Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 5
Rate this Novel
Imtehaan Episode 5
سحر کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھی جب بےبی آنٹی اس کے پاس آئی تھیں
“میری گڑیا آپ کیوں بنا رہی ہو ناشتہ ۔۔۔۔یہ پیارے پیارے ہاتھ گھر کے کام کے لیئے تھوڑے بنے ہیں ۔۔۔”
وہ سحر کے ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بولی تھیں
“یہ تو آپ کی محبت ہے آنٹی ۔۔۔ورنہ گھر کا کام کرنا تو ہر لڑکی کو کرنا آنا بھی چاہیے ۔۔۔اور ان کو کرنا بھی چاہے ۔۔۔۔”
“اپنے گھر کا کام کرنا تو عزت کی بات ہے ۔۔۔یہ توفیق تو اللّه قسمت والوں کو دیتا ہے آنٹی ۔۔۔۔”
بےبی آنٹی لا جواب ہوئی تھیں ۔۔۔
“میری بیٹی ۔۔۔”
وہ سحر کا ماتھا چوم کر بولی تھیں ۔۔۔
“کیا باتیں ہو رہی ہیں بھئ….خالا بھانجی میں ؟؟”
عقیلہ بيگم قرآن کی منزل پوری کر کے کچن میں آئی تھیں
“عقیلہ بہت اچھی تربیت دی ہے تم نے میری سحر کو ۔۔۔ماشاءالله دل جیت لیا ہے اس نے میرا ۔۔”
“بس میری کیا مجال بس میرے اللّه کا کرم ہے نگو ۔۔۔اس نے پردہ رکھا ہوا ہے میرا ورنہ میں کسی کام کی نہیں ہوں ۔۔۔”
وہ دعا مانگنے کے انداز میں دونوں ہاتھ جوڑ کر اوپر دیکھتے ہوۓ سرشار ہو کر کہہ رہی تھیں
“مما ۔۔۔کام سے جا رہا ہوں تھوڑی دیر میں آتا ہوں”
عاشر گھڑی کلائی پر باندھتے ہوۓ عجلت میں کہہ رہا تھا
“عاشر بیٹا سحر کو کالج چھوڑ آؤ گے ؟؟”
سحر کی امی جلدی سے بولی تھیں
“هممم ۔۔۔۔۔۔۔وہ گھڑی پر ٹائم دیکھ کر سوچ رہا تھا
“جی ۔۔۔خالا اگر یہ دس منٹ میں تیار ہو جاتی ہیں تو ۔۔۔یس آئ کین ۔۔۔۔”
“جاؤ بیٹا باقی کا ناشتہ میں دیکھ لوں گی ۔۔۔تم جاؤ عاشر میاں کے ساتھ ۔۔۔سکون سے چلی جاؤ گی کم از کم آج تو ۔۔۔”
“نہیں میں۔۔۔۔۔میں جیسے روز جاتی ہوں آج بھی ویسے ہی چلی جاؤگی امی ۔۔۔ان کو کیوں تکلیف دے رہی ہیں آپ ۔۔۔”
وہ منمنائی تھی
“Go ….my daughter……go and come back soon…..will be waiting for you …”
بےبی آنٹی نے انکار کا حق چھین لیا تھا اس جملے سے ۔۔۔۔
وہ بھاگ کر کمرے میں تیار ہونے گئی تھی
لگ بھگ دس منٹ ہی لگے ہونگے وہ بڑی چادر اوڑھے دروازے کی طرف دوڑھی تھی مگر وہاں گاڑی اور عاشر کو نہ پا کر سبکی کا شدید احساس ہوا تھا
“کیا ضرورت تھی سحر ازلی غریبوں کی طرح اتنا خوش ہو کر تیار ہونے کی ۔۔۔اگر اللّه نے تجھے گاڑی میں بٹھانا ہوتا تو تم اس غریب گھر میں تھوڑی پیدا ہوتی ۔۔۔۔کسی بڑے سے بنگلے میں پیدا ہوتی ۔۔۔بھوکی کہیں کی ۔۔۔”
وہ خود کو کوس رہی تھی ۔۔۔
گھر کے دروازے سے سحر کے والد سائیکل لئے باہر آئے تھے ۔۔۔
وہ پرانے مگر صاف ستھرے كپڑے پہنے ہوۓ تھے پاؤں میں بوسیدہ سے پلاسٹک کے بوٹوں کا جوڑا پہنے وہ بہت پسماندہ لگ رہے تھے
“کیا ہوا میری بیٹی ایسے کیوں کھڑی ہے ؟؟”
“ابو وہ ۔۔۔۔کچھ نہیں ۔۔بس کالج جانے کے لئے نکلی ہوں ۔۔۔”
وہ بمشکل بول پائی تھی ۔۔۔
“بیٹا آپ میری شہزادی بیٹی ہو ۔۔۔ایسے اداس نہ ہوا کرو پھر مجھے لگتا ہے شاید میری محنت اور محبت میں کوئی کمی رہ گئی ہے ۔۔۔”
“میں آج ہی پیسوں کا بندوبست کرتا ہوں اپنی بیٹی کو رکشہ لگوا کر دوں گا بس آج آخری بار آپ اس طرح چلی جاؤ کالج ۔۔ آج آخری بار اپنے باپ کو معاف کر دو ۔۔۔میں آپ لوگوں کی کفالت ٹھیک سے نہیں کر پا رہا ۔۔۔”
وہ سر جھکا کر بول رہے تھے ۔۔۔
“ابو ؟؟؟”
وہ الفاظ نہیں تھے مانو کسی نے سحر کے دل و دماغ پر تیزاب انڈیلا تھا ۔۔۔اسے لگ رہا تھا وہ سب جو وہ ابھی دل میں اپنے آپ سے کہہ رہی تھی ۔۔۔وہ سب اس کے باپ نے سن لیا تھا ۔۔۔
وہ باپ کو ہاتھ سے پکڑ کر اندر لے آئی تھی
“ابو ۔۔۔آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ؟؟؟میں نے ،امی نے ،ہم نے کب کہا ہے ایسا ؟؟؟”
“ضروری تو نہیں ہر بات زبان سے ہی کی جائے ۔۔۔میری بیٹی روز خوار ہو کر پڑھنے جاتی ہے مستقل پریشان رہنے لگی ہے ،یہ بات مجھ سے چھپی تھوڑی ہے ۔۔۔”
“ابو ایسا نہیں ہے ۔۔۔”
وہ منافق ہو کر یہ سب کہہ نہیں پا رہی تھی مگر باپ کو ناراض کرنا تو زندگی موت کے مترادف تھا
“سحر آجائیں آپ کو کالج چھوڑ آؤں گاڑی تھوڑا مسئلہ کر رہی تھی ایک ٹیسٹ ڈرائیو لے رہا تھا آپ کو چھوڑ کر میکاینک کے پاس لے کر جاؤں گا “
عاشر کسی فرشتے کی طرح وہاں آیا تھا ورنہ سحر کے لئے صورتحال کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا
“شکریہ عاشر بیٹا میری بیٹی کو آج آپ چھوڑ آؤ کل سے انشااللہ رکشہ کروا دوں گا ۔۔۔”
وہ عاشر کا احسان مند ہو رہے تھے
سحر کبھی باپ کو کبھی عاشر کو دیکھ رہی تھی
“جلدی کریں سحر مجھے کام سے جانا ہے “
“جاؤ میری بیٹی ۔۔۔”
سحر کے والد سحر کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے تھے ۔۔۔
وہ تھکے قدموں عاشر کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی
گاڑی چل پڑی تھی اس نے باپ کو سائیڈ مرر سے اس پرانی سائیکل پر دوسری جانب جاتے ہوۓ دیکھا تھا ۔۔۔
یوں لگ رہا تھا کوئی فرشتہ جا رہا ہے ۔۔۔باپ فرشتہ ہی تو ہوتا ہے ۔۔۔۔ہر بیٹی کے لئے ۔۔۔۔۔
جانے کیا بات تھی سحر کا دل آج باپ کو
جاتے دیکھ منہ کو آرہا تھا ۔۔۔
“عاشر آپ اس طرف کدھر جا رہے ہیں میرا راستہ اس جانب ہے جہاں ابو گئے ہیں ۔۔۔
باہر نظر پڑنے پر سحر آہستہ سے بولی تھی
“ہاں جانتا ہوں یو ٹرن کے لئے آگے اوپن جگہ ہے یہاں جگہ کم ہے پھر پیچھے موڑوں گا گاڑی ۔۔۔”
سحر آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟آپ کی رنگت پیلی کیوں پڑ رہی ہے ؟؟
عاشر اس پر ایک نظر ڈال کر بولا تھا
“میں ٹھیک بس پتہ نہیں کیوں آج ابو کو جاتا دیکھ کر دل اداس ہو گیا ہے مجھے لگتا ہے میں اچھی بیٹی نہیں ہوں شاید ۔۔۔ابو سارا دن آج میری وجہ سے پریشانی میں گزاریں گے ۔۔۔”
“آپ ہر وقت منفی کیوں سوچتی ہیں سحر؟؟؟”
“مایا کہتی ہیں اللّه ہمیں ہماری امیدوں کے مطابق نوازتا ہے”
سحر نے عاشر کو سوالیہ انداز سے دیکھا تھا
“مایا میری دوست ہیں ۔۔۔بہت اچھی دوست ۔۔۔لندن ہوتی ہیں ۔۔۔میری کمپنی میں میری ایمپلائی ہیں مگر ہم بیسٹ فرینڈز ہیں ۔۔۔”
میں جب کبھی بہت پریشان ہوتا ہوں ان کے پاس جا کر ساری پریشانی چھو منتر ہو جاتی ہے ۔۔۔”
“She is just amazing….she is a magical girl!!!”
گاڑی اچانک رکی تھی سحر نے عاشر سے نظر ہٹا کر آگے دیکھا تھا ۔۔۔۔
بہت سے لوگ ایک جگہ جمع تھے کوئی کہہ رہا تھا کسی تیز رفتار ٹرالر نے اس آدمی کو اپنی زد میں لا کر نیچے دے دیا ہے ۔۔۔
صبح کا وقت تھا دھند کی وجہ سے اس کو اندازہ نہیں ہوا ۔۔۔
“O my God”
حاشر کہہ کر تیزی سے اترا تھا
سحر بھی ڈرتی ڈرتی نیچے اتری تھی
لوگ ۔۔۔۔۔بہت سے لوگ ۔۔۔۔۔خون۔۔۔۔بے تہاشہ خون ۔۔۔۔۔
اور وہ بوسیده پلاسٹک کے بوٹ ۔۔۔۔۔جو خون سے لال ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا تھا وہ ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہوئی تھی ۔۔۔
سحر بی بی امتحان شروع ہو چکا ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب شہلا اکثر ماں کے غیر موجودگی میں اس رانگ نمبر سے بات کرنے لگی تھی ۔۔۔
اب وہ فاریہ کو کم پیسے بھیجتا وہ شہلا کو پیسے بھیجنے لگا تھا جو وہ کالج جاتے ہوۓ کسی دوکان سے ماں کا آئی کارڈ دیکھا کر لے لیتی ۔۔۔ماں کی رقم بھی وہ ایسے ہی لینے جایا کرتی تھی اب اس میں زیادہ رقم اس کے حصے میں آتی ۔۔۔
فاریہ بيگم بہت سے لوگوں کے ساتھ کسی کال سینٹر میں بیٹھے کسٹمر کیئر نمائندے کی طرح پورا دن گزار دیتیں ۔۔۔
ان کا دل ٹوٹا ہوا تھا وہ ایک انسان کی محبت کی کمی بہت سو سے بات کر کے پوری کرتیں ۔۔۔رات شوہر آتا تو کسی بادشاہ کی کنیز کی طرح ان کا ہر ہر کام ان کے کہے بغیر کرتی جاتیں ۔۔۔جب تک وہ سوتے نہ ان کی خدمت میں معمور رہتیں ۔۔۔وہ روز اس امید سے اپنے فرائض دوہراتیں کہ شاید آج وہ کوئی ایسا کہہ دیں جو برسوں سے نہیں کہا ۔۔۔ عورت کسی بھی عمر کی ہو اپنے محرم کی محبت کی منتظر رہتی ہے۔۔۔۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ زندگی کی باقی ضرورتوں کی طرح شوہر کی محبت اور توجہ کی خواہش بھی بار بار پروان چڑھتی ہے ۔۔۔
لوگ آخر کب سمجھیں گے بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ جب عورت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے نہ صرف جسمانی لحاظ سے بلکہ اعصابی لحاظ سے بھی وہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہے ۔۔۔۔تب ۔۔۔۔
اسے اپنے محرم کی توجہ ،محبت اور اس احساس کے اعتراف کی زیادہ ضرورت ہوتی کہ وہ بہت خاص ہے وہ اہم ہے ۔۔۔۔
بہت اہم ہے اس مرد کی زندگی میں جس کی نسل پالتے پالتے ۔۔۔۔
تا کہ اس کا نام باقی رہے ۔۔۔۔
وہ خود مٹتی جا رہی ہے ۔۔۔
مگر ہمارے ہاں اس بات کو کوئی نہیں سمجھتا اگر کوئی جوڑا جوان اولاد کے بعد ایک دوسرے سے محبت دیکھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے چونچلے کا نام دیا جاتا ہے مگر کوئی عمر رسیده مرد غلط جگہ پر جائے اور پکڑا جائے تو وہ اتنا معیوب نہیں سمجھا جاتا مگر بیوی سے محبت رن مریدی کی زمرے میں ڈال دی جاتی ۔۔۔
فاریہ بيگم نے والدین اور اكلوتے بھائی کی عزت روند کر پسند کی شادی کی تھی وہ یہ بھول گئی تھیں کہ اپنے والدین سے زیادہ کوئی آپ کو نہیں چاہ سکتا ۔۔۔
وہ یہ بھول گئی تھیں کہ اپنے ماں باپ اور بھائی کی عزت مٹی کر کے وہ کیسے عزت کی زندگی گزار سکتی ہیں ۔۔۔
ان کے شوہر شا ہ جہان ان کو گھر میں رکھ کر سمجھو بھول گئے تھے وہ محبوبہ سے کب صرف بیوی رہ گئی یہ وہ خود بھی نہیں جانتے ۔۔۔
فاریہ بيگم شوہر کی بے اعتنائی سے لمبے عرصے تک ڈپریشن میں رہیں ۔۔۔وہ کبھی ہنستی کبھی بلا وجہ رونے لگتیں ۔۔۔ بس اسی حالت میں ایک دن کسی ان نون نمبر سے بات ہو گئی بس پھر یہ سلسلہ کب عادت بنا ۔۔۔کب ضرورت ۔۔۔اور اب یہ دوا بن چکا تھا
فاریہ بيگم کی تمام تر تکلیفوں کی دوا ۔۔۔۔
وہ اپنی جوان بیٹی پر وہ نظر رکھ ہی نہیں سکتی تھیں جو رکھنا ضروری تھی ۔۔۔
شہلا کے پاس اب اتنی رقم جمع ہو چکی تھی کہ وہ اپنا ذاتی موبائل رکھ سکے ۔۔۔
اس نے ایک امیر دوست کی طرف سے سالگرہ کا تحفہ بتا کر ایک جدید موبائل لے لیا تھا ۔۔۔
شروع شروع میں وہ موبائل کا استعمال محتاط ہو کر کرتی رہی مگر اب وہ بنا کسی کے ڈر کے آرام سے اس کا
استعمال کرنے لگی تھی
ماں کی ذہنی حالت اس کی پیدائش کے دوران بھی اچھی نہیں تھی لہذا ڈپریشن اس کو وراثت میں ملا تھا
وہ بہت سے لوگوں کے ساتھ نہ صرف فون پر باتیں کرتی بلکہ اکثر دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے اور ان میں سے کچھ کو وہاں ملنے بھی بلاتی ۔۔۔اور کوئی نمبر مانگتا تو دے بھی دیتی ۔۔۔
اس نے شعور کے پہلی سیڑھی پر ہی یہی کرتے دیکھا تھا اپنی ماں کو ۔۔۔۔یہ سب کرنا ٹھیک ہے ۔۔۔
یہ سب نارمل بات ہے ۔۔۔اس نے یہی سیکھا تھا ۔۔۔
ماں نے اسے منع کرنے کی بہت کوشش کی ۔۔۔مگر جب والدین کا اپنا گریبان بدبودار ہو پھر سمجھانے پر اولاد کی زبانیں لمبی ہوجایا کرتی ہیں ۔۔۔
ماں کی غلط عادت کا اس پر گہرا اثر ہوا تھا ۔۔۔
