Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Last Episode

Ghag By Mahwish Urooj Last Episode

“مجھے بلایا تھا۔۔۔خیر تھی مجھ سے کیا کام پڑ گیا؟”
جیل میں رہنے کے باوجود اس کے انداز و اطوار میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی تھی۔انسپیکٹر عمر خان وہاں جا کر بھی بات کر سکتا تھا مگر اس نے اسے یہاں بلا کر بات کرنا مناسب سمجھا۔
“بیٹھو۔۔۔!”
انسپیکٹر عمر خان نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔کچھ پل شکور اسے حیرانی سے اسے دیکھتا رہا پھر کچھ سوچ کر بیٹھ گیا۔وہ جان گیا تھا کہ کوئی ضروری بات تھی اس لئے اس نے اسے آفس میں بلایا تھا ورنہ وہ لاک اپ میں آ کر بھی بات کر سکتا تھا۔باتور خان کل رات اس کے ساتھ ہی تھا۔آج صبح ہی اسے وہاں سے تبدیل کیا تھا۔اس نے ساری رات اسے تیار کیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ میرسربلند خان کے خلاف کچھ بھی نہیں بتائے گا۔باتور خان جانتا تھا کہ وہ پیٹ کا ہلکا ہے۔پہلے بھی اس نے ایک دو ہاتھ کھانے کے بعد ہی قادر خان کے بارے میں بتا دیا تھا۔اس لئے باتور خان نے اسے اچھی طرح باور کرا دیا تھا کہ اگر اس نے زبان کھولی تو وہ اسے جیل کے اندر ہی جہنم کی سیر کروا دے گا۔اس لئے اس کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی زبان بند رکھے۔اب جب وہ انسپیکٹر عمر خان کے سامنے بیٹھا تھا تو اسے باتور خان کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔وہ خود بھی پہلے جیسی غلطی دہرانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ قادر خان کا انجام وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔وہ یہ بھی جانتا تھا کہ قادر خان کو ذہر باتور خان نے ہی دیا ہے۔اس پہ کوئی شدید نوعیت کا کیس نہیں تھا اس لئے اس نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔
“کیا سوچ رہے ہو۔۔۔۔۔پوچھو گے نہیں کہ میں نے تمھیں یہاں کیوں بلایا ہے؟”
انسپیکٹر عمر خان نے اسکی اٹھی ہوئی گردن کو ناگواری سے دیکھا۔وہ اس کے سامنے اسطرح کھڑا تھا جیسے اسے دعوت پہ بلایا گیا ہو۔
“بیٹھو۔۔۔”
عمر خان نے اسکے انداز کو اگنور کیا تھا اور اسے بیٹھنے کو کہا۔شکور نے کچھ پل تو انسپیکٹر عمر خان کی طرف حیرانی سے دیکھا اور پھر بیٹھ گیا۔
“دیکھو شکور۔۔۔۔تمھاری سزا میں کمی ہو سکتی ہے اگر تم زمان خان کے اغواء کے کیس کے سلسلے میں ہماری مدد کر دو تو۔”
انسپیکٹر عمر خان مدعے پہ آیا۔
“میں کیا مدد کر سکتا ہوں جبکہ میرا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”
شکور کا انداز لاپرواہ تھا۔
“تم ہمیں میرسربلند خان کے شہر میں موجود خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں آگاہ کر سکتے ہو۔تم اس کے کام سے شہر میں ہی رہائش پزیر رہتے تھے۔”
اپنی بات کے اختتام میں انسپیکٹر عمر خان نے شکور کے چہرے کے بگڑتے زاویے دیکھے تھے۔
“میں نہیں جانتا۔۔۔۔میں صرف شہر میں موجود ان کی رہائش کے متعلق جانتا ہوں۔جہاں میں کبھی کبھار رہا کرتا تھا۔جہاں تک میرا اندازہ ہے ان کا کوئی پوشیدہ ٹھکانا نہیں۔۔کیونکہ وہ شہر جاتے ہی نہیں تھے نا ہی رہتے تھے۔۔سب جانتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی گھر میں رہنا پسند کرتے تھے۔”
شکور نے بات ہی ختم کر دی مگر انسپیکٹر عمر خان کا جانتا تھا کہ وہ اپنا دامن بچانا چاہ رہا ہے۔میرسربلند خان کے قریبی آدمیوں میں سے شکور وہ واحد شخص تھا جو شہر میں رہتا تھا اور وہاں کی تمام تفصیلات سے انھیں آگاہ کیا کرتا تھا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ناواقف ہو۔قادر خان کے بارے میں بھی اسی سے اگلوایا تھا جو کہ صحیح نکلا تھا۔
“اگر تم ہماری مدد کرو تو تمھاری سزا میں کمی کروا سکتا ہوں۔ورنہ جسطرح تم میرسربلندخان کے ساتھ ساتھ رہے ہو تم پر تو بڑا کیس بنتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بے جیسی بری رسم کے ارتکاب اور لوگوں کو غگ کی صلاح دینے جیسے جرم میں تم اور باتور خان پیش پیش رہے ہو۔یہاں تک کے جرگے کو غلط فیصلوں میں اکسانے میں بھی تم دونوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اے۔ایس۔پی میرضیغم خان کے فیملی کے قتل کا اعتراف بار بار تمھارے سامنے کر چکا ہو گا اور یہ بات ایک ذرائع سے مجھے معلوم ہوئی ہے۔”
انسپیکٹرعمر خان نے اسکے گرد گھیرا تنگ کیا۔
“میں نہیں جانتا۔۔۔ویسے بھی مجھے نہیں لگتا کہ زمان خان کے اغواء میں خان جی کا ہاتھ ہے۔۔یہ صرف باتور خان کی کارستانی ہو سکتی ہے کیونکہ سب سے بڑی دشمنی تو اسکی ہے۔اس نے اسے اپنی غیرت کا مسئلہ بنا رکھا ہے اور باتور خان جیسا پٹھان اپنی غیرت پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتا۔اس سے پوچھیں۔۔یہ اسی کا کام ہے۔”
شکور نے بات کے ساتھ ساتھ نگاہوں کا رخ بھی بدلہ تھا۔
“یہ تو میں جانتا ہوں کہ اس کام میں باتور خان شامل ہے مگر اسے پشت پناہی تو میرسربلند خان کی ہی حاصل ہے ورنہ زمان خان ایک عرصے تک میرسربلند خان کے قریبی لوگوں میں سے رہا ہے یہ اور بات کہ وہ اسطرح کے غیرقانونی کاموں میں شامل نہیں تھا۔باتور خان تمھارے خان جی کی رضا کے بغیر زمان خان پہ ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا اور تم فکر مت کر اس سے بھی جلد ہی پوچھ تاچھ کی جائے گی۔چند ہی لمحوں میں وہ سب پھوٹ دے گا۔لیکن میں تم سے جاننا چاہتا ہوں کہ اگر تم ہماری راہنمائی کرو تو یم فورا کوئی ایکشن لے سکیں تاکہ زمان خان کو بروقت ان کے چنگل سے نکالا جا سکے۔”
انسپیکٹر عمر خان اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا اور اسکے کندھوں پہ ہاتھ رکھ دئیے۔دباو محسوس کر کے شکور نے اٹھنا چاہا مگر انسپیکٹر عمر خان نے دباو بڑھا کر اسے دوبارہ بیٹھا دیا۔
“تم شرافت سے بتا دو تو تمھارے لئے بہتر ہو گا ورنہ مجھے اور بھی بہت سے طریقے آتے ہیں۔ہم پولیس والوں کو اسی بات کی تو ٹریننگ دی جاتی ہے کہ اگر مجرم زبان نہ کھولے تو کسطرح اسکی زبان کھلوائی جا سکتی ہے۔”
شکور کو عمر خان کی انگلیاں اپنے کندھوں میں پیوست ہوتی محسوس ہوئیں۔انسپیکٹر عمر خان نے شکور کے بولنے کا انتظار کیا مگر وہ خاموش رہا۔عمر خان نے اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹا لئے اور کانسٹیبل عبداللہ کو آواز دی جو باہر ہی کھڑا انتظار کر رہا تھا۔
“اسے لے جاو۔۔۔۔”
انسپیکٹر عمر خان نے شکور کو لے جانے کا کہا۔شکور نے اتنی آسانی سے چھوٹ جانے پر سکھ کا سانس لیا اور اسکے ساتھ باہر آ گیا۔
“ارے۔۔ارے۔۔کہاں جا رہے ہو؟”
کانسٹیبل نے اسکا رخ لاک اپ کی جانب دیکھ کر اسے روکا۔شکور نے اسے حیرانی سے دیکھا مگر کچھ پوچھا نہیں۔
“وہاں نہیں یہاں۔۔۔”
کانسٹیبل عبداللہ نے مخالف سمت اشارہ کیا۔وہ اسے بازو سے پکڑے ایک کمرے الگ تھلگ بنے کمرے کی جانب لے آیا۔کمرے میں بالکل اندھیرا تھا۔شکور سمجھا شاید اسکی جیل تبدیل کر رہے ہیں۔اس نے شکر کیا کہ اسے باتور خان سے مزید دور کر دیا گیا ہے۔مگر جب کانسٹیبل عبداللہ نے لائٹ جلائی تو کمرے کی ٹھنڈک اور خاموشی اسے اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہوئی۔کمرے کے وسط میں دو کرسیاں جن کے درمیان ایک لکڑی کی ٹیبل تھی۔ٹیبل کے بالکل پیچھے برف کی سیلیں پڑی تھیں ساتھ میں ایک ٹب بھی پڑا تھا۔بجلی کی لمبی تار سے لٹکتا بلب ٹیبل کے بالکل اوپر لگا ہوا تھا۔ٹیبل پہ کچھ اوزار رکھے ہوئے تھے۔جنھیں دیکھ کر وہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ یہ کس چیز کے لئے استعمال کیے جاتے ہونگے۔کرسی کے ایک جانب اچھی خاصی موٹی رسی پڑی ہوئی تھی جس پہ کہیں کہیں خون کے خشک دھبے واضح دکھائی دے رہے تھے۔چاروں جانب جائزہ لینے کے بعد وہ پریشانی سے ساتھ کھڑے شخص کو دیکھنے لگا جسے کے چہرے کی مسکراہٹ اسے یہ کہتی محسوس ہو رہی تھی کہ”اب بولو۔۔۔”
“یہ تم مجھے کہاں لے آئے ہو؟”
شکور کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
“جہاں تمھیں بہت پہلے آ جانا چاہئیے تھا۔”
اس نے پلٹ کر دیکھا۔انسپیکٹر عمر خان دروازے میں کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔اس کی نظروں کا تاثر بھی کانسٹیبل عبداللہ کی نظروں سے مختلف نہیں تھا۔
“عبداللہ۔۔! سب تیار ہے؟”
اس نے عبداللہ سے پوچھا۔
“جی سر۔۔۔! سب ریڈی ہے۔”
وہ الرٹ کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔
“ٹھیک تم جاو۔۔۔۔۔”
انسپیکٹر عمر خان آگے بڑھ کر کرسی پر آ بیٹھا۔کانسٹیبل عبداللہ ایک نظر شکور کو دیکھ کر وہاں سے چلا گیا۔دروازہ باہر سے بند ہونے کی آواز آئی تھی۔
شکور کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔انسپیکٹر عمر خان اس کے چہرے پر پھیلتے خوف کو محسوس کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔شکور کی اس کی جانب پیٹھ تھی۔پانی سے آدھی بھری لوہے کی بالٹی اس نے اٹھا کر ایک سیکنڈ بھی رکے بنا اس نے شکور پر پھینک دی۔شکور فورا پلٹا۔پانی اس قدر ٹھنڈا تھا کہ اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔انسپیکٹر عمر خان نے اسے پکڑ کر کرسی پر بٹھایا۔
“اب بھی تم انکار کرو گے؟؟”
انسپیکٹر عمر خان نے شکور کو دیکھا اور سامنے پڑا ڈنڈا اٹھا لیا۔اس سے پہلے کہ ڈنڈا اسکی کمر پہ بجتا شکور بو اٹھا۔
“بتاتا ہوں۔۔۔۔بتاتا ہوں۔۔”
“بولو۔۔۔۔۔”
انسپیکٹر عمر خان نے ہوا میں بلند ہاتھ نیچے کیا۔
_______________________________________________
وہ ریش ڈرائیونگ کر کے تھانے پہنچا تھا۔انسپیکٹر وجدان نے خبر ہی ایسی دی تھی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر تھانے پہنچ جاتا۔جب وہ تھانے پہنچا تھانے کے باہر نفری بالکل تیار کھڑی تھی۔وہ اندر کیطرف بڑھا تو انسپیکٹر وجدان باہر کیطرف آ رہا تھا۔ضیغم کو آتے دیکھ کر اس نے سیلیوٹ کیا۔
“ہاں وجدان سب تیار ہے؟”
ضیغم نے سر ہلاتے ہوئے پوچھا۔
“جی سر۔۔۔بالکل ریڈی ہیں ہم۔۔”
انسپیکٹر وجدان نے اسکا مصافحہ کے لئے بڑھا ہاتھ تھام لیا۔
“اطلاع کس نے دی ہے؟”
ضیغم نے اس کے ساتھ باہر کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے پوچھا تھا۔
“سر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی انسپیکٹر عمر خان کا فون آیا تھا۔شکور سے پوچھ گچھ کرنے پر اس جگہ کا بتایا ہے بلکہ اس نے شکور سے اگلوایا ہے۔وہ بتا رہا تھا کہ بہت ڈھیٹ ہڈی ہے۔ہر بات سے انکار کر رہا تھا۔مگر پھر انسپیکٹر عمر خان نے اپنا طریقہ آزمایا پھر کہیں جا کر اس نے منہ کھولا۔زمان خان کے وہاں موجود ہونے کے چانسز زیادہ ہیں۔”
انسپیکٹر عمر خان گاڑی کے پاس کھڑا ہو گیا۔
“لیکن اسے تھرڈ ڈگری کا استمعال نہیں کرنا چاہئیے تھا۔اس پہ کوئی قتل کا کیس نہیں ہے اور نا ہی وہ کسی سنگین جرم میں ملوث ہے۔”
ضیغم نے سامنے کھڑے سپاہیوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔اس کا اشارہ ملتے ہی وہ سبھی اس کی جیپ کے پیچھے کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئے۔
“نہیں اس نے بتایا کہ زیادہ ڈیپ جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی اسے۔۔ٹھنڈے پانی اور ٹارچر سیل میں لے جانے ہی کام بن گیا تھا۔”
انسپیکٹر وجدان آہستگی سے کہہ کر گاڑی کیطرف بڑھا۔
“وجدان میرا خیال ہے تم یہیں رہو۔۔میں خود جاوں گا۔”
ضیغم نے کچھ سوچتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔
“ٹھیک ہے سر۔۔آپ مجھے اطلاع دیتے رہیئے گا۔”
انسپیکٹر وجدان نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ضیغم سر ہلا کر آگے بڑھ گیا۔گاڑی میں سوار ہوتے ہی اس نے چلنے کا اشارہ کیا۔انسپیکٹر وجدان نے اس کے آنے سے پہلے میٹنگ کر کے سب کو سمجھا دیا تھا۔اس کے کہنے پر ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی اور میں روڈ پہ آتے ہی گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔
“جانا کہاں ہے؟”
ضیغم نے ڈرائیور سے پوچھا۔
“سر۔۔۔کچی آبادی کی طرف کچھ ہی آگے گنجان آباد علاقے کی جانب ایک راستہ گیا ہے اسی کی نشاندہی کی ہے انسپیکٹر عمر خان نے۔۔میں بہت اچھے سے جانتا ہوں اس علاقے کو۔۔قوی امکان ہے کہ مغوی کو وہیں رکھا گیا ہے۔”
لطیف خان نے اسے تفصیل سے آگاہ گیا تھا۔
“اور کتنی دور جانا ہے۔”
ضیغم نے کلائی پہ بندھی گھڑی کو بےچینی سے دیکھا۔
“بس یہاں سے ڈھلوان کیطرف اترنا ہے۔”
اس نے سڑک کی دائیں جانب اشارہ کیا۔گاڑی اب دائیں طرف ڈھلوان سے نیچے اتر رہی تھی۔ڈھلوان سے نیچے گاڑی اونچے نیچے راستے کہ ہچکولے کھاتی گزر رہی تھی۔
“وہ سامنے گھر ہے۔”
آدھے گھنٹے کی ریش ڈرائیونگ کے بعد وہ مطلوبہ جگہ پہنچے تو ایک انڈر کنسٹرکشن گھر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔اس شہر میں یہ یہی واحد جگہ جہاں ان کے ہونے کی چانسز ہیں۔باقی سب جگہیں ہم دیکھ چکے ہیں۔”
اس نے گاڑی ایک جانب روکی اور کچھ دور ایک تاریکی میں لپٹے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ضیغم گھر پر نظر ڈالتے ہوئے فورا گاڑی سے نکلا۔پچھلی گاڑی سے بھی باقی پولیس اہلکار نکل آئے تھے۔وہ سب ضیغم کے اردگرد کھڑے ہو گئے۔
“تم یہیں گاڑی میں ہی رکو لطیف خان۔۔جب ہم سگنل دیں تو گاڑی قریب لے آنا اور آس پاس نظر رکھنا۔ویسے تو کسی کے یہاں آنے کے چانسز تو نہیں ہیں مگر پھر بھی تم نظر رکھنا۔کسی کو بھی دیکھو تو سنبھال لینا۔”
اس نے لطیف خان کو گاڑی سے اترنے سے روکو۔لطیف خان گاڑی میں واپس بیٹھ گیا۔ضیغم نے ساتھیوں کو اشارہ کرتے ہوئے قدم بڑھائے۔لطیف خان الرٹ انداز میں انھیں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔گھر کے قریب پہنچ کر ضیغم کے اشارہ کرنے پر پولیس اہلکاروں نے گھر کو گھیرے میں لے لیا۔ہر سو تاریکی اور خاموشی کا راج تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر میں کوئی بھی موجود نہیں۔دل ہی دل میں ضیغم زمان خان کے وہاں موجود ہونے کی دعا کرتے ہوئے آگے بڑھا۔گیٹ اندر سے بند تھا۔وہ جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر گھسا۔دو اہلکاروں کو اس نے باہر رکنے کا کہا اور باقی چار کو اس نے ساتھ آنے کے لئے کہا۔چاند کی روشنی میں انھیں صحن کے آگے برآمدہ اور برآمدے میں بنے تین کمرے دکھائی دئیے۔اگر کمروں میں کوئی موجود تھا بھی تو بہت گہری نیند میں تھا ورنہ دروازے کی آواز جسطرح اس سناٹے میں گونجی تھی کوئی پھرتیلا بندہ ہوتا تو ب تک باہر آ چکا ہوتا یا الرٹ ہو جاتا۔وہاں اس قدر تاریکی اور خاموشی میں اسے لگا کہ یہاں کوئی موجود نہیں ہے اور شکور نے ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن اگر وہاں کوئی موجود ہے بھی تو ایک سے زیادہ نہیں ہونگے۔وہ الرٹ انداز میں سامنے بنے کمروں میں سے ایک کی جانب بڑھا۔یہ کمرہ دونوں کمروں کے بیچ تھا۔دروازہ لاکڈ نہیں تھا صرف سختی سے بند کیا گیا تھا۔اس نے پیر سے ٹھوکر ماری۔دروازہ پہلی ہی ٹھوکر سے کھل گیا۔وہ نہایت ہی پھرتی سے اندر داخل ہوا۔کمرے میں اندھیرا تھا۔اس نے ہاتھ سے سوئچ بورڈ ٹٹولا مگر شاید بجلی نہیں تھی۔اس نے خلیل خان کو ٹارچ آن کرنے کو کہا۔ٹارچ کی روشنی میں دیکھا تو کمرہ بالکل خالی تھا۔وہ باہر نکلا اور دوسرے کمرے کی جانب بڑھا۔اس کا دروازہ باہر سے بند تھا۔دروازے کے باہر تالا لگا ہوا تھا۔دروازے کے پاس ہی ایک بڑا اور موٹا سا ڈنڈا پڑا ہوا تھا۔اس نے اٹھا کر تالے پہ مار کر تالا توڑا۔زوردار آواز ایک بار پھر سے سناٹے میں گونجی۔
“کون ہے۔۔۔؟؟”
تیسرے کمرے سے کوئی باہر آیا تھا۔اس نے ٹارچ پہلے سے ہی آف کر دیا تھا۔گھنے درختوں کی موجودگی سے یہاں چاند کی روشنی نہیں پہنچ پا رہی تھی۔اس لئے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر ضیغم دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور باقی چار بھی پلرز کے پیچھے ہو گئے۔
“کون ہے یہاں۔۔۔جواب کیوں نہیں دیتے۔”
اس نے دوبارہ پوچھا تھا لیکن جب کوئی جواب نہ ملا تو وہ فورا واپس گیا۔ضیغم اس کے پیچھے آیا تھا اور دروازے کی آڑ میں ہو گیا۔کچھ سیکنڈز بعد وہ ہاتھ میں ٹارچ لئے کمرے سے برآمد ہوا اور اس سے پہلے کہ وہ ٹارچ آن کرتا ضیغم اس پر جھپٹ پڑا۔
“کون ہے۔۔۔؟”
وہ شخص ایک مرتبہ پھر چلایا اور خود کو چھڑانے لگا۔مضبوط جسامت اور قد کاٹھ کی وجہ سے ضیغم کو اسے قابو کرنے میں وقت لگا۔
“خلیل ٹارچ آن کرو۔”
ضیغم نے کچھ فاصلے پہ کھڑے ساتھی پولیس اہلکار کو کہا۔خلیل نے مجھے سے آگے بڑھ کر ٹارچ روشن کی۔ٹارچ روشن ہونے سے پہلے وہ شخص ضیغم کی گرفت میں جھٹپٹا رہا تھا اور خود کو چھڑانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔ضیغم نے بھی اس پہ قابو پانے کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کر دی تھی۔جیسے ہی ٹارچ روشن ہوئی۔۔ٹارچ کی روشنی میں خود پولیس کے نرغے میں دیکھ کر حرکت کرنا بند کر دی اور حیرانی سے انھیں دیکھنے لگا۔
“صاب کیا بات ہے۔۔۔کیا جرم کیا ہے میں نے جو تم نے مجھے پکڑ رکھا ہے۔”
اس نے پلٹ کر خود پہ قابو پانے والے کو دیکھنے کی کوشش کی۔
“زمان خان کہاں ہیں؟”
ضیغم نے اس کی کمر میں ایک مکا رسید کیا جس سے وہ دہرا ہو گیا۔
“کون زمان خان۔۔۔۔۔ہم کسی زمان خان کو نہیں جانتا۔۔۔صاب ہم ایک شریف آدمی ہے۔۔یہ ہمارا گھر ہے۔ہمارا زنانی اپنی اماں کے گھر گیا ہے بچوں کے ساتھ۔۔ادھر کوئی نہیں ہے۔”
وہ آگے کو جھکتے ہوئے بولا۔ضیغم نے اسکے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف کس کر پکڑ رکھے تھے۔پھر ضیغم نے خلیل کو اشارہ کیا۔وہ ڈنڈا اٹھا کر دوبارہ تالا لگے دروازے کی طرف گیا اور ایک ہی وار سے تالا توڑ دیا۔وہ تیزی سے اندر داخل ہوا۔
“صاب یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔یہاں ہمارے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ہمارا یقین کرو۔ہم کسی زمان۔۔۔۔۔۔۔”
“خاموش۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ آگے بولتا ضیغم نے اسے جھٹکا دیا۔خلیل نے اندر داخل ہوتے ہی ٹارچ کی روشنی پورے کمرے پر ڈالی۔کمرے میں کوئی سامان نہیں تھا۔پہلی نظر سامنے ہی دیوار کے ساتھ رکھے پانی کے کولر پر پڑی۔جس پہ مٹی کا پیالہ پڑا ہوا تھا۔کمرے کے دائیں جانب چارپائی پڑی تھی۔جس پہ کوئی بےسد پڑا ہوا تھا۔وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا۔اس کی کلائی تھام کر نبض ٹٹولی۔نبض بہت دھیمی چل رہی تھی۔اس نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔
“سر۔۔۔!!”
اس نے لیٹے ہوئے شخص کے گال تھپتھپاتے ہوئے ضیغم کو آواز دی۔ضیغم نے اس شخص کو باقی ساتھیوں کے حوالے کیا اور اسے باہر لے جانے کا حکم دے کر خود تیزی سے اندر آیا۔خلیل خان چارپائی کے قریب ہی کھڑا تھا۔ضیغم قریب آیا۔
“بابا۔۔۔۔۔”
وہ اس کمزور اور نحیف وجود کو ٹارچ کی روشنی میں پہچان گیا تھا۔انھیں اس حالت میں دیکھ کر اس کا کٹ کر رہ گیا۔ساتھ ساتھ ہی غصے کی ایک شدید لہر اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئی۔ان کی سانس کی رفتار خطرناک حد تک سست تھی۔وہ بےہوش تھے۔اس نے ایک پل بھی ضائع کیے بغیر ان کے لاغر وجود کو بانہوں میں اٹھایا اور باہر کی جانب دوڑ لگائی۔خلیل اس کے پیچھے ہی تھا۔
جب وہ دونوں باہر آئے لطیف خان گاڑی گھر کے قریب لا چکا تھا۔اس نے انھیں گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ لٹایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔لطیف خان گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔باقی اہلکار لطیف خان کے کہنے پر اس کے شخص کو لے کر جا چکے تھے۔اب ان کی منزل ہاسپٹل تھی۔گاڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
ضیغم نے انھیں پانی پلایا اور انھیں ہوش میں لانے کے پورے جتن کرنے لگا۔کمزوری اور نقاہہت کے باعث وہ اپنی ساری توانائی کھو چکے تھے۔اس نے ان کے چہرے پہ ایک بار پھر پانی کے چھینٹے ڈالے مگر اسکی کوئی بھی کوشش کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔وہ انھیں مسلسل پکار رہا تھا۔
تیس منٹ کا راستہ بیس منٹ میں طے کر کے وہ ہاسپٹل پہنچے۔ڈاکٹرز نے زمان خان کو فوری ٹریٹمنٹ دیا۔ضیغم باہر ہاسپٹل کے کوریڈور میں انتظار کی سولی پہ لٹکا ہوا تھا۔
ڈاکٹرز نے ان کی حالت کے پیش نظر ضیغم کو ان کی سیریس کنڈیشن کے متعلق بتا دیا تھا۔ڈاکٹر نے بتایا کہ پراپر خوراک نہ ملنے کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہوئی ہے اور اگر اسی حالت میں ایک دن اور گزر جاتا تو وہ جانبر نہ ہو سکتے تھے۔اب بھی ان کی حالت خطرے سے باہر نہیں تھی۔ان کا ہوش میں آنا بہت ضروری تھا۔
ضیغم نے لطیف خان کو گھر سے مسکاء ،ذہرہ بی بی اور رحم کو لانے بھیج دیا۔کچھ ہی دیر میں وہ بھی ہاسپٹل میں تھے۔سبھی زمان خان کے لیے دعاگو تھے۔مسکاء کی آنکھیں تو بار بار نمکین پانیوں سے بھر جاتیں۔وہ اس سب کا قصور وار خود کو گردان رہی تھی۔
“بیٹا چپ ہو جاو۔۔۔رونے سے کیا حاصل۔۔اللہ سے دعا کرو کہ وہ زمان بھائی کو تندرستی عطا کرے۔”
ذہرہ بی بی نے اس کے آنسو پونچھے۔
“اماں۔۔۔یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔میں نہ ہوتی تو یہ سب نہ ہوتا۔۔بابا بالکل ٹھیک ہوتے۔۔میری ہی منحوسیت ہے جو آپ سب کی زندگی کو اپنی لپٹ میں لئے ہوئے ہے۔”
مسکاء ان کے سینے سے لگ گئی۔
“نہ بیٹا ایسے کفریہ جملے نہیں بولتے۔۔توبہ کرو اللہ سے۔۔نجانے اسے کب ہماری کون سی بات بری لگ جائے جو ہماری پکڑ کا سبب بنے۔دعا کر اللہ سے۔۔۔وہ بڑا رحیم و کریم ہے۔اپنے بندے پہ اسکی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔”
وہ دھیرے دھیرے اس کا سر تھپک رہی تھیں۔
_____________________________________________
ایک طویل رات کے جان لیوا انتظار کے بعد ڈاکٹر نے انھیں زمان خان کی حالت خطرے سے باہر ہونے کی اطلاع دی تو ان کی جان میں جان آئی۔ذہرہ بی بی اور مسکاء تو شکرانے کے نوافل پڑھنے کے لئے اٹھ گئیں۔جبکہ ضیغم اور رحم دین ڈاکٹر سے مزید ان کی حالت کے متعلق پوچھنے لگے تھے۔ڈاکٹر کے کہنے کی مطابق اب وہ زمان خان سے مل سکتے تھے مگر بات کرنے سے منع کیا تھا۔اجازت ملتے ہی وہ سبھی باری باری ان کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔زمان خان دواوں کے زیر اثر سو رہے تھے۔
ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ اتنے دن انھیں بہت ہی کم مقدار میں خوراک مہیا کی گئی تھی۔وہ زیادہ تر پانی پی کر گزارا کر رہے تھے۔نقاہہت اور بخار کی وجہ سے وہ مسلسل کھدری چارپائی پہ پڑے رہے جس سے انھیں بیڈ سور ہو گیا ہے۔ہوش میں آنے کے بعد بہتر خوراک انھیں رکور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ابھی بھی دواوں کے ذریعے انھیں خوراک دی جا رہی تھی۔
وہ بیڈ کے قریب آیا۔۔وہ بے حد کمزور لگ رہے تھے۔چہرے کی سرخی کہیں دور جا کھوئی تھی۔ہونٹ پانی کی طلب میں پپڑی زدہ ہو گئے تھے۔ذرد چہرہ میرسربلند خان جیسے درندے کے ظلم کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
ضیغم نے ان کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے ان کے سر کا بوسہ لیا۔ایک باپ کا سایہ تو چھین ہی لیا تھا اس سے اب دوسرے سائے کو بھی چھیننے کے درپے ہو گیا تھا میرسربلند خان۔۔۔۔
اس نے سختی سے لب بھینچ لیے۔
“مسکاء آپ لوگ یہیں رہیں بابا کے پاس۔۔میں تھانے جا رہا ہوں۔”
اس نے مسکاء کے قریب جا کر اسے بتایا اور اسکے سر ہلانے پر لمبے لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔اس کے جانے کے بعد مسکاء خاموشی سے ذہرہ بی بی کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔
“ضیغم کہاں گیا ہے بیٹا۔۔؟”
رحم دین بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئے تھے۔
“تھانے گئے ہیں۔”
وہ دھیرے سے بولی۔رحم دین سر ہلا کر زمان خان کو دیکھنے لگے۔تینوں کی نظریں بیڈ پہ بےسد پڑے زمان خان پہ تھیں۔
____________________________________________
وہ اس وقت ڈی۔آئی۔جی صاحب کے آفس میں بیٹھا ہوا تھا۔اس نے تمام حالت انھیں بتا دیئے تھے۔ضیغم نے انھیں بتایا کہ جس شخص کو انھوں نے وہاں سے پکڑا ہے جہاں زمان خان کو رکھا گیا تھا۔اس نے بتایا کہ زمان خان کو باتور خان ہی اغواء کر کے لایا تھا۔وہ میرسربلند خان کا پرانا آدمی ہے اور ان کی فیکٹری میں ملازمت کرتا ہے۔وہ گھر اسے میرسربلند خان نے ہی بنوا کر دے رہا ہے۔
“سر۔۔۔!! اس کے علاوہ اس نے بتایا ہے کہ زمان خان کو خوراک نہ دینے کا فیصلہ بھی میرسربلند خان کا ہی تھا۔تمام ثبوت میرسربلند خان کے خلاف جا رہے ہیں۔اب ان کے خلاف کاروائی کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔حالانکہ وہ یہ تمام کام خود کو پس پردہ رکھ کر کرتے رہے ہیں مگر ماسٹر مائنڈ تو وہی ہیں۔”
ضیغم نے ان کے سامنے فائل رکھی۔انھوں ہاتھ بڑھا کر فائل اپنے قریب کی۔
“میں ان کے خلاف میرے فادر کو حبس بےجا میں رکھنے پر رپورٹ لکھوا چکا ہوں۔یہاں میں آپکو یہی بتانے حاضر ہوا ہوں۔میں چاہتا تو آپکو بناء بتائے بھی کاروائی کر سکتا تھا مگر میں ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا۔مجھے آپ کا ساتھ اور اجازت درکار ہے تاکہ میں اس پر پکا ہاتھ ڈال سکوں۔”
اس کا چہرہ جذبات کی سرخی لئے ہوئے تھا۔
“تم ٹھیک کہہ رہے ہو اب مزید اسے سپیس دینا ٹھیک نہیں ہو گا۔”
انھوں نے فائل کے صفحے پلٹتے ہوئے کہا۔
“جی سر۔۔۔وہ جتنی دیر باہر رہے گا۔۔میرے اور میری فیملی کے لئے مزید خطرہ بنتا جائے گا۔اسے اور چھوٹ دینا ہمارے ڈپارٹمنٹ کی توہین ہے جو میں کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا۔”
وہ خاموش ہو کر ان کے بولنے کا انتظار کرنے لگا جو فائل پہ نظریں جمائے ہوئے تھے۔
“تمھارا قدم بالکل ٹھیک ہے ضیغم۔۔۔میری اجازت ہے تمھیں۔۔تم اپنی کاروائی کرو باقی میں سنبھال لوں گا اور ہاں میڈیا کو بریف کرنا مت بھولنا۔اوپر تک اپروچ ہو بھی تو کچھ کر نہیں پائے گا میرسربلند خان۔”
انھوں نے فائل اس کے حوالے کی۔فائلان کے ہاتھ سے لے کر وہ کھڑا ہو گیا۔
“بیسٹ آف لک۔۔!”
ڈی۔آئی۔جی صاحب بھی کھڑے ہو گئے اور اسکی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
“تھینک یو ویری مچ سر۔۔۔!!”
ضیغم نے بھی مسکراتے ہوئے ان کا ہاتھ تھام لیا اور الوداعی کلمات کہہ کر وہاں سے نکل آیا۔ابھی وہ جیپ تک پہنچا ہی تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔گاڑی میں بیٹھ کر اس نے فائل ساتھ والی سیٹ پہ رکھی اور پینٹ کی جیب سے فون نکالا۔مسکاء کا نام دیکھ کر اس نے فورا کال ریسیو کی۔کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ ہاسپٹل نہیں جا سکا تھا۔
“ہیلو۔۔۔!!”
وہ بےچینی سے بولا۔
“السلام و علیکم۔۔۔! ضیغم بابا کو ہوش آ گیا ہے۔وہ آپکو یاد کر رہے ہیں۔اگر آپ فارغ ہیں تو تھوڑی دیر کے لئے یہاں آ جائیں۔”
مسکاء کے اس قدر لگاوٹ سے بولنے پر اس کے چہرے پہ مسکراہٹ چھا گئی۔زمان خان کے ہوش میں آنے کا سن کر اسے لگا جیسے اس کے دل پر سے کوئی بھاری سل ہٹ گئی ہو۔ وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا تھا۔اس لئے اس کا انداز اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
“بابا بلا رہے ہیں یا تمھارا جی چاہ رہا ہے۔”
وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا وہ اپنی جون میں واپس آیا۔
“بہت زیادہ خوش فہمی نہیں ہو رہی جناب کو۔”
مسکاء نے بھی آسمان سے زمین پر اتارنے کی جلدی کی۔
“جناب یہ خوشفہمی مجھے تمھاری آنکھوں نے دی ہے۔پہلے تو خود ہی کارنامہ کرتی ہو اور خود ہی مکر بھی جاتی ہو۔”
ضیغم نے موبائل خان سے لگائے لگائے اگنیشن میں چابی گھمائی۔
“اچھا اب زیادہ فری ہونے کی کوشش نہ کریں اور اگر فارغ ہیں تو ہاسپٹل آ جائیں۔”
مسکاء نے باقاعدہ حکم دینے والے انداز میں کہا۔۔جس پر وہ ہنسنے لگا۔اس کے ہنسنے پہ مسکاء کے گالوں پہ لالی پھیلنے لگی۔
“آپ کا حکم سر آنکھوں پر جناب۔۔مگر کیا ہے ابھی تو تھانے جا رہا ہوں۔۔بہت ضروری کام ہے۔۔وہ کر کے فورا آپ کا حکم بجا لاوں گا۔تب تک آپ باقی سب کو دیکھ کر گزارا کریں۔”
وہ پھر ہنسنے لگا۔
“نجانے خود کو کیا سمجھتے ہیں۔”
وہ اس کے ہنسنے پہ تپ گئی۔
“وہی جو آپ سمجھتی ہیں۔”
مسکاء کے دھیرے بولنے کے باوجود وہ سن چکا تھا۔مسکاء نے فورا کال ڈسکنکٹ کر دی۔ضیغم نے موبائل فون کو کان سے ہٹا کر دیکھا۔۔۔جہاں اسکرین پہ مسکاء کی تصویر جگمگا رہی تھی۔اسکی نگاہوں کے انداز پہ ایک بار پھر اسکے لب دھیرے سے کھل گئے۔
_____________________________________________
“تم ٹھیک نہیں کر رہے ہو۔۔۔اس کا بھگتان بھگتنے کے لئے بھی تیار رہنا تم۔۔میں تمھارے باپ جیسا نہیں جو اپنا دفاع تک نہیں کر سکا تھا۔”
وہ اریسٹ وارنٹ دکھانے کے بعد انھیں ہتھکڑی باندھ رہا تھا۔اس کی زبان خاموش تھی مگر ہاتھوں کی سختی اسکے بھرپور غصے کو بیان کر رہی تھی۔میرسربلند خان مسلسل چیخ چیخ کر اپنا غصہ اتار رہے تھے۔وہ پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا۔اس لئے وہ اس وقت کچھ بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ضیغم کے لئے لہجے میں جھلکتی دکھاوے کی نرمی اور لگاوٹ سب ہوا گئی تھی۔وہاں موجود سبھی لوگ حیران و پریشان کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ان کا جرم سن کر تو ایک پل کو چپ ہی رہ گئے تھے۔اتنے سنگین جرائم کا الزام تھا ان پر۔۔۔وہ یقین نہیں کر پا رہے تھے۔ میرعالمزیب تو ضیغم کو دیکھ کر یقین ہی نہیں کر پا رہا تھا کہ یہ وہی میر ہے جو زمان خان کا منہ بولا بیٹا تھا۔وہ اسکی پرسنیلیٹی اور دبدبہ دیکھ کر کچھ پل تو رعب میں آ گیا تھا مگر پھر باپ کی حالت اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو دیکھ کر اسکا بھی خون کھولنے لگا تھا۔انھیں کب برداشت تھا کہ ان کے ٹکڑوں پہ پلنے والا ایک معمولی میر آج اس طرح ان کے خلاف کھڑا ہو گیا تھا۔
“بابا۔۔۔آپ فکر مت کریں۔۔میں ابھی وکیل سے بات کر کے آپکی بیل کروانے کا انتظام کرتا ہوں۔”
عالمزیب نے باپ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔جنھیں ضیغم ہتھکڑی پہنا چکا تھا جبکہ میرسربلند خان غصے سے پیچ و تاب کھا رہے تھے۔
“ہاہاہا۔۔۔۔عالمزیب صاحب جلدی کروا لیجیئے۔۔۔کہیں وقت آپکے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔”
ضیغم نے طنز سے بھرپور نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔وہ اپنے باپ سے مختلف تھوڑی تھا۔فورا فون کی جانب بڑھا۔
“چلئیے محترم میرسربلندخان صاحب۔۔! ہمارا اسپیشل پروٹوکال آپ کے ساتھ ہے۔”
ضیغم نے باقی پولیس اہلکاروں کی طرف اشارہ کیا۔میرسربلندخان خان نے اسکی جانب چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔
“بہت خوش رکھیں گے آپکو۔۔”
یہ کہہ کر ضیغم تیز تیز قدم اٹھاتا لاؤنج سے باہر نکل گیا۔میرسربلندخان بھی تن فن کرتے اس کے پیچھے آئے تھے۔عالمزیب ان کے نکلتے ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔اپنی بیوی کی چبھتی ہوئیں نظریں اسے اپنے پیچھے آتی محسوس ہوئیں جبکہ دوسری طرف میرسربلندخان کی بیگم بہو کے سامنے اتنی بےعزتی پہ بغلیں جھانکنے لگیں۔انھیں تو اپنی عزت خاک میں ملتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔انھیں یہ فکر لاحق تھی کہ کسطرح سے اپنی ساتھی بیگمات کی نظروں کا سامنا کریں گی اور جو ان سے جلتی ہیں وہ تو اس خبر کو خوب مرچ مسالا لگا کر دوسروں کے سامنے پیش کریں گی۔ان کی ہنسی اڑائیں گی۔
“مما جی۔۔۔یہ سب کیا ہو رہا ہے؟”
ان کی بہو نے انھیں دل ہی دل میں ناپ تول کرتے محسوس کر لیا تھا۔
“کچھ نہیں بیٹا۔۔۔۔یہ سب ان چھوٹے لوگوں کی چال ہے۔۔بھلا وہ اپنے زمان خان کو کیوں اغواء کروائیں گے۔جھوٹ ہے یہ سب۔۔۔تھوڑے دشمن تو نہیں ہیں ہمارے جو ہماری ریپوٹیشن سے جلتے ہیں۔۔ہماری جائیداد پہ نظر ہے ان کی۔۔تم دیکھنا کل تک تمھارے بابا واپس آ جائیں گے۔”
وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بولیں اور پلٹ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
____________________________________________
ضیغم کو دیکھ کر جو مسکان ان کے لبوں پر چھائی تھی وہ وہاں موجود کسی بھی شخص سے مخفی نہیں تھی۔کتنی ہی دیر وہ اسکے کشادہ سینے سے لگے رہے۔وہ ان کی کل کائنات تھا۔ان کی جمع پونجی تھا۔اسے کھو دینے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔باتور خان نے انھیں کس قدر ڈرا دیا تھا۔اتنے دن انھوں نے جس تکلیف میں گزارے تھے وہ ان کے لئے بیان سے باہر تھے۔ایک ایک پل انھوں نے اسکی زندگی کی دعا مانگی تھی۔اب وہ اسے خود سے لگائے اپنی ساری یاسیت توڑ دینا چاہتے تھے۔
ڈاکٹرز نے انھیں مکمل طور پر صحت مند قرار دے دیا تھا اس لئے آج انھیں ہاسپٹل سے فارغ کیا جا رہا تھا۔ارحم اور پروفیسر محمد عقیل بھی ان کی مزاج پرسی کے لئے آئے ہوئے تھے۔ارحم اب مستقل پاکستان آ گیا تھا۔زمان خان پروفیسر محمد عقیل سے مل کر بہت خوش ہوئے تھے۔
“بابا۔۔۔۔آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔ابھی آپ نے بہت سے اہم کام کرنے ہیں۔میرسربلندخان کے خلاف آپ مضبوط گواہ ہیں۔حالانکہ ان کے خلاف ہمیں کافی ثبوت مل گئے ہیں۔باتور خان نے بھی اکر ہار مان لی ہے۔مگر سب سے بڑھ کر آپ بابا اور امی کے قتل کے چشم دید گواہ ہیں۔آپکی گواہی اس کیس میں بہت کارگر ثابت ہو گی۔اس سلسلے میں ، میں آپ کا بیان قلم بند کروانا چاہتا ہوں۔انھیں اب ان کے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہئیے۔”
وہ انھیں ساتھ لگائے بول رہا تھا۔وہاں موجود سبھی نے اس کی بات کی تائید کی کیونکہ وہ اس کیس کے واحد گواہ تھے۔اسکا ارادہ انھیں اس کیس میں شامل کرنے کا نہیں تھا کیونکہ اس وقت اس کے پاس قادر خان تھا مگر اب حالات مختلف تھے۔قادر خان حیات نہیں تھا تو وہی اس قتل کے اکیلے گواہ رہ گئے تھے۔
“میں ضرور گواہی دوں گا بیٹا۔”
زمان خان نے اسکے کشادہ سینے سے سر اٹھا کر کہا اور پھر اسکے سینے پہ لگے اسکے نام پہ ہاتھ پھیرا۔
“اور ہاں بابا۔۔۔۔اس کے بعد آپ نے میری شادی کی تیاریاں بھی کروانیں ہیں۔”
ارحم صوفے سے اٹھ کر ان کے قریب آ کر ان کے آگے جھکا تھا۔
“کیوں نہیں بیٹا۔۔۔۔ویسے تمھیں مبارک ہو۔”
زمان خان نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور اسے مبارک باد دی۔وہ ان کے قریب ہی بیٹھ گیا۔
“تو پھر میں کب آوں آپکو لینے۔۔۔۔کیونکہ یہ خڑوس تو آپکو لے کر نہیں آئے گا۔”
ارحم نے پیار سے ان کے شانے پہ اپنا بازو دھرا۔
“بابا ابھی مکمل ریسٹ پہ ہیں۔۔اس لئے یہ کام تم اکیلے ہی کرو۔”
ضیغم نے اسکا بازو ان کے کندھے سے ہٹانے کی کوشش کی۔
“ضیغم۔۔۔!! ارحم بیٹا تمھارا جب جی چاہے مجھے لینے آ جانا۔”
زمان خان نے پہلے ضیغم کو تنبیہی نگاہوں دے گھورا پھر ارحم سے بولے جو انھیں ہی دیکھ رہا تھا۔
“ابھی چلیے آپ میرے ساتھ۔۔۔بہت رہ لئے اس لمبو کے پاس۔۔۔اب میری باری ہے۔۔مجھے بھی تو خدمت کا موقع دیجئیے۔”
ارحم کے لمبو کہنے پر سبھی ہنس دئیے تھے لیکن ضیغم نے صرف آنکھیں دکھانے پہ اکتفاء کیا۔
پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد پروفیسر صاحب اور ارحم جانے کے لئے اٹھ گئے۔ان کے جانے کے بعد وہ لوگ زمان خان کو گھر لے آئے۔
_____________________________________________
پروفیسر محمد عقیل نے ضیغم کو بتایا کہ جب میردراب خان کا پتہ نہ چلا تو انھوں نے علاقے کے قریبی تھانے میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔حالانکہ تھامے والے رپورٹ یہ کہہ کر درج نہیں کر رہے تھے کہ یہ علاقہ ان کے تھانے کی حدود میں نہیں آتا مگر پھر ان کے بتانے پر کہ وہ یہیں رہتے ہیں مگر جب سے گاوں گئے ہیں ان کا کچھ پتہ نہیں اور گاوں سے بھی کوئی مثبت ریسپونس نہیں آ رہا۔۔تب کہیں جا کر انھوں رپورٹ درج کی۔رپورٹ بھی انھوں نے اس لئے لکھوائی کیونکہ میرسربلندخان انھیں ٹھیک سے بتا نہیں رہے تھے کہ وہ دونوں کہاں ہیں۔کبھی کہتے ملک سے باہر چلے گئے لیکن ان کے معلومات کروانے پہ پتہ چلا کہ وہ دونوں ملک سے تو کیا شہر سے باہر بھی نہیں گئے۔اس کے بعد انھوں نے دوبارہ میرسربلند خان سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ گاوں چھوڑ کر چلے گئے ہیں کیونکہ یہاں اسے قادر خان کا ڈر تھا۔اس نے جرگے میں قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بےعزتی کا بدلہ ضرور لے گا اور جب سے دراب خان اور خزیمن کا پتہ نہیں چل رہا تب سے ہی قادر خان بھی غائب تھا۔اس بات نے انھیں پریشان کر دیا تھا اس لئے انھوں نے رپورٹ درج کروانا ضروری سمجھا تھا لیکن جب حالات کے جوں کے توں رہے تو انھوں بھی تھک ہار کر ہمت چھوڑ دی تھی۔ضیغم نے ان کے ساتھ جا کر وہاں سے معلومات لیں۔کیس میں کوئی امپرومینٹ نہ ہونے پر انھوں فائل بند کر دی تھی اور فائل میں مینشن کر دیا گیا تھا کہ میردراب خان اور ان کی بیوی خود ہی کہیں چلے گئے ہیں۔
ضیغمنے کیس ری۔اوپن کروایا اور میرسربلند خان کے خلاف ایک مضبوط کیس بنا ڈالا۔عالمزیب نے بہت کوشش کی کے بیل ہو جائے مگر اخبارات اور ٹی وی میڈیا کی کوریج نے اس کیس حکام بالا تک پہنچا دیا۔جس کی وجہ سے کیس اور مضبوط ہو۔اسطرح اس غیر شرعی اور قانونی رسم کو ختم کرنے اور معصوم لڑکیوں کو اس ظلم سے بچانے کے لئے لوگ سرگرم عمل ہو گئے۔میرسربلند خان چونکہ سیاست کا حصہ بھی رہے اس لئے ان کے مخالفوں نے بھی ان کے خلاف محاذ کھول لیا۔غرضیکہ وہ اس معاملے میں پابند سلاسل کر دیئے گئے اور وہ کچھ نہیں کر پائے۔اسطرح جو باقی ماندہ نیک نامی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ان کا سیاسی کرئیر تباہ ہو کر رہ گیا تھا اوپر سے زمان خان کے بیان نے آخری کیل کا سا کام کیا اور ان کا سزا کے بغیر بچ نکلنا ناممکن ہو گیا۔
“یقینا آپ اس وقت کو رو رہے ہوں گے جب آپ نے مجھے زندہ چھوڑ دیا تھا۔پچھتا رہے ہونگے کہ کاش مجھے بھی ان کے ساتھ ہی مار دیا ہوتا تو آج یہ دن دیکھنے کی نوبت نہ آتی۔”
انسپیکٹر وجدان کے بتانے پر کہ انھوں نے جیل میں ہنگامہ مچا رکھا ہے وہ ان سے بات کرنے آیا تھا۔اس کی بات پر انھوں نے گھٹنوں میں دیا سر اٹھا کر اسے دیکھا۔بےتحاشا سرخ آنکھیں رت جگے کی غماز تھیں۔انھوں نے اسے ایک نظر دیکھ کر نظروں کا رخ پھیر دیا۔ضیغم ان کے نروٹھے انداز کو قابل گرفت نظروں سے دیکھ کر ان کے قریب آیا۔
“یہ سب آپ کا اپنا بویا ہوا ہے اور جو بویا ہے وہ کاٹنا تو پڑے گا نا تایا جی۔۔۔”
آج پہلی بار اس نے انھیں تایا کہہ کر بلایا تھا۔
“میں تمھیں تمھارا حق دینے کو تیار ہوں۔کیا ہم یہ سب بھول کر ایک نہیں ہو سکتے۔میں وعدہ کرتا ہوں تم سے کبھی بھی کوئی اختلاف نہیں کروں گا۔تم جیسا کہو گے ویسا کر لوں گا۔”
میرسربلندخان کھڑے ہو گئے۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔سنا تھا اور پڑھا بھی تھا کہ اونٹ پہاڑ کےکے نیچے آتا ہے۔۔آج دیکھ بھی لیا۔”
ضیغم ہنستے ہوئے ان سے رخ پھیر گیا تھا۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں ضیغم۔۔۔میں کوئی غلط کام نہیں کروں گا۔صرف ایک بار مجھے معاف کر دو۔تمھاری جگہ اگر دراب خان ہوتا تو ایک پل نہ لگاتا مجھے معاف کرنے میں۔”
ان کی بات پر وہ جھٹکے سے پلٹا۔
“اپنی گندی زبان پہ میرے باپ کا نام مت لانا۔۔ورنہ میں بھول جاوں گا کہ تم کون ہو۔”
ضیغم نے انھیں گریبان سے پکڑ اپنے قریب کھڑا کیا اور وہیں سے واپس پلٹ گیا۔
“وجدان بیان قلمبند کروایا ہے کہ نہیں؟”
وہ وہاں سے سیدھا انسپیکٹر وجدان کے آفس آیا تھا۔اس نے فورا کھڑے ہو کر اسے سلیوٹ کیا۔
“کیا پروگریس ہے؟؟”
وہ کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔
“سر وہ کچھ بھی ماننے کو تیار نہیں ہے۔۔بس ایک ہی جملہ جیسے رٹ لیا ہے انھوں نے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔قتل قادر خان نے کیا اور زمان خان کو اغواء باتور خان نے کیا ہے۔”
انسپیکٹر وجدان بھی بیٹھتے ہوئے بولا۔
“تو پھر اپنا طریقہ آزماو اور مجھے کل تک ساری تفصیل بھیج دینا۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“یس سر۔۔۔”
انسپیکٹر وجدان کے کہنے پر وہ آفس سے نکل آیا۔ابھی اس کی ڈی۔آئی۔جی صاحب کے ساتھ میٹنگ تھی۔انھیں اس کیس کے حوالے سے ساری ڈیٹیلز بتانی تھیں۔
_____________________________________________
“اماں۔۔۔رات کے لئے کیا بناوں؟”
وہ کچن میں بیٹھی لہسن صاف کر رہی تھیں کہ مسکاء کچن میں داخل ہوئی اور دوسری کرسی کھینچ کر ان کے قریب ہی بیٹھ گئی۔
“کچھ بھی بنا لو۔۔۔ضیغم سے پوچھ لیتی۔۔ہم تو سادے لوگ ہیں جو بناو گی کھا لیں گے۔”
وہ لہسن کا ایک جوا اٹھا کر صاف کرنے لگیں۔لہسن پانی میں تیر رہے تھے۔وہ ہمیشہ اسی طرح لہسن کو پانی میں ڈال کر صاف کیا کرتی تھیں۔
“وہ تو بتا کر گئے تھے کہ آج لیٹ آئیں گے یا شاید آ ہی نہ پائیں۔”
مسکاء نے بھی باول میں ہاتھ ڈال کر ایک جوا نکال لیا اور صاف کرنے لگی۔
“بابا کہاں ہیں تمھارے۔۔میں نے کہا کہ اب تو زمان بھائی بھی اللہ کے کرم سے صحت یاب ہو رہے ہیں آج شام ہی ہم گاوں چلے جائیں۔ہمارے اتنے دن لگا دینے پر ماہ گل بھی پریشان ہو رہی ہو گی۔۔۔آتے وقت بھی اس نے کتنا کہا تھا کہ ہم پہنچتے ہی اسے ضرور زمان خان کے متعلق بتائیں۔۔ابھی تک اسے کچھ بھی نہیں معلوم۔۔”
انھوں نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“اماں۔۔۔کہاں اتنے دن ہوئے ہیں۔گل بی بی کو فون کر کے بتا دیں گے آج۔۔۔ابھی کچھ دن اور رہیے نا آپ لوگ۔۔چلے جانا کچھ دن اور ٹھہر کر۔”
مسکاء نے ان کے ہاتھ سے لہسن لے کر پانی میں ڈالا اور ان کا ہاتھ تھام کر بولی۔
“کس کو فون کریں ہم۔۔۔خود ہی جا کر خوشخبری دیں گے۔۔”
ماہ گل کے خوشی سے بھرپور چہرے کو سوچ کر وہ مسکرا دیں۔
“اماں۔۔۔ارحم بھائی کی شادی ہو جائے پھر چلے جائیے گا نا۔”
مسکاء نے ان کو دیکھ نروٹھے لہجے میں کہا تو وہ مسکرا دیں۔
“تمھاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔میں بھی ابھی یہی بات کہنے آ رہا تھا کہ کل ویسے میں گلزم خان آئے گا تو اسی کے ساتھ چلے جائیں گے۔۔۔کیا خیال ہے نیک بخت؟”
رحم دین کچن میں آئے اور ذہرہ بی بی سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
“جی۔۔۔میں بھی یہی کہہ رہی ہوں آپکی بیٹی سے۔”
ذہرہ بی بی نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔
“بابا۔۔۔۔۔۔”
مسکاء اٹھ کر ان کے پاس آئی اور ان کے سینے سے سر ٹکا لیا۔
“نہیں بچے۔۔۔اللہ تمھیں، اپنے گھر میں سکھی رکھے۔۔ویسے بھی گاوں تو آو گے ہی نا۔۔اتنے دن رہ لیے اب وہاں کی بھی خبر لینی چاہئیے نا۔”
رحم دین نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔یہ بتائیں آپ کے لئے کیا بناوں۔۔”
اس نے ان کے سینے سے سر اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
“جو میری بیٹی کا دل چاہے بنا لے۔۔۔میری بیٹی تو کچھ بھی بنائے مجھے تو مرغ مسلم ہی لگتا ہے۔”
وہ ہنس دئیے۔۔۔۔ذہرہ بی بی بھی ان کی بات پہ ہنستے ہوئے سر اثبات میں ہلایا جبکہ مسکاء مسکراتے ہوئے فریج کی طرف بڑھ گئی۔
“ارے رحم دین۔۔۔۔جلدی آو۔۔۔”
زمان کی آواز پہ وہ سبھی متوجہ ہوئے۔۔زمان خان نے ٹیلی ویژن کی آواز بھی اونچی کر دی تھی۔کسی نیوز کاسٹر کی آواز تھی۔وہ سبھی کچن سے لاونج میں آئے تھے۔ٹی وی پہ چلتی نیوز سن کر انھیں جیسے خوشی کے مارے سکتہ گیا۔زمان خان صوفے پر ریموٹ ہاتھ میں بیٹھے تھے جبکہ وہ تینوں کچھ کچھ فاصلے پہ ایس کھڑے ٹی وی کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ان پر کسی نے جادو کر دیا ہو۔
“آو۔۔۔رحم دین۔۔۔دیکھو آج میردراب خان کو انصاف مل گیا۔۔۔آج ان کی روح کو سکون مل گیا ہو گا اور اللہ کا کرم دیکھو یہ سکون انھیں ان کے جگرگوشے کے ہاتھوں میسر آیا۔۔میرے شیر کے ہاتھوں۔۔یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے مجھے سرخرو کیا۔”
زمان خان کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔رحم دین دھیرے دھیرے چلتے ہوئے صوفے پہ آ بیٹھے۔ذہرہ بی بی اور مسکاء بھی قریب آئیں تھیں۔ذہرہ بی بی کی آنکھوں سے بھی تشکر کے آنسو رواں تھے۔مسکاء کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔
میرسربلند خان اور باتور خان پہ فرد جرم عائد ہو گئی تھی۔باتور خان نے تو اقرار بھی کر لیا تھا مگر میرسربلند خان ابھی بھی انا اور تکبر کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے تھے اور اس کے بوجھ سے وہ زمین میں دھنستے ہی جا رہے تھے مگر جرم ثابت ہونے کے باوجود وہ ماننے سے انکاری تھے مگر پھر ان سے بھی حقیقت اگلوا لی گئی۔عدالت میں انھوں نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا کہ انھوں نے اپنے بھائی اور بھاوج کو جائیداد اور شدید نفرت کے باعث قتل کروایا۔قتل انھوں نے قادر خان کے ہاتھوں کروایا کیونکہ وہ اس قتل کو غیرت کے نام پہ قتل کا رخ دینا چاہتے تھے۔ انھوں نے اقرار کیا تھا کہ قتل کے وقت وہ وہاں موجود تھے۔ان کے بتائے ہوئے جائے وقوعہ پر قبریں موجود تھیں۔انھوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ میر ضیغم خان ان کے بھائی میردراب خان کی اولاد ہے جسے انھوں زمان خان کے کہنے پر ان کے حوالے کر دیا تھا ورنہ وہ تو اسے بھی ان کے ساتھ ہی ختم کر ڈالنا چاہتے تھے مگر زمان خان نے انھیں روک دیا تھا۔
عدالت نے میرسربلند خان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی تھی اور رسم غگ کے مرتکب باتور خان کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ان کے وکیل نے سرتوڑ کوشش کی انھیں سزائے موت سے بچانے کی مگر تمام ثبوت ان کے خلاف تھے۔
نیوز کاسٹر اب اے۔ایس۔پی میرضیغم خان اور ان کی پوری ٹیم کو سراہ رہے تھے۔
“یااللہ تیرا شکر ہے۔۔”
زمان خان نے ایک بار پھر ہاتھ دعا کی صورت اٹھا لئے تھے۔
“ارے تم سب ایسے کیوں کھڑے ہو۔۔خوشی کا موقع ہے میرے بیٹے کو اتنی بڑی کامیابی ملی ہے۔پورے ملک میں اسکی واہ واہ ہو رہی ہے۔۔”
زمان خان بہت خوش تھے۔۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑ کر ضیغم کے پاس پہنچ جائیں اور اسے اپنے سینے سے لگا لیں۔
“ہاں بالکل خوشی کا موقع ہے۔۔”
رحم دین ان کے کندھے پہ بازو پھیلاتے ہوئے بولے۔اب وہ سبھی ٹی وی اسکرین پہ دکھتے ضیغم کو دیکھ رہے تھے جو اب رپورٹرز کے مختلف سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔
خوشی اس کی سنہری رنگت سے چھلک رہی تھی۔وہ مسکاء کو سنہری پھولوں جیسا لگا جو اس کے دل کے آنگن کو سنہرا اور معطر کر رہے تھے۔
وہ دل ہی دل میں اسکی نظر اتارتی کچن میں آ گئی۔ابھی اسے رات کے کھانے کی تیاری کرنی تھی۔اسے معلوم تھا کہ وہ کچھ دیر بعد ان کے بیچ موجود ہو گا۔
____________________________________________
آج ارحم کی بارات تھی۔وہ سبھی صبح سے تیاری میں مگن تھے۔ضیغم اب تک گھر نہیں آیا تھا۔ذہرہ بی بی تو ارحم کی دلہن کو دینے والے تحفے کے لئے پریشان تھیں۔رحم دین اور ذہرہ بی بی تو عدالت کے فیصلے کے اگلے دن ہی گاوں واپس جانا چاہتے تھے مگر زمان خان اور ضیغم نے انھیں روک لیا۔زمان خان نے یہ کہہ کر روک لیا کہ ارحم کی شادی کے بعد وہ بھی ان کے ساتھ ہی گاوں چلیں گے۔اس لئے گلزم خان کو اکیلے ہی واپس گاوں جانا پڑا۔مغرب کا وقت قریب آتا جا رہا تھا۔مسکاء نے ضیغم کے پہنے کے لئے ڈریس ریڈی کر دیا تھا مگر اب تک اپنے لئے کچھ بھی ڈسائیڈ نہیں کر پائی تھی۔اس وقت بھی الماری کھولے کھڑی تھی۔اس کے پاس شادی کے چند ہی جوڑے تھے جس میں سے ایک بھی اس کے مزاج پہ پورا نہیں اتر رہا تھا۔رہ رہ کر اسے ضیغم پہ غصہ بھی آ رہا تھا کہ اس نے بھی اب تک اسے کچھ خاص شاپنگ نہیں کروائی تھی۔
جب الماری سے کچھ بھی جادوئی نہ نکلنے کا یقین ہو گیا تو الماری بند کر کے بیڈ پہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
موبائل پر نظر پڑی تو موبائل کو گھورنے لگی۔ایک پل کو خیال آیا کہ ضیغم کو بتا دے مگر پھر یہ سوچ کر موبائل واپس رکھ دیا کہ جب انھیں ہی خیال نہیں تو میں کیوں کروں۔
“مسکاء۔۔۔۔تم نے اپنے کپڑے استری کر لئے ہوں تو ذرا میرے کپڑوں پر بھی استری پھیر دو۔”
ذہرہ بی بی ہاتھ سفید اور گلابی امتزاج کے کپڑے لئے کمرے میں داخل ہوئیں۔اسے منہ پھلائے بیڈ پہ بیٹھے دیکھا تو اس کے پاس آئیں۔
“کیا ہوا۔۔۔منہ کیوں پھلا رکھا ہے میری شہزادی نے۔”
ذہرہ بی بی نے پیار سے اس کے چہرے کو چھوا۔
“اماں میں شادی پہ کیا پہن کے جاوں گی۔۔آپ کے لاڈ صاحب نے تو اپنے لئے الماری میں ہی کپڑوں کی پوری فیکٹری کھول رکھی ہے مگر میری ذرا پرواہ نہیں۔”
مسکاء ناک سکیڑتے ہوئے بولی۔
“تو کیوں اب تمھارے پاس ایک بھی ڈھنگ کا جوڑا نہیں ہے جو اتنا غصہ کر رہی ہو میرے بیٹے پر۔”
وہ ہنستے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
“نہیں۔۔۔۔”
مزید منہ پھلایا گیا۔
“چلو خیر ہے نا۔۔۔۔آج گزارا کر لو۔۔پھر جا کر لے لینا۔”
انھوں نے اسے بہلایا۔۔۔آج اتنے عرصے بعد انھیں اس کا یہ نروٹھا روپ دیکھنے کو ملا تھا ورنہ تو اسکی ہنسی، نخرے، لاڈ سب کہیں کھو سے گئے تھے۔
“اب خود ہی اپنی پسند کا نکال دیں۔”
اس نے ان کے کندھے سے سر ٹکایا۔
“اچھا۔۔”
وہ گھٹنے پہ ہاتھ رکھتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔الماری کھول کر ایک ایک جوڑے کو دیکھنے لگی۔ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھیں کہ مین ڈور کی بیل نے انھیں متوجہ کیا۔باہر لاونج میں رحم دین اور زمان خان موجود تھے اس لئے وہ سر جھٹک کر واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئیں۔تھوڑی دیر بعد رحم دین ایک پیکٹ لئے کمرے میں داخل ہوئے۔
“مسکاء۔۔۔! بیٹا یہ پیکٹ ضیغم نے بھجوایا ہے تمھارے لئے۔”
انھوں نے گلابی رنگ کا پیکٹ اس کے حوالے کیا اور چلے گئے۔۔پیکٹ اچھا خاصا بڑا تھا۔مسکاء نے ذہرہ بی بی کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیں۔
“دیکھو۔۔!! تم ایسے ہی میرے بیٹے کے پیچھے پڑی تھیں۔اب دیکھ لو کتنا سمجھدار ہے میرا بیٹا۔۔”
ان کے لہجے میں ضیغم کے لئے پیار اور فخر تھا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔بڑا ہی اچھا ہے آپ کا بیٹا۔۔ذیادہ سر مت چڑھا لیجیئے گا اپنے بیٹے کو۔”
مسکاء نے اپنے آنکھوں کی مسکراہٹ ان سے چھپا کر پیکٹ کھولا۔۔یہ ایک آسمانی رنگ کا بےحد خوبصورت فراک تھا۔جس کے گلے پہ سنہری پھول تھے۔
“ارے واہ۔۔۔۔یہ تو بہت خوبصورت ہے اور میری بیٹی تو بالکل پری لگے گی اس میں۔”
زہرہ بی بی جوڑا اسکے ساتھ لگاتے ہوئے بولیں۔
“ہاں بس ٹھیک ہی ہے۔۔”
مسکاء نے بےدلی ظاہر کی۔۔۔اب ماں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہ رہی ورنہ وہ پھر سے ضیغم کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملانا شروع ہو جاتیں۔اس کے انداز پہ ذہرہ بی بی مسکرا دی۔پیکٹ میں میچنگ جیولری اور گولڈن سینڈلز بھی تھے۔
“چلو اب مغرب کے بعد جلدی جلدی تیاری پکڑو۔۔”
وہ اسکے گالوں کو تھپتھپا کر کمرے سے چلی گئیں۔اس نے پہلے ذہرہ بی بی کے کپڑے پریس کیے، پھر اپنے اور واش روم۔میں گھس گئی۔مغرب کی اذانیں ہو رہی تھیں جب وہ واش روم سے برآمد ہوئی۔بال سلجھا کر اس نے نماز ادا کی اور پھر ذہرہ بی بی کے کپڑے لئے باہر آ گئی۔
_______________________________________
رات نو بجے کے قریب وہ گھر میں داخل ہوا۔رحم دین اور زمان خان تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ذہرہ بی بی بھی تیار کمرے میں سے برآمد ہوئیں۔
“السلام و علیکم۔۔!”
وہ دروازہ بند کر کے ان کے پاس آیا۔
“واعلیکم السلام بیٹا۔۔”
ذہرہ بی بی نے بلند آواز میں جواب دیا۔
“آپ لوگ تو تیار بیٹھیں ہیں۔”
وہ ہنستے ہوئے زمان خان کے ساتھ بیٹھا۔۔
“تو اور کیا۔۔۔۔تم بھی تیار ہو جاو۔۔۔ارحم کتنی بار کال کر چکا ہے۔۔تم اسکا فون کیوں نہیں اٹھا رہے۔”
زمان خان نے اس کی جانب فخریہ نظروں سے دیکھا۔
“بزی تھا تھوڑا۔۔۔اب لوگ بھی ریڈی رہیں۔۔میں ذرا چینج کر لوں پھر چلتے ہیں۔”
وہ اٹھتے ہوئے بولا۔
“ہم تو ریڈی ہیں بیٹا۔۔۔بس تمھارا ہی انتظار تھا۔”
رحم دین اسے اٹھتے دیکھ کر بولے۔۔۔
ضیغم مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر آئینے کے سامنے کھڑے وجود پر پڑی۔اپنے بھیجے ہوئے لباس میں وہ جگر جگر کرتی آنکھوں سے اسی کیطرف دیکھ رہی تھی۔
“السلام و علیکم۔۔۔!”
وہ اس کی پرتپش نگاہوں سے رخ پھیر گئی۔ضیغم نے کیپ اتار کر ٹیبل پہ رکھی اور سنجیدہ چہرے کے ساتھ اس کی جانب آیا۔
“کچھ خاص جچ نہیں رہا یہ ڈریس تم پر۔۔”
اس نے مسکاء کا رخ اپنی جانب کیا۔وہ بھی خاموش نظروں سے اس کی دیکھنے لگی تھی۔
“بوتیک میں ڈمی نے پہن رکھا تھا۔۔اتنا خوبصورت لگ رہا تھا۔۔میں نے فورا خرید لیا۔۔سمجھا تم پر بہت سوٹ کرے گا۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ سر کو دائیں بائیں ہلا رہا تھا۔
“میں چینج کر لیتی ہوں۔”
مہین سی آواز ضیغم کے کانوں سے ٹکرائی۔اس نے امڈتی ہنسی کو بڑی مشکل سے ضبط کیا تھا۔اپنی بات پر ضیغم نے اس کے چہرے پہ پھیلتی اداسی کو دیکھا تھا۔دل تو چاہ رہا کہ اپنا دل کھول کر اس کے سامنے رکھ دے مگر مسکاء کو چھیڑنے کا موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔
“چلو خیر ہے۔۔۔۔۔۔کوئی بات نہیں۔۔اب پہن لیا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔ٹائم نہیں ہے مزید۔۔میں بھی چینج کر لوں۔حالانکہ اس یونیفارم میں بھی میں بہت ہینڈسم لگ رہا ہوں۔”
وہ اپنی شرٹ کا کالر اٹھاتے ہوئے بولا۔
“جی۔۔۔۔بہت۔۔”
مسکاء نے ناک چڑھا کر آنکھیں پھیر لیں۔ضیغم نے اس کے انداز کو پسندیدگی سے دیکھا اور واش روم کی طرف بڑھ گیا۔اس کے منظر سے غائب ہونے کے بعد مسکاء نے آئینے میں اپنی تیاری پہ ایک بھرپور نظر ڈالی۔
“میری بیٹی تو پری لگے گی یہ پہن کر۔۔” ذہرہ بی بی کا کچھ گھنٹے پہلے بولا جانے والا جملہ اس کی سماعت سے ٹکرایا۔
“ہونہہ۔۔۔!! بڑے آئے ہینڈسم۔۔۔”
اس نے ہونٹوں پہ پنک لپ اسٹک کا ایک اور ٹچ دیا۔اتنے دل سے وہ اسکے لئے تیا ہوئی تھی مگر ضیغم کے “تعریفی”جملوں نے اس کا دل برا کر دیا لیکن اس نے پھر بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔تھوڑی دیر بعد وہ وہ واش روم سے نکلا۔
“ذرا ہٹو۔۔۔”
اس نے مسکاء کو بازو سے پکڑ کر آئینے کے سامنے سے ہٹایا۔وہ وہاں سے ہٹ گئی اور بیڈ پہ آ کر بیٹھ گئی۔ضیغم نے اپنے مخصوص انداز میں بال سنوارے اور خود پہ آدھی پرفیوم کی باٹل ختم کی۔وہ تیکھی نظروں سے اسکی تیاری دیکھ رہی تھی۔کچھ دیر پہلے اپنے بارے میں کہا گیا جملہ اس سے سچ ہی لگا۔وہ چاہ کر بھی اس پر سے اپنی نگاہیں نہیں ہٹا پا رہی تھی۔
“میں تو پہلے ہی کہا تھا کہ تم میرے حسن کی تاب سہہ نہیں پاس گی۔۔”
ضیغم نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔
“بڑا زعم ہے آپ کو خود پر۔۔”
مسکاء نے اسکے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹائے۔
“یہ زعم مجھے آپکی ان سرمگیں اور شرمگیں آنکھوں نے دیا ہے۔”
وہ اسکا رخ موڑ کر پیچھے سے اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
“چھوڑیں۔۔۔۔۔میں تو اچھی نہیں لگ رہی ہوں نا۔۔”
مسکاء نے اسکا حصار توڑنا چاہا۔
“کس نے کہا ایسا۔۔۔۔”
ضیغم نے چہرہ اسکے قریب کر کے ایک گہری سانس لی۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے کیا فرمایا تھا۔۔”
مسکاء نے اس سے دور ہونا چاہا۔
“میں نے۔۔۔۔۔؟؟ میں نے تو ہمیشہ کہا ہے اور کہتا رہوں گا۔۔۔۔”
ضیغم نے چہرہ اس کے کندھے پہ ٹکایا۔
“کیا۔۔۔۔”
وہ دھیرے سے بولی۔۔
“ﮐﮩﺎ ﻧﺎﮞ ، ﭘﯿﺎﺭ ﮬﮯ ﺗﻢ سے
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺿﺪ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﯾﮩﯽ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮬﻮ ﻟﺐ ﭘﮧ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﮯ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮬﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﺘﯽ ﮬﮯ
ﺣﺴﯿﮟ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﺍﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍ ﺗﺎ۔۔۔
ﺑﮩﺖ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﺟﺬﺑﮧ ﮬﮯ
ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮨﯽ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﮯ۔۔۔۔
ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﻧﻘﺶ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﮔﮩﺮﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍ ﺗﺎ
ﻣﮕﺮ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﻮﺧﯽ ﺳﮯ
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺿﺪ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﯾﮩﯽ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮬﻮ ﻟﺐ ﭘﮧ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﮯ
ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮬﻮ ﻧﺎﮞ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺎﮞ۔۔!!
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ
ﭼﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮬﻮﮞ
میں یہ اقرار کرتا ہوں۔۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﮯ۔۔۔۔”❤
وہ اس کے اظہار پہ مسکرا دی۔مسکاء نے دھیرے سے اس کے کندھے سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں اور کھڑکی سے دکھتا
چاند بھی مسکرا دیا تھا۔۔
ختم شد۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *