Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369

Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 22 (Last Episode)

195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 22 (Last Episode)

“سحر جلدی سے اپنا ضروری سامان رکھو تم پاکستان جا رہی ہو ابھی اور اسی وقت”

رات کا جانے کونسا پہر تھا جب بےبی نے سوئی ہوئی سحر کو اٹھایا تھا

سحر آنکھیں ملتی بیٹھ گئی تھی

“کیوں کیا ہوا ہے وہاں ؟؟؟؟عاشر ٹھیک ہیں ؟؟؟”

وہ گھبرائی سی بالوں کو کیچر میں مقید کرتی ہوئی بولی تھی

“ہاں عاشر ٹھیک ہے تمہاری امی کی طبیعت بہت خراب ہے تمہیں فوراً آنے کو کہا ہے”

بےبی نے مصنوئی پریشانی کا اظہار کرتے ہوۓ کہا تھا

“کیا ہوا ہے امی کو ؟؟؟؟؟دن تک تو بلکل ٹھیک تھیں؟؟؟؟؟؟”

سحر بوكھلائی بوكھلائی سی اپنا برقعہ لینے اٹھی تھی جو تکیے کے پاس ہی پڑا تھا وہ پریشانی میں یہ تک پوچھنا بھول گئی تھی کہ پاکستان سات سمندر پار ہے ایسے فوری وہ جا کیسے سکتی ہے اس کی ٹکٹ اور باقی کی تیاری ایسے کیسے ہو گئی ؟؟؟”

بےبی نے سحر کی ایسی کمزوری کو نشانہ بنایا تھا کہ جس سے سحر کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جائے وہ دل ہی دل میں اس بیوقوف لڑکی کی معصومیت پر ہنسی تھی سب اس کی منشا کے مطابق ہوا تھا سحر چھوٹا سا بیگ لئے فورا جانے کو تیار کھڑی تھی

“آنٹی میں عاشر کو بتا کر ۔۔۔۔”

“کوئی ضرورت نہیں جاتے جاتے عاشر کی طبیعت بگاڑنے کی ۔۔۔۔جب وہ سحر کو نہیں جانتا پھر اس کی ماں کی بیماری سے اس کا کیا لینا دینا ؟؟؟؟”

بےبی چاہ کر بھی اپنے اندر کی کڑواہٹ چھپا نہیں پائی تھیں سحر کو ایک دم ان کی اس بات سے شک سا محسوس ہوا تھا وہ اپنا موبائل پرس سے نکال کر اپنی امی کا نمبر ڈائل کر رہی تھی

“ادھر دو موبائل ۔۔۔۔وقت کم ہے فلائٹ کا ٹائم بس ہونے کو ہے جلدی کرو پھر نا کہنا ماں کو آخری بار جیتے جی دیکھ بھی نہیں سکی ۔۔۔ڈاکٹر نے ان کو جواب دے دیا ہے ہارٹ اٹیک اتنا شدید تھا کہ مت پوچھو ۔۔۔۔میری ماں جیسی بہن ۔۔،۔۔۔۔کاش عاشر کی یہ حالت نہ ہوتی تو میں بھی ساتھ چلی جاتی ۔۔۔۔”

بےبی نے آخری داؤ ۔۔۔۔۔”آنسو” کھیلا تھا ۔۔۔

بےبی نے روتے ہوۓ سحر کا موبائل لے کر واپس پرس میں ڈالا تھا

“نہیں کچھ نہیں ہوگا میری امی کو چلیں چلتے ہیں”

سحر فورا بیگ گھسیٹتی ساتھ ہوگئی تھی

گاڑی میں جہانگیر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے موجود تھا ان کو باہر آتا دیکھ اس نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی

سحر نے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے آخری بار پورے گھر پر ایک نظر ڈال کر عاشر کے کمرے کی طرف دیکھا تھا جہاں کی لائٹ آن تھی جس کا مطلب تھا وہ فلحال کسی وجہ سے اٹھا ہوا ہے ایک پل کو سحر کا دل کیا تھا بھاگ کر عاشر کے سینے میں جا چھپے اور اپنی ماں کا غم بہا دے ۔۔۔ مگر بےبی کو بہت جلدی تھی وہ مسلسل اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہہ رہی تھیں سحر دل پر منوں بوجھ لئے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔

ایئر پورٹ زیادہ دور نہیں تھا

“جاؤ سحر ۔۔۔۔۔۔تم بہت اچھی بہو ہو ۔۔۔۔مگر افسوس میں اچھی ساس نہیں بن سکی ۔۔۔۔ساری عمر جس انسان کا ساتھ میں نے ایک حرام رشتے میں بندھ کر پایا ہے مزيد مجھ میں عمر کے اس حصے میں گناہ کرنے کی ہمت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔میں عاشر کی یاداشت کا استعمال کروں گی ۔۔۔۔وہ نہیں جانتا اس پوری سلطنت کا وہ واحد بادشاہ ہے ۔۔۔۔وہ مجھے ففٹی ففٹی کا مالک سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔اسی بات کا میں فائدہ اٹھاؤں گی ۔۔۔۔۔وہ مجھے ہر ضروری فائل پر دستخط کی پاور دیتا چلا جائے گا دیتا چلا جائے گا ۔۔۔۔۔اور میں سب اپنے نام کرتی چلی جاؤں گی ۔۔۔۔اس کی وہ یادیں جو کبھی اس کو نہیں ستا سکتیں ۔۔۔۔اگر تو ۔۔۔۔۔اگر تو وہ واپس آ بھی جاتی ہیں تو ۔۔تب تک عاشر کی حیثیت اس سب میں محض ایک ملازم کی رہ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔”

“اور وہ بچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس پر تب مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا آخر وہ میرے اكلوتے بیٹے کی نشانی ہوگا ۔۔۔۔۔”

بےبی دل ہی دل میں سحر کو اندر جاتا دیکھ اپنے حساب کتاب لگا رہی تھیں وہ جہانگیر کے ساتھ واپس آ کر بیٹھ گئی تھیں

“خس کم جہاں پاک”

دونوں کا قہقہ بلند ہوا تھا

“بےبی چلو ابھی اور اسی وقت شادی کر لیتے ہیں”

جہانگیر نے گرم جوشی سے کہا تھا

“جلدی کیا ہے جہانگیر ۔۔۔۔ادھر میں سب اپنے نام کروں گی ۔۔۔۔ادھر تم اپنی اس بد صورت بیوی کو طلاق دو گے ۔۔۔۔پھر ہوگی ہماری شادی ۔۔۔۔”

“میں بہت بار کہہ چکا ہوں بےبی میں ایسا نہیں کر سکتا ۔۔۔۔وہ بہت سادہ عورت ہے ساری زندگی میں تمہاری ایک کال پر اس کا بستر چھوڑ کر اسے تمہارا بتا کر آیا ہوں ۔۔۔وہ بس ایک ہی بات کرتی ہے شروع سے کہ مجھ پر طلاق کا دهبہ مت لگانا ۔۔۔۔ایک شادی چھوڑ چار شادیاں کر لو ۔۔۔وہ اللّه والی ہے اسے مجھ سے دو وقت کی روٹی اور میرے نام کے سوا کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔۔اس نے کبھی تمهارے نام پر مجھ سے نا کبھی بحث کی ہے نا ہی کبھی لڑائی ۔۔۔۔میری اس ناپاک زندگی کے باوجود اس نے میری اولاد کی نظر میں میری عزت پر آنچ نہیں آنے دی۔۔۔۔۔جس جہانگیر کو میرے بچے جانتے ہیں وہ ایک بہترین انسان ہے ۔۔۔میری اولاد مجھے آئیڈل مانتی ہے ۔۔۔

“میرے دونوں بیٹے جب میرے کندھے سے کندھا ملا کر کہتے ہیں کہ ہم آپ جیسا بننا چاھتے ہیں تب میں اپنی ہی نظر میں گر جاتا ہوں ۔۔۔۔اس عورت کا یہ احسان اتنا بڑا ہے کہ میں مرتے دم تک اس کا یہ قرض نہیں چکا سکتا ۔۔ “

“اولاد ہمیشہ اپنے باپ کو اپنی ماں کی آنکھوں سے دیکھتی، دماغ سے سمجھتی اور ماں کی دل سے محبت کرتی ہے ۔۔۔۔۔اس عورت کو میں نے کبھی کچھ نہیں دیا مگر اس نے میری بےوفائی میں میری اولاد کو میرے خلاف ہتھیار نہیں بنایا ۔۔۔۔۔سچ تو یہ ہے وہ کہے بھی تو میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ۔۔۔۔”

“اچھا اتنی افضل عورت کے ہوتے ہوۓ تم رات کے اس پہر میرے ساتھ کیا کر رہے ہو جہانگیر ؟؟؟؟”

“بس مرد ہوں نا ۔۔۔۔۔۔۔مجھے اولاد کے لئے الگ ۔۔۔اور محبت کے لئے الگ عورت چاہیے ۔۔۔۔۔”

جہانگیر نے خود پر طنز کیا تھا

“اکثر سوچتا ہوں میں اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مرد تھا ۔۔۔۔اس نے کسی خادمہ کی طرح ساری عمر میری اور میری اولاد کی خدمت کی ۔۔۔۔اپنی جوانی مجھے دی ۔۔۔۔۔میں اس کی محبت کا اکلوتا وارث تھا ۔۔۔۔۔نماز روزے کی پابند ۔۔۔۔جب تک میرے والدین حیات تھے وہ دن رات ایک کیئے رکھتی ان کی خدمت اور دلجوئی میں ۔۔۔۔۔پھر بھی مجھے تم سے کیوں محبت ہوئی ؟؟؟مطلب کمی کہاں تھی ؟؟؟”

بےبی نے اپنا تیز ناخن ایک ادا سے جہانگیر کے چہرے پر پھیرا تھا

“مرد ہو نا اپنی فطرت سے مجبور بیچارہ مرد”

بےبی کا قہقہ چھوٹا تھا

“یہ بات نہیں ہے بےبی ۔۔۔۔۔جیسے تم اور میری بیوی ایک فطرت کی نہیں ہو ویسے ہی ہر مرد ایک ہی فطرت کا مالک نہیں ہوتا ۔۔۔۔جانتی ہو وہ کیا بات تھی جو میں اس دور ہوۓ بغیر تمہارے پاس ہوتا گیا ؟؟؟؟”

“میرا حسن ؟؟؟؟؟”

بےبی کا غرور بولا تھا

“نہیں ۔۔،۔۔وہ بلا شبہ تم سے زیادہ حسین عورت ہے بےبی ۔۔۔۔”

“آہاں ۔۔۔۔۔تو پھر ؟؟؟”

“وہ اس پورے عرصہ میں صرف ایک بیوی ہی رہی محبوبہ نا بن سکی ۔۔۔۔۔وہ سعادت مندی سے میری ہر ہاں میں ہاں ملا تی رہی ۔۔۔۔تضاد تو کبھی آیا ہی نہیں ہمارے رشتے میں ۔۔۔۔۔میں کہتا اٹھ جاؤ تو وہ اٹھ جاتی میں بیٹھنے کا کہتی تو وہ بیٹھ جاتی ۔۔۔۔۔۔اس کی حد سے زیادہ کی اچھائی ہمارا رشتہ بے ذائقہ کرتی چلی گئی ۔۔۔۔۔”

“ہر مرد اچھی رات گزار کر سیر نہیں ہوتا اسے نوک جھوک کرتی ۔۔۔۔ہاں پر ناں اور ناں پر ہاں کرتی بیوی چاہیے ہوتی ہے ۔۔۔۔۔”

“میرا دل کرتا تھا وہ مجھ سے ضد کرے ۔۔۔۔کوئی خواہش کرے ۔۔۔۔کوئی مطالبہ کرے ۔۔۔۔۔مجھ سے لڑے ۔۔۔۔۔دیر سے آنے پر وہ مجھ سے پوری پوری رات بات نا کرے ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔ایسا تو کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔وہ صابر عورت۔۔۔۔۔میری ہر نافرمانی پر مجھ پر قربان ہونے کے لئے حاضر رہتی ۔۔۔۔۔میں کچھ بھی کرتا اس کا جواب اس کی ایک خوبصورت مسکراہٹ ہوا کرتا ۔۔۔۔۔مجھے لگتا تھا میں شاید فقط اس کے بچوں کا باپ تھا اس سے زیادہ ۔۔۔۔۔وہ مجھے کچھ نہیں سمجھتی ۔۔۔۔۔۔یہی وجہ تھی کہ میں اس کی توجہ حاصل کرنے کی غرض سے تمہارے قریب ہوا ۔۔۔۔حد تو تب ہوئی جب اس نے دوسرے دن ہی یہ سب بھانپ لیا ۔۔۔۔مجھے یہ امید جاگی تھی کہ شاید اب یہ مجھ سے لڑ کر اپنے بھائی کے گھر چلی جائے گی ۔۔۔۔مگر نہیں ۔۔۔۔وہ ہمارے رشتے کا شاید آخری دن تھا جب اس نے مجھے تم سے شادی کرنے کا کہا ۔۔۔۔۔تب مجھے یقین ہو گیا کہ میں اس کے لئے واقعی کوئی معنی نہیں رکھتا ورنہ اس کا دل یہ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟یہ سب آخر کیسے سہہ سکتا تھا اگر وہ مجھ سے محبت کرتی تھی ؟؟؟؟”

“پاگل ہے تمہاری بیوی جے ۔۔۔۔۔سیدھا سیدھا مان لو ۔۔۔”

بےبی نے باہر روشنیوں میں دور دیکھتے ہوۓ کہا تھا

“وہ پاگل نہیں ہے بےبی ۔۔۔۔۔کاش واقعی ایسا ہی ہوتا ۔۔۔مگر وہ تو مکمل تھی ۔۔۔۔ہر طرح سے ۔۔۔۔”

“ہماری شادی کی بہت جلدی ہے اسے بےبی وہ روز مجھے یہ کہنا نہیں بھولتی کہ میں تمہیں نکاح کر کے اپنے ساتھ لے آؤں”

“ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔تو وہ پاگل عورت کیا سمجھتی ہے میں اس کے ساتھ اس ڈربے میں رہوں گی اس کی سوتن بن کر ؟؟؟؟”

“ہر گز نہیں ۔۔۔۔۔تم میرے ساتھ میرے گھر میں رہو گے ۔۔۔۔۔ہم ایک نئی زندگی شروع کریں گے ۔۔۔۔۔ایک شاندار ۔۔۔۔۔۔ٹھاٹ بھاٹ والی شاہانہ زندگی ۔۔۔۔جہاں صرف میں اور تم ہوں گے ۔۔۔۔۔۔”

جہانگیر کو آج اپنی اس چمک دار محبت پر افسوس ہوا تھا اور اس بات کا یقین ہوا تھا کہ

“ہر چمکتی چیز ۔۔۔سونا نہیں ہوتی ۔۔۔”

اس چھوٹے سے گھر کو اس کی بیوی نے ہمیشہ سجايا تھا اس گھر کا حجم کیا ہے جہانگیر کو کبھی اندازہ ہی نہیں تھا ہوا ۔۔۔۔۔”

“بےبی اگر میں تمہیں کہوں کہ مجھے تمہاری اس جائیداد میں کوئی شراکت نہیں چاہیے میں فقط تمہارا ساتھ چاہتا ہوں تو ؟؟؟”

“”او ۔۔۔کم اون جے ۔۔۔۔ڈونٹ بی سیلی ۔۔۔۔۔میں نے اس امپائر کی خاطر اپنی جوانی اس بوڑھے کے ساتھ گزار دی ۔۔۔باقی کی زندگی تمہارے ساتھ منہ کالا کرتی رہی ۔۔۔۔اگر میرے لئے فقط تمہارا ساتھ ہی کافی ہوتا تو میں کب کا تم سے نکاح کر چکی ہوتی ۔۔۔۔اب جب اللّه نے میری مدد کردی اور عاشر کا پتا

خود ہی صاف ہوگیا ہے تو تمہیں اچھائی کا بخار چڑھ گیا ہے ؟؟؟؟”

“میرے لئے دولت ،یہ سٹیٹس یہ شان و شوکت سب سے پہلے آتے ہیں ۔۔۔۔۔میرے مرحوم شوہر ۔۔۔۔ہاہاہا ۔۔۔۔مجھ پر ہر وقت شک کر کے مجھے ذلیل نا کرتے ہوتے تو آج میں اس وقت تمہارے ساتھ نا بیٹھی ہوتی ۔۔۔۔۔”

“مجھے اس سے کچھ نہیں چاہیے تھا میں اس کی عمر سے بھی خوش تھی ۔۔۔۔مگر اس کے اندر کے خوف نے مجھے ہر پل مشکوک بنائے رکھا ۔۔۔۔وہ امیر تھا وہ چاہتا تھا کہ میں ہر جگہ اس کے ہمراہ رہوں ۔۔۔۔مگر لوگوں کی ستائشی نظریں اس کو برداشت نہیں تھیں وہ ان سے تعریف بٹور کر گھر آجاتا مگر ساری رات میری ذات کو داغتا ۔۔۔۔۔مجھے بد چلن حرافہ اور جانے کیا کیا کہتا ۔۔۔۔۔جب اس کے اندر کے مرد کی تسكين ہو جاتی پھر میرے آگے دم ہلاتا کتا بن جاتا ۔۔۔۔۔مجھے گھمانے لے جاتا ۔۔۔۔لاکھوں کے گفٹس ایسے ہی لے دیتا ۔۔۔۔۔۔جن میں سے اکثر میں کھولتی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔۔پھر آہستہ آہستہ مجھے عادت ہوتی گئی ۔۔۔۔۔تذلیل کی ۔۔۔۔۔مار کی ۔۔۔۔لعن تان کی اور آخر میں قیمتی انعام کی ۔۔۔۔مجھے مزہ آنے لگا اس شان و شوکت کا ۔۔۔۔۔۔میرا دل کرتا لوگ اس پوری امپائر کو میرے نام سے پہچانیں۔۔۔۔بس پھر جب مجھے تم مل گئے تو میرے بے چین دل کو جیسے چین مل گیا تھا ۔۔۔۔تم میری زندگی کے وہ واحد مرد ہو جیسے میں محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔”

جہانگیر نے لمبی سی سانس کھینچ کر بےبی کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

“خود غرض نہیں تھی تم سعدیہ ۔۔۔۔بس اسی کی کمی تھی ۔۔۔۔۔خود غرض ہونا بھی کبھی کبھی ضروری ہوا کرتا ہے میاں بیوی کے رشتے میں ۔۔۔۔محبت تو وہ ہی تھی جو تمہیں فقط مجھ سے تھی میری خوشی سے تھی ۔۔۔۔۔ہاں محبت تو وہ ہی تھی جو واقعی تمہیں مجھ سے تھی ۔۔۔۔فقط مجھ سے ۔۔”

آج زندگی میں پہلی بار جہانگیر کو اپنی بیوی سعدیہ کے پاس جانے کی جلدی تھی ۔۔۔۔وہ بےبی کے بے حد اسرار کے بھی وہاں نہیں رکا تھا ۔۔۔

“اگر ایک عورت ایک مرد کی ہر خطا سہتی چلی جاتی ہے تو وجہ ہر بار اس کی مالی حالت نہیں ہوا کرتی ۔۔۔۔کبھی کبھی وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بھی مرد کی ہر زیادتی سہتی چلی جاتی ہے ۔۔۔۔یہ محبت ہے یہ وہ شاید خود بھی نہیں جانتی ۔۔۔۔”

۔******************

لگ بھگ سات گھنٹے کی فلائٹ لے کر سحر پاکستان لاہور ایئر پورٹ پر اتری تھی آج وہاں اس کو ریسو کرنے کوئی نہیں آیا تھا وہ ٹیکسی کروا کر گھر کی طرف نکلی تھی وہاں کا فون یہاں نہیں چل رہا تھا لہذا فون پر رابطہ نا ممکن تھا

اس وقت شام کے 7بج رہے تھے جب سحر اپنے گھر کے آگے دروازے پر اتری تھی پرانے گیٹ کی جگہ نیا گیٹ لگا ہوا تھا کچھ تعمیراتی کام بھی گھر کی حالت کو کافی ابہتر دکھا رہا تھا

وہ تقريبا بھاگ کر اندر گئی تھی اندر کچھ خواتین کی آواز آرہی تھی

“باجی آپ نا ہوتیں تو آج میرے بچے زندہ نا ہوتے ۔۔۔آپ نے میری بروقت مدد کر کے مجھے اور میرے بچوں کو نئی زندگی بخشی ہے ۔۔۔اللّه آپ کی پردیس میں بیٹھی پردیسی بیٹی کو ہمیشہ آباد رکھے ۔۔۔۔”

اب اس عورت کے سرشاری سے رونے کی آواز آئی تھی

سحر بھاگ کر اندر گئی تھی جہاں عقیلہ بيگم بیٹھی اس عورت کو چپ کروا رہی تھیں

“امی ؟؟؟؟؟؟”اپ تو بلکل ٹھیک ہیں ؟؟؟؟؟”

سحر کے ہاتھ سے پرس نیچے گرا تھا وہ خود بھی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگی تھی

“امی ۔۔۔۔۔۔۔میرا عاشر ۔۔۔۔۔۔۔۔”

عقیلہ بيگم نے ان خواتین کو جانے کا اشارہ کیا تھا وہ سحر کو ہاتھ سے اٹھا کر اندر لے آئی تھیں

عقیلہ بيگم نے صبر سے بیٹی کو پانی دے کر پر سکون کیا تھا جب وہ قدرے بہتر ہوئی تو اس سے پورے معاملے کے حوالے سے استفسار کیا ۔۔۔۔

سحر نے روتے روتے الف سے ے تک پوری کہانی عقیلہ بيگم کے گوش گزار کر دی جس پر حیران ضرور ہوئی مگر پریشان نا ہوئیں ۔۔۔

“چلو بیٹا ۔۔۔۔اٹھو عشاء پڑھو پھر رات کا کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔تمہارے لئے چنا چاٹ بناؤں گی کل خوب ساری مرچیں ڈال کر ۔۔۔۔۔۔میرے تو ابھی سے منہ میں پانی آگیا ہے ۔۔۔میں چنے بگھو کر آتی ہوں تم تب تک نماز پڑھو میں بھی وضو کر کے آئی ۔۔۔”

سحر اپنی ماں کی بے فکری پر حیران ہوئی تھی جنہوں نے ایک لفظ میں حرف تسلی کے طور پر نہیں بولا تھا ۔۔۔۔

سحر نے اٹھ کر وضو کیا اور نماز پڑھنے لگی ۔۔۔۔تھوڑی دیر میں عقیلہ بيگم نے بھی اس کے ساتھ نماز پڑھی ۔۔۔

اب دونوں ماں بیٹی جائے نماز پر ہی بیٹھ گئی تھیں ۔۔۔

سحر آنکھیں موندے ماں کی گود میں سر رکھ کر عرصے بعد پر سکون محسوس کر رہی تھی

“سحر ؟؟؟”

“همممم ۔۔۔۔۔۔”

“میں جانتی ہوں تمہیں میرا سکون حیران کر رہا ہے”

“جی امی واقعی ۔۔۔۔آپ کو زرہ برابر بھی ڈر نہیں میرے گھر ٹوٹ جانے کا ؟؟؟؟”

سحر فورا اٹھ کر بیٹھی تھی

“ایسی غلط بات منہ سے نہیں نکالتے سحر ۔۔،۔۔۔۔کبھی کبھی قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے اور ہماری کہی ہوئی وہ اچھی بری بات حقیقت بن کر پوری ہو جاتی ہے۔۔۔۔ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے ۔۔۔”

عقیلہ بيگم نے بیٹی کے سر پر ہلکی سی چپت

۔۔۔رسيد کی تھی ۔۔۔۔

“دوسری بات میں کیوں ہوتی پریشان تمہاری ان باتوں سے ؟؟؟؟”

“کیا مطلب امی ؟؟؟”

“میرا رب سب سے بہترین چال چلنے والا ہے”

انسان ایڑھی چوٹی کا زور لگا لے وہ اس حد سے زیادہ کسی کا نقصان نہیں کر سکتا جتنا میرا رب چاہتا ہے ۔۔۔۔اور جو میرا رب چاہتا اور کرتا ہے اس میں ہمارا نقصان ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔اللّه کے ہر کام میں مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے سحر ۔۔۔۔۔”

“بےبی کیا سمجھتی ہے وہ تمہیں یہاں بھیج کر اس بچے سے اس کا باپ چھین لے گی ؟؟؟”

“مجھے ہنسی آتی ہے اس انسان پر جو اپنے فیصلوں کو میرے رب کے فیصلوں پر قادر سمجھتا ہے ۔۔۔۔تم مخلص ہو اپنے رشتے میں تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہو گا ۔۔۔۔یہ میرا بھرو سہ ہے اپنے رب پر ۔۔۔۔ اُس رب پر جو کبھی بھی بھروسہ نہیں توڑتا ۔۔۔۔اس رب پر جو ہمارے عزیز رشتوں سے ہمارا امتحان لیتا ہے ۔۔۔۔،”

“تم سے کوئی شخص کچھ بھی چھین سکتا ہے مگر تم سے تمہارا مقدر اور قسمت نہیں چھین سکتا ۔۔۔۔”

“ہر کام کا وقت مقرر کیا ہے میرے رب نے سحر ۔۔۔۔وہ وقت ہمیں گزارنا ہی ہے ۔۔۔اب یہ ہم پر ہے کہ ہم صبر سے گزار دیں یا واویلہ مچائیں….”

“رب کا فیصلہ اٹل ہے ۔۔۔۔اپنے وقت کا انتظار کرو میری بیٹی ۔۔۔اللّه اختیار دے کر ہر کسی کو موقع ضرور دیتا ہے اپنی اوقات پر آنے کا ۔۔۔۔ابھی بےبی کا وہ ہی وقت چل رہا ہے ۔۔۔اللّه اس پر رحم کرے ۔۔۔جب ہم کسی کو نیچا دیکھاکر اپنے مکرو عزائم میں کامیاب ہو جاتے ہیں نا ۔۔۔۔تو اس وقت ہم سے زیادہ کڑا امتحان اور کسی کا نہیں ہوتا ۔۔۔۔مگر ہم انسان ۔۔۔۔۔۔۔ افسوس ۔۔۔۔۔اپنا گریبان نہیں دیکھ پاتے۔۔۔۔۔۔”

عقیلہ بيگم نے سحر کا سر دوبارہ گود میں رکھ کر اس کے بالوں کو سہلانا شروع کیا تھا ۔۔۔

“بیٹا ۔۔۔مجھے بہت خوف آتا ہے جب کوئی کسی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔مجھے تب اس شخص کے لئے بہت پریشانی ہوتی ہے کہ اب اللّه کے قہر سے وہ کیسے بچ پائے گا ۔۔۔۔۔

بیچاری میری بہن ۔۔۔۔۔۔اللّه اس کی حفاظت فرمائے ۔۔۔”

سحر کو اپنا وزن کسی پرندے کے پر کی طرح ہلکا محسوس ہونے لگا تھا ۔۔۔۔وہ سونے والی تھی جب کاشف نے آ کر اس کی آمد سے خوشی اور حیرانگی کے ملے جلے تاثرا ت لئے شور کیا تھا وہ بہت گرم جوشی سے بہن کو ملا تھا ۔۔۔

سب نے ہنسی مذاق کے خوبصورت ماحول میں رات کا کھانا کھایا تھا ۔۔۔۔

۔****************

ندیم کی شادی کی تقریب چل رہی تھی آج اس کا ولیمہ تھا ماہی اس کے پہلو میں بیٹھی بہت زیادہ خوش تھی ۔۔۔

ہر طرف خوشیوں کا راج تھا ۔۔۔۔

سیف پورے منظر سے بے خبر دعا کے ساتھ کھیل تھا وہ معصوم بچی کھلکھلا کر ہنس رہی تھی ۔۔۔عنایا خوبصورت جوڑے میں ملبوس بہت حسین لگ رہی تھی وہ جو کب سے دور سیف کو نوٹ کر رہی تھی اس کے پاس آئی تھی

“دعا ۔۔۔۔میرے پاس آجاؤ ۔۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔۔”

عنایا نے دعا کو سیف سے لے لیا تھا وہ عنایا کے کندھے سے لگ کر سیف سے چھپ رہی تھی وہ کبھی سیف کے پاس جاتی کبھی عنایا کے پاس دعا کو تو خوش ہونے کے لئے کھیل مل گیا تھا ۔۔۔

اسی دوران وہ عنایا کے پاس پکی ہو گئی تھی

“ارے دعا ۔۔۔۔اب تم عنایا آنی کو اپنے باپ پر کو فوقيت دو گی ؟؟؟؟؟یہ تو زیادتی ہے بیٹا ۔۔۔”

اس بات پر دعا کھل کر ہنسی تھی جس پر عنایا اور سیف نے بھی قہقہ لگایا تھا

“ماما ۔۔۔۔”

دعا زبیدہ بيگم کو بھی ماما کہتی تھی وہ عنایا کے گلے لگ کر ماما بولی تھی جس پر سیف نے دکھ سے عنایا کو دیکھا تھا

“بیٹا بری بات ہر کسی ماما نہیں بولتے گندی بچی ۔۔۔چلو آجاؤ دادو کے پاس چلتے ہیں ۔۔۔”

وہ دعا کو لیتے ہوۓ بولا تھا

“دعا ۔۔۔۔میں بہت جلد آپ کے پاس آجاؤں گی پھر یہ آپ کے کھڑوس پاپا کبھی بھی ہمارے بیچ نہیں آ سکیں گے ۔۔۔”

دعا اس بات پر مسکرائی تھی سیف کا چہرہ بھی خوشی سے لال ہوا تھا ۔۔۔

“اگر ایسی بات ہے تو تم دعا کو پکڑو میں مولوی لے کر آتا ہوں ۔۔۔۔عوام تو پہلے سے ہی موجود ہے ۔۔۔۔گھر ساتھ چلیں گے ۔۔۔”

سیف یہ کہہ کر رکا نہیں تھا جبکہ عنایا دعا کو گود میں اٹھا کر اپنی ماں کے پاس گئی تھی وہ جانتی تھی سیف سب کو بہت پسند ہے بھائی کے ساتھ ساتھ اس کا فرض بھی ادا ہو یہ تو اس کے والدین پہلے ہی چاھتے تھے ۔۔۔

عنایا پر سکون سی مسکرائی تھی . . .

۔*************

عاشر کا آج چیک اپ تھا اسے سحر کی غیر حاضری کی وجہ اس کے گھر میں کوئی ایمرجنسی بتائی گئی تھی وہ بے چین سا زين اور بےبی کے ہمراہ ہسپتال گیا تھا

چیک اپ کے بعد وہ بیٹھا ہوا تھا جب نرس اس کمرے میں آئی تھی

“سر آپ کے ساتھ جو ہیں وہ کدھر ہیں ؟؟؟”

“وہ ڈاکٹر کے روم میں گئے ہیں”

عاشر نے نرس کو بلايا تھا

“اچھا سر یہ کچھ رپورٹس ہیں آپ کے ساتھ جو سحر تھیں ان کی ہیں وہ لے جانا بھول گئی تھیں یہ آپ ان کو دے دیں گے ؟؟؟”

“جی ۔۔۔میں دے دوں گا مگر ان کو کیا ہوا تھا ؟؟؟”

“وہ آپ کی پریشانی میں بیہوش ہو گئی تھیں تو یہ ٹیسٹ کرنا ضروری تھے”

عاشر نے وہ فائل بے دلی سے پاس رکھ لی

وہ چیک اپ کے بعد گھر آ چکے تھے وہ ہر آہٹ پر سحر کو ڈھونڈتا تھا ۔۔۔دل بہت اداس تھا

اسی دوران اس کی آنکھ لگی تھی کوئی پریشان کن خواب دیکھ کر وہ گھبرا کر اٹھ گیا تھا جلدی میں گلاس میں پڑا پانی ٹیبل پر گر گیا تھا جس سے سحر کی فائل گیلی ہوئی تھی

وہ اس پر سے پانی جھاڑتا اس کو دیکھنے لگا تھا جہاں پریگننسی کے پازیٹو ہونے کا لکھا تھا ۔۔۔

“سحر ماں بننے والی تھی ؟؟؟؟مگر اس کا شوہر کون ہے ؟؟؟؟”

ایک دم سے عاشر کا سر گھوما تھا سر میں تیز درد ہونے لگا تھا وہ اپنی ماں کو پکارنے لگا تھا اس کے پاس ایک بيل رکھی گئی تھی جو ضرورت کے وقت وہ بجا کر اس لڑکے کو بلا لیتا تھا وہ اسی کی تلاش میں بستر سے اٹھ کر کمرے میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا تھا

جہاں گھر میں موجود کیمروں کی فوٹیج دیکھی جا سکتی تھی وہ کسی کو مدد کے لئے بلانے کے لئے دیکھنا چاہتا تھا کہ سب کہاں ہیں سر درد کی تکلیف میں عاشر نے غلط بٹن دبايا تھا جس سے کچھ عرصہ پہلے کی فوٹیج سکرین پر چلنا شروع ہوئی تھی جس میں وہ دیکھ سکتا تھا کہ سحر سفيد فراک پہنے اس کے کمرے میں آئی تھی تب سے آج تک سحر کے ساتھ جو جو ہوا حتی کے زين کو جب بےبی نے اس کمرے میں گھسایا تھا وہ سب وہ دیکھ چکا تھا مگر دماغ یہ بتانے سے قاصر تھا کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے ۔۔۔

آخر شدید سر درد سے وہ بیہوش ہوا تھا

ڈاکٹروں نے فوری طور پر سرجری کی تھی کیوں کہ خون کا وہ کلاٹ خود ہی اس حساس جگہ سے سرک کر آگے آگیا تھا جہاں سے اس کو نکالنا آسان تھا جان بچ گئی تھی مگر وہ کومے میں چلا گیا تھا ۔۔۔

بےبی کے سب کیئے کراۓ پر پانی پھر چکا تھا ۔۔۔

عاشر کا سب عاشر کا ہی رہ گیا تھا وہ محض ایک ملازم کی طرح سارا کاروبار سنبھال رہی تھی وہ عاشر کے ہوش میں آنے تک مزيد انتظار کرنا چاہتی تھی اس ساری جائیداد کو اپنے نام کروانے کے لئے مگر اس انتظار میں جہانگیر نے اسے ایک لالچی اور خود غرض عورت کا ٹیگ دے کر اس کے ساتھ مزيد اس گناہ کی زندگی گزارنے سے انکار کر دیا تھا بےبی اربوں کی جائیداد کے باوجود بھی خالی ہاتھ محسوس کرتی تھی اس سب پر آج بھی عاشر کا ہی نام ہے یہ بات اسے نيم پاگل کرنے لگی تھی وہ ڈھیروں ڈھیر گولیاں کھا کر سونے لیٹتی مگر پھر بھی نیند نہ آتی ۔۔۔۔

مایا آئے روز اسے اپنے شوہر کے قتل کے جرم میں سزا کروانے کی دھمکی دے کر لاکھوں بٹورنے لگی تھی ۔۔۔

پل پل وہ اذیت میں مبتلا تھی جہانگیر کے آخری الفاظ الگ اس کا دل زخمی کئے رکھتے ۔۔۔

“تمہارا بہت بہت شکریہ بےبی ۔۔۔۔تم نے میری زندگی مکمل کردی ۔۔۔۔تمہاری وجہ سے میں نے اپنی محبت اپنی بیوی کو پا لیا ۔۔۔۔مجھے یہ پتہ چلا کہ مجھ پر اعتبار اور بھروسہ اس کی لا تعلقی نہیں تھی ۔۔۔وہ ہی تو محبت تھی ۔۔۔۔۔سانس لینے کی گنجائش تو محبت کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔اور میں اسے دوری سمجھتا رہا ۔۔۔”

جہانگیر اپنی بیوی کو لئے ورلڈ ٹوور پر جا چکا تھا وہ بےبی کو ہر طرح سے بلاک کر چکا تھا ۔۔۔وہ اپنی کھوئی زندگی دوبارہ سے جینا چاہتا تھا اپنی سعدیہ ۔۔۔اپنی محرم کے ساتھ ۔۔۔۔۔

۔**********

عاشر مسلسل کومہ میں تھا مگر وہ کہتے ہیں نا جسے اللّه رکھے اسے کون چھکے ۔۔۔

ایک ایسا دن آیا تھا اللّه نے اسے اس آنے والے بچے کی خاطر ۔۔۔۔۔یا شاید یہ سحر کا اپنے رب پر بھروسہ تھا جو اللّه نے اسے دوبارہ سے اپنی پرانی زندگی لوٹا دی تھی ۔۔۔۔

وہ ہوش کی دنیا میں قدم میں رکھ چکا تھا اپنی اصل یاد داشت کے ساتھ ۔۔۔

ہوش میں آتے ہی وہ اپنی ماں سے ایک ایک بات کا حساب لینے اٹھا تھا مگر حساب تو میرا رب لے چکا تھا وہ بھی سود سمیت وہ مسلسل نیند کی گولیوں کے استعمال کی وجہ سے اپنی ذات تک کو فراموش کر چکی تھی ۔۔۔

“عاشر ۔۔۔۔تم اٹھ گئے ۔۔۔۔اب پلیز سب کچھ میرے نام کردو ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔پہلے جہانگیر کو بلا دو ۔۔۔۔وہ مجھ سے بات نہیں کرتا ۔۔ اسے کہو میں راضی ہوں ۔۔۔۔میں راضی ہوں اس سے نکاح کے لئے ۔۔۔۔مجھے یو اکیلا مت چھوڑے ۔۔۔۔۔سحر کی بد دعا لگی ہے مجھے وہ بہت بری ہے ۔۔۔ مجھے برا بھلا کہتی ہے وہ اپنے اللّه سے ۔۔۔۔۔۔”

بےبی شکل سے پاگل لگ رہی تھی وہ بےبی جو فیشن کی دنیا میں اپنے پہناؤے سے جانی جاتی تھی اب وہ ایک عمر رسيده بڑھیا لگ رہی تھی جیسے اپنا منہ دھونے کا بھی ہوش نہیں تھا ۔۔۔۔

زين نے اس کی دیکھ بھال کے لئے ایک لڑکی رکھی ہوئی تھی مگر جب مالک اپنے ہواسوں میں نا رہیں پھر دل سے کام کون کرتا ہے ۔۔۔۔اللّه کا ڈر ہر کسی کو نصیب نہیں ہوا کرتا ۔۔۔

عاشر نے ہوش میں آتے ہی ماں کو اچھے پاگلوں کے ہسپتال میں داخل کروایا تھا جہاں ان کی دیکھ بھال اچھے سے ہو سکے ۔۔۔

مگر وہ اچھا اور مہنگا ہسپتال بےبی کو اچھی صحت دینے سے قاصر تھا ۔۔۔

صحت تو رب کی دين ہے ۔۔۔۔۔وہ پیسوں سے خریدی نہیں جا سکتی ۔۔۔یا اللّه تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے اس تقسيم پر ورنہ فقط غریب ہی مرتے ۔۔۔۔

بےبی کو زیادہ دیر تک نشہ دے کر رکھا جانے لگا تھا کیوں کہ وہ اب مار کٹائی پر آگئی تھی ۔۔۔۔

عاشر کافی بار پاکستان جانے کا ارادہ کرتا مگر کوئی ایسا کام نکل آتا کہ وہ ارادہ ملتوی ہو جاتا ۔۔۔وہ سحر سے کال پر بات کرنے کی ہمت نہیں جوڑ پایا تھا اسے سحر کو کھو دینے کا ڈر تھا وہ وہاں جا کر ہی اس سے ملنا چاہتا تھا ۔۔۔

بس ابھی اللّه کا حکم نہیں ہوا تھا ۔۔۔

. *************,,,,,,

کچھ مہینے بعد ۔۔۔۔۔۔

*بیٹا بارش بہت تیز ہے اوپر سے کچا راستہ ۔۔ ہم ہسپتال کیسے پہنچیں گے ؟؟؟؟”

“اللّه خیر کرے گا ۔۔ عنایا تم جلدی سحر کو گاڑی میں بیٹھاؤ ۔۔۔”

سیف کو زبیدہ بيگم کا فون آیا تھا جنہوں نے اس سے اس خراب موسم میں عنایا کو جلدی میں لے جانے کی وجہ پوچھی تھی

“امی ۔۔۔وہ گارمینٹس فیکٹری والی آپا ہیں نہ جن کے ساتھ کام کرتا ہوں ان کی بیٹی کی زچگی کا وقت آگیا ہے ۔۔۔بس اسی لئے آپ کی بہو کو ساتھ لے آیا آپ کو بتائے بغیر ۔۔۔فکر مت کریں زندہ سالم لے آؤں گا ۔۔۔۔”

“بیٹا ۔۔۔تم تو جانتے ہو اس کے شروع شروع کے مہینے ہیں ۔۔۔بس اس لئے ۔۔۔تھوڑا ڈر گئی میں ۔۔۔احتیاط ضروری ہے ۔۔۔”

“اچھا امی آتا ہوں یہ مسلہ حل کر کے ۔۔”

عنایا سحر کو پکڑے ایک ہاتھ میں چھتری پکڑے تیز طوفانی بارش میں گاڑی میں بیٹھا رہی تھی ۔۔۔

عقیلہ بيگم اور عنایا سحر کا ہاتھ پکڑ کر اسے لیٹا چکی تھیں

وہ تکلیف سے مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔

ابھی آدھا راستہ ہی طے ہوا ہوگا سیف کی گاڑی کے آگے کوئی گاڑی کھڑی ہوئی تھی جس پر سیف کو شدید پریشانی ہوئی تھی کیوں کہ گاؤں کی اس کچی سڑک میں ایک ساتھ دو گاڑیوں کا گزرنا ممکن نہیں تھا اوپر سے تیز ہوا اور تیز بارش نے شور مچا رکھا تھا

دوسری طرف سحر درد سے چلانے لگی تھی اس کے كپڑوں پر خون لگنے لگا تھا عقیلہ بيگم اور عنایا نے اسے سنبهالنے کی پوری کوشش شروع کر دی تھی تیز بارش کی وجہ سے سیف کو گاڑی سے اتارنا بھی مسئلہ تھا آخر اس آنے والی گاڑی کو دیکھ کر عنایا نے سیف کو اس میں بیٹھنے کو کہا تھا وہ چھتری لئے گاڑی سے اترا تھا

“سب ٹھیک تھا مگر بچہ نیچے نہیں آ رہا تھا سحر نےہمت ہار دی تھی ۔۔۔وہ عاشر کا نام لئے مسلسل رو رہی تھی۔۔۔۔”

“بیٹا تھوڑی سی ہمت بس ۔۔۔۔۔ایسے مت کرو ۔۔۔تمہارے عاشر کی اولاد ۔۔۔

“کچھ ہو گیا تو کیا کہو گی اسے ؟؟؟”

“امی نہیں ہوتی مجھ سے ہمت ۔۔۔۔۔اور ہمت نہیں ہے مجھ میں ۔۔۔آپ نے کہا تھا بچہ آنے تک وہ میرے پاس ہوگا ۔۔۔سب سے پہلے وہ ہی میرا بچہ اٹھائے گا ۔۔۔اب ۔۔۔۔اب ۔۔۔۔کہاں ہیں وہ ؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ درد سے چیخ کر بولی تھی جس سے تھوڑی مدد ہوئی تھی

سحر کی آنکھیں تکلیف اور دکھ سے بند ہونے لگی تھیں

“آنٹی ان کا ہوش میں رہنا بہت ضروری ہے ان کو ہوش میں لائیں…”

عنایا نے اس کے ہاتھ پاؤں ملنا شروع کئے تھے وہ خود بھی رونے لگی تھی ایک دم گاڑی کا دروازہ کھلا تھا کوئی اندر آکر سحر کے چہرے کے پاس بیٹھا تھا وہ جو بھی تھا اس کی آواز سحر کے لئے دوا بنی تھی سحر نے آنکھیں کھول دی تھیں ۔۔۔وہ رونے لگی تھی ۔۔۔خوشی سے ۔۔۔۔سکون سے ۔۔۔۔۔اور پھر ایک ننھےے وجود کے رونے کی آواز نے تیز بارش میں اپنی آمد کا بتایا تھا ۔۔۔۔

اس ننھے وجود کو اس شخص کو تهما دیا گیا تھا

“ہمارا بیٹا سحر ۔۔۔۔۔۔تمہارا بیٹا ۔۔۔۔۔”

“عاشر ۔۔۔۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں ۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔آپ کا ۔۔۔۔بیٹا ہے ۔۔۔۔”

سحر نے سوجی آنکھوں سےعاشر کے ہاتھ پر ہاتھ ركهتے ہوۓ نم آنکھوں سے کہا تھا ۔۔۔

الحمدللّٰه۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عاشر نے سحر کے آنسو صاف کرتے ہوۓ روتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔۔

وہ سحر پر جھک گیا تھا دونوں کی آنکھیں تیز بارش کے ساتھ آج آخری بار برسی تھیں ۔۔۔۔

عنایا عقیلہ بيگم کو مبارک باد دے گاڑی سے باہر آئی تھی بارش تھم چکی تھی ۔۔۔سیف عاشر کی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا

عنایا سیف کے گلے لگ کر سحر اور عاشر کے ملن پر رونے لگی تھی ۔۔۔سیف نے اسے خود سے الگ کیا تھا

“ارے کیا ہو گیا ہے بندہ جگہ تو دیکھ لیتا ہے ۔۔۔اب اگر ایک نہایت ہی ہینڈسم بندہ تمہارا شوہر ہے تو اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ تم سب کے سامنے روڈ پر ہی ۔۔۔۔۔”

“I love you saif”

“مگر آپ بہت برے ہیں ۔۔۔۔”

عنایا سیف کے سینے پر مکا مار کر دوبارہ گلے لگی تھی ۔۔۔۔

اس تیز بارش نے عنایا سیف،عاشر اور سحرکے تمام غم دھو دیئے تھے ۔۔۔۔

وہ سب اپنے اپنے کڑے امتحان میں پاس ہوۓ تھے ۔۔۔۔

سب خوش تھے ۔۔۔۔اللّه سب کو خوش رکھے ۔۔۔۔امین ۔۔۔