Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 13
Rate this Novel
Imtehaan Episode 13
آج شادی کو ایک مہینہ ہو چکا تھا ابھی تک سب اتنا ہی نارمل تھا جتنا عام طور پر ایک نیا نویلہ جوڑا ہوا کرتا ہے شہلا سیف کو ہر وقت عاشقانہ موڈ میں ملتی جس سے سیف نہال ہو جاتا زبیدہ بيگم اپنے دونوں بچوں کو خوش دیکھ کر ہر وقت اللّه کے حضور سجده ريز رہتیں ۔۔۔
احمد اور باقی تینوں بیٹیاں اسکول کالج گئی ہوئی تھیں جبکہ زبیدہ بيگم سبزی لینے بازار کے لئے نکلیں تھیں شہلا سب کام نپٹا کر ٹی_وی پر کوئی ڈرامہ دیکھنے میں مشغول تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی
“کون ہے باہر ؟؟؟”
شہلا کے پوچھنے پر کوئی جواب نہیں آیا تھا وہ واپس مڑنے کو تھی جب دوبارہ دستک ہوئی تھی اس بار اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی آگے سے ندیم کی آواز آئی تھی
“بھابھی میں ندیم ہوں سیف کا جگری دوست ۔۔ سیف سے کام تھا ان کو بھیج دیں”
شہلا سوچ میں پڑگئی تھی کیوں کہ سیف نے اسی دوست کے ہمراہ کہیں جانے کا بتایا تھا آج ۔۔۔۔
“آپ صبح کے کہاں تھے ندیم بھائی ؟؟؟”
“میں تو سو رہا تھا بھابھی آج سیف کے ساتھ ہمارے چاچے کے پینڈ کی سواری پر ہم نے ساتھ جانا تھا ماہی کے گھر جانے کا بھی پروگرام تھا مگر اس نے مجھ سے رابطہ ہی نہیں کیا نمبر بھی بند آراہا تھا ابھی تک تو وہ چاچا کے گھر روٹی بھی کھا چکا ہوگا ماہی کے ہتھ کی ۔۔۔ مجھے بتایا ہی نہیں ۔۔۔”
وہ افسرده ہوا تھا اور ادھر شہلا کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی اس کی سانس پھول گئی تھی پورا جسم تپنے لگا تھا سر پر پریشر محسوس ہوا تھا لگ رہا تھا ابھی سارا خون ناک کے راستے دماغ سے بہہ نکلے گا ۔۔
وہ بنا کچھ بولے دروازے سے ہٹ گئی تھی جس کا اندازہ شاید ندیم کو ہو چکا تھا وہ شیطان کا کام دوست کا روپ دهارے کر گیا تھا
اب دوبارہ دروازے پر دستک پر شہلا نے بنا پوچھے پورا دروازہ کھولا تھا زبیدہ بيگم راشن اور سبزیوں کی مختلف شاپروں سے لیس تھکی تھکی اندر آئی تھیں آج خلاف معمول شہلا نے نہ شاپر پکڑے تھے اور نہ ہی ان کو پانی دیا تھا وہ شکستہ قدم چلتی ہوئی کمرے کے آگے برآ مدے نما جگہ پر موجود چارپائی پر جا بیٹھی تھی ۔۔
زبیدہ بيگم نے پانی خود پیا شاپر کچن میں رکھے وہ چادر کو تہہ لگاتی شہلا کی پریشانی بھانپ گئیں تھیں
“کیا ہوا ہے شہلا ؟؟؟سب خیریت ہے ؟؟؟کسی کا فون آیا تھا کیا ؟؟؟ایسے کیوں بیٹھی ہو ؟؟؟”
“طبیعت ٹھیک ہے ؟؟؟”
وہ اس کے چہرے پر ہاتھ سے حرارت دیکھ کر بولی تھیں
“مامی سیف کو فون کریں “
وہ ضبط کی انتہاہ لیئے بولی تھی
“کیوں کیا ہوا ہے میری بیٹی ؟؟؟مجھے بات تو بتاؤ۔۔۔”
زبیدہ بيگم پریشانی سے بولی تھیں
“سیف کو فون کریں اور کہیں ابھی کے ابھی گھر واپس آ ئے “
ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا گیا تھا
زبیدہ بيگم نے پریشان ہو کر سیف کا نمبر ملایا تھا جو کہ بند تھا
“بیٹا نمبر بند ہے اس کا تم ایسا کرو میسج کر دو کہ گھر آجائے جیسے ہی دیکھے گا آجائےگا”
“آپ جانتی تھیں آپ کا بیٹا بد کردار ہے پھر بھی میری شادی کر دی اس سے ۔رحم نہیں آیا مجھ پر مامی ؟؟؟؟”
اس نے توپوں کا رخ فلحال زبیدہ بيگم کی طرف کیا تھا جس کے لئے وہ بلکل تیار نہیں تھیں شہلا کی اس بات پر ان کا سر چکرایا تھا
اتنے میں دروازے پر سیف آیا تھا وہ بہت خوش خوش اندر آیا تھا مگر اندر کا منظر دیکھ کر اس کی خوشی ہوا ہوئی تھی
“کیا ہوا ہے امی یہ ایسے کیوں بیٹھی ہے ؟؟”
وہ شہلا کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا تھا جس پر شہلا نے اسے گھور کر دیکھا تھا
“کہاں سے آرہے ہو ؟؟؟؟کھا آئے ہو اپنی ماہی کے ہاتھ کی روٹی ؟؟؟؟؟”
اس بات پر سیف کا رنگ اڑا تھا جس سے شہلا کا شک یقین میں بدلا تھا وہ سیف کا گريبان پکڑ کر چیخی تھی
“ابھی کے ابھی مجھے طلاق دو ۔۔۔۔نہیں رہنا مجھے تم جیسے زانی بد کار مرد کے ساتھ ۔۔۔دو مجھے طلاق”
اس کی آواز مزید بلند ہوئی تھی وہ ماں کی طرف متوجہ ہوا تھا جو بچوں کی طرح کھڑی رو رہی تھیں وہ مسلسل شہلا کا ہاتھ پکڑے اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کررہی تھیں
“امی کون آیا تھا گھر میں ؟؟؟”
“مجھے نہیں پتہ میں بھی ابھی گھر آئی ہوں”
وہ روتے ہوۓ بولی تھیں
“وہ میرا ماضی تھی اور تم نے خود ہی تو کہا تھا ماضی کا کوئی سوال نہیں ہوگا پھر اب کیا ہوا ہے ایسا ؟؟؟؟”
“تم آج بھی مل کر آرہے ہو اس (گالی) سے پھر وہ ماضی تو نا ہوئی نا ؟؟؟؟نمبر کیوں بند تھا ؟؟؟؟”
وہ ہیجانی سی کیفیت میں چیخی تھی
چارج ختم ہے یہ خود دیکھ لو وہ موبائل دکھا رہا تھا اب اور میں تمہارے لئے یہ خرید رہا تھا(جیولری) ادھر بزی تھا آج سواری لے کر نہیں گیا کیوں کہ ندیم سے رابطہ نہیں ہوا اس نے ساتھ جانا تھا سواری سے میرا ڈائریکٹ کوئی رابطہ نہیں تھا لیکن مسئلہ کیا ہے گھر کون آیا تھا ؟؟؟؟”
“بس ابھی کے ابھی مجھے طلاق دو بس مجھے نہیں رہنا”
وہ ماں کا نمبر ملا کر فضول گالی گلوچ کر کے ابو کو لینے آنے کا کہہ رہی تھی جس پر انہوں نے سیف کو فون دینے کا کہا تھا
“بیٹا ہوا کیا ہے ؟؟؟”
سیف نے ساری صورتحال سے ان کو آگاہ کیا تھا جس کے مطابق کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا والی بات تھی ۔۔
فاریہ بيگم نے بیٹی کو آڑے ہاتھوں لیا تھا خیر معاملہ فلحال ٹھنڈا ہو چکا تھا مگر اب یہ سلسلہ ہر دوسرے دن بننے لگا تھا شہلا روز کسی نہ کسی شک کی بنیاد پر سیف سے طلاق کا مطالبہ کرتی خوب تماشا لگاتی اور پھر سے میٹھی ہو جاتی ۔۔۔۔
اب یہ سب روز مرہ روٹین کا حصہ بننے لگا تھا سیف کا زہنی سکون غارت تھا شہلا آئے دن سیف کا ماضی یاد کروا کر اس کا جینا حرام کرتی اور کسی ٹافی کینڈی کی طرح طلاق مانگتی وہ سیف جو اس کو شاید ایک اسی کو سچے دل سے چاہنے لگا تھا دھیرے دھیرے اس کو نفرت اور ناپسند کرنے لگا تھا وہ اپنی مردانگی کی تسکين کے لئے شہلا کو کبھی بھی طلاق نہ دینے کی دھمکی اور کورٹ سے خلاع لینے کا کہتا اب وہ اکثر اس کا تماشا رکوانے کے لئے اس پر ہاتھ بھی اٹھانے لگا تھا جس پر شہلا اس کو اس سے دوگنا مارتی ۔۔۔۔۔۔
زندگی کسی لعنت کی طرح گزر رہی تھی شادی کو آٹھواں مہینہ تھا ۔۔۔
آج کل پھر شہلا بے بنیاد الزام لگا کر اپنی ماں کے گھر جا بیٹھی تھی جہاں اسے اپنے حاملہ ہونے کا پتہ چلا تھا جس پر ماں نے اس پر لعن تان کی تھی
اس نے بھابھی کو اطلاح دے کر سیف کو اسے گھر لے جانے کا کہا تھا زبیدہ بيگم سر کے بل خود ہی بہو کو جا کر واپس لے آئیں تھیں
سیف کو باپ بننے کی جہاں خوشی تھی وہی دوبارہ حسب معمول شہلا کی طرف سے لڑنے کا ڈر بھی تھا کیوں کہ اب وہ اکیلی نہیں تھی ۔۔۔۔
اور جس طرح شہلا لڑائی کے دوران اچھل اچھل کر لڑتی تھی اس سے بچے کو نقصان پہنچ سکتا تھا ۔۔۔
ندیم نے شہلا کے دماغ میں ننھا سا شک اور بے اعتمادی کا جو بیج بویا تھا وہ تناور درخت بن چکا تھا اب اس کی سلگتی چھاؤں میں دونوں کو ساری عمر سلگنا تھا ۔۔۔
یہ ندیم کی لگائی ہوئی آگ تھی يا پھر فریحہ اور ماہی کی آہیں تھیں جن کے لپیٹوں میں سیف کی پوری زندگی آنے والی تھی
شہلا نے اس کے لڑکوں تک سے بات کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی اس کا کہنا تھا اسے سیف پر ہم جنس پرستی کا شک بھی ہے ۔۔۔
وہ ہر بار سیف کی عزت کا جنازہ نکال کر پورے محلے میں اس کی جگ ہسائی کرنے کے بعد جب ٹھنڈی ہو جاتی پھر سیف کو اپنی شدید جنونی محبت کے واسطے دے کر پھر سے نارمل ہو جاتی ۔۔۔
اگر یہ کہا جائے کہ شہلا کو اپنے سمیت کسی کی عزت بے عزتی کی پرواہ نہیں تھی تو یہ کہنا بلکل بجا ہوگا ۔۔۔۔
اس نے ہمیشہ اپنی ماں کو باپ سے پٹنے کے بعد پھر سے روٹین میں آتے دیکھا تھا اس کے لئے یہ سب کرنا بہت عام سی بات بنتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
وہ سیف کے ساتھ ساتھ اب زبیدہ بيگم سے بھی بد تمیزی کرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
قصہ مختصر گھر کا کوئی بھی فرد اس کی زبان کے شر سے محفوظ نہیں تھا ۔۔۔
اس سب میں سب سے زیادہ اس کی اپنی ذات اثر انداز ہو رہی تھی وہ مختلف امراض کا شکار ہونے لگی تھی جس میں ہارمونل ام بیلنس شامل تھا ۔۔۔۔
وہ اکثر بہت خوشی سے ایک کام کرتے کرتے ایک دم ماضی کی کوئی بات سوچ کر مشتعل ہو جاتی اور سیف کی ماں بہن ایک کر دیتی ۔۔۔۔
سیف کا حال اس ملاح کی مانند تھا جیسے اپنی کشتی کو طوفان کی زد سے نکالنے کے لئے دن رات اکیلے ہی چپوں چلانا پڑتا تھا اس کے ہاتھ تهک کے شل ہو چکے تھے ۔۔۔نسیں تن چکی تھیں مگر ۔۔۔۔۔
اس کو ایسا کرنا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اکثر سوچتا غلطی کہاں ہوئی ہے ۔۔۔۔کیا میں نے اپنی شادی سے پہلے کی ساری سچائی شہلا کے گوش گزار کر کے غلط کردیا ہے ؟؟؟؟
يا اس سچائی کا میرے ماضی میں ہونا غلط تھا ؟؟؟
وہ دل اور دماغ کی جنگ میں شب و روز کاٹ رہا تھا زندگی رک سی گئی تھی ۔۔۔۔
شہلا اس پر طرح طرح کے غیر اخلاقی غلیظ الزامات گھر کی سب سے اوپری منزل پر چڑ کر پورے محلے کو سنواتی ۔۔۔
سیف محلے میں ہمیشہ ہر کسی سے پیار محبت سے پیش آیا تھا لوگوں کے بے لوث خدمت کی تھی یہی وجہ تھی کہ ان پر شہلا کی اس حرکت سے کوئی اثر نہیں ہوتا تھا الٹا شہلا ان کی نظر میں لڑاکا اور خود سر مشہور ہو گئی تھی ۔۔۔
شہلا جب اچھی ہوتی تو دل و جان سے سیف پر محبت نچھاور کرتی مگر جب بھی اس پر انگزائیٹی کا اٹیک ہوتا وہ ہر حد پھلانگ کر بد تمیزی کا نیا ریکارڈ بناتی ۔۔۔۔
شاہجہان اپنی بیٹی کی ان حرکتوں میں کبھی فاریہ کبھی شہلا کو خود مگر اکثر وہ سیف کو ہی غلط ٹھہراتا ۔۔۔
دونوں باپ بیٹی شادی سے پہلے جتنے دور تھے اب اتنے ہی قریب آچکے تھے ۔۔۔
زبیدہ بيگم نے بیٹے کو سختی سے تاکید کی تھی کہ وہ ہر حال میں شہلا کو ساتھ رکھے گا اور اسی کے ساتھ مرتے دم تک زندگی گزارے گا ۔۔۔
اس پورے ڈرامے میں اگر کوئی سہی مانو میں تہس نہس ہوا تھا تو وہ زبیدہ بيگم کے گھر کا آرام و سکون تھا ۔۔۔۔
سیف بہت مجبور سا شہلا کی زیادتیاں اور گستاخیاں برداشت کر رہا تھا ۔۔۔
سیف کی پریشانی میں مانو وہ بچہ اس دنیا میں آ کر اضافہ لے کر آنے والا تھا
آخر اس سب کا قصور وار تھا کون ؟؟؟؟
سیف کا ماضی ؟؟؟
شہلا کا کانٹوں دار ماضی ؟؟؟ اس کی وہ تربیت جو ماں باپ کی نفرت اور لڑائی جھگڑوں سے خود ہی ہوئی تھی وہ ؟؟؟؟
یا وہ بیمار تھی ؟؟؟کیا دوسروں کو بلکل غلط اور خود کو ہر لحاظ سے ٹھیک سمجھنا واقعی ایک بیماری ہے ؟؟؟؟
یا زبیدہ بيگم غلط تھیں جن کے نزديک بیٹے کی زندگی کا تماشا بنے رہنا بیٹے کی آبادی تھی ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر کی آنکھ کھلی تھی تو عاشر کو اپنے پاس سوئے پایا تھا باہر اندھیرا تھا جو کہ کھڑکھی سے دیکھا جا سکتا تھا
فجر کا وقت تھا یا تہجد کا وہ پریشان سی بیٹھ گئی تھی عاشر اسے بیٹھا دیکھ کر آنکھیں ملتا ہوا بیٹھ گیا تھا
“کیا بات ہے جانِ من ؟؟؟”
“عاشر نماز ۔۔۔۔پڑھنی ہے مگر کچھ وقت سمجھ سے باہر ہے ۔۔ “
وہ اپنے جوڑے کا دوپٹہ اپنے چہرے کے گرد گھوما کر بولی تھی عاشر نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لیٹایا تھا
“یار نماز تو روز ہی پڑھتی ہو آج کا ہر لمحہ صرف مجھے دو”
سحر نے نرمی سے خود کو عاشر سے الگ کیا تھا وہ مسکرا کر بولنا شروع ہوئی تھی عاشر کے بالوں کو سہلاتے ہوۓ ۔۔
“عاشر ۔۔۔آپ میرے مجاذی خدا ہیں آپ کا حق مجھ پر میرے والدین سے بھی زیادہ ہے مگر جو میرا حقیقی خدا ہے نہ اس کا حق سب سے زیادہ ہے مجھ پر نماز قصدا چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہے ۔۔۔
“اللّه کہتا ہے جس نے اپنی نمازوں کی فکر چھوڑ دی میں نے اس کی فکر چھوڑ دی”
(الفاظ میں فرق ہو سکتا ہے یہ وضاحت اور مفہوم ہے )
اور میں اللّه سے دشمنی نہیں مول لے سکتی ۔۔۔۔آپ پر میرا ہر رشتہ قربان عاشر مگر جو حقوق مجھ پر میرے رب کی طرف سے لاگوں ہیں آپ پلیز اس میں کبھی نہیں آئیں گے ۔۔ پھر جانتے ہیں کیا ہوگا ؟؟؟”
عاشر نے سحر كی طرف سوالیہ انداز سے دیکھا تھا
“پھر میں آپ سے دور ہو جاؤ گی ۔۔۔اور میں ایسا کبھی نہیں چاہتی “
وہ عاشر کا ماتھا چوم کر بولی تھی عاشر کسی چھوٹے بچے کی طرح پہلے خوش اور اداس ہوا تھا
“سحر میں نے آج تک نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھی ۔۔۔تو کیا اللّه کو میری فکر نہیں ہے ؟؟؟اگر ایسا ہے تو مجھے بے پناہ دولت سے کیوں نواز رکھا ہے ؟؟؟میری ہر میٹنگ سکسس فل کیوں جاتی ہے ؟؟؟
اور اگر نماز پڑھنے سے بندہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ مولوی لوگ کوڑی کوڑی کے محتاج کیوں ہوتے ہیں ؟؟؟”
“عاشر مجھے اچھا لگا آپ نے میری بات پر فورا غور کیا اور سوچا ۔۔۔اب آتے ہیں آپ کی بات کی طرف ۔۔۔
عاشر یاد رکھیئے گا کامیابی یا نا کامی کا تعلق محض پیسوں کی ريل پيل یا مفلسی سے نہیں ہوتا ۔۔۔ہر بار اللّه کچھ لے کر نہیں آزماتا کبھی کبھی اس کی طرف سر عطاء کردہ نعمتیں اس سے زیادہ بڑی آزمائش ہوا کرتی ہیں ۔۔۔
اللّه کو ہمارے سجدوں کی قطعأ ضرورت نہیں ہے ۔۔۔اللّه نے نماز ہم پر ہر صورت فرض کی ہے اور آپ اپنی اس کامیاب زندگی میں اس کے حضور پیش ہونے کے لئے چند لمحے نہیں نکال سکتے ۔۔۔۔
آپ کتنے بے بس ہیں ۔۔۔۔ایک فرض عبادت کی توفیق تک اللّه نے آپ کو نہیں دی پھر آپ خود کو کامیاب کیسے کہہ رہے ہیں ؟؟؟
آپ جتنا غریب میری نظر میں کوئی نہیں اس وقت ۔۔۔۔
رہی بات مولوی حضرات کی تو ہمارے نبی حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تو وہ ہستی ہیں جن کے عشق میں اللّه نے اس پورے جہان کو تخلیق کیا ہے لیکن ان کو دنیاوی دولت سے محروم رکھا تھا نہ ہی ان کے دل میں اس کی زرہ برابر چاہ ہی تھی اگر امیری اللّه کی رضا و خوشنودی کی گارنٹی ہوتی تو “آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اس دنیا “کے امیر ترین انسان ہوتے ۔۔۔ وہ بكریاں نہ چراتے چرواہے نہ ہوتے ۔۔۔
عاشر جب آپ کی ہر خواہش بنا اس سے مانگے ہی پوری ہونے لگے سمجھ جاؤ شاید ہم اللّه کی شان میں کوئی گستاخی کر بیٹھے ہیں جو اس نے اپنے حضور جھک کر مانگنے کا شرف بھی چھين لیا ۔۔۔۔
میں نے اکثر لوگوں کو عشق حقیقی میں اللّه کے اتنے قریب ہوتے دیکھا ہے کہ وہ پھر اللّه کو پا لیتے ہیں ۔
“ارے واہ میری بیوی تو پوری استانی ہے،بلکہ مولوانی ہے”
وہ قہقہ لگا کر بولا تھا
“عاشر اپنا موبائل دیں میں نمازوں کے اوقات دیکھ لوں
اچھا یہ لو مجھے 9بجے اٹھا دینا ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے کے بعد باہر جائیں گے گھومنے ۔۔۔”
“عاشر نماز ؟؟؟پلیز آج تو پڑھ لیں آج پہلی صبح ہے ہماری زندگی کی۔۔۔”
وہ نرمی سے بولی تھی
“یار تنگ نہ کرو پڑھ لوں گا ۔۔۔اب سونے دو ۔۔نہیں تو تمہیں بھی ساتھ لیٹا لوں گا ۔۔۔۔زیادہ تنگ کیا تو ۔۔۔۔۔”
وہ کمفرٹر میں خود کو چھپاتے ہوۓ آنکھیں بند کرتے ہوۓ بولا تھا
“جب تک اللّه نہ چاہے ہم اس کے حضور سجده نہیں دے سکتے ۔۔۔۔۔۔۔اصل میں جب تک اللّه ہم سے ملاقات نہ کرنا چاہے انسان اپنی چاہت سےجائے نماز تک کا سفر طے کرنے سے قاصر ہے ۔۔۔”
“اللّه ناراض ہو تو وہ رزق نہیں چھینتا بلکہ سجده کرنے کی توفیق چھين لیتا ہے ۔۔۔ ” عاشر آپ نماز تب تک نہیں پڑھ سکتے جب تک میرا رب نہیں چاہتا ۔۔۔ آپ سے ضرور اللّه کسی بات پر ناراض ہے ۔۔۔”
سحر نے آنکھیں بند کیے عاشر کو دیکھتے ہوۓ سوچا تھا
وہ موبائل کی طرف متوجہ ہوئی تھی جس پر ایک واہیات وال پیپر سکرین پر لگایا گیا تھا اس نے جلدی جلدی نمازوں کی اِنفو لے کر موبائل واپس رکھا تھا اور نماز کی تیاری کے لئیے واش روم کا رخ کیا
ابھی 8بجے تھے سحر کمرے سے باہر ناشتہ دیکھنے نکلی تھی سامنے بےبی آنٹی نائٹی پہنے کافی کا مگ پکڑے سحر کو دیکھ رہی تھیں
سحر گرم جوشی سے ان کی طرف بھاگی تھی اور وہ بے دلی سے گلے لگیں تھیں اور سحر کو اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا سحر کا دل ان کے بے تاثر چہرے سے گھبرا سا گیا تھا
“عقیلہ کیسی ہے ؟؟؟کب آئی ہو ؟؟”
“ٹھیک تھیں امی ۔۔۔آپ کو بہت بہت سلام دعا دے رہی تھیں ۔۔۔کل آئی ہوں ۔۔۔”
سحر نے خوش ہونے کی کوشش کی تھی
“عاشر سو رہا ہوگا ۔۔ 9بجے اٹھے گا یہ کچن ہے ناشتہ بنا لو ۔۔۔ایک انڈا توس میرے لئے بھی بنا دینا ۔۔۔میں ریڈی ہو کر آتی ہوں ہم ساتھ نکلیں گے ۔۔۔اور ہاں مایا بھی آج ناشتہ ہمارے ساتھ کرے گی اس کا بھی ۔۔۔”
وہ ہدایت دے کر فورا جانے کے لئے اٹھی تھیں سحر حیران پریشان سی ان کو دیکھ رہی تھی
“کیا ہوا ؟؟؟اپنے گھر میں بھی تو بناتی ہی تھی نہ ؟؟؟کیا کہا تھا یہ تو خاص توفیق ہوتی ہے عورت کو گھر کا کام کرنا ؟؟؟؟”
“بھول گئی کیا ؟؟؟ اسی بات سے تو میں امپریس ہوئی تھی ۔۔۔اور تم آج یہاں ہو ۔۔۔۔اس دھول مٹی سے نکل کر سیدھا لندن ۔۔۔”
وہ اپنا تیز ناخن سحر کے چہرے پر پھیر کر بولی تھی
“جی آنٹی میں آج بھی یہی کہوں گی ۔۔ “
وہ پختہ لہجے میں بولی تھی اور کچن کا رخ کیا تھا وہ تیزی سے ناشتہ بنا رہی تھی عاشر کچن میں اسے کام کرتا دیکھا چونکا تھا
“ارے میری نئی نویلی بیوی اور کام ؟؟؟چلو چلو چھوڑ دو “
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر کچن سے باہر نکال لایا تھا اسی وقت بےبی ایک حجاب والی لڑکی کے ساتھ وہاں آئی تھی جو عبایا پہنے ہوۓ تھی
“سحر ناشتہ بن گیا ؟؟چلو لگا دو مایا بھی آ گئی ہے ۔۔۔”
سحر نے عاشر کو آنکھوں سے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور ناشتہ لگانے لگی تھی ۔۔
مایا عاشر کے پاس آ کر بیٹھی تھی
“لگتا ہے رات ٹھیک سے نہیں سوئے وہ عاشر کے بال ٹھیک کرتے ہوۓ مد ہوش سی بولی تھی جس پر عاشر نے سحر کی طرف دیکھ کر اس کا ہاتھ پیچھے کیا تھا
سحر نے سب کے آگے کافی کے کپ رکھے اور خود عاشر کے پاس بیٹھ گئی جو محبت سے اسے دیکھ رہا تھا
“ارے عاشر اور مایا ایک کپ میں ہی کافی پیتے ہیں یہ ایک کپ اٹھا لو”
بےبی سحر کو بیٹھتا دیکھ کر فورا بولی تھی
“نہیں ماما اب ایسا نہیں ہوگا اب تو بس عاشر سحر کا ہے ۔۔ اسی کے ساتھ شئر کرے گا اپنا سب ۔۔۔۔”
وہ سحر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولا تھا جس پر بےبی جزبز ہوئی تھیں اور مایا کا موڈ بگڑا تھا
“Come on Ashir don’t be childish”
جو جگہ دوستوں کی ہے وہ بیوی کی تو نہیں ہو سکتی نا ۔۔۔۔”
اس کا انداز اور لباس دونوں ایک دوسرے کے برعکس تھا اس سے پہلے کے عاشر کچھ کہتا سحر نے نرمی سے مایا کو مخاطب کیا تھا
“اسلام میں بیوی کا بہترین دوست اسکا شوہر اور شوہر کا بہترین دوست اس کی بیوی ہے مایا آپی ۔۔۔۔آپ کا جو حلیہ ہے اس سے تو لگ رہا ہے آپ کو اس بات علم پہلے ہی ہوگا ۔۔۔”
سحر نے اپنے لیئے چائے بنائی تھی وہ سِپ لے کر مطمئن سی گویا ہوئی تھی مایا کو یہ بات کانٹے کی طرح چبھی تھی وہ عاشر سے ذرا دور ہو کر بیٹھ گئی تھی
“عاشر تم ایسا کرو مایا کے ساتھ نیو یارک والے پروجیکٹ پر کام شروع کردو ۔۔۔ابھی تم دونوں وہ میٹنگ اٹینڈ کرو میں ذرا مسڑ جے والی میٹنگ کے لئے سنگا پور جانا چا رہی ہوں ۔۔ کل تک واپسی ہے میری ۔۔ “
وہ بیگ اٹھا کر اس مختصر سے تھوڑے زیادہ لباس میں باہر کی طرف نکل گئی تھیں
“Lets go Ashir we are getting late”
مایا بھی اٹھی تھی جس پر عاشراسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہہ کر سحر کی طرف متوجہ ہوا تھا
“سحر آج کام زیادہ ہوگا وہ پروجیکٹ بہت گرینڈ ہے میں رات تک واپس آؤں گا ۔۔۔تمہیں اگر کوئی مسئلہ ہوا تو یہ موبائل لو اس سے خالہ کو بھی کر لینا فون اور زين کو بلوا لینا زیادہ بوریت ہوئی تو ۔۔ “
“وہ آج کل گھر پر ہی ہوتا ہے فارغ ہے ۔۔۔”
“You will definately enjoy his company”
وہ عاشر کی آخری بات پر ششدر ہوئی تھی ۔۔۔
