Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode08

Ghag By Mahwish Urooj Episode08

اس کو نہ پا سکے تھے جب
دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھتے
بات تھی کچھ محال بھی۔۔
آخری پیپر دے کر جب وہ ہاسٹل پہنچی تو گل باجی نے اسے وارڈن کا پیغام دیا۔ انھوں نے اسے بتایا کہ انھوں نے اسے فورا بلایا ہے اس لئے وہ جو بیگ روم میں رکھ کر آنے کا سوچ رہی تھی اپنا ارادہ ملتوی کرتی سیدھی ان کے آفس آ گئی۔
وہ دروازے پہ دستک دیتی سوچ رہی تھی کہ کیا بات ہو سکتی ہے۔ وہ بہت کم کسی کو آفس بلاتی تھیں۔ کسی کو کوئی بھی پیغام دینا ہوتا یا کچھ کہنا ہوتا تو وہ گل باجی سے کہہ دیتی تھیں۔ لڑکیاں ان کے اس لیے دئیے رہنے والے روئیے کی وجہ انکا ان میرڈ ہونا قرار دیتی تھیں۔ بس صرف گل باجی سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی۔
اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوئی۔ دل عجب لے پہ دھڑک رہا تھا۔ کل سے تو وہ اس بات کو لے کر پریشان تھی کہ یہ جائے پناہ بھی اس سے چھننے والی ہے۔ اب یہ سوچ سوچ کر مزید ہلکان ہو رہی تھی کہ کہیں وہ اسے رخت سفر باندھنے کو نہ کہہ دیں۔
“بیٹھو۔۔۔” انھوں نے اپنے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
“مجھے گلزم خان نے تمھارے حالات کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان فضول رسموں کا ارتکاب کر کے معصوم اور غریب لوگوں حق خودارادیت بھی چھین رہے ہیں۔ میری ہمدردی تمھارے ساتھ ہے مگر میں تمھاری وجہ سے باقی لڑکیوں کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔”
انھوں نے تمہید باندھی۔
“میں کچھ سمجھی نہیں۔۔آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟”
اسکا دل دھڑکا اور کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
“دیکھو مسکاء بیٹا۔۔۔میں کبھی بھی تمھیں یہاں سے جانے کا نہ کہتی مگر حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ میں بہت مجبور ہوں یہ کہنے پر کہ تمھیں اب اپنا کہیں اور بندوبست کر لینا چاہئیے۔” انھوں نے صاف بات کرنا مناسب سمجھا۔
“مگر۔۔۔آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں؟ یہ منتھ تو مجھے یہیں رہنا ہے۔ گلزم چاچا نے بتایا تھا نا آپکو۔۔اس وقت تو آپ مان گئیں تھیں۔” ان کی بات نے اسے پریشان کر دیا۔
“کیا تم کسی باتور خان نامی شخص کو جانتی ہو؟”
ان کی بات سن کر اسکا سانس اٹک گیا۔
“باتور خان۔۔۔۔۔”
اس کے لب کپکپائے تھے۔
“ہاں۔۔۔تین دن سے مسلسل وہ شخص یہاں تمھارے بارے میں پوچھ تاچھ کے آتا ہے کہ مسکاء رحم دین نام کی لڑکی یہاں ہاسٹل میں رہتی ہے۔ اگر ہے تو اسے اس سے ملنا ہے اور یہ بھی کہ وہ اسکا کزن ہے اور جلد ان کی شادی ہونے والی ہے۔ اگر گلزم خان مجھے اس رات تمھارے نکاح کے بارے میں نہ بتا دیتے ورنہ میں تو اسے تمھارا شوہر سمجھ رہی تھی۔ یہ تو میں اسکا نام سن کر تھوڑی شش و پنج میں پڑ گئی تھی ورنہ بڑا مسئلہ ہو جاتا۔ وہ نہایت ہی اجڈ اور بدتمیز شخص ہے۔ ہم نے اسے قابومیں کرنے کی بہت کوشش کی ہے مگر وہ اب دھمکیوں پہ اتر آیا ہے۔ اسطرح باقی لڑکیوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ رہی ہے اور میں نہیں چاہتی کہ تمھارے سمیت کسی کو بھی کوئی نقصان ہو۔اس لیے تمھارا یہاں ہاسٹل میں رہنا مناسب نہیں۔”
انھیں اسکے چہرے کی اڑتی رنگت تکلیف دے رہی تھی۔
“مگر میم میں کہاں جاوں گی۔ میں تو یہاں کے راستوں سے بھی ٹھیک سے واقف نہیں ہوں۔”
سیاہ آنکھوں میں آنسو ٹھہر گئے تھے۔ وہ اسے کبھی بھی نہ بھیجتیں مگر حالات ہی ایسے ہو گئے تھے کہ انھیں مجبورا یہ فیصلہ کرنا پڑا تھا۔
“میں کب کہہ رہی ہوں کہ تم ابھی چلی جاو۔۔میں نے پولیس کو انفارم کر دیا ہے۔ اگر اب وہ آیا تو پولیس نپٹ لے گی اس سے۔۔لیکن تمھارا بھی یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں۔ ایسے لوگ تو تاک میں رہتے ہیں۔ بس تم اپنا کوئی سکیور بندوبست کرو تاکہ مجھے تمھاری طرف سے بھی سکون ہو۔”
وہ اسے روتا دیکھ کر کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آئیں تھیں اور اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دیا تھا۔
“لیکن میم۔۔۔بات تو وہی ہے کہ میں کہاں جاوں گی۔ میں یہاں کسی کو نہیں جانتی اور گاوں بھی میں گلزم چاچا کے چاچا کے ساتھ ہی جاتی ہوں۔”
وہ ہاتھ میں پکڑے ٹشو میں اپنے بھل بھل بہتے آنسوؤں کو سموتے ہوئے بولی۔
“کیوں وہ جو تمھارا شوہر ہے۔۔ اس نے تمھاری زمہ داری لی ہے تو اب اٹھائے بھی اور حیرانی تو مجھے اس بات کی ہے کہ ایک بار بھی اس نے پلٹ کر تمھاری خیر خبر نہیں لی۔ یہ کس سے بیاہ دیا تمھارے باپ نے تمھیں۔”
وہ اسکے قریب بیٹھتے ہوئے بولیں۔
“مگر۔۔۔وہ کیوں میری ذمہ داری لیں گے۔”
وہ معصومیت سے بولی۔
“ائے بی بی۔۔۔تمھارے بھول پن کو تو میرا سلام ہے۔۔ ارے وہ شوہر ہے تمھارا۔۔اسکا فرض ہے تمھارا خیال رکھنا اور پھر تمھاری زندگی جو اتنے گھمبیر مسئلے کی دھول سے اٹی پڑی ہے تو اسکی زمہ داری تو اور بھی بڑھ جاتی ہے۔۔لگاو اسے فون کہ آ کر تمھیں لے جائے۔”
وہ ٹیلیفون کی طرف اشارہ کر کے واپس اپنی کرسی پہ جا بیٹھیں جبکہ وہ پریشان ہو گئی۔
“اب مجھے گھورنا بند کرو اور اسے فون کرو۔”
وہ اپنا چشمہ پہنتے ہوئے بولیں۔
“مم۔۔مم۔۔میم۔۔میرے پاس ان کا نمبر نہیں ہے۔”
بےچارگی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسووں کی صورت جاری ہوگئی تھی۔ انھوں نے اپنا چشمہ اتار کر ٹیبل پہ رکھا۔ کچھ پل تو وہ اسے یونہی گھورتی رہیں پھر ڈراء میں سے فون ڈائری نکال کر نمبر ڈھونڈنے لگیں۔
“کیا نام ہے تمھارے شوہر کا؟”
چشمہ ایک بار پھر ان کی چھوٹی سے ناک پہ سج گیا۔
“میر۔۔”
وہ دھیرے سے بولی۔۔نجانے کیوں اسے منہ میں مٹھاس گھلتی محسوس ہوئی۔
“میر ضیغم خان۔۔؟؟؟” ان کے پوچھنے پہ اس کے کانوں میں مولوی صاحب کے الفاظ گونجے۔۔”میر ضیغم خان۔۔” اس نے سر ہلایا۔
نام ڈھونڈ کر انھوں نے نمبر ایک پیپر پہ لکھ کر اسکی طرف بڑھایا۔
“لو۔۔۔یہ نمبر مجھے گلزم خان دے گیا تھا۔”
ان کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے اس نے پیپر تھام لیا۔ وہ چاہتی تھی کہ میم طاہرہ خود ان سے بات کر کے ساری سچویشن بتا دیں مگر مزید باتیں سننے کا اس میں یارا نہیں تھا۔ اس لئے پرچی ہاتھ میں لئے فون اسٹینڈ کی طرف آ گئی۔ دل کی دھڑکن اپنے سر تال سے ہٹ گئی تھی۔ ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح تھی۔ ماتھے پہ پسینے کے قطرے چمکنے لگے تھے۔
اس نے ایک نظر پلٹ کر میم طاہرہ کو دیکھا جو اپنے کام میں مگن تھیں۔ اس نے نمبر والا پیپر آنکھوں کے سامنے پکڑا اور پھر اسے اسٹینڈ پہ رکھ دیا۔ ریسور اٹھا کر کان سے لگایا اور نمبر پش کرنے لگی۔ نمبر ملانے کے بعد ایک بار پھر اس نے پلٹ کر وارڈن کو دیکھا۔ ان کا دھیان اسکی طرف نہیں تھا۔ دوسری طرف بیل جا رہی تھی لیکن کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔ ٹون بند ہوئی تو اس نے شکر کیا۔ اس نے ریسور واپس رکھ دیا اور پلٹ کر جانے لگی۔
“کیا ہوا۔۔ نمبر بند جا رہا ہے کیا؟”
اسکا اسطرح بھاگنا ان کی نظروں سے مخفی نہ رہ سکا۔
“وہ کال ریسیو نہیں کر رہے۔”
وہ منمنائی۔
“دوبارہ کرو۔۔” وہ مختصرا کہہ کر رجسٹر پہ جھک گئیں۔ مسکاء واپس فون کے پاس آئی اور دوبارہ نمبر ملایا۔ وہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ وہ کال ریسیو نہ کرے مگر قسمت کے اپنے ہی داؤ ہوتے ہیں۔ تیسری بیل پہ کال ریسیو کر لی گئی۔
“ہیلو۔۔۔۔۔”
بھاری مردانہ آواز سن کر اسکا دل ڈوب کے ابھرا۔ قوت گویائی جیسے کسی نے سلب کر لی تھی۔ ہونٹ خشک ہو گئے۔
“ہیلو۔۔۔۔” آواز دوبارہ گونجی۔
“میں۔۔۔۔۔” اس نے خشک لبوں پہ زبان پھیری۔
“میں کون؟؟” دوسری طرف سے حیرانی سے پوچھا گیا۔ ضیغم نے موبائل کان سے ہٹا کر اسکرین پہ دکھتے نمبر کو دیکھا۔ یہ نمبر اس کے لئے غیر شناسا تھا۔
“مم۔۔میں۔۔۔۔” اسے پھر سے رونا آنے لگا۔
“مسکاء۔۔۔۔۔۔”
نجانے اس کے دل میں کیا آیا کہ اس نے فورا پکارا۔
“جی۔۔۔” آنسو پلکوں کی باڑ پار کر گئے۔
“کیا بات ہے۔۔۔خیریت تو ہے نا؟؟” اس کے لہجے میں پریشانی جھلک رہی تھی۔ مسکاء کو تھوڑا حوصلہ ہوا۔
“وہ یہاں حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں۔ باتور خان یہاں ہاسٹل آیا تھا۔ وارڈن کہہ رہی ہیں کہ آپ آ کر مجھے لے جائیں۔”
مسکاء آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
“کیا۔۔۔۔۔؟؟ کب آیا تھا اور تم مجھے اب بتا رہی ہو۔” وہ غصے سے جیسے پھٹ پڑا۔
“مجھے بھی ابھی وارڈن نے بتایا ہے۔” وہ اس کے غصے سے گھبرا کر بولی۔ ریسور اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا تھا۔
“ٹھیک ہے۔۔اپنی وارڈن سے میری بات کرواو۔” وہ نوٹس سمیٹتے ہوئے بولا۔ مسکاء نے انھیں بلایا۔ ان کے ریسور تھامنے کے بعد وہ وہیں قریبی صوفے پہ بیٹھ گئی۔ طاہرہ میم نے ساری تفصیل بتائی اور پھر ریسور رکھ دیا۔
“تم اپنی تیاری کر لو۔۔۔وہ کل آئے گا تمھیں لینے۔” وہ اپنی سیٹھ کی طرف جاتے ہوئے بولیں جبکہ وہ سر اثبات میں ہلا کر آفس سے باہر آگئ۔ وہ جیسے ہی باہر آئی اریبہ بھاگتے ہوئے اس کے قریب آئی۔ اریبہ اسکی روم میٹ تھی۔
“کیا ہوا۔۔۔کیوں بلایا تھا وارڈن نے؟؟”
اریبہ نے اس کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“کچھ نہیں۔۔۔”
وہ بنا کچھ کہے آگے بڑھ گئی۔۔اسکا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔_________________________________________
وہ اپنے کمرے میں تھے جب انھیں لاؤنج میں بلند ہوتے شور کی آواز آئی۔ وہ اس آواز کو بہت اچھے سے پہچانتے تھے۔ وہ فورا بیڈ سے اتر کر کمرے سے باہر آئے۔ ان کا رخ لاونج کی جانب تھا۔ تیز رفتاری سے چلتے ہوئے وہ لاونج میں آئے تھے۔ وہاں کا منظر دیکھ کر ان کا دل باغ باغ ہو گیا۔ ان کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ شہنیلا صوفے پہ پیر پسارے بیٹھی تھی۔ اسکے ساتھ ہی صوفیہ بیگم بیٹھی تھیں جبکہ شاہ زیب اور عالمزیب دوسرے صوفے پہ براجمان تھے۔
“بابا جان۔۔۔۔”
شہنیلا انھیں آتے دیکھ کر ان کی طرف دوڑی۔
“بابا کی جان۔۔۔۔اتنے دن لگا دئیے۔۔۔ یاد ہے مجھے تم نے کہا تھا کہ محض دو دن بعد تم لوگ یہاں ہو گے۔”
انھوں نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔ شاہ زیب اور عالمزیب نے بھی باپ کو سلام کیا۔ وہ بھی باری باری دونوں سے بغلگیر ہوئے۔ عالمزیب تو بالکل ان پر گیا تھا۔ یہاں تک کہ مزاج بھی باپ کی طرح گرم تھا۔ اسے بھی باپ کی طرح سیاست سے دلچسپی تھی۔ گاوں کے ہر مسئلے کو دیکھنا اور پھر اسے اپنی من مرضی کے مطابق حل کرنا اس نے باپ سے ہی سیکھا تھا۔ اپنے سامنے وہ کسی کو بولنے تک نہ دیتا تھا۔ گاوں میں اسکا بڑا رعب تھا۔ یورنیورسٹی میں ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار ہونے کے بعد اس سے شادی کر لی۔ لیکن وہ لڑکی زیادہ دن اسکے طور طریقے برداشت نہ کر سکی اور شہر واپس چلی گئی۔ بعد عالمزیب نے اسے طلاق بھیج دی۔آئے دن نت نئی لڑکیوں سے افئیر چلانا اس کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔ اس بار میر سربلند خان کا ساتھ والے گاوں کے ملک ساجد خان کی بیٹی سے اسکی شادی کرنے کا ارادہ تھا۔ بالا ہی بالا وہ ان سے بات بھی کر چکے تھے مگر عالمزیب کو ابھی اس بات سے بےخبر رکھا گیا تھا۔ اس کے برعکس شاہ زیب تھوڑا مختلف مزاج کا تھا۔ اپنی ہی دنیا میں مگن رہتا۔ باپ اور بھائی گاوں میں کیا کرتے پھرتے ہیں اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ زیادہ تر وقت وہ ماں اور شہنیلا کے ساتھ شہر میں گزارتا۔ اس کے بعد شہنیلا تھی۔ نہایت ہی چلبلی اور گھومنے پھرنے کی شوقین۔۔۔صوفیہ بیگم کا تعلق بھی شہر سے تھا اس لئے وہ بھی کم ہی گاوں میں رکتی تھیں۔ ہفتے میں ایک آدھ بار ماں بیٹی چکر لگا لیتی تھیں یا پھر پڑھائی کا بہانا بنا کر شہر میں ہی رہتی تھیں۔
“بابا جان۔۔۔مما تو آج بھی یہاں آنے کے لئے رضامند نہیں تھیں۔”
اس نے باپ کے سینے سے لگے لگے ماں کی طرف دیکھا۔ میر سربلند خان نے ان کی جانب دیکھا جبکہ وہ پہلو بدل کر رہ گئیں۔
“ہاں تو اور کیا۔۔ یہاں ہے ہی کیا۔۔ میں تو یہاں نہیں رہ سکتی۔ شہر میں تو بہت کام ہوتے ہیں مجھے۔ یہاں تو بس دیواروں کو گھورتے رہو یا گاوں کی عورتوں کے بےکار سے مسئلے مسائل سنتے رہو۔”
وہ نخوت سے بولیں تو میر سربلند خان ان کے انداز پہ ہنس دئیے۔ یہ انہی کی شہ اور انداز تھا جو صوفیہ بیگم نے اپنا رکھا تھا۔ شہر میں سوشل ورک کرنے والی اور مختلف پارٹیز میں بڑی بڑی تقریروں کا پرچار کرنے والی صوفیہ بیگم گاوں کی غریب ، نادار اور لاچار عورتوں سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتی تھی تو ان کے جملہ مسائل کیا حل کرے گی۔ ان سب مسائل کے لئے میرسربلند خان تھے نا۔۔۔۔جو ہر فیصلہ نہایت ہی بےرحمی سے کرتے تھے۔ جو صرف حیثیت دیکھ کر کیے جاتے تھے اور اس میں گاوں کے حیثیت رکھنے والے ان کا بھرپور ساتھ دیتے۔
“بابا آپ چھوڑیں یہ سب۔۔یہ بتائیں گاوں میں سب ٹھیک چل رہا ہے۔ باتور نظر نہیں آیا باہر ورنہ تو ادھر ادھر آوارہ گردی کرتا دکھائی دیتا ہے۔”
عالمزیب ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا۔ وہ باتور خان سے متعلق ساری بات اسے بتانے لگے۔ باقی تین لوگوں کو گاوں یا گاوں سے ریلیٹڈ باتوں سے کوئی سروکار نہیں تھا اس لئے انھوں نے اپنے اپنے کمروں کا رخ کیا۔ جبکہ وہ دونوں باپ بیٹا سر جوڑے ان حالات کو ڈسکس کرنے لگے۔
“بابا یہ گاوں کے لوگوں کی لگامیں کسنی پڑیں گی۔آپ کی بات نہ ماننا انھوں نے اپنا شیوا بنا لیا ہے۔ کچھ مہینے پہلے وہ گلالئی کا واقعہ اور اب باتور خان۔۔ ان لوگوں کو روکنا ہو گا ورنہ آج رحم دین جرگے کے فیصلے کے خلاف کھڑا ہوا ہے کل کو اس کی دیکھا دیکھی کوئی اور اٹھ کھڑا ہوگا۔ خیر اب میں آ گیا ہوں نا دیکھ لوں گا سب کو۔”
وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔
“خان جی۔۔!!”
میرسربلند خان نے اپنے قریب کھڑے زمان خان کو دیکھا۔ انھوں نے تیوری چڑھائی۔ زمان خان نے عالمزیب خان کو سلام کیا۔
“واعلیکم السلام چاچا۔۔۔کیا حال چال ہیں تمھارے۔”
عالمزیب نے ان سے خیر خیریت دریافت کی۔
“ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔خان جی آپ نے بلایا تھا؟”
زمان نے میر سر بلند خان سے پوچھا۔
“زمان خان۔۔۔۔حجرے کی پچھلی طرف کون گیا تھا؟” انھوں نے زمان خان کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔ ان کا لہجہ تلخ تھا۔
“وہ خان جی۔۔۔۔میں گیا تھا۔”
زمان خان نے سر جھکایا۔
“کس لئے؟؟” انھوں نے مزید پوچھا۔
“وہ جی۔۔۔۔صفائی کی غرض سے گیا تھا۔” انھوں نے بناء سر اٹھائے جواب دیا۔
“اس ویران کھنڈر کو صفائی کی کوئی ضرورت نہیں زمان خان۔۔۔دوبارہ وہاں جانے کی ضرورت نہیں۔ اب جاسکتے ہو۔”
انھوں نے بیٹھتے ہوئے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر کہا۔ چہرے سے سنجیدگی چھلک رہی تھی۔زمان خان سر اثبات میں ہلاتے ہوئے چلے گئے تھے۔ وہ ہر دو دن بعد وہاں دعا کے لئے جایا کرتے تھے لیکن بہت خواہش کے باوجود قبروں کی صفائی نہیں کرتے تھے تاکہ میر سربلند خان کو پتہ نہ چلے کہ کوئی وہاں جاتا ہے۔ لیکن جب وہ میر کو وہاں لے گئے تھے تو اس نے وہاں قبروں کی صفائی کی تھی اور انھوں نے اسے روکا بھی نہیں تھا۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے حویلی کی دہلیز پار کر گئے۔ ان کے جاتے ہی وہ دونوں باپ بیٹا ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔۔______________________________
باتور خان جب سے جرگے سے ہو کر آیا تھا گھر میں بند تھا۔ کرم دین اسے باہر نکلنے نہیں دے رہے تھے۔ یہ حکم میرسربلند خان کا تھا کہ اسے کوئی بھی انتہائی قدم نہ اٹھانے دیا جائے۔ انھوں نے اسے بڑی مشکل سے گھر میں روکے رکھا تھا۔ اس کی دونوں بہنیں بھی آئیں ہوئی تھیں اور بول بول کہ اس کے غصے کو اور بڑھاوا دے رہی تھیں۔
ابھی بھی شہربانو اس کے سر پہ کھڑی اسے لتاڑنے کا کام بھرپور انداز میں کر رہی تھی۔
“تم تو ایسے چارپائی پر لیٹے ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔” وہ ہاتھ نچا نچا کر بول رہی تھی جبکہ باتور خان آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹا تھا۔
“ارے میری بہن چھوڑو اسے۔۔اس نے تو بےغیرتی کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ اب منہ چھپا کر یہاں لیٹا ہے۔”
گل بانو بھی کہاں پیچھے ہٹنے والی تھی۔
“ائے ہائے۔۔۔تم دونوں کیا ہاتھ دھو کر میرے بچے کے پیچھے پڑ گئی ہو۔ شرم تو نہیں آتی تم دونوں کو بھائی کو بےغیرتی کا طعنہ دیتے ہوئے۔ چلو پرے ہٹو یہاں سے۔”
زبیدہ خانم ان دونوں کو پرے ہٹاتی باتور خان کے پاس بیٹھ گئیں۔
“اماں تم نے ہی اسے سر چڑھا رکھا ہے۔ آس پڑوس کی عورتیں ہمیں طنزیہ نظروں سے دیکھتی ہیں۔ ہمارا مذاق اڑاتی ہیں اور تم لوگ گھر میں چھپ کر بیٹھے ہو۔”
شہربانو کو ماں کا انداز پسند نہ آیا اس لئے اپنی توپوں کا رخ ماں کی جانب کر دیا۔
“کیا مصیبت ہے۔۔۔۔تم سب میرے سر پہ کیوں چڑھ رہی ہو۔ بابا اور خان جی نے منع کیا ہے مجھے ورنہ رحم دین چاچا کی کا آج سوئم ہوتا۔ اور اس مسکاء کو تو ایسا سبق سکھاوں گا کہ گاوں کی آئیندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔”
وہ ایک دم چارپائی سے اٹھ بیٹھا۔ وہ دونوں تو اسے غصے میں دیکھ کر گھبرا گئیں۔
“باتور خاناں۔۔۔دفع کرو اس مسکاء کو۔۔میں اپنے بیٹے کے لئے اس سے بھی خائستہ(خوبصورت) لڑکی بیاہ کر لاوں گی۔”
انھوں نے اسے پرسکون کرنا چاہا۔
“مورے(ماں)۔۔۔وہ میری نہ ہوئی تو کسی اور کی بھی نہیں ہونے دوں گا۔ باتور خان کوئی بےغیرت نہیں ہے۔ میں ان سب کا وہ انجام کروں گا کہ تم بھی دیکھو گی۔۔تمھاری بیٹیاں بھی اور یہ سارا گاوں بھی۔”
وہ پیروں میں چپل پہنتا اندر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
“ہونہہ۔۔۔دیکھ لیں گے ہم بھی۔”
مہربانو کی آواز نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔
“تم دونوں خیر سے کیوں آ جاتی ہو۔۔اپنے گھر آرام سے رہو اور ہمیں بھی سکون سے رہنے دو۔”
وہ اس کے جانے کے بعد ان دونوں پر برسیں مگر وہ بھی انہی کی بیٹیاں تھیں۔ ناک پہ مکھی تک بیٹھنے نہیں دیتی تھیں۔
“ہائے اماں۔۔۔۔یہ ہمارا بھی گھر ہے۔ ہم یہاں نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے اور پھر ہم جھوٹ تھوڑی نا کہہ رہی ہیں۔ جا ذرا دیکھو گاوں والے کیسی کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ رحم دین چاچا کو شاباش دے رہے ہیں۔ ان کے اس اقدام سے باقی لوگ بھی انہی کے نقش قدم پر چلنے کا سوچ رہے ہیں۔ آج رحم دین کی آنکھوں میں خوف نہیں کل کو کسی بھی آنکھوں میں نہیں رہے گا۔”
مہربانو ان کے پاس آ بیٹھی۔ وہ خاموشی سے انھیں دیکھ کر رہ گئیں۔
“اور نہیں تو کیا اماں۔۔کل تک جو لوگ بھائی اور بابا کی وجہ سے ہم سے نظریں نیچے کر کے بات کرتے تھے آج آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں۔”
گل بانو بھی ان کے سامنے والی چارپائی پر بیٹھ گئی۔
“جو ہو دیکھا جائے گا۔”
انھوں نے ناک سے مکھی اڑائی۔
“مگر اماں بابا کو کچھ تو کرنا چاہئیے۔ ایسے کیسے ہم آرام سے بیٹھ جائیں۔”
شہربانو کو ان کی لاپروائی اچھی نہ لگی۔
“تمھارے بابا بتا رہے تھے کہ خان جی نے انھیں کہا ہے کہ ابھی باتور خان کو سنبھال لیں اور کوئی انتہائی قدم نہ اٹھانے دیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ پہلے معلومات کروائیں گے کہ آیا واقعی رحم دین نے بیٹی کی شادی کر دی ہے یا پھر اس نے بیٹی کو بچانے کے لئے یہ جھوٹ گڑا ہے۔ اس کے بعد ہی کچھ کریں گے۔ اوپر سے اسے اتنی مشکل سے روک رکھا تھا۔ بڑے خان سے چھپ کر تین بار شہر جا چکا ہے مسکاء کے پیچھے۔۔۔اس بار گیا تھا تو کہہ رہا تھا کہ مسکاء کو ساتھ لے کر آئے گا مگر آ کر بتا رہا تھا کہ کالج والوں نے وہاں پولیس کھڑی کر دی ہے۔ اب تمھارے بابا نے اسے قسم دے کر روکا ہے کہ کہیں شہر میں کوئی مسئلہ نہ کھڑا ہوجائے۔”
انھوں نے رازداری برتتے ہوئے کہا۔
“مگر رحم دین چاچا دروغ گوئی سے کام کیوں لے گا۔”
گل بانو نے آنکھیں گھمائیں۔
“ویسے بات میں دم ہے۔۔اتنی جلدی کیسے اتنا اچھا رشتہ مل گیا۔ضرور چاچا جھوٹ بول رہا ہے اور زمان خان کو بھی ساتھ ملا رکھا ہے۔”
مہربانو نے ماں کے سر سے سر جوڑا۔
“نام مت لو اسکا۔۔۔ساری شہ ہی اسکی دی ہوئی ہے۔اسی نے بھڑکایا ہے رحم دین کو ورنہ وہ تو ایسا نہیں تھا۔تیرے بابا بتا رہے تھے کہ جرگے میں رحم دین تو لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہی رحم دین ہے جو ہمیشہ نظریں جھکا کر بات کرتا تھا۔”
وہ چارپائی سے اٹھتے ہوئے بولیں۔ وہ دونوں بھی حیرانی سے ماں کو دیکھ رہی تھیں۔ زبیدہ خانم کچن کی طرف بڑھ گئیں۔ اتنے میں کرم دین گھر میں داخل ہوئے۔ ان دونوں نے انھیں سلام کیا اور ان کے ہاتھ سے سبزی کا تھیلا لے لیا۔
“باتور خان کہاں ہے۔۔باہر تو نہیں چلا گیا کہیں؟”
انھوں نے مہربانو سے پوچھا۔
“نہیں بابا۔۔۔وہ اپنے کمرے میں ہے۔” مہربانو نے بتایا۔
“اچھا ٹھیک ہے میں بھی وہیں جا رہا ہوں تم ایک گلاس پانی لے آو۔”
وہ آگے بڑھتے ہوئے بولے جبکہ مہربانو ان کے لئے پانی لینے کچن میں آ گئی۔ شہربانو بھی اسکے پیچھے ہی تھی۔____________________________
چوکیدار ابھی اسے آفس چھوڑ کر گیا تھا۔ دس منٹ اسے یہاں بیٹھے ہوئے ہو گئے تھے۔آفس چھوٹا اور سادہ سا تھا۔ ضرورت کے مطابق تزئین و آرائش کی گئی تھی۔ سامنے رکھی ٹیبل کے پیچھے رکھی کرسی خالی تھی۔
اس نے انتظار سے اکتا کر ٹیبل پہ رکھا نیوز پیپر اٹھا لیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اس نے نیوز پیپر واپس ٹیبل پہ رکھا اور منتظر نگاہوں سے دروازے کو دیکھنے لگا۔ وہ جیسے ہی آفس میں داخل ہوئیں ضیغم کھڑا ہوا۔
“السلام و علیکم!”
“واعلیکم السلام! ” انھوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی وہیں صوفے پہ بیٹھ گئیں۔
“میں یہاں مسکاء کو لینے آیا ہوں۔آپ پلیز اسے بلوا دیجیئے۔”
وہ سیدھے مدعے پہ آیا۔
“ہیم۔۔۔کیا میں آپ کا آئی ڈی کارڈ دیکھ سکتی ہوں؟”انھوں نے ہاتھ بڑھایا۔
“جی ضرور۔”
اس نے والٹ سے آئی۔ڈی۔کارڈ نکال کر ان کے ہاتھ میں دیا اور نکاح نامہ بھی ان کے سامنے ٹیبل پہ رکھ دیا۔ دونوں چیزیں دیکھنے کے بعد انھوں نے گل باجی کو مسکاء کو بلانے کا کہا۔ اس دوران وہ اس سے باقی کی تفصیل لینے لگیں۔ کچھ دیر بعد مسکاء اندر داخل ہوئی۔ اسکے آتے ہی وہ ٹیبل سے نکاح نامہ اور کارڈ اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈالی۔
اس نے خود کو کالی چادر میں اچھی طرح ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ ان سے اجازت طلب کرتا آگے بڑھ گیا۔ وہ بھی طاہرہ میم سے مل کر اس کے پیچھے آئی تھی۔ وہ اس کا سامان اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتا گیٹ کی جانب بڑھ رہا تھا جبکہ اسے اس تک پہنچنے کے لئے تقریبا بھاگنا پڑ رہا تھا۔ وہ گیٹ کے قریب کھڑی گاڑی کے قریب پہنچا تو پیچھے مڑ کر کوفت سے اسے دیکھا۔ اس کے قریب پہنچنے پر اس نے بیگ پچھلی سیٹ پہ رکھا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتا گاڑی میں بیٹھ کر اس کے لئے فرنٹ ڈور کھول دیا۔
وہ کچھ ہچکچاتے ہوئے بیٹھ گئی۔ اس کے بیٹھتے ہی میر نے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
“اکڑو خان۔۔” اس نے اس کی اٹھی ہوئی گردن کو دیکھ کر سوچا۔ گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ تقریبا تیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد گاڑی ایک پانچ منزلہ عمارت کے قریب رکی۔ مسکاء نے سر اٹھا کر اس کافی پرانی بلڈنگ کی جانب دیکھا۔ جسکا پینٹ جگہ جگہ سے اکھڑ گیا تھا۔ وہ اسے اترنے کا کہتا پچھلی سیٹ سے سامان اٹھانے لگا۔ عمارت کے بلکل سامنے ایک چھوٹا سا گارڈن تھا جس میں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ ان کی اچھل کود سے یہاں موجود زندگی کا احساس ہو رہا تھا۔ قریب کی مسجد سے عصر کی اذان بلند ہو رہی تھی۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے میں اس قدر مگن تھی کہ اسے احساس تک نہ ہوا کہ اس کا بیگ تھامے آگے بڑھ گیا ہے۔ جب احساس ہوا تو فورا آگے بڑھی۔
تیسری منزل پہ پہنچ کر وہ ایک براون دروازے کے سامنے کھڑا ہوا۔ پینٹ کی جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھولا اور اسکا بیگ اندر رکھا۔
“آپ اندر چلیں میں ذرا گاڑی واپس کر کے آتا ہوں۔”
وہ اسکی طرف پلٹا جو کچھ فاصلے پہ کھڑی اس کی جانب ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کچھ سنا ہی نا ہو۔
“مسکاء۔۔! میں آپ سے کہہ رہا ہوں۔”
اس نے لہجے کو سخت ہونے سے روکا۔
“جی۔۔۔۔” وہ دھیرے سے کہتی اندر داخل ہوئی جبکہ وہ باہر ہی کھڑا تھا۔
“میں آتا ہوں۔۔ کچھ چاہئیے تو نہیں؟”
وہ جاتے جاتے پلٹا۔ پھر اس کے نفی میں سر ہلانے پہ اس کے پیچھے دروازہ بند کرتا سیڑھیاں اتر گیا۔
اس نے اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز سنی تو گہری سانس خارج کی اور اپنا بیگ اٹھا کر لاونج میں پڑی ٹیبل کے قریب رکھ دیا۔
اب اس کی نظریں فلیٹ کا جائزہ لینے لگی۔ وہاں موجود ہر چیز سے سادگی ٹپک رہی تھی۔ اس کے قدم ایک کھلے دروازے کی جانب بڑھے۔ یہ کچن تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ اس نے ڈائننگ ٹیبل پہ پڑا گلاس اٹھا کر پانی پیا اور بوتل واپس فریج میں رکھ دی۔
اردگرد کا جائزہ لیتی وہ کچن سے باہر آ گئی۔ باقی دو دروازے ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پہ تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک دروازہ کھول دیا۔ کمرے میں پڑی چیزوں سے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہاں کون رہتا ہو گا۔ اس نے ایک نظر لاونج سے دکھائی دیتے بیرونی دروازے پہ ڈالی اور پھر اندر داخل ہوئی۔ اندر داخل ہونے کی وجہ وہ تصویر تھی جو سامنے دیوار پہ لگی تھی۔ تصویر کو دیکھ کر اسے اندازہ لگانا آسان تھا یہ کون تھے۔ وہ دونوں بےحد خوبصورت تھے۔ اسے لڑکی کی تصویر میں اپنی ماں کی جھلک دکھی۔
وہ آنسو صاف کرتی روم سے باہر آ گئی۔ دوسرے کمرا شاید اس کے لئے سیٹ کیا گیا تھا۔ وہ باہر سے اپنا سفری بیگ اٹھا لائی۔ اس میں سے ایک لباس منتخب کیا اور وضو بنانے چل دی۔
عصر پڑھ کر اسے چائے کی طلب ہوئی۔ کچن میں آ کر اپنے لئے ایک کپ چائے بنائی اور وہیں لاونج میں بیٹھ کر پینے لگی۔ ابھی چائے ختم ہوئی ہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میر ہاتھ میں شاپرز پکڑے اندر داخل ہوا۔ اس نے سیدھے کچن کا رخ کیا۔ شاپرز ٹیبل پہ رکھے اور باہر آیا۔ وہ صوفے پہ ایسے ٹکی تھی جیسے ابھی دوڑ پڑے گی۔
“ایک کپ چائے ملے گی؟” وہ اس سے مخاطب ہوا۔ وہ سر ہلا کچن میں آ گئی۔
“یار کل تم فری ہو جاو تو ساتھ چلیں گے۔ سر دو بار مجھے کال کرچکے ہیں۔ کل دس بجے تک تم یہاں ہو ورنہ مجھے جانتے ہو نا۔”
وہ چائے کا کپ لئے لاونج میں آئی تو وہ کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا۔ اس نے کپ ٹیبل پہ اسکے سامنے رکھا اور واپس پلٹ کر کمرے میں آگئی۔ کتنی دیر سے اسکی خواہش تھی سونے کی لیکن یہ سوچ کر کہ وہ کیا سوچے گا سو نہ سکی۔ اب نیند پھر سے تنگ کرنے لگی تھی۔ اب وہ آ گیا تھا تو وہ سکون سے سو سکتی تھی لہذا بیڈ پہ لیٹ کر آنکھیں موند گئی۔کچھ ہی پل میں وہ اردگرد سے غافل ہوگئی۔
رات کے آٹھ بجے اسے بھوک کا احساس ہوا تو بکس سائیڈ پہ کر کے اٹھ گیا۔ فریج کھول کر دیکھا تو کل کی پڑی آلو کی سبزی دیکھ کر اسکا موڈ خراب ہوا۔ اتنے دنوں سے آلو ہی کھا رہا تھا کہ اسے یہی ایک سبزی بنانے آتی تھی۔ اسے مسکاء کا خیال آیا۔ کام میں اسقدر مگن تھا کہ وہ اسے بھول ہی گیا تھا۔ اب یاد آنے پر وہ فریج بند کر کے اس کے روم کی جانب آیا۔دروازے پہ دستک دی۔ کوئی جواب نہ پا کر وہ دروازہ کھول کر کمرے میں آ گیا۔ سامنے بیڈ پہ نظر گئی تو بناء آہٹ قریب آیا تھا۔ وہ گہری نیند میں تھی۔ سادہ سے گلابی لباس میں وہ اسکی دھڑکن بڑھا رہ تھی۔۔ چہرے پہ بلا کی معصومیت تھی۔ اسکا جی چاہا کہ وہ اس کے اجلے روپ کو اپنی پوروں میں سمو لے مگر۔۔۔۔۔۔۔
کچھ پل وہاں رک کر وہ روم سے باہر آ گیا۔ اسکے قدم کچن کی جانب تھے۔۔ _____________________________________________
نیم تاریک کمرے میں موبائل بجنے کی آواز نے اسے بیدار کیا۔ بند آنکھوں سے اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا۔ نیم وا آنکھوں سے موبائل اسکرین کو دیکھا اور پھر کال ریسیو کی۔
“ہیلو۔۔” بھاری لہجہ نیند کی وجہ اور بھی بھاری ہو گیا تھا۔
“تو اب تک سو رہا ہے؟؟ ابھی کل ہی تو بھابی نے گھر میں قدم رنجا فرمائے ہیں اور پھر تیرے حالات و واقعات بدل بھی گئے۔ کیا بات ہے۔ کل تک تو تو انھیں یہاں لانے کو تیار ہی نہیں تھا اور آج جناب کی نیند ہی پوری نہیں ہو رہی۔ واہ واہ کیا کہنے۔۔۔”
ارحم کی تیز آواز اسکے کان کے پردے پھاڑ رہی تھی۔
“ہو گیا تیرا؟؟؟”
وہ اس کے خاموش ہونے پر بولا۔
“ایک تو لیٹ ہو گیا ہے تو۔۔ اوپر سے نخرے بھی مجھے ہی دکھا رہا ہے۔ بیٹا جی دس بج چکے ہیں بستر سے نیچے قدم مبارک اتارئیے۔ میں بیس منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔بس اتنا ہی ٹائم ہے تیرے پاس۔”
اس کے کہنے پہ اس نے وال کلاک پہ نظر ڈالی جہاں واقعی دس بج رہے تھے۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھا۔پتہ نہیں کیسے آج اسے اتنی گہری نیند آئی تھی۔فجر بھی رہ گئی تھی اس سے۔۔وہ افسوس سے سر ہلاتا بیڈ سے نیچے اترا۔ الماری سے کپڑے لیتا وہ واش روم میں گھس گیا جبکہ دوسری طرف ارحم نے چیخ چیخ کر خود ہی فون بند کر دیا۔
دس منٹ بعد وہ تولیے سے بال خشک کرتا واش روم سے نکلا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے بال برش کیے۔ سائیڈ ٹیبل سے والٹ اور موبائل اٹھایا۔۔پھر الماری سے فائل نکالی اور روم سے باہر آ گیا۔ فریش ہونے کے بعد اسے ناشتے کی طلب ہوئی لیکن اس وقت ناشتہ بنانے کا سوچ کر اسے کوفت ہونے لگی۔ بیس منٹ ختم ہونے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ وہ کچن میں آیا تو ٹیبل پہ نظر پڑی۔ ٹیبل پہ آملیٹ اور پراٹھے کو دیکھ کر اسکی بھوک چمک اٹھی۔ یقینا اس کے کمرے سے آتی کھٹ پٹ کی آواز سن کر اس نے ناشتہ تیار کر دیا ہوگا۔ پانی پینے کے لئے اس نے فریج کھولا تو ملک شیک کا جگ نکال لیا۔ اس نے جگ ناشتے کی ٹیبل پہ رکھا اور ناشتہ کرنے لگا۔ ملک شیک کے دو گلاس چڑھا کر وہ کچن سے باہر آ گیا۔ اتنے میں موبائل کی رنگ ٹون بجی۔ اس نے کمرے کی طرف بڑھتے بڑھتے کال ریسیو کی۔
“آ رہا ہوں یار۔۔۔”
وہ مسکاء کے روم کے دروازے پہ دستک دیتا بولا۔
“جلدی میں نیچے ویٹ کر رہا ہوں۔”
ارحم کی بات سن کر اس نے کال کاٹ دی۔ اتنے میں دروازہ بھی کھل چکا تھا۔ دروازے میں اسے ایستادہ دیکھ کر مسکاء کی سٹی گم ہو گئی۔
“تم نے ناشتہ کر لیا؟؟” اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو یہی پوچھ لیا۔
“جی۔۔۔آپکو کچھ چاہئیے تھا؟” مسکاء نے اس سے پوچھا۔
“آ۔۔۔نہیں۔۔میں چلتا ہوں۔ آپ دروازہ بند کر لیجیئے اور مجھے تھوڑی دیر ہو جائے گی۔”
وہ کہہ کر پلٹ گیا۔ مسکاء اس کے پیچھے ہی آئی تھی۔
“دروازے اچھے سے لاک کر لیں اور کسی کو دروازہ نہیں کھولنا۔”
وہ اسے ہدایت دیتا دروازے کے قریب کھڑا ہوا۔ مسکاء نے صرف سر ہلانے پہ ہی اکتفا کیا۔
“بائے دا وے۔۔۔۔ناشتے کا بہت شکریہ۔”
وہ جاتے جاتے ایک دم سے پلٹا تھا۔ وہ جو اپنی ہی جون میں آ رہی تھی اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ وہ اسے باذوں سے تھام گیا تھا۔ وہ رات والے لباس میں ہی تھی۔ ضیغم کو اسکی آنکھوں میں اپنا عکس نظر آیا۔ مسکاء کی گہری سیاہ آنکھیں اسے اپنے دل پہ محسوس ہوئی اور وہ پلکیں اٹھاتی گراتی اپنے بازوں پہ اسکے مضبوط ہاتھوں کی تپش محسوس کر رہی تھی۔ ضیغم کی نظر آنکھوں سے ہوتی ہوئی یاقوتی لبوں پہ ٹھہر گئیں۔ اس نے اسے قریب کیا اور اس سے پہلے کہ وہ سب کچھ بھول جاتا موبائل کی بجتی رنگ ٹون اسے حواسوں میں لے آئی۔
وہ پلٹ کر باہر نکل گیا۔۔۔
اس کے باہر نکلتے ہی مسکاء نے دروازہ بند کیا اور دھڑکتے دل اور کانپتی ٹانگوں سے کچن میں آئی۔ فریج سے بوتل نکال کر منہ کو لگائی۔ اس کے رخسار دھہک رہے تھے۔ کرسی کھینچ کر وہ وہیں بیٹھ گئی۔ دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کیا دھوکنی کی طرح چلتی سانسوں کو اعتدال پہ لانے لگی۔۔_____________________________
وہ دونوں اس وقت پروفیسر محمد عقیل کے آفس میں بیٹھے تھے۔ وہ شاید اپنی کلاس میں بزی تھے اس لئے ابھی تک ان سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی۔ انھیں یہاں آئے پندرہ منٹ سے زیادہ ہو گئے تھے۔ ضیغم ان سے پہلی ملاقات کے بعد آج مل رہا تھا۔ حالانکہ اس کا بہت جی چاہ رہا تھا کہ وہ ان سے ملے مگر حالات اس نہج پہ تھے کہ وہ چاہنے کے باوجود ان سے مل نہیں پایا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میں اندر داخل ہوئے تو دونوں اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے ان سے بیٹھنے کو کہا اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔
“کیا لیں گے برخوردار۔۔!”
انھوں نے مسکراتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھا۔
“کچھ نہیں سر۔۔۔ہم تو آپ سے میر دراب خان کے بارے میں کچھ بات کرنے آئے ہیں۔”
ارحم کے بولنے پر ضیغم سر جھکا گیا۔ وہ یہاں آ تو گیا تھا مگر اب اپنے زخم کریدنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔ اس لئے ارحم نے بات شروع کی۔
“دراب میرا جگری دوست تھا۔ ہم دونوں اسکول کے وقت سے ساتھ تھے۔ وہ بہت خاموش طبع تھا۔ ہر کسی کی مدد کے لئے ہر وقت تیار رہتا تھا۔”
وہ کہیں خلاوں میں گھورنے لگے۔ آنکھوں میں نمی چمکنے لگی تھی۔
“وہ ایسا نہیں تھا کہ مجھ سے بالکل ہی قطع تعلق کر لیتا۔ پتہ نہیں وہ کیوں مجھ سے اتنا دور ہو گیا تھا۔ خزیمن بھابھی کی وجہ سے وہ گاوں بھی نہیں جاتا تھا ورنہ اسے اپنے گاوں ، اپنی مٹی سے عشق تھا۔ گاوں جانے سے پہلے مجھ سے ملنے آیا تھا اور کہا تھا کہ بس چند روز کے لئے جا رہا ہوں پھر لوٹ کر اپنا بزنس اسٹارٹ کروں گا۔ مگر اس کے گاوں جانے کے بعد اسکا کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ کچھ دن تو میں سمجھتا رہا کہ ادھر ادھر کے بکھیڑوں میں پڑ گیا ہو گا مگر پھر یہ احساس بہت جلد ہو گیا کہ ایک بار بھی اس نے مجھ سے بات نہیں کی۔ یہ میرے لئے بہت حیرانی کی بات تھی کہ مجھ سے ہر بات ڈسکس کرنے والا ۔۔اب مجھے فون تک نہیں کر رہا۔ ان کی شادی کو لے کر گاوں میں حالات شاید ٹھیک نہ ہوں یہ سوچ کر میں نے اسے کال کی مگر اسکا فون مسلسل بند ملتا۔ پھر میں نے حویلی کے نمبر پہ ٹرائی کیا۔ کچھ دن تو بات نہ ہو سکی۔ پھر ایک دن میر سربلند خان جو کہ اسکے بڑے بھائی تھے بات ہوئی۔”
وہ دونوں خاموشی سے انھیں سن رہے تھے۔
“ان کے بتانے پہ کہ وہ خزیمن بھابھی اور ضیغم کے ساتھ ابراڈ شفٹ ہو گیا ہے۔ میں بہت حیران ہوا کیونکہ اس نے کبھی بھی مجھ پہ اپنا ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا۔ میں نے ان سے کانٹیکٹ اور اڈریس مانگا تو انھوں نے کہا وہ بھیجے گا تو بتا دیں گے۔تب سے لے کر آج کا دن ہے میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔۔کیسا ہے۔۔کس حال میں ہے۔”
ضیغم نے میرسربلند خان کے ذکر پہ مٹھیاں بھینچ لیں تھیں۔ چہرے پہ سرخی کے تاثرات نمایاں ہو گئے۔
“اماں اسے ، خزیمن اور ضیغم کو بہت یاد کرتی تھیں۔”
ان کی آواز میں نمی گھل گئی تھی ماں کے ذکر پہ۔
“کیا آپ اس دراب خان کی بات کر رہے ہیں؟”
ضیغم نے ہاتھ میں پکڑی نیلی فائل میں ایک سے تصویر نکال کر ان کی طرف بڑھائی۔ یہ وہی شادی کے دن کی تصویر تھی۔ جس میں وہ سبھی موجود تھے۔ وہ خود بھی دراب کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں پہ لرزش طاری تھی۔ دل جیسے کسی نے مٹھی میں قید کر لیا تھا۔
“ہاں۔۔۔۔”
انھوں نے تصویر میں دکھتے میر دراب خان کے چہرے پہ ہاتھ پھیرا۔
“دراب۔۔۔۔۔۔” ان کے لبوں نے حرکت کی تھی۔ ایک خاموش آنسو ان کی آنکھ سے نکل کر تصویر پہ گرا تھا۔
ضیغم کا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اپنے ماں باپ سے پہلی ملاقات کا منظر گھوم رہا تھا۔ وہ کتبے ان قبروں کی طرح اس کے دل میں بھی گڑ گئے تھے۔
“کہاں ہے وہ؟؟ تم ملے ہو اس سے ضیغم۔۔مجھے بھی وہاں لے چلو۔۔میں خود اس سے پوچھ لوں گا کہ آخر وہ ایسا کیوں ہو گیا۔۔مجھے انتظار کی سولی پہ لٹکا کر خود کہاں کھو گیا۔”
ان کی آنکھوں میں اپنے دوست سے ملنے کی تڑپ تھی۔ وہی تڑپ جو اسے اپنی آنکھوں میں دکھتی تھی۔
“وہ وہاں ہیں سر۔۔۔۔جہاں سے کوئی بھی واپس نہیں آتا۔ وہ ایسے سناٹوں میں رہ رہے ہیں جن کی موت کی سی خاموشی اب میرے دل میں گونجنے لگی ہے۔ وہ بہت دور کب کے ابدی نیند سو چکے ہیں۔ وہ دونوں مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ظالم موت انھیں اپنی آغوش میں لے چکی ہے۔”
دکھ اس کی آواز میں سنائی دے رہا تھا۔
“کیا۔۔۔۔۔۔؟؟ یہ تم۔۔۔یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ دراب۔۔۔۔۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ تصویر ان کے ہاتھ سے ٹیبل پہ جا گری تھی۔
“وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔”
اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔ اس کرب کو وہ باہر نہیں نکالنا چاہتا تھا۔ وہ اسے اپنے اندر رکھ کر ظالم کو بھی موت کا نظارہ کروانا چاہتا تھا جو اس نے اسکے جان سے پیارے ماں باپ کو دی تھی۔ وہی بےبسی کی تکلیف دینا چاہتا تھا۔ جس سے اس کے ماں باپ گزرے۔۔جس سے زمان خان گزرے اور جس سے وہ گزر رہا ہے۔
اس کی بات سن کر عقیل احمد کھڑے کے کھڑے رہ گئے تھے۔ انھیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ دراب انھیں یوں تنہا کر کے جا چکا ہے۔
“کب ؟؟” ان کی آواز بھیگ گئی تھی۔
“جس دن وہ گاوں گئے تھے اسی رات۔” وہ مضبوط لہجے میں بولا۔
“سر۔۔۔۔میں نے آپ سے اس فائل کا ذکر کیا تھا۔” ارحم نے ان دونوں کو اس تکلیف سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے وہ فائل ارحم کے ہاتھ سے لے لی۔ اب وہ اسے کھول کر دیکھ رہے تھے۔
“اس بارے میں تو کسی اچھے وکیل سے مشورہ کرنا ہوگا۔ لیکن میرے پاس تمھاری ایک امانت ہے جو میں تمھارے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تم میرے ساتھ میرے گھر چلو گے؟”
انھوں نے فائل ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“جی ضرور۔۔۔۔”
وہ فائل اٹھاتے ہوئے بولا۔
“ٹھیک ہے تو پھر چلو۔۔۔” وہ اٹھے۔ وہ بھی فائل اٹھا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ تینوں پارکنگ کی طرف آئے جہاں عقیل احمد اور ارحم کی گاڑی کھڑی تھی۔
“تم دونوں میرے ساتھ چلو۔” انھوں نے انھیں دوسری گاڑی کی طرف بڑھتے دیکھ کر کہا۔ ان کے اسرار پہ ارحم نے ڈرائیور کو فون کر کے گاڑی لے جانے کو کہا اور خود وہ دونوں ان کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ راستے بھر وہ ضیغم سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ اس کے بتانے پہ کہ وہ بابا کے فلیٹ میں رہ رہا ہے وہ بہت خوش ہوئے اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ ضرور اس سے ملنے وہاں آئیں گے۔
باتوں کے دوران راستہ کٹ گیا۔ عقیل احمد نے جب اسکا تعارف اپنی فیملی سے کروایا تو وہ سب بہت حیران اور خوش ہوئے۔ سبھی اس سے بہت محبت سے ملے خاص طور پر عقیل احمد کی بیوی رحمہ آنٹی۔ وہ رحمہ کو چائے کا کہہ کر انھیں لئے اپنی اسٹڈی میں آ گئے۔ وہاں انھوں نے ایک اور فائل ضیغم کے حوالے کی۔
“تمھارے بابا نے گاوں جانے سے کچھ دن پہلے تمھارے اور تمھاری ماں کے نام پہ ایک اکاونٹ کھولا تھا۔ اس فائل میں اسی کی ڈیٹیلز ہیں۔”
چائے کے دوران انھوں نے اسے بتایا۔
“آج کے دور کے حساب سے یہ کوئی اتنی بڑی رقم نہیں مگر دور حاضر میں تمھارے کام آ سکتی ہے۔”
انھوں نے بہت محبت سے اسکی طرف دیکھا۔
“تمھیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے دراب میرے سامنے بیٹھا ہے۔”
ان کی آواز ایک بار پھر بھیگی گئی تھی۔ پھر انھوں نے اسکے کیرئیر کے متعلق پوچھا۔ اس کے بتانے پر کہ اس نے ابھی سی ایس ایس کے ایگزامز دئیے ہیں اور یہ جان کر وہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جانے کا سوچ رہا یے تو وہ بہت خوش ہوئے۔
“ہمارے ملک کو تم جیسے نوجوانوں کی بہت ضرورت ہے۔ اللہ تمھیں کامیاب کرے۔”
انھوں نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“برخوردار تم کیوں اتنے خاموش ہو۔ خیر تو ہے نا۔۔” وہ کب سے خاموش بیٹھے ارحم کی طرف متوجہ ہوئے۔
“آپ دونوں نے مجھے دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکال دیا ہے تو میں کیا بولوں۔”
اس نے بیچاری صورت بنا کر انھیں دیکھا جس پہ وہ ضیغم ہنس دئیے۔ کچھ دیر بعد انھوں نے ان سے اجازت چاہی تو وہ ان کے ساتھ آئے۔ وہ انھیں لئے گیراج میں کھڑی گاڑی کی جانب آئے تھے۔ یہ اولڈ فیشن کی ایک بلیک سوزوکی مہران تھی۔ انھوں نے جیب سے چابی نکال کر ضیغم کو دی۔
“یہ تمھارے بابا کی گاڑی ہے۔ انھوں نے صرف ایک مہینہ ہی استعمال کی تھی۔ یہ تمھاری امانت ہے۔ وقفے وقفے سے میں اسکی سروس کرواتا رہا ہوں۔ اب یہ تمھاری ہے۔”
انھوں نے چابیاں اس کے ہاتھ پہ رکھی۔ وہ گاڑی کی طرف بڑھا۔ کچھ لمحے اسے دیکھنے کے بعد وہ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گیا۔ ایک ٹھنڈی سانس خارج کرنے کے بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ گاڑی ریورس کر کے وہ گیراج سے باہر لے آیا۔ وہ گاڑی سے نکل کر ان کے پاس آیا۔
“ٹھیک ہے سر اب ہم چلتے ہیں۔ آپ کی محبت کا بہت شکریہ۔” ان کے سر ہلانے پہ وہ ارحم کو اشارہ کرتا گاڑی میں بیٹھنے لگا۔
“ضیغم۔۔۔۔۔۔۔” ان کی پکار پہ وہ مڑا۔ وہ اس کے لئے بازو وا کیے کھڑے تھے۔ چہرے پہ پھیلی چمکیلی مسکان دیکھ کر وہ ان کے قریب آیا اور پھر ان سے بغلگیر ہوا۔ وہ اسے کافی دیر اسے سینے سے لگائے کھڑے رہے۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ رو رہے ہیں۔ وہ ان سے الگ ہوا تو انھوں اپنی بھیگی آنکھیں صاف کیں۔ وہ اسکا چہرہ تھام کر مسکرا دئیے۔
“میں بہت خوش ہوں تمھیں دیکھ کر۔۔۔لیکن میں اپنے یار سے ملنے کے لئے بھی بہت بےچین ہوں ۔ انتظار کروں گا کہ کب تم مجھے لینے آتے ہو۔”
انھوں نے ایک بار پھر اسے سینے سے لگایا۔
“میں بہت جلد آپکو لینے آوں گا۔۔۔انشاءاللہ۔۔!
وہ ان سے الگ ہوتے ہوئے بولا۔
“انشاءاللہ۔۔!
ان کے سر ہلانے پہ وہ گاڑی میں آ بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کی۔ وہ ارحم کو گھر چھوڑنے جا رہا تھا۔ راستے میں بہت سے لوگوں نے اس پرانے ماڈل کو سڑک پہ دوڑتے ہوئے بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا۔______________________________
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *