Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369

Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Last updated: 15 November 2025

195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan by Jameela Nawab

سیف اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ مینار پاکستان پر لڑکیاں تاڑرنے میں مصروف تھا
ہر آتی جاتی لڑکی کا گویا ایکسرا یا سکین نکالا جارہا تھا وہ سب خاموشی سے ہر عمر ہر لباس حتی کے عبایا پہنے خواتین اور لڑكیوں کو بھی حیوانیت سے بنا پلکیں جھپکاے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
سیف کے دوستوں میں کامران،ندیم،زلفی اور وکیل شامل تھے یہ چاروں شکل و صورت سے مناسب سے تھوڑے نیچے درجے کے تھے سیف ان سب میں کسی ہیرے کی طرح دور سے چمكتاتھا ۔۔۔
مگر چونکہ سیف کی ذہنیت ان جیسی غلیظ تھی یہی واحد وجہ ان سب کو جوڑے ہوئے تھی
ہر گزرنے والی جنس ان سب میں سیف پر نظر ڈال کر گزر رہی تھی شاید ہر بندہ ہی اس کی پرسنلیٹی کو ان لنگوروں میں دیکھ کر حیران ہو رہا تھا وہ بلیو چیک والی شرٹ میں بلیو جینز کے ساتھ خوبصورت گوری رنگت میں دلکش مسكراهٹ لئے وہ ہی سب کر رہا تھا جو اس کے دوست ۔۔۔۔۔
ہر نظر سیف پر آکر رک جاتی جس کا اندازہ اس کے دوستوں کو بخوبی ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ دل ہی دل میں سیف کو مغلظات سے نواز رہے تھے مگر بظاھر دوستی کا لبادہ اوڑھے ہوۓ تھے ۔۔۔
سیف شرما کر چاروں کی طرف دیکھتا جو اسے مسکرا کر اپنے اندر کا زہر دبائے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
"سنیں"
ایک خوبصورت لڑکی سیف سے مخاطب ہوئی تھی
"کون میں ؟؟؟"
سیف نے سر پر ہاتھ پھیر کر کسی فلمی ہیرو کی طرح شوخ ہو کر پوچھا تھا
"جی آپ۔۔۔۔۔کیا ہم بات کر سکتے ہیں ؟؟؟"
وہ لڑکی اس کی طرف ایک چھوٹا سا کاغذ بڑھا کر بولی تھی
"کیوں نہیں ۔۔۔"
کامران نے جھپٹ کر وہ کاغذ لیا تھا
"آپ نہیں بھائی صاحب میں آپ کے ان دوست سے بات کرنا چاہتی ہوں"
اس لڑکی نے وہ پرچی کامران سے واپس لیتے ہوۓ سیف کی طرف بڑھا کر کہا تھا جس پر کامران نے چاروں دوستوں کی طرف باری باری دیکھ کر شرمندگی سے اس لڑکی کو غصے سے دیکھا تھا ۔۔۔
"میں آپ کو فون کروں گا ۔۔۔۔"
سیف نے کامران کو يكسر نظر انداز کر کے لڑکی کو شرارتی نظروں سے دیکھ کر پرچی پر موجود نمبر کو اپنے موبائل میں ڈائل کیا تھا جس کی بیپ اس لڑکی کے پرس سے سنائی دی تھی
"آپ بہت خوبصورت ہیں"
وہ لڑکی ہاتھ سے کال کا اشارہ کر کے جاتے جاتے بولی تھی ۔۔۔۔
"مجھے بھی سینڈ کر سیفی"
چاروں اپنا اپنا موبائل نکال کر یک مشت بولے تھے
"صبر رکھو بھیج رہا ہوں یار"
پانچوں بہت خوش تھے جس مقصد سے لاہور کا رخ کیا تھا وہ پورا ہوا تھا ۔۔۔
"نمبر آگیا نہ سب کے پاس ؟؟؟"
"اب آج پہلے میں فون کروں گا تم لوگ کل کرنا اوکے ؟؟؟"
سیف نے سب کی طرف دیکھا تھا جس کا جواب سب نے ہاتھ کا اشارہ کر کے دیا تھا
"چلو شاہی قلعہ چلتے ہیں اب پھر شالیمار جائیں گے ۔۔۔"