195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 7

آج سحر کے والد کو اس جہان فانی سے گئے دس دن ہو چکے تھے سب رو رو کر بھی تهک چکے تھے اب خاموشی چھا چکی تھی ہر بندہ اپنے دل میں غم کا پہاڑ بنا کر اس کی چوٹی پر بیٹھ گیا تھا

سحر اپنے باپ کے پلاسٹک کے شکستہ بوٹ ہر وقت سینے سے لگا کر خاموش بیٹھی رہتی ۔۔انیتا اب اس کی حالت کے پیش نظر کالج ٹائم کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ بائیک پر چند گھنٹوں کے لئے روز آنے لگی تھی ۔۔۔

وہ سحر کو کالج اور لیکچرز کے حوالے سے مختلف باتوں میں الجھانے کی کوشش کرتی مگر وہ چپ چاپ انیتا کو دیکھتی رہتی بنا کوئی جواب دئیے ۔۔

عقیلہ بيگم کا معاملہ سب سے الگ تھا وہ اپنے محبوب شوہر کا غم کھل کر منانے سے بھی قاصر تھیں وجہ سحر اور کاشف تھے جو ان کو روتا دیکھ کر اور پریشان ہو جاتے ۔۔۔

بیوگی کے غم سے بڑا غم اب ان دو یتیم بچوں کی چھت بننا تھا ایسی چھت جو ان کو زمانے کی سرد گرم ہواؤں سے بچا سکے ۔۔۔ان کا باپ زندہ نہیں کیا جا سکتا تھا مگر اپنے دونوں بچوں کو لے کر وہ جو جو خواب عقیلہ بيگم کے ساتھ شئر کرتے تھے ان خوابوں کو پورا کر کے وہ آخرت میں اپنے شوہر کے آگے سرخرو ضرور ہونا چاہتی تھیں ۔۔۔۔۔

وہ ان خوابوں کو تعبیر دے کر ان کو زندہ کر سکتی تھیں ۔۔۔بس اب یہی عقیلہ بيگم کا مقصد حیات بن چکا تھا

وہ یکسر بدل گئیں تھیں وہ زیادہ تر خاموش رہتیں ہر وقت کسی گہری سوچ میں ہوتیں ۔۔دونوں بچوں کی تعلیم پر اب خصوصی توجہ دینے لگیں تھیں سحر کا باپ اپنے دونوں بچوں کواعلی تعلیم دلوانا چاہتا تھا وہ محض ہزاروں باپوں کی طرح ایک خواہش تھی مگر عقیلہ بيگم نے اس بات کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا تھا۔۔۔

وہ بس اب اپنی عدت پوری ہونے کا انتظار کر رہیں تھیں باپ کے چالیسویں کے بعد اب سحر کو بھی باقاعدہ کالج بھیجنے لگیں تھیں

صوم صلات کی وہ پہلے بھی پابند تھیں مگر اب وہ تہجد میں بھی جاگنے لگیں تھیں پورے چوبیس گھنٹوں میں یہ واحد وقت ہوتا تھا جب وہ اللّه کے حضور کھل کر روتیں اپنے شوہر کو یاد کرتیں ۔۔۔اللّه سے ان کی مغفرت طلب کرتیں ۔۔۔اپنے بچوں کے لئے ہدایت اور صراط مستقیم پر چلنے کی دعا مانگتیں ۔۔۔۔۔

عاشر اور نگینہ مطلب بےبی بيگم دس دن بعد لاہور سے کراچی چلے گئے تھے وہ اپنے کپڑے کے بزنس کے لئے فیصل آباد سے مال پسند کر کے اب کراچی میں کچھ ضروری میٹنگز اٹینڈ کر رہے تھے اسی دوران وہ عقیلہ کے ساتھ مکمل رابطے میں تھے عاشر وہاں سے رخصت لینے سے پہلے ماں کی اجازت سے ہر ضرورت کا سامان عقیلہ بيگم کو خرید کر دے آیاتھا اور عقیلہ کو بےبی کچھ نقد رقم بھی تهما آئی تھیں چونکہ عقیلہ بيگم کے میکے میں ان کے اپنے بہن بھائی کے مالی حالات ایسے نہ تھے کہ وہ کی کوئی خاطر خواہ امداد کر پاتے ۔۔۔۔لہذا بےبی بيگم نے بہت سمجھ داری سے اپنی اچھی مالی حالت کے پیش نظر یہ فرض ادا کیا تھا جس کے لئے عقیلہ اس کی تاحیات مقرض ہو چکیں تھیں ۔۔۔

ان کا پاکستان میں ٹوٹل قیام دو ماہ کا تھا مگر بہنوئی کی وفات کی وجہ سے وہ اب زیادہ رک رہے تھے اپنے سب ضروری کام نپٹا کر اب وہ سحر کے ماں کی عدت پوری ہونے پر وہاں دوبارہ آئے تھے ۔۔۔

سحر کے سیکنڈ ائیر کے امتحانات سر پر تھے وہ باپ کی خواہش کو دل میں بسائے اب جی جان سے ان کی تیاری میں مشغول تھی ۔۔

کاشف بیچارہ جو ابھی میٹرک میں تھا وہ اب خود کو بڑا سمجھنے لگا تھا ۔۔۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔

“خواہشات تو باپ پوری کرتا تھا اب پتہ چلا ہے اپنی کمائی میں تو بس ضرورتیں ہی پوری ہوتی ہیں”

عقیلہ بيگم کی دعائیں تھیں یا باپ کی محبت تھی کاشف نے دن رات ایک کر لیا تھا وہ 17سالہ بچہ کسی سمجھ دار مرد کی طرح گھر کے سارے باہر کے کام سنجیدگی سے کرنے لگا تھا شروع شروع میں ماں کو بتانا پڑتا تھا سودا سلف کے حوالے سے مگر اب وہ بھاؤ تاؤ میں نہایت سمجھ داری برتنے لگا تھا اب وہ پڑھائی بھی ذمہ داری سے کرنے لگا تھا ماسٹر جی اب اس پر خاص توجہ دینے لگے تھے وہ باپ کے بعد ماسٹر صاحب کے گلے لگ کر ٹوٹ کر رویا تھا ۔۔۔وہ باپ کی روح کو سکون دینا چاہتا تھا اس کے لئے وہ ان کی خاص مدد چاہتا تھا ۔۔۔۔۔

استاد بھی باپ ہوا کرتا ہے ۔۔۔۔۔روحانی باپ ۔۔۔۔۔جس کی اہمیت پیدا کرنے والے سے بھی زیادہ میرے رب نے رکھی ہے ۔۔۔۔

وہ وقت ثابت کرنے والا تھا ۔۔

عقیلہ بيگم کو اپنے بیٹے سے کسی بھی قسم کی کوئی شکایت نہیں تھی یہ بات جہاں ان کو پر سکون کرتی تھی وہیں بے چین بھی کرتی تھی ۔۔۔

کاشف کا بچپن چھن چکا تھا ۔۔۔۔ وہ اس بات پر اکثر غم زدہ رہتیں ۔۔۔۔۔مگر وہ اللّه کی شکر گزار تھیں ۔۔۔اس کی ہر دین پر ۔۔۔۔۔اس کی ہر لین پر ۔۔۔۔۔

سحر اپنے کمرے میں پڑھائی میں مصروف تھی وہ سر سے پیر تک چادر میں ڈھکی بیٹھی تھی اور حجاب کیے ہوۓ تھی عاشر دور دروازے میں کھڑا اس کی اس سادگی اور پاکیزگی پر فدا ہوا تھا ۔۔

رات کا کھانا کھانے کے بعد

اب سحر کچن میں برتن دھو رہی تھی جب عاشر اس کے پاس آیا تھا

“سحر آگے کے کیا ارادے ہیں ؟؟”

سحر نے بنا کوئی جواب دے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا

“میرا مطلب ہے پڑھائی کے حوالے سے ۔۔ جاب کے حوالے سے ۔۔ “

وہ بے تكی بات کر رہا تھا وہ یہ جانتا تھا

“ماسٹرز کروں گی ۔۔۔۔ساتھ ساتھ کوئی جاب بھی”

“ان شاء الله”

وہ آخری پلیٹ رکھ کر عاشر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مضبوط ارادے سے بولی تھی”

“میں اب جاؤں یا آپ کو کچھ اور بھی پوچھنا ہے ؟؟”

وہ صاف صاف پوچھ رہی تھی

“یس یو کین گو”

وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا ۔۔۔کچھ دیر روکے رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں جا کر کاشف کو لے کر دوبارہ پڑھنے بیٹھ گئی تھی

صبح سحر ماں کے ساتھ فجر پڑھ کر اب قرآن پاک پڑھنے بیٹھی تھی

فجر کا وقت بہت پر سکون ہوتا ہے ایسا لگتا ہے تمام زخموں پر اللّه نے سکون کا مرحم لگا دیا ہو ۔۔۔

آج عقیلہ بيگم قرآن پاک نہیں پڑھ رہیں تھیں وہ بس اس کی فراغت کی منتظر تھیں سحر نے ماں کی بے چینی بهانپ لی تھی وہ قرآن پاک رکھ کر ماں کے پاس آ کر بیٹھی تھی

“امی کیا بات ہے آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں مجھے ؟؟”

“ہاں ۔۔۔سحر تمہارے بھلے کے لئے کوئی فیصلہ کروں تو مجھے غلط تو نہیں سمجھوگی ؟؟”

وہ سحر کا سر جائے نماز پر ہی اپنی گود میں رکھ کر اس کے بالوں کو سہلاتے ہوۓ پوچھ رہی تھیں

“نہیں ۔۔۔آپ کا ہر فیصلہ میرے لئے حکم کا درجہ رکھتا ہے امی ۔۔۔۔”

وہ آنکھیں بند کیے پر سکون سی بولی تھی

“تمہارے ابو کے بعد میں شاید کمزور پڑ گئی ہوں سحر ۔۔۔۔”

“ایسے مت کہیں امی ۔۔۔آپ ہمت ہیں ہماری آپ کی وجہ سے ہی ملی ہے مجھے اور کاشف کو بھی ہمت، آپ کمزور نہی ۔۔۔ہیں ۔۔۔امی “

سحر ماں کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی تھی

“بیٹا ۔۔۔۔تمہاری بےبی آنٹی ۔۔۔۔چاہتی ہیں کہ میں تمہیں ان کے ساتھ لندن بھیجوا دوں ۔۔ “

“کیا ؟؟؟؟”

“یہ کیسی خواہش ہے امی ؟؟؟”

وہ حیران ہوئی تھی

“عاشر کی بیوی کی حیثیت سے سحر”

“امی ؟؟؟؟ تو آپ نے کیا کہا ؟؟”

“جب سے تمہارے ابو گئے ہیں اس گھر کا چولہا ان کے دم سے جل رہا ہے اور تم دونوں کے پڑھائی کے اخراجات بھی ۔۔۔۔ میں کیا بول سکتی ہوں”

وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں

سحر بے بس سی ماں کو روتا دیکھ رہی تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمان کی اچانک آمد اور اس جملے نے ریحانہ بيگم کو اس بھری محفل میں سیخ پا کیا تھا الفاظ، دماغ میں گڈ مڈ ہوئے تھے ۔۔۔

“میں آپ سب کے سامنے یہ قبول کرتا ہوں کہ میں اور فرحانہ کافی عرصے سے موبائل پر رابطے میں ہیں اور ایک دوسرے سے انتہا کی محبت کرتے ہیں اور شادی بھی کرنا چاھتے ہیں ۔۔۔۔”

زبیدہ بيگم کے چہرے پر سکون پھیل گیا تھا

“بیٹا جیسے کہ آپ جانتے ہیں آپ کی والدہ ریحانہ بيگم ایسا نہیں چاہتیں تو پھر اب آپ کا کیا فیصلہ ہے ؟؟”

سیف کے ماموں نے عثمان کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس بیٹھا کر شفقت سے پوچھا تھا

“میں اپنی ماں سے بہت محبت کرتا ہوں اگر وہ ایسا نہیں چاہتیں تو میں ان کی خوشی کے برعکس نہیں جاؤں گا مگر چونکہ زندگی میں نے گزارنی ہے تو میں یہ حق رکھتا ہوں کہ کم از کم ایسی لڑکی سے شادی نہ کروں جو مجھے پسند نہیں ۔۔۔۔میں کبھی شادی نہیں کرو ں گا ۔۔۔فرحانہ نہیں تو کوئی نہیں ۔۔۔”

وہ کہہ کر کمرے سے جا چکا تھا

عثمان کے والد نے غصے سے بھرپور نگاہ ریحانہ پر ڈال کر بولنا شروع کیا تھا

“ہم اسی جمعہ یعنی کے دو دن بعد فرحانہ بیٹی کو عثمان کے نکاح میں لینے آ جائے گے ۔۔۔”

“مجھے اپنے بیٹے کی خوشی سے زیادہ خدا کا خوف ہے میری اپنی بھی دو دو جوان بیٹیاں ہیں میں نہیں چاہتا کل ان کے سر پر میں نہ رہوں اور کوئی انہیں انسان نہ سمجھے ۔۔۔۔”

وہ بیوی کو نفرت سے دیکھ کر بولے تھے

“باقی جوانی میں اکثر غلطیاں ہو جایا کرتی ہیں ۔۔ ہم سے بھی ہوئی ہیں ۔۔۔۔اگر ہم والدین ہو کر یہ بات نہی سمجھیں گے تو کون سمجھے گا ۔۔۔”

شہلا جو اس مردانہ محفل میں بھی دوپٹہ گلے میں ڈال کر کھڑی تھی اسے عثمان کا انکار منہ پر تھپڑ کی طرح محسوس ہوا تھا

فاریہ بيگم زبیدہ بيگم کا ہاتھ پکڑ کر بھائی کو محسوس کر رہی تھیں ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ کس کا نکاح کس سے طے ہوا ہے ۔۔۔

سیف کو پہلی نظر میں ہی شہلا خاص نہیں لگی تھی وہ قد کھاٹ میں اچھی تھی رنگ ساولا مگر پرکشش تھا ۔۔۔

عثمان کو بہنیں بھاگ کر بلانے گئی تھیں وہ نکاح کی اطلاع پا کر فورا بائیک پر مٹھائی لینے گیا تھا تھوڑی دیر میں سب کا منہ میٹھا کیا گیا تھا بہنوں نے ساتھ چائے کا انتظام بھی کیا تھا ریحانہ بيگم پھیکی مسكراهٹ سجائے اس محفل کا حصہ بنی رہیں ۔۔۔

سب خوش تھے بہت خوش ۔۔۔۔۔عثمان کا دل کر رہا تھا ابھی اسی لمحے فرحانہ کو اپنی شریک حیات بنا کر گھر لے آئے ۔۔۔۔اسکی سچی خوشی اس کے چہرے پر عیاں تھی وہ بنا بات کے مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔

محبت کی جیت ہوئی تھی ۔۔۔۔۔جب جذبات خالص ہو تو اکثر وہ محبت ناسور نہیں بنتی ۔۔

“فاریہ میں تمہیں اپنے ساتھ گھر لے کر جانا چاہتی ہوں تمہارے مرحوم بھائی کی یہ آخری دم تک خواہش تھی ۔۔۔”

“بھابھی میں ابھی شاہجہان کو بنا بتاے یہاں آئی ہوں ریحانہ نے فوری بلايا تھا ۔۔۔۔میں عثمان کے نکاح پر ضرور آؤگی ۔۔۔”

“یہ میری بیٹی شہلا ہے “

وہ شہلا کو اپنے پاس بلا کر کہہ رہی تھیں

“السلام علیکم ۔۔۔مامی ۔۔۔”

“وعلیکم السلام ۔۔۔شہلا بیٹا “

“ماشاللہ بہت پیاری بیٹی ہے ہماری”

زبیدہ بيگم سر پر پیار دے کر بولی تھیں

“امی چلیں اب ۔۔۔مجھے کام سے جانا ہے ایک جگہ ایمرجنسی ہے ۔۔۔میرا ایک دوست ہسپتال ہے ایکسیڈنٹ ہوا ہے “

سیف موبائل ہاتھ میں پکڑے بوکھلایا ہوا تھا

“ندیم کالنگ”

موبائل ایک بار پھر بجنا شروع ہوا تھا

“ہاں ندیم کیا بنا؟؟؟”

“وہ کیسا ہے اب ؟؟؟”

“سیفی ۔۔۔اس نے گندم والی گولیاں کھائیں ہیں ۔۔۔فلحال ڈاکٹروں نے کوئی امید نہیں دلائی”

سیف بھاگ کر گاڑی میں بیٹھا تھا گاڑی کو لاک کیئے ۔۔۔

“ندیم ۔۔۔کوئی نوٹ وٹ تو نہیں لکھا ؟؟؟میرا نام ؟؟؟”

“نہیں ۔۔۔مگر تیرا نام جب تک ہوش میں تھی مسلسل لے رہی تھی ۔۔۔”

“تجھے کس نے بتایا اس کی خود کشی کا ؟؟؟”

سیف پھولی سانسوں سے پوچھ رہا تھا

“ساری رات تجھے فون کرتی رہی توں نے نہی اٹھایا پھر صبح مجھے فون کیا اور تجھے یہ پیغام دینے کو کہا ۔۔ “

“کیسا پیغام ؟؟؟”

سیف نے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوۓ پوچھا تھا وہ شدید گھبرایا ہوا تھا