سے کہو دور رہے میرے اکلوتے بیٹے سے ۔۔۔میں کبھی بھی اسے اپنی بہو نہیں تسلیم کروں گی ۔۔۔بہتر یہی ہے اپنا رستہ ناپے ۔۔۔”

“بھئ جان چھوڑ کیوں نہیں دیتے تم لوگ ہماری کیوں اپنی بہن کو میرے بیٹے کے پیچھے نہا دھو کر لگا دیا ہے ؟؟؟”

سیف ہکا بکا کبھی ماں کو تو کبھی فون

کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“شادی کی عمر ہے اسکی شادی کر کیوں نہیں دیتے کیوں بٹھایا ہوا ہے اسے ؟؟؟؟”

“اگر کوئی رشتہ نہیں آرہا تو میں بھیج دوں گی کسی کا لے دے کر ۔۔۔۔اگر بات پیسوں کی ہے تو وہ بھی لگانے کو تیار ہوں مگر میرے بیٹے کی جان چھوڑ دو تم لوگ ۔۔۔”

وہ فون پر باقاعده ہاتھ جوڑ کر چلائی تھیں ۔۔۔

سیف کال کاٹ کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ماں حیران پریشان صورتحال کو سمجھنے کی کوشش میں تھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں نہا رہی تھیں شہلا فرش پر ٹاکی لگا رہی تھی جب فاریہ بيگم کا موبائل بجا تھا

ایسا کوئی زندگی میں آے ۔۔۔۔جو زندگی کو زندگی بناے ۔۔۔۔تھوڑے آنسو ہو ۔۔۔تھوڑی خوشیاں ہو ۔۔۔اور ذرا ذرا سا مسکراے ۔۔۔۔

شہلا ٹیون سن کر ٹاکی سائیڈ پر رکھ کر موبائل کی طرف متوجہ ہوئی تھی نظریں ہنوز غسل خانے کی طرف تھیں

“ہیلو ؟؟”

“السلام علیکم آپ کون ؟؟ فاریہ کدھر ہیں ؟؟”

وہ بندہ جو بھی تھا بہت فراغت سے گویا ہوا تھا

“میں ۔۔۔۔میں ان کی بہن ہوں ۔۔۔آپ کون ہیں ؟؟”

شہلا ماں کے لئے کوئی مسئلہ نہیں بنانا چاہتی تھی سچ بتا کر ۔۔۔

“هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔آپ شہلا ہیں نہ ۔۔۔فاریہ کی بیٹی ؟؟”

“جی ۔۔۔۔”

شہلا تھوک نگل کر بولی تھی

“شہلا بہت خوبصورت آواز ہے آپ کی ۔۔۔۔اپنی ماں سے بھی زیادہ ۔۔۔۔میری دوست بن جاؤ نا۔۔۔۔”

مرد کی خباثت اپنی جوبن پر تھی ۔۔۔

شہلا جو ابھی ابھی میٹرک کر کے فارغ ہوئی تھی کم عمر تھی ۔۔۔اس کی آواز اس کی عمر کی وضاحت کر رہی تھی ۔۔۔

“کس کا فون ہے ؟؟؟”

فاریہ بيگم بال تولیے میں لپیٹے غسل خانے سے باہر نکلی تھیں ۔۔