195.9K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imtehaan Episode 18

بچی کا نام شہلا نے دعا رکھا تھا وہ نہایت حسین نیلی آنکھوں والی بچی تھی تیکھے نقوش ماں سے جبکہ چاندی جیسا گورا رنگ باپ سے پایا تھا ۔۔۔

سب بدل گیا تھا سیف بیٹی اور شہلا دونوں کو ایک جیسی محبت اور اہمیت دینے لگا تھا وہ شہلا کو روز شام کو لونگ ڈرائیو پر لے کر جاتا کسی فلم کے ہیرو کی طرح اس کو گانے ڈیڈیكيٹ کرتا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گھنٹوں اظہار محبت کرتا ۔۔۔

شہلا اب بہت خوش رہتی وہ سیف کی بظاہر عام سی نظر آنے والی باتوں پر گھنٹوں لوٹ پوٹ ہو کر ہنستی رہتی ۔۔۔۔۔

وہ خوش تھی ۔۔۔۔۔ہاں وہ واقعی بہت خوش تھی وہ گھر کے سب افراد کے ساتھ اچھے سے پیش آنے لگی تھی اس کو چھوڑ سب ہی یہ جانتے تھے کہ وہ چند سالوں یا شاید مہینوں کی مہمان ہے وہ سب اس کو اضافی محبت عزت اور اہمیت دینے لگے تھے جس پر وہ نہال ہو جاتی ۔۔۔

وہ بن پروں کے اڑنے لگی تھی۔۔۔سیف باقاعدگی سے اسے خود دوائی کھلاتا وہ جو ساری عمر اس خصوصی توجہ کو ترسی تھی اب اتنی خوش اور مطمئن تھی کہ وہ کبھی سیف سے یہ نہ پوچھتی کہ یہ دوائی آخر وہ کس وجہ سے کھاتی ہے ۔۔۔۔۔

شہلا جیسے لوگ جو غصے میں اخلاقیات کی کوئی حد نہیں رہںنے دیتے جب کسی کےساتھ مخلص ہو جاتے ہیں تو پھر وہ اس رشتے میں اپنی جان تک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔۔۔

سب اچھا اچھا جا رہا تھا مگر شہلا کی صحت دن بدن خراب رھنے لگی تھی اس کا رنگ ہلدی ہونے لگا تھا ۔۔۔۔

سیف آج گھر پر تھا وہ دعا کو ہاتھ میں اٹھاۓ محبت سے دیکھ رہا تھا شہلا نہا کر باہر آئی تھی

“سیف دعا سو گئی ؟؟”

“ہاں بس سونے والی ہے میری گڑیا ۔۔۔”

سیف دعا کو مامی کو پکڑا دو تم اپنا سارا وقت بس مجھے دو آج ۔۔۔”

وہ محبت سے تولیے سے بال سکھاتی بول رہی تھی

سیف زبیدہ بيگم کو دعا پکڑا کر واپس آیا تو شہلا نیچے سر جھکاے خاموش بیٹھی تھی

“کیا ہوا میری جان کو ایسے کیوں بیٹھی ہو ؟؟”

سیف پریشان ہوا تھا

“سیف یہ دیکھیں ۔۔۔”

وہ بالوں سے بھرا ہوا تولیہ سیف کو روتے ہوۓ دیکھا رہی تھی

“سیف مجھے کیا ہوا ہے ؟؟؟میرے بال کیوں جھڑ رہے ہیں ؟؟؟”

وہ خوفزدہ سی بول رہی تھی سیف کا دل کر رہا تھا کوئی معجزہ ہو جائے ۔۔۔۔يا پھر یہ کوئی خواب ہو اور کوئی اسے اس خواب سے بيدار کر دے ۔۔۔

“ایک اسٹیج پر آپ كی وائف کے پورے جسم کے بال جھڑنے لگے گے یہ وہ وقت ہوگا جب ان کو کیمو کے سیشین دینا ضروری ہو جائے گا ۔۔۔”

ڈاکٹر کی آواز سیف کے کانوں میں سیسے کی طرح پگلی تھی

“سیف اپ چپ کیوں ہیں ؟؟؟اور میں ۔۔۔ میں ۔۔۔۔یہ روز کس چیز کی دوائیاں کھاتی ہوں ؟؟؟؟مجھے ۔۔۔۔۔مجھے کونسی بیماری ہے ؟؟؟؟سیف پلیز بولیں ایسے چپ مت ہوں میرا دل پھٹ جائے گا ؟؟؟؟”

آج پرانی خوف زدہ،سہمی،پریشان اور احساس كمتری کی شکار اکیلی شہلا واپس لوٹ آئی تھی وہ دکھ،پریشانی اور غصے کے ملے جلے جزبات لئے دیوانی ہو رہی تھی

“بس تھوڑی سی بیمار ہو گئی ہو تم، شہلا جو دوائی کھاتی ہو نا اس کا سائیڈ افیکٹ ہے بس یہ ۔۔۔۔ بال جلدی ہی واپس آ جائے گے ۔۔ . “

سیف صدیوں سے تھکے مسافر كی مانند گویا شہلا سے زیادہ خود کو حوصلہ دے کر بولا تھا

“سیف تم اب مجھے مارتے بھی نہیں ہو نا ہی مجھ سے نفرت کرتے ہو ۔۔۔۔بلکہ تم سب ۔۔۔۔تم سب ہر وقت میرا خیال رکھتے ہو ۔۔۔ایسا کیا ہوا ہے جو تم سب لوگ بدل گئے ہو میرے ساتھ ؟؟؟میں تو اب بھی پرانی شہلا ہی ہوں نا ۔۔۔ پھر ؟؟؟”

آج گویا وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹی تھی

“امی اور ابو بھی بدل گئے ہیں اب وہ دونوں میرے پاس ایک دوسرے کی شکایت لے کر نہیں آتے بلکہ بہت خوش ظاہر کرتے ہیں وہ خود کو ۔۔سب کچھ کیوں بدل گیا ہے ؟؟میں جتنی گناہ گار ہوں میرے ساتھ معجزہ تو ہرگز ۔۔ . ہرگز نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔”

وہ تولیہ ہاتھ میں پکڑے آہستہ آہستہ بولتی ایک دم خاموش هوئی تھی

سیف اس کو گرد اپنی بانہوں کا حصار بنا کر اسے کمرے میں لے کر آیا تھا بیڈ پر بیٹھا کر اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ساتھ بیٹھا تھا

“شہلا تمہیں کچھ نہیں ہوا ایسا ۔۔۔ بس ہم سب کو اپنی اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے ۔۔ . ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ تم بہت اچھی ہو ۔۔۔۔ہم ہی تمہیں غلط سمجھ رہے تھے ۔۔۔۔بس اسی لئے اب ہم تمہاری قدر کرتے ہیں ۔۔۔۔اور کوئی بات نہیں ۔۔۔۔شہلا تم بس اپنا خیال رکھو ۔۔۔۔میرے لئے ۔۔۔۔مجھے تمہاری اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔دعا کو تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔”

شہلا نے لال ہوتی ناک کو بازو سے رگڑا تھا

“سیف پلیز مجھ سے جھوٹ مت بولیں ۔۔۔۔۔”

وہ بهرائی ہوئی آواز میں نرمی سے بولی تھی جس پر سیف کو اس پيلی زرد بیمار لڑکی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا وہ اس کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا شہلا بت بنی اس کو رونے دیتی رہی ۔۔۔

دو دن بعد ۔۔۔

شام کا وقت تھا سیف گھر آیا تھا دعا کی طبیعت کچھ خراب تھی وہ زبیدہ بيگم کو ساتھ لئے شہلا اور دعا کو ہسپتال لے کر آیا تھا مریضوں کا کوئی خاص رش نہیں تھا

شہلا ساس کے ہمراہ بچی کو دکھانے اندر ڈاکٹر کے کمرے میں تھی سیف بینچ پر بیٹھا ان کا منتظر تھا

وہ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے جھک کر بیٹھا ہوا تھا جب شہلا کی ڈاکٹر کی نظر سیف پر پڑی تھی

“سیف آپ كی مسز ؟؟؟”

“جی ۔۔۔۔۔۔جی رہی ہیں “

وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تھا

“حیرانگی کی بات ہے وہ جس اسٹیج پر تھیں وہ حد 6ماہ تک سروائو کر سکتی تھیں ۔۔۔۔یہ ان کی رپورٹس بتا رہی تھیں ۔۔۔”

“بس اب میں ویسا ہو گیا ہوں جیسا وہ بیچاری چاہتی تھی ۔۔۔۔۔کاش میں شروع سے ایسا ہی ہوتا شاید ۔۔۔۔وہ آج اس موذی مرض کا شکار نہ ہوتی۔۔۔۔”

سیف نے بھاری آواز میں آنکھیں ملتے ہوۓ کہا تھا

“بس ۔۔۔۔یہی تو افسوس ہے موت تو اٹل ہے جو اس دنیا میں آیا ہے ۔۔۔يقینا موت کا ذائقہ ضرور چکھے گا مگر ہم انسان نفرت میں یہ بات فراموش کرکے بس لڑنے جھگڑنے میں ان قیمتی لمحوں کو ضائع کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔جب تک وہ انسان زندہ ہوتا ہے اس سے برا کوئی انسان نہیں ہوتا ہماری نظر میں ۔۔۔۔مجھے بہت دکھ ہوتا ہے مسڑ سیف ۔۔۔۔۔۔

اس دنیا میں خود کو اچھا ثابت کرنے کے لئے مرنا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔وہ ہی انسان جب بچھڑ جاتا ہے پھر ابھی اس کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہوتا اور ہم اس کی وہ وہ اچھائیاں گنوانے لگتے ہیں جو جیتے جی وہ قران پر ہاتھ رکھ کر بھی منواتا تو ہم بے ایمان والے مسلمان شاید اس کا یقین تب بھی کبھی نہ کرتے ۔۔۔۔

“بس پریشان مت ہوں ۔۔۔۔۔خوش رکھیں ان کو ۔۔۔خوشی اور محبت سے بڑی دوا آج تک سائنس بھی ایجاد نہیں کر سکی ۔۔۔۔۔”

ڈاکٹر سیف کے کندھے پر ہاتھ سے تھپكی دے کر آگے بڑھ گئی تھی جبکہ شہلا دعا کو ہاتھ میں اٹھاۓ منہ کھولے حیران سی کھڑی سیف کو دیکھ رہی تھی

سیف کی آنکھیں لال ہو گئی تھیں وہ شہلا کو کن الفاظ میں تسلی دے کر سنبهالے گا وہ شش و پنج میں کھڑا بار بار اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر رہا تھا مگر شہلا کے رویے نے سیف اور زبیدہ بيگم دونوں کو ہی حیران کر دیا تھا

وہ پھیکی سی مسکراہٹ لئے سیف کے پاس آئی تھی دعا کو زبیدہ بيگم کو پکڑا کر وہ سیف کے آنسو اپنے دوپٹے سے صاف کرتی رہی ۔۔۔

“کاش شہلا یہ سب جھوٹ ہوتا ۔۔۔۔۔۔”

سیف تڑپ کر بولا تھا

“سیف اگر یہ جھوٹ ہوتا تو آج آپ اس طرح میرے لئے پریشان نہ ہو رہے ہوتے ۔۔۔۔آپ مجھ سے ناراض ہوتے مجھے مار پیٹ رہے ہوتے اور میں آپ کو ۔۔۔۔۔ایسے جھوٹ سے یہ سچ بہتر ہے ۔۔۔۔”

وہ بے آواز رو رہی تھی ۔۔۔

زبیدہ بيگم بھی ہچکیوں سے رونے لگی تھیں وہ تینو ں آنکھیں ملتے گاڑی میں جا کر بیٹھ گئے تھے

جب سے شہلا کو اپنی بیماری کا نام پتہ چلا تھا وہ چپ رهنے لگی تھی ۔۔۔۔

اس کی صحت تیزی سے گرنے لگی تھی ۔۔۔۔

آج سیف کا کسی گارمینٹس فیکٹری کے ساتھ کام لگا تھا اسے اپنی گاڑی میں اس فیکٹری کی کچھ گاؤں کی عورتوں کو لانا لے جانا تھا تنخواہ کافی اچھی تھی وہ بہت خوش تھا کیوں کہ شہلا کے علاج پر پیسہ پانی کی طرح لگ رہا تھا ایسے میں اس کام کا ملنا اللّه کی غیبی مدد تھی ۔۔۔

وہ گھر واپس آیا تھا کیوں کہ آج شہلا کو لاہور لے کر جانا تھا اس کا کیمو چل رہا تھا ۔۔۔

شہلا بے دلی سے چادر اوڑھے اس کے ساتھ بیٹھی تھی جبکہ زبیدہ بيگم دعا کو پکڑے پیچھے بیٹھی تھیں ۔ ۔

وہ لاہور کی حدود میں داخل ہوۓ تھے انہیں شوقت خانم جانا تھا

“سیف ۔۔۔۔۔مجھے داتا دربار لے چلو ۔۔۔”

شہلا کی آواز میں دکھ بھرا ہوا تھا

“پھر کبھی لے جاؤں گا شہلا ابھی لیٹ ہو رہے ہیں ہسپتال کے لئے”

سیف سراسر ٹالتے ہوۓ بولا تھا

“وقت کم ہے میرے پاس سیف ۔۔۔۔ مجھے لے چلو ۔۔۔داتا کی نگری میں سنا ہے بہت سکون ملتا ہے ۔۔۔”

وہ بھیگی پلکیں لئے سیف کو دیکھ رہی تھی سیف کو شہلا کا اس طرح کمزور پڑنے پر غصہ آیا تھا

“یار بچی نا بنو شہلا ۔۔۔بات تمہاری صحت کی ہے میں اس طرح خطرہ مول نہیں لے سکتا “

سیف نے مصنوئی ناراضگی کا اظہار کیا تھا

“بات اب میری زندگی موت کی ہے سیف ۔۔۔۔میں مرنے سے پہلے ۔۔۔۔وہاں جا کر کچھ مانگنا چاہتی ہوں “سیفی جیسا میری بیٹی کہتی ہے کرو”

زبیدہ بيگم نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر حکم دیا تھا جس پر سیفی نے گاڑی کو داتا دربار کے روڈ پر ڈالا تھا ۔۔۔۔

۔***************

زین دروازہ بند کر کے سحر كی طرف بڑھ رہا تھا مگر سحر پیچھے ہٹنے کی بجاۓ اپنی جگہ پر ساکن کھڑی رہی آخر وہ سحر کے کافی قریب آ چکا تھا مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلی جس پر زين جز بز ہوا تھا

” کیا آپ جانتے ہیں عاشر آپ کو اپنا چھوٹا بھائی مانتے ہیں ؟؟؟وہ آپ پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ میری تنہائی میں بھی مجھے آپ کے ساتھ وقت بتانے کا کہا ؟؟؟ جب میں نے اعتراض کیا تو جانتے ہیں ان کا کیا جواب تھا ؟؟؟”

زين سحر کے بولنے سے پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوا تھا

“وہ کہہ رہے تھے وہ آپ پر اندھا اعتماد کر سکتے ہیں کیوں کہ آپ ایسے ویسے لڑکے نہیں ۔۔۔۔بلکہ آپ ان کے سگے بھائی جیسے ہیں”

“مگر آپ اس حد تک گر سکتے ہیں ؟؟؟؟؟ واقعی ؟؟”

“میں ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔بھابھی ۔۔۔۔”

“آپ جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں عورت خود اس حد کو پار کئے بیٹھی ہے پھر مجھ سے یہ گناہ کر کے کیا مل جائے گا آپ کو ؟؟؟”

“بھابھی اپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں میں سچ میں ایسا نہیں ہوں وہ تو مجھے نئی گاڑی لینی تھی بےبی آنٹی کو پاپا نے بتایا تھا وہ ادھر ہی کام کرتے ہیں تو آنٹی نے مجھے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔تو وہ مجھے لے دیں گیں ۔۔۔۔۔ورنہ قسم لے لیں جو میں نے کبھی عاشر کو بھائی سے کم سمجھا ہو ۔۔۔ “

زين کمرے کا لاک کھول چکا تھا وہ دروازے میں کھڑا ہو گیا تھا تا کہ دیکھنے والے کی نظر میں کوئی شک نا رہے ۔۔

بےبی اسی وقت ادھر چیختی چلاتی ہوئی آئی تھی

“باہر کیا کر رہے ہو تم زين کیا گاڑی نہیں چاہیے ؟؟؟”

“نہیں ۔۔۔۔میں بھابھی کی بہت عزت کرتا ہوں اگر عاشر میرا جگری دوست بھی نا ہوتا تو بھی میں بھابھی کے ساتھ ایسا نہیں کرتا ۔۔۔۔”

زين شرمندہ سا بولا تھا

“کیوں ؟؟؟کیا جادو کر دیا ہے اس نے تم پر ایسا جو بند کمرے میں بیعت لے آئے تم اس كی ؟؟؟”

بےبی بد تمیزی سے بولی تھی

“میں نہیں جانتا آنٹی ایسا کیا ہے ان میں ۔۔۔۔مگر بس ان کے گرد ایک حصار سا محسوس ہوا ہے مجھے جو ان کو نقصان نہیں پہنچنے دے سکتا ۔۔ وجہ ان کی عبادت ہے ۔۔ يا کسی اپنے کی خاص دعائیں……یا ان کا سر سے پاؤں تک چھپا وجود جو شاید کبھی تنہائی میں بھی شیطان نہیں دیکھ پایا ۔۔۔”

سحر خاموشی سے بےبی کو نظروں میں گرتا دیکھتی رہی ۔۔

“بھابھی میں شرمندہ ہوں مجھے معاف کر دیں ۔۔۔”

وہ کہتا ہوا تیزی سے باہر نکلا تھا

“بےبی آنٹی میری بات یاد رکھیئے گا کوئی میرے ساتھ ہو نا ہو ۔۔۔ جو میرا اللّه ہے نہ ۔۔۔وہ اوپر كی طرف انگلی کرتے ہوۓ بولی تھی ۔ . وہ ہر وقت میرے ساتھ ہے آپ کسی کو میرے خلاف کوئی لالچ،کوئی رشوت دے کر استعمال نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔ آپ میرے رب کو خرید نہیں سکتیں ۔۔۔۔اور جو دکھ اس نے میری قسمت میں لکھ دیا ہے وہ اسے سہنے کا حوصلہ اس کے آنے سے پہلے بھیجے گا اور جو نہیں لکھا وہ کوئی کتنی بھی کوشش کرے میرے ایک بال تک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔۔۔

“Got it???”

“وہ ہی اللّه میرے عاشر کی عزت کی حفاظت کرے گا ۔۔۔۔”

وہ دروازہ بےبی کے منہ پر پٹختی اندر چلی گئی تھی

بےبی نے فورا مایا کو کال ملائی تھی ۔۔۔۔۔

جس نے کچھ ایسا بتایا تھا جس پر بےبی کی پریشانی میں اضافہ ہوا تھا وہ اب کسی اور کو کال ملا رہی تھی ۔۔۔

۔**********

دو گھنٹے بے ہوش رہنے کے بعد عاشر کی آنکھیں کھلنا شروع ہوئی تھیں

مایا موبائل ہاتھ میں پکڑے بے ہودہ سا انداز لئے صوفے پر براجمان تھی عاشر کو جاگتا دیکھ تیزی سے اس کے پاس پائی گئی تھی

“عاشر ۔۔۔۔میری جان تم اٹھ گئے ۔۔ “

“ہاں میں اٹھ گیا ہوں بہت گہری نیند میں تھا مگر اب جاگ گیا ہوں ہٹو پیچھے”

وہ مایا کا بے ہودہ وجود نفرت سے پیچھے دکھیلتا بیٹھ گیا تھا

“کم آن عاشر ۔ ۔ ۔ یہ پہلی بار تو نہیں ہوا ۔۔ ہم اس طرح کافی بار مل چکے ہیں مگر تب اس میں تمہاری منشاء زیادہ ہوا کرتی تھی ۔۔۔اب تم شادی شدہ ہو میں پھر بھی اپنی دوستی پر قائم ہوں اور تم ہو کے نخرے دکھا رہے ہو ۔۔۔”

وہ عاشر کے اور پاس آ کر ابلیس کی من پسند حرکتیں کرتے کرتے شکوہ کنابول ہوئی تھی ۔۔

“ہاں تم بلکل سچ کہہ رہی ہو مگر ضروری نہیں ہے کہ میں اب یہ غلطی ساری عمر ہی دہراتا رہوں گا ۔۔۔میں ان گناہوں کی گمراہ زندگی چھوڑ چکا ہوں ۔۔۔مجھے اللّه نے سحر جیسی پاک باز بیوی دے کر جو سدھرنے کا موقع دیا ہے میں اس کو کسی قیمت پہ بھی گنواؤں گا نہیں ۔۔۔۔”

“میں تمہیں کل اپنی کمپنی سے بھی فارغ کر دوں گا اور بہتر یہی ہے کہ آئندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا ۔۔۔”

“ارے واہ ۔۔۔۔۔۔کمال مرد ہو تم تو ۔۔۔۔۔وہ کیا خوب کہا ہے کسی نے تم جیسوں کی شان میں ۔۔۔۔”

“نو سو چوہے کھا کہ بلی حج کو چلی۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟”

“میرا یوز کرتے رہے ۔۔۔۔اور اب مكهن میں سے بال کی طرح الگ کر دیا مجھے خود سے اتنا آسان تھا یہ ؟؟؟”

“دیکھو مایا ہم میں محبت یا شادی کی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوئی تھی کبھی ۔۔۔۔ہم دوست تھے ۔۔ محظ دوست ۔۔۔۔اور یہاں دوستی میں یہ سب کرنا معمولی سی بات ہے ۔۔۔”

“اب جا رہا ہوں میں ۔۔۔آئندہ میری زندگی میں کودنے کی کوشش بھی کی تو اریسٹ کروا دوں گا تمہیں ۔۔۔۔اینڈ آئی مِين اِٹ ۔۔۔۔”

مایا پاگلوں کی طرح عاشر کو خود میں مگن کرنے کی کوشش کرتی رہی عاشر پہلے شرافت سے اسے منع کرتا رہا آخر تنگ کر اس نے مایا کے منہ پر فراٹے دار تھپڑ جھڑ دیا اور اسے بیڈ پر پوری قوت سے دھکا دے کر وہاں سے نکل گیا ۔۔۔

“تم گاڑی چلانے کے قابل نہیں ہو عاشر ۔۔۔تم دوائی کے اثر میں ہو مت جاؤ ۔۔۔۔”

وہ مسلسل پیچھے سے آوازیں دیتی رہی مگر عاشر گرتا پڑتا اپنی گاڑی تک پہنچا تھا

وہ گاڑی سٹارٹ کر کے ہوٹل سے نکل چکا تھا ۔۔۔

ہر چیز کسی خواب کی طرح دھندلی تھی ۔۔۔

گاڑیوں کا شور ۔۔۔۔آنکھوں میں گھستی روشنیاں ۔۔۔۔۔

عاشر کی آنکھیں بھاری ہو رہی تھیں ۔۔۔

وہ باوجود کوشش بھی ان کو کھول نہیں پا رہا تھا اوپر سے رات کا اندھیرا ۔۔۔۔

آخر گاڑی اس کے کنٹرول سے باہر ہوئی تھی ۔۔۔۔

وہ کسی چیز سے زور سے ٹکڑائی تھی ۔۔۔

گاڑیوں کے ہارن کا شور ۔۔۔۔۔۔۔۔پٹروليم پولیس کی گاڑیوں کا سائرن…….

عاشر سٹیرنگ پر سر رکھے اس دنیا سے بیگانہ ہو چکا تھا ۔۔۔