Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 12
Rate this Novel
Imtehaan Episode 12
سحر کو گیٹ پر اتار کر اندر جانے کا اشارہ کر کے زين اپنے گھر کی طرف گیا تھا جو اسی لائن میں پانچواں گھر تھا
سحر بيل دے کر دو بیگز لئے کھڑی تھی جب ایک خاص یونیفارم پہنے ایک سرخ و سفید ادھیڑ عمر کا صحت مند آدمی باہر نکلا سر پر خاص سکھوں والی پگڑی باندھے ۔۔۔
“سسری کار ۔۔۔بیٹا جی تسی عاشر صاحب دی کر عالی او ؟؟؟”
“جی چچا ۔۔۔فرام پاکستان ۔۔۔”
“آجا میرا پتر ۔۔۔”
وہ بہت پیار سے سحر کے سر پر ہاتھ رکھ کر سامان اندر لے کر گیا تھا
“باجی تاں گھر ویچ نئی اے سحر پتر ۔۔۔۔میں اس گھر دا گارڈ واں ۔۔۔جد دا مینوں پتہ چلیا تسی پاکستان چوں آرے او دل خوش ہوگیا سی میرا ۔۔۔۔پاکستان تے انڈیا دواں ویچ میری روح وسدی اے ۔۔۔۔”
سحر کو ان کی باتوں اور محبت سے اپنی اپنی سی خوشبو آئی تھی وہ دلچسپی سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی جب ایک لڑکی خاص ڈریس پہنے ادھر آئی تھی
“Hey Mr.khan why are you wasting her time let her to come in side we have short time to get her ready”
وہ خاص برٹش لہجے میں بولی تھی وہ حلیہ سے پیشہ ور میک اپ آرٹسٹ لگ رہی تھی
“پتر ایدے کول ذرا میری خوشی برداشت نہی ہندی فوراً آ جاندی اے انگلش ٹھوکن ۔۔۔”
مسٹر خان بد مزہ ہوۓ تھے
“Come along with me mam this way ….”
وہ ایک طرف کمرے کی طرف اشارہ کر کے بولی تھی سحر نے مسٹر خان کی طرف دیکھا تھا
“جا پتر میں اپنی تی دا لگیج آپ دے کمرے میں رکھ دیتا ہوں آپ جاؤ اس گوری جل ككڑی کے ساتھ”
سحر لمبی سانس لے کر اس لڑکی کے ہمراہ چل دی تھی پورا گھر خوبصورت انداز میں سجايا گیا تھا چھوٹا سا لان جو ہر طرح کے پھولوں سے مزين تھا اب تک جس جس جگہ نظر پڑی تھی سحر دل ہی دل میں بےبی آنٹی کی معترف ہوئی تھی
وہ لڑکی ایک بڑے کمرے میں اسے لے آئی تھی جہاں بڑی بڑی الماریاں تھیں اس کے علاوہ بھی نفاست سے کچھ كپڑے موو ایبل هینگر اسٹینڈ میں لٹکے ہوۓ تھے اس نے سحر کو عبایا اتارنے کا اشارہ کیا تھا اور واش روم میں جا کر نہانے کا کہا تھا جس پر سحر عمل کر کے باہر آئی تھی وہ وضو بھی کر کے نکلی تھی مگر کس نماز کا وقت ہوگا اس وقت یہاں وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی سحر قمیض شلوار میں ملبوس تھی اور برقعے کا سٹالر حجاب کی طرح سر کے گرد گھومايا ہوا تھا اس کے شفاف معصوم چہرے پر وضو کے قطرے گلابی گلاب پر پڑی اوس کی طرح جگمگا رہے تھے وہ لڑکی اس کو دیکھتے ہی بے اختیار بول اٹھی تھی
“یو ار سو بیوٹیفل مسز عاشر”
“مائی نيم از ڈیزی اینڈ آئی آم ہیر فور یور میک اوور”
(میرا نام ڈیزی ہے اور میں تمہارا بناؤ سنگھار کروں گی)
سحر کو اس نے سفيد ٹیل والی فراک پہن کر آنے کو کہا جو بلکل ویسی ہی تھی جیسے انگریز لڑکیاں اپنی شادی کی خاص تقریب میں پہنتی ہیں اس کا بڑا گلا عریانیت کا منہ بولتا ثبوت تھا سحر نے اسے دیکھتے ہی پہننے سے انکار کیا تھا جس پر اس ڈیزی نے اسے عاشر کا بتایا تھا کہ ان کی طرف سے یہ ڈریس پہننے کی خاص ہدایت کی گئی ہے جس پر سحر کو ماں کی نصیحت کان میں سنائی دی تھی
(مرد ضدی بچے کی طرح ہوتا ہے ۔۔۔)
وہ سانس کھینچ کر بے دلی سے وہ ڈریس پہننے چینج روم میں گئی تھی جہاں بڑا سا شیشہ لگایا گیا تھا خود کو اس ڈریس میں دیکھ کر سحر کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آئے تھے وہ اپنے سٹالر سے خود کو اچھی طرح چھپا کر باہر آئی تھی اس کے خوبصورت کالے کمر سے نیچے آتے گیلے بال اور اس پریوں والے سفيد لباس میں وہ کسی کہانی کی پری کا کردار لگ رہی تھی ڈیزی اس کو مسلسل بنا کچھ بولے دیکھ رہی تھی جس پر سحر کا دل ڈوبا تھا اور اسے اسلام میں عورت کے عورت سے بھی پردے(ستر) کی وجہ سمجھ آئی تھی
سحر اس خاص چیئر پر آ کر بیٹھی تھی جدهر اسے سجايا جانا تھا
ڈیزی اسے تیزی سے ماہرانہ انداز سے ميک اپ پروڈکٹس لگاتی چلی گئی وہ آنکھیں بند کیئے اس تکلیف ده مرحلے کے اختتام کی منتظر تھی لگ بھگ پندرہ منٹ کے بعد ڈیزی کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولی تھیں
“یو ار ڈن مسز عاشر ۔۔۔ہیو آ لک ۔۔۔”
(آپ تیار ہو چکی ہیں مسز عاشر خود پر نظر ڈالیں)
وہ خود کو دیکھ کر حیران تھی اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنی ذات کی یقين دہانی کی تھی وہ حد سے زیادہ حسین لگ رہی تھی اس کے کالے چمک دار بالوں کا استعمال ڈیزی نے بہت خوبصورت ہیئر سٹائل بناکر کیا تھا سحر خود کو دیکھ کر اپنے ہی سحر میں جکڑ گئی تھی ۔۔۔
ڈیزی سحر کو اس کے کمرے کے دروازے تک لے کر گئی تھی وہ اس کا ہاتھ پکڑے ہوۓ تھی کیوں کہ اس کا ڈریس بہت بھاری لگ رہا تھا پیچھے موجود لمبی ٹیل کی وجہ سے ۔۔۔
This was my limit Mrs Ashir now go inside this is Mr Ashir’s bed room”
ڈیزی نے عجیب سے انداز میں سحر کا ہاتھ مَسلا تھا جو سحر کو بہت معیوب اور نامناسب محسوس ہوا تھا وہ دروازہ کھول کر اندر گئی تھی اس کے اندر جاتے ہی کمرہ خود سے روشن ہوا
پورا کمرہ سفيد صاف پردوں سے سجايا گیا تھا جو کسی خواب کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔
جا بجا سفيد گلاب،موتیاں اور للی کے پھولوں سے کمرہ بھرا پڑا تھا سفيد بیڈ شیٹ کو بھی پھولوں سے بھرا گیا تھا دروازے سے بیڈ تک کا راستہ لال گلاب کی پتیوں سے مزين تھا
سحر حقیقت اور خواب کے درمیان پریشان سی کھڑی تھی جب اس نے اپنے پیچھے بہت پاس کسی کو کھڑا محسوس کیا تھا اس نے فورا پیچھے دیکھا تھا مگر کوئی نہیں تھا وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی بیڈ پر جا بیٹھی تھی بیڈ کے چاروں طرف بھی سفيد پردوں کا گنبد سا بنا ہوا تھا سحر نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں میچ لی تھیں ۔۔
بمشکل کچھ لمحے ہی گزرے ہو ں گے سحر کو اپنے چہرے پر کسی کی تپش محسوس ہوئی تھی اس نے فورا آنکھیں کھولی تھیں
عاشر سفيد ڈھیلی ڈھالی شرٹ اور ٹروائزر پہنے ہاتھ میں سفيد پھولوں کا بوکے لئے وہاں بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا
“عاشر آپ کب آئے ؟؟؟”
سحر کو گویا کرنٹ لگا تھا
“اس نے سحر کو ہاتھ سے پکڑ کر واپس بیٹھایا تھا اور اسے چپ رهنے کا اشارہ کیا تھا
“میں کب سے تمہارا منتظر ہوں سحر بہت انتظار کروایا ہے تم نے آج ۔۔۔۔۔ایک ایک لمحہ کانٹوں پر گزارا ہے میں نے تمہیں دیکھ نہ رہا ہوتا تو شاید یہ انتظار میری جان ہی لے لیتا ۔۔۔”
اس نے ایک پردہ اٹھا کر اشارہ کیا تھا جہاں زين کی گاڑی سے اترنے سے لیکر اس کمرے تک پوھنچنے تک ماسوائے واش روم اور چینج روم کے ہر جگہ کا منظر کیمرہ میں مقید ہو کر سکرین پر دیکھایا جا رہا تھا ۔۔۔
عاشر کی اس جنونی حرکت پر سحر کا سر چکرایا تھا ۔۔۔۔
سحر کیا محسوس کر رہی ہے اس کو نظر انداز کیے عاشر نے سحر کا سٹالر ہٹا کر ہوا میں اچھالا تھا اور اپنے انتظار کے ایک ایک پل کا حساب لینا شروع کیا تھا
سحر کو آج پھر وہ اکثر نظر آنے والا خواب یاد آیا تھا ۔۔۔۔
وہ برف ۔۔۔۔اس کی جلن ۔۔۔۔۔۔
(قسط نمبر ایک میں موجود سحر کا خواب دوبارہ پڑھ لیں اگر سمجھ نہیں آ رہی موجودہ صورت حال کی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرحانہ سیف کو کھانا دے کر پاس آ کر بیٹھی تھی جب زبیدہ بيگم بھی وہاں آئی تھیں وہ فرحانہ سے مخاطب ہوئی تھیں ۔۔۔
“فرحانہ باجی نے کہا ہے کل تمہارے سارے جوڑے تیار ہو جائے گے اب تمہاری باقی کی خریداری کے لئے بازار جائیں گے لسٹ بنا لو بار بار نہیں جایا جاتا مجھ سے وہ اپنی ٹانگیں دباتے ہوۓ کافی تھکی تھکی لگ رہی تھیں
“سیف بیٹا تم بھی بتا دیتے تا کہ تمہاری بیوی کو بھی ساتھ ہی نپٹا لیتی ۔۔۔شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں اور چپ کا روزہ رکھے بیٹھے ہو”
“امی کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا “
وہ کنفیوز لگ رہا تھا اتنے میں اس کا موبائل جو چارج پر تھا بجنا شروع ہوا تھا فرحانہ بھائی کو کھانا کھاتا دیکھ فون لانے اٹھی تھی اس نے بنا کچھ کہے فون سیف کو پکڑایا تھا جس پر شہلا کا نام چمک رہا تھا سیف نے ایک نظر ڈال کر فون آف کر کے رکھا تھا اور فرحانہ کو دوبارہ چارج پر لگانے کا کہا تھا اب وہ دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوا تھا
“سیف بتادے نہ بیٹا ۔۔۔اگر تمہاری نظر میں کوئی نہیں ہے تو مجھے اجازت دے میں بہو خود ڈھونڈ لوں ؟؟؟؟”
“جی امی اجازت ہے آپ کو ۔۔ “
سیف نے سینے پر سے بوجھ اترا محسوس کیا تھا وہ پہلے سے زیادہ پر سکون اب کھانا کھاتا نظر آرہا تھا
“امی شہلا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟؟”
فرحانہ سپاٹ چہرہ لئے سیف کو دیکھتے ہوۓ گویا سیف سے ہی پوچھ رہی تھی جس پر سیف کو ٹھسکا لگا تھا زبیدہ بيگم سیف کو پانی دے کر خوشی سے فرحانہ کی طرف متوجہ ہوئی تھیں
“میرے دل کی بات کردی ہے تم نے فرحانہ ۔۔۔بہت اچھی لگی ہے مجھے شہلا ۔۔۔۔اور ایسا کرنے سے فاریہ کا من بھی اچھا ہو جائے گا ۔۔ بیچاری تمہارے باپ کی ناراضگی کو لیکر پل پل تڑپتی ہے ۔۔۔”
“امی پہلے بھائی سے تو پوچھ لیں”
فرحانہ بغور سیف پر نظر جمائے بولی تھی جس پر سیف پزل ہوا تھا
“امی شہلا کے علاوہ کوئی بھی”
سیف پانی پی کر گلاس زور سے رکھ کر اپنی کڑواہٹ نکال کر بولا تھا جس پر فرحانہ فورا بولی تھی
“کیوں بھائی ؟؟؟؟”مسئلہ کیا ہے شہلا میں ؟؟؟؟”
“مسئلہ کوئی نہیں ۔۔۔۔۔بس دل نہیں ہے میرا”
سیف جانے کے لئے اٹھا تھا جس پر فرحانہ آواز نسبتا بلند کر کے بولی تھی
“صاف صاف بتا دیں نہ امی کو جو آپ کو اس سے چاہئیے تھا بنا نکاح کے ہی مل گیا ہے پھر بیوی بنانے کی کیا ضرورت ہے “
سیف کے پیروں سے زمین سركی تھی
“کیا بکواس ہے یہ ؟؟؟؟”
وہ چیخا تھا
“آواز اپنی نیچی رکھ کر بات کریں بھائی کیوں کہ آج گناہ گار آپ ہیں میں نہیں ۔۔۔”
“چپ کرو تم دونوں کوئی مجھے بھی بتائے گا یہ سب کیا بولا جا رہا ہے ؟؟؟”
زبیدہ بيگم پھولی سانسوں سے دونوں کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کر کے اپنا سینہ سہلاتے پوچھ رہی تھیں
“امی کچھ نہیں ہے ۔۔۔آپا اپنا بدلہ لے رہی ہیں بس آپ فکر مت کریں”
وہ ماں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو تسلی دے رہا تھا
“امی بھائی سے پوچھیں اس رات شہلا ان کے کمرے میں کیا کر رہی تھی ؟؟؟؟”
فرحانہ غصے سے لال ہوئی تھی جس پر زبیدہ بيگم
نے سیف کو دیکھا تھا
“امی وہ خود آئی تھی میں نے نہیں بلايا تھا آپ قسم لے لیں”
سیف شکستہ لہجہ بولا تھا
“اچھا مان لیا وہ خود ہی آئی تھی پھر جو ہوا ؟؟کیا وہ بھی اس اکیلی کی مرضی سے ؟؟؟؟”
اس بات پر سیف خاموش رہا ۔۔۔
“ارے واہ ۔۔۔۔۔۔آپ تو بہت فرشتہ ہیں سیف بھائی ۔۔۔۔۔مطلب ۔۔۔۔آپ کی طرف سے بنا کسی سنگنل کے وہ آپ کے اتنے پاس آئی اور آپ صرف اس کی خاطر وہ سب ۔۔۔۔۔”
“ہاں ۔۔۔وہ اچھی لڑکی نہیں ہے ۔۔۔۔یہی وجہ ہے اس سے شادی سے انکار کی ۔۔۔”
“دیکھیں بھائی آپ اس محبت کے نام پر لڑکی کو بہت سی غلط باتوں کا کہتے ہیں تب وہ کریں تو۔۔۔۔۔ تب بھی وہ ہی غلط اور بد کردار ہیں اور اگر وہ اسی چاہت میں آپ کی قربت چاہے تو بھی وہ ہی خراب اور بری ہیں مطلب آپ ہر صورت ہی پاک دامن ہیں ؟؟؟؟”
“مت دماغ کھاؤ میرا آپی ۔۔۔”
سیف تپ گیا تھا
“مجھ سے معافی چاہی تھی نا آپ نے بھائی ؟؟؟؟
“بھائی اگر آپ کی واقعی کوئی اور پسند نہیں ہے آپ شہلا سے شادی کر لیں ۔۔۔۔مجھے لگے گا ایک اور فرحانہ کو عثمان نے عزت سے اپنا نام دے دیا ہے ۔۔۔میں آپ کو معاف کر دوں گی”
فرحانہ نم آنکھوں سے سیف کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھی سیف اپنی سب سے عزیز بہن کو اس طرح دیکھ کر تڑپا تھا
“امی میں شہلا کے لئے راضی ہوں آپ بات کر لیں”
وہ کہہ کر باہر نکلا تھا
فاریہ کو فون پر زبیدہ بيگم نے اپنے آنے اور مقصد سے آگاہ کیا تھا جس پر وہ خوشی سے جھوم اٹھی تھیں شہلا کی رات سے طبیعت خراب تھی اس کی ناک سے مسلسل بلیڈنگ کی وجہ سے وہ بہت کمزور ہو چکی تھی پیلی زرد بیڈ پر لیٹی وہ اس خبر سے بمشکل خوش ہو پائی تھی ۔۔۔
بہرحال وہ آسودگی سے اب سو گئی تھی اپنے کل کے خوبصورت خواب آنکھوں میں سجائے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج زبیدہ بيگم کے لئے بہت سکون کا دن تھا کیوں کہ وہ اپنے دو بچوں کا فرض ادا کر کے اپنے اللّه اور شوہر کی نظر میں سرخرو ہو چکی تھیں ۔۔۔۔فرحانہ عثمان کی زندگی میں شامل ہو چکی تھی آج بھائی کی بارات میں ہر دیکھنے والے نے اس کے چہرے پر موجود سچی خوشی کو محسوس کیا تھا پوری تقریب میں عثمان پوری دنیا کو فراموش کیئے اسی کے ساتھ باتیں کرتا نظر آیا ۔۔
شہلا عروسی لباس پہنے بہت حسین لگ رہی تھی اپنی سچی محبت کو پالینا اسے خواب کی طرح لگ رہا تھا سیف نے زیادہ انتظار نہیں کروایا تھا وہ ایک خوبصورت مخملی ڈبی اس کی گود میں رکھ کر محبت سے بولا تھا
“شہلا ۔۔۔۔۔۔۔آج تک میری زندگی میں جو جو بھی تھی ۔۔۔۔۔میں اس سب کے لئے بہت شرمندہ ہوں اپنے آپ سے ۔۔۔۔۔۔تم جو بھی پوچھنا چاہتی ہو پوچھ لو آج ہی ۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ زندگی کی کسی موڑ پر میرا ماضی ہمارے حال کو برباد کر دے ۔۔۔۔”
“مجھے کچھ نہیں پوچھنا سیف ۔۔۔۔۔اور نہ ہی کچھ بتانا ہے ۔۔۔ہم آج کے دن اب تک کی زندگی کو فراموش کر کے بس آج کے بعد ہونے والی باتوں کا حساب رکھیں گے ۔۔۔جو ہو گیا وہ آپ نہیں بدل سکتے نہ ہی میں ۔۔۔۔پھر اس کا ذکر بھی کیوں کرنا ۔۔۔۔”
وہ شرما کر بولی تھی سیف کا بوجھ اس نے چٹکیوں میں اتار پھینکا تھا جس پر سیف نے اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے اپنی محبت کی مہر لگائی تھی ۔۔۔۔
آج شیطان بہت برہم ہوا تھا کیوں کہ آج نکاح جیسے خوبصورت رشتے نے اس کے ماننے والے ایک چیلے میں کمی کی تھی ۔۔۔۔
اب اسے اپنا مقصد ان میاں بیوی کی زندگی میں غلط فہمی اور بد گمانی بھر کر پورا کرنا تھا
کہا جاتا ہے شیطان کا سب سے پسندیدہ کام دو لوگوں میں پھوٹ اور فساد ڈالنا ہے مگر اگر یہ دو لوگ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوں پھر تو شیطان کی مانو عید ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
یہ شیطان کبھی ساس،کبھی دیور ،کبھی نند ،کبھی سسر اور جانے کس کس رشتے کا روپ دھارے میاں بیوی میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش ضرور کرتا ہے کمزور سمجھ والے زوجين اس کو اپنے مقصد میں مدد دے کر اس کی خاص فتح کے جشن میں مدد گار بنتے ہیں ۔۔۔۔
یہی کہوں گی ۔۔۔۔۔
“جاگتے رہو ۔۔۔۔۔۔۔۔چور کبھی بھی آ سکتا ہے آپ کی خوشیاں اور سکون لوٹنے ۔۔۔۔”
“اپنی اپنی خوشیوں کی حفاظت آپ کو خود کرنی ہے ۔۔۔”
