Imtehaan by Jameela Nawab Readelle 50369 Imtehaan Episode 10
Rate this Novel
Imtehaan Episode 10
دن کے دو بج رہے تھے جب بیگ میں موجود فون بجنا شروع ہوا تھا
عاشر کا نام روشن ہوا تھا
سحر نے گیٹ سے باہر جانے کی بجائے سائیڈ پر ہو کر فون یس کر کے کان سے لگایا تھا دوسری طرف آواز میں بے چینی واضح تھی
“کیسی ہے میری اكلوتی میٹھی وائف ؟؟؟؟”
“بلکل ٹھیک ٹھاک ۔۔۔۔۔۔اور میرے دنیا کے سب سے بہترین شوہر کیسے ہیں؟؟؟سفر کیسا رہا ؟؟؟”
سحر نے چہک کر جوش سے پوچھاتھا
“ارے ۔۔۔اپنی جان کے بنا میں بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوں ۔۔۔بہت زیادہ یاد آ رہی ہو ۔۔۔۔قسم سے ایسا لگ رہا ہے دل پاکستان ایئر پورٹ پر ہی رہ گیا ہے ۔۔۔”
“یہ تعریف جب ادھر تھا تب کرتی تو ۔۔۔۔مجھے کچھ عملی مظاہرے کا موقع تو ملتا۔۔۔۔ یہ ثابت کرنے کا ۔۔۔”
هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔
سحر دل سے ہنسی تھی
“یہ کیا تم ہنستی بھی ہو ؟؟؟”
“ارے یہ روپ تو میں نے وہاں نہی دیکھا کہاں چھپایا تھا ؟؟؟”
“یہ روپ آپ صرف شوہر بن کر ہی دیکھ سکتے تھے عاشر ۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں آپ کی اپنی زندگی میں آمد سے “
“سحر ۔۔۔۔تم دفع کرو پپرز کو میں تھوڑا سو لوں پھر کام شروع کرتا ہوں تمہیں یہاں اپنے پاس بلانے کا۔۔۔شوہر کو ترسانا نہایت ہی بری بات ہے”
هاهاهاهاها ۔۔۔نہیں نہیں عاشر میری کیا مجال جو آپ کو تنگ کروں آپ کی ہر بات میرے لئے حکم کا درجہ رکھتی ہے ۔۔۔بس ایک ماہ کی بات ہے ۔۔۔پھر تو ساری عمر صرف میں ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔آپ ۔۔”
وہ شرما کر بولی تھی
“واہ واہ ۔۔۔۔ارے واہ ۔۔۔۔دل خوش کر دیا میرا تم نے یہ بات کر کے ۔۔۔۔”
“اچھا کب پہنچے ہیں آپ ؟؟؟”
“آدھا گھنٹہ ہوا ہے گھر آیا ہوں بہت ریسٹ لیس ہوں ۔۔۔سوچا تم سے بات کر لوں پھر سوتا ہوں ۔۔۔زوہیب کام ٹھیک کر رہا ہے ؟؟؟”
“جی ۔۔۔تو کیا وہ ہر وقت ہمارے گھر کے باہر کھڑا رہے گا ؟؟؟”
“ارے نہیں ۔۔وہ جہاں ماما نے فیکٹری کے لئے کام شروع کروایا ہے وہ وہاں کام بھی دیکھے گا اسی فون میں اس کا نمبر بھی سیو ہے تمہیں یا خالہ کو جب بھی کہیں جانا ہوا اس کو بلوا لینا ۔۔۔۔اور ابھی تمہیں کریڈٹ کارڈ بھی دے گا پھر اس سے جی بھر کر شاپنگ کرنا اپنی، خالہ اور کاشف کی ۔۔۔۔میں چیک رکھوں گا رقم جیسے ہی کم ہوئی ڈال دو گا اور ۔۔۔تمہارا اکاؤنٹ کھلوایا ہے یہ اسی کا کارڈ ہے ۔۔۔”
“عاشر اس سب کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟”
“ضرورت کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔بلکل ضرورت ہے ۔۔ تم عاشر کی بیوی ہو اب ۔۔۔۔جسے اللّه نے بہت زیادہ دولت سے نوازا ہے ۔۔۔جس لڑکی میں عاشر کی جان بستی ہے وہ ہی اس پر راج نہ کرے تو کیا فائدہ اس دولت کا ؟؟؟”
“اچھا چلیں آپ اب سو جائیں آپ کی آواز سے صاف لگ رہا ہے آپ کو بہت نیند آئی ہے ۔۔۔”
“اوکے وائفی ۔۔۔۔گڈ نائٹ”
عاشر نے فون رکھ کر سر اٹھایا تھا جہاں بےبی بيگم لوز شارٹ شرٹ ود ہاف پجامہ پہنے اسے گھور رہی تھیں
“یہ سب کیا ہے عاشر ؟؟؟”
“What???”
عاشر نے جمائی لیتے ہوۓ منہ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا
“اس کل کی آئی لڑکی پر اتنی عنایات ؟؟؟؟”
“She
Is
My
Wife
Mom”
“She have right on me as well as on my property”
عاشر نے نارمل سے انداز میں کہا تھا مگر بےبی بيگم کو اس کا یہ انداز آگ لگا گیا تھا
“گڈ نائٹ موم “
وہ بےبی کو ہگ کر کے فلائنگ کِس کرتا ہوا کمرے میں سونے گیا تھا
“آخر کیا دیکھ لیا ہے اس نے اس دیسی لڑکی میں ۔۔۔سوچا تھا ادھر کی لڑکی چلاک مکار ہے عاشر سے سب ہتھیا لے گی اسی لئے عقیلہ کی سادی بیٹی کو گلے میں ڈالا ہے مگر یہ تو بنا کہے ہی سب بٹور رہی ہے ۔۔۔۔ابھی تو صرف نکاح ہوا ہے اور عاشر نے اس پر اور اس کی فیملی پر خزانے کے منہ کھول دئیے ہیں یہ جب یہاں آجائے گی پھر تو مجھے عاشر گھر سے ہی نکال دے گا ۔۔۔اوپر سے پوری جائیداد اس کا کھڑوس،بڈھا ، جہنمی باپ اس کے نام کر کے گیا ہے”
بےبی ڈریس کی عریانیت سے انگلش لگ رہی تھیں مگر اس کے اندر ایک وہی رسمی جاہلانہ سوچ رکھنے والی بیوی بولی تھی جو ساری عمر ایک انسان کے ساتھ لعنت ملامت کرتے گزار دیتی ہے اس کی دولت کی چمک دمک دیکھ کر ۔۔۔مگر جب وہ مر جاتا ہے پھر اس کی کمائی پر عیاشی بھی کرتی ہے ساتھ ساتھ اس کی مٹی پليد کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہی دیتی ۔۔۔
یہی حال بےبی بيگم کا تھا اپنی عمر سے آدھے شخص سے شادی کر کے وہ ایک دن بھی ان کے ساتھ مخلص نہی تھیں ۔۔۔۔۔مگر دولت میں کھیلنے کی جو لت پڑ گئی تھی اس لت نے ان کو ان کی زوج بنائے رکھا ۔۔۔۔۔
عاشر کی پیدائش سے ان کے پیروں میں گویا بیڑیاں پڑی تھیں مگر بیٹے سے بے پناہ محبت بھی تھی شوہر کی وفات تک ایک ایک دن انہوں نے کانٹوں پر گزارا تھا ۔۔
وہ دن بےبی بيگم کے لئے زندگی کا پہلا دن تھا جب لندن گورنمنٹ نے ان کے میاں کا ڈیتھ سرٹیفیکٹ جاری کیا تھا جس کے مطابق عاشر کے والد ریاض کی موت رضائے الہی سے دل کی دھڑکن بند ہونے سے واقع ہوئی تھی ۔۔۔
بےبی بيگم صوفے پر آڑھی ترچھی لیٹی اب کسی کا نمبر ملا رہی تھیں
“Hello Mr. J???”
“Hi….”
“کب آئی ہو لندن ؟؟؟”
“ہم کل مل رہے ہیں نا ؟؟؟”
“Hold on hold on Mr.J”
“جلدی کس بات کی ہے ۔۔۔۔ابھی تو نیند پوری کرنی ہے مجھے ۔۔۔ بہت سا سونا ہے ۔۔۔۔”
وہ انگڑائی لے کر ترنگ میں بولی تھیں
“تو آجاؤں میں وہاں ؟؟؟”
“میرا بیٹا بھی واپس میرے ساتھ آیا ہے جے ۔۔۔۔۔کہیں اور ملیں گے ۔۔۔ویسے کل سے آفس آؤں گی وہاں بھی ملاقات ہو جائے گی ہماری”
“چلو ٹھیک ہے سویٹ ہارٹ پھر کل ملتے ہیں سی یو۔ “
بےبی کو جے سے بات کر کے فریش فیل ہو رہا تھا اب وہ سونے گئی تھیں
______۔___________
سب پیچھے بیٹھے تھے جبکہ شہلا سیف کے ساتھ آگے بیٹھی تھی وہ بات بات پر بلا وجہ ہنس کر سیف کو متوجہ کرتی تھی
“سیف ؟؟؟”
“مجھ سے دوستی کرو گے ؟؟؟”
،”نہیں ۔۔۔۔اب میں کسی لڑکی سے دوستی نہیں کروں گا”
“”میں کوئی بھی لڑکی نہیں ہوں تمہاری فرسٹ کزن ہوں اور سب جانتے ہیں کوئی چھپ کر تھوڑی بات کرنی ہے میں نے”
سیف نے شہلا کی طرف دیکھ کر دوبارہ ڈرائیونگ پر فوکس کیا تھا ایک جگہ اچھی جگہ دیکھ کر وہ سب اتر گئے تھے
شہلا جان چکی تھی سیف کی جان اپنی ماں اور بہنوں میں خاص کے فرحانہ میں ہے اور وہ اس کی بات کبھی نہیں ٹال سکتا ۔۔۔اس نے اسی بات کو ہتھیار بنانے کا سوچا تھا وہ سب کے ساتھ زیادہ اچھا برتاو کر رہی تھی
فرحانہ میں بہت ترسی ہوں آپ سب کے ساتھ کے لئے ۔۔۔سب لڑکیاں اپنی ماموں زاد کی باتیں کرتی تھیں اور میں وہ سن کر رویا کرتی تھی ۔۔۔
وہ آبدیدہ ہو کر بولی تھی
“چلو یہ مایوسی کی باتیں چھوڑو پكس بناتے ہیں “
“سیفی ہماری پكس بناؤ”
فرحانہ نے شہلا کا موڈ بدلنے کی سعی کی تھی
سیف سب کی تصویریں بنا کر ایک طرف الگ ہو کر بیٹھ گیا تھا موبائل ماہی کی کال سے روشن ہوا تھا
“وہ ذہنی معذور ہے بھائی کا بہت شوق ہے”
سیف کے کان میں ندیم کی آواز گونجی تھی
اس نے سب سے دور ہو کر تیسری بار آتی کال اٹینڈ کی تھی
“آپ کو دو دن سے فون کر رہی ہوں آپ اٹھاتے کیوں نہیں ؟؟؟”
“کیوں کر رہی تھی تم مجھے فون ماہی ؟؟؟”
“یہ کیسا سوال ہے ؟؟؟پہلے تو ہم روز بات بنا کسی وجہ کے پھر اب ؟؟؟”
“میں یہ کام چھوڑ چکا ہوں ماہی ۔۔۔۔میں شوقین تھا مگر اب نہیں ہوں ۔۔۔۔مجھے آئندہ فون مت کرنا “
“سیف آپ ایسا مت کہیں ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔میں تو شادی کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔آپ کے علاوہ ہمیشہ بھائی سمجھ کر ہی بات کرتی تھی ہر کسی سے ۔۔۔۔مگر آپ ۔۔۔۔آپ سے تو محبت کرنے لگی ہوں ۔۔۔”
“کیا مطلب کیا بھائی کہہ دینے سے بھائی بن جاتا ہے ؟؟؟”
“ماہی بھائی صرف وہ ہی ہوتا ہے جو اسی پیٹ سے پیدا ہوا ہو جس سے آپ ہوۓ ہیں ورنہ کوئی بھائی وائی نہیں ہوتا ۔۔ “
“یہ محظ اس مقدس رشتے کی تزلیل ہے جہالیت ہے “
“نہ ہی بہن کہہ دینے سے آج کے اس گندے دور میں کوئی کسی کو بہن مان بھی لیتا ہے یہاں اپنی بہن اپنے بھائی کے ساتھ اکیلی محفوظ نہیں اور تم کسی نا محرم سے یہ امید ركهتی ہو ؟؟؟”
“سیف آپ کی بات ٹھیک ہے ۔۔۔۔ مگر پلیز ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔محبت ۔۔۔ “
“ماہی پلیز مجھے آیندہ فون مت کرنا اللّه حافظ”
سیف نے فون ہی آف کر دیا تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا اب ماہی بار بار فون کرے گی
“سیف سیلفی پلیز”
اسی لمحے شہلا سیف کے ساتھ بیٹھی اور چپک کر سیلفی بنا ڈالی۔۔
سیف آج تک بس فون پر ہی ہر حد پار کر کے شیطان کو خوش کرتا تھا مگر آج پہلی بار اس طرح کسی لڑکی کا لمس ۔۔۔۔۔۔وہ بے چین ہوا تھا ۔۔۔
اسے شہلا کا ساتھ ایک دم خوش کر گیا تھا وہ کھل کر مسکرایا تھا ۔۔۔۔شہلا اپنی پہلی فتح پر بہت خوش ہوئی تھی ۔۔۔۔اسے سیف کی طرف سے اتنی جلدی اس گرین سگنل کی توقع ہرگز نہی تھی ۔۔۔۔
سیف کونسا نیٹ ورک ہے تمہارا ؟؟؟
شہلا نے موبائل پر نظر جمائے بظاہر مصروف انداز میں پوچھا تھا
“سیف کو شہلا کا ہر انداز اپنی طرف کھینچتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
اس نے شہلا سے موبائل لے کر اپنا نمبر سیو کیا تھا
شہلا سیف کی آنکھوں میں فلمی انداز میں گھورتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی
وہ واپسی پر سب کے ساتھ پیچھے بیٹھی تھی سیف کو اس کی کمی بے چین کر رہی تھی
رات کے کھانے کے بعد سیف سیڑھی میں کھڑا اسے ہی ڈھونڈ رہا تھا مگر وہ کہیں نظر نہ آئی ۔۔ وہ مایوس سا ہو کر اپنے کمرے میں اوپر گیا تھا جہاں شہلا پہلے سے ہی وہاں موجود تھی وہ اسے دیکھ کر حیران اور پریشان ہمہ وقت ہوا تھا ۔۔
شہلا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ وہ بھاگ کر سیف کے گلے جا لگی تھی ۔۔۔۔
کہتے ہیں مفت کی مرغی اور خود سے پیش ہوتی عورت مسجد کا ملا بھی نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔بس یہی حال ادھر سیف کا تھا ۔۔۔۔اس سے پہلے کے آخری حد آتی ۔۔۔سیڑھی پر کسی کی اوپر آنے کی آہٹ محسوس ہوئی تھی جس کو بھانپ کر سیف نے شہلا کو خود سے الگ کر کے پیچھے دکھیلا تھا ۔۔۔۔۔اس وقت کوئی تیسرا یہ منظر دیکھتا تو یہی سمجھتا ان دونوں میں لڑکا شہلا ہے وہ بہت بے باکی سے اپنی عورت ذات کی دھجیان بکھیر رہی تھی ۔۔۔
سیف نے سیڑھی میں جا کر تسلی کی اور اسے نیچے جانے کو کہا ۔۔۔
وہ اپنے بال ٹھیک کرتے ہوۓ جاتے جاتے بھی سیف کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ گئی ۔۔۔
سیف کو بہت غلط لگا یہ سب وہ شدید گلٹ میں مبتلا ہوا تھا وہ ساری رات جاگتا رہا احساس گناہ اسے سونے نہی دے رہا تھا اس سے پہلے وہ بہت بار فون پر ایسے حرکتیں کرتا رہا تھا مگر اب جب اس نے ان سب سے توبہ کر لی تھی اب اللّه نے اسے ان سب سے بڑی آزمائش میں ڈالا تھا جس میں وہ پورا نہیں اتر پایا تھا ۔۔۔۔
وہ فجر کی اذان ہوتے ہی سجدے میں گرا تھا ۔۔۔۔۔زور قطار رونے کے بعد وہ بہت ہلکا محسوس کر رہا تھا پھر وہ کب نیند کی وادی میں گیا کچھ پتہ نہ چلا ۔۔۔۔
دن کے 12بجے اس کی آنکھ کھلی وہ بھوک سے تنگ آ کر نیچے آیا تھا جہاں حسب توقع خاموشی کا راج تھا ۔۔۔
“امی کیا بنا ہے کھانا لگا دیں بہت بھوک لگی ہے”
وہ ماں کو کہہ کر نہانے گیا تھا باہر آنے پر زبیدہ بيگم بھنڈی گوشت دسترخوان پر لگاے اس کی منتظر تھیں
“بیٹا دو بار تمہیں میں اٹھانے گئی تھی کہ فاریہ اور شہلا کو اڈے پر لے جاؤ اور لاہور کی بس میں بیٹھا دو مگر مجال ہے جو تم اٹھے ہو ۔۔۔۔مجبورا مجھے احمد(سیف کا چھوٹا بھائی) سے رکشہ منگوا کر انہیں بھیجنا پڑا ۔۔۔۔اپنی گاڑی گھر میں کھڑی تھی ۔۔۔۔بہت زیادہ شرمندگی ہوئی مجھے تو ۔۔۔۔”
“اچھا تو چلے گئے وہ لوگ ۔۔۔۔۔آپ رات سے بتا دیتیں امی میں جلدی اٹھ جاتا ۔۔ بس ذرا طبیعت سیٹ نہیں تھی امی رات دیر سے نیند آئی تبھی آپ کب بلانے آئیں کچھ پتہ نہیں چلا ۔۔۔”
وہ بھنڈی گوشت کے بڑے بڑے نیوالے لیتے ہوۓ لسی کا گھونٹ لے کر مزے لیتا ہوا بولا تھا
“دروازے پر دستک ہوئی تھی زبیدہ بيگم دیکھنے گئی تھیں
“السلام علیکم آنٹی میں ندیم ہوں سیف سے کام تھا اس کو بلا دیں”
“وعلیکم السلام ۔۔۔۔بیٹا وہ کھانا کھا رہا ہے تھوڑا سا انتظار کرو”
سیف کھانا کھا کر باہر آیا تھا
“سیف ۔۔۔آج پھر چاچے کے پینڈ کی سواری ہے شام چار بجے نكلنا ہے ۔۔۔”
“اچھا ٹھیک ہے میں آجاؤں گا توں نکل اب”
“سیف میں اس بار ساتھ نہیں جا رہا تیرے ۔۔۔مگر چاچا کو کہہ دوں گا توں ادھر رک سکتا ہے”
“نہیں ادھر نہیں رکنا میں نے میں واپس اپنے گھر آؤں گا ۔۔۔”
“اچھا چلو چلیں ؟؟؟”
“کہاں ؟؟؟”
سیف نے موبائل پر شہلا کی لاتعداد کالز میسجز چیک کرتے ہوۓ سرسری سا پوچھا تھا
“وکیل کے گھر ۔۔۔۔زلفی ۔۔۔اور کامران بھی ادھر ہیں بس ہمارا انتظار ہے”
ندیم پرجوش سا بولا تھا
“اس کے گھر والے ؟؟؟”
سیف نے شہلا کو سینکڑوں میسجز کے بعد صرف ویٹ لکھا تھا جس پر وہ آگ بگولا ہوئی تھی اور لگاتار فون کر رہی تھی سیف نے حسب عادت سیل فون آف کیا تھا
وہ ندیم کے ساتھ وکیل کے گھر گیا تھا جو پڑوس میں ہی تھا وہ تینوں وہ ہی دیکھ رہے تھے جس کی توقع آج کی پڑھی لکھی ذہنی مریض نسل سے کی جا سکتی تھی ۔۔۔
سیف کچھ دیر دیکھتا رہا مگر ضمیر کی پکار اور صبح کی نماز کی چھاؤں نے اسے اس گناہ کی غلاظت سے دور ہونے کا اشارہ دیا تھا پھر وہ جانے کے لئے اٹھا تھا جس پر اس کے شیطان فطرت دوست سیخ پا ہوۓ تھے ۔۔۔
جو لوگ برائی کرتے چلے جائیں شیطان کو ان میں کوئی دل چسپی نہیں رہتی ۔۔۔۔۔وہ ایسے لوگوں کا استعمال محض ان لوگوں کو گناہ میں مبتلا کرنے کے لئے کرتا ہے جو اللّه سے ڈرنے والے اللّه کے نيک بندے ہوتے ہیں ابھی بھی سیف کو اس غلیظ محفل سے جاتا دیکھ اس کے دوستوں میں موجود شیطان تڑپ گیا تھا
وکیل کو فورا زلفی نے اشارہ سے شراب لانے کا کہا تھا
“یار یہ اپنے حصے کا دارو پیتے جاؤ”
وکیل نے اسے فورا ہاتھ پکڑ کر واپس بیٹھایا تھا
“نہیں یار ۔۔۔نہیں پینا میں نے کچھ بھی ۔۔۔اسے پی کر میرا دماغ خرا ب ہو جاتا ہے ۔۔ سر بھاری ہونے لگتا ہے ۔۔۔میں نے سواری لے کر جانی ہے”
سیف نے سہولت سے انکار کیا تھا جس پر ان میں چھپے شیطان کو اور غصہ آیا تھا
“یہ کیا بات ہوئی سیف ؟؟؟ندیم بتا رہا تھا تیری ذہنی حالت خراب ہے توں نے اس دن اس سے بھی عجیب عجیب باتیں کی تھیں مجھے تو یقین ہی نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔توں ریلكس ہو ۔۔۔اسی لئے یہ آج کی محفل ارینج کی اور اب تم ہی جا رہے ہو ؟؟؟”
“مجھے کوئی بحث نہیں کرنی وکیل ۔۔۔۔میں یہ سب چھوڑ چکا ہوں ۔۔۔تم لوگ بھی چھوڑ دو ۔۔۔گھر بسا لو عزت کی زندگی گزارو اور مجھے بھی گزارنے دو ۔۔۔”
سیف کہہ کر وہاں سے نکل گیا تھا جس سے شیطان آگ بگولا ہوا تھا
سیف گاڑی کا کچھ کام کروانے ورک شاپ گیا تھا جہاں شہلا کا فون جان کو آیا تھا
“یار بزی ہوں بعد میں کرتے ہیں بات”
سیف نے فون اٹھاتے ہی اس بلا کو ٹالنے کی سعی کی تھی مگر وہ شہلا ہی کیا جو ٹل جائے وہ سچ میں بلا ہوتی تو شاید ٹل ہی جاتی ۔۔۔
“مجھے ابھی کرنی ہے بات،جو بھی کر رہے ہو چھوڑ دو”
وہ حکم دیتے بولی تھی
“یار کیسے بات کر رہی ہو یہ تم مجھ سے ؟؟؟ تمیز نام کی کوئی چیز بھی ہوتی ہے بھول گئی ہو کیا ؟؟؟؟”
سیف بھی غصے میں آیا تھا
“ایسی کونسی بات ہے جو ایمرجنسی لگا رکھی ہے صبح کی؟ ؟؟؟؟؟؟”
سیف ورک شاپ کے واش روم میں جا کر غصے میں دھاڑا تھا
“تم ایک تو ہمیں بس میں بٹھانے نہی آئے اوپر سے صبح کا ایک بار بھی پوچھا نہی کب پہنچی ہوں میں گھر یہ بد تمیزی نہیں ؟؟؟؟”
“اب خود ہی بتاؤ میرا غصہ بنتا ہے کہ نہیں ؟؟؟”
“ارے میڈم سو رہا تھا میں ۔۔۔آپ کی بے باکی کی وجہ سے ساری رات سو نہیں پایا تھا ۔۔۔صبح ہی تو سویا تھا پھر کیسے اٹھتا ؟؟؟دوسری بات اگر آپ لوگوں کو میرے ساتھ ہی جانا تھا تو رات جب آپ کسی ڈی گریڈ فلم کی ہیروئن والے انداز اپنائے ہوۓ میرے کمرے میں اپنی اور میری قبر بھاری کرنے آئی تھیں تب یہ بھی بتا دیا ہوتا میں صبح پھر بھی اٹھ جاتا ۔۔۔تیسری اور آخری بات تم اکیلی نہیں گئی لاہور جو میں ہلکان ہو جاتا آپ کی فکر میں ۔۔۔۔گھر کا واحد كفيل ہوں میں فارغ نہیں ہوتا جو چوبیس سو گھنٹے۔۔۔۔ “جانو نے تھانہ تھایا؟؟؟جانو نے ٹھیک سے آج واش روم یوز کیا ؟؟؟” یہ پوچھتا رہوں ۔۔۔لہذا بار بار فون کر کے تنگ مت کیا کرو بلاک پر لگا دوں گا تمہارا نمبر ۔۔۔”
“اور آج تک بہت سی لڑکیوں سے تعلقات رکھے ہیں جوتی کی نوک پر رہتی تھیں سب اور ایک تم ہو میرے سر پر آ بیٹھی ہو ۔۔۔آئندہ ایسی بد تمیزی کی تو نتائج کی ذمہ دار تم خود ہو گی سمجھی ؟؟؟”
اب فون رکھو ۔۔
“سیف میری بات تو سنو”
سیف کال کاٹ کر باہر آیا تھا 3بج رہے تھے وہ ندیم کی بتائی سواری کو فون کررہا تھا جنہوں نے موسم كی خرابی کے باعث ابھی ہی آنے کو کہا تھا
سیف سواری کو منزل تک پہنچاتے پہنچاتے بہت لیٹ ہو گیا تھا پورے راستے تیز آندھی نما بارش تھی گاڑی کی سپیڈ بہت کم رکھنی پڑی تھی رات کا ایک بج رہا تھا بارش کے تھمنے کا فلحال کوئی موڈ نہیں تھا
اس نے پریشانی سے ندیم کو کال کی تھی اسے ساری صورتحال سے آگاہ کر کے اس کے چاچا کو اپنی آمد کا بتانے کو کہا تھا جس پر ندیم نے فوری عمل کیا تھا
ندیم کے چاچا نے اس طوفانی بارش میں چھتری لئے کیچڑ میں کھڑے بہت گرم جوشی اور محبت سے اس کا استقبال کیا تھا جس پر سیف کا دل چلوں بھر پانی میں ڈوب مرنے کو کیا تھا
پوری حویلی پرانے طرز کی تھی صحن کچا ہونے کی وجہ سے کیچڑ کیچڑ تھا وہ احتیاط سے قدم اٹھاتا اسی کمرے میں گیا تھا جہاں وہ ایک بار پہلے رک چکا تھا
چاچا آج کھانا رکھنے خود ہی آیا تھا اس کا کہنا تھا اس کی گھر والی کو بخار نے آلیا ہے وہ بیٹی کے ہمرا کھانا لگا کر ادھر ہی بیٹھا تھا بیٹی کو وہ کمرے میں بھیج چکا تھا
“چاچا ۔۔۔ میں آپ کی اس عزت پر پوری عمر کے لئے آپ کا خادم غلام بن گیا ہوں ۔۔۔۔آپ کو کبھی بھی میری ضرورت ہوئی آپ مجھے بس ایک آواز دینا میں سر کے بل چل کر آجاؤں گا”
سیف اپنی ضمیر کی ملامت پر تڑپ کر بول رہا تھا جس پر چاچا کچھ حیران تھا کیوں کہ گاؤں کے ماحول میں گھر آئے مہمان کی خدمت ان کی روایت کا خاصا سمجھا جاتا ہے ۔۔۔محظ مہمان نوازی پر اتنے مخلص الفاظ چاچے کی سمجھ سے باہر تھے ۔۔۔
“اوے پُتر اللّه آپ کا بھلا کرے ۔۔۔۔روٹی ٹکڑ ہر انسان اپنی قسمت کا کھاتا ہے۔۔۔اس کم ظرف انسان کی کیا مجال جو وہ کسی کا پیٹ بھر سکے ۔۔۔یہ آپ اپنی قسمت کا کھا رہے ۔۔۔اس میں اتنا جزباتی ہونے کی لوڑ نہیں میرا پتر ۔۔ “
چاچے نے برتن سمیٹتے ہوۓ محبت سے کہا تھا
چچا بات روٹی ٹکڑ کی نہیں اس بے لوث محبت اور عزت کی ہے جو اس طوفانی رات میں اپ نے ماتھے پر بنا بل ڈالے مجھے دی ہے ۔۔۔۔
“بس پُتر تیری تربیت بول رہی ہے یہ ۔۔۔بڑے پاگوں والے ماں باپ ہیں تیرے ۔۔۔۔جو تجھ جیسا احساس کرنے والا بیٹا رب نے دیا ہے ان کو ۔۔۔”
“ورنہ میں نے بہت سے لوگوں کو کھا پی کے اسی تھالی میں تھوکتے اور چھید کرتے بھی ویکھا ہے “
چاچا گہری سوچ میں بولا تھا
اس بات سے سیف کی ریڑ کی ہڈی میں کرنٹ لگا تھا اسے ایک پل کو لگا چاچا یہ بات اسے ہی سنا رہا ہے وہ پورے قد سے زمین بوس ہوا تھا
“یہ برتن لے کر جا رہا ہوں ۔۔۔پانی کا جگ ادھر ہے پڑا ہے ۔۔۔چل سو جا میرا پتر ۔۔۔”
چاچا طوفانی بارش میں بھاگتا ہوا کمرے سے نکلا تھا ۔۔۔
سیف کو ایک بار پھر اپنے گناہوں پر ندامت نے آگھیرا تھا وہ بے چین سا کمرے کے دروازے میں آکر کھڑا ہوا تھا بارش خوفناک تیز آواز لئے پورے آب تاب لئے برس رہی تھی سیف کی نظر سامنے ایک چھوٹے سے کمرے پر پڑی تھی جو شاید باورچی خانہ تھا وہاں کی بتی جل رہی تھی وہ دور کھڑی ماہی کو اپنی طرف دیکھتا دیکھ کر فورا کمرے کا دروازہ بند کر کے چار پائی پر لیٹا تھا
شہلا کی رات والی حرکت کا سوچ کر وہ اٹھ کر دروازے کی کنڈی چڑھانے اٹھا تھا اس کا اعتبار عورت ذات سے اٹھ چکا تھا وہ بد نصیب تھا بہت بد نصیب جو آج تک اسے کوئی شرم وحیا والی لڑکی نہیں ملی تھی ۔۔۔۔وہ جس عورت کو جانتا تھا وہ تو بے باک،بے شرم ،مجبور،کمزور اور بے پردہ تھی ۔۔۔۔
اسے اچھی عورت مل بھی کیسے سکتی تھی ؟؟؟؟؟
“پاک عورتیں تو پاک مردوں کے لئے ہوا کرتی ہیں نہ ؟؟؟؟”
فریحہ اور ماہی پاک عورتیں تھیں
کم از کم اس لحاظ سے کہ سیف ہی ان کی زندگی کا پہلا اور آخری مرد تھا وہ محبت میں مخلص تھیں سیف سے جسمانی ساتھ کی حد ان کا مسئلہ کبھی نہیں رہا تھا وہ بس سیف کی ہاں میں ہاں ملا کر اس کے چند جملوں کی بھوکی تھیں مگر کہتے ہیں نہ جب اعتبار اپنی جگہ چھوڑ دے پھر اس کی زد میں ہر رشتہ،ہر انسان آتا ہے بس یہی ہوا تھا ۔۔۔۔
سیف کو ان بے باک عورتوں کی جهنڈ میں فریحہ اور ماہی کی خالص محبت کا فرق محسوس ہی نہیں ہوا ۔۔۔۔۔
جو کسی انسان کا برا وقت شروع ہوتا ہے تو سب سے پہلے اللّه اس سے ان تمام لوگوں کو دور کر دیتا ہے جو اس کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں ۔۔۔۔
سیف کی زندگی سے فریحہ اور ماہی کا چیپٹر کلوز ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
اب اس کو اس کے گناہوں کے ہم پلا جو ملنے والی تھی ۔۔۔
نيک عورت تو نيک مرد کے لئے ہوا کرتی ہے نہ ۔۔۔۔
۔________________
دنوں کو مانو پر لگ گئے تھے کل سحر کا آخری پیپر تھا اس پورے عرصے میں عاشر نے سحر کو دن رات کالز کیں تھیں ۔۔۔
اب عاشر کے کہنے پر لندن کے برفیلے موسم کے پیش نظر سحر کو ساری گرم خریداری کرنی تھی
