195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 14

سحر ناشتے کے برتن دھو کر گھر کی طرف متوجہ ہوئی تھی پورا گھر طرح طرح کی عجیب و غریب تصاویر سے آویزاں کیا گیا تھا جن میں کچھ کو اگر سمجھ کر دیکھا جائے تو ان کے مطلب بہت غیر اخلاقی نکل رہے تھے ۔۔۔

“یا اللّه اس گھر میں تو رحمت کے فرشتے آتے ہی نہیں ہو گے کدھر پھنس گئی ہوں میری نماز ۔۔۔۔کیسے قبول ہو گی ۔۔۔”

وہ یہ سوچ کر روہانسی ہوئی تھی ۔۔۔

وہ بےبی کے کمرے میں گئی تھی جہاں ان کی نائٹی بیڈ پر پڑی تھی جس سے اسے اندازہ ہوا تھا کہ یہ کمرہ ان کا ہی ہے ۔۔۔

بےبی کے کمرے میں ان کے بیڈ کے سامنے ایک بڑی سی دو سینگوں والے جانور کی پینٹنگ تھی جس کا جسم انسانوں والا تھا اور شکل کسی وحشی جنگلی جانور کی تھی جبکہ اس کی آنکھوں میں آگ تھی ۔۔۔سحر ایک دم اس پر نظر پڑنے سے سہمی تھی اس کو جتنا بھی ایزی لیا جاتا مطلب یہی نكلتا تھا کہ اس پینٹنگ کا تھيم ڈیول یعنی شیطان تھا ۔۔

“یہ لوگ اتنے گمراہ ہو گئے ہیں ؟؟؟یا میرے اللّه ۔۔۔۔”

سحر نے اس تصویر کی طرف سے اپنے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بےبی کی نائٹی واش روم کے باہر جو آج کل بڑی سی جگہ چھوڑ دی جاتی ہے آپ اسے چینجنگ یا ڈریسنگ روم بھی کہہ سکتے ہیں وہاں ہینگ کردی ۔۔

واش روم سے پانی کی آواز آرہی تھی شاید کوئی نل کھلا رہ گیا تھا سحر اندر گئی نل بند کیا تو اس کی نظر وہاں موجود مردانہ نائٹی پر پڑی جو کسی بڑی عمر کے آدمی کی سائز کی تھی ۔۔۔

“انکل کو مرے تو عرصہ بیت گیا ہے تو یہ ان کی تو نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔”

سحر ہم كلامی میں بولی تھی واش روم کے باہر مردانہ سلیپر کی موجودگی نے سحر کی پریشانی میں اضافہ کیا تھا ۔۔۔

ڈریسنگ روم میں موجود الماری کا دروازہ آدھ کھلا تھا شاید عجلت میں بےبی آنٹی بند کرنا بھول گئیں تھیں سحر وہ بند کررہی تھی جب اس کی نظر الماری کے سب سے نیچے خانے میں موجود شراب کی مہنگی بوتلوں پر پڑی تھی سحر نے گویا کوئی سانپ دیکھ لیا تھا وہ دروازہ پورا بند کرتے وہاں سے بھاگ کر اپنے کمرے میں آئی تھی وہ دروازہ بند کر کے سر پکڑ کر رونا شروع ہوئی تھی وہ کافی دیر اسی حالت میں روتی رہی پھر بھی دل پر سکون نہیں ہوا تھا ۔۔۔

وہ بھاگ کر وضو کر کے نکلی جائے نماز بچھائی تو اس کی نظر کمرے میں موجود پینٹنگز پر پڑی جس میں سے ایک شاید کسی ہالی وڈ کے فی میل سنگر کی تھی وہ مختصر سا لباس پہنے مائک منہ سے لگائے نیچے کی طرف جھکی ہوئی تھی بنانے والے نے نہایت مہارت سے اس کے جسم کے خدوخال کو واضح کیا تھا وہ کسی کنسرٹ پر بنائی گئی تھی اس کے چہرے پر اس کے سُر رنگ بکھیر رہے تھے ۔۔۔

اس کے علاوہ کچھ جانوروں کی خوبصورت ۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔خوبصورت کہنا شاید کم رہے گا ۔۔۔وہ تصاویر اپنی قیمت کا اعلان چیخ چیخ کر کر رہی تھیں ۔۔۔

“میرا دم گھٹ جائے گا اللّه ادھر ۔۔۔۔۔میں نے کبھی نماز نہیں قضا کی پھر اس بت خانے میں ۔۔۔میں کیسے ؟؟؟؟”

وہ جائے نماز پر سجدے کی حالت میں پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی ۔۔۔

“سحر کبھی چڑیا کو اپنا گھونسلہ بناتے دیکھا ہے ؟؟؟

عقیلہ بيگم کی آواز دل کے کیسی کونے سے کانوں میں سنائی دی تھی ۔۔۔وہ فورا اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔

“جی امی دیکھا ہے بچپن میں جب ابو مجھے اپنے ساتھ دادا کی زمینوں پر لے کر جاتا تھے نا ۔۔۔۔

تب۔ ۔۔۔ہاں امی تب میں نے بہت بار چڑیوں کو چھوٹے چھوٹے تنكے ۔۔۔۔۔۔۔اپنی چھوٹی سی چونچ میں لے جاکر اوپر درخت میں اپنا چھوٹا سا ۔۔۔۔۔۔

اتنا سا ۔۔۔۔وہ ہاتھ سے اشارہ کر کے بولی تھی ۔۔۔۔ہاں امی اتنا سا گھونسلہ بناتے دیکھا تھا ۔۔۔۔

امی اکثر وہ باریک تنكا گر جایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔

پھر وہ صبر سے وہ ہی عمل پہلے کی طرح دوہراتی تھی ۔۔،۔۔

مگر امی اس کے ساتھ تو اس کا نر چڑا بھی ہوتا تھا ۔۔۔۔۔

امی عاشر تو مجھے زين کا کہہ کر گئے ہیں ۔۔۔

وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر دوبارہ رو دی تھی ۔۔۔

“سحر مرد ضدی بچے کی طرح ہوتا ہے۔۔۔”

عقیلہ بيگم کی ملائم آواز ایک بار پھر کانوں میں رس گھول رہی تھی ۔۔۔۔

سحر نے اس بات پر آنسو پونچھے تھے وہ اٹھی اور ساری تصاویر حفاظت سے اتاری اور باہر گیلری میں رکھ دی۔۔

پورا کمرہ اچھے سے صاف کیا اور سکون سے ظہر کی نماز ادا كی اب وہ کمرے سے نکل کر لان میں آئی تھی مسڑ خان گیٹ سے باہر تھے وہ سر سے پاؤں تک بڑی چادر میں ڈھکی ہوئی تھی اس کے کانوں میں زين کی آواز آئی تھی وہ شاید مسٹر خان سے اندر آنے کا کہہ رہا تھا پھر گیٹ کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی زين اندر داخل ہوا تھا سحر چہرہ چھپا کر بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی تھی وہ لاک لگا کر بھی خوف زدہ سی دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی دروازے پر دستک ہوئی تھی زين نے سحر کو اندر آتے نہیں دیکھا تھا سحر بنا کوئی جواب دیے دم سادھے بیٹھ گئی تھی

“بھابھی میں زين ہوں،عاشر نے بھیجا ہے کہہ رہا تھا سحر کو دیکھ لو پہلا دن تھا اکیلا چھوڑ آیا ہوں پریشان

ہوئی تو باہر گھمانے

لے جاؤ ۔۔۔”

کوئی جواب نہ پا کر اب وہ دوبارہ نوک کر رہا تھا

“بھابھی آپ سو رہی ہیں ؟؟؟آپ ٹھیک ہیں نا ؟؟؟”

اب اس نے عاشر کا نمبر ملایا تھا

“ہاں عاشر تیرے گھر پر ہوں بھابھی شاید سو رہی ہیں کب سے ان کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہوں تم خود ہی دیکھ لو فون کر کے ان کو ۔۔۔”

وہ اچھا اچھا کہہ کر فون کاٹ چکا تھا سحر نے موبائل اپنے ہاتھ میں پکڑا تھا وہ عاشر کے فون کی منتظر تھی جیسے ہی بیل ہوئی فورا فون اٹھایا تھا

“ہہہہہہ ۔۔۔۔ہیلو؟؟؟عاشر ؟؟؟”

“آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟؟؟زين کو کیوں بھیجا ہے میرے پاس ۔۔مممم۔۔۔میں تو آپ کی بیوی ہوں نا؟؟؟”

“ہیلو بھابھی میں زين ہوں یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں ؟؟؟”

“عاشر میرا بھائی سے بڑھ کر دوست ہے آپ کا پہلا دن تھا تو آپ کی دلجوئی کے لئے مجھے بھیج دیا اس میں غلط کیا ہے ؟؟؟”

“آپ چلے جائیں زين بھائی مجھے اپنے شوہر کے علاوہ کسی کی دلجوئی کی ضرورت نہیں ہے”

وہ فون کاٹ کر آنسو صاف کرتے ہوۓ دوبارہ جائے نماز پر آبیٹھی تھی ۔۔۔

اس وقت کسی بھی نماز کا وقت نہیں تھا لیکن جائے نماز پر بیٹھتے ہی اسے اپنا آپ خاص تحفظ کے حصار میں محسوس ہوتا تھا ۔۔۔

اس نے موبائل پر قرآن پاک نکال کر پڑھنا شروع کیا تھا

وہ عصر پڑھ کر اٹھی تھی بھوک کا احساس زور پکڑے ہوۓ تھا وہ دروازہ کھول کر کچن میں آئی تھی فریج سے چکن نکالا یخنی پلاؤ بنایا اور رج کے کھایا وہ سکون سی بیٹھی انگلیاں چاٹ رہی تھی جب عاشر وہاں آیا تھا وہ کب سے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا مگر وہ سب سے بے خبر پیٹ پوجا میں مشغول تھی ۔۔۔۔

یا شاید نظریں حلال تھیں تبھی سحر کے اندر کے الارم سسٹمسٹم نے اس کو آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا

“میرے بیوی کتنے دن سے بھوکی تھی ؟؟؟”

عاشر نے مذاق اڑاتے انداز میں کہا تھا اچانک آواز پر پلیٹ سحر کے ہاتھ سے چھوٹی تھی

“آپ کب آئے عاشر ؟؟؟”

“میرا مطلب ہے السلام علیکم “

وہ پلیٹ اٹھا کر ہاتھ دھوتے ہوۓ بولی تھی

“وعلیکم السلام ۔۔۔۔زوجہ محترمہ ۔۔۔”

“کھانا نکال دوں۔۔؟ بہت مزے کا ہے ۔۔۔میں نے خود بنایا ہے”

وہ معصومیت سے بولی تھی

“نہیں ۔۔۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔چلو نکال دو ۔۔اصل میں میں مایا کے ساتھ لنچ کر کے آیا ہوں سحر ۔۔۔۔میٹنگ کے بعد ۔۔۔۔”

سحر کا دل اس بات سے دکھا تھا مگر وہ نارمل انداز میں مسکرا کر پلاؤ نکال لائی تھی

“اپ ہاتھ دھو لیں عاشر”

“نہیں چمچ لا دو میں ہاتھ سے نہیں کھاتا “

“عاشر کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا اور ہاتھ سے کھانا تو سنت ہے نا اور مزہ بھی زیادہ آتا ہے اور مفت میں ثواب بھی ۔۔۔وہ آپ کی زبان میں ٹو ان ون”

“میں خود کھلاؤ گی آج سے آپ کو کھانا وہ نوالہ بنا کر عاشر کی طرف بڑھی تھی اب وہ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر اس کو پلاؤ کھلا رہی تھی وہ چپ چاپ پوری پلیٹ کھا گیا تھا اب وہ سحر کا ہاتھ کلائی سے تھام کر انگلیاں چاٹ رہا تھا

“بہت مزے کا پلاؤ ہے سحر میں فُل ہوا تھا پھر بھی پیٹ نے انکار نہیں کیا”

وہ ہاتھ دھوتی سحر کو محبت سے کہہ رہا تھا

“عاشر آپ کو تو رات تک آنا تھا نا ؟؟”

“ہاں میٹنگ جلدی ختم ہو گئی تھی تو بس مایا نے لنچ کا کہا ورنہ کب کا آگیا ہوتا گھر ابھی وہ اتنا بڑا ٹینڈر ملنے پر آؤٹنگ پر جانا چاہ رہی تھی مگر میں اسے اس کے فلیٹ پر چھوڑ کر اپنی جان کے پاس آگیا ۔۔ “

وہ لاؤنچ میں موجود صوفے پر ڈھیر ہوتے ہوۓ بولا تھا

“سحر؟؟”

“جی سحر کی زندگی ؟؟”

“ایک بات ماننی پڑے گی نکاح کے اس حلال رشتے کا اپنا ہی سکون ہے جب سے تم آئی ہو تمہیں پا کر حتی کے آج سارا دن تمہیں سوچ کر بھی ایسا لگا جیسے میں بھی اللّه کی عبادت کر رہا ہوں ۔۔۔”

“بلکل ایسا ہی ہے اللّه نے جو عورت آپ کی نکاح میں دی ہے اس سے محبت کرنے کا حکم بھی دیا ہے اور اس پر عمل عبادت ہی تو ہے ۔۔۔ہر وہ کام کرنا جس کا اس نے حکم دیا اور جس سے ہمیں باز رهنے کو کہا اس سے کنارہ کرنا عبادت کا درجہ رکھتا ہے ۔۔۔”

“کتنی عجیب بات ہے نا عاشر دونوں باتوں پر عمل کرنے میں فقط ہمیں ہی فائدہ پہنچتا ہے اور عبادت کا ثواب الگ سے ۔۔ “

“اللّه ہم سے کتنی محبت کرتا ہے نا۔۔۔”

وہ کچھ سوچ کر مزید بولی تھی

“عاشر آپ کو کیوں لگا کہ اگر اپ نہیں ہیں تو کوئی اور ہونا چاہیے اس خلاء کو بھرنے کے لئیے ؟؟؟ آپ کو کس بات سے ایسا لگا کہ میری بوریت ایک نامحرم دور کر سکتا ھے ؟؟”

“آپ نے زين کو اپنی عزت کے پاس اپنی غیر موجودگی میں کیا سوچ کر بھیجا ؟؟؟

“یار اب تم سینٹی ہو رہی ہو ۔۔۔۔”

“اس کو میرا بھائی سمجھو”

“تو کیا بھائی پر بیوی حلال ہوتی ہے یہاں کے اسلام میں ؟؟؟”

“کیا بکواس ہے سحر وہ اس مقصد سے تھوڑی آیا تھا”

“وہ جس مقصد سے بھی آیا تھا بات وہ نہیں بات حد کی ہے ۔۔۔۔۔وہ اگر آپ کا سگا بھائی بھی ہوتا تو میرے لئے اس سے تنہائی میں بات چیت کرنا حرام ہے ۔۔۔۔”

“دیور ہے تمہارا یار”

“دیور کو میرے مزہب میں موت کہا گیا ہے یہ نہیں جانتے آپ ؟؟؟”

عاشر کی ریڑ کی ہڈی میں کرنٹ لگا تھا سحر کی بات سے وہ منہ کھولے سحر کو تاک رہا تھا سحر اس کے سامنے صوفے پر آ بیٹھی تھی وہ پھر سے پٹری پر تھی

“تو مسڑ عاشر ۔۔۔۔ہمارا مذھب ہر اس رشتے سے ہمیں پردے کا حکم دیتا ہے جس سے جلد یا بدیر ہمارا نکاح ممکن ہو ۔۔۔۔”

“لڑکی کا باپ،بھائی ،بیٹا، شوہر ،اس کے بھائی اور بہن کے بیٹے مطلب بهانجے بھتیجے ،لڑکی کا سسر،ماں کا بھائی،باپ کا بھائی،بہت زیادہ ضعیف مرد جس کی شہوت ختم ہو چکی ہو،بہت چھوٹاچھوٹا بچہ جو عورت کی نسوانیت سے ناآشنا ہو اور چند اور ان کے علاوہ تمام رشتوں سے اس کا شرعی پردہ کرنا ضروری ہے اور آپ کہہ رہے ہیں زین سے جو کسی کھاتے میں ہی نہیں ۔۔۔۔میں اس سے دلجوئی کر لیتی وہ بھی تنہائی میں ۔۔۔”

“عاشر آپ جانتے ہیں ان محرم رشتوں میں بھی شوہر کے علاوہ ایسی حالت میں سامنے آنا کہ آپ کی زیب و زینت کی نمائش ہو رہی ہو بہت بڑا گناہ ہے ۔۔۔”

“اور تو اور دیور،جیٹھ اور سسر کے ساتھ آپ اس قدر فری ہو کہ وہ آپ کو دیکھ کر یا سوچ کر شہوت محسوس کرنے لگے حتی کہ ان کو نزول ہو جائے تو آپ کا نکاح اپنے شوہر سے خطرے میں پڑ سکتا ہے کیوں کہ ایک مسلمان عورت ایک وقت میں دو مردوں کے لئے حلال نہیں ہو سکتی”

(اگر کوئی اس بات کی تصدیق چاہتا ہے تو میں اس ویڈیو کا لنک دے سکتی ہوں ان باكس میں جہاں سے میں نے یہ جان کر لکھا ہے باقی حتمی علم میرے اللّه کے پاس ہے میں نے بس آپ بہنوں کو اپنے لباس اور اطوار میں محتاط رہنے کے لئے یہ بات شامل کی ہے)

“چلو چھوڑو سحر غلطی ہو گئی مجھ سے آئندہ میں یہ غلطی کبھی نہیں کروں گا”

“اور مجھے آپکی زوہیب والی حرکت پر بھی حیرانگی ہوئی تھی جو جوان جہان لڑکے کو میرا ذاتی ڈرائیور بنا بھیجا تھا ۔۔۔”

“عاشر اپنی بیوی کو ایسی مشکل میں ڈالنا جس سے اس کے ایمان میں خرابی پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکے یہ بھی گناہ ہے ۔۔۔۔شوہر کا فرض بنتا ہے کہ وہ خود ہی اپنی بیوی کے محرم اور نامحرم رشتوں پر چیک رکھے ۔۔۔۔۔اعتماد اور اعتبار اپنی جگہ مگر جانتے بوجھتے بیوی کو ایسے بے بنیاد رشتوں میں الجھا کر گناہگار کرنا ۔۔۔۔۔اس کا گناہ سراسر اس سرپرست کو جاتا ہے جو آپ کی نگرانی کرنے سے قاصر رہا ۔۔”

” بعض اوقات عورت کچھ مردوں کی طرح بہک کر اپنا دامن بد نامی کے کانٹوں سے بھر لیتی ہے ہر عورت شیطان کا مقابلہ نہیں کر پاتی ۔۔۔نتیجہ وہی نکلتا ہے جس سے آج کل اخبارات اور ٹی-وی بھرا پڑا ہے ۔۔۔۔۔پھر یا تو شوہر قتل ہو جاتا ہے یا پھر غیرت کے نام پر بیوی۔۔۔۔”

“اللّه کے بندوں یہ نوبت آنے ہی کیوں دیتے ہو ؟؟؟”

وہ سحر کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا سحر نے لمبی سانس کھینچ کر مسکرا کر اس کی طرف دیکھا تھا

میری بیوی تو بہت کمال کی لڑکی ہے ضرور میری کسی انجانی نيكی کا صلہ ہو تم ۔۔۔

عاشر جیسے عورت کے لئے یہ لحاظ ہے ویسے ہی مرد کے لئے بھی کچھ کے علاوہ باقی تمام رشتوں سے کچھ حدود بنائی گے ہیں ان کی پاسداری آپ پر بھی لاگو ہوتی ہے ۔۔ “

“اچھا چلو باقی لیکچر بعد میں دے دینا ابھی باہر چلیں؟؟؟

“جی میں اپنا عبایا پہن کر آتی ہوں”

عاشر گاڑی باہر نکال چکا تھا جب سحر اس میں آکر بیٹھی تھی کچھ پڑوس کی خواتین نے سحر کا حلیہ دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا تھا کیوں کہ وہ مایا کواکثر عاشر کے ساتھ دیکھتے تھے جو قیمتی چست عبایے پہنتی جس میں اسکی ہڈیاں تک گنی جا سکتیں ۔۔۔جبکہ سحر کا عبایا کھلا تھا،موٹے کپڑے کا تھا اور تنگ نہیں تھا جس سے نا اس کی زينت جھلکتی ۔۔۔ وہ شرعی پردے کے تینوں تقاضے پورا کر رہا تھا ۔۔۔

زين ٹیرس پر کھڑا کافی پی رہا تھا جب اس کی نظر دونوں پر پڑی تھی اس نے ناگواری سے منہ دوسری طرف کیا تھا

“بڑی آئی حاجن ۔۔۔ دو دن ۔۔۔۔بس دو دن کی مار ہے اس کا یہ پردہ ۔۔ “

وہ زیرلب بڑبڑایاتھا ۔۔

۔***************۔

“سیف”

“”جی سیف کی جان”

“آپ کو بیٹا چاہیے کہ بیٹی؟؟؟”

” کیا یہ تمہارے بس میں ہے شہلا،میری چاہت کے مطابق مجھے اولاد دینا ؟؟؟”

“نہیں ۔۔۔مگر پھر بھی پہلی اولاد ہے ہماری ۔۔ کچھ تو آپ بھی سوچتے ہو گے ۔۔۔جانے نہیں ۔۔۔تو انجانے میں ۔۔ “

“میرا دل کرتا ہے شہلا میری پہلی اولاد بیٹی ہو”

“لو جی ۔۔۔بیٹی کس کام کی ؟؟؟”

“بیٹی ہی کام کی ہوتی ہے شہلا ورنہ اللّه بیٹی کو رحمت نہ کہتا ۔۔۔اللّه کی رحمت روٹھ جائے تو اس کی دی ہر نعمت زحمت بن جایا کرتی ہے ۔۔ “

وہ شہلا کے ساتھ لیٹا سر پر ہاتھ رکھے چھت کو تاکتے ہوۓ بول رہا تھا

“اچھا آپ کو کیوں چاہیے بیٹی ؟؟؟”

“میں اسے بتاؤں گا کہ تم میرا مان ہو ۔۔۔کبھی تم پر کوئی کمزور لمحہ آئے تو بس اتنا یاد رکھنا ۔۔۔۔باپ بیٹیوں کے دم سے سر اٹھا کر چلا کرتے ہیں ۔۔۔”

“شہلا ؟؟؟”

وہ شہلا کی طرف کروٹ لے کر بولا تھا ۔۔۔

جی سیف میں سن رہی ہوں وہ بھی سیف کی طرف مڑی تھی

“میں اپنی تمام غلطیوں کی تلافی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔میں اس لئے بیٹی چاہتا ہوں”

“کیا مطلب ؟؟؟”

شہلا نے بھنویں اچکائی تھیں

“میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی بیٹی کی اتنی عزت کروں اسے اتنی محبت کروں اسے اتنی اہمیت دوں کہ کل اگر کوئی اسے دو کوڑی کا کرنے لگے تو وہ ایسا کرنے میں ناکام ہو جائے ۔۔۔۔میں اپنی بیٹی کو اتنا اعتبار دوں کہ وہ کل مجھے اپنی پسند بتانے میں اپنا دوست سمجھے ۔۔۔۔۔”

“میں اپنی تربیت سے اپنے جیسے سیف کو مات دینا چاہتا ہوں”

آنسو سیف کے گال کو چھو کر گردن پر بہہ نکلا تھا

“میں اسے اپنا دوست بناؤں گا ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔میں اپنی بیٹی کا دوست بننا چاہتا ہوں ۔۔۔بہترین دوست ۔۔۔”

“میں اس کی پسند کو پسند کروں گا ۔۔۔۔عزت سے اسے اس کا محرم بنادوں گا ۔۔۔میں اپنی بیٹی کے بالغ ہوتے ہی پسند پوچھ کر نکاح کردوں گا ۔۔ میں اپنی بیٹی کو اس ظالم دنیا کے ہاتھوں کا پسندیدہ کھلونہ نہیں بننے دوں گا جو میرے جیسے سیف سے بھری پڑی ہے”

وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا شہلا کا دل کر رہا تھا آج وہ بھی اپنے گناہوں کا اقرار کر کے دل کا بوجھ اتار لے ۔۔۔۔

“شہلا ۔۔۔۔۔میں نے سنا ہے زنا قرض ہوتا ہے ۔۔۔تو کیا میرے گناہوں کا کفارہ میری بیٹی دے گی ؟؟؟”

“میری معصوم بیٹی ۔۔۔۔جس کا کوئی قصور بھی نہیں اس سب میں ۔۔۔”

وہ دونوں ہاتھوں کی گود بنا کر بیٹی کو محسوس کرتے ہوۓ بولا تھا

“مجھ سے غلطی ہو گئی ۔۔۔۔غلطی ۔۔۔۔۔”

اس کے رونے میں تیزی آئی تھی

“سیف آپ تو کفارہ ادا کر چکے اپنے جیسی گناہگار شریک حیات پا کر ۔۔۔۔۔”

شہلا یہ بات فقط خود سے بول پائی تھی ۔۔۔۔

“اللّه مجھے تب تک معاف نہیں کرے گا شہلا جب تک تم مجھے معاف نہیں کر دیتی ۔۔۔تم روز مجھ سے لڑتی ہو ۔۔۔میں تنگ آگیا ہوں شہلا ایک ہی گناہ پر سزاے موت کاٹ کاٹ کر ۔۔۔۔۔تهک گیا ہوں ۔۔۔میں ہزاروں لڑکیوں کے جھڑمٹ میں تم سے ہی سچی محبت کی ہے شہلا ۔۔۔میں لاکھ برا سهی مگر اللّه نے میرے دل میں فقط میری محرم کی محبت ڈال کر جیسے میرے گناہوں کی فائل میں سے کچھ صفات ضائع کر دئیے ہوں ۔۔۔۔”

“سیف کل ڈاکٹر مجھے فائنل تاریخ دے گی سو جاؤ صبح جلدی اٹھنا ہے ہمیں ۔۔۔”

سیف نے آنکھیں موند کے اچھا کہا تھا ۔۔۔

ڈاکٹر نے اسی ہفتے اپنا خاص خیال ركهنے کی تائید کی تھی یہ بلکل نارمل ڈیلیوری تھی کسی بھی وقت ہسپتال آنے کی ضرورت پیش آسکتی تھی

شہلا ابھی اندر ہی تھی سیف گاڑی پارکنگ سے نکالنے باہر آیا تھا ایک ايمبولینس گیٹ سے اندر آئی تھی سیف بھاگ کر مریض کو شفٹ کروانے آیا تھا

مریض کا چہرہ چادر سے ڈھکا ہوا تھا پیٹ کا ابهار اس کے حاملہ ہونے کی نشاندہی کر رہا تھا مریض کے ساتھ ایک بوڑھی عورت تھی جو گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی مریض کو تیزی سے اندر لے کر جایا گیا ڈاکٹر نے چیک اپ کر کے فورا آپریشن کا کہا تھا وہ عورت پریشان سی کھڑی تھی سیف اس کے پاس جا کر مریض کے متعلق پوچھنے والا تھا جب نرس غصے سے اس عورت کے پاس دوبارہ آئی تھی

“بی بی بتایا بھی تھا آپ کی بہو دل کی مریض ہے یہ بچہ پیدا کرنا اس کے بس کا کام نہیں مگر تم نے ضد سے یہ کام کروایا پھر کہا طبیعت خراب ہونے سے پہلے فلاں تاریخ کو بڑا آپریشن ہوگا اس میں بھی ضد ۔۔اوپر سے دائی کے حوالے کر کے اس کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے اب یہاں لے آئی ہو اور ابھی بھی بت بنی کھڑی ہو ؟؟؟؟”

“بیٹا کدھر ہے تمہارا ؟؟؟فیس بھرو اس کا آپریشن شروع ہو پوتا نہیں چاہیے اب کیا ؟؟؟”

“پوتا ہے ؟؟؟

اس کے چہرے پر چمک ابھری تھی

“کیا مطلب اگر پوتی ہے تو نہیں چاہیے ؟؟؟”

اس پر اس عورت کی خوشی بے رنگ ہوئی تھی

“بیٹا پاگل ہے میرا ۔۔۔رات سے بہت مار کٹائی کر رہا تھا آج پاگل خانے واپس جمع کروا آئی ہوں اسی نے رات دھکا دیا تھا اسے ۔۔۔ورنہ ٹھیک تھی ۔۔۔”

نرس اس عورت کے سکون پر حیران و پریشان ہوئی تھی

“اب بہو کو بچانا ہے کہ نہیں بی بی مدعے کی بات کرو”

اتنی دیر میں اس مریض کو تیزی سے دو وارڈ بوا ئے باہر لے آئے تھے ڈاکٹر بھی ساتھ تھی وہ فون پر کسی سینئر ڈاکٹر كو جلدی آکر کیس سنبھالنے کا کہہ رہی تھیں اس کھینچا تانی میں مریض کے چہرے سے چادر ہٹ گئی تھی سیف كی نظر پڑتے ہی اس کے پیروں سے زمین كھسکی تھی ۔۔۔۔

وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا

“ماں اور بچہ دونوں کا بچنا بہت مشکل ہے،جاہل عوام مریض کو مریض ہی نہیں مانتی”

“She is heart patient”

“Yes…her condition was not suitable for carring this child”

ڈاکٹر کی آواز سیف کو کسی کنویں سے آتی ہوئی سنائی دی تھی جو فون پر سینئر ڈاکٹر کو مریض کی ہسٹری بتا رہی تھی مریض کو فوری آپریشن کے لئے لے جایا جا رہا تھا