Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 8
Rate this Novel
Imtehaan Episode 8
سب ابو والے کمرے میں جمع تھے گہری خاموشی لیئے ۔۔۔
بےبی آنٹی نے اس سکوت کو توڑا تھا
“عقیلہ ۔۔۔اگر تمہارا دل نہی ہے یا میرا عاشر پسند نہی ہے تمہیں یا سحر کو تو کوئی بات نہی ہے تم بِلاجھجھک انکار کردو ۔۔۔۔شادی تو کرنی ہی ہے میں نے عاشر کی ۔۔۔ایسے میں، میں سمجھتی ہوں پہلا حق میری سحر کا بنتا ہے ۔۔۔باقی کمی تو جیسے عاشر کو نہی ویسے ہی ماشاءالله میری بیٹی سحر کو بھی نہی ۔۔۔۔۔۔ بس کسی بھی قسم کا پریشر لئے بغیر ۔۔۔جو بھی فیصلہ ہے بتا دو ۔۔۔میری یا میرے بیٹے کی ناراضگی کی پروا مت کرو ۔۔۔۔”
“بےبی ابھی سحر کے سالانہ امتحانات ہونے والے ہیں ایسے میں ۔۔۔۔۔۔۔اور ابھی گھر کے اخراجات کا کوئی بھی مناسب اور مستقل حل نہی نکلا ۔۔۔۔ہم پہلے ہی پریشر میں ہیں ۔۔۔۔ابھی سحر کے ابو کو گئے دن ہی کتنے ہوۓ ہیں ۔۔۔کاشف اور سحر سے ہی تو میری ہمت بندھی ہے ۔۔۔یہ چلی جائے گی تو ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔بہت اکیلی پڑ جاؤں گی “
وہ باقاعدہ رونے لگی تھیں
“سحر کے باپ کی خواہش تھی کہ وہ تعلیم مکمل ہونے سے پہلے اس پر شادی کا بوجھ نہی ڈالیں گے ۔۔۔”
“تمہارے بہت احسانات ہیں مجھ پر بےبی ۔۔۔مگر میں خودغرض بن کر اپنی بیٹی کو ان احسانات کی بَلی نہی چڑھا سکتی ۔۔۔۔”
“عاشر جتنا خوبصورت ۔۔۔۔امیر اور قابل داماد کوئی مجھے مل ہی نہی سکتا ۔۔۔۔میں جانتی ہوں ۔۔۔۔باقی جیسے تم کہو ۔۔۔”
وہ آخری وضاحت دے کر مطمئن سے ہوئیں تھیں
“جہاں تک سحر کے امتحانات کی بات ہے تو وہ دے سکتی ہے ۔۔۔۔تم جب تک چاہو اسے اپنے پاس روکے رکھو۔۔۔۔۔رہی بات تمہارے گھر کے اخراجات کی تو اسی گاؤں میں ایک کارخانہ لگا کر جاؤں گی انڈر گارمینٹس کا ۔۔۔۔جس میں پورے گاؤں کی عورتوں کو روز گار ملے گا ۔۔۔۔اس کارخانے کی نگران تمہیں بنا کر جاؤں گی ۔۔۔۔تمہارے علاوہ کوئی قابل اعتبار نہیں میرے نظر میں ۔۔۔۔جب تک میں اُدھرمطلب لندن میں ہوں تم خود کو اس کا مالک سمجھو ۔۔۔۔تم پڑھی لکھی ہو ۔۔۔پورا سیٹ اپ بہت اچھے سے چلا لوگی ۔۔۔۔مصروفیت کی مصروفیت ۔۔۔اور زبردست آمدن بھی ۔۔۔۔یہ میں تم پر احسان نہی کر رہی ۔۔ میں فیصل آباد ،کراچی میں بھی سیٹ اپ کھڑا کر کے آرہی ہوں ۔۔۔لاہور میں مین سٹی میں کرنا تھا مگر تمہاری آسانی کے لیے ادھر گاؤں میں کرنے کی تیاری میں ہوں ۔۔۔۔۔اگر بھائی زندہ ہوتے تو ۔۔۔۔۔در اصل میں لاہور والا سیٹ اپ ان کو دینے کے اِرادے سے اِدھر آئی تھی ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔خیر جو اللّه کو منظور ۔۔۔”
“خالا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں سحر کو اعلی تعلیم دلواں گا ۔۔۔۔وہاں لندن کی بہترین یونیورسٹی میں اس کا آگے داخلہ کرواں گا ۔۔۔۔”
عاشر منت کرنے والے انداز سے بولا تھا جس پر سحر کا دل زور سے دھڑکا تھا
“آپ بس انکار نہ کریں”
وہ مزید بولا تھا
“عقیلہ ابھی صرف نکاح کر دیتے ہیں ۔۔۔باقی یہ امتحانات سے فارغ ہو لے ۔۔۔۔تب تک عاشر اسے اپنے پاس لندن بلانے کے سركاری دستاویزات بھی تیار کروا لے گا ۔۔۔ٹکٹ بھیج دے گا ۔۔۔۔آپ لوگ ادھر سے جہاز میں بیٹھا دینا ۔۔۔۔آگے ہم ریسیو کر لیں گے ۔۔۔۔”
“بھائی صاحب ہوتے تو اتنا شاندار رشتہ کبھی نہ ٹھکراتے ۔۔۔”
بےبی کا غرور بول رہا تھا اب ۔۔۔۔۔
“بےبی میں دو دن تک بتاتی ہوں”
بےبی نے بظاہر اثبات میں سر کو جنبش دی تھی مگر وہ بیٹے کی حصہ داری میں حیران ہوئی تھی وہ اس رشتے کو فقط اپنی رضامندی سے کر رہی تھیں بیٹے کو بس اطلاع دی تھی ۔۔۔۔جس پر بیٹے نے فورا ہاں کی تھی سو باتوں کی طرح ۔۔۔۔وہ سمجھ رہی تھیں عاشر کے لئے یہ ان عام کاموں میں سے ایک کام ہے جو وہ بنا سوچے ماں کے کہنے پر کر دیا کرتا ہے مگر اب سحر میں اس کی اس حد تک کی دلچسپی حیران کر گئی تھی ۔۔۔۔جو عاشر لندن سے آیا تھا اس کی پسند تو سحر کے بلکل برعکس لڑکياں تھیں ۔۔۔
ایک دن تک عقیلہ نے سحر سے کوئی بات نہی کی وہ اسے سوچنے سمجھنے کا وقت دینا چاہتی تھیں
اگلی رات سحر کاشف کو پڑھا کر سونے لیٹی تھی جب عقیلہ بيگم اس کے پاس آ کر بیٹھی تھیں
“عشاء پڑھ لی سحر ؟؟”
“جی امی ۔۔۔آجائیں بیٹھیں”
سحر جو حجاب اتار کر دوپٹہ سرہانے پر رکھ کر لیٹی تھی ماں کو دیکھ کر دوبارہ دوپٹے سے خود کو ڈھانپا تھا
“سحر بےبی نے میرا ہر خدشہ ختم کر دیا ہے انکار کی کوئی گنجائش نہی چھوڑی ۔۔۔۔اب تم کیا کہتی ہو ؟؟؟”
“امی ۔۔۔مجھے خوشی ہوگی اگر میں آپ کے کسی کام آ سکوں ۔۔۔۔نکاح ،شادی ۔۔۔۔سنت ہے ۔۔۔۔اس کے بغیر ایک بالغ کا جنازہ جائز نہی ۔۔۔اگر وہ صاحبِ حیثیت ہو کر بھی قصداً یہ سنت ادا کیئے بنا اس دنیا سے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔”
“میں نے استخارہ بھی کیا ہے امی”
“اچھا رشتہ ٹھکرانا ۔۔۔۔كُفران نعمت کے مترادف ہے ۔۔۔اور میں اپنے اللّه کو بلکل بھی ناراض نہیں کر سکتی ۔۔۔۔”
“آپ ہاں کر دیں ۔۔۔۔۔مجھے عاشر اپنے جیون ساتھی کی حیثیت سے قبول ہیں ۔۔۔۔”
سحر نے شرما کر ماں کے گرد گلے کا ہار بنا کر کہا تھا
صبح اٹھتے ہی عقیلہ بيگم نے بےبی کو اپنی رضامندی کی نوید سنائی تھی ۔۔۔
ان کا ردعمل امید کے برعکس نارمل تھا وہ پهیكی مسكراهٹ لیئے عاشر کو بتانے گئیں تھیں
“عاشر مان گئی ہیں آپکی خالہ جان”
عاشر گاڑی میں بیٹھا کسی سے فون پر بات کررہا تھا ماں کو آتا دیکھ وہ گاڑی سے باہر آیا تھا
“Yahooo…….”
“Yes…….yes…..”
وه ماں کے گلے لگا تھا
“I love you mama so much…..”
“You are the bestest mom on this whole earth”
“ارے اتنی خوشی ؟؟؟”
“Yes mom i love her so much”
وہ خوشی سے کِھل اٹھا تھا جبکہ نگینہ بيگم کے طوطے اڑے تھے وہ ہکی بکی بیٹے کو خوشی سے اُچھلتا ہوا دیکھ رہیں تھیں وہ کوئی غلطی کر بیٹھی ہیں دل و دماغ میں جنگ چھڑی تھی ۔۔۔۔
سحر کمرے میں کاشف کو لاسٹ پیپر کی تیاری کروا رہی تھی جب عاشر بھاگ کر وہاں آیا تھا
“کاشف میرے بھائی ۔۔۔۔تھوڑی دیر کے لئے باہر جانا مجھے اپنی ہونے والی بيگم میرا مطلب ہے آپ کی آپی سے کچھ بات کرنی ہے”
کاشف نے بہن کو دیکھا تھا جس نے سر کو ہاں میں جنبش دی تھی کاشف کے جانے کے بعد وہ سحر کے بلکل پاس آیا تھا
“سحر تھنک یو سو مچ اپنی زندگی میں مجھے شامل کرنے کے لئے ۔۔ . “
سحر حیا کے رنگ لئے نظریں جھکائے مسکرائی تھی
“سحر ؟؟؟”
“جی عاشر ؟”
“میں آج سے پہلے کبھی اتنا زیادہ خوش نہیں ہوا”
“I swear”
“اللّه آپ کی خوشی کو ہمیشہ قائم رکھے”
“سحر؟؟؟”
“همممم ؟؟”
“Can i …..can I hug you please just for a moment????”
“I want to feel you”
“نو”
اب آپ جائیں پلیز ۔۔۔۔”
“سحر اب تو تم میری ہی ہونے والی ہو ۔۔۔پھر کیا فرق پڑتا ہے پلیز ۔۔۔۔”
وہ اور پاس آیا تھا
سحر بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گئی تھی جس پر عاشر کا منہ غصے سے لال ہوا تھا
کاشف کے آخری پیپر کے دو دن بعد نکاح تھا جس میں عقیلہ بيگم کے میکے سسرال اور گاؤں کے لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا
نکاح کا جوڑا بےبی خود لائی تھی
سحر کام والا آف وائٹ گرارا،ہم رنگ جیولری،سینڈل اور گلاب اور موتیے کے گجرے جبکہ عاشر آف وائٹ کُرتہ،تلے والا ہم رنگ کھُسہ اور کرتے سے ہلکا سا ڈارک ویسٹ کوٹ پہنے ہوۓ تھا
دونوں کو جو بھی دیکھتا دل ہی دل میں اللّه کے بنائے جوڑ کی تعریف کرتا ۔۔۔۔وہ چاند اور چاندنی كی جوڑی تھی ۔۔۔۔ٹکڑ کی خوبصورتی تھی دونوں کی ۔۔۔۔۔سحر کی سادگی کو ان مہنگے کپڑوں میں ان گنت چاند لگے تھے
عاشر بنا کسی کی پروا کئے بے شرموں کی طرح سحر کو بنا پلک جھپکائے گھور رہا تھا جس نے بےبی کو مزید تپایا تھا اس نے دوپٹے میں چھپی سحر کی خوبصورتی کو ایزی لے لیا ہے اس بات کا احساس شدت پکڑرہا تھا
دونوں کو آمنے سامنے ایک دوپٹے کی دوری پر بیٹھا گیا تھا پہلے سحر سے پوچھا گیا تھا اب مولوی صاحب عاشر سے پوچھ رہے تھے
“کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟”
مولوی نے عاشر کو سحر کا شجرہ بتا کر پوچھا تھا
“جی مجھے دل و جان سے ان سے نکاح قبول ہے ۔۔۔”
وہ با آواز بلند بولا تھا جس پر سب نے قہقہ لگایا تھا
تیسری بار پوچھنے پر وہ سحر کے پاس آ کر بیٹھا تھا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر قبول ہے بولا تھا سحر کی سمجھ سے سب باہر تھا بس سمجھ آ رہا تھا تو اتنا کہ اللّه نے ہر تکلیف کا ازالہ عاشر کی صورت کر دیا ہے ۔۔۔۔
جوان لڑكی لڑكوں نے جوش سے چیخ کر جشن منایا تھا ۔۔۔
تقریب ختم ہو چکی تھی عاشر بے چین سا پھر رہا تھا ماں عاشر کا یہ روپ آج پہلی بار دیکھ رہی تھی وہ کل ہی عاشر کو یہاں سے لے کر جانا چاہتی تھی واپس لندن ۔۔۔
“خالہ ۔۔۔سحر سے مل سکتا ہوں ؟؟؟”
اس سے پہلے کہ عقیلہ بيگم کوئی جواب دیتں بےبی وہاں آ پہنچی تھی ۔۔
“نو ۔۔۔عاشر ۔۔۔۔۔نکاح ہوا ہے ۔۔۔ابھی رخصتی تو نہی ہوئی جو آپ اس طرح ۔۔۔۔۔”
“Mama she is my wife…legally ….I can….I can meet her…without anybody’s permission”
وہ دونوں کو دیکھ کر سحر کے کمرے کی طرف گیا تھا بےبی پیچھے گئی تھی
“Stop it ….just stop it ….Ashir”
“عاشر میں نے کل مارننگ کی فلائٹ میں ہماری ٹِکٹس کنفرم کروا لی ہیں ابھی چلو لاہور کے لئے نکلتے ہیں دس بج چکے ہیں ۔۔۔ایک گھنٹہ ہوٹل میں رک کر پھر سیدھا ایئر پورٹ ۔۔۔۔۔چار بجے کی فلائٹ ہے ۔۔۔”
“مما کم از کم مجھ سے پوچھ تو لیتیں ۔۔۔اچھا آپ جائیں میں سحر سے مل کر آتا ہوں آپ گاڑی میں جا کر بیٹھیں سامان بھی رکھتا ہوں میں پھر ۔۔۔”
“سامان رکھ چکی ہوں میں بس تم فورا آؤ میں ادھر ہی کھڑی ہوں”
عاشر نے ماں کو دیکھا پھر اندر کمرے میں چلا گیا جہاں سحر کیسی ملکہ کی طرح بیٹھی گجرے اتار رہی تھی
عاشر بنا کچھ کہے سحر کے پاس گیا سحر کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا اور گلے لگا لیا
“سحر میں واپس جا رہا ہوں تمہارے آخری پیپر کی دن کی ٹکٹ کرواؤں گا بس اور تم سے دور نہی رہ سکتا”
وہ سرگوشیوں میں بول رہا تھا
“Ashir come out we are getting late”
بےبی بيگم کی آواز آئی تھی
عاشر نے سحر کو خود سے الگ کر کے نظر بھر کر اسے دیکھ کر دوبارہ گلے لگایا تھا
“I love you so much sehar”
وہ کہہ کر ایک جھٹکے سے سحر کو خود سے الگ کر کے تیزی سے باہر نکلا تھا
“I love you so much sehar”
یہ الفاظ سحر کی جان نکال گئے تھے ۔۔۔یہ آواز ۔۔۔۔۔یہ الفاظ ۔۔۔۔۔
سحر کو اپنا بارہا بار نظر آنے والا خواب یاد آیا تھا جو آج حقیقت بن کر اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا اس کا سر بھاری ہو رہا تھا اسے ہوش کی دنیا میں رہنے کے لئے بیٹھنا پڑا مگر دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا وہ بیڈ پر گرتی چلی گئی ۔۔۔وہ بیہوش ہو چکی تھی ۔۔۔۔
(جس کو یاد نہی سحر کا خواب وہ پہلی قسط میں وہ خواب دوبارہ پڑھ لے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیف ماں کو گھر چھوڑ کر بھاگ کر ہسپتال گیا تھا وہاں گیٹ میں ہی ندیم اس کا منتظر کھڑا تھا وہ گاڑی پارکنگ میں لگا کر ندیم کو اندر آنے کا اشارہ کر رہا تھا وہ فورا فرنٹ سیٹ پر اس کے ساتھ آ کر بیٹھا تھا
“کیا سین ہے ندیم ؟؟؟”
“معدہ واش کیا ہے ابھی بیہوش ہے ۔۔۔ڈاکٹرز نے خطرے سے باہر قرار دے دیا ہے مگر ساری عمر کی بیماری مول لے لی ہے فریحہ نے تیرے لئے سیف”
“میرے لئے ؟؟؟؟میں نے تو نہی کہا تھا کہ گولیاں پھانک لو ۔۔۔۔حد ہو گئی بھئ جب تک میں اس کا استعمال کرتا رہا وہ خوش تھی جب میں نے مخلص ہو کر صاف بات کردی تو اس کو برا لگ گیا”
“عجیب لڑکیاں ہیں ۔۔۔۔میں لڑکا ہو کر تنگ آگیا ہوں اس محبت ،محبت نام کے کھیل سے مگر ۔۔۔۔ان کی بس نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔آج تک کوئی ایسی لڑکی نہی ملی جسے اپنے والدین سے بھی محبت ہو ۔۔۔خیال ہو ۔۔۔بس دو بول محبت کے سن کر پکے ہوۓ پھل کی طرح سیدھا گود میں ۔۔۔۔۔”
“مطلب اگر میں کہوں کہ مجھے محبت ہے مجھے فلاں فلاں تصویر بھیج دو تو وہ بھیجتی چلی جائے گی ۔۔۔۔۔یہ کیسی محبت ہے ان کی جس میں ان کو اپنے والدین ،اپنے بھائی کی محبت بھول جاتی ہے ؟؟؟؟”
“میں لعنت کے قابل ہوں ۔۔۔۔جیسا میں ہوں ۔۔مگر مجال ہے جو کسی نے مجھے احساس دلایا ہو ۔۔۔بس جی محبت کے نام پر کٹ مرنے کو تیار ہیں ۔۔۔۔ارے نفرت ہے مجھے اس عاشق لڑکی سے ۔۔۔ تُھو ۔۔۔۔”
“اسی انتظار میں تھا کاش کوئی آدم کی حوا ملے گی ۔۔۔جو اپنے نام کا مہفوم جانتی ہو گی ۔۔۔۔مگر افسوس ۔۔۔۔۔محبت ،محبت ،محبت ۔۔۔۔ارے لعنت ہے محبت ۔۔۔۔۔”
“خوف آنے لگا ہے مجھے آج کی لڑکی سے ۔۔۔۔”
“بھائی باپ نے بھی تو محبت میں موبائل دے رکھا ہے نہ ۔۔۔۔سوشل میڈیا ۔۔۔۔۔فیس بک ۔۔۔۔واٹس ایپ ۔۔۔انسٹا ۔۔۔اور پتہ نہی کیا کیا ۔۔۔۔۔وہ دونوں کبھی آپ کی پرائیویسی میں نہی جاتے ۔۔۔۔آپ دن رات کمنٹ میں ہیلو ہائے سے شروع ہونے والے سفر کو ان باكس کے راستے کب واٹس ایپ تک لاتیں ہیں ۔۔۔اور کب لفظ محبت کی مالا جھپتے ہوۓ بد نامی کی کھائی میں گرتی ہو ۔۔۔۔کبھی سوچا باپ اور بھائی نے جو خالص محبت کی تھی وہ اس سب کے بعد کہاں منہ چھپائیں گے ؟؟؟
“کیا وہ پوری عمر عورت ذات پر کبھی یقین کر پائیں گے ؟؟؟؟”
“عورت کی محبت صرف اپنے محرم کے لئے سجتی ہے ۔۔۔۔نہ محرم کے ساتھ وہ محبت محبت کرتی حرافہ لگتی ہے ۔۔۔میں نے ہمیشہ آخری حد پر لا کر یہ امید لگائی تھی کہ اگر فلاں لڑکی انکار کرے گی ۔۔۔تو اسی سے شادی کروں گا ۔۔۔۔مگر افسوس ۔۔۔۔ایک ہفتہ بھی نہیں گزرتا اور بنت حوا ہو گئی مجبور محبت کے نام پر ۔۔۔۔۔”
“جو عزت دے جس نے شادی کرنی ہو وہ اپنے گھر والوں کو بھیجتا ہے ۔۔۔وہ جسم کی نمائش نہی چاہتا ۔۔۔اگر کوئی لڑکی میری محبت میں پاگل ہو کر اتنی کمزور ہو سکتی ہے کہ اپنی عزت تک پامال کرنے کو تیار ہو جائے تو میں ہرگز اس کمزور عورت کو اپنی عزت ۔۔۔اپنی بیوی ۔۔۔اور اپنی نسل کی تربيت کے لئے نہی چن سکتا ۔۔۔”
“سیف بڑا سدھرا سدھرا لگ رہا ہے آج خیر تو ہے ؟؟؟”
ندیم نے لقمہ لگایا تھا
“تنگ آگیا ہوں اس گناہ کی زندگی سے ندیم”
“میں نے رات اسے صاف کہا تھا جس سے گھر والے کہتے ہیں شادی کرلو ۔۔۔۔پھر تمہیں کیا پیغام دینے کو کہہ رہی تھی ؟؟؟”
“کہہ رہی تھی تمہیں جو آج تک تصویرں بھیجی ہیں اس سب کے بعد میں خود کو کسی اور کے قابل نہی سمجھتی ۔۔۔لہذا اگر تم مجھے نہی اپنا سکتے تو میرا مر جانا ہی بنتا ہے ۔۔۔”
ایک اور بات بھی لکھی تھی ٹھہر پڑھ کر سناتا ہوں وہ موبائل سے اب میسج پڑھ کر سنا رہا تھا انداز وہ ہی تھا جیسے ایک کم پڑھا شخص ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہے
“میں نے صرف تم سے ہی محبت کی تھی تمہارے علاوہ اس دل میں کسی کو نہی بسا سکتی ۔۔اور نہ ہی مجھے کوئی چھو سکتا ہے اب اگر یہ حق تمہارے علاوہ کسی کو حاصل ہوگا تو وہ موت ہوگی ۔۔۔”
“مجھے لگا اویں چھوڑ رہی ہے میں موبائل رکھ کے آرام سے کام پر لگ گیا مگر پھر اس کی دوست جو آج کل میری دوست ہے ۔۔۔۔اس کی همسائی رجو ۔۔ ۔۔اس نے بتایا کہ اس کا بھائی اور باپ فریحہ کو ایمبولنس میں ڈال کر لے گئے ہیں ۔۔۔اور وہ مسلسل تیرا نام پکار رہی ہے ۔۔۔بس پھر میں نے تجھے فون گھمایا ۔۔۔”
“یار میں نہی مانتا اس خودغرض محبت کو ۔۔۔”
سیف تھکے لہجے میں بولا تھا
“فریحہ سے ملے گا ؟؟؟
“ہاں میں معافی مانگنا چاہتا ہوں اس کے بھائی اور والد سے چل ۔۔۔”
وہ دونوں وارڈ میں گئے تھے جہاں فریحہ کے سر کی طرف ایک بوڑھا باپ نم آنکھوں سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا جبکہ بھائی اس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ میں سر دیے تڑپ کر رو رہا تھا
“میں سیف ہوں ۔۔۔”
“باپ اور بھائی دونوں نے بے بسی سے سیف کی طرف دیکھا تھا
بھائی سیف کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آنسو صاف کرتا ہوا بولنا شروع ہوا تھا
“تم جو کوئی بھی ہو توں نے اچھا نہی کیا یار ۔۔۔۔میری چھوٹی بہن میری جان ہے ۔۔۔۔یہ اتنی بے وقعت نہی تھی ۔۔۔”
“تم نے شادی نہی تھی کرنی توں سنجيده نہی تھا تو میری شہزادی کو اس حد تک ہی نہ لاتا ۔۔۔میری ماں کے بعد میں نے بیٹیوں كی طرح گود میں اسے پالا ہے ۔۔۔اگر اسے کچھ ہو جاتا ۔۔۔۔میں کیا جواب دیتا اپنی مری ماں کو ؟؟؟”
“مجھے معاف کردیں ۔۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں”
سیف ندامت سے گویا ہوا تھا
“جا معاف کیا تجھے ۔۔۔بس کسی کی بیٹی کو کھلونا بنانے سے پہلے اتنا ضرور سوچا کرو ۔۔۔کسی باپ کا ۔۔ کسی ماں کا ۔۔۔۔کسی بھائی کا دل اور گھر آباد ہے اس بیٹی سے ۔۔۔۔وہ تمہاری نظر میں فالتو ہے مگر کسی کی جینے کی وجہ ہے یہ بیوقوف بنت حوا ۔۔۔”
فریحہ کا بھائی پھوٹ پھوٹ کر رورہا تھا
“تمہاری ماں کے جلدی چلے جانے سے میں بہت اکیلا پڑگیا تھا ۔۔۔۔بس میں نے بھی کسی کی بیٹی کو اس حال تک پہنچایا تھا اسی کا حساب چکایا ہےمیری فریحہ نے ۔۔۔۔”
“اللّه ۔۔۔۔۔یہ میرا گناہ تھا سزا بھی مجھے ہی دیتا ۔۔۔میری معصوم بیٹی ۔۔۔”
فریحہ کا باپ نیچے بیٹھ کر بچوں کی طرح بین کرتا ہوا رو رہا تھا
سیف کا دل بند ہونے کو تھا وہ وہاں سے بھاگ کر کینٹین گیا تھا ایک پانی کی بوتل خرید کر دو گھونٹ پی کر باقی اپنے اوپر گراتا چلا گیا ۔۔۔۔
وہ بری طرح خوف زدہ ہوا تھا ۔۔۔۔یہ ڈر قسمت والوں کو لگتا ہے ۔۔۔۔یہ ڈر تو خدا کی لاٹھی کا ڈر تھا جو اللّه ہر کسی کو نہی نوازتا ۔۔۔۔
