195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 11

سیف کسی سواری کے ساتھ وقت اور رقم کی بات کر رہا تھا جب زبیدہ بيگم اس کے پاس آ کر بیٹھی تھیں اس کی بات ختم ہوتے ہی وہ گویا ہوئی تھیں

“سیف بیٹا میں چاہتی ہوں کہ فرحانہ کے ساتھ تمہاری بھی شادی کر دوں پھر پیچھے چار ذمہ داریاں رہ جائیں گیں۔۔۔تب تک اگر میں زندہ رہی تو ورنہ پھر یہ سارا فرض تمہارے کندھے پر ہوگا ۔۔۔۔وہ ویسے بھی ابھی پڑھ رہے ہیں شادی کی عمر نہی ورنہ شاید ان میں سے بھی کسی کو ساتھ ہی نپٹا دیتی ۔۔۔”

“امی جب تک میں تینوں باقی بہنوں اور احمد کی شادی نہیں کر دیتا میں اس جهمیلے سے دور رہنا چاہتا ہوں ۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ کل میں اپنی بیوی بچوں میں الجھ کر ان کی حق تلفی کر دوں ۔۔۔”

سیف ماں کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے بولا تھا

“حق تلفی تمہاری بھی تو ہے نہ ۔۔۔شادی کی عمر ہے تمہاری کما بھی رہے ہو ۔۔۔۔کچھ سوال اوپر والا مجھ سے بھی تو کرے گا نہ پھر میں کیا جواب دوں گی ؟؟؟؟”

“مگر امی ۔۔۔؟؟؟”

وہ منمنایا تھا

“کوئی اگر مگر نہیں ۔۔۔۔گھر تم چلا رہے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرا تم پر حق کم ہو گیا ہے بس جس سے بھی شادی کرنی ہے بتا دو میں کچھ نہیں پوچھوں گی کل ہی فرحانہ کو ہمراہ لئے تمہاری بات پکی کر آؤں گی ۔۔ “

سیف سمجھ گیا تھا زبیدہ بيگم ہھتیلی پر سرسوں جمانا چاہ رہی ہیں

پوری دنیا سے لڑ کر وہ اپنی بات پر لا سکتا تھا مگر زبیدہ بيگم میں جان بستی تھی سیف کی ان کے سامنے ہر بات بے معنی ہو جاتی تھی الفاظ اپنی گرفت چھوڑ دیتے ۔۔۔

اچھا امی بتاتا ہوں آپ کو سوچ کر ابھی سواری کو لے کر جانا ہے آپ کی اجازت ہو تو ؟؟؟”

وہ ماں کا ہاتھ چوم کر پوچھ رہا تھا

“جاؤ میرا شہزادہ ۔۔۔ “

سیف گاڑی میں جا کر بیٹھا تھا جب شہلا کی کال آنا شروع ہوئی تھی ۔۔۔

وہ مسلسل نظر انداز کرتا رہا مگر ۔۔۔ . بے سدھ ۔۔۔

سیف نے تنگ آ کر کال اٹھائی اور غصے پر قابو پاتے ہوۓ نرمی سے نارمل انداز میں ہیلو بولا جس پر شہلا کا غصہ اور تیز ہوا تھا

“کب سے فون کر رہی ہوں اتنا ہلکا کیوں بنا لیا ہے مجھے ؟؟؟؟؟”

“اور کل یہ تم کن لڑکیوں سے تعلقات کی بات کر رہے تھے ؟؟؟؟کیسے؟؟؟كسسسس س س س ؟؟؟کس قسم کے تعلقات تھے تمہارے ان (گالی) کے ساتھ ؟؟؟؟؟”

شہلا کا غصہ ساتویں آسمان کو چھوتا محسوس ہو رہا تھا وہ زخمی شیرنی کی طرح کرب میں حساب مانگ رہی تھی ۔۔

یہ سچ ہے جو انسان جتنا دھوکے باز ہوتا ہے وہ جہاں خود مخلص ہو وہاں ذرا سی اف بھی برداشت نہیں کرتا ۔۔۔۔ذرا سی اونچ نیچ ان کے ضبط کے سارے قفل توڑ دیتی ہے ۔۔ ۔

شہلا جو لوگوں کے جذبات سے کھیلتی آرہی تھی آج اپنی محبت میں کسی دوجے کا ذکر تک اس کی زندگی موت کا مسئلہ بن گیا تھا ۔۔۔

“Excuse me Miss shehla”

“آپ یہ سب کس حق سے پوچھ رہی ہیں ؟؟؟؟”

“ارے ہوتی کون ہو تم مجھ پر حق جمانے والی وہ بھی اس طرح میری ماں بن کر ؟؟؟؟”

سیف نے شہلا کے ساتھ ساتھ گاڑی کو بھی بریک لگائی تھی

“سیف صاحب بہت ایزی لے لیا تم نے شہلا شاہجہاں کو ۔۔۔۔تم کیا سمجھے تھے تمہارے اتنا قریب شوقیا آئی تھی ؟؟؟؟محبت کرتی ہوں تم سے شدید محبت ۔۔۔نہیں برداشت ہو رہی تمہاری کل والی بات ۔۔ بہت کوشش کی ہے میں نے ۔۔۔خون کھول رہا ہے میرا ۔۔۔۔میرے ناک سے بلیڈنگ ہوئی ہے پوری رات ٹینشن کی وجہ سے میں پاگل ہو رہی ہوں ۔۔۔۔”

وہ کسی زهنی مریض كی طرح بے ربط بول رہی تھی

“تو ہم میں تو محبت نام کی کوئی بات نہیں ہوئی ۔۔۔دن میں تم نے چپک کر سیلفی لی نمبر دیا چند گھنٹوں بعد وہ واہیات حرکت اس کو تمہاری نظر میں محبت کہتے ہیں ؟؟؟؟”

“اور اس سے پہلے تو ہماری کوئی ملاقات ہی نہیں ہوئی پھر ایک دم سے آپ کو مجھ سے پہلی ہی نظر میں اتنی شدید محبت ہو گئی کہ اگر کسی کی آہٹ نہ سنائی دی ہوتی تو نہ جانے ۔۔۔۔۔۔۔۔لعنتی عورت دوبارہ فون مت کرنا مجھے ۔۔۔لو تھوک دی تمہاری محبت ۔۔ تھو تھو تھو تھو ۔۔ “

سیف باقاعدہ تھوک رہا تھا

“س س س سیففف ف ف ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔ پلیز ایسے مت کہو ۔۔۔۔قسم خدا کی محبت ہی ہوئی ہے تم سے م م م میں ۔۔۔میں نے آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں کیا کسی کے ساتھ ۔۔ تم تم تم پہلے مرد ہو ۔۔۔۔میں بہت زیادہ چاہتی ہوں تمہیں ۔۔۔ میری محبت کو ایسے گالی مت دو ۔۔ “

وہ گڑگڑائی تھی ۔۔۔

“شہلا تم نے پہلے یہ سب نہیں کیا ہوگا مگر میری زندگی میں اتنی تم جیسی آئی ہیں کہ میں انگلیوں پر گننا شروع کر دوں تو رات ہو جائے کوئی حد نہیں تھی میری ان کے ساتھ ۔۔۔ارے اتنے میں نے پوری زندگی ٹیشو نہیں یوز کیے جتنی کے اس لڑکی نامی برائی کو ۔۔۔۔نفرت ہے مجھے لفظ محبت بولنے والی آج کی لڑکی سے ۔۔لعنتی عورتوں محبت تو تن تو کیا روح تک ڈھانپ دیتی ہے اور تم اس کے نام کا لائسنس لئے خود کو برہنہ کر دیتی ہو ؟؟؟”

“سیف ۔۔۔میں خود بھی نہیں جانتی میں اتنی بے حیا کیسے ہو گئی تھی مگر ۔۔۔میں ۔۔۔میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں ۔۔۔تم سے بے پناہ پیار ۔۔۔۔

پیار ۔۔۔۔گالی ۔۔۔۔۔گالی ۔۔۔۔

سیف نے کال کاٹ کر گالیوں کی بھرمار کی تھی اور اپنی قبر بچھووں سے بھری تھی

دوبارہ موبائل کی بيل بجی تھی اب سواری کا فون تھا وہ بنا دیکھے وہ بھی کاٹ گیا تھا سیف کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا شاید بلڈ پریشر ہائی ہوا تھا وہ سر پکڑے گاڑی میں بیٹھ گیا تھا

شہلا سوجی آنکھیں لئیے فاریہ کے پاس آئی تھی جو آج بہت خوش لگ رہی تھیں وہ فون کاٹ کر شہلا کی طرف متوجہ ہوئی تھیں

“کیا ہوا ہے منہ کیوں بنایا ہوا ہے ؟؟؟”

“امی ۔۔۔مجھے سیف چاہیے ۔۔۔ہر قیمت پر ۔۔۔پلیز آپ کچھ کریں ۔۔۔۔ورنہ میں اپنے ساتھ کچھ غلط کر لوں گی “

وہ آنسو صاف کرتے ہوۓ دهمكی دے کر بولی تھی

“شہلا توں نے اپنی ماں کے پیٹ پر لات ماری تھی یہ سب اسی کا نتيجہ نکلا ہے”

“کیا مطلب ؟؟؟؟”

“مجھے میسج ٹائپ کرنے نہیں آتے تمہیں موبائل دیتی تھی لکھنے کے لئے اور تم نے میری ساری قیمتی آسامیاں اپنی طرف کر لی تھیں میرے موبائل سے نمبر لے کر ۔۔۔۔جس دن سے تمہارے پاس موبائل آیا ہے مجھے کسی نے ایک ٹیڈی نہیں بھیجا ۔۔۔یہ میری بد دعا لگی ہے تمہیں”

وہ مطمئین سی گویا ہوئیں ۔۔۔

“امی ۔۔۔آپ کیسی ماں ہیں جو اس بات پر اپنی اکلوتی بیٹی کو بد دعا ۔۔۔۔”

شہلا کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈب ڈبائی تھیں

“تمہیں شرم نہیں آئی جو اپنی ماں کے جھوٹی اترن پہنتی تھی ۔۔۔۔میرے دوستوں کے ساتھ ہی یاری لگانی تھی تم نے ؟؟؟”

جب سے تم نے سیف کی وجہ سے ان کی کال اٹھانا چھوڑی ہے وہ واپس میرے پاس ہی لوٹے ہیں سب اگلا ہے انہوں نے”

“اور رہی بات سیف کی تو وہ ٹھیک لڑکا نہیں ہے ۔۔۔ساری عمر ذلالت میں گزارو گی ۔۔۔”

“میں نے اس مرد ذات کو چھانا ہے اس کو ایک نظر میں بھانپ گئی تھی ۔۔۔تم میری بیٹی ہو ساری باتیں اپنی جگہ مگر میری بات مانو ۔۔۔ اس لڑکے کی نظر بتاتی ہے وہ ہر طرح کی برائی میں ملوث لگتا ہے “

وہ مخلص ہو کر شہلا کو سمجھا رہی تھیں

“امی میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔بس آپ مامی سے بات کریں ۔۔ “

شہلا دل کے ہاتھوں مجبور تھی

جب اپنی مرضی ہو پھر ہم آنکھوں کی دیکھی مكهی بھی نگلنے کو راضی ہوتے ہیں ۔۔۔

اور جب دل نہ ہو پھر ماں باپ کی پسند میں ان دیکھے کیڑے بھی نکال نکال کر ان کے آگے چیخ چیخ کر ان کو زچ کر کر کے اپنی فاتح کا جشن مناتے ہیں ۔۔۔

“زبیدہ بھابھی کا فون آیا تھا بتا رہی تھیں سیف جیسے ہی کوئی لڑکی بتائے گا بس فورا فرحانہ کے ساتھ ہی اس کا فرض بھی ادا کردوں گی ۔۔۔اگر تم اتنی سنجیده ہو تو سیف کو بھی ہونا چاہیے کرو بات سیف سے ۔۔۔ بھابھی تو تیار بیٹھی ہیں”

فاریہ گیند شہلا کے کوٹ میں ڈال کر کچن میں گئیں تھیں

شہلا نے دوبارہ سیف کا نمبر ملايا تھا

“تم آخر سمجھتی کیا ہو خود کو ؟؟؟؟”

سیف فون پر چیخ کر بولا تھا

“میں جان لے لوں گی اپنی اگر تم نے مامی کو میرا رشتہ مانگنے کے لئے اسی ہفتے نہ بھیجا تو ۔۔۔اور میں یہ کر کے دیکھاؤں گی ۔۔۔یہ شہلا کا وعدہ ہے تم سے “

وہ ترکی بہ ترکی چیخی تھی

“بکواس بند کرو اور مجھے فون مت کرنا دوبارہ ورنہ تمہارے باپ کو فون کر دوں گا کہ لگام ڈال کر رکھیں تمہیں “

“تمہیں حاصل کرنا میری زندگی کا مقصد ہے سیف ۔۔۔۔جب تک وہ پورا نہیں ہو جاتا میرے ماں باپ بھی مجھے روک نہیں سکتے ۔۔”

وہ چیلنج دے کر سکون سے بولی تھی

“ارے نہیں کرنی مجھے تم سے شادی جان چھوڑ دو میری بی بی ۔۔۔گھڑی بات کیا کرلی تم سے تم تو گلے ہی پڑ گئی ہو “

“یہ تو وقت بتائے گا سیف کہ گلے کون پڑا ہے ۔۔۔۔تم کیا سمجھے تھے مجھے ٹیشو پیپر کی طرح یوز کر کے پھینک دو گے اور میں یہ کرنے دوں گی تمہیں ؟؟؟”

“اتنی معمولی لڑکی نہیں ہے شہلا ۔۔۔۔”

“تمہاری بیوی بھی بنوں گی اور ناكوں چنے چبواؤں گی تمہیں ۔۔۔یہ شہلا کا وعدہ ہے تم سے بس دیکھتے جاؤ ۔۔۔”

“چل جان چھوڑ بڑی آئی”

سیف نے کال کاٹ کر ساتھ بیٹھے دوست ندیم کو دیکھا تھا جو خود کسی لڑکی کے ساتھ فون پر لڑنے میں بزی تھا

“قسم سے سیف (گا لی ) لڑکیاں دو گھڑی بات کر کے جو سکون دیتی ہیں اس سے ڈبل ذلیل کردیتی ہیں بندے کو”

سیف نے اثبات میں سر ہلا کر گاڑی سٹارٹ کی تھی

“ایک سواری کا فون آیا تھا چل ادھر چلتے ہیں آج سارا دن شہلا(گالی) نے برباد کر دیا میرا صبح سے ایک سواری بھی نہیں اٹھا سکا ۔۔۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سحر ساری اپنی تیاری پر آخری نظر ڈال رہی تھی کل دوپہر کی فلائٹ تھی عقیلہ بيگم اس کے پاس آ کر بیٹھی تھیں

“سحر سب چیک کر لیا اچھے سے ؟؟؟”

“جی امی ۔۔۔”

“سحر ۔۔۔۔۔۔۔بہت یاد آؤ گی ۔۔۔۔۔”

آواز عقیلہ بيگم کے گلے میں پھنس گئی تھی آنکھیں آنسوؤں سے دھندلی ہوئی تھیں

“میری پیاری امی ۔۔۔میں بھی آپ کو اور کاشف کو بہت زیادہ ہر وقت یاد کروں گی ۔۔پتہ نہیں میں وہاں نئی جگہ ۔۔۔نئے لوگوں میں کیسے ایڈجسٹ کروں گی”

سحر بھی آبدیدہ ہوئی تھی

“امی ۔۔۔۔۔۔میں نے کبھی آپ سے الگ ہونے کا سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔اب سات سمندر پار ۔۔۔۔۔۔”

سحر نے آنسوؤں کو بہنے دیا تھا ۔۔۔۔

“سات سمندر بھی وہ ہی اللّه ہے جو ادھر ۔۔۔۔۔بات صرف اس سے رشتے کی اور اس کی مضبوطی کی ہے سحر”

“میں تمہیں اپنے رب کے حوالے کررہی ہوں وہ ہر وقت ہر لمحہ تمہارا مدد گار رہے گا بس اپنی تیسری آنکھ اور ساتویں حس سے محسوس کرنا ۔۔۔”

“عاشر کو جتنا جان پائی ہوں وہ بہت خیال ركهنے والا محبت کرنے والا لڑکا ہے بس اللّه کے بعد اس کی ناراضگی کو سب سے آگے رکھنا ۔۔۔”

“بیٹا ۔۔۔ایسا نہیں تھا کہ تمہارے ابو ہمیشہ سے ہی بہت اچھے تھے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔بہت برا وقت بھی کاٹا ہے میں نے ان کی سنگت میں ۔۔۔۔مرد کی یہ فطرت ہے ۔۔۔وہ دس باتیں منواکر بیوی کی کوئی ایک بات مانتا ہے ۔۔۔میرے اور تمہارے ابو کی جو لوگ مثالیں دیتے نہیں تھکتے اس کے پیچھے میرا جوانی میں کیا ہوا صبر تھا ۔۔۔ “

“اللّه نے زوجین کے لئے لباس کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا مطلب جانتی ہو ؟؟؟”

سحر نے اپنا سر ماں كی گود میں رکھ کراس بات کی نفی میں ان کی طرف دیکھا تھا

“اکثر عورت اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنے دل کے قريب لوگوں کے ساتھ اس کی برائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ۔۔۔۔اکثر دیکھا ہوگا تم نے خود بھی سحر ۔۔۔۔مگر وہ یہ بیوقوف یہ نہیں جانتی کہ وہ ایسا کر کے خود کو بر ہنہ کر رہی ہیں ۔۔۔۔یہی معاملہ شوہر حضرات کے ساتھ بھی پیش آتا ہے ۔۔۔”

اگر دونوں ایک دوسرے کی دل آزاری والی بات سہہ جائیں تو قسم سے بات ادھر ہی ختم ہو جاتی ہے ۔۔بگاڑ تو تب پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے شوہر یااپنی بیوی سے زیادہ کسی کو اپنا همدرد مان کر ایک دوسرے کی عیب جوئی شروع کرتے ہیں ۔۔۔۔”

“ماں باپ کا گھر جب عورت ایک بار چھوڑ دیتی ہے نا تو والدین کھرب پتی بھی ہو تو اگر وہ اپنا گھر بسانے میں ناکام ہو کر واپس آتی ہے تو وہ اس گھر پر بوجھ ہی ہوتی ہے ۔۔۔”۔

“کوئی باپ اپنی بیٹی سے کتنی بھی محبت کرتا ہو وہ بیاہی بیٹی کو گھر میں بیٹھا دیکھ اس سے نفرت تو نہیں مگر برداشت بھی نہی کرتا ۔۔۔۔”

“وہ چاہے زبان سے کچھ نہیں کہتا ہو مگر وہ بیٹی ایک ان چاہے بوجھ کی طرح اس کی کمر توڑ دیتی ہے وہ دلی اور دماغی لحاظ سے اس سے بہت تنگ ہوتا ہے ۔۔۔”

“ان باتوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بیٹی سسرال میں کوئلوں پر بھی بٹھا دی جائے تو وہ برداشت کرے گھر والوں کو نہ بتائے ۔۔۔مگر اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ وہ کوشش جاری رکھے ۔۔۔۔بہت سی باتیں ہماری مثبت سوچ کی محتاج ہوتی ہیں ۔۔۔”

“سحر تمہیں میری باتیں بری لگ رہی ہوں گی میں جانتی ہوں ۔۔۔۔کیوں کہ یہی سب جب تمہاری نانی اللّه ان کو كروٹ کروٹ جنت کی آسودگی دے انہوں نے مجھے رخصت کرتے وقت کہی تھیں تو مجھے بہت غصہ آیا تھا ۔۔۔۔میں ان کی باتوں کو یاد کر کر اکثر رونے لگتی تھی ۔۔۔۔جب تک تمہارے ابو مہربان تھے ۔۔۔مگر جیسے ہی ان کا رویہ بدلہ اور میری آزمائش شروع ہوئی پھر کسی بیماری کی دوا کی طرح میری ماں کی ہر بات مجھ پر مرہم لگاتی چلی گئی ۔۔۔”

وہ ایک نقطے پر نظریں جمائے مزيد بولیں تھیں ۔۔۔

“یاد رکھنا سحر عورت بالغ ہوتے ہی مرد سے جلدی سمجھ اور شعور کی دنیا میں قدم رکھ لیتی ہے مگر مرد کو میچور ہونے کے لئے کم از کم تیس سال کا ہونا پڑتا ہے اکثر مرد تو پوری عمر گزار دیتے ہیں مگر صورت حال کا صحیح اور بر وقت اندازہ اور فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں”

“مرد ضدی بچے کی طرح بیوی کو روز نئی الجھن میں ڈالتا ہے اگر عورت سمجھ داری سے اسے ہینڈل کر لے تو وہ بہت جلدی تهک جاتا ہے ۔۔۔کیوں کہ مرد محض جسمانی طور پر مظبوط ہوتا ہے مگر ارادوں میں بہت کمزور ہوتا ہے ۔۔۔سمجھ دار عورت بہت آسانی سے اسے اپنا سکتی ہے ۔۔۔”

“امی آپ مجھے ڈرا رہی ہیں اب”

سحر اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اب

“ڈرا نہیں رہی سحر ۔۔۔۔۔عاشر ہمیشہ ایسا ہی پیار نچھاور نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔وہ موسم کی طرح بدل بھی سکتا ہے ۔۔۔۔۔تم زہنی طور پر تیار رہنا ۔۔۔۔۔”

“میری باتیں یاد رکھنا ۔۔۔۔سحر ۔۔۔جیسے چڑیا تنکا تنکا اكهٹا کر کے اپنا گھونسلہ بناتی ہے نا؟؟؟”

سحر نے آنکھیں سکھیڑی تھیں

“بلکل ویسے ہی تم بھی اپنا گھر بنانا ۔۔۔۔۔۔۔طوفان بھی آئے گا ۔۔۔۔۔۔بارش بھی اور آندھی بھی ۔۔۔۔۔تم اپنا گھونسلہ نہ بکھرنے دینا ۔۔۔”

سحر اب دوبارہ ماں کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی تھی

فلائٹ دن دو بجے کی تھی زوہیب کے ساتھ کاشف اور عقیلہ بيگم بھی آئی تھیں سحر کو ایئر پورٹ چھوڑنے ۔۔۔

“کاشف امی کا بہت بہت ۔۔۔۔بہت سا خیال رکھنا ۔۔۔اور جو تم ڈپلومہ کرنے شہر جاتے ہو زوہیب کو میں نے کہہ دیا ہے آج جاتے ہوۓ تمہیں بائیک لے دے گا احتیاط سے چلانا ۔۔۔”

“آپی مجھے آتی ہے اپنے دوست کے ساتھ جب جاتا تھا تو تب ایک طرف کی میں ہی چلا کر لاتا تھا “

وہ بائیک کا سن کر خوشی سے کھل اٹھا تھا

“ٹھیک ہے کاشف یہ جو امی کو میں نے انڈرائیڈ سیل فون لے کر دیا ہے نہ اس کا استمال غلط نہیں کرنا ۔۔۔۔مجھ سے روز ویڈیو کال پر بات کرنی ہے ۔۔ “

“جی آپی ۔۔۔۔”

مسز عاشر ۔۔۔۔اب آپ کو اندر جانا ہوگا کچھ لیگل پروسیجر ہوتے ہیں کچھ وقت لگتا ہے ادھر بھی ۔۔۔”

زوہیب گھڑی پر وقت دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا

“چلو جاؤ میری بچی ۔۔۔۔اللّه دے حوالے ۔۔۔۔”

“امی اتنی دور جا رہی ہوں آپ دونوں کو چھوڑ کر ۔۔۔۔”

سحر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی

“بیٹا بیٹی کا سسرال اسی گلی میں بھی کیوں نہ ہو ۔۔۔وہ پرائی کہلوانے لگتی ہے ۔۔۔۔وہ گھر اس کا نہیں رہتا ۔۔۔۔اجازت کے لئے سسرالیوں کی طرف تاکنا پڑتا ہے ۔۔۔ پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔کہ میری بیٹی سات سمندر پار جا رہی ہے ۔۔۔ “

عقیلہ بيگم بھی دل کھول کر رو دی تھیں

سحر کبھی ماں کا ہاتھ پکڑتی ۔۔۔کبھی چہرے کو آنکھوں میں بھرتی ۔۔۔۔کبھی کاشف کا ماتھا چومتی کبھی اسے روتے روتے ماں کی دیکھ بھال کا کہتی ۔۔۔وقت ریت کی طرح تیزی سے سرک رہا تھا مگر نہ سحر کا دل بھر رہا تھا نہ ہی عقیلہ بيگم اور کاشف کا ۔۔ ۔۔

اسی اثناء میں مسز عاشر کے نام کے ساتھ فلائٹ نمبر کی اناؤنسمنٹ ہوئی تھی جس پر سحر کو اپنے باپ کی پینٹ کو دیکھنا ۔۔۔۔وہ باپ کو سائیکل پر جانے کا آخری منظر کسی فلم کی طرح ایئر پورٹ کی ڈیجیٹل سکرین پر چلتا نظر آیا تھا دل اچھل کر منہ میں آنے کو تھا ۔۔۔۔۔”

“سحر کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا وہاں سے نظر ہٹائی تو ہاتھ ہلاتے کاشف اور عقیلہ بيگم نظر آئے تھے ۔۔۔

وہ بھاگ کر اندر گئی تھی سارے پروسیجر اس نے غائب دماغی سے مکمل کروائے تھے ۔۔۔وہ پلين میں آ کر بیٹھی تھی ۔۔۔

“یا اللّه یہ کیسا امتحان ہے ۔۔۔۔۔یا اللّه میری مدد فرما ۔۔۔۔اس سفر میں بس آپ ہی ہیں میرے ساتھ ۔۔۔۔یا اللّه میری مدد فرما ۔۔۔۔۔

امی ۔۔۔۔۔۔کاشف ۔۔۔۔۔۔۔ابو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ لوگوں کے دیکھ لینے کے ڈر سے آنسوؤں کو آنکھوں میں ہی صاف کرتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ اس وقت کسی بچے کی طرح نچلا ہونٹ ہلا ہلا کر خاموشی سے آواز دبائے رو رہی تھی ۔۔۔وہ بچہ جو دنیا کی بھیڑ میں اپنے ماں باپ سے کھو جاتا ہے ۔۔۔وہ اتنا خوف زدہ ہوتا ہے کہ روتا بھی مدهم آواز میں ہے کہ کہیں کوئی اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کی اپنوں سے جدائی بھانپ نہ لے ۔۔۔۔”

اس سب میں کب اس کی آنکھ لگی کچھ خبر نہ ہوئی ۔۔۔

سات سے آٹھ گھنٹے کے لگ بھگ فلائٹ ایئر پورٹ پر اتری تھی ۔۔۔۔۔سحر سامان لفٹر ٹرالی لیے عاشر کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔

سحر بلیک عبایا پہنے ہوۓ تھی ہاتھوں میں دستانے بھی ۔۔۔۔

اس کو وہاں پہنچے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا مگر اس کو کہیں بھی عاشر نہ نظر آیا ۔۔۔موبائل اس کا بند ہو چکا تھا چارجنگ پرابلم کی وجہ سے ۔۔۔وہ تقریبا رونے والی تھی جب ایک لڑکا زوہیب کی عمر کا مسز عاشر کے نام کا بینر لئے وہاں کھڑا نظر آیا تھا ۔۔

سحر اس کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی اور شدید گھبراہٹ سے ہاتھ کے اشارے سے اٹس می کہا تھا وہ بہت آرام سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا تھا

“Are you Mrs.Ashir????

“ج ۔۔۔۔ج ۔۔۔جی ۔۔۔ آئی مین یس ۔۔۔۔۔”

“Where is Mr Ashir???

سحر نے ہمت جمع کی تھی وہ تھوک نگل کر بولی تھی

“He is out of town ….lets go ma’m…”

“نو ۔۔۔۔۔آئی مین ۔۔۔”

وہ خشک گلے سے بمشکل بول پائی تھی

“یس میڈم ؟؟؟”

“I will not go with you until ashir will ask me himself to do this”

وہ ہنسی روک کر بولا تھا

“اوکے ميم ۔۔۔”

اب وہ کال ملا رہا تھا

ہیلو عاشر؟؟؟

یار بھابھی صاف انکاری ہیں اپنے دیور کے ساتھ گھر جانے پر توں خود بات کر ۔۔۔”

سحر اس کے اردو بولنے پر چونکی تھی ۔۔

اس لڑکے نے فون سحر کو دیا تھا

“ہیلو”

وہ بہت تھک کر بمشکل رونا روک کر بولی تھی

“جی عاشر کی جان ؟؟؟ یار ارجنٹ میٹنگ رکھ لی تھی ماما نے ۔۔۔جانا ان کو تھا مگر ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور مجھے آنا پڑا ۔۔ یہ لڑکا زين ہے میرا همسايا اور جگری دوست ۔۔۔تبھی اس کو اپنی جان کو لینے بھیجنا پڑا ۔۔تم آجاؤ آرام سے گھر زیادہ دور نہیں ہے میں میٹنگ ختم ہوتے ہی جو بھی فلائٹ اویل ایبل ہوئی آتا ہوں ۔۔۔پھر ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ قہقہ لگا کر بولا تھا ۔۔۔

سحر شرم سے لال ہوئی تھی مگر سامنے کھڑے زين کو وہ کہیں سے دکھتی تو وہ کچھ اندازہ لگاتا ۔۔۔

وہ بنا کچھ بولے کال کاٹ کر زين کے ساتھ چل پڑی تھی

“زين بھائی مجھے اپنی امی کو بتانا ہے ۔۔۔میرا موبائل بند ہے ۔۔۔وہ پریشان ۔۔۔”

اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بولا تھا

“بھابھی آپ کا موبائل جب تک یہاں رجسٹرڈ نہیں ہو جاتا یہ آن نہیں ہوگا ۔۔۔مطلب آپ اس کو استعمال نہیں کر سکتیں ۔۔۔اس میں تھوڑا وقت لگے گا میں عاشر سے کہتا ہوں وہ ان کو بتا دے گا ۔۔۔”

“جی ابھی کہہ دیں ۔۔۔شکریہ ۔۔۔”

“بھابھی آپ کو گھر کا نمبر زبانی یاد ہے تو بتا دیں میں اپنے سیل سے آپ کی بات کروا دیتا ہوں”

وہ موبائل سحر کے آگے کرتا ہوا بولا تھا جسے سحر نے جھپٹ کر پکڑ لیا تھا وہ جلدی جلدی نمبر ملا رہی تھی مسلسل رنگ جا رہی تھی ۔۔۔دو بار کال کر کے اب وہ تیسری بار روتے ہوۓ۔۔۔

“پتہ نہیں فون کیوں نہیں اٹھا رہی امی ۔۔۔”

اب وہ باقاعدہ آواز نکال کر رو رہی تھی ذین اس کو دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا

“بھابھی اس وقت ادھر دن ہے مگر أدھر رات کے دو بجے کا وقت ہوگا آنٹی سو رہی ہوگی ۔۔۔آپ رویے مت پلیز ۔۔ “

اسی وقت فون اٹھا لیا گیا تھا سحر دونوں ہاتھوں سے موبائل پکڑے تڑپ کر ہیلو ہیلو کر رہی تھی

“السلام علیکم ۔۔۔میری بیٹی کیسی ہے پہنچ گئی ہو ؟؟؟؟؟؟”

آگے سے زیادہ رونے سے پھٹی ہوئی بھاری آواز میں پوچھا جا رہا تھا

“جی امی ۔۔۔آپ آپ ۔۔۔

فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں ؟؟؟؟”آپ کاشف دونوں ٹھیک ہیں نہ ؟؟؟؟”

وہ زور قطار رو رہی تھی ماں کی آواز سن کر

“ہاں بیٹا میں نفل پڑھ رہی تھی عشاء کے جائے نماز پر ہوں سوچا تم پہنچ جاؤگی تو سوؤں گی کاشف بھی کافی دیر تمہارے کمرے میں بیٹھا روتا رہا ۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے تمہارے بستر پر سویا ہے ۔۔۔میں بھی ادھر تمہارے کمرے میں ہوں”

سحر اس بات پر با آواز بلند تڑپ کر رو رہی تھی ذین کو گاڑی ایک مناسب جگہ دیکھ کر روکنی پڑی تھی ۔۔۔

“ساڈا چڑیاں دا چمبا اے ۔۔۔۔بابل اساں اڈ جانڑاں ۔۔۔۔ساڈی ۔۔۔۔لمبی اوڈاری اے ۔۔۔۔۔۔۔آساں مڑ نئی آنڑاں”