Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 16
Rate this Novel
Imtehaan Episode 16
فریحہ کے ابدی وصال کو تیسرا دن تھا گھر کا ماحول نارمل ہو چکا تھا اس دن سے شہلا نے سیف کے ساتھ کوئی جگھڑا نہیں کیا تھا شاید اس کے آخری آخری دن تھے طبیعت ہر وقت خراب رہنے لگی تھی شام کا وقت تھا وہ درد سے رونے لگی تھی
سیف زبیدہ بيگم کو ساتھ لئے ہسپتال بھاگا تھا
زبیدہ بيگم نرس سے جائے نماز لے کر اس پر بیٹھ گئی تھیں وہ مسلسل اپنی نسل اور بہو کے لئے حاجت کے نوافل اور دعائیں مانگ رہی تھیں شہلا کی ماں فاریہ اور شاہجہان بھی ہسپتال پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔
تین گھنٹے مسلسل شہلا نے آسمان اور زمین کے درمیان میں گزارے تھے اس ان دیکھی اولاد کے لئے جو بہت آرام سے کہتی ہے آپ نے اور ابو نے میرے لئے آخر کیا ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔
“سب والدین اپنی اولاد کی خاطر یہ سب کرتے ہیں آپ نے کوئی آنوکھا کام نہیں کر دیا امی جی جو اب جتا رہی ہو ۔۔”
کتنا آسان ہوتا ہے اولاد کے لئے محظ زبان کو جنبش دے کر والدین کو چپ کروانا ۔۔۔۔جب ایک عورت ماں بننے کے قدرتی عمل سے گزر رہی ہوتی ہے تب وہ اس تفریق سے بلاتر ہوتی ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کیا ہے اور وہ میرے کس کام آئے گا ۔۔۔۔۔مگر افسوس وہ ہی ماں اسی اولاد کی زبان کے نشروں سے تكيہ بھگوتی ہے بعد میں ۔۔۔
آخر معصوم سے بچے کی رونے کی آواز آئی تھی ۔۔۔نرس بچہ لے کر باہر آئی تھی سیف فورا اس کی طرف لپكا تھا
“مبارک ہو اللّه نے آپ کو اپنی رحمت سے نوازا ہے”
وہ بچہ سیف کی گود میں دے کر بولی تھی
“بیٹا میری بہو کیسی ہے وہ ٹھیک ہے نہ ؟؟؟”
زبیدہ بيگم نے جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے پوچھا تھا
“وہ ٹھیک ہیں فلحال سو رہی ہیں تھوڑی دیر میں وارڈ میں شفٹ کر دے گے”
زبیدہ بيگم نے تشکر کا سجدہ ادا کيا تھا
نرس بتا کر مڑنے کو تھی سیف نے اسے روکا تھا یہ آپ رکھ لیں سیف نے ہزار ہزار کے دو نوٹ اس کی طرف بڑھائے تھے
“ارے واہ آپ پہلے ہیں کم از کم میری سروس میں جو بیٹی کی پیدائش پر بن مانگے اتنے پیسے دے رہے ہیں اللّه آپ کو بہت دے ۔۔۔”
وہ خوش ہو کر دل سے بولی تھی اس کے جانے کے بعد سیف نے اپنی بیٹی کے چہرے سے لحاف ہٹا کر اس کا معصوم چہرہ دیکھا تھا زبیدہ بيگم اور شہلا کے والدین بھی اس کے پاس کھڑے ہوۓ تھے ۔۔
اپنی بیٹی کی صورت میں سیف کو فریحہ کا چہرہ نظر آیا تھا ۔۔۔۔وہ بچی کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا ۔۔۔
“سیف ایسے خوشی كو موقعے پر روتے نہیں ہیں بدشگونی ہوتی ہے”
زبیدہ بيگم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ سیف کو کہا تھا
“امی وہ بھی تو ایسے ہی کسی باپ کے جگر گوشہ تھی جو میں پامال کرتا رہا”
سیف نے دل ہی دل میں ماں کو بچی گود میں دیتے ہوۓ کہا تھا وہ اٹھ کر باہر آ گیا تھا وہ فورا مسجد جا کے نوافل ادا کرنا چاہتا تھا
سب ٹھیک تھا ہسپتال والوں نے اگلے دن ہی شہلا کو گھر بھیج دیا تھا وہ بیٹی کی پیدائش پر کچھ خاص خوش نہیں تھی کیوں کہ وہ اپنی پہلی اولاد بیٹا چاہتی تھی وہ بات بات پر بلا وجہ چیخنے لگتی کسی نہ کسی کے ساتھ بد تمیزی کرتی اور چند لمحوں میں گھر کا ماحول بد مزہ ہو جاتا ۔۔۔
سیف کی بہنیں اور بھائی بچی کو گود میں لیتے تو شہلا ان کو باتیں سنانے لگتی ۔۔۔کوئی بھی ٹھیک سے اپنی خوشی محسوس نہیں کر پا رہا تھا ۔۔
فرحانہ کے خود آخری دن چل رہے تھے اسے ڈاکٹر نے سفر سے منع کیا تھا سیف نے فون پر ہی اسے بچی کا دیدار کروایا تھا ۔۔۔
بچی کے سارے کام زبیدہ بيگم کرتیں ۔۔۔شہلا مکمل ریسٹ پر تھی اسے صرف بچی کو رونے پر اٹھا کر دودھ دینا ہوتا تھا جو وہ سیف پر احسان جتا کر پلاتی ۔۔۔
“بیٹا آپ دونوں نے ابھی تک میری شہزادی کا نام نہیں سوچا ؟؟؟”
زبیدہ بیگم نے پیار سے کہا تھا جس پر سیف نے شہلا کی طرف دیکھا تھا وہ منہ بنا کر بولی تھی
“آپ لوگ رکھ لو نام ۔۔۔۔میں اپنے بیٹے کا خود رکھوں گی ۔۔۔”
“فریحہ ۔۔۔”
امی میں فریحہ نام رکھنا چاہتا ہوں اپنی بیٹی کا شاید میرا درد کم ہو جائے ۔۔۔وہ بھرائی آواز میں بولا تھا
“بہت پیرا نام ہے سیفی۔۔۔فریحہ سیف “
زبیدہ بيگم بیٹے کے آنسو پونچھ کر چہرے پر پیار کر کے بولی تھیں
“واہ ۔۔۔۔بھئی ۔۔۔کیا انڈر اسٹینڈنگ ہے ماں بیٹے کی واہ ۔۔۔۔”
شہلا بدتمیزی سے بولنا شروع ہوئی تھی
“سیف کمال ہو تم ۔۔۔۔جو نام اپنے نام کے ساتھ جیتے جی نا جوڑ پائے اب جوڑو گے ؟؟؟؟اس حرافہ ،بد چلن کا نام اپنے ساتھ ؟؟؟؟ تم روز اس (گالی) کی یاد میں رو کر دیکھاؤ گے میں برداشت کروں گی اور اب بیٹی کے نام کے بہانے قبر بناؤ گے تم اس کی اس گھر میں ؟؟؟؟”
“نا ۔۔۔۔۔نا ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ہر ۔۔۔۔گز ۔۔۔نہیں ۔۔۔ “
وہ اپنے بال نوچ کر بولی تھی
“میں خون پی جاؤں گی تمہارا اور تمہاری اس بیٹی کا شہلا نام ہے میرا ۔۔۔”
“خبر دار جو میری بیٹی کو ہاتھ بھی لگایا میں یہ بھول جاؤں گا کہ تم ابھی بیمار ہو ۔۔۔اور رہی بات نام کی تو میں یہی رکھوں گا تم چاہے آگ لگا لو خود کومیری بلا سے”
وہ سوئی بچی کو اٹھا کر اپنی گود میں لے کر بولا تھا
“سیف مجھے انتہائی قدم پر مجبور مت کرو میں جان لے لوں گی تم دونوں کے ساتھ ساتھ اپنی بھی”
وہ کچن میں جانے کے لئے اٹھی تھی مگر كمزوری کی وجہ سے سر پکڑ کر واپس بیٹھ گئی تھی
“یاد رکھنا شہلا میری بیٹی پر میں کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کروں گا میں زندہ دفنا دوں گا تمہیں”
وہ بھی سیف تھا چپ رہنا سیکھا کہاں تھا اس نے، زبیدہ بيگم نے اپنی منجلی بیٹی کو بلا کر بچی اسے پکڑائی تھی
“ارے ماں باپ بن گئے ہو تم دونوں اب تو یہ بچپنا چھوڑ دو خدا کے لئے ۔۔۔ایسا ہی چلتا رہا تو یہ بچی پاگل ہو جائے گی ۔۔۔اس معصوم جان پر رحم کرو “
زبیدہ بيگم روتے روتے ہاتھ جوڑ کر بولی تھیں ۔۔۔
“غلطی آپ کے اس بد کردار بیٹے کی ہے جو میری بیٹی کا نام اپنی محبوبہ کے نام پر رکھ رہا ہے اور آپ دونوں کو واسطے دے رہی ہیں ؟؟ آپ جیسی خود غرض عورت میں نے آج تک نہیں دیکھی”
“بند کرو اپنی بکواس اور خبر دار جو آیندہ میری ماں کو اس طرح کچھ بولا ہو تو اسی کے دم پر ابھی تک تم بسی ہوئی ہو ۔۔۔میں منہ توڑ دوں گا تمہارا”
“میں تم سب کو دیکھ لوں گی ۔۔۔ابھی فون کرتی ہوں اپنے باپ کو نہیں رہنا مجھے یہاں خلاع لوں گی میں اب”
وہ اپنا موبائل ڈھونڈنے کے لئے اٹھی تھی سر چکرایا ۔۔۔ اور بیہوش ہو کر نیچے گرپڑی تھی ۔۔۔
سیف نے محظ نفرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ زبیدہ بيگم بھاگ کر اس کی طرف لپكی تھیں اور اپنی بیٹیوں کو آوازیں دے کر بلایا تھا ۔۔۔
سیف بے دلی سے اسے ماں کے ساتھ ہسپتال لے آیا تھا جہاں ڈاکٹر نے ان کی بیہوش کی وجہ زیادہ بلیڈنگ بتائی تھی ۔۔۔جو کہ حیران کن تھی کیوں کہ بچہ کسی بھی پیچیدگی کے بغیر بلکل نارمل ہوا تھا اب کچھ ضروری ٹیسٹ کرنا مقصود تھا جن کے لئے
ڈاکٹر نے شہلا کو داخل کر لیا تھا ۔۔۔
۔************
سحر اور عاشر ناشتے کی ميز پر بےبی کے منتظر تھے مگر وہ باہر نہیں آئی تھیں عاشر بے چین سا بار بار ان کے کمرے کی طرف دیکھ رہا تھا مگر خاموش تھا
“عاشر ۔۔۔آپ آنٹی کے پاس جا کر ان کو لے کر آئیں وہ آپ کی منتظر ہونگی”
سحر کے بولنے کی دیر تھی عاشر بھاگ کر ماں کے پاس آیا تھا وہ منہ پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھیں
“ماما ؟؟؟ آپ باہر کیوں نہیں آئی اپ جانتی ہیں نہ مجھے آپ کی عادت ہے “
وہ ماں کا ہاتھ اپنے چہرے کو لگا کر تڑپ کر بولا تھا
“You hurt me too much Ashir”
وہ آہستہ سے بڑبڑائی تھیں
“Mama don’t say this I love you so much you are my everything, you are my heaven”
“Oh really???”
بےبی کی آواز میں طنز کا عنصر نمایاں تھا
“یہ لڑکی تمہیں میرے اتنے خلاف کردے گی کہ بہت جلد تم مجھے ہاتھ سے پکڑ کر گھر سے نکالنے والے ہو ۔۔۔آئی کین فیل دس”
“نہیں مما ایسا کبھی نہیں ہو سکتا آپ پلیز ایسے مت کہیں”
“وہ بہت اچھی ہے وہ خدا رسول کی بات کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتی ۔۔۔۔آپ اس کو غلط مت سمجھیں”
“آپ جو کر رہی تھیں وہ واقعی قابل مذمت تھا”
بےبی عاشر کی اس بات پر غصے سے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی
“Just go Ashir,leave my room”
وہ چیخی تھیں سحر ان کی آواز پر گهبرائی سی اندر آئی تھی
“لو جی آگئی ہیں خدائی فوج دار ۔۔۔”
“موم ۔۔ آپ جہانگیر انکل سے شادی کر لیں میں کچھ نہیں کہوں گا”
“I don’t need yours permission for that Ashir”
“پھر کرتی کیوں نہیں ہیں کیوں ایسے گناہ کر رہی ہیں ؟؟؟”
“آنٹی میاں بیوی میں سے کوئی بھی اس دنیا سے چلا جائے تو اللّه نے دوسرے نکاح میں دونوں فریقین پر کوئی پابندی نہیں رکھی ۔۔۔۔آپ نکاح کر لیں اس میں کوئی قباحت کی بات نہیں ہے کسی بھی لحاذ سے”
سحر خلوص سے بولی تھی عاشر نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی جس پر بےبی سوچ میں پڑ گئی تھیں وہ ایک دم نرم پڑ گئی تھیں
“نہیں کوئی نکاح نہیں کرنا میں نے میں اب مسڑ جے سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گی “
وہ دونوں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولی تھیں جس پر عاشر خوش اور سحر کا دل عجیب سا ہوا تھا
وہ بےبی سے اس آسان ہار کی توقع بلکل نہیں رکھ سکتی تھی
آپ لوگ چلو میں فریش ہو کر آتی ہوں کچھ دیر میں وہ ایک عریا لباس پہنے باہر آئی تھیں جس کو دیکھ کر سحر شرم سے زمین میں گڑ گئی تھی وہ خوش باش سی بیٹھ گئی تھیں
“ماما ۔۔۔۔آفس جائیں گی آپ ابھی ؟؟”
“جی ضرور میٹنگ ہے آج میری”
“ماما ۔۔۔۔کچھ کہنا چاہتا ہوں”
“یس ؟؟؟
آپ جیسے کپڑے پاکستان میں پہنتی تھیں ویسے پہنا کریں ۔۔۔”
“جی آنٹی عاشر بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں پردہ بہت سی برائیوں سے ڈھال ہے”
“ہر گناہ کا آغاز بے پردگی سے ہوتا ہے”
بےبی کے گلے میں کڑواہٹ سی گھلی تھی مگر وہ ضبط کر کے پی گئی تھی
وہ بنا کچھ بولے لباس بدل کر باقاعدہ دوپٹہ اڑ کر آئی تھی
“اب ٹھیک ہے ؟؟اور کچھ ؟؟؟”
وہ بظاہر نرمی سے پوچھ رہی تھیں
“Its just perfect mom”
عاشر خوشی سے اچھلا تھا اسی وقت مایا اندر آئی تھی جو آج عبایا کے بغیر تھی
بےبی کا پارہ مایا کو دیکھ کر اوپر ہوا تھا انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کی سرزنش کی تھی
“تم صبح صبح خیریت ؟؟؟وہ بھی اس حلیے میں ؟؟؟”
عاشر نظریں نیچے کئے بولا تھا
“مایا کو میں نے بلايا ہے تم دونوں آج اوٹ اوف سٹی جا رہے ہو”
بےبی فورا بولی تھی
“کہاں ؟؟؟”
“میٹنگ ہے پہلے مجھے جانا تھا مگر اب تم دونوں جاؤ گے ۔۔ “
“اور مایا میرے ساتھ کمرے میں آ ؤ”
بےبی اشارہ کرتے ہوۓ اٹھی تھی جس پر مایا نے فوری عمل کیا تھا
“یہ کیا پہن کر آگئی ہو ؟؟؟عبایا کدھر ہے تمہارا ؟؟؟”
“تم سارے کیے کرائے پر کیوں پانی پھیرنے پر تل گئی ہو ؟؟؟”
“تهک گئی ہوں عبایا پہن پہن کر ۔۔۔آپ کے بیٹے کو قابو کرنے کے لئے اسلامی کلاسز تک لیتی رہی ہوں جس وہ مجھے اسلامی سمجھے مگر وہ بہت بڑی چیز ہے پھر بھی اس سحر سے نکاح کر آیا تھا اب جب وہ ساتھ بھی رہنے لگی ہے اب کس امید پر میں یہ ناٹک جاری رکھوں ؟؟؟”
“امید پر دنیا قائم ہے ۔۔۔۔یہ نہیں جانتی تم ؟؟؟”
“یہ سحر اب تمہارے ساتھ ساتھ میری بھی دشمن ہے اب تو اس کو راستے سے ہٹاناپہلے سے بھی زیادہ ضروری ہے”
وہ مکرو روپ دھارے بول رہی تھیں
“عبایا ہے کدھر تمہارا ؟؟؟”
“گاڑی میں”
وہ لاپرواہ سی بول رہی تھی
“جاو پہن کر آؤ اور عاشر کو کہہ دینا زرہ دل گهبرا رہا تھا اس لیے بس ادھر پہنچ کر اتارا تھا اوکے ؟؟؟”
“اوکے ۔۔۔”
“اور رات آج عاشر گھر کسی صورت نہیں آنا چاہیے،اس کو ڈرنک دو یا نیند کا انجکشن مگر وہ صبح سے پہلے اس سحر تک نہیں پہنچنا چاہیے سمجھی ؟؟؟”
“ہاں مگر میں کیسے کرپاؤں گی یہ مطلب پورا دن اور پھر رات بھی وہ کیوں رکے گا میرے ساتھ بھلا وجہ ؟؟؟
“جوان ہو ۔۔۔خوبصورت بھی ۔۔۔۔اسی کا استعمال کر کرو”
“کم اون بےبی آنٹی وہ ایسا لڑکا نہیں ہے آپ جانتی ہیں”
“نہیں ہے تو بنا دو ۔۔۔۔تصویریں بھی بنانا اور ویڈیو بھی ۔۔۔۔۔بد نام کردو اسے ۔۔۔۔اتنا کہ اپنا چہرہ خود آئینے میں دیکھنے کے قابل نہ رہے ۔۔ “
مایا کو بےبی کے تیور دیکھ کر ایک دم خوف آیا تھا
“ایسا کیا ہو گیا ہے بےبی آنٹی ۔۔۔۔بیٹا ہے وہ آپ کا۔۔۔آپ کا ہی ہے نہ ؟؟؟”
“پیدا مجھ سے ہوا ہے ۔۔۔۔مگر ہے وہ صرف اپنے باپ کا بیٹا ۔۔۔اسی کی زبان بولتا ہے ۔۔۔لندن میں ہو کر وہ سب لڑکیوں کو نظر انداز کر کے صرف تمہیں دوست کہتا ہے وجہ تمہارا پردہ اور وہ سو کالڈ اسلامی باتیں ہیں ۔۔۔۔نہیں ہے وہ میرا بیٹا۔۔۔”
اس کا باپ زندہ تھا تو تب بھی میرا جینا حرام کر کے رکھا تھا۔۔۔۔نا کسی سے ملنا جلنا نا آنا جانا ۔۔۔مگر میں اس کے ساتھ جڑی رہی ۔۔۔مگر اس نے پھر بھی میری قدر نہیں كی ۔۔۔۔۔وصیت میں سب اپنے بیٹے کے نام کر دیا ۔۔۔۔اور تو اور جو تھوڑا بہت مجھے دیا بھی اس پرمرتے دم تک اسی کی بيوا رهنے کی شرط عائد کردی ۔۔۔اگر میں شادی کرتی تو ہر چیز سے محروم ہو کر سڑک پر آ جاتی ۔۔۔صفر پر آ جاتی میں ۔۔۔صفر پر ۔۔۔۔اپنی کم عمری میں اس سے شادی کی اس کے مرنے تک ساتھ رہی اور اس نے کیا صلا دیا مجھے ؟؟؟”
“Cool down my dearest ant”
“Just forget about that”
“No……I can’t”
“روح زخمی کر دی تھی اس شخص نے میری شک کرتا تھا مجھ پر ۔۔۔۔۔اگر وہ بوڑھا تھا اور میں اسکی بیٹی کی عمر کی تو اس میں میرا کیا قصور تھا ؟؟؟”
“ہر آنے جانے والے کے ساتھ مجھے منسوب کر دیتا تھا ۔۔۔اتنی بد کردار لگتی تھی میں اسے ۔۔۔۔”
“میں تهک گئی تھی ہر وقت اپنے کردار کی صفائیاں دے دے کر ۔۔۔۔”
“وہ صرف رہتا ادھر تھا ۔۔۔۔۔لندن میں ۔۔۔۔مگر وہ یہاں کے معاشرے کا حصہ کبھی نہیں بن سکا تھا اصل اس کا وہ ہی تھا جہاں سے اس کا خمیر اٹھا تھا ۔۔ ایک شکی ایشین مرد ۔۔
“آخر اس کا شک جیت گیا ۔۔۔۔۔”
“میری ملاقات جہانگیر سے ہوئی اور میں نے اس کے شک کو یقین میں بدل دیا ۔۔۔۔جب سزاے موت سنا دی جائے ۔۔۔پھر آپ بے قصور ہو یا قصور وار اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟؟؟”
وہ دکھی سا قہقہ لگا کر بولی تھیں ۔۔۔
اور عاشر مجھ سے وجہ پوچھے بنا مجھے غلط سمجھ رہا ہے ۔۔۔اپنی ماں کو ۔۔۔۔۔کل میں نے مانو اس کے باپ کو اس میں دیکھا ہے ۔۔۔۔اور اس شخص سے نفرت ہے مجھے ۔۔۔۔۔شدید نفرت ۔۔۔۔”
“اتنی مشکل سے میں نے اس کے باپ سے آزادی لی تھی اور اب یہ میری خوشی میں روکاوٹ بن گیا ہے ۔۔۔ “
“آزادی لی تھی ۔۔۔۔مطلب ؟؟؟”مطلب ان کو ہارٹ اٹیک نہیں ؟؟؟؟؟”
مایا نے حیرانگی سے آنکھیں پھیلائی تھی
“ہاں تم ٹھیک سمجھی ہو ۔۔۔میں نے ان ہاتھوں سے شرف بخشا تھا ان کو ۔۔۔۔۔سیدھا اوپر ۔۔۔۔ٹیک آف “
هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔وہ ہاتھ سے اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بے رحمی سے بولی تھیں ۔۔۔
غصہ ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے جس کو ہم خود پناہ دیتے ہیں اپنی ذات میں ۔۔۔۔غصے میں ہمارا دماغ کے ساتھ رابطہ منقطہ ہو جاتا ہے پھر ہم صرف ایک خطرناک ھتیار بن جاتے ہیں جس کا استعمال ہم نہیں کرتے بلکہ دوسرے ہماری ہی خلاف اس کا استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔
یہاں بھی یہی ہوا تھا مایا نے نہایت ہی چلاکی سے بےبی کے
غصے کا فائدہ اٹھایا تھا اور ہر راز جان کر اس کی کمزوری ھتیا لی تھی ۔۔۔
بے شک انسان اپنا سب سے بڑا دشمن خود ہے ۔۔۔۔
