Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode04

Ghag By Mahwish Urooj Episode04

وہ نماز ادا کر کے کھڑکی کے قریب چلی آئی۔ موسم صبح ہی سے ابر آلود تھا۔ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ وقفے وقفے سے بارش اپنی جھلک دکھا رہی تھی۔ گرمیوں میں بھی ایسے موسم میں اسکے ہاتھ ٹھنڈے رہتے تھے۔ ابھی بھی اس نے یخ ہاتھوں کو گرمائش دینے کے لئے چادر میں چھپا رکھا تھا۔ ہاسٹل میں گہری خاموشی تھی۔ سبھی لڑکیاں اپنے گھروں کو لوٹ گئی تھیں۔ چند ایک ہی ہاسٹل میں موجود تھیں۔ اس کی روم میٹ بھی گھر گئی ہوئی تھی۔ امتحانات قریب تھے لیکن پڑھنے میں دھیان نہیں لگ رہا تھا۔ کتاب اٹھاتی تو دھیان نہیں لگا پاتی۔ جب سے واپس ہاسٹل آئی تھی سارا دھیان اماں بابا کی طرف تھا۔ وہ ان کے لئے پریشان تھی۔ یہی سوچتی رہتی تھی کہ کاش وہ گاوں نہ گئی ہوتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ وہ صرف باتور خان کے نام سے ہی واقف تھی۔ جب وہ پانچویں کلاس میں تھی تب ایک شادی میں وہ اپنے تایا کرم دین کی فیملی سے ملی تھی۔ اس سے پہلے نہ وہ کبھی اماں بابا کے ساتھ ان کے گھر گئی اور نہ کبھی وہ لوگ آئے۔ تایا کے تین بچے تھے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔۔۔باتور خان۔۔۔ رحم دین اور کرم دین کے والد نور دین نے زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا چھوڑا تھا جو انھوں نے مرنے سے پہلے دونوں بھائیوں میں برابر تقسیم کر دیا تھا۔ اپنا حصہ لینے کے بعد بھی کرم دین کی نظر چھوٹے بھائی کے حصے پر بھی تھی۔ اس لئے جب گھر کی تعمیر کے لئے انھوں نے پیسے مانگنے چاہے تو کرم دین نے انھیں ان کا حصہ فروخت کر دینے کو کہا۔ رحم دین نے سوچا کہ کچھ پیسے وہ مسکاء کے لئے بھی بچا لے گا اس لئے انھوں نے بڑے بھائی کی بات مان لی اور کرم دین نے چالاکی سے معمولی داموں زمین کا دوسرا حصہ بھی خرید لیا۔ زمین کے ساتھ روزگار بھی گیا۔ کرم دین نے بھائی پہ احسان کرتے ہوئے انھیں اسی زمین پہ کام کرنے کو کہا۔ رحم دین صبح سے لے کر شام تک کام کرتے اور اجرت نہ ہونے کے برابر ملتی۔ لیکن وہ صبر و شکر سے اپنی زندگی گزار رہے تھے۔ دونوں بھائیوں میں مالک اور ملازم کا تعلق رہ گیا تھا۔ رحم دین بھی بڑے بھائی کی بے نیازی دیکھ کر ایک طرف ہوگیا اور کرم دین نے بھی بھائی سے ملنا جلنا تقریبا ترک کر دیا۔ پھر جب باتور خان میر سربلند خان کی سرپرستی میں آیا تو کرم دین نے مزید آنکھیں ماتھے پہ رکھ لیں۔
رحم دین نے اس کے لئے نہ دن دیکھا نہ رات اور اسے ہر سرد و گرم سے بچائے رکھا۔ لوگوں کی مخالفت کے باوجود اسے دسویں تک پڑھایا۔ آگے پڑھنے کے لئے دل پہ پتھر رکھ کر اسے خود سے دور شہر بھیجا۔ باپ کی محنت اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں تھی اس لئے وہ بھی کامیابی کی منزلیں طے کرتی گئی۔
لیکن اب جو باتور خان نامی طوفان اس کی زندگی میں آیا تھا۔ وہ سنبھل نہیں پا رہی تھی۔ ہر صبح وہ خود کو مضبوط کرتی کہ اسے اس کٹھن موڑ پہ اپنے بابا کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ خود کو درپیش ان حالات کا سامنا کرنا ہے مگر ہر شام حالات کی سنگینی اسے کمزور کرنے لگتی۔
ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا اسکے وجود سے ٹکرایا تو ایک جھرجھری لے کر اس نے کھڑکی بند کر دی۔
“لالئی۔۔۔۔۔”
اسکی بچپن کی سکھی۔۔۔۔
وہ آتی بہاروں۔۔۔۔گلابی پھولوں جیسی لڑکی۔۔کیسے سرخ رنگ میں نہلا دی گئی تھی۔
مسکراتا زندگی سے بھرپور چہرہ کیسے منوں مٹی تلے پہنچا دیا گیا تھا۔
کوئی پرسان حال نہیں تھا۔۔
کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔۔۔
دونوں نے اکٹھے میٹرک کیا تھا۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے گلالئی آگے نہ پڑھ سکی۔ گلالئی نے شہر آتے وقت اس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ اس کی جگہ کسی کو نہیں دے گی اور آج بھی وہ اپنے وعدے پہ قائم تھی۔۔
وہ دھیرے قدم اٹھاتی ٹیبل کی جانب آئی تھی۔ نیلی جلد والی ڈائری اسکی نگاہوں کا مرکز تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ڈائری اٹھا کر کھولی۔۔ یہ اسکی اور گلالئی کی تصویر تھی۔ وہ دونوں سکول یونیفارم میں تھیں۔ یہ تصویر زمان چاچا نے ان دونوں کو دی تھی۔۔
“آہ۔۔ لالئی تم ایک زخم بن گئی ہو جو شاید کبھی مندمل نہ ہو پائے۔۔۔۔۔کاش میں تمھیں ایک نظر دیکھ پاتی۔۔”
اس نے تصویر میں دکھتے اس کے عکس پہ ہاتھ پھیرا۔ایک آنسو پلکوں کی باڑ پار کرتا تصویر پہ گرا تھا جسے اس نے اپنی چادر میں جذب کیا۔ تصویر ڈائری میں رکھ کر ڈائری بند کر دی۔
دروازے پہ ہوئی دستک نے اسکا دھیان اپنی طرف کھینچا۔ آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سامنے گل باجی کھڑی تھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر انھیں سلام کیا۔
“مسکاء بیٹا طاہرہ بی بی بلا رہی ہیں تمھیں۔”
انھوں نے سلام کا جواب دینے کے بعد وارڈن کا پیغام دیا اور پلٹ گئیں۔
وہ چادر درست کرتی روم سے باہر آ گئی۔ بارش کی وجہ سے پھول پودے نکھرے نکھرے لگ رہے۔ رنگ برنگے پھولوں سے بھرا لان موسم کی دلکشی کو اپنے اندر سموئے اسے اپنی جانب متوجہ کر رہا تھا۔ اس کا جی چاہا تھوڑی دیر لان کی پرنم گھاس کو اپنے پیروں سے محسوس کرے مگر وہ ایسا صرف سوچ ہی سکتی تھی۔ بارش تو کیا کسی بھی موسم میں لان میں قدم رکھنے پر پابندی تھی۔طاہرہ میم کی اجازت کے بنا کوئی بھی لڑکی لان میں نہیں جا سکتی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیاں پھول توڑیں گی یا پھر ان کا لان خراب کر دیں گی اور اگر کوئی اجازت لینے جاتا پھر بھی اجازت نہ ملتی۔ وہ خود ہی کبھی کبھار لان میں ٹہلتی یا پھر مطالعہ کرتی دکھائی دیتیں۔ لان کے اندر بنی کیاریوں میں مختلف اقسام اور رنگوں کے پھول تھے۔ طاہرہ میم خود ان کا بہت خیال رکھتی۔ اگر کوئی لڑکی بنا اجازت داخل ہوجاتی تو اسے سزا ملتی۔ لڑکیاں انھیں اس معاملے میں جلاد کا خطاب دیتی تھیں۔
گل باجی بنا پیچھے دیکھے آگے بڑھ گئی تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ لان کے گرد بنے سفید اور لال پینٹ ہوئے جنگلے کی طرف بڑھی۔ بارش میں بھیگنے کی پرواہ کیے بنا وہ آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ قریب آتے ہی اس نے بارش سے بھیگے جنگلے پہ ہاتھ رکھے۔ جنگلے کی ٹھنڈک اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو مزید یخ کر گئی۔ آنکھیں بند کر کے وہ تازہ ہوا اپنے اندر اتارنے لگی۔ گل باجی نے اس کی غیر موجودگی محسوس کی تو پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ انھیں لان کے قریب دکھائی دی۔
“مسکاء۔۔۔!”
ان کے پکارنے پہ اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور سر جھٹکتی وہاں سے ہٹ گئی۔ انھوں نے اسے آتا دیکھ کر قدم بڑھا دئیے۔ برآمدے سے ہوتے ہوئے وہ وارڈن کے آفس آئی۔ دروازہ بند تھا۔ وہ دستک دیتی دروازہ کھول کر اندر جھانکنے لگی۔ طاہرہ میم نے اسے دیکھ کر اندر آنے کی اجازت دی۔
“جی میم۔۔آپ نے بلایا تھا؟”
وہ ٹیبل کے قریب آ کھڑی ہوئی۔ انھوں نے سر کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔ وہ منتظر نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی۔ انھوں اپنے سامنے رکھی نیلے رنگ کی فائل کو بند کیا۔۔چشمہ اتار کر فائل پہ رکھا اور پر سوچ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
“تم کل کس لڑکے کے ساتھ آئیں تھیں۔ پہلے تو اپنے بابا کے ساتھ آتی تھیں۔ کون تھا وہ لڑکا۔۔کیا رشتہ ہے تمھارا اس کے ساتھ؟؟”
ان کے اسطرح پوچھنے پہ وہ بوکھلا گئی جبکہ انھوں نے اس کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھ کر اسے کڑی نظروں سے دیکھا۔
“دیکھو لڑکی تمھیں یہاں کے رولز کا پتہ ہے۔ تمھارے پچھلے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے میں تم پہ شک تو نہیں کر رہی مگر تمھارے گارڈین میں بھی تمھارے والد اور گلزم خان کے علاوہ کسی کا ذکر نہیں۔۔تو پھر وہ کون تھا جس کے ساتھ تم آئی تھی۔”
وہ رجسٹر کھولے اس سے پوچھ رہی تھیں۔
“وہ میم۔۔گلزم خان چاچا بھی ساتھ تھے اور وہ لڑکا میرے چچا کا بیٹا ہے۔ گلزم خان چاچا ہی ہمیں لے کے آئے تھے۔ پہلے مجھے ہاسٹل ڈراپ کیا پھر انھیں۔”
وہ نظریں جھکائے چادر کا کونہ انگلی پہ لپیٹتے ہوئے بولی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس پہ شک کرتیں اس نے انھیں حقیقت بتائی۔
“ہیم۔۔۔۔کیا وہ دوبارہ بھی آئے گا؟؟”
انھوں نے مزید جراح کی۔
“نہیں۔۔”
اس نے مختصرا جواب دیا۔
“اور تم نے تو کہا تھا کہ اب امتحانات کے لئے ہی آو گی لیکن تم تو محض ایک ویک میں ہی واپس آ گئی ہو۔”
انھوں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
“وہ بابا نے کہا کہ میں ہاسٹل میں زیادہ یکسوئی کے ساتھ تیاری کر سکتی ہوں اسی لئے۔۔۔۔۔۔”
وہ نظریں جھکا گئی۔
“ٹھیک ہے جاو تم۔۔۔”
انھوں نے فائل دوبارہ کھول لی۔ اجازت ملتے ہی وہ فورا اٹھی اور دروازے کیطرف بڑھ گئی۔
“اور سنو۔۔۔آئیندہ احتیاط کرنا۔”
اس سے پہلے کے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی ان کی بارعب آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر آفس سے باہر نکل آئی۔
تیز قدموں سے اپنے روم کیطرف بڑھتے ہوئے اسے اسکا روکھا رویہ اور الفاظ یاد آئے۔
“بدتمیز کہیں کا۔”
وہ دل ہی دل میں اسے کوستی اپنے روم میں آ گئی۔کمرے کا دروازہ بند کرتی وہ اسٹڈی ٹیبل پہ رکھی بکس کی طرف بڑھ گئی۔۔**************************
“وہ اپنے کمرے میں کسی کتاب کے مطالعے میں مگن تھے جب میر سربلند خان نہایت غصے سے دروازہ کھول کے کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ کتاب تکیے کے قریب رکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔لہو رنگ آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ چہرے پہ شدید غصے کے باعث سرخی بڑھ گئی تھی۔
“لالا۔۔۔خیریت؟؟ آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں؟”
انھوں نے آگے بڑھ کر انھیں بازوں سے تھامنا چاہا۔
“کیا تم نہیں جانتے کہ تم نے کیا کیا ہے۔ تمھیں پتہ ہے کہ تم نے یہ فیصلہ کر کے ہمیں کتنا دکھ پہنچایا ہے۔ ہم سے پوچھنا تک نہیں گوارا کیا۔ اب تم ہمارے پیروں کی خاک ہمارے سروں پر ملو گے۔”
میر سربلند خان نے ان کے ہاتھ جھٹک دیئے۔ وہ جان گئے کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔
“لالا۔۔۔۔اگر میں ایک معصوم و بےقصور لڑکی کی مدد کر رہا ہوں تو اس میں کیا برا ہے اور اگر آپ کو میرا فیصلہ اتنا دکھ دے رہا تھا تو آپ اس غیر شرعی اور گھٹیا رسم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ جرگہ بلائیں اور قادر خان سے کہیں کہ وہ سب کے سامنے اپنے الفاظ واپس لے اور نور خان کو جرگے کے بزرگ حضرات اجازت دیں کہ وہ جہاں چاہے اپنی بیٹی کی شادی کر دے قادر خان انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا تو میں بھی اپنا فیصلہ بدلنے کو تیار ہوں۔”
وہ تحمل سے اپنی بات کہہ کر خاموش ہوگئے۔
“تمھارا ان کے ساتھ کیا غرض واسطہ۔۔ یہاں جرگے کے بڑے ہیں فیصلہ کرنے کے لئے۔۔ تم شہری بندے ہو ان معاملوں کو نہیں سمجھتے۔ تمھاری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ قادر خان کو تم جانتے نہیں ہو وہ بھوکے شیر کی طرح گھوم رہا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں تمھیں نقصان نہ پہنچا دے۔ بابا ہوتے تو تمھیں یہ سب نہ کرنے دیتے۔ وہ کبھی تمھیں ایک ملازم کی ان پڑھ بیٹی سے شادی کرنے نہ دیتے۔ یہ کام کر کے تم ان کی روح کو تکلیف پہنچا رہے ہو۔”
وہ انھیں کندھوں سے تھام کر بولے۔
“لالا۔۔۔۔جہاں تک میرا خیال ہے اگر بابا زندہ ہوتے تو وہ اس رسم کے خلاف ضرور کھڑے ہوتے۔ میرے فیصلے سے ان کے شانے چوڑے ہو جاتے۔ میں اپنے فیصلے کو درست قرار دیتا ہوں اور اگر میری بات جرگہ مانتا ہے تو میں بھی اپنا فیصلہ بدلنے کو تیار ہوں۔”
وہ مضبوط لہجے میں بولے۔
“تم جانتے ہو کہ اگر جرگے کو تمھاری بات نامنظور ہوئی تو قادر خان تمھیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔”
وہ ان کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔
“میں جانتا ہوں لالا۔۔۔میں موت سے نہیں ڈرتا۔”
ان کی آنکھوں میں انھیں ان کے فیصلے کی مضبوطی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ بناء کچھ کہے کمرے سے نکل گئے۔ اگلے دن دراب کو جرگے کے بارے میں بتائے بناء انھوں نے میر دراب خان کا فیصلہ جرگے کو بتا دیا لیکن ان کی شرط نہیں بتائی۔ ان کی بات سن کر قادر خان فورا اٹھا اور نور خان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جو جرگے کے سامنے یوں سر جھکائے کھڑے تھے جیسے انھوں نے کوئی جرم کیا ہو۔
“نور خان چاچا کب سے تیری بیٹی کا چکر چل رہا ہے میر دراب خان سے۔”
قادر خان کی بات سن کر نور خان نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔
“اب حیران کیوں ہو رہا ہے۔ کیا میر دراب خان پہ بیچ دیا ہے تو نے بیٹی کو۔۔ کتنے پیسے دیے ہیں تجھے دراب خان نے۔”
اتنے رقیق الزامات نے نور خان کی گویائی سلب کر لی۔ اس نے بیچارگی سے جرگے کا فیصلہ کرنے والے معزز لوگوں کو دیکھا جو اسکی عزت کا جنازہ نکلتے دیکھ کر بھی خاموش تھے۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو قادر خان۔”
جرگے میں شامل صناب خان نے پوچھا۔ وہاں موجود سبھی لوگ حیرانی سے کبھی قادر خان کو دیکھتے اور کبھی نور خان کو۔
“یہ جھوٹ ہے۔۔۔مجھ پہ اور میری بیٹی پہ بےبنیاد الزام ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے خان۔۔۔۔ میر دراب خان تو فرشتہ صفت بندہ ہے انھوں نے مجھے اور میری بیٹی کو اس ظلم سے بچانے کے لئے ایسا فیصلہ کیا ہے۔”
نور خان کی بات پر میر سر بلند خان نے پہلو بدلا۔
“میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں خان ۔۔۔اگر یہ بات نہیں تو پھر اس نے اور اسکی بیٹی نے دراب خان کو پھنسایا ہے۔ ورنہ اسے کیا ضرورت ہے پیروں کی جوتی سر پہ رکھنے کی۔”
نور خان کو لگا جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ ان کے کانوں میں ڈال دیا ہو۔
“نہیں خان یہ جھوٹ ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔” نور خان کی برداشت جواب دے گئی۔ وہ رو رو کر جرگے کو اپنی بات کا یقین دلا رہے تھے۔ مگر قادر خان کوئی کچی گولیاں کھیلنے والا بندہ نہیں تھا۔ اس نے جرگے کو اپنی گھٹیا باتوں سے گمراہ کر دیا۔ سبھی اس کی بات کا یقین کر رہے تھے۔ کوئی بھی نور خان کے ساتھ نہیں تھا۔
“میں اب نور خان کی بیٹی سے شادی نہیں کروں۔” قادر خان اپنی بات کہہ کر میر سربلند خان کے پاس جا کھڑا ہوا۔ دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔
“اب جیسا کہ قادر خان نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے تو اس ضمن میں جرگے کا فیصلہ ہے کہ غگ ہونے کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص بھی نور خان کی بیٹی سے شادی نہیں کر سکتا اور نہ نور خان کی بیٹی کسی دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔ اگر قادر خان اپنا فیصلہ بدل دے تو ٹھیک ہے۔۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔”
ان کے فیصلہ سناتے ہی کچھ لوگ نور خان کو ترحم بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے مگر ان میں سے کسی میں ہمت نہیں تھی کہ نور خان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ وہ سب ان کی تکلیف کو محسوس کر رہے تھے لیکن درد تو وہیں ہوتا ہے جہاں زخم ہو۔۔ وہ خاموشی سے سب کو جاتا ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا قادر خان میر سربلند خان کے ساتھ بات کر رہا تھا لیکن طنزیہ نظریں اس نے نور خان پر فوکس کر رکھی تھیں۔دونوں کے چہروں پہ خوشی و اطمینان کے آثار تھے۔ ایک تو انھوں نے میر دراب خان کو اطلاع کیے بنا جرگہ کروایا تھا تاکہ وہ کسی بھی طرح کے فیصلے میں رکاوٹ نہ بنیں اور اگر بعد میں وہ جرگے کے فیصلے کے خلاف گئے تو سزا کے مستحق ٹھہریں گے اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ میر دراب خان اپنے فیصلے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس طرح سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔
نور خان کچھ سوچتے ہوئے میر سربلند خان کی طرف بڑھا لیکن پھر ان کے لبوں پہ چھائی طنزیہ مسکراہٹ نے انھیں روک دیا۔کوئی بھی تو نہیں تھا ان کی مدد کے لئے۔ ایک میر دراب خان تھے جو ان کی مدد کے لئے آگے آئے تھے اور آج وہ بھی جرگے میں موجود نہیں تھے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ شاید انھوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا ہوگا ورنہ وہ آج اس فیصلہ کن جرگے میں ضرور شامل ہوتے۔ اس سوچ نے انکی رہی سہی امید بھی ختم کر دی۔ وہ سست قدموں سے گھر کی جانب ہو لئے۔
وہاں ایک اور شخص بھی تھا جو افسوس سے یہ سب دیکھ رہا تھا اس کا دل نور خان کی حالت اور اسکی گریہ و زاری دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ یہ شخص تھا زمان خان۔۔۔
نور خان کو سست قدموں سے جاتے دیکھ کر اسے ایک خیال آیا۔ وہ میر سربلند خان سے نظریں بچا کر حویلی آیا اور ملازمہ سے پوچھا کہ دراب خان کہاں ہیں۔ ملازمہ کے بتانے پر کہ وہ اپنے کمرے میں ہیں۔ زمان خان کو یقین آ گیا کہ میر دراب خان کو جرگے کے متعلق پتہ نہیں ہے کیونکہ میر سر بلند خان نے جرگے میں بتایا تھا کہ وہ رات کو ہی شہر چلے گئے ہیں۔
یہ معلوم ہونے کے بعد کہ دراب خان حویلی میں ہی ہے تو انکا یقین اور بھی پختہ ہو گیا۔
وہ فورا ان کے روم میں گیا۔ وہ جاگ رہے تھے زمان خان کو دیکھ کر حیران ہوئے۔ زمان خان نے ڈرتے ڈرتے پھولی سانسوں میں انھیں سب کچھ بتا دیا۔۔جرگے کا فیصلہ بھی۔۔
وہ حیران تھے کہ انھیں جرگے کے متعلق نہیں بتایا گیا۔
وہ دل میں ایک فیصلہ کرنے کے بعد آرام سے آگے کے لئے لائحہ عمل طے کرنے لگے۔۔____________________________
تین دن سے وہ اپنے روم میں بند تھا۔ جب سے پروفیسر محمد عقیل سے مل کے آیا تھا وہ مزید اپنے خول میں بند ہو کر رہ گیا تھا۔ کتنی بار ارحم اس سے ملنے آیا مگر وہ کسی نہ کسی سے کہلوا دیتا کہ وہ ہاسٹل میں نہیں ہے۔ ابھی بھی وہ ہاتھ میں پکڑی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔ جن سے ملنے کی اتنی جلدی تھی وہ ملے بھی تو کیسے۔۔اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ بابا اس کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں۔ بابا اس کے ساتھ جھوٹ بول سکتے ہیں اسے دھوکے میں رکھ سکتے ہیں۔ وہ کتنا بےچین تھا اپنے وجود سے ملنے کے لئے۔۔۔ بابا سب جانتے تھے وہ اسے گمراہ کرتے رہے تاکہ وہ اپنا سایا نہ پا سکے۔ کیوں۔۔۔آخر کیوں بابا اس کے ساتھ جھوٹ بولتے رہے۔ وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کیسے پاگلوں کی طرح اپنی فیملی کو ڈھونڈ رہا ہے۔ ان سے ملنے کو ترس رہا ہے۔ بابا اسے جو کچھ بھی بتاتے وہ ایک ایک نقطے پر غور کرتا۔ ان کا سراغ حاصل کرنے کے لئے وہ خود کو بھول گیا تھا۔ نہ دن دیکھتا نہ رات۔۔اپنا ہر لمحہ اس نے انھیں ڈھونڈنے میں لگا دیا تھا۔ وہ اس کے اتنے قریب تھے اور وہ کہاں کہاں ان کی کھوج میں گیا تھا۔
اس نے ایک بار پھر تصویر کو غور سے دیکھا۔
“میر دراب خان”
اس کے لبوں نے بے آواز حرکت کی۔ کتنے سوال تھے اس کے ذہہن میں۔۔ بابا نے اسے جو کچھ بھی اس کے متعلق بتایا تھا سب جھوٹ تھا۔ آخر وہ کیوں نہیں چاہتے تھے کہ وہ اپنوں سے دور رہے۔
“ضیغم یار۔۔۔۔دروازہ کھولو۔۔”
دروازے کے پار سے آتی ارحم کی آواز نے اسے گہری سوچوں سے نکالا۔۔وہ کیوں بھاگ رہا تھا ان سے۔۔۔نہیں وہ ان سے نہیں وہ خود سے بھاگ رہا تھا۔
“ضیغم۔۔۔۔”
ارحم اسے پکارنے کے ساتھ ساتھ بند دروازے پہ مسلسل دستک بھی دئیے جا رہا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔تصویر ڈائری میں رکھی اور اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔
ارحم فورا اندر داخل ہوا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ اسے باہر سے ہی نہ ٹرخا دے۔ اس نے ایک نظر اس پہ ڈالی تو حیران رہ گیا۔۔بے ترتیب حلیہ۔۔بکھرے بال۔۔ وہ بظاہر بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار دکھائی دے رہا تھا۔
“ضیغم۔۔۔یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے۔کچھ ہوا ہے کیا؟؟”
ارحم اس کا جواب سننے کے لئے خاموش ہوا مگر وہ تو جیسے لب سیے کھڑا تھا۔ یوں جیسے وہ اپنی قوت گویائی کھو بیٹھا ہو۔ ارحم اس کے قریب آیا۔
“کیا بات ہے؟؟”
پہلے تو وہ چپ رہا لیکن پھر اس کے بار بار پوچھنے پر اس نے ساری بات اسے بتا دی۔ اسکی بات سن کر وہ بھی سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
“تمھارا مطلب ہے کہ آج تک بابا تمھیں گمراہ کرتے رہے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ تم اپنوں سے ملو۔۔۔۔”
وہ اس پہ نظریں ٹکائے پوچھ رہا تھا۔
“ہاں۔۔۔لیکن یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ بابا ایسا کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ۔ جبکہ وہ میری شدت سے اچھی طرح واقف ہیں۔”
وہ بالوں میں انگلیاں پھیرتے بولا۔
“شاید اس لئے کہ تمھیں کھونا نہیں چاہتے اور تمھیں خود سے دور جاتا نہیں دیکھ سکتے۔”
وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔
“میں اس منطق کو نہیں مانتا۔ اگر وہ ایسا چاہتے تو کبھی مجھے نہ بتاتے کہ میں ان کا بیٹا نہیں ہوں۔”
وہ اس کے پوائنٹ کو رد کرتے ہوئے بولا۔
“وہ تصویر کہاں ہے؟”
ارحم نے اس سے پوچھا تو اپنی ڈائری سے تصویر نکال کر اس نے ارحم کو پکڑائی۔ تصویر دیکھ کر تو وہ حیران رہ گیا۔
“کافی حد تک تم سے مشابہت رکھتے ہیں یہ تو۔ کیا نام بتایا تھا تم نے؟؟”
ارحم نے تصویر کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“میر دراب خان”
اس کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ ارحم بمشکل سن پایا۔
“اس بارے میں بابا سے بات کی۔۔ان سے پوچھا؟”
ارحم نے گہری سانس خارج کی اور کرسی کے ساتھ پشت ٹکاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
“نہیں۔۔۔”
وہ مختصرا بولا۔
“تو تمھیں اس بارے میں جتنی جلدی ہو سکے ان سے بات کرنی چاہیئے۔ یونہی بےکار میں خود کو پریشان نہ کرو۔ تم ان سے پوچھو گے تو وہ تمھیں سچ بتا دیں گے اور یہ بھی کہ وہ اب تک تم سے کیوں چھپاتے رہے جبکہ وہ تمھارے بابا کو جانتے ہیں۔”
ارحم نے ہاتھ میں پکڑی تصویر اسے واپس کی۔ جو اس نے ڈائری میں رکھ کر ڈائری ٹیبل پہ رکھ دی۔
“میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔ یہ گتھی وہی سلجھا سکتے ہیں۔ کل ہی جاوں گا ان سے بات کرنے۔”
وہ بولا تو ارحم سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہوا۔
“چلو یہ اپنا حلیہ درست کرو۔۔کہیں باہر چلتے ہیں۔”
وہ اسے باتھ روم کی طرف دھکیل کے بولا تو ضیغم بھی خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔ آخر اس کی تلاش جو ختم ہوئی تھی اور ارحم سے بات کر لینے سے دل پہ دھرا بابا کے خلاف غلط فہمیوں کا بوجھ بھی اتر گیا تھا۔
وہ الماری سے کپڑے لیتا واش روم کیطرف بڑھ گیا۔ جبکہ ارحم اسٹڈی ٹیبل کے پاس آ کر بکس کی ترتیب بدلنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ تولیے سے بال رگڑتا واش روم سے باہر آیا۔
“ویسے بابا سے ملنے سے پہلے تمھیں ایک بار پروفیسر محمد عقیل سے بھی مل کر تفصیلی بات کرنی چاہیئے۔”
وہ اسے بال برش کرتے دیکھ کر بولا۔
“نہیں مجھے لگتا ہے کہ پہلے بابا سے تفصیل جان لوں پھر ان سے ملوں گا۔ وہ بھی اپنے دوست سے ملنے کے لئے بہت بےچین ہیں مگر میری تڑپ کا کوئی حساب نہیں۔”
وہ کھوئے کھوئے سے لہجے میں کہتا اس کے پاس آیا۔ ارحم نے اسے پہلے کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا تھا۔ مسکراہٹ اس لبوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں اس کی مسکراہٹ کے دائمی ہونے کی دعا کی۔
“چل جیسی تیری مرضی۔۔۔ویسے ایک ویک رہ گیا ہے ایگزیمز میں۔۔۔تیاری کہاں تک پہنچی؟”
وہ دونوں کمرے سے باہر آئے۔ ضیغم نے دروازہ لاک کیا۔
“یار تین دن سے جو کچھ پڑھا ہو سوائے اس تصویر کے۔۔ ایک ایک نقش کو یاد کر رہا تھا۔ تم نے دیکھا میری اور ان نوز بالکل ایک جیسی ہے۔”
وہ ہنستے ہوئے بولا۔ آس پاس سے گزرتے لڑکے ضیغم کو حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ مسکرانے کے لئے بھی دس بار سوچنے والا ضیغم آج اتنے ڈانٹ کیوں نکال رہا ہے۔
“ہاں۔۔۔ تم اپنے بابا سے کافی مشابہت رکھتے ہو۔”
ارحم نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
“تم گاوں چلو گے میرے ساتھ۔۔ایگزام کے بعد؟؟”
ضیغم نے رک کر اس سے پوچھا۔
“ہاں ضرور۔۔۔۔بشرطیکہ یہ لنچ تمھاری جانب سے ہو۔”
وہ ہنستے ہوئے بولا۔
“میں غریب بندہ ہوں۔۔لیکن خیر کیا یاد کرو گے کہ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔”
وہ اس کے کندھے پہ بازو پھیلا کر آگے بڑھتے ہوئے بولا تو ارحم بھی ہنس دیا۔۔________________________________
آج ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لئے صبح سے گھر میں ہی تھے۔ اپنے لئے چائے کا ایک کپ تیار کیا اور کمرے میں آ گئے۔ کپ ٹیبل پہ رکھا اور پانی کے ساتھ سر درد کی گولی لی اور دھیرے دھیرے چائے کی چسکیاں بھرنے لگے۔ جب سے میر گیا تھا وہ ٹھیک سے سو نہیں پائے تھے۔ باتور خان نے جسطرح گھر کے دروازے پہ آ کے شور مچایا تھا وہ بہت پریشان تھے۔ میر انھیں اپنی جان سے زیادہ عزیز تھا۔ حالانکہ وہ یہاں سے بحفاظت جا چکا تھا مگر پھر بھی انھیں کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ باتور خان بڑے خان کے ساتھ کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں شہر جاتا تھا۔ کتنے لوگوں نے ان سے کہا تھا کہ باتور خان لوگوں کو کہتا پھرتا ہے کہ وہ میر کو کسی صورت نہیں چھوڑے گا اور اس سے بدلہ ضرور لے گا۔ اس بات کو لے کر وہ بہت پریشان تھے۔
بڑے خان نے بھی جب سے میر کو دیکھا تھا۔ انھوں نے انھیں بلا کر خوب لعنت ملامت کیا کہ وہ میر کو ان کے خلاف تیار کر رہا ہے۔ پڑھا لکھا کر وہ اسے ان کے برابر کھڑا کرنا چاہتا ہے اور یہ بھی کہ انھوں نے کیوں میر سے متعلق انھیں ہر بات سے بے خبر رکھا۔ مزید انھوں نے زمان خان کو خبردار کیا کہ اگر میر کو اس کی حقیقت کا پتہ چل گیا تو وہ میر کا اس دنیا میں آخری دن ہو گا۔ تب سے تو جیسے ان کی جان لبوں تک آ گئی تھی۔
اب وہ انھیں کیا بتاتا کہ میر کسطرح اپنی جڑیں کھود کر خود تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اپنے نام سے جڑے ناموں تک پہنچنا چاہتا ہے۔ وہ اسے روک نہیں سکتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ جلد ہی وہ خود کو پا لے گا۔ وہ اسے کبھی بھی اس بات کی ہوا تک نہ لگنے دیتے کہ وہ ان کی سگی اولاد نہیں ہے اگر وہ گاوں کے ایک دو بزرگوں کو اس بارے میں بات کرتے نہ سن لیتا۔
گھر آ کر اس نے بہت واویلا کیا تو وہ جھوٹ نہ بول سکے اور اسے سچ بتا دیا کہ میر سربلند خان نے ہی اسے ان کی جھولی میں ڈالا تھا یہ کہہ کر آج سے وہ ان کا بیٹا ہے۔ وہ اور ان کی بیوی کب سے اولاد جیسی نعمت کے لئے ترس رہے تھے۔ میر کو گود لے کر اپنے سارے دکھ بھول گئے۔
اور کبھی اسے بھنک بھی نہیں پڑنے دی کہ وہ ان کی سگی اولاد نہیں ہے۔
پھر جب اسے معلوم ہو گیا تو اس کے سوالات ختم ہونے میں ہی نہ آتے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ کون ہے۔۔کس کی اولاد ہے۔۔کسکا خون ہے۔۔۔لیکن وہ اپنے وعدے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور وہ خون بھی انھیں عزیز تھا جو میر کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔ وہ کیسے اس خون کو ضائع ہونے دے سکتے تھے۔
اسی لئے اسے گمراہ کرتے رہے۔۔
اس کے پوچھے گئے ہر سوال کا جواب غلط دیتے گئے۔۔کیونکہ وہ اسے کھونا نہیں چاہتے تھے۔ میر ان کی زندگی تھا۔
وہ جو کچھ بھی اپنے متعلق پوچھتا تو وہ اسے ٹھیک سے کچھ بھی نہ بتاتے۔۔
لیکن اب انھیں ڈر تھا کہ جسطرح وہ اپنے پیچھے لگ چکا ہے جلد ہی خود کو ڈھونڈ نکالے گا اور اگر اسے معلوم ہو گیا کہ وہ اسے گمراہ کرتے رہے ہیں تو وہ کہیں خود کو ان سے دور نہ کر لے۔۔
وہ سوچوں کے سمندر میں ایسے غرق تھے کہ بیرونی دروازے پہ ہونے والی دستک ان کے کانوں سے دور تھی۔ ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ لبوں سے لگایا تو ٹھنڈی چائے انھیں ماضی سے حال میں لے آئی۔ وہ کپ ہاتھ میں پکڑے کچن میں چلے آئے۔ اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئی۔ وہ کپ وہیں کچن میں رکھ کر دروازے کی طرف بڑھے۔
چٹخنی اتار کر دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے رحم دین کو دیکھ کر حیران ہوئے۔ شاید وہ کام سے سیدھے وہیں آئے تھے۔ پسینے سے سارا جسم شرابور ہو رہا تھا۔
“کب سے دروازہ کٹھکٹا رہا ہوں سو رہے تھے کیا؟”
ان کے پوچھنے پر زمان خان نے انھیں اندر آنے کا راستہ دیا۔ وہ شانے پہ پڑے رومال سے پسینہ پونچھتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ زمان خان نے چٹخنی واپس چڑھائی اور انھیں لئے اپنے کمرے میں آ گئے۔ وہ بیٹھ گئے تو پنکھا چلا کر ان کے قریب رکھا اور خود ان کے پانی لینے چلے گئے۔
پانی لے کر آئے تو رحم دین نے مٹی سے بنا کٹورا ان کے ہاتھ سے لے لیا۔ کٹورا لبالب پانی سے بھرا تھا۔ انھیں اپنی پیاس کی شدت کا احساس ہوا۔ دھیرے دھیرے پانی پی کر خالی کٹورا انھیں واپس کیا۔
“خیریت اتنے خاموش کیوں ہو؟”
رحم دین نے انھیں خاموش دیکھ کر پوچھا۔
“نہیں بس۔۔۔میر کے لئے پریشان ہوں۔ باتور گاوں میں الم غلم بول کر اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈال رہا ہے۔ تم نے نہیں دیکھا تھا حجرے میں کیسے میر نے اسے ایک ہی وار میں گرایا تھا کہ وہ دوبارہ اٹھ نہ پایا۔ میرا میر۔۔۔۔میرا ببر شیر۔۔۔”
زمان خان کے چہرے پہ میر کے لئے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دے رہا تھا اور لہجے میں اس کے لئے فخر بول رہا تھا۔
“میر سے بات ہوئی یا نہیں۔”
انھوں نے رشک سے زمان خان کو دیکھا۔
“نہیں۔۔۔لیکن گلزار شہر گیا تھا تو اس سے ملا تھا اسی نے بتایا کہ ٹھیک ہے۔۔پڑھائی میں مصروف ہے۔ تم بتاو حالات کیسے ہیں۔ باتور خان کو مسکاء کی یہاں غیر موجودگی کا پتہ تو نہیں چلا؟”
زمان خان نے رحم دین کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی تھی اس لئے پوچھا۔
“وہی تو بتانے آیا ہوں۔۔وہ لوگ گھر آئے تھے نکاح کی تاریخ لینے۔”
رحم دین نے ان کے پوچھنے پر انھیں اپنی پریشانی بتائی۔
“کیا۔۔۔؟؟ تو پھر تم نے کیا کہا؟”
وہ پریشانی سے بولے۔
“میں نے کیا کہنا تھا۔ انھوں نے خود ہی نکاح کی بات کی اور پھر نکاح کی تاریخ بھی خود ہی رکھ لی۔ وہ تو مسکاء سے بھی ملنا چاہتے تھے مگر ہم نے بات سنبھال لی۔”
انھوں نے مزید بتایا۔
“تو تمھیں انھیں گھر میں گھسنے ہی نہیں دینا چاہئیے تھا۔ غضب خدا کا حالات کو کس رخ پہ لے گئے۔ سارے گاوں میں تماشا بنا کر رکھ دیا اور اب اتنے آرام سے آ کر نکاح کی تاریخ رکھ گئے جیسے اس رشتے میں تمھاری رضامندی بھی شامل ہے۔۔حد ہوگئی۔۔”
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسطرح اپنی بھڑاس نکالیں۔۔
“چلو یہ بھی اچھا ہوا کہ مسکاء کی غیر موجودگی کا انھیں علم نہیں ہوا۔ اب آگے کیا سوچا ہے؟”
زمان خان نے ان کے پر سوچ چہرے پہ نگاہ ڈالی۔
“تھانے چلتے ہیں۔۔باتور کے خلاف حراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کی رپورٹ درج کرواتے ہیں۔تم کیا کہتے ہو؟”
رحم دین نے ان سے بھی رائے لینا مناسب سمجھا۔
“میں تو تمھیں کب سے تھانے جانے کا کہہ رہا ہوں۔ غگ اب قانونی طور پہ جرم ہے اور جرم کرنے والا مجرم۔۔۔۔۔”
انھوں نے ان کے فیصلے کو سراہا۔۔
دونوں تھانے جانے کے لئے گھر سے نکل آئے۔ ______________________________
“ہاں بھئی رحم دین کیا بات ہے۔ آج یہاں کا راستہ کیسے بھلا دیا۔ خیر تو ہے نا۔”
زمان خان اور رحم دین ایس۔ایچ۔او کے سامنے بیٹھے تھے۔ رحم دین وہاں آ تو گیا تھا مگر اب انھیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کسطرح بات شروع کریں۔ کافی دیر سے بیٹھے دل ہی دل میں الفاظ ترتیب دے رہے تھے۔ وہ چاہتے تو وہ یہ معاملہ جرگے کے سامنے بھی رکھ سکتے تھے مگر انھیں معلوم تھا کہ جرگے کا فیصلہ کرنے والے بھی وہی لوگ ہیں جو ایسی غیر قانونی اور غیر شرعی رسموں کی جڑوں کو پانی دے رہے ہیں۔ قانون کا نفاذ تو یہاں موجود ہی نہیں۔ یہ پولیس اسٹیشن کی عمارت تو اس گاوں میں صرف ایک عمارت سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ اگر قانون لاگوں بھی تھا تو صرف اور صرف غریبوں پر۔۔۔
“رحم دین چاچا۔۔۔۔کچھ پوچھ رہا ہوں تجھ سے۔ اب یہاں آ گیا ہے تو آنے کا مقصد تو بتاو یوں گونگے بنے کیوں بیٹھے ہو۔”
ایس۔ایچ۔او رحم دین کو شش وپنج میں مبتلا دیکھ کر کڑک دار آواز میں بولا۔
“او جی ہم یہاں ایک رپورٹ درج کروانے آئے ہیں۔”
رحم دین کی بجائے زمان خان نے مدعا بیان کیا۔
“رپورٹ۔۔۔۔۔کیسی رپورٹ اور کس کے خلاف؟؟”
ایس۔ایچ۔او نے ہاتھ میں پکڑا قلم میز پہ رکھا۔۔
“باتور خان کے خلاف۔۔۔وہ رحم دین اور اسکے گھر والوں کو حراساں کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ دھمکیاں بھی دیتا ہے۔”
زمان خان نے جان بوجھ کر مسکاء کا نام نہیں لیا۔
“کیسی دھمکیاں؟؟”
ایس۔ایچ۔او صاحب ان کی طرف جھکے۔۔ سرخ آنکھیں رحم دین پہ گڑیں تھیں۔
“وہ رحم دین کو بیٹی کا رشتہ دینے کے لئے مجبور کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں وہ رحم دین کو حراساں کرتا ہے۔باتور خان اور کرم دین گھر آ کر ذبردستی نکاح کی تاریخ بھی رکھ گیے ہیں۔ ہمیں اس سے قانونی تحفظ چاہیئے۔”
زمان خان نے تفصیل بتائی۔
“کوئی گواہ؟؟”
ایس۔ایچ۔او اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں ہوں گواہ۔”
زمان خان نے اسکی بوسیدہ شرٹ میں بمشکل قید اس کے پیٹ کو ناپسندیدگی سے دیکھا۔ گاوں کے کچھ لوگوں کو انھوں نے ساتھ چلنے کو کہا تھا لیکن کوئی بھی باتور خان سے پنگا نہیں لینے چاہتا تھا۔اس لیے کوئی بھی گواہ بننے کے لئے راضی نہ ہوا۔ ان کے خیال میں ان کے گھر میں بیٹیاں موجود ہیں۔ وہ باتور خان کے خلاف جا کر اپنے لئے مصیبت نہیں خرید سکتے تھے۔اس لئے گواہ کے طور پر وہ خود ہی آگے آئے۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔یہ تو وہ بات ہوئی کہ مدعی سست اور گواہ چست۔۔۔ہاہاہا۔۔”
ایس۔ایچ۔او میز پہ دائیں بائیں بازو پھیلائے نہایت ہی بھونڈے طریقے سے ہنسے جا رہا تھا۔ رحم دین نے زمان خان کو دیکھا۔
“ارے بھئی۔۔۔جسکی بیٹی ہے وہ خاموش بیٹھا ہے اور تم بولے جا رہے ہو۔۔باتور خان تو تمھارا بھتیجا ہے نا۔۔کیوں رحم دین۔۔اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ تمھیں حراساں کرنے کی۔ اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے باتور خان غگ کر چکا ہے مجھے اس واقعے کی اطلاع مل گئی تھی۔ میری مانو تو اپنی خوش نصیبی کو مت ٹھکراو اور آرام سے اس معاملے کو حل کر لو۔ ساری عمر بیٹی کو اپنے پاس تھوڑی نہ بٹھائے رکھو گے اور غگ ہونے کی وجہ سے کوئی اور تو تمھاری بیٹی سے شادی کرنے سے رہا اس لئے باتور خان سے صلح صفائی کر لو۔”
وہ انھیں سمجھانے کے انداز میں بولا۔
“ہم تم سے مشورہ مانگنے نہیں آئے ہیں۔ ہماری رپورٹ درج کرو۔”
زمان خان کو اس کی بات سن کر بہت غصہ آیا۔
“او چاچا۔۔۔زبان کو کنٹرول میں رکھ نہیں تو ایس۔ایچ۔او کے ساتھ بدتمیزی کرنے پہ حوالات کی سیر کروا دوں گا۔ سمجھا دے چاچا اسے۔۔ میں باتور خان کے خلاف رپورٹ درج نہیں کروں گا اور تجھے میری بات نہیں ماننی تو جرگے میں جا کر یہ مسئلہ حل کرو۔۔دوبارہ یہاں مت آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔رستم خان۔۔۔۔او رستم خان۔” اس نے رجسٹر کھول کر رستم خان کو آواز دی۔
“جی سر۔”
رستم خان شرٹ کو پینٹ میں اڑستا اندر آیا۔
“او ان کو باہر کا راستہ دکھا۔”
وہ رحم دین اور زمان خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رستم خان سے بولا۔۔ رستم خان ان کے پاس آیا تو وہ دونوں خاموشی سے چلتے باہر آ گئے۔
“ایک چھوٹی سی امید تھی وہ بھی اپنے انجام کو پہنچی۔”
رحم دین تھانے سے باہر کچی زمین پہ بیٹھ گیا۔ گرمی کی شدت اور حالات کی ستم ظریفی نے رحم دین کو جیسے مفلوج کر دیا۔ درد آنکھوں سے آنسووں کی صورت جاری تھا۔ زمان خان ان کی حالت دیکھ کر خود بھی جیسے ڈھے گئے تھے۔ پھر بھی وہ رحم دین کو سہارا دیئے آگے بڑھے۔ گھر کے قریب پہنچ کر انھوں نے دروازے پہ دستک دی۔ رحم دین کا لاغر ہوتا وجود ان کے کمزور ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلتا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ انھیں سنبھال نہ پاتے ذہرہ بی بی نے دروازہ کھول دیا۔رحم دین کو اس حالت میں دیکھ کر وہ پریشان ہو گئیں۔
پھر زمان خان کے ساتھ رحم دین کو سہارا دیئے وہ کمرے میں لے آئے۔ انھیں چارپائی پر لٹایا۔ بھاگ کر پانی کا گلاس لائیں۔ زمان خان نے ان کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر کچھ چھینٹے ان کے پیلے ہوتے چہرے پہ پھینکے اور پھر انھیں پانی پلایا۔ ذہرہ بی بی نے پنکھا چلا کر ان کے قریب رکھا۔ تھوڑی دیر بعد ان کی رنگت کچھ بحال ہوئی تو دونوں کی جان میں جان آئی۔
زہرہ بی بی کے پوچھنے پہ زمان خان نے تمام بات انھیں بتا دی تو وہ چادر منہ پہ رکھے رو دیں۔ رحم دین نے انھیں اشارے سے رونے سے منع کیا۔
“بھابی آپ پریشان نہ ہوں اللہ سب بہتر کرے گا اور رحم دین تم بھی سنبھالو خود کو ایک در بند ہوتا ہے تو دس کھل جاتے ہیں۔ اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہو۔ وہ ظالموں کی رسی زیادہ دراز نہیں کرتا۔”
زمان خان رحم دین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔ رحم دین نے کندھے پہ رکھے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
“اب میں چلتا ہوں ۔۔بھابی آپ رحم دین کا خیال رکھیں۔ اسے کچھ کھانے کو دیں اور باہر مت جانے دیجیئے گا۔۔خدائے پہ امان۔۔”
وہ انھیں اللہ کی امان میں دیتے باہر آگئے۔ ان کے نکلتے ہی ذہرہ بی بی نے بیرونی دروازے کی کنڈی چڑھائی اور رحم دین کے کھانا گرم کرنے لگیں۔
“یا اللہ! ہر حال میں تیرا شکر ہے۔ تو نے بدتر سے بہتر رکھا ہے۔ تو ہی کارساز ہے۔۔۔مشکل کشا ہے۔ ہمیں اس کڑے وقت میں ہمت دے۔۔بے شک تو ہی ہمت دینے والا ہے۔”
ان کا رواں رواں اپنے رب کی بارگاہ میں دعا گو تھا۔
وہ ناامید نہیں تھیں کیونکہ ناامیدی کفر ہے اور مسلمان کفر سے پاک۔۔۔_________________________________________
جرگے کا فیصلہ معلوم ہو جانے کے بعد انھوں نے کچھ دن تو خاموشی سے گزار دیئے۔ حویلی میں کسی کو پتہ نہیں لگنے دیا کہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں بناء بتائے جرگے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ زمان خان کو کچھ ہدایات دے کر انھوں نے نور خان کے لیے پیغام بھجوا دیا تھا کہ وہ اسی جمعہ کو نکاح کی رسم کریں گے۔ شہر سے انھوں نے اپنے جگری دوست کو بھی گاوں آنے کو کہہ دیا تھا۔ ان سے تمام حالات جان کر عقیل حیران رہ گئے تھے۔ وہ سرے سے اس رسم سے تو کیااس رسم کے نام سے بھی واقف نہیں تھے۔ انھوں نے دراب کو بہت سراہا تھا کہ وہ اس رسم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے دراب سے اجازت چاہی کہ وہ اپنے ساتھ اپنے ایک صحافی دوست کو بھی لانا چاہتے ہیں تاکہ اس رسم کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ میر دراب خان نے انھیں اجازت دے دی تاکہ اگر لوگ اس رسم کے بارے میں نہیں جانتے ہیں تو جان لیں اور ذمر میں کچھ کریں اور ساتھ ہی ساتھ اس طرف حکومت کی توجہ دلائیں۔
نور خان تو بہت پریشان تھے کیونکہ وہ جانتے تھے اگر اس شادی کا کسی کو پتہ لگ گیا خاص طور پر قادر خان کو تو کوئی انتہائی قدم نہ اٹھا لے اور میر دراب خان کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے لیکن دراب خان نے ان سے مل کر انھیں تسلی دی کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔
میر دراب خان سمجھ رہے تھے کہ میر سربلند خان ان کی ان سرگرمیوں سے ناواقف ہیں مگر وہ تو گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے تھے۔ سیاست کرنے کے تمام گروں سے واقف تھے وہ۔ انھوں نے اپنا ایک بندہ ان کے پیچھے لگا رکھا تھا۔ جو کسی نہ کسی طرح دراب خان کے سامنے یہ ثابت کر چکا تھا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہے اور اس فضول رسم کے خلاف ہے۔
وہ میر سربلند خان کو ان کے ایک ایک پل کی خبر دے رہا تھا۔ وہ تو خوش تھے کہ ان کے راستے کا کانٹا خود کو خود ہی ان کے راستے سے ہٹانے میں لگا ہوا ہے تو وہ کیوں اسے منع کرتے۔ قادر خان بھی ہر ایک بات سے واقف تھا اور میر سربلند خان کے ساتھ اس منصوبہ بندی میں شامل تھا۔
وہ پوری پلیننگ کر چکے تھے۔ بس مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے۔
لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ نکاح میں کوئی سینئر صحافی محمد شکیب خان بھی شامل ہیں تو ان کو اپنے پلین میں تھوڑی تبدیلی کرنی پڑی۔
اس تبدیلی کے مطابق وہ میر دراب خان کے روم میں آئے اور انھیں یقین دلایا کہ وہ جرگے کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں اور دراب خان جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ان کے ساتھ ہیں۔ میر دراب خان بھائی کو اپنی سمت مڑتے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انھیں اس کایا پلٹ کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔
میر سربلند خان کے کہنے پر انھوں نے نکاح کی رسم حویلی میں رکھی۔
نکاح سے ایک روز پہلے شہر سے محمد عقیل اور ان کے صحافی دوست بھی آ گئے۔ میر سربلند خان نے ان کو یقین دلایا کہ وہ بھی اس بےبنیاد رسم کے خلاف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا گاوں اس فرسودہ رواج سے پاک ہو جائے۔
جب میر سربلند خان ان کے ساتھ تھے تو پھر ڈر کیسا تھا۔ بہت خاموشی سے نکاح کی رسم ادا کر دی گئی۔ نور خان تو اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہا تھا کہ اس نے ان کی بیٹی کے نصیب میں میر دراب خان کا ساتھ لکھ دیا تھا۔
“لالا۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں کہ آپ نے میرا ساتھ دیا۔آپ کی سپورٹ کے بنا یہ کام اتنی خوش اسلوبی کے ساتھ ہونا ناممکن تھا۔ انشاءاللہ جلد ہی گاوں آوں گا۔”
نکاح کی رسم کے بعد میر دراب خان میر سربلند خان کے پاس آئے۔
“جلد آوں گا سے مطلب؟؟؟”
ان کا ماتھا ٹھنکا۔
“لالا۔۔۔نکاح کے بعد خزیمن کا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے میں خزیمن کے ساتھ شہر میں رہوں۔ جب حالات تھوڑے کنٹرول ہو جائیں گے تو ہم حویلی واپس آ جائیں گے اور ویسے بھی ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے اس رسم کے خلاف ہم کھڑے رہیں گے اور اب تو آپ بھی میرے ساتھ ہیں۔۔لالا۔۔! آپ ہیں نا میرے ساتھ؟؟”
وہ ان سے پوچھ رہے تھے۔
“آں۔۔۔۔۔ہاں ، ہاں میں تمھارے ساتھ ہوں۔”
میر دراب خان کا یہ فیصلہ ان کے منصوبے پہ پانی پھیر گیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ آج رات ہی وہ قادر خان کو کہہ کر یہ قصہ ہی ختم کر دیں گے۔
“لالا۔۔۔۔اجازت ہے؟؟”
وہ ان سے اجازت مانگ رہے تھے اور بالکل ٹھیک ان کے پیچھے سیاہ چادر میں لپٹا وجود بھی اجازت طلب نظروں سے انھیں ہی دیکھ رہا تھا۔ ان کے سر اثبات میں ہلانے پر وہ گالوں پہ ہلکی سرخی لیے ان کے قریب آئی تھی۔ انھوں نے اس کے جھکے سر پہ ہاتھ رکھا تھا۔
“اللہ حافظ لالا۔”
میر دراب خان بھائی کے گلے لگا۔ انھوں نے سر ہلا کر اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ اس معاملے کو نمٹانے کے لئے انھوں نے بیوی بچوں کو شہر بھیج دیا تھا تاکہ کسی کو بھنک بھی نہ پڑے لیکن وہ بھول گئے تھے کہ ایک ذات وہ بھی ہے کہ جب وہ ‘ کن’ کہہ دے تو وہ ہو جاتی ہے۔۔
ان کے جانے کے بعد میر دراب خان نور خان سے ملے اور انھیں بھی ساتھ چلنے کو کہا مگر نور خان نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
شام کے قریب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ حویلی سے شہر کے لئے روانہ ہوئے۔۔
جانے سے پہلے وہ زمان خان کے پاس آئے تھے۔
“زمان خان۔۔۔تمھارا بہت شکریہ کہ تم نے میرا اتنا ساتھ دیا۔ “
وہ ان سے بغلگیر ہوتے ہوئے بولے۔
“خان جی۔۔شکریہ تو ہمیں آپ کا ادا کرنا چاہیئے کہ آپ نے ہمارے لئے اتنا بڑا قدم اٹھایا۔”
زمان خان نے ان کا ہاتھ بڑی عقیدت سے تھام کر آنکھوں سے لگایا۔
“میں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا۔۔بس آپ لوگوں کے لئے آغاز کیا ہے اب اسے تکمیل تک آپ لوگوں نے پہنچانا ہے۔۔ایک مرتبہ امام زین العابدین نے کہا تھا۔۔۔”مجھے اتنی تکلیف کربلا میں نہیں ہوئی جتنی کوفہ والوں کے خاموش رہنے پہ ہوئی۔۔۔۔۔
کوفہ ایک شہر کا نام نہیں بلکہ ایک خاموش امت کا نام ہے۔ جہاں پر بھی ظلم ہو اور امت خاموش رہے وہ جگہ کوفہ اور وہاں کے لوگ کوفی ہیں۔۔۔۔یاد رکھو ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانے والا بھی ظالم ہی کہلاتا ہے۔۔۔اس بات کو خود بھی سمجھو اور دوسروں کو بھی سمجھاو۔۔۔اپنا خیال رکھنا۔۔۔
خدائے پہ امان۔”
زمان خان کتنی ہی دیر وہیں کھڑا سیاہ گاڑی کو خود سے دور جاتے دیکھتا رہا۔۔
جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *