195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 17

سیف کو ڈاکٹر نے اندر بلايا تھا

“السلام علیکم ۔۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔میں بیڈ نمبر 4 پر موجود شہلا نامہ مریضہ کا شوہر ہوں نرس نے کہا مجھے آپ نے بلايا تھا ۔۔ “

“وعلیکم السلام ۔۔۔جی بیٹھ جائیں ۔۔۔”

“کچھ پوچھنا چاہتی ہوں آپ کی مسز کے بارے میں”

“جی ۔۔۔پوچھے”

“آپ دونوں کا ازدواجی تعلق کیسا رہا ہے پہلے دن سے کیا آپ دونوں خوش تھے اس شادی سے ؟؟؟”

سیف کو سمجھ نہیں آرہا تھا کن الفاظ میں اس سوال کا جواب دے مگر جھوٹ بولتا تو جھوٹ کا طوفان آ جاتا ایک جھوٹ ثابت کرنے کے لئے ہزاروں جھوٹ بولنے پڑتے ۔۔۔لہذا سیف نے ایک ایک بات سچ بتائی تھی ۔۔۔جس پر ڈاکٹر کے دماغ میں موجود گھتی کافی حد تک سلجھی تھی

“سیف اپ کی باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں مگر اپ کی وائف کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ ایسا محسوس ہوتا ھے کہ یہ محض دو سال سٹریس میں رهنے کی وجہ سے بیمار نہیں ہیں بلکہ وہ بچپن سے شدید زهنی تناؤ کا شکار رہی ہیں آپ سے لڑنا جھگڑنا بے مقصد باتوں کو بنیاد بنا کر لڑنا تو اس بیماری کی شاید وہ آخری علامات ہیں جن پر قابو پانا اب ان کے بس میں نہیں ہے ۔۔۔”

“کیا مطلب ڈاکٹر صاحبہ ؟؟”

“ان کی والدہ اور والد سے بھی میں ملی ہوں آپ سے پہلے ان کو بلوايا تھا ۔۔۔وہ گھر کا ماحول جو اب آپ کی بیٹی کا حال بن چکا ہے آپ کی بیوی کا ماضی تھا”

“یہ ہمارا المیہ ہے کہ بچوں کو تب تک بچہ ہی سمجھا جاتا ہے جب تک ہماری ممتا یا باپتا کی تسکین رہتی ہے،جب تک ہمارا دل ان کو بڑا نہیں سمجھتا وہ ہمارا لئے بچہ ہی رہتا ہے ۔۔۔۔ہم میں سے %99 والدین یہ نہیں جانتے کہ وہ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تب بھی باہر کا ماحول اس پر اثر رکھتا ہے ۔۔۔۔”

سیف نے نا سمجھنے والے انداز سے ڈاکٹر صاحبہ کی طرف دیکھا تھا

“ماہرين نے یہ ثابت کیا ہے مختلف تجربات کی روشنی میں ۔۔۔۔کہ وہ عورت جو اپنی زچگی کے دوران ہشاش بشاش اور مطمئن رہتی ہے اس کا بچہ اس عورت کے بچے کی نسبت جو ہر وقت غصے میں ،ذہنی تناؤ یا پریشان اور غمزدہ رہتی ہے سے زیادہ ذہین اور خود اعتماد ہوتا ہے ۔۔۔۔وہ پیدائشی طور پر ہی مثبت سوچ کا مالک ہوتا ہے ۔۔۔۔گھر کا ماحول خاص کر والدین کی آپس کی ناچاکی سے بچہ ڈر اور خوف کا شکار ہو جاتا ہے ۔۔۔ بچہ جن دو لوگوں کی وجہ سے اس دنیا میں آیا ہوتا ہے وہ فطری طور پر ان دونوں کو نا صرف ساتھ دیکھنا چاہتا ہے بلکہ وہ ان کو ایک دوسرے کی عزت اور محبت سے بات کرتا بھی دیکھنا چاہتا ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا ہونے لگتا ہے کہ وہ جلد یا بدیر ان میں سے کسی ایک کو کھو دے گا ۔۔۔جو وہ نہیں چاہتا کیوں کہ اسے ان دونوں کی ایک جتنی ہی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔”

وہ۔۔۔۔ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بچہ تقسیم ہو جاتا ہے ذہنی طور پر ۔۔۔۔۔ایک بٹا ہوا دماغ مکمل دماغ نہیں ہوتا ۔۔۔اس کی کارکردگی کبھی بھی ایک صحت مند دماغ والی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔ہم والدین اپنے بچے کی ناکامی کے سب سے بڑے ذمہ دار خود ہوتے ہیں ۔۔۔ایک بچہ جو بچپن سے کھودینے کے خوف میں مبتلا ہے وہ کبھی کامیابی کا سوچ ہی نہیں سکتا وہ اس کے مطلب سے ہی ناآشنا ہے تو وہ اس کی کھوج میں کوشش کیسے کرے گا ؟؟؟

جبکہ کوشش ۔۔۔۔ کامیابی کی شروعات ہوا کرتی ہے ۔۔ پہلی سیڑھی ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔

“ہمارہ معاشرہ طلاق کو نا پسند کرتا ہے مگر گھر میں ہر وقت کسی اکھاڑے کا ماحول بنائے رکھنا اور بچوں کو ذہنی طور پر مفلوج کردینا یہ کہاں کا انصاف کا کام ہے ؟؟؟”

“یہ میرا روز کا کام ہے جووالدین شروعات میں ہی سمجھ داری سے الگ ہو جاتے ہیں جن کی نفرت کا سچ بچے کے سامنے نہیں آتا وہ بچہ کبھی نہیں بٹتا وہ نسبتا زیادہ پر اعتماد ہوتا ہے اس بچے کے جو صبح شام ماں باپ کو بچوں کی طرح لڑتا جھگڑتا دیکھتا ہے ۔۔۔ والدین کب یہ بات سمجھے گے کہ وہ معصوم بچہ جو چپ چاپ سہما سا کھڑا ہے وہ کیا محسوس کررہا ہے؟ وہ کیا سوچتا ہے ؟وہ کیا چاہتا ہے ؟

“ہمارے ہاں طلاق نا دے کر مرد عورت پر احسان تو کر دیتا ہے مگر نا وہ خود کو بدلتا ہے اور نا ہی عورت ۔۔۔۔اس آنا اور خود سری کی جنگ میں سراسر نقصان اس معصوم بچے کا ہوتا ہے جو خود سے اس دنیا میں نہیں آیا ہوتا ۔۔۔۔

وہ خوف دھیرے دھیرے اس کی شخصیت میں چھید کر دیتا ہے ۔۔۔۔اس کی قابلیت چونکہ کبھی بھی وہ نہیں ہو سکتی جو ایک مکمل بچے کی ہو سکتی ہے ۔۔۔اس کا وہ خوف جو بچپن کا دیا ہوا اس کے والدین کا بد ترين تحفہ ہوتا ہے اس کی بار بار کی ناکامی بن کر اس کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔جو غصے،نفرت،حسد اور جلن میں بدل جاتا ہے ۔۔۔۔احساس كمتری اس کا سایا بن کر مرتے دم تک اس کے ساتھ رہتی ہے ۔۔۔

“وہ بچپن کی بھیانک یاد وقت اور بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ پھیکی ضرور ہو جاتی ہیں مگر ان کے نقش چونکہ روح پر چھپ چکے ہوتے ہیں وہ اس کی شخصیت میں غصہ بن کر مستقل گڑھے۔۔۔

اور شگاف ڈالتے رهتے ہیں ۔۔۔

جو مائیں اپنے معصوم بچوں کے ذہنوں میں ان کے پیدائشی ہیرو . . . ان کے باپ کے خلاف کرتی ہیں یا باپ ان کے کچے کانوں میں ان کی جنت کے خلاف زہر گھول دیتے ہیں نا ۔۔۔تو تب اس جیت کی کھینچا تانی میں اس معصوم بچے کے چھیتڑے بن جاتے ہیں وہ محظ گوشت پوست کا ایک وجود بن کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔روح تو بٹ کر مر چکی ہوتی ہے ۔۔۔

پھر کوئی بھی دوسرا اس میں اپنی مرضی کی روح پھونک کر اس کا استعمال کر تا چلا جاتا ہے ۔۔۔

کچھ بھی اچانک یا ایک دم سے نہیں ہوا ہوتا ۔۔۔۔بیج تو بچپن میں ہی بویا جا چکا ہوتا ہے اب تو بس فصل پک کر تیار ہونی ہوتی ہے ۔۔۔

مریض توجہ کے حصول کی خاطر ہر وہ بات ہر وہ حرکت کرتا ہے جس سے لوگ اسے اہمیت دے ۔۔۔۔اور اگر معاملہ من پسند شخص کا ہو تو پھر تو وہ اس پر مكهی بھی بیٹھنے نہیں دے سکتے ۔۔۔

سیف سر پکڑے ڈاکٹر کی طرف دیکھ رہا تھا

آپ کی وائف اپنے والدین سے وہ توجہ نہیں لے پائی جو اکلوتی اولاد ہوکر وہ پانا چاہتی تھیں ۔۔۔۔نتیجہ وہ سٹریسڈ رہی ایک لمبے عرصے تک ۔۔ ۔۔۔۔۔ان کا سٹریس بلوغت کی عمر آتے ہی ہارمونل امبیلنس میں بدل گیا ۔۔۔وہ اپنے خاص دنوں میں پاگل ہونے تک غصہ کرتی رہیں کیوں کہ ان دنوں میں عورت بہت زیادہ حساس ہو جاتی ہے ۔۔۔ان کو ناک سے بلیڈنگ ہونا بھی اسی ذہنی کیفیت کی وجہ سے تھا ۔۔۔ آپ جانتے ہیں سیف آپ سے غلطی کہاں ہوئی ہے اس پوری صورتحال میں ؟؟؟

“آپ سے شادی کر کے وہ سب بدلنا چاہتی تھیں خود کو اپنی ذہنی حالت اور تو اور اپنی اس سوچ کو بھی جو وہ ایک مرد کے بارے میں رکھتی تھیں مگر ایسا نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔ان کا وہ اعتبار جو وہ آپ پر کرتی تھیں جب وہ ٹوٹا یا توڑا گیا یہ اپ بہتر جانتے ہوگے تو وہ اصل میں شہلا کو توڑ گیا تھا آپ پر دوبارہ اعتبار اب اس کے بس کی بات نہیں رہی تھی سیف ۔۔۔۔۔۔۔

اگر میں یہ کہوں کہ آپ اس اندھیری غار میں روشنی کی کرن تھے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا مگر افسوس آپ نے ان کو دوبارہ اسی اندھیرے میں جھونک دیا ۔۔۔۔وہ بیمار تھیں مگر ان کو کبھی ایک مریض سمجھ کے ڈاکٹر کے پاس علاج کی غرض سے نہیں لے جایا گیا ۔۔۔بلکہ وہ ماری پیٹی جاتی رہیں ۔۔۔

“شکر کریں آپ کی بچی پر اس کا اثر نہیں ہوا وہ بلکل نارمل ہیں ورنہ اکثر ایسے مریض کا بچہ ذہنی اپاہج یا کسی اور معذوری کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ۔۔۔”

“اب کیا کروں میں ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔وقت تو ریت کی مانند پهسل گیا میرے ہاتھ سے اور میں دیکھتا رہ گیا ۔۔۔”

“اپنی بیوی کی موت کا انتظار کرنا ہے اپ کو بس اب مسڑ سیف “

“کیا مطلب ؟؟؟یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں ؟؟”

“مسلسل ہارمونل اتار چڑہاؤ کی وجہ سے شدید ڈپریشن میں حسد،جلن اور شدید غصے میں رهنے کی وجہ سے ان کا جسم وائٹ سيلز زیادہ بناتا رہا ۔۔۔۔ان کو بلڈ کینسر ہو گیا ہے ۔۔۔وہ بھی لاسٹ اسٹیج پر ۔۔۔”

“حسد آپ کی نيكیوں کو ایسا کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو”

یہ میرے رب نے کہا ہے مگر آج میں ڈاکٹر کی حیثیت سے یہ بات دعوے سے کہتی ہوں کہ حسد کرنا نا صرف آپ کے سارے رشتے کھا کر آپ کو تنہا کرتا ہے بلکہ آپ کی اپنی ذات آپکی صحت بھی کھاجاتا ہے ۔۔۔۔۔غصے میں ہمارا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہےدل بتارہا ہوتا ہے کہ میری کارکردگی متاثر ہو رہی ہے،دماغ سر درد کا اشارہ دے کر بے ترتیبی کا اشارہ دیتا ہے ۔۔۔آپ خود سوچیں مسلسل منفی سوچ کا مقابلہ ایک انسانی جسم آخر کب تک کرے ۔۔۔۔منفی سوچوں سے خون میں مختلف زہریلے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جن کے مقابلے میں ہمارا جسم سفيد خلیے پیدا کرتا ہے جو کہ ہمارا مدافعتی نظام کا حصہ ہیں مگر ایک وقت آتا ہے جب ان سفيد خلیات کی تعداد لال خلیوں سے اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ پورا سسٹم کولاپس کر جاتا ہے ۔۔ پھر جسم کا ہر فعل بے ترتیبی کا شکار ہونے لگتا ہے ۔۔۔

سر چکرانا،کسی چیز پر گرفت نا رہ پانا ،ہر وقت طبیعت بوجھل رہنا اور غصہ آنا اس کی اہم علامات ہیں ۔۔۔ جو ہماری عورت کرے تو اسکا علاج طلاق سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔افسوس ۔۔۔۔

“ان کو ہم لاہور ریفر کر رہے ہیں ۔۔۔آپ ان کا بہت سارا خیال رکھیں ہو سکے تو ۔۔۔۔ان کو خوش رکھنے کی کوشش کریں ۔۔۔”

سیف کا چہرہ لال ہو چکا تھا دماغ میں وہ تمام لڑائیاں کسی تیز طوفان کی طرح ایک ساتھ شور مچانے لگی تھیں وہ شکستہ قدم چلتا ہوا باہر آیا تھا شہلا بیٹھی ہوئی تھی وہ كمزور پيلی زرد ایسے جیسا صدیوں سے بیمار ہو ۔۔۔۔

وہ اپنی بیٹی کو گود میں اٹھاے محبت سے دیکھ رہی تھی زبیدہ بيگم اور فاریہ پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھیں

“امی آپ دونوں باہر چلی جائیں میں شہلا سے کوئی بات کرنا چاہتا ہوں”

شہلا کے چہرے پر غصہ آیا تھا وہ سمجھ رہی تھی وہ پھر نام پر بحث کرنے آیا ہے وہ دونوں باہر چلی گئی تھیں سیف شہلا کے پاس آ کر بیٹھا تھا

اس نے بیٹی کو پیار کرتے کرتے شہلا کے ہاتھ کو پکڑا تھا جس پر وہ تھوڑی حیران ہوئی تھی

“شہلا ہماری بیٹی کا نام وہ ہی ہوگا جو تم رکھوگی”

” ارے تو آپ کی اس محبوبہ کا کیا ہوگا جس کی یاد میں تاج محل بنانا چاھتے ہیں آپ ؟؟؟”

“میرے لئے تم اس لمحے میں سب سے اہم ہو شہلا،تمہاری خوشی تمہاری چاہت میری چاہت اور خوشی ہے ۔۔۔۔۔یہ بیٹی تمہاری ہے اس پر سب سے زیادہ حق تمہارا ہے مجھ سے بھی زیادہ غلطی میری تھی جو ایک مرے ہوۓ انسان کو میں اپنی جیتی جاگتی بیوی پر ترجیح دے رہا تھا مجھے معاف کردو شہلا”

وہ ہاتھ جوڑ کر نم آنکھیں لئیے بولا تھا

شہلا کسی معصوم بچے کی طرح خوش ہوئی تھی وہ مسکراتے ہوۓ رو دی تھی

“سیف میں ٹھیک ہو جاؤں گی نہ تو اب کبھی نہیں لڑوں گی میں بہت تهک گئی ہوں سیف اس سب سے میں اب سکون سے لمبی نیند سونا چاہتی ہوں”

وہ جملہ جو عام سا تھا مگر سیف اس بات پر تڑپ گیا تھا وہ فورا کھڑا ہو کر شہلا کو سینے سے لگا کر بولا تھا

“ہر گز نہیں شہلا تم بلکل نہیں سونا ۔۔۔ہم اب بہت خوش رہے گے تم کہوگی نہ سیف سانس مت لو میں ۔۔۔میں وہ بھی روک لوں گا مگر تم ۔۔۔۔۔۔تم ایسے لمبی نیند کی بات مت کرو شہلا ۔۔۔۔پلیز”

وہ بے آواز مسلسل رو رہا تھا

“کیا ہوا ہے سیف آپ اس طرح کیوں پریشان ہیں اتنی جلدی میں مرنے نہیں لگی ہاں ۔۔۔۔ابھی تو آپ کو بیٹے کا باپ بھی بناؤں گی ۔۔۔۔اس کا نام ہم ۔۔۔۔۔۔علی سیف رکھیں گے ٹھیک ہے ؟؟؟”

اس بات پر سیف کے رونے میں شدت آئی تھی

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں،ہر کام کرنے میں

ضروری بات کہنی ہو،کوئی وعدہ نبھانا ہو

اسے آواز دینی ہو ،اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی یا ڈھارس بندھانا ہو

بہت دیرنہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو

کسی کو یاد کرنا ہو کسی کو بھول جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ۔۔۔۔

کسی کو موت سے پہلے قضے غم سے بچانا ہو

حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ۔۔۔۔۔

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں (منير نیازی مرحوم )

***********

عاشر مایا کے ساتھ شام تک آنے کا کہہ کر چلا گیا تھا بےبی بھی ان کے ساتھ نکلی تھی وہ بےبی کو ڈراپ کر کے اپنی مطلوبہ منزل پر نکلے تھے

سحر پورا دن خود کو مختلف کاموں میں الجھاۓ رہی مگر دل عجیب سی بے چینی میں مبتلا رہا ۔۔۔

وہ ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھی کوئی ڈرامہ لگائے اپنا دھیان بٹانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جب گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا وہ بھاگ کر عاشر کو دیکھنے اٹھی تھی مگر بےبی آنٹی اکیلی ہی اندر آئی تھیں

“السلام علیکم ۔۔۔۔آنٹی عاشر نہیں آئے اپ کے ساتھ ؟؟؟”

“نہیں وہ مایا کے ساتھ مصروف ہے اس کی سالگرہ ہے آج اسے ہوٹل لے کر گیا ہے خاص قسم کی سلیبریشن کے لئے ۔۔۔۔اتنا تو سمجھتی ہو گی نا ؟؟؟یا مزيد وضاحت دوں ؟؟؟”

بےبی ادا سے کہتی ہوئی پر سکون سی بیٹھ گئی تھی سحر کا دل ان کی بات پر منہ کو آیا تھا

“آنٹی آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں میرے ساتھ ؟؟؟اپ نے میرا انتخاب خود کیا تھا نا پھر اب اس طرح عاشر کو مجھ سے دور کیوں کرنا چاہتی ہیں ؟؟؟”

سحر روہانسی ہو کر بول رہی تھی

“ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی بچی مت بنو تم ۔۔۔۔چلو اپنے کمرے میں جاؤ شکل مت دکھانا مجھے اپنی “

وہ نفرت سے بولی تھیں سحر ان کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی تھی

“آنٹی آپ جہانگیر انکل سے شادی کر کے چاہے تو ادھر ہی رہیں ۔۔۔۔مجھے یا عاشر کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا مگر پلیز اس طرح میرا گھر مت توڑیں”

وہ باقاعدہ رونے لگی تھی

“یہ میرا گھر ہے . ۔۔۔۔۔لڑکی ۔۔۔ چند دن عاشر کے ساتھ گزار کر خود کو اس کا مالک مت سمجھو ۔۔۔چلو اب دفع ہو جاؤ اور رہی بات گھر توڑنے کی تو وہ دونوں ہر بار ایک دوسرے كی خوشی ایسے تنہائی میں ہی مناتے آٹے ہیں یہ پہلی بار نہیں ہو رہا چللل مارو ۔۔۔۔آجائے گا صبح ۔۔۔”

سحر اپنے کمرے میں آئی تھی وہ کافی دیر عاشر کی جگہ کو دیکھتی رہی دل عجیب سے خطرے کی گھنٹی بجا رہا تھا

“عاشر ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہے گا وہ بدل بھی سکتا ہے ۔۔۔۔

“آندھی اور طوفان میں ڈٹی رہنا سحر اپنا گھونسلہ بکھرنے مت دینا ۔۔۔”

عقیلہ بيگم كی آواز نے دل میں ٹھنڈک بھردی تھی اتنے میں عشاء کی نماز کا الارم بجا تھا سحر جلدی سے وضو کر کے نماز پڑھنے لگی تھی پوری نماز میں وہ ہچکیوں سے روتی رہی ۔۔۔

“یا اللّه میرا گھر بچا لے ۔۔۔۔یا اللّه میرے عاشر کو فقط مجھے دیدے ۔۔۔۔”

وہ زور قطار دعا کرتی رہی ۔۔۔۔

بےبی مسڑ خان کے پاس چائے کا کپ لئے آئی تھیں

“مسڑ خان یہ پی لیں ۔۔۔خاص دودھ پتی آپ کے لئے ۔۔ اور سو جائے کیوں کہ صاحب صبح آئیں گے آپ آرام کریں ٹھنڈ کافی ہے “

مسڑ خان خوشی خوشی کپ لے کر اپنے کمرے میں گئے تھے

اب انہوں نے مایا کو فون کیا تھا جس نے جو بھی کہا تھا اس پر بےبی کا دل خوش ہوا تھا وہ اپنے کمرے میں گئی تھیں اب ان کو کم از کم دو گھنٹے مزيد گزرنے کا انتظار کرنا تھا

وہ الارم لگا کر سو گئی تھیں ۔۔۔

دو گھنٹے بعد ۔۔۔۔۔

الارم بجنے پر بےبی شیطانی مسکراہٹ لئے اٹھ کر کمرے سے باہر آئی تھی

سحر ابھی تک جائے نماز پر بیٹھی آنکھیں بند کیے تسبیح کر رہی تھی آنسو اب تھم چکے تھے جب دروازے پر دستک ہوئی تھی وہ عاشر کے گمان میں بھاگ کر دروازہ کھول کر کھڑی ہوئی تھی

سامنے بےبی سر پکڑے کھڑی تھیں

“کیا ہوا آنٹی ادھر آ کر بیٹھ جائیں”

وہ پانی دے کر بےبی کا سر دبا رہی تھی

“بیٹا میری طبیعت خراب ہے مسڑ خان اپنے کمرے میں نہیں ہے تم ایسا کرو زين کو فون کر کے بلادو مجھے ہسپتال لے جائے ۔۔۔۔میرا سر پھٹ رہا ہے”

“آنٹی میں کیسے فون کروں ان کو ؟؟؟ میں عاشر کو فون کرتی ہوں”

“عاشر کا نمبر بند ہے میں ٹرائی کر چکی ہوں”

“اچھا آنٹی پھر آپ زين كو خود فون کر لیں اپنے نمبر سے”

“میرا موبائل بند پڑا ہے چارج نہیں ہے آخری کال عاشر کو بہت مشکل کر کے آ رہی ہوں ، ہائے ۔۔۔۔۔میرا سر ۔۔۔۔۔میرا دل ۔۔۔۔میرا دل بند ہو رہا ہے”

وہ اپنی بائیں سائیڈ پکڑ کر تڑپ کر بولی تھیں

سحر پسینے میں بھیگ گئی تھی اس نے بے دلی سے موبائل اٹھا کر زين کا نمبر ملایا تھا آگے سے پہلی رنگ پر فون اٹھا لیا گیا تھا

“جی بھابھی ؟؟؟”

“زين بھائی آنٹی کی طبیعت خراب ہے آپ فوراگھر آجائیں”

” اوکے میں آتا ہوں”

سحر بےبی کا سینہ ملتی رو رہی تھی زين فورا اندر آیا تھا سحر نے جلدی سے آپنا چہرہ ڈھانپا تھا مگر زين اس کے پاکیزہ معصوم چہرے کی جهلک دیکھ چکا تھا

بےبی زين اور سحر کے درمیان آہستہ آہستہ چلتی ہوئی سحر کے کمرے کے دروازے تک آئی تھی اور تیزی سے سحر کو اندر دکھیلتی ہوئی دروازہ بند کرتی باہر نکلی تھی سحر نے حیرانگی سے زين کی طرف دیکھا تھا تو مسكراہٹ لئے سحر کو دیکھ رہا تھا وہ کمرے کا لاک لگا کر سحر کی طرف بڑھا تھا جو بت بنی صورتحال سمجھنے کی سعی کر رہی تھی

۔*************

“مایا تم نے صبح کا میٹنگ کے انتظار میں مجھے بٹھایا ہوا ہے اب یہ ادھر ہوٹل کیوں لے آئی ہو ؟؟؟”

“کم آن عاشر ۔۔۔۔کھا نہیں جاؤں گی تمہیں ۔۔۔سالم ہی گھر بھیجوں گی تمہاری اس مولون کے پاس ۔۔۔”

وہ بیڈ پر کمرہ لاک کرتی بے تكلف سے ہوئی تھی

“تمہیں کافی پلاتی ہوں بس پھر چلے جانا “

عاشر اپنی ٹائی لوز کرتا بیٹھ گیا تھا وہ دو کپ لئے عریانیت کی ہر حد پھلانگے سامنے بیٹھ گئی تھی عاشر نے اپنی نظریں زمین میں گاڑھ لیں تھیں

“عاشر نیک عورت صرف نيک مرد کے لئے ہوا کرتی ہے،مجھے آپ کا نہیں پتہ مگر میرا ماضی کسی ندی میں بہتے پانی کی طرح شفاف ہے اگر مجھے آپ ملے ہیں تو یقینا آپ بھی میری طرح پاک ہیں”

سحر کی آواز کانوں میں گونجی تھی جس پر عاشر نے جلدی گھر پہنچنے کے چکر میں پوری کافی ایک سانس میں اندر اونڈیل لی تھی وہ جلدی سے جانے کے لئے اٹھا تھا مگر سر چکرانے پر واپس نیچے بیٹھ گیا تھا

“کیا ہو رہا ہے مجھے ؟؟؟کیا ڈالا تھا تم نے اس میں مایا ؟؟؟؟”

اس نے مایا كی طرف دیکھا تھا جو چار چار نظر آ رہی تھی وہ موقع مناسب پا کر همدردی میں عاشر کو چپک کر کیا ہوا ہے پوچھ رہی تھی عاشر کی آنکھیں بھاری ہوئی تھیں وہ غنودگی میں چلا گیا تھا