Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode11
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode11
Ghag By Mahwish Urooj Episode11
رات کے پچھلے پہر اس کی آنکھ کھلی تو وہ اٹھ بیٹھی۔ آس پاس نظر دوڑائی تو جگہ کی تبدیلی نے اس کے سوئے حواس بیدار کیے۔ حلق سوکھ کے کانٹا ہو رہا تھا۔ پانی کی طلب میں اس نے سائیڈ ٹیبل پہ رکھی بوتل اٹھائی۔ گلاس موجود نہیں تھا اسی لئے بوتل سے ہی منہ لگا کر پانی پیا۔ پانی پی کر بوتل واپس ٹیبل پہ رکھی اور مڑ کر اپنے ساتھ سوئے ہوئے وجود پہ نظر ڈالی۔ ضیغم اسی کی جانب کروٹ لئے سو رہا تھا۔ ڈارک براون سلکی بال ماتھے پہ بکھرے ہوئے تھے۔ چہرے پہ بلا کا سکون تھا۔۔۔سب کچھ پا لینے کا سکون۔۔۔ ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی تھی۔ مضبوط بازو تکیے کے گرد حصار کیے ہوئے تھے۔ تیز چلتی سانسوں کی آواز اس تک آ رہی تھی۔ وہ سر بیڈ کروان سے ٹکا کر اسے دیکھنے لگی۔
اس نے زیادہ تر اسے سیاہ لباس میں ہی دیکھا تھا۔ کوئی اور رنگ کم ہی پہنتا تھا۔ یقینا کالا رنگ اسکا پسندیدہ تھا۔ اس وقت بھی وہ بلیک ٹی شرٹ اور بلیک ٹراوزر پہنے ہوئے تھا۔ آدھی آستین سے کسرتی بازو جھانک رہے تھے۔ اپنے اندر کھلے محبت کے شگوفوں پہ اس نے کبھی نظر نہیں ڈالی تھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نکاح کے بعد سے وہ اسکے لئے اپنے دل میں نرم گرم جذبے محسوس کرنے لگی تھی۔ اسکے چھوٹے چھوٹے جملے اس کے دل میں کہانیوں کے جال بننے لگے تھے۔ وہ اس ننھے پودے جیسے تھی جس پہ بہار کی آمد ہو چکی تھی۔ اب صرف اپنے ہونے کا اعتراف باقی تھا۔۔محبت کا اعتراف باقی تھا۔
کب سے وہ اسی میں کھوئی اسکا ایک ایک نقش اذبر کر رہی تھی۔ جیسے کوئی اپنی پسندیدہ کتاب پڑھ کر اذبر کرنے کی کوشش کرے لیکن پھر بھی تشنگی باقی رہ جائے۔۔ خوبصورت چہرہ ، خم دار پلکیں ، گھنی مونچھوں تلے ایک دوسرے میں پیوست عنابی لب ، مغرور کھڑی ناک۔۔۔ اس کی نظر اسکی کھڑی ناک پہ ٹہر گئی تھی۔۔اسے لگا جیسے اس چہرے کی ساری خوبصورتی اس ایک جگہ آ کر رک گئی ہے۔ ماتھے پہ بکھرے بال۔۔۔اسکا جی چاہا کہ ہاتھ بڑھا کر انھیں سمیٹ لے۔ اس نے اپنی خواہش پہ پہرے نہیں باندھے اور نرمی سے اسکے ماتھے سے بال ہٹائے۔
نرم مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا تھا وہ اور بھی محو ہو کر اسے دیکھنے لگی۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور جا چکی تھی۔ اسے لگا جیسے اب کھبی وہ سو نہیں پائے گی۔ اسکی آنکھوں سے نیند چرا کر خود وہ گہری نیند سو رہا تھا۔
وہ گال کے نیچے ہاتھ رکھے بنا پلکیں جھپکے اسے دیکھے جا رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ جاگ رہا ہوتا تو کیا وہ اسطرح اسے دیکھ پاتی یا اگر اسے معلوم ہو جائے کہ وہ رات کو اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی رہی ہے تو۔۔۔۔۔۔۔
مگر اسے کیسے معلوم ہو گا وہ تو سو رہا۔۔اس لیے چوری پکڑی جانے کے تو دور دور تک کوئی آثار ہی نہیں تھے۔ مسکراہٹ نے ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر اپنا پہرا جمایا تھا۔ اچانک غیر محسوس انداز میں ضیغم نے اپنا بائیاں بازو آنکھوں پہ رکھ لیا۔ اسکی پلکوں کی ہلکی سی جنبش نے مسکاء کو الرٹ کیا تو آہستگی سے کھسک کر لیٹ گئی اور آنکھیں موند لیں۔ کچھ پل خاموشی سے گزر گئے۔ مسکاء نے آنکھیں کھول کر ایک بار پھر اسے دیکھا۔ نجانے کیوں اسے لگا کہ وہ جاگ رہا ہے بس یونہی آنکھیں بند کیے سونے کی ایکٹنگ کر رہا ہے لیکن پھر اپنا وہم جان کر ریلیکس ہو گئی۔ حرکت کرنے سے بال ایک بار پھر سے اس کے ماتھے پہ سج گئے تھے۔۔
مسکاء نے پھر ہاتھ بڑھایا۔ ضیغم نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں اور اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لے لیا۔
“یہ کیا ہو رہا تھا؟”
ضیغم نے اسکا ہاتھ کھینچا۔ مسکاء نے چوری پکڑے جانے پر شرمندہ ہوتے ہوئے اسکی جانب پشت کرنی چاہی مگر ضیغم نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا تھا۔
“یہ کیا حرکت تھی؟”
ضیغم نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے پوچھا کیونکہ مسکاء نے اپنی آنکھیں سختی سے میچ رکھی تھیں۔
“اوکھلی میں سر دیا ہے تو اب موصلوں سے کیا ڈر۔”
ضیغم نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے مزید قریب کیا۔ وہ اسکے سینے سے آ لگی تھی۔ آنکھیں اب بھی سختی سے بند تھیں۔ وہ کیسے اس سے نظریں ملائے گی یہ سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہوئے جا رہی تھی۔
“ارے مسکاء کاکروچ۔۔۔”
وہ دھیمی آواز میں چلایا تھا لیکن اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی تھی کہ کہیں وہ دوڑ ہی نہ لگا دے۔
“کہاں۔۔۔کہاں ہے۔۔۔؟؟”
اس نے فورا آنکھیں کھولیں اور اٹھنے لگی مگر ضیغم کی گرفت مضبوط تھی وہ اس کے حصار سے نکل نہیں پائی۔
“کہیں نہیں ہے۔۔”
وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔ مسکاء کا دم ہوا ہونے لگا۔
“چھوڑیں۔۔۔۔”
وہ اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“چھوڑ دوں گا۔۔۔پہلے یہ بتاو کہ تم مجھے اتنی دیر سے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہی تھی اور وہ بھی میری مرضی کے بغیر۔”
وہ اسے خود سے لپٹائے پوچھ رہا تھا۔ آنکھوں میں کچی نیند کی سرخی پھیلی تھی۔
“نہیں تو۔۔۔میں تو سو رہی تھی۔”
وہ نظریں اسکے کشادہ سینے پہ جمائے بولی۔
“یار کوئی بات نہیں۔۔اب مجھے نہیں دیکھو گی تو کسے دیکھو گی۔ اجازت نامہ تو ہے تمھارے پاس مجھے دیکھنے کا لیکن چھپ چھپ کے نہیں۔۔کھلے عام دیکھا کرو۔”
ضیغم نے اسکا چہرہ اونچا کیا۔
“ٹھیک ہے کل سے کھلے عام دیکھوں گی۔ ابھی چھوڑیں۔”
اس نے ضیغم کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے خود سے دور کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اس کی بات پر وہ ہنس دیا۔
“پکا۔۔۔؟؟”
اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ اس کی نظروں سے نروس ہونے لگی تو نظریں جھکا گئی۔
“مسکاء۔۔۔۔۔”
مسکاء کو اپنا نام کبھی اتنا خوبصورت نہیں لگا جتنا آج لگا تھا۔ اس نے ضیغم کیطرف دیکھا۔ وہ آنکھوں میں محبت کا جہان لئے اسے ہی تک رہا تھا۔ اسکے گرد بندھا حصار کھل چکا تھا۔ مگر وہ اپنی جگہ سے ہل تک نہ سکی۔ یہی محبت تھی جو ان کے دولوں پہ اپنے قدم جما چکی تھی۔ نگاہوں کے اس تصادم نے چھپے ہوئے جذبے ایک دوسرے پہ افشاں کر دئیے۔ اب کون تھا جو محبت کی اس کھلی کتاب کو پڑھنے سے انکار کرتا۔ وہ دونوں بھی نہیں کر سکتے تھے۔
مسکاء کا جی چاہا کہ وہ اسے یونہی پکارتا رہے اور وہ سنتی رہے۔ یہ آواز تاحیات اس کے کانوں میں رس گھولتی رہے۔۔۔ یہ چہرہ کبھی اسکی نظروں سے دور نہ ہو اور وہ کھلی آنکھوں سے اسکی بانہوں میں رہنے کا خواب دیکھتی رہے۔
اس ایک لمحے نے اس کے دل کا ڈر ، خوف کہیں دور پھینک دیا تھا۔ اب تو صرف محبت رہ گئی تھی اور محبت تو ہمیشہ سے نڈر رہی ہے۔ محبت نے اسے بھی نڈر کر دیا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اسکے بال پیچھے کیے۔ ضیغم مسکرا دیا اور اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لے کر لبوں سے لگایا۔
“تم میرے لئے بہت اہم ہو۔۔۔بالکل ویسے ہی جیسے جسم کے لئے روح۔۔
سیاہ آسمان کے لئے چاند۔۔۔
بنجر زمین کے لئے بارش۔۔۔۔
جیسے۔۔۔۔۔۔
ضیغم کے لئے مسکاء۔۔۔۔۔”
ضیغم کی آواز اسکی سماعتوں میں رس گھول رہی تھی۔ مسکاء کے لئے پہلے نظریں اٹھانا مشکل تھا اب نظریں جھکانا۔۔۔وہ یک ٹک اسکی آنکھوں میں دیکھتی جا رہی تھی۔
“تم کچھ نہیں کہو گی؟”
ضیغم نے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھ کی پشت سے چھوا۔
“کیا۔۔۔۔؟”
مسکاء نے سر پٹ دوڑتی دھڑکنوں پہ قابو پایا۔
“جو میں سننا چاہتا ہوں۔”
وہ ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔
“آپ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ ایک پل کو رکی۔۔۔۔۔
“میں۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔؟؟”
ضیغم سے صبر کرنا محال ہوا۔
“آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔ جیسے۔۔۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے خاموش ہوئی اور ایک بھرپور نظر ضیغم پہ ڈالی۔
“جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔”
اسکی سماعتیں آگے سننے کو بےتاب ہوئیں۔
“جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاف گھانس پہ سانپ رینگتا۔۔۔
صاف پانی میں مینڈک۔۔۔”
وہ شرارت سے بولی۔
“ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
ضیغم کے چہرے کے ٹیڑھے میڑھے زاویے دیکھ کر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
“کیا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟”
اس نے اسے ایک بار پھر بانہوں کے گھیرے میں لیا۔ چہرے کے نقوش اپنی ایسی تعریف پہ تن گئے تھے۔
“جیسے۔۔۔۔۔
جنگل میں شیر۔۔۔”
وہ اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی جبکہ وہ اپنی ایسی تعریف سن کر عش عش کر اٹھا۔۔________________________________
“تم چل رہے ہو نا میرے ساتھ؟”
ناشتے کے دوران زمان خان نے اس سے پوچھا۔ آج انھوں نے واپس جانا تھا۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ ہی چلے۔
“نہیں بابا میں ابھی نہیں جا سکتا۔ آپکو بتایا تھا نا کہ میری ٹریننگ اسٹارٹ ہونے والی ہے۔ ٹریننگ کے دوران بھی مسکاء یہاں اکیلی ہو گی تو میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کسی دن خاموشی سے آپکی طرف چھوڑ جاوں گا اور آپکے بڑے خان جی سے بھی مل لوں گا۔”
وہ آملیٹ کا سفایا کرتے ہوئے بولا۔
“لیکن اگر تم میرے ساتھ چلتے تو اچھا ہوتا ہے۔ انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمھیں ساتھ لے کر آوں۔ اب تم نہیں جاو گے تو مجھے ڈر ہے کہ انھیں ایک بار پھر سے شک نہ ہو جائے اور جہاں تک مسکاء کے اکیلے رہنے کا مسئلہ ہے تو اسے بھی ساتھ لئے چلتے ہیں۔”
انھوں نے اپنی طرف سے حل پیش کیا۔ دراصل وہ میرسربلند خان کا دھیان اسکی طرف سے ہٹانا چاہتے تھے۔ اگر انھیں اس بات کی ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو وہ اس مسئلہ کو جرگے میں ایک بار پھر اٹھانے کے لئے ایک پل نہیں لگائیں گے اور وہ حالات کو اس نہج پہ نہیں لانا چاہتے تھے۔
“بابا میں نے کہا نا میں اسی ہفتے میں آ جاوں گا بلکہ آپ میرے پاس رہیں ہم اکٹھے اسی ہفتے کو چلے جائیں گے۔”
وہ مسکاء کی طرف بغور دیکھتے ہوئے بولا جو خاموشی سے ناشتہ کر رہی تھی۔
“کیوں بیٹا۔۔! تم کیا کہتی ہو؟”
انھوں نے مسکاء کی رائے جاننا ضروری سمجھا۔
“ضیغم ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ آپ کل ہی تو آئے ہیں کچھ دن اور رکتے ہمارے پاس۔”
اسکا جی تو انہی کے ساتھ جانے کو چاہ رہا تھا مگر ضیغم کی آنکھوں کے اشارے اسے کچھ اور سمجھا رہے تھے۔
“نہیں بیٹا۔۔۔میں مزید نہیں رک سکتا۔ وہاں جا کر خان جی کو مطمئین بھی کرنا ہے ورنہ انھیں شک ہو جائے گا۔ پہلے ہی بڑی مشکل سے ہم نے اس مسئلے کو دبایا ہے۔”
انھوں نے مسکاء کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ ان کا ارادہ آج سہ پہر میں ہی جانے کا تھا۔
“ہو جانے دیں انھیں شک۔۔۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نا ہی میں ڈرتا ہوں کسی سے۔۔ دیکھ لوں گا ایک ایک کو۔۔اور آپ کو بھی ان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ موت تو برحق ہے اور اس حقیقت سے کوئی منہ نہیں موڑ سکتا۔ بس اللہ پہ توکل رکھیں۔ اس کی مرضی کے خلاف تو پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔۔ میرسربلند خان کیا چیز ہے۔ اس موت کا ذائقہ کا اس نے بھی چکھنا ہے۔”
اس نے ان کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔ انھوں نے اسکی بات سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
“اب اگر آپ لوگ مجھے اجازت دیں تو میں جاوں۔”
وہ چہرے پہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولا۔
“ہاں جاو۔۔۔خدائے پہ امان۔۔۔! لیکن جلدی آ جانا۔ عصر تک گلزم خان آ جائے گا۔ تم مجھے ہاسٹل تک چھوڑ آنا۔”
وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
“پھر وہی بات۔۔۔۔بابا رک جائیں نا۔۔ دیکھیں آپ ہیں نا تو مسکاء مجھے تنگ بھی نہیں کر رہی۔ آپ چلے جائیں گے تو پھر سے اس نے مجھے تنگ کرنا شروع کر دینا ہے۔”
وہ ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے شرارت سے بولا۔ مسکاء اس کے انداز پہ جزبز ہوئی تھی جبکہ وہ اس کے انداز پہ ہنس دئیے۔
“سن رہی ہو مسکاء بیٹی۔۔۔یہ کیا کہہ رہا ہے۔”
انھوں نے مسکاء کو متوجہ کیا۔
“جی۔۔۔سن رہی ہوں۔”
اس نے چہرے پہ سنجیدگی سجائے پہلے انھیں اور پھر ضیغم کو دیکھا۔
“بابا۔۔۔آپ یہاں رہیں تو آپکو پتہ چلے کہ کس قدر ظلم ہو رہا ہے مجھ پہ۔”
وہ چہرے پہ مسکینی اور ہونٹوں پہ کمینی مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ جبکہ زمان خان اس کی پیٹھ پہ ایک چپت رسید کرتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔
اس کے انداز تو وہ سمجھ رہی تھی اس لئے جیسے ہی وہ کمرے میں گئے مسکاء نے بھی اپنے اور ضیغم کے مشترکہ کمرے کی جانب دوڑ لگائی۔ اسکا اندازہ درست تھا وہ اس کے پیچھے دوڑا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ دروازہ بند کرتی ضیغم نے پاوں رکھ کر دروازے کو بند نہیں ہونے دیا۔
“میں آپکو تنگ کرتی ہوں یا آپ مجھے۔”
مسکاء نے بھرپور زور لگایا۔
“تم۔۔۔۔۔ابھی بھی دیکھو۔۔۔مجھے میرے ہی کمرے میں داخل ہونے نہیں دے رہی ہو اور اگر میں تنگ کرتا بھی ہوں تو میرے پاس تمھیں تنگ کرنے پرمٹ ہے۔”
ضیغم نے اسکی ناک پکڑنی چاہی مگر مسکاء نے بروقت چہرہ پیچھے کر کے اپنی ناک کو شکار ہونے سے بچایا۔
“ضیغم ۔۔۔۔انسان بنیے۔۔”
مسکاء کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے ابھی رو دے گی۔
“فار یور کائینڈ انفارمیشن میم۔۔۔میں انسان ہی ہوں۔۔چلو اندر آنے دو۔۔مجھے کچھ ضروری ڈاکومینٹس لینے ہیں۔۔ چلو شاباش مجھے اندر آنے دو۔”
اس نے اسے پچکارا۔
“کون سی فائل ہے۔۔؟ میں دیتی ہوں آپکو۔۔ آپ پیچھے ہوں۔”
مسکاء نے دروازے کو بند کرنا چاہا مگر ضیغم کا جوتے میں مقید پاوں ٹس سے مس نہ ہوا۔
“اچھا۔۔۔گلابی رنگ کی خوبصورت سی فائل ہے جس پہ کچھ چھوٹے اور کچھ بڑے پھول بنے ہیں۔”
وہ اسکے گلابی کپڑوں کو بغور دیکھتے ہوئے بولا۔ آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی۔
“ضیغم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ دبی دبی آواز میں رونی صورت بنا کر بولی۔ ضیغم کو اس کے بچوں جیسے انداز پہ اپنی ہنسی روکنی محال ہو گئی۔
“اچھا جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
وہ دروازے میں سے پاوں نکال کر جانے کو مڑا۔ مسکاء نے فورا دروازہ بند کر کے سکون کا سانس لیا۔
“اتنی ٹھنڈی آہیں مت بھرو۔ اگر کہتی ہو تو نہیں جاتا۔”
وہ چہرہ دروازے کے قریب لے جا کر بولا۔
“ضیغم۔۔۔۔۔”
اندر سے پھر مسکاء کی آواز آئی۔
“ٹھیک ہے۔۔ٹھیک ہے جا رہا ہوں لیکن وہ فائل تو دے دو نا۔”
اندر سے کوئی آواز نہیں آئی۔
“مسکاء۔۔۔۔۔۔میں جا رہا ہوں آ کے دروازہ بند کر لو۔”
جب مسکاء کی آواز نہیں آئی تو وہ بولا۔۔ کچھ دیر بعد بیرونی دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی۔ مسکاء نے معمولی سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔ لاونج خالی تھا۔ ٹیبل پر سے موبائل اور چابیاں بھی غائب تھیں۔ اس نے ایک بار پھر لاونج کے طول و عرض پہ نظر ڈالی اور جب ضیغم کے چلے جانے کی تصدیق ہو گئی تو دروازہ کھول کر باہر آگئی۔ آجکل جو اسکی حرکتیں تھیں وہ بالکل بھی اس پہ اعتبار نہیں کر سکتی تھی اس لئے لاونج میں صوفے کے پیچھے جھانکا اور پھر کچن کی جانب آئی۔ وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔ وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے ناشتے کے برتن اٹھا کر کچن کی صفائی میں لگ گئی۔___________________________________
“دیکھو ذرا اس لڑکے کو کہا بھی تھا کہ جلدی آ جائے۔ اب دیکھو وقت نکلا جا رہا ہے۔ گلزم خان کہیں پہنچ ہی نہ گیا ہو۔”
وہ استری شدہ کپڑے الماری میں لٹکا رہی تھی کہ زمان خان کمرے میں داخل ہوئے۔
“چاچا کچھ دن اور رہ جاتے ہمارے پاس۔۔ کل ہی تو آئے ہیں۔ اتنی جلدی کیوں جا رہے ہیں۔”
اس نے الماری بند کرتے ہوئے کہا۔
“بیٹا۔۔ وہاں بہت کام ہے اور پھر چھوٹے خان کی شادی بھی ہے۔ اس لئے جانا ضروری ہے۔ نہیں تو بڑے خان جی کا پتہ ہے نا کسی نا کسی کو میرے پیچھے بھیج دیں گے اور میں نہیں چاہتا کہ یہاں سے کوئی بھی واقف ہو۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے ہمیں۔ بس تم دونوں یہاں خوش رہو ہمارے لئے یہی کافی ہے۔ بس میر ایک بار گاوں کا چکر لگا لے اور خان جی سے بھی مل لے تو دل کو تھوڑی ڈھارس ملے ورنہ تو ہر لمحے جان سولی پہ لٹکی رہتی ہے۔”
وہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولے۔
“چاچا۔۔۔اللہ نے ہمارا کتنا ساتھ دیا ہے انشاءاللہ آگے بھی ہم پر اپنا کرم بنائے رکھے گا۔”
وہ دروازہ کھلنے کی آواز پہ باہر کی جانب آتے ہوئے بولی۔
“لگتا ہے میر آ گیا ہے؟”
وہ روم سے باہر نکل گئے۔ مسکاء بھی ایک نظر کمرے پہ ڈال کر باہر آ گئی تھی۔
“چلیں بابا۔۔۔۔گلزم چاچا دو بار فون کر چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں آپکو اپنے ساتھ اکیڈمی لے کر آیا ہوں۔ وہ وہاں انتظار کر رہے ہیں۔”
وہ سلام کے بعد ان کی طرف بڑھا۔
“ہاں بس میں تیار ہوں چلو۔۔۔۔”
وہ تیار تھے جانے کے لئے۔
“آپ رک جاتے تو اچھا تھا۔ میں نے آپ کو پروفیسر محمد عقیل سے بھی ملوانا تھا۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ ملیں گے ان سے مگر آپ تو جیسے ہوا کے گھوڑے پہ سوار ہیں۔”
وہ اپنی ناراضگی نہیں چھپا سکا۔
“ہاں۔۔۔سوچا تو تھا کہ ان سے ضرور ملوں گا مگر چلو پھر کبھی سہی۔۔ ذرا یہ حالات معمول پہ آ جائیں تو ان سے بھی مل لیں گے۔”
انھوں نے اس کے کندھے پہ بازو پھیلاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو بہت اداس لگ رہا تھا۔
“ٹریننگ کب سے شروع ہے تمھاری؟” انھوں نے پوچھا۔
“پیر سے۔۔۔اسلام آباد جانا ہے مجھے۔۔ مسکاء کو آپکے پاس چھوڑ جاوں گا اور ٹریننگ کے بعد مجھے میرا منتخب کردہ علاقہ ہے دیا جائے گا پھر سیدھا گاوں آوں گا۔”
اس کے چہرے پہ سکون و اطمینان رقصاں تھا۔
“میں اس دن کا انتظار کروں گا جب تم میرا مان بڑھاو گے۔ قیامت کے دن میں میر دراب خان کے سامنے سر اٹھا کر کھڑا ہوں۔ تم میرا فخر ہو۔۔ اللہ تمھیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔”
انھوں نے اسے سینے سے لگا لیا یوں جیسے کوئی اپنی متاع حیات کو سینے سے لگاتا ہو۔
“مسکاء۔۔”
انھوں نے ضیغم سے الگ ہو کر مسکاء کو بلایا۔ وہ قریب آئی تو انھوں نے شفقت سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔
“اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے اور اپنی امان میں رکھے۔ آمین!”
انھوں نے دعا دی اور ضیغم کے ساتھ بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گئے۔ ان کے جانے کے بعد اس نے اپنے آنسو پونچھے اور باقی ماندہ کام نپٹانے لگی۔
ڈنر تیار کیا اور ضیغم کا انتظار کرنے لگی۔ گھنٹہ ہونے کو آیا تھا لیکن وہ اب تک آیا نہیں تھا۔ لاونج میں یونہی خالی بیٹھے بیٹھے اسے نیند آنے لگی تھی۔ عشاء کا وقت ہونے والا تھا اس لئے وہ نماز کے لئے اپنے کمرے میں آ گئی۔
نماز ادا کی ہی تھی کہ کھٹکے کی آواز پہ کھلے دروازے سے جھانکا۔ ضیغم ہاتھ میں کچھ شاپرز لئے اندر داخل ہوا تھا۔ وہ بھی جائے نماز تہہ کر کے کچن میں آ گئی۔ کھانا گرم کیا اور باہر لاونج میں ٹیبل پہ لگا دیا۔ ضیغم اپنے کمرے میں تھا۔ شاپرز صوفے پہ رکھے تھے۔ اسے تجسس ہوا۔ شاپرز کھول کر دیکھے تو کچھ لیڈیز ڈریسز تھے۔ ایک فینسی اور دو سمپل۔۔ ساتھ ایک جیولری بکس بھی تھا۔ دوسرے شاپر میں شو بکس تھا۔اس نے نکال کر دیکھنا مناسب نہ سمجھا اور شاپرز ایک طرف رکھ دئیے۔
کچھ دیر وہیں بیٹھ کر اس کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔ جب وہ باہر نہ آیا تو وہ کمرے جانب آئی۔ اس نے دروازے پہ ناک کیا مگر اندر سے کوئی ریسپونس نہیں آیا تو اس نے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔ وہ سامنے ہی چھوٹی سی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے براون ٹی شرٹ اور بلیک ٹروازر میں کھڑا بال برش کر رہا تھا۔
“کھانا یہیں لے آوں؟”
مسکاء نے وہیں سے کھڑے کھڑے پوچھا۔
“نہیں آ رہا ہوں۔۔”
مختصر جواب آیا۔
الماری میں صبح تک پڑے ڈریسز جو اس نے یہاں لا کر رکھ دئیے تھے۔ اب وہاں موجود نہیں تھے۔ جسکا مطلب تھا کہ وہ واپس اپنے کمرے میں شفٹ ہو گئی ہے۔ یہ دیکھ کر اسکا موڈ خراب ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ان کی شادی نارمل شادیوں سے قدرے مختلف تھی۔ یہ بھی صحیح تھا کہ اگر باتور خان اسکے ہاسٹل تک نہ پہنچا ہوتا تو سیٹل ہونے تک وہ اسے یہاں نہ لے کر آتا لیکن جب آ ہی گئی تھی تو وہ ایک نارمل لائف گزارنا چاہتا تھا مگر اسکی جھجک دیکھ کر چپ تھا۔ لیکن اب اسکے رویے کو لے کر وہ حیرانی کا شکار تھا۔
مسکاء پلٹ کر جا چکی تھی۔ اس نے برش ڈریسنگ ٹیبل پہ تقریبا پٹخ دیا اور لائٹ آف کر کے روم سے باہر آ گیا۔
باہر وہ لاونج میں صوفے پہ بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی۔ دونوں کھانا بالکل خاموشی سے کھا رہے تھے۔ مسکاء نے اسکی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے کئ بار اس کی جانب دیکھا مگر وہ یوں ظاہر کر رہا تھا جیسے اس کے علاوہ وہاں اور کوئی موجود نہ ہو۔ اگر اسکا معمول یہی خاموشی ہوتی تو وہ اتنی حیرت کا شکار نہ ہوتی کیونکہ روز ڈنر کے دوران وہ اس سے سارے دن کے مطلق کچھ نہ کچھ پوچھتا رہتا لیکن آج معمول جیسا کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کچھ بولنے کی۔ اس لئے وہ بھی خاموشی سے کھانے کی جانب متوجہ ہو گئی۔
“کل ہم نے پروفیسر محمد عقیل کی طرف جانا ہے۔ انھوں نے ڈنر پہ انوائیٹ کیا ہے۔ میں کچھ ڈریسز لایا ہوں ، شوز اور جیولری بھی ساتھ ہے۔ کل سات بجے تک تیار ہو جانا۔”
کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے روم میں جاتے ہوئے بولا۔ یہ کہہ کر وہ رکا نہیں۔
“جی۔۔”
مسکاء نے اس کے برف لہجے کی ٹھنڈک کو اپنے دل پہ جمتے محسوس کیا۔ صبح تک تو ٹھیک تھا۔ اکیڈمی جاتے وقت جو اسکا رویہ تھا اسکے خیال سے شاید وہ اس بات پہ خفا تھا۔ اس نے خاموشی سے برتن اٹھا کر کچن میں رکھے۔ ساتھ ہی قہوے بنایا اور کپ لیے اس کے روم میں آئی۔ وہ کھڑکی کھولے نجانے کیا تلاش کر رہا تھا۔
“قہوہ۔۔۔”
قریب آ کر اس نے کپ اسکے سامنے کیا۔
“وہاں ٹیبل پہ رکھ دو۔”
وہ بناء اس کی جانب دیکھے بولا تھا۔ اب تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ کسی بات کو لے کر اس سے ناراض ہے۔ مسکاء نے کپ ٹیبل پہ رکھ دیا اور واپس اس کی جانب آئی۔
“کیا دیکھ رہے ہیں؟”
کہنے کو کچھ نہ بن پڑا تو اس نے بھی کھڑکی میں جھانکا۔
“جو مجھے دکھ رہا ہے وہ تم نہیں دیکھ پاو گی۔”
وہ معنی خیز لہجے میں کہتا اس کی جانب مڑا۔ وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔
“ایسا کیا ہے جو میں نہیں دیکھ سکتی؟” مسکاء نے کھڑکی سے نیم اندھیرے میں جھانکا۔
“جو میں محسوس کر رہا ہوں۔”
ضیغم نے اس پر سے نظر نہ ہٹائی۔
“کیا۔۔۔؟؟”
وہ مختصرا بولی تھی۔
“تمھارا میری حدود سے نکلنا تمھیں کیسے دکھائی دے سکتا ہے۔ بھاگنے والا بھی کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے کیا۔۔”
ضیغم نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے مقابل کیا۔
“میں آپ سے کہاں بھاگ سکتی ہوں۔”
محبت ایک بار پھر نڈر ہو گئی۔
“بھاگنا اور کیسا ہوتا ہے۔ تم ایک بار پھر سے اپنے روم میں شفٹ ہو گئی ہو۔ میرے اعتبار دلانے کے باوجود۔۔ویل۔۔۔اس بے اعتباری کا شکریہ۔”
وہ ایک نظر اس پہ ڈالتا بیڈ کی جانب آیا۔ تکیہ درست کیا اور کپ اٹھا کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔
“میں۔۔۔۔۔۔”
“جاتے وقت یہ لائٹ آف کر جانا۔”
وہ اسکی بات کاٹ کر دو ٹوک انداز میں کہتا رخ موڑ گیا۔ جسکا مطلب تھا کہ اب تم جا سکتی ہو۔ مسکاء کو اپنے رویے کی بدصورتی کا احساس ہوا۔ حالانکہ کل رات ضیغم نے اسے جو مان اور بھروسہ دیا تھا اس کے بعد تو بے اعتباری کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی تھی۔ مگر اب کیا۔۔۔۔۔وہ خاموشی سے لائٹ آف کرتی روم سے باہر آ گئی۔
دل ہر چیز سے اچاٹ ہونے لگا تھا۔ کچن میں آ کر اس نے برتن دھوئے اور تمام لائٹس آف کرتی روم میں آ گئی۔ نائٹ بلب کی خوابناک روشنی میں ایک پل تو اسے کچھ بھی سجھائی نہیں دیا۔ تھوڑی دیر بعد جب آنکھیں مدھم روشنی سے مانوس ہوئیں تو وہ بیڈ کی جانب آئی تھی۔ تکیہ درست کر کے وہ دائیں جانب کروٹ لے کر لیٹ گئی۔ آنکھیں موندنے سے پہلے اس ایک بار پیچھے مڑ کر بےخبر سوئے ہوئے ضیغم پہ نظر ڈالی۔ مسکراہٹ نے ایک پل کو اسکے لبوں کو چھوا اور پھر واپس مڑ کر آنکھیں موند لیں۔ فجر کی اذان کی آواز سے ضیغم کی آنکھ کھلی تو اپنے قریب سوئی ہوئی مسکاء کو حیرت سے دیکھا۔ اسے لگا جیسے وہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ قریب کھسک کر اسے بغور دیکھنے لگا۔ سانسوں کی مدھم رفتار اسے یقین دلا رہی تھی کہ یہ خواب نہیں ہے۔
اس نے مسکاء کے چہرے کو چھوا تو مسکراہٹ آپ ہی آپ اسکے لبوں کا حصہ بنی تھی۔ وہ دھیرے سے اٹھ کر وضو کی غرض سے واش روم کیطرف بڑھا۔________________________________
وہ گاوں آ تو گئے تھے مگر ابھی تک حویلی کا چکر نہیں لگایا تھا۔ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ اور رحم دین وہیں مولانا صاحب کے پاس ہی بیٹھے رہے۔ گاوں کے ایک دو بزرگ اور بھی وہیں بیٹھے تھے۔ جب وہ دونوں بزرگ بھی اٹھ کر چلے گئے تو مولانا صاحب نے زمان خان کی جانب دیکھا جو بہت خاموش لگ رہے تھے۔
“کیسے ہو زمان خان۔۔۔۔کچھ پریشان لگ رہے ہو۔۔ سنا ہے تم میر سے ملنے شہر گئے تھے۔ خیریت سے ہے وہ۔۔ کافی وقت ہو گیا اس نے چکر نہیں لگایا۔”
مولانا صاحب نے زمان خان کے پریشان چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔ رحم دین بھی زمان خان کی طرف دیکھنے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ کس لئے پریشان ہیں۔
“مولانا صاحب بس آپ دعا کیا کریں کہ اللہ ہمیں اس آزمائش میں سرخرو کرے۔ میں تو تھکتا جا رہا ہوں۔ ان ظالموں کے ظلم و بربریت سے تو میں واقف ہوں۔ آپ دعا کریں کہ اللہ ہمارے بچوں کو ان سے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ مجھے تو رہ رہ کر یہ پریشانی کھائی جا رہی ہے کہ جب خان جی مجھ سے میر کا پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گا۔ سب کچھ تو آپ کے سامنے ہے۔”
“کہہ دینا کہ آ جائے گا۔۔ ویسے بھی تم بتا رہے تھے کہ وہ آنے کا کہہ رہا تھا۔ ویسے بھی وہ شادی میں مگن ہیں۔ اس طرف دھیان کم ہی جائے گا۔
رحم دین نے ان کی پریشانی دیکھ کر کہا۔
“رحم دین ٹھیک کہہ رہا ہے۔ کب آ رہا ہے میر؟”
مولانا صاحب نے پوچھا۔
“کل آنے کو کہا ہے۔ میں تو ساتھ ہی لانا چاہ رہا تھا مگر وہ بضد تھا کہ کل آئے گا۔ کہہ رہا تھا کہ مسکاء کو بھی یہیں چھوڑ کر جائے گا۔ اس کی ٹریننگ شروع ہو رہی ہے۔ پیر کو اسلام آباد روانہ ہو گا۔”
زمان خان نے باری باری دونوں کو دیکھا۔ مسکاء کے یہاں آنے پر رحم دین اور مولانا صاحب کے چہروں سے پریشانی چھلکنے لگی۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو مسکاء یہاں کیسے آ سکتی ہے۔ یہاں حالات ٹھیک نہیں اور وہ مسکاء کو یہاں چھوڑنے کی بات کر رہا ہے۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ جرگے کا آخری فیصلہ کیا تھا پھر بھی تم نے سمجھایا نہیں۔”
رحم دین کو پپریشانی نے آ گھیرا۔
“کہا تھا مگر مسکاء کا وہاں اکیلے رہنا بھی مناسب نہیں۔ آس پڑوس سے بھی کوئی شناسائی نہیں ہے۔”
وہ بھی اس پہلو پہ سوچ سوچ کر پریشان ہوئے جا رہے تھے۔
“یہ بات بھی درست ہے۔ مسکاء بیٹی کا اکیلے رہنا بھی مناسب نہیں وہ بھی اتنا عرصہ۔”
مولانا صاحب نے بھی پرسوچ نگاہوں سے دونوں کی طرف دیکھا۔
“واپس ہاسٹل چھوڑ آئے اسے مگر یہاں نہ لائے۔ یہاں اسکی جان کو خطرہ ہے۔ باتور خان کو پتہ چل گیا تو وہ ہماری دنیا اندھیر کر دے گا۔”
رحم دین نے سجھاؤ دیا۔
“ہاسٹل والوں سے بات کی تھی مگر وارڈن نے بھی معذرت کر لی یہ کہہ کر کہ وہ باقی لڑکیوں کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتیں۔”
ان کی بات سن کر رحم دین نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔
“تو اب۔۔۔۔۔؟؟”
مولانا صاحب نے زمان خان کو دیکھا۔
“وہ کہہ رہا تھا کہ مسکاء کو وہ خاموشی سے لے آئے گا۔ گلزم خان کو کہہ دیا ہے وہ جائے گا انھیں لینے۔ لیکن مسکاء میرے پاس رہے گی۔ میری طرف کوئی آتا جاتا نہیں ہے اس لئے کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ باقی اللہ حفاظت کرنے والا ہے۔ انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
انھوں نے رحم دین کو تسلی دی۔ ان کی بات سے وہ مطمئن تو نہیں ہوئے تھے مگر پھر بھی یہ سجھاو برا نہیں تھا۔ زمان خان کا گھر مناسب حل تھا۔ اس لئے دل کو تھوڑی ڈھارس ملی تھی۔
“آمین!!”
مولانا صاحب بھی بولتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ دونوں بھی ان کے پیچھے مسجد سے نکل آئے۔ زمان خان انھیں خدا حافظ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ان کا ارادہ حویلی جا کر ماہ گل سے ملنے کا تھا۔
سارے مسئلے مسائل ایک طرف مگر بیٹی سے ملنے کو رحم دین بیتاب دکھائی دینے لگے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے گھر کی طرف جا رہے تاکہ ذہرہ بی بی کو بھی مسکاء کے آنے کی اطلاع دے دیں۔ گھر پہنچ کر انھوں نے اس بارے میں فورا ذہرہ بی بی کو بتایا۔ پہلے تو وہ بہت خوش ہوئیں۔ مگر پھر آگے کا سوچ کر پریشانی ان کے چہرے سے ہویدا تھی۔
“میری بچی آ تو جائے گی مگر یہاں تو حالات اچھے نہیں ہیں مسکاء کے بابا۔ ہم کیسے اتنا عرصہ اسے گاوں والوں کی نظروں سے چھپائیں گے۔ اگر کسی کو خبر ہو گئی تو۔۔۔”
میرسربلند خان اور باتور خان کا خوف ناذوں پلی بیٹی سے ملنے کی خوشی کو نگل گیا تھا۔ اتنا وقت گزر گیا انھوں نے اس خواہش کو تھپک تھپک کر سلا دیا تھا۔ مگر آج اس کے آنے کی جہاں خوشی تھی وہاں اسے ہمیشہ کے لئے کھو دینے کا ڈر بھی تھا۔
“ہاں لیکن وہ زمان خان کے پاس رہے گی۔ اس کی طرف ہمارے اور ماہ گل کے علاوہ کوئی اور جاتا بھی نہیں ہے۔ دن میں تالا لگا رہے گا تو کسی کو شک نہیں ہو گا۔ بس اللہ سے دعا کرو کہ یہ کٹھن وقت گزر جائے۔ پھر میر نے بھی یہیں آ جانا ہے۔”
“اللہ ہم پہ اپنا رحم کرے۔ ہم نے یہ معاملہ اللہ کے سپرد کیا۔ وہی ہمارے بچوں کا حامی و ناصر ہو۔”
ان کی بات کے اختتام پہ وہ بولیں تھیں۔
“آمین!! ناشتہ تیار ہے یا انتظار کرنا پڑے گا۔”
انھوں نے پوچھ کر آسمان کی جانب نظر کی۔ جاڑے کی آمد سے موسم اچھا ہونے لگا تھا۔ کہیں کہیں سیاہ بادل اپنا پہرہ جمائے دکھائی دے رہے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ وہ باہر چارپائی پہ ہی بیٹھ گئے ذہرہ بی بی باورچی خانے کی جانب آ گئیں۔ ان کے لئے ناشتہ تیار کیا اور ٹرے لئے باہر آ گئیں۔ ٹرے انھوں نے چارپائیوں کے درمیان رکھی چھوٹی سی ٹپائی پہ رکھ دی اور دونوں ہلکی پھلکی باتوں کے دوران ناشتہ کرنے لگے۔
ناشتے کے بعد ذہرہ بی بی تو برتن اٹھا کر کچن میں چلی گئیں جبکہ وہ کام پہ جانے کی تیاری کرنے لگے۔ ان کے جانے کے بعد ذہرہ بی بی مکی کے ڈربے کی جانب آئیں۔ نیچے جھک کر انھوں نے ڈربے کا دروازہ کھول دیا۔ ڈربے کی مالکن کمال کی پھرتی سے باہر آئی تھی اور پورے صحن میں چکرانے لگی۔ سفید بطخ اپنے جوہر دکھانے سے باز نہ آئی تھی اور صحن میں رکھی چیزوں کو منہ سے دھکیل دھکیل کر دیوار کے قریب لے جانے لگی۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور کام میں جت گئیں۔ __________________________________
ضیغم نے اسے شام سات بجے تک ریڈی رہنے کو کہا تھا۔ لنچ وہ اکیڈمی میں ہی کرتا تھا۔ آج اکیڈمی میں اسکا لاسٹ ڈے بھی تھا۔ اس لئے وہ کہہ کر گیا تھا کہ وہ چھ بجے تک گھر آ جائے گا۔ اس نے جلدی جلدی ادھر ادھر بکھری چیزیں سنبھالیں۔ اپنے لئے لنچ پہ وہ کوئی خاص انتظام نہیں کرتی تھی۔ اس لئے کچن صاف کیا اور پھر اپنے اور ضیغم کے کپڑے پریس کیے۔ ابھی ٹائم بہت تھا اس لئے کچھ دیر آرام کی غرض سے روم میں آ گئی۔
نیند اسے بہت جلد آ جایا کرتی تھی۔ تھوڑی دیر آرام کی غرض سے اگر لیٹتی بھی تو اچھی خاصی نیند کر کے ہی اٹھتی تھی۔ ذہرہ بی بی کو اسکی وقت بے وقت سونے کی عادت بالکل پسند نہیں تھی۔ ابھی بھی بیڈ پہ لیٹتے ہی وہ نیند کے وادیوں میں کھو گئی تھی۔ ظہر کے قریب قریب اس کی آنکھ کھلی۔ اٹھ کر نماز ادا کی۔ بھوک کا احساس بیدار ہوا تو کچن میں آ گئی۔ فریج سے رات کی بچی ہوئی سبزی نکال کر گرم کی ایک روٹی بنا کر وہیں کچن میں ہی کھا کر لاونج میں آ گئی۔ گھر میں اتنا کام ہوتا نہیں تھا اس لئے جلدی فارغ ہو کر بور ہوتی رہتی تھی۔ آگے پڑھنے کو جی بھی چاہتا تھا مگر فلحال حالات اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اس نے ایک دو بار ضیغم سے یونیورسٹی میں ایڈمیشن کا ذکر بھی کیا مگر حالات کے پیش نظر وہ اسکے گھر سے زیادہ باہر نکلنے کے حق میں نہیں تھا۔ اس لیے پھر اس نے دوبارہ ذکر نہیں کیا۔
ابھی بھی کافی وقت پڑا تھا اس لئے وہ ایک بار پھر سے لیٹ گئی۔ صوفے پہ لیٹ کر چھت کو گھورتے ہوئے وہ اب تک کے حالات کے متعلق سوچنے لگی۔ خوشی اسے اس بات کی بھی تھی کہ وہ گاوں جا رہی ہے مگر اس گھر کی عادت اور گھر والے سے اس قدر انسنیت ہو گئی تھی کہ الگ ہونے کے خیال سے ہی دل میں ہول اٹھ رہے تھے۔
ادھر ادھر کے خیالوں میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ عصر پڑھنے کے بعد کچھ دیر تلاوت کی۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے اپنی تیاری شروع کی۔ فریش ہونے کے بعد کپڑے تبدیل کیے۔ شاکنگ پنک کلر کا ڈریس اس نے اپنے لئے منتخب کیا۔ کلر بہت ڈارک تھا اس لئے اس کی انکی رنگت دمکنے لگی تھی۔ خوبصورت کا نازک سا کندن کا سیٹ جس میں شاکنگ پنک کلر کے ہی چھوٹے بڑے نگ جڑے تھے اس کی صراحی دار گردن پہ سج گیا تھا۔ میک اپ کے نام پہ آئی لائنر لگایا۔ جو اماں نے سامان میں بھیجا تھا۔ایک کاجل بھی تھا مگر اس نے رہنے دیا۔ سلکی بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھ کر کیچر لگا دیا۔ اس نے اتنا ڈارک کلر کبھی نہیں پہنا تھا اس لئے یہ ڈریس بہت اوور لگ رہا تھا حالانکہ شرٹ پہ کام اتنا زیادہ نہیں تھا۔ ایک آخری نظر آئینے میں دکھتے اپنے وجود پہ ڈالی۔۔ وہ تقریبا تیار تھی۔ ساڑھے چھ بج چکے تھے مگر ضیغم ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ اپنے روم میں آگئی۔ الماری کھول کر یونہی بے وجہ چیزوں کو ادھر ادھر کرنے لگی۔ اتنے میں اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو الماری کے پٹ بند کر کے کمرے سے باہر آ گئی۔ ضیغم دروازہ بند کر رہا تھا۔
“آپ نے تو کہا تھا کہ چھ بجے تک آوں گا۔۔ٹائم دیکھا ہے آپ نے پونے سات ہو گئے ہیں۔”
وہ بات کرتے کرتے قریب آئی تھی۔ ضیغم نے پلٹ کر دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی۔ چہرے پہ نہ کوئی گلال نہ غازہ۔۔۔ مگر چہرے کی چمک آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی تھی۔ چہرے کے اطراف بکھری لٹیں اپنے ہی ذعم میں تھیں۔ دونوں کے درمیان رہا سہا فاصلہ بھی ضیغم نے پھرتی سے مٹا دیا۔
“آپ تیار ہو جائیں۔”
وہ اس کی نظروں کی تپش سے گھبرا کر پلٹنے لگی۔
“میں بھی تیار ہو جاوں گا پہلے آپکی تیاری کو تو نمبر دے دوں۔”
اس نے مسکاء کی کمر کے گرد بازو حمائل کر اسے خود سے لگایا۔ مسکاء اس کے انداز پہ گھبرا کر چہرہ جھکا گئی۔
“تم ہر روز میرے کیے گئے وعدے میں دراڑ ڈالنے کا سامان کر دیتی ہو اور پھر گلہ بھی مجھ سے کرتی ہو کہ بلاوجہ تمھیں تنگ کرتا ہوں۔”
ضیغم نے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس کے بال کیچر کی قید سے آزاد کیے جبکہ مسکاء نظریں جھکا گئی۔
“اب نظریں جھکانے کا کیا فائدہ جو کرنا چاہتی تھی وہ تو کر ہی دیا ہے تم نے۔”
ضیغم نے اس کے چہرے کے اطراف آوارہ لٹوں کو پیچھے کیا۔
“کیا کیا ہے میں نے؟”
وہ اسے مزید سننا چاہتی تھی۔
“مجھ پہ جادو۔”
اس نے اس کے گرد حصار تنگ کیا۔
“ضیغم کیا کر رہے ہیں۔۔میرے کپڑے خراب ہو جائیں گے۔” وہ اس کا حصار سے نکلی اور اس کے ہاتھ سے کیچر لے بال دوبارہ جوڑے کی شکل میں باندھ دئیے۔
“ہو جائیں خراب۔۔۔ میرا موڈ تو جانے کا نہیں رہا اب۔”
اس نے اسے بازو سے پکڑنے کی کوشش کی مگر مسکاء نے اس کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی اور کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ ضیغم بھی ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتا اپنے کمرے میں آیا۔
تیار ہو کر باہر آیا تو مسکاء کو باہر لاونج میں اپنا انتظار کرتے پایا۔ مسکرا کر اسکی طرف بڑھا۔ بلیک شلوار سوٹ اور ڈراک گرے کلر واسکٹ میں وہ اسکے دل کی رفتار بڑھا گیا تھا۔ وہ بےدھیانی میں اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے اسطرح خود کو بغور دیکھنے پر ضیغم کے دل میں پھول کھل گئے تھے۔
“کیا خیال ہے۔۔ میں اور تم آج کہیں نہیں جاتے۔ ایک دوسرے کو دیکھنے کی رسم پوری کر لیتے ہیں۔”
وہ اس کے پاس بیٹھ کر اس کے کندھے سے کندھا ٹکرا کر بولا۔
“جی نہیں چلیں۔۔۔۔۔”
وہ فورا اٹھی مبادہ وہ اسے پھر سے نہ پکڑ لے۔ وہ بھی ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
پروفیسر محمد عقیل اور ان کی فیملی ان کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ سب مسکاء سے بہت محبت سے ملے۔
“ضیغم۔۔! یہ ہماری بیٹی تو ہو بہو خزیمن بھابی ہیں۔ لگتا ہے وہ ایک بار پھر سے ہمارے سامنے آ گئیں ہوں۔”
رحمہ بیگم مسکاء کو ساتھ لگاتے ہوئے بولیں۔ ضیغم دھیرے سے مسکرا دیا جبکہ مسکاء ان کی بات سن کر بہت حیران ہوئی۔ وہ سب لاونج میں آگئے تھے۔ سبھی اس خوبصورت کپل کو بہت رشک سے دیکھ رہے تھے۔ خاص طور پہ پروفیسر محمد عقیل کی بڑے بیٹے کی چھوٹی صاحبزادی اسی ادھیڑ بن میں لگی تھی کہ دلہا زیادہ پیارا ہے یا دلہن۔ مسکاء نے اس کی محویت نوٹ کرتے ہوئے اسے اپنے پاس بلایا۔ وہ بھی بھاگ کر اس کے پاس آئی تھی۔ اس نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
“آنٹی میں نے انھیں دیکھا نہیں مگر بابا بھی کہتے ہیں کہ مسکاء بالکل میری ماں جیسی ہے۔”
وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا۔
“تمھارے بابا بالکل ٹھیک کہتے ہیں لیکن اتنی مماثلت کی وجہ کیا ہے؟”
انھوں نے حیرانی سے پوچھا۔
“ایکچولی۔۔۔مسکاء میری خالہ زاد ہیں۔ میری مدر ان کی خالہ لگتی ہیں۔”
ضیغم کے بتانے پہ سبھی کو بہت خوشی ہوئی جبکہ مسکاء اس حقیقت سے ناواقف تھی اس لئے اپنی حیرانی نہ چھپا سکی۔ ضیغم نے اس کی حیرانی محسوس کر کے مسکرا کر اسے اشارہ کیا۔
“ماشاء اللہ۔۔۔۔اللہ جوڑی سلامت رکھے۔”
رحمہ بیگم نے دل سے دعا دی۔ وہاں موجود سبھی لوگوں نے آمین کہا۔
“ارے بھئی بیگم کیا صرف باتوں پہ ہی ٹرخائیں گی کیا۔”
ان کی بات پر وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ضیغم اور پروفیسر محمد عقیل باتوں میں مگن ہوگئے جبکہ مسکاء فاطمہ کی معصومانہ سوالوں کے جواب دینے لگی۔
ایک پر لطف ڈنر کے بعد ضیغم نے جانے کی اجازت چاہی۔ مسکاء نے بھی اس کی تقلید کی۔ انھوں نے بہت روکنا چاہا مگر ٹائم کافی ہو گیا تھا۔ ضیغم نے انھیں اپنی ٹریننگ کا بتا دیا تھا۔ حمنہ بیگم نے اسے مسکاء کو یہیں چھوڑ کر جانے کو کہا مگر اس نے سہولت سے انکار کر دیا۔
رحمہ بیگم نے دونوں کو تحائف دئیے۔ جسکا انھوں نے شکریہ ادا کیا اور اجازت طلب کی۔ ضیغم سبھی سے ملتا ہوا گاڑی میں جا بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کردی۔ مسکاء بھی سب سے مل کر اسکے برابر آ بیٹھی۔ راستہ خاموشی سے کٹا۔ مسکاء پہ تو نیند غالب ہونے لگی تھی۔
گھر پہنچ کر مسکاء نے فورا چینج کیا اور بستر میں گھس گئی۔ ضیغم نجانے کچن میں کیا کر رہا تھا اس نے دھیان نہیں دیا۔ وہ قہوہ کے دو کپ ہاتھ میں لئے جب کمرے می داخل ہوا تو وہ سو چکی تھی۔ دونوں کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر وہ بیڈ پہ اس کے قریب لیٹ گیا۔
“سلیپنگ بیوٹی۔”
چہرہ دھیرے سے اس کے چہرے کے قریب لے جا کر اس نے اسکی مہکتی سانسوں کو اپنے اندر اتارا۔ اسکی لرزتی پلکوں سے اندازہ لگانا آسان تھا کہ وہ سونے کی بھرپور ایکٹنگ کر رہی ہے۔
“ڈرامہ کوئیںن۔”
ایک اور لقب سے نواز کر اس نے مسکراتے ہوئے کپ لبوں سے لگا لیا۔ ___________________________________________جاری ہے
