Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 6
Rate this Novel
Imtehaan Episode 6
“امی یہ سب کب سے چل رہا تھا ؟؟؟آپ کے ناک کے نیچے بات اتنی بڑتی رہی اور آپ کو علم تک نہیں ہوا میں یہ بات کیسے ؟؟؟؟کیسے مان لوں ؟؟؟؟”
سیف کی اپنی دم پر پیر آیا تھا تو اب سب برداشت سے باہر ہو رہا تھا وہ کسی زخمی شیر کی طرح اپنا سارا غصہ بیوہ ماں پر اتار رہا تھا
“باپ مر گیا تم لوگوں کا مجھے اکیلا چھوڑ گیا تم لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے کو ۔۔۔”
زبیدہ بيگم دوپٹے کا پلو ناک پر رکھے روتے ہوۓ بول رہیں تھیں
“امی بات کو دوسرا رخ مت دیں میرے سوال کا جواب دیں “
سیف اب نرمی سے پوچھ رہا تھا
“کب سے چل رہا یہ سب فرحانہ ؟؟؟”
ماں نے روتے ہوۓ بھرائی آواز میں پوچھا تھا
“امی میں بہت محبت کرتی ہوں عثمان سے پلیز آپ پھپھو سے بات کریں میں نہیں رہ سکتی عثمان کے بغیر “
فرحانہ تڑپ کر دیوار پر نظریں ٹکا کر بولی تھی
“کب سے چل رہا تھا یہ سب ؟؟؟”
سیف نے کھینچ کے فرحانہ کے منہ پر تھپڑ مار کر پوچھا تھا
“شرم سے ڈوب مرنے کی بجاے آگے سے بکواس کر رہی ہو؟؟؟”
اب وہ فرحانہ کے بال پکڑ کر کمر میں مکا مار کر بولا تھا
“بھائی آپ کی آپی مر جائے گی عثمان نہ ملا تو”
وہ روتے روتے بولی تھی
“سیفی میرے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا ۔۔۔۔۔ساری کشتیاں جلا دی ہے میں نے”
“میں محبت میں اپنا سب لٹا چکی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں مجبور تھی ۔۔۔۔بہت مجبور ۔۔۔۔۔عورت ہو کر بھی مجھے اپنی محبت ثابت کرنی پڑی ۔۔۔۔۔وہ مرد ہو کر بھی مجبوری کا رونا روتا رہا ۔۔۔۔مجھے اپنا نہیں رہا ۔۔۔۔۔یا اللّه ۔۔۔۔۔۔۔میں کدھر جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا اللّه توں تو جانتا ہے میں بس اس کی محبت میں وہ سب کرتی رہی جو جو وہ کہتا رہا ۔۔۔۔۔میرے دل میں ذرا برابر بھی شہوت نہیں تھی ۔۔۔۔۔اب اس نے مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی ہے ۔۔۔جب تک اس کا دل تھا ماں کو کانوں کان کچھ بھی پتہ نہیں لگنے دیا ۔۔۔اب ۔۔۔۔۔اب جب دل بھر گیا ہے تو ۔۔۔۔۔جب بھی فون کروں پھپھو ہی فون اٹھاتی ہیں ۔۔۔۔مجھے باتیں سناتی ہیں ۔۔۔مجھے زانی ۔۔۔طوائف … اور پتہ نہیں کیا کیا کہتی ہیں۔ ۔۔۔۔بیٹے کو مكهن میں سے بال کی طرح بلکل نکال دیا ہے اس پورے معاملے سے ۔۔۔ وہ میری عزت کا تماشا بنا کر ایسے غائب ہوا ہے جیسے کبھی تھا ہی نہیں ۔۔ “
اب وہ چیخ کر روئی تھی
زبیدہ بيگم نے سیف کو پیچھے دکھیل کر بیٹی کو گلے لگایا تھا ۔۔۔
سیف دوبارہ بہن کی طرف جھپٹا تھا زبیدہ بيگم نے اسے دوبارہ پیچھے پٹخ کر غصہ دکھایا تھا
“خبر دار ۔۔۔۔۔۔خبردار جو میری زندگی میں میری بیٹی کو لاوارث سمجھا اور دوبارہ اس کی طرف انگلی کا اشارہ بھی کیا ہو ۔۔۔۔۔اس کا باپ مرا ہے ۔۔۔۔ماں ۔۔۔۔۔۔۔ماں ابھی زندہ ہے ۔۔۔میں خود دیکھ لوں گی سب ۔۔۔تم اس معاملے سے خود کو باہر سمجھو “
زبیدہ بيگم بیٹی کو اپنی آغوش میں بھر چکی تھیں اب وہ اس کے بکھرے بال سمیٹ رہیں تھیں فرحانہ کے رونے میں اور شدت آئی تھی
سیف اٹھ کر چھت پر گیا تھا
وہ اسی اسٹور میں جا کر لیٹا تھا جہاں وہ اکثر وہ ہی سب کرتا ہے بہت سے سیف کی بہنوں سے جو اس کی بہن کے ساتھ عثمان نے کیا تھا ۔۔ آج لگ رہا تھا کسی نے وہاں بڑا سا آئینہ لگا دیا ہو ۔۔ اپنا خوبصورت چہرہ آج اسے بہت بد صورت لگ رہا تھا اپنا وجود برداشت سے باہر ہو رہا تھا اسی دوران موبائل کی بیپ ہوئی تھی جس میں فریحہ کا وائس نوٹ تھا
“سیفی ۔۔۔میرے گھر والے میرا رشتہ دیکھ رہے ہیں تم جلدی جلدی آنٹی کو بھیجو ۔۔۔میں تمہارے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی”
وہ بری طرح رو رہی تھی
اس نے فورا جواب کے لئے موبائل اٹھایا تھا
“میں نے سب پتہ کیا ہے تمہارے بارے میں جیسے تمہاری دونوں آپیاں بانجھ ہیں ایسے ہی تمہارے بھی بچے نہیں ہوں گے ۔۔۔بس ہاں کردو گھر والوں کو وہ جہاں بھی کہتے ہیں کرلو شادی میری طرف سے تم آزاد ہو ۔۔۔۔۔بلکل آزاد ۔۔۔اپنے ہر فیصلے میں ۔۔ آئندہ مجھے مت کرنا کوئی بھی میسج ۔۔۔۔کوئی بھی کال ۔۔ “
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا
“یہ تم کیا کہ رہے ہو سیف ؟؟؟”
تم تو مجھ سے بہت محبت کرتے تھے نہ ؟؟؟؟
پھر تم اتنی آسانی سے مجھے خود سے الگ کیسے ؟؟؟؟
کیسے کر سکتے ہو ؟؟؟؟
تم ناراض ہو نہ مجھ سے ؟؟؟تم نے کل مجھ سے برہنہ ہو کر تصویرں بھیجنے کو کہا تھا میں نے نہیں بھیجی تم اس لئے کہہ رہے ہو نہ یہ سب ؟؟؟؟
میں ابھی بھیج دیتی ہوں مگر ۔۔۔مگر تم مجھ سے ایسا مت کہو ۔۔۔ تمہیں خدا رسول کا واسطہ ہے “
دوسری جانب گویا قیامت آچکی تھی
فریحہ کی سانسیں بند ہو رہی تھیں وہ بنا سانس لئے سیف کو میسجز کر رہی تھی ابھی فریحہ کی حالت اس مسافر کی تھی جیسے منزل سے پہلے ہی ایک ویران انجان جگہ پر اتار دیا جائے ۔۔۔کسی زادِ راہ کے بغیر ۔۔۔۔۔۔
“نہیں چاہیے مجھے تمہاری کوئی بھی تصویر جان چھوڑ دو میری بس”
سیف نفرت سے بولا تھا
“سیف میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔۔ایسا مت کرو ۔۔۔وہ دُکھ سے نہ رو پا رہی تھی نہ بول پا رہی تھی
“وہ میرا مسلہ نہیں ہے بس آیندہ مجھ سے رابطہ مت کرنا”
وہ آخری وائس نوٹ بھیج کر موبائل سالینٹ پر لگا کر تکیے کے نیچے رکھ کر رضائی اڑ کر سونے لیٹ گیا تھا
“بھائی امی آپ کو نیچے ناشتے پر بلا رہی ہیں جلدی آجائیں”
صبح ہو چکی تھی سیف کافی دنوں سے تھکاوٹ کی وجہ سے آج لمبی نیند لے کر اٹھا تھا وہ نیچے آتے ہی غسل خانے گھسا تھا نہا کر برآمدے میں آکر بیٹھا تھا جہاں اس کی چاروں بہنیں ناشتہ کر رہی تھیں فرحانہ بھی سوجھی آنکھیں لئے چھوٹے چھوٹے نوالے لے رہی تھی
“یہ لو سیفی ناشتہ کرو پھر تمہاری ریحانہ پھپھو کی طرف جانا ہے عثمان کا رشتہ لینے ۔۔۔۔میرے دونوں بھائی بھی ادھر پہنچ جائیں گے 2بجے تک ناشتہ کرو پھر نکلتے ہیں”
سیف نے بنا کچھ کہے سر اثبات میں ہلایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحانہ بيگم عثمان کی ماں نے اپنی کرائم پارٹنر بہن فاریہ کو بھی اپنے حق میں بولنے کے لئے بلا رکھا تھا جاتے ہی کھانا لگا دیا گیا تھا چونکہ دوپہر کا وقت تھا سب نے آرام سے کھانا کھایا اس کے بعد سب ایک کمرے میں بیٹھ گئے تھے عثمان منظر سے غائب تھا جبکہ اس کے والدین اور دو بڑی بہنیں سب کی آؤ بھگت میں پیش پیش تھے
سیف کے ماموں نے بات کا آغاز کیا تھا
“جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں عثمان اور فرحانہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔۔۔دونوں بالغ ہیں وہ شرعی لحاظ سے اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ان کی پسندیدگی کو عزت دیتے ہوۓ ان کی نہ صرف بات پکی کی جائے بلکہ اسی جمعے مطلب دو دن بعد ان کا نکاح کردیا جائے اور جلد از جلد آپ لوگ فرحانہ کو اپنے گھر لے آئیں…آپ کا اکلوتا بیٹا ہے آپ لوگ اپنے ارمان پورے کرنے کے لئے تیاری کا وقت لینے میں حق بجانب ہونگے ۔۔۔”
ریحانہ نے یہ پوری بات گویا توے پر بیٹھ کر سنی تھی وہ اپنے شوہر کو گھور رہی تھی جو بہت سعادت مندی سے سر ہلا ہلا کر اس سب کے لئے اپنی رضا مندی دکھا رہا تھا اس بات سے ان کے غصے کو ایکسیلیٹر لگا تھا وہ نہایت برے لہجے میں مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوۓ بولنا شروع ہوئی تھیں
“دیکھیں بھائی صاحب ہماری بیوہ بھابھی ہمارے مرحوم بھائی کی وجہ سے ہمیں بہت عزیز ہیں اور آپ ان کے بڑے بھائی ان کے سرپرست بن کر آئے ہیں لہذا آپ بھی قابل عزت ہیں ہمارے لئے ۔۔۔۔فرحانہ اور باقی بچے مجھے جی جان سے عزیز ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں اپنے مرے ہوۓ بھائی کی محبت میں اپنے زندہ اكلوتے بیٹے کو زندہ درگور کر دوں ۔۔۔”
“اس بات کا کیا مطلب ہے ریحانہ بہن ؟؟”
سیف کے دوسرے ماموں نے حیرانگی سے پوچھا تھا
“مطلب صاف ہے بھائی صاحب ۔۔۔یہ پسندیدگی صرف فرحانہ کی طرف سے ہے میرے بیٹے کی پسند تو شہلا ہے میری بہن فاریہ کی بیٹی ۔۔۔اس وقت بھی وہ دونوں بائیک پر داتا دربار گھومنے گئے ہیں ۔۔۔
وہ پتہ پھینک کر پر سکون ہوئی تھیں
زبیدہ بيگم نے فاریہ بيگم کی طرف دیکھا تھا جو موبائل میں مصروف تھیں
“فاریہ کیا یہ سچ ہے ؟؟”
زبیدہ بيگم نے پوچھا تھا
“کیا بھابھی ؟؟”
وہ اپنی اکلوتی بھابھی سے یہ امید نہیں کررہی تھیں کہ وہ ان سے بات بھی کرے گی کیوں کہ ان کی موجودگی میں ہی وہ اپنے ماں باپ اور بھائی کی عزت کو لات مار کر محبت کے نام کا جھنڈا گاڑنے سب کچھ داؤ پر لگا کر گھر سے نکلی تھیں تب سے لگ بھگ 22سال سے ان کا اپنے بھائی اور اس کی فیملی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا تھا بھائی کی وفات پر بھی وہ بس منہ دیکھ کر اپنا منہ چھپا کر وہاں سے آ گئی تھیں بنا کسی کی پہچان میں آئے کیوں کہ وہ مرے ہوۓ بھائی کو لوگوں کی زبانوں پر لا کر ایک بار پھر نہیں مارنا چاہتی تھیں ۔۔۔وہ بھائی کی کفن میلا نہیں کرنا چاہتی تھیں وہ بھائی جس نے اسے باپ سے زیادہ پیار دیا تھا ۔۔۔
اب بھابھی کا مخاطب کرنا ان کو نہال کرگیا تھا وہ موبائل ٹیبل پر رکھ کر زبیدہ بيگم کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئی تھیں
“بھابھی آپ ہی میرا بھائی میرے ماں باپ ۔۔۔میرا ميكا ہیں مجھے معاف کر دیں “
زبیدہ بيگم بہت محبت کرنے والی خاتون تھیں انہوں نے ریحانہ اور فاریہ کو ماں کی طرح پا لا تھا مگر یہ اور بات تھی کہ انہوں نے ہمیشہ ان کو بھابھی ہی سمجھا تھا ۔۔۔وہ تو پہلے ہی فرحانہ کی وجہ سے دکھی تھیں فاریہ کا رونا دیکھ کر دل کھول کر رونے لگی تھیں ریحانہ کو اپنا ڈرامہ کمزور پڑتا محسوس ہوا تھا
جب دونوں خاموش ہوگئی تو ماموں نے فاریہ سے سوال دوہرایا تھا
“فاریہ بیٹا کیا واقعی عثمان آپکی بیٹی شہلا کو پسند کرتا ہے؟؟”
“نہیں یہ جھوٹ ہے میں فرحانہ کو پسند کرتا ہوں اور اسی سے ہی شادی کرنا چاہتا ہوں”
عثمان کی ماں کو جب سے فرحانہ کا پتہ چلا تھا اس فاریہ سے شہلا کا نمبر لے کر پچھلے ایک ماہ سے عثمان اور شہلا کو آپس میں سیٹ کرنے کی کوششیں تیز کردی تھیں مگر عثمان کو فرحانہ جیسی حد میں رہنے والی لڑکیاں پسند تھیں شہلا تو خود ہر وقت حلال ہونے کو بے قرار رہتی تھی جبکہ فرحانہ سے ایک سادی تصویر لینا
“
بھی جان جوكھوں کا کام ہوتا وہ اچھی طرح سے جانتا تھا فرحانہ جو کر رہی ہے وہ محض محبت نبھانا ہے ورنہ وہ خود خدا سے ڈرنے والی لڑکی ہے یہی وجہ اسے فرحانہ سے شدید محبت پر مجبور کرتی تھی شہلا عثمان کو پسند کرنے لگی تھی وہ بلاشبہ تگڑی آسامی تھی مگر بائیک پر وقت بے وقت اس کا چپک کر بیٹھنا بھی اسے عثمان کے دل میں نہ بیٹھا سکا وہ بات بات پر فرحانہ کا ذکر کرتا جس سے شہلا کا خون کھولنے لگتا آج بھی اس کے آرمانوں پر جہاں پانی پھیرا تھا وہیں سیف جیسے خوبصورت کزن کو دیکھ کر دل آج سچ میں کسی کے لئے دھڑکا تھا ۔۔۔۔
پہلی نظر کی محبت ۔۔۔۔۔ہاں شاید ۔۔۔۔
اس بار واقعی محبت ہوئی تھی ۔۔۔۔۔کیوں کہ محبت یا تو ہوتی ہے یا پھر نہیں ہوتی ۔۔۔وہ جب ہوتی ہے نہ پھر اس کا تعارف “محبت ” ہی کافی ہوتا ہے ۔۔۔جھوٹی یا سچی محبت نہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر کے باپ کی میت صحن میں رکھی ہوئی تھی موسم آج صبح کا ہی خراب تھا اس موسم نے ہی تو ان کے گھر کے موسم کو خزاں میں بدلا تھا ۔۔۔
سحر اسکی ماں اور کاشف رو رو کر بد حال ہو رہے تھے ۔۔۔
مجھ سے ناراض چلا گیا ہے میرا باپ ۔۔۔۔میرے رکشے کی فکر کھا گئی ہے میرے باپ کو وہ صبح سے یہ جملہ کوئی ہزار بار دوہرا چکی تھی وہ بیہوش ہو جاتی پھر پانی ڈال کر منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے ہوش میں لایا جاتا ۔۔۔
وہ خواب تھوڑی تھا جو منظر بدل جاتا وہ تو جیتی جاگتا سچ تھا ۔۔۔۔کڑوا سچ جو تکلیف ده، بہت اذیت ناک حقیقت کی شکل دھارے ہوئے تھا ۔۔۔
کسی بھی وقت بارش شروع ہو سکتی تھی جس کے پیشِ نظر، عزیز مرد حضرات بار بار عقیلہ بيگم سے میت اٹھانے کی اجازت طلب کرنے آرہے تھے ۔۔۔
عقیلہ بھائی کو تکلیف ہو رہی ہوگی ان کو اس خراب موسم میں سہولت سے اپنا آخری سفر شروع کرنے دو ۔۔۔دے دو اجازت ۔۔۔۔وہ ہم میں نہیں رہے یہ مان لو ۔۔۔
نگینہ بيگم نے روتے روتے کہا تھا
اس بات سے عقیلہ بيگم کا ضبط کا بندھ ٹوٹ کر بکھرا تھا وہ بلند آواز سے روئیں تھیں
ہائے اللّه کیسے اجازت دے دوں ۔۔۔۔کیسے اجازت دوں ۔۔۔میرے اللّه میں کیسے رہوں گی ان کے بغیر ۔۔۔یہ کیا کر دیا اللّه ۔۔۔۔کبھی کچھ نہیں مانگا تجھ سے ۔۔۔۔بس آخری سانس تک ان کا ساتھ چاہا تھا ۔۔۔ اللّه میں کیسے صبر کروں ۔۔۔۔۔کیسے مان لوں کہ اب روز شام کو یہ سائیکل پر تهکے ہارے گھر نہیں آیا کریں گے ۔۔۔۔اللّه کیسے مان لوں کہ میں بیوہ ہو گئی ہوں ۔۔
وہ تڑپ تڑپ کر بول رہی تھیں اسی دوران سحر ان کے گلے لگی تھی جس سے ان کے رونے میں مزيد تیزی آئی تھی
“سحر ۔۔۔۔اللّه کیسے مان لوں میرے بچے یتیم ہوگئے ہیں ۔۔۔۔اب سب ان پر ترس کھائیں گے ۔۔۔”
وہاں موجود عقیلہ بيگم اور ان کے شوہر کی مثالی ازداواجی خوشگوار زندگی کی مثالیں دیا کرتے تھے پورا گاؤں اس دکھ میں ان کے ہمراہ اشک بار تھا
مگر قدرت کے آگے رونے اور صبر کے علاوہ کیا بھی کیا جا سکتا ہے ۔۔۔
انسان اللّه کے فیصلوں کے آگے بے بس ہے ۔۔۔
میت اٹھالی گئی تھی ۔۔۔ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی ۔۔۔اس کچے پکے گھر کے دروازے سے میت باہر لے جائی جا رہی تھی ۔۔۔عاشر نے آگے بڑھ کر چارپائی کو كندها دیا تھا ۔۔۔
“كلمہ شہادت ۔۔۔۔اللّه ہو اکبر ۔۔۔”
شام کا وقت ۔۔۔ہلکی بارش ۔۔۔۔۔گاؤں کی کچی گلیاں ۔۔۔۔
یہ قیامت تھی ۔۔۔۔بلاشبہ قیامت ہی تو تھی ۔۔۔۔
جب باپ کا جنازہ گھر سے اور اس کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو وہ قیامت ہی تو ہوا کرتی ہے ۔۔۔
یہ قیامت ہی تھی
