195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 20

اس شفیق خاتون نے سحر کو اپنی بوتل سے پانی پلایا سحر کافی دیر رو لینے کے بعد اب کافی حد تک ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی وہ پانی پی کر آنکھیں صاف کرنے لگی ۔۔۔

“بیٹا یہ پردیس ہے یہاں ایک دوسرے کا درد بانٹنے کے لئے کوئی خونی رشتہ ہونا شرط نہیں ہے ہم زبان اور ہم مذہب ہونا ہی کافی ہے ۔۔۔آپ مجھے پوری بتا بتاؤ ۔۔۔ہو سکتا ہے میں آپ کی کوئی بھی مدد نا بھی کر سکی مگر آپ کا بوجھ ضرور کم ہو جائے گا ۔۔

وہ عورت سحر کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر کر محبت سے گویا ہوئی تھی ۔۔

“خالہ ۔۔۔۔میں آپ کو خالہ ؟؟

“جی بیٹا آپ مجھے خالہ بلا سکتی ہیں ۔۔۔”

سحر نے عاشر کی حالت کے بارے میں پوری بات ان خاتون کے گوش گزار کر دی جیسے سن کر وہ خاموش ہوگئیں ۔۔۔

“دیکھو بیٹا ۔۔۔اچھی ہو یا بری تقدیر پر یقین رکھنا ہمارے ا یمان کا حصہ ہے پہلی بات ۔۔۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اللّه نے واضع الفاظ میں کہہ بھیجا ہے کہ دعا وہ واحد شے ہے جو تقدیر کے لکھے فیصلوں کو بھی بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔۔۔”

“میری بیٹی ۔۔۔۔اللّه نے قسمت میں جو بھی لکھا ہے اسی میں بندے کی بھلائی کا راز پوشیده ہے ۔۔۔یہ بات انسان جتنی جلدی سمجھ کر قبول کر لے زندگی اتنی ہی آسان ہو جاتی ہے”

“خالہ میں اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔”

سحر نے تڑپ کر کہا تھا

“آپ دعا کرو بیٹا ۔۔۔ اگر ویسا ہوا جیسا آپ چاہتی ہیں تو اللّه کا صرف شکر ادا کرنا لیکن اگر معاملہ آپ کی چاہت کے برعکس ہوا تو اللّه کا بہت زیادہ شکر ادا کرنا کیوں کہ انسان صرف اتنا ہی مانگ سکتا ہے جتنا اللّه چاہتا ہے مگر اللّه انسان کو اپنی شان کے شایان شان نوازتا ہے ۔۔۔۔”

“یہ دنیا،اس کے تمام رشتے ایک امتحان گاہ کے مترادف ہیں ۔۔۔۔یہ جگہ دل لگانے کی جا نہیں ہے میری بیٹی ۔۔۔۔۔اگر اللّه کچھ لیتا ہے تو اس کے بدلے میں اس سے بڑھ کر دیتا بھی ہے اور اس کا بندوبست لینے سے بہت پہلے وہ کر چکا ہوتا ہے ۔۔۔

بس جو بھی ہوتا ہے مضبوطی،خاموشی اور صبر سے سہتی چلی جاؤ ۔۔۔۔۔۔یاد رکھنا ہوتا وہ ہی ہے جو میرا رب چاہتا ہے ۔۔۔۔ہاں اگر ہم اس کی رضا میں راضی ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی محبت ہمیں سونپ دیتا ہے جس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں ہو سکتا بیشک ۔۔ “

سحر جانے کے لئے اٹھی تھی اس خاتون نے اسے دوبارہ مخاطب کیا تھا جس پر اس نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا تھا

“بیٹا یاد رکھنا اللّه اپنی رحمت کی بارش ہم سب گناہگاروں پر بھی کردیا کرتا ہے مگر اپنی آزمائش میں صرف انہی لوگوں کو ڈالتا ہے جو اللّه کے نزديک بہت خاص ہوتے ہیں ۔۔۔۔اگر اس دنیا کے ہر رشتہ کا مکمل ہونا ہی خوش نصیبی کی علامت ہوتی تو ہمارے پیغمبر پیدائشی طور پر یتیم نا ہوتے ۔۔۔۔وہ چند ماہ کا بچہ پھر مسکین نا بنا دیا جاتا ۔۔۔جب کسی اپنے کے جانے کا درد برداشت سے باہر ہونے لگے تو اس معصوم بچے کی تکلیف کو یاد کر لینا جس سے عشق کا دعویدار خدا خود ہے ۔۔۔۔جتنی کڑی آزمائشوں سے اللّه نے اس ذات کو گزارا ہے نا اس کے ناخن برابر بھی کسی اور کو نہیں گزارا ۔۔۔اور ہم ذرا ذرا سی مصیبت پر اللّه کو چلے باتیں سنانے شکوے کرنے ۔۔۔”

سحر کے دل سے مانو منوں کا وزن ہٹا تھا اللّه کے گھر سے اللّه نے اسے خالی نہیں بھیجا تھا بلکہ اپنے بندے کو وسیلہ بنا کر اس کا مرہم بنا دیا تھا ۔۔۔

جو تکلیف ہمیں اللّه کی طرف رجوع کرنے پر اُکسا دے وہ تو نعمت ہوا کرتی ہے لوگوں ۔۔۔۔وہ تکلیف اس خوشی یا ترقی سے لاکھ درجے بهلی ہے جس میں ہم اپنا مقصد تخلیق بھول کر خدا کو بھول بیٹھیں ۔۔۔

اب برف باری نسبتا تیز ہو چکی تھی وہ تیز قدموں چلی جا رہی تھی ٹھنڈ بھی لگ رہی تھی وہ جس وقت ہسپتال سے نکلی تھی تب دس بجے کا وقت تھا جبکہ اب دوپہر کے دو بج رہے تھے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا تھا ۔۔۔

وہ جب آئی۔سی ۔یو پہنچی تو عاشر بیٹھا ہوا تھا جبکہ بےبی اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھی رو رہی تھیں ۔۔

وہ چند قدم کا فاصلہ اس نے ایسے طے کیا تھا گویا میلوں کا سفر ہو ۔۔۔

وہ من من قدم بھرتی عاشر کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی وہ آنکھیں بند کیے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا

“عاشر ؟؟؟؟”

سحر نے خود پر ضبط کرتے ہوۓ آہستہ سے کہا تھا جس پر عاشر نے آنکھیں کھول کر سحر کو دیکھا تھا

سحر جو کے عاشر کو ہمیشہ ہمیشہ کے کھو دینے کے خوف میں مبتلا تھی اسے یو دیکھ وہ خوشی سی کانپتی ہوئی رونے لگی تھی ۔۔۔

وہ کھڑی ہچکیوں سے روتی عاشر کو دیکھ رہی تھی جو آنکھوں میں حیرانگی لئے سحر کو محض گھور رہا تھا

وہ خود ہی آنسو صاف کرتی اس کے پاس جا بیٹھی تھی

“عاشر آپ کیسے ہیں ؟؟؟”

“میں ٹھیک ہوں ۔۔۔آپ کیسی ہیں مس ؟؟”

ان الفاظ میں اجنبیت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آشنائی کی رمق سے عاری الفاظ ۔۔۔۔

سحر کا دل زوروں سے دھڑکا تھا ۔۔۔

ٹپ ٹپ ۔۔۔۔۔۔آنسوؤں کو ایک بار پھر موقع مل گیا تھا وہ بہہ کر سحر کے گال کو بھگو گئے تھے ۔۔۔

“Mama who is she???why is she so much sad???why is she weeping like that???”

عاشر کا یہ کہنا تھا کہ سحر چکرا کر بیڈ سے ٹکڑاتی نیچے فرش پر جا لیٹی تھی وہ بیہوش ہو چکی تھی ۔۔۔

جب وہ ہوش میں آئی اس نے خود کو اسی ہسپتال کے کسی کمرے میں لیٹا پایا نرس اسے ہوش میں آتا دیکھ اس کے پاس آئی تھی

“اب آپ کیسی ہیں ؟؟؟”

“میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔مجھے کیا ہوا تھا ؟؟”

“آپ نے کھانا پینا کب سے چھوڑا ہوا ہے ؟؟؟کمزوری سے بیہوش ہو گئی تھیں آپ ۔۔۔”

“یہ ڈرپ ختم ہو جائے پھر آپ جا سکتی ہیں ۔۔۔۔کچھ ضرور ٹیسٹ ہوۓ ہیں آپ کے رپورٹ تھوڑی دیر میں مل جائے گی ۔۔ “

وہ نرس خوش اخلاقی سے بولی تھی

سحر آنکھیں موندے اپنی امی کے بارے میں سوچنے لگی جن کو جیسے پہلے ہی پتہ تھا کہ عاشر بدل جائے گا ۔۔۔۔

ڈرپ ختم ہوتے ہی وہ عاشر کے پاس آئی تھی جو سو رہا تھا بےبی نے مایا کو اس کے پاس رکنے کے لئے بلایا ہوا تھا وہ صوفے پر آڑھی ترچھی لیٹی موبائل یوز کر تھی تھی

“آپ یہاں ؟؟؟؟میں عاشر کا خیال خود رکھ لوں گی آپ جا سکتی ہیں ۔۔۔”

سحر کی آواز مدھم مگر سخت تھی اس سے پہلے کے مایا کوئی جواب دیتی بےبی نے سحر کو ہاتھ سے پکڑ کر کمرے سے باہر کھینچا تھا

“پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتی تم میرے عاشر کا ؟؟؟؟تمہاری وجہ سے آج وہ اس حال تک پہنچا ہے ۔۔۔جب تمہیں پہچانتا ہی نہیں تو کس رشتے سے اس کے ساتھ اکیلے کمرے میں رکو گی ؟؟؟مجھے تو بہت سبق پڑھا رہی تھی اس رات جہانگیر کے ساتھ دیکھ کر ۔۔۔۔”

بےبی کی اس انتہا کی بے تکی بات پر سحر کا سر چکرایا تھا

“آنٹی ہمارا نکاح وہ بھولے ہیں میں نہیں بھولی ۔۔ وہ اب بھی میرے محرم ہیں ۔۔۔۔اور اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یہ مجھ سے بہتر آپ جانتی ہیں ۔۔۔۔مجھے پورا یقین ہے ان کو وہ سب یاد آ جائے گا ۔۔۔۔میں ان کی محبت تھی اور محبت تو دل میں بسا کرتی ہے ۔۔۔۔اس حادثے کا اثر ان کے دماغ پر ہوا ہے دل پر نہیں بےبی آنٹی ۔۔۔۔اور اگر میں فرض کر بھی لوں کہ اب ان كی یاداشت کبھی واپس نہیں آئے گی تو بھی موجودہ یاداشت میں ان سے شادی کر کے دیکھاؤں گی ۔۔۔۔”

بےبی جو عاشر کی حالت دیکھ سحر کو کمزور سمجھ رہی تھیں سحر کی ان باتوں سے گڑبڑا سی گئی تھیں

اگر ایک عورت بیوی بننے کے لئے محبوبہ بن سکتی ہے تو ایک بیوی محبوبہ کیوں نہیں بن سکتی؟؟؟؟؟۔۔۔۔ میں بن کر دکھاؤں گی۔۔۔”

“اپنی اس کرائم پارٹنر کو کہیں میرے شوہر کے کمرے سے باہر آ جائے ابھی اور اسی وقت ورنہ میں پولیس کو سب بتا کر آپ دونوں کو اندر کروادوں گی”

سحر اس وقت زخمی شیرنی بنی ہوئی تھی جس کا اندازہ بےبی کو بخوبی ہو رہا تھا انہوں نے مایا کو ٹیکسٹ کر کے باہر بلايا تھا وہ چند منٹوں بعد لاپراہ سی باہر نکلی تھی اور بےبی کے ہمراہ ہسپتال سے جا چکی تھی

عاشر کے ہوش میں آ جانے کے بعد اب وہ خطرے سے باہر تھا اس کی موجودہ حالت کے پیش نظر اسے وارڈ کے ایک پرائیویٹ روم میں شفٹ کیا جا چکا تھا

سحر زين سے جائے نماز منگوا کر اس پر بیٹھی سکون سے عشا ء ادا کر کے اب حاجت کے نوافل ادا کر رہی تھی عاشر اسے بغور دیکھ رہا تھا وہ اس کے پاس آ کر سر تا پير پھونک مار کر پاس بیٹھ گئی تھی

“تم کون ہو ؟؟؟اور اس طرح میرے لئے رو رو کر دعائیں کیوں مانگ رہی تھی ؟؟؟”

“میں آپ کی دوست ہوں عاشر ۔۔۔۔۔خاص والی دوست ۔۔۔۔۔بس آپ کی طبیعت خراب ہوگئی تو آپ کو یاد نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔اسی لئے رونا آ رہا تھا کہ آپ مجھے بھول گئے ۔۔۔”

سحر نے مسکرا کر عاشر کا ہاتھ سہلاتے سہلاتے اپنائیت سے کہا تھا

عاشر اپنا سر دبانے لگا تھا

“عاشر آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟”

“ہاں بس سر میں درد ہونے لگا ہے ۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ مجھے سب یاد آجائے ۔۔۔۔ایسا لگتا ہے کچھ بہت اہم تھا جو میں بھول گیا ہوں”

وہ آنکھیں بند کیے تکلیف سے بولا تھا

“اپ فلحال سو جائیں سب یاد آ جائے گا انشااللہ بہت جلد”

عاشر کو جھٹکے لگنا شروع ہو گئے تھے وہ درد سے چلانے لگا تھا سحر بھاگ کر ڈاکٹر کو بلانے گئی تھی ڈاکٹر نے فوری طور پر نرس کو نیند کا انجکشن دینے کا کہا تھا سحر کو سب بہت آسان لگ رہا تھا مگر اب عاشر کی حالت دیکھ کر اس کے پیروں سے زمین نكلتی محسوس ہوئی تھی

انجکشن کا اثر فوری ہوا تھا وہ ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہوا تھا ڈاکٹر نے سحر کو مریض سے غیر ضروری باتیں کرنے سے سختی سے منع کیا تھا

سحر نے باقی رات اپنی اس جلد بازی پر پچھتاتے ہوۓ کاٹی تھی ۔۔۔

دو دن مزيد عاشر کو ہسپتال رکھ کر گھر لے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی

۔******************

آج شہلا کا قٔل کا ختم تھا فاریہ لٹی پٹی دیوار کو گھور رہی تھیں ان کی اکلوتی جوان اولاد اس دنیا سے جا چکی تھی صدمہ ایسا تھا کہ صبر آکر ہی نہیں دے رہا تھا

سیف ضروری کام نپٹا کر دعا کو گود میں اٹھائے بیٹھا غم سے نڈھال تھا

فرحانہ کو اللّه نے بیٹا دیا تھا وہ اسے اٹھائے سیف کے پاس آ کر بیٹھی تھی

“بھائی ۔۔۔۔۔۔۔”

سیف نے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ بس دعا کے نھنے نهنے پیروں کو اپنے ہاتھ میں تھامے ہاتھ پھیر رہا تھا

“بھائی صبر کریں اللّه کو یہی منظور تھا ۔۔۔۔۔۔سب کے جانے کا وقت مقرر ہے ۔۔۔ہم سب ایک جیسے ہی ہیں بس بھابھی کا وقت ہم سے پہلے آ گیا ۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔۔جانا تو ہم سبھی کو ہے ۔۔”

اسی وقت عثمان وہاں آیا تھا اس نے اپنے بیٹے تیمور اور دعا کو اٹھا لیا تھا اب فرحانہ بھائی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھ گئی تھی

“بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔اب آپ کو خود کو خود سنبھالنا ہوگا ۔۔۔امی کے لئے ۔۔۔۔۔ہم سب کے لئے ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔اپنی بیٹی دعا کے لئے ۔۔۔۔۔”

سیف نے بند نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلا دیا تھا

۔***************

آج شہلا کے انتقال کو چھ ماہ ہو چکے تھے دعا کو زبیدہ بيگم خود سنبھال رہیں تھیں سیف جیسے ہی گھر آتا نهنی سی جان باپ کی گود میں چڑھ کر بیٹھ جاتی سیف بھی اس کے جاگنے تک پورا وقت دعا کو ہی دیتا ۔۔۔

سیف بیٹھا دعا کے ساتھ کھیل رہا تھا جب اس کا موبائل بجا تھا ندیم کا نام روشن ہوا تھا

“یار وہ میری امی اور ابو نے چاچا کے گھر جانا ہے ادھر ایمرجنسی ہو گئی ہے رات کا وقت ہے توں لے چل ہمیں،فورا آجا ہم تیار کھڑے ہیں”

“اچھا میں آتا ہوں”

سیف نے ماں کو صورتحال بتا کر گاڑی كی چابی اٹھائی اور نکل گیا

رات کے دو بج رہے تھے جب وہ ندیم کے گھر پہنچے تھے وہ جلدی سے اندر گئے تھے سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا سواۓ ایک کمرے کے جہاں چاچا،چاچی،ماہی اور ایک لڑکی موجود تھے

“کیسے ہوا یہ سب ؟؟؟؟”

ندیم کی امی نے اندر جاتے ہی اس لڑکی جس کا نام عنایا تھا اس کی کمر پر زور سے تھپڑ مار کر روتے ہوۓ پوچھا تھا

وہ سپاٹ چہرہ لئے نظریں جھکاۓ خاموش تھی

“پتر کیا بات ہو گئی تھی ؟؟؟؟”

ندیم کا باپ اس کے ساتھ نیچے زمین پر بیٹھ کر تڑپ کر بولا تھا

مگر کوئی جواب نا پا کر وہ اب بنا آواز کے رونے لگا تھا وہ اپنی پگڑی اتار کر اپنے آنسو مسلسل صاف کرتا جا رہا تھا

اب ندیم نے عنایا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر محبت سے پوچھا تھا

“آپی مجھے بتائیں کیا ہوا ہے ؟؟؟؟”

“طلاق”

عنایا کسی ٹرانس میں بولی تھی اس کے آواز کمرے میں گونج کر واپس آئی تھی

وہ ایک لفظ نہیں تھا وہ تو صور تھا جو پھونکا جا چکا تھا اب تو تباہی ہونا باقی تھی

عنایا کی ماں نے اس کے منہ پر کھینچ کر تھپڑ جڑا تھا وہ غصے سے گهٹی سے آواز میں بولی تھی جبکہ ندیم نے بھاگ کر کمرے کی کنڈی چڑھائی تھی

“چپ کر جا کیا بکواس لگا رکھی ہے باپ اور بھائی نہیں نظر آ رہے تجھے ؟؟؟شرم سسرال چھوڑ آئی ہے کیا ؟؟؟”

اس بات پر عنایا طنزیا سی مسکرائی تھی اس کے چہرے پر جا بجا زخموں کے نشان موجود تھے

“پتر غصے میں مرد یہ کہہ دیا کرتے ہیں اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ تم اس طرح اپنا گھر چھوڑ کر آجاؤ”

ندیم کے باپ نے بیٹی کو اپنی طرف سے پتے کی بات بتائی تھی ماں نے اپنے شوہر کی بات کی تائید کی تھی

“ابا طلاق دے دی ہے اس نے مجھے”

عنایا پر سکون سی بولی تھی جس پر ماں کو ایک بار پھر تاؤ آیا تھا اس نے ایک تھپڑ لگانا ضروری سمجھا تھا

“چپ کر جا بد ذات ۔۔۔چل ندیم کے ابا صبح ہونے سے پہلے پہلے اسے اس کے گھر چھوڑ آتے ہیں اس سے پہلے کے یہ صبح غائب ہو اور لوگوں کو پتہ چلے”

ندیم کی ماں نے شوہر کو مفيد مشورہ دیا تھا جس پر عمل کے لئے وہ فورا اٹھا تھا

“اماں طلاق کا مطلب جانتی ہو ؟؟؟؟؟میں حرام ہو چکی ہوں اس پر اب،ایک چھت کے نیچے اب میں تیرے اس جاہل داماد کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔”

عنایا چیخ کر بولی تھی

“یہ سب ڈرامے ہیں گھر نا بسانے کے ۔۔۔کوئی طلاق ولاق نہیں ہوتی ایسے”

ندیم کی ماں نے گویا ناک سے مكهی اڑائی تھی

“تو کیسے ہوتی ہے طلاق اماں؟؟؟؟؟؟؟کیسے ہوتی ہے آخر ہم غریبوں کی طلاق ؟؟؟؟”

“اماں دو سال ہو گئے مجھے اس رشتے کو نبهانے کی یک طرفہ کوششیں کرتے کرتے ۔۔۔۔وہ وقت یاد کرتی ہوں تو اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی اگر کوئی کسی کو الٹی چھری سے ذبح کرے ۔۔۔۔۔نا جان نکلی نا رہائی ملی ۔۔۔مگر تم لوگوں کو مجھ پر رحم نا آیا ۔۔۔وہ مجھے ناحق مار مار کر تهک گیا آخر مگر تم لوگ میرے اپنے ہو کر مجھے پٹتا دیکھ دیکھ نہیں تھکے ۔۔۔۔تب میں اس کے نکاح میں تھی سب سہتی رہی مگر اب نہیں ۔۔۔۔۔تم لوگوں کی نام نہاد عزت کی خاطر اب میں حرام کی زندگی نہیں گزار سکتی ۔۔۔اب بس ۔۔۔۔”

عنایا آنسو صاف کر کے بولی تھی

“ساری غلطی تیری تھی ۔۔۔۔دو سال سے وہ تجھ بانجھ کو برداشت کرتا رہا آخر ۔۔۔۔کہہ دیتی نا کر لے دوسری شادی ۔۔۔آگے سے زبان کیوں چلاتی تھی ؟؟؟؟مرد کہاں برداشت کرتا ہے یہ بڑی زبان ؟؟؟”

“اماں تجھے لگتا ہے اسکی نظر میں میری اتنی اوقات تھی جو میری اجازت دركار تھی اسے ؟؟؟؟؟”

“اماں ۔۔۔۔۔۔۔وہ مجھے چھوڑ چکا ہے ۔۔۔۔۔۔اور میں اچھی طرح اپنی حد جانتی ہوں ۔۔۔میں اس کی طرح ظالم نہیں ہوں جو اب اس کی تنہائی کے راز افشاں کروں ۔۔۔۔”

“اماں جتنا ایک لاش میں روح پھونکنا مشکل کام ہے نا اتنا ہی مشکل اب میرا اس رشتے کو چلانا ۔۔۔۔”

عنایا تڑپ کر بولی تھی

سیف ہکا بكا صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا

“چل پتر اٹھ جا میں خود شہرام کی منت کرلوں گا وہ رکھ لے گا تجھے،خود معافی مانگوں گا”

ندیم کا باپ پگڑی پہن کر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا تھا

“اباں کس بات کی معافی؟؟؟؟؟ میں خود کشی کرلوں گی اگر اب کسی نے مجھے واپس بھیجنے کی بات بھی کی”

عنایا کھڑی ہوتی بولی تھی

“سیف پتر توں گاڑی سٹارٹ کر زیادہ دور نہیں ہے شہرام کا گھر”

ندیم کا باپ سیف کو نكلنے کا اشارہ کرتے کرتے بولا تھا

“انکل ویسے تو میں صرف ڈرائیور کی حیثیت سے ادھر آیا ہوں مگر آپ کی اجازت ہو تو کچھ بولنا چاہتا ہوں”

سیف نے ہمت کی تھی جس پر ندیم کے باپ نے آنکھوں سے ہی گویا اجازت دی تھی

“آپ کی بیٹی عاقل بالغ ہیں ۔۔۔۔اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں طلاق کا مطلب پھر آپ اس طرح ان کے ساتھ ایسے زبردستی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکل میں اپنی آنکھوں سے اس طرح زبردستی ہوتی دیکھ اس کا نتيجہ بهگت چکا ہوں ۔۔۔۔”

“خدارا آپ اپنی بیٹی کا ساتھ دیں ۔۔۔۔میں ایک باپ ایک بھائی کو اپنی جوان بہن بیٹی کو قبر میں اتارتا دیکھ چکا ہوں ۔۔۔۔”

“ایک جوان طلاق یافتہ بیٹی کا بوجھ ایک جوان بیٹی کی میت اٹھانے سے زیادہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔”

“پتر ہم سفيد پوش لوگ ہیں ہم کس کس کو اس کی طلاق کی وجہ کی وضاحت دیتے پھیرے گے؟؟؟؟”

“برادری میں تھو تھو کریں گے سب ہم پر ۔۔۔۔”

ندیم کا باپ اب باقاعدہ رونے لگا تھا

“انکل طلاق کا لفظ اللّه کو نا پسند ضرور ہے مگر یہ حرام نہیں ہے ۔۔۔ہمارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی دختر کو بھی ہوئی تھی ۔۔۔۔اگر دو لوگ آپس میں باوجود کوشش نبها نہیں کر پارہے تو یہ اس چپقلش کا راستہ اور حل ہے اس میں ایسی معیوب بات تو نہیں جو آپ اس طرح مجرم سمجھ رہے ہیں خود کو”

“پتر آج میں ہوں کل نہیں ہوں گا ۔۔۔۔۔ندیم کل اپنے بیوی بچوں میں مصروف ہو جائے گا اس بد نصیب کو کون پوچھے گا ؟؟؟”

ندیم کے باپ کی آواز میں کرب تھا

“حوصلہ رکھ کرم دین میری ماہی بھی تو اللّه کا دیا کھا رہی ہے نہ ۔۔۔۔۔عنایا بیٹی بھی یہی روٹی ٹکڑ کھا مر کے جی لے گی”

چاچا کا اپنا غم تازہ ہوا تھا

دونوں بھائی ایک دوسرے کو گلے لگ کر رو پڑے تھے سیف کے کانوں میں ندیم کے الفاظ گونجے تھے

“یار میں ماہی سے شادی نہیں کر سکتا وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہے ۔۔۔۔اماں کہتی ہے مجھے تیری نسل ودھ تی دیکھنی ہے”

آج اس کی بہن جب اسی جرم کی پاداش میں واپس بھیج دی گئی تھی تو سب غم زدہ تھے ۔۔۔۔

مکافات برحق ہے ۔۔۔۔سنا تھا کہیں ۔۔۔۔مگر اپنے گناہوں اور بڑے بول کے گلے پڑنے کے لئے یہ دنیا اتنی چھوٹی پڑ جائے گی اس بات پر سیف دل و دماغ سے حیران ہوا تھا ۔۔۔۔