Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode02
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode02
Ghag By Mahwish Urooj Episode02
تھکاوٹ سے چور ہونے کے باوجود وہ کام میں لگے تھے۔۔چلچلاتی دھوپ نے ان کی رہی سہی طاقت بھی چھین لی تھی۔ حالات نے جو رخ اختیار کیا تھا وہ سنبھال نہیں پا رہے تھے۔ کیا کیا سوچا تھا انھوں نے اپنی لاڈلی بیٹی کے لئے۔۔سوچا تھا کہ اسکی تعلیم مکمل کروائیں گے اور پھر کسی اچھے اور پڑھے لکھے لڑکے سے اس کی شادی کروائیں گے۔۔ لیکن اب۔۔۔۔اب پڑھانا تو دور اس کی شادی کے خواب بھی مٹی میں ملتے دکھائی دے رہے تھے۔ بس لمحہ بہ لمحہ ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ گاوں میں کچھ لوگوں سے اس کی شادی کی بات بھی کی مگر سبھی باتور خان سے اس قدر حراساں تھے کہ کوئی بھی آگے نہیں آ رہا تھا۔
کل تو بڑے خان نے بھی بلا کر کہہ دیا تھا کہ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی باتور خان سے کر دے ورنہ ساری زندگی اس کو بٹھانا پڑے گا۔ غگ ہو جانے کی وجہ سے گاوں کا کوئی بھی لڑکا اس سے شادی نہیں کرے گا اور اگر کوئی تیار ہو بھی گیا تو باتور خان کو وہ روک نہیں پائیں گے۔
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مسکاء کو کہیں غائب کر دیں جہاں اس تک باتور خان تو کیا کوئی بھی نہ پہنچ سکے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کسطرح اس معاملے کو حل کریں۔ زمان خان نے انھیں بتایا تھا کہ قانونی طور پہ’ غگ’ ایک جرم ہے۔ حکومت نے سزا مقرر کر رکھی ہے اور جرمانا بھی۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت نے کچھ عرصہ پہلے ایک قانون منظور کیا تھا۔ جس کے تحت رسم ‘غگ’ کے مرتکب کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے اور عدالت نے ایک فیصلے میں ‘غگ’ کی رسم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کسی بھی شخص کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ‘غگ’ کی بنیاد پر کسی خاتون کو کسی دوسری جگہ شادی سے روک دے۔۔اب وہ دور ختم ہو گیا کہ لوگ چپ چاپ یہ ظلم سہتے تھے۔ اب وہ وہ قانون کی مدد لے سکتے ہیں تا کہ وہ اس رسم یا اس جیسی دوسری رسموں کا بائیکاٹ کر سکیں اور اپنی بیٹیوں کو اس ظلم سے بچا سکیں۔ زمان خان ان سے کئی بار تھانے جا کر رپورٹ کروانے کا کہہ چکا تھا لیکن رحم دین جانتا تھا کہ قانون بھی ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ یہاں کا ایس ایچ او تو خود میر سربلند خان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے۔ وہ تو وہی کرے گا جو بڑے خان اسے کہیں گے اور بڑے خان باتور خان کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔ اس سوچ نے تو ان کی کمر توڑ دی تھی۔ آخر کہاں جا کر وہ انصاف کا دروازہ کھٹکٹائیں۔
تھکاوٹ سے ان کا برا حال ہو گیا تھا۔ تھوڑی دیر سستانے کے لئے وہ وہہیں بیٹھ گئے۔ پسینے سے سارا جسم شرابور ہو رہا تھا۔ بھیگے کپڑوں سے گرم ہوا ٹکرا کر ٹھنڈی ٹھنڈی لگ رہی تھی۔ اچانک انھیں احساس ہوا کہ ان کے ٹھیک پیچھے کوئی بیٹھا ہے۔ انھوں نے مڑ کر دیکھا تو باتور خان مسکراتے ہوئے کھڑا ہوا اور ان کی طرف بڑھا۔
“سلام چاچا! کیا حال چال ہے تیرا۔”
وہ داڑھی کھجاتا ان کے قریب آیا۔ جواب میں وہ خاموش ہی رہے۔
“بس اب اتنا کام مت کیا کر۔۔اب میں ہوں نا گھر بیٹھ کے کھا اور موج کر۔۔اس عمر میں اتنا کام تیری طبیعت خراب کر دے گا۔”
رحم دین کے ماتھے سے اس نے پسینہ پونچھا۔دھوپ کی تمازت سے سرخ ہوتے چہرے پہ ناگواری جھلکنے لگی۔ انھوں نے اس کے ہاتھ سے اپنا رومال لیا اور اپنا چہرہ صاف کر کے رومال کندھے پہ ڈالا۔ بنا کچھ بولے وہ قدم بڑھانے ہی والے تھے کہ باتور خان نے ان کا ہاتھ تھام کر انہیں روکا۔
“چاچا۔۔۔اتنی اکڑ کس بات کی دکھا رہا ہے۔ باتور خان کا احسان مان کہ اس نے اپنی بےعزتی بھلا دی ورنہ تیرے بار بار انکار کرنے کے بعد تو تجھے اور تیری بیٹی کو اب تک اوپر پہنچا چکا ہوتا۔”
اس نے جھٹکے سے ان کا ہاتھ چھوڑا۔
“باتور خان اللہ سے ڈرو۔۔اتنا ظلم مت کرو۔۔اس کی لاٹھی بے آواز ہے۔”
وہ شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے بولے۔
“ہاہاہا۔۔۔اوہ چاچا۔۔” وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر ہنسے جا رہا تھا۔
“مسکاء میری پابند ہے۔۔مجھ سے شادی نہیں کروائے گا تو اٹھا کر لے جاوں گا اور پھر ساری عمر اسے دیکھ نہیں پائے گا۔۔۔ اب آگے تیری مرضی۔۔اچھا خاصا سمجھدار لگتا ہے مجھے۔۔”
وہ ہنسی روک کر بولا۔۔
“باتور خان! آئیندہ اگر میری بیٹی کا نام تمھاری زبان پر آیا تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔”
وہ دھاڑے۔۔۔اس کی بات نے ان کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔
“واہ چاچا واہ۔۔۔کیا بات ہے۔۔مزا آ گیا۔”
وہ ایک بار پھر ہنسنے لگا۔۔ آس پاس کام کرتے لوگ بھی ان کے اردگرد جمع ہونے لگے۔
“تیار رہنا بہت جلد اپنی بیوی کو لینے آوں گا اور ہاں خرچے کی فکر مت کرنا۔ سب کچھ میں خود کروں گا۔ چلتا ہوں خدائے پہ امان۔۔”
اس نے بھیڑ جمع ہوتے دیکھی تو کندھے پہ پڑی چادر جھاڑتا ، ہاتھ ہلاتا آگے بڑھ گیا۔ رحم دین وہہیں کھڑے اسے جاتا دیکھتے رہے۔ قادر علی نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر انھیں تسلی دی۔ آہستہ آہستہ بھیڑ چھٹنے لگی لیکن ان کے دل میں جو دکھ اور تکلیف کی بھیڑ جمع ہونے لگی تھی وہ کیسے چھٹے گی وہ نہیں جانتے تھے۔
کام سے جی اچاٹ ہو چکا تھا۔
وہ دھیرے قدم اٹھاتے گھر کی طرف چل دئیے۔ *************************
“مسکاء بیٹا! امتحان کب سے شروع ہو رہے ہیں تمھارے۔”
وہ کتاب میں سر دئیے بیٹھی تھی جب ذہرہ بی بی اس کے پاس آ کر بیٹھیں تھیں۔ اس نے کتاب ایک طرف رکھی اور ان کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے لیا۔ ہاتھ میں پکڑے کپ کے کنارے پہ شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ ذہرہ بی بی بغور اسی کیطرف دیکھ رہی تھیں۔ زیادہ بولنے کی عادت تو پہلے بھی اسکی نہیں تھی مگر اس واقعے کے بعد سے تو جیسے اسے چپ ہی لگ گئی تھی۔
دودھیا رنگت ماند پڑ گئی تھی۔۔اداس آنکھیں گھنٹوں ایک ہی نقطے پر مرکوز رہتیں۔۔ شہد رنگ بال اپنی بکھری حالت پہ نوحہ کناں دکھائی دیتے۔۔ہاتھوں میں پڑی کانچ کی کالی چوڑیاں خاموش تھیں۔۔دو دن سے وہ اس کالے لباس میں تھی۔ کالا رنگ اسے بہت پسند تھا۔ جو بھی لباس پہنتی تھی یا تو کالا ہوتا یا پھر اس میں کالا رنگ نمایاں ہوتا۔
ان کا دل بیٹھنے لگا۔
“مسکاء۔۔۔” انھوں نے پیار سے اس کے بال سنوارے۔
“اگلے مہینے۔۔” ان کے دوبارہ پکارنے پر وہ اپنے کام میں مگن بولی۔
“میں تو کہتی ہوں کہ تم شہر چلی جاو۔۔وہاں ہاسٹل میں یکسوئی سے پڑھ تو سکو گی۔ یہاں رہو گی تو پریشان رہو گی۔ وہاں سہیلیوں کے بیچ دل بہلا رہے گا۔ “
وہ نرمی سے اس کے کھلے بالوں کی چٹیا بناتے ہوئے بولیں۔۔اس نے چائے کا کپ لبوں سے لگایا۔
“اماں۔۔! آپکو گلالئی یاد ہے۔”
ان کے چٹیا بناتے ہاتھ تھم گئے۔۔
“ہاں۔۔۔یاد ہے۔۔بہت پیاری بچی تھی۔” انھوں نے ایک سرد سانس خارج کی۔
“اماں آپ بابا سے کہیں کہ میں باتور خان سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ اور بابا میری وجہ سے باتور خان سے دشمنی مول نہ لیں۔ کہیں نا کہیں تو کرنی ہی ہے شادی۔۔۔تو باتور خان سے ہی سہی۔۔”
وہ خالی کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے ان کی طرف مڑی جو اس کے بال سمیٹنے کے لئے اس کے پیچھے آ کھڑی ہوئیں تھیں۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔غلطی سے بھی اپنے بابا کے سامنے یہ بات مت کہہ دینا۔ وہ بہت خفا ہوں گے۔ تم جانتی ہی کیا ہو باتور خان کے بارے میں۔۔وہ تمھارے لئے مناسب نہیں ہے۔۔اگر وہ اچھا انسان ہوتا تو ہم کیوں انکار کرتے۔”
وہ اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے بولیں۔
“مگر اماں۔۔۔میں۔۔۔”
“بس چپ۔۔مجھے کچھ نہیں سننا۔۔ تم پریشان نہ ہو ہم دیکھ لیں گے سب۔۔خاموشی سے اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔”
انھوں نے اسے ٹوک دیا اور اسے پڑھنے کی ہدایت کرتی کمرے سے باہر آ گئیں۔
ان کے جاتے ہی وہ تکیے پہ سر رکھتی لیٹ گئی۔۔اب وہ انھیں کیسے بتاتی کہ باتور خان کہیں بار اسے راستے میں گھیر کر اسے دھمکیاں دیتا رہا ہے کہ اگر اس نے اس سے شادی نہ کی تو وہ اس کے ماں باپ کو زندہ نہیں چھوڑے گا یا پھر اسے اغواء کر لے گا۔ وہ اس سے چھپ کر بھی نکلتی مگر وہ نجانے کہاں سے آ ٹپکتا۔۔ تب سے اس نے گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
اس کی چبھتی نظریں ہر وقت اسے اپنا پیچھا کرتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔
“مسکاء!”
رحم دین کی آواز پہ وہ خیالوں سے باہر آئی۔وہ باہر آئی تو وہ صحن میں چارپائی پہ بیٹھے تھے۔ ذہرہ بی بی بھی پانی کا گلاس ہاتھ میں لئے ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ان کے پاس آئی۔
“جی بابا۔۔”
اس نے ان کے سرخ چہرے پہ نظر ڈالی۔
“بیٹا۔۔! ہاسٹل کب جانا ہے؟”
انھوں نے گلاس واپس ذہرہ بی بی کو تھمایا۔
“اگلے مہینے۔”
وہ ان کیطرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“اپنا سامان تیار کھو۔ ہم فجر کے بعد نکلنے کی کوشش کریں گے۔۔ میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا۔”
وہ اٹھتے ہوئے بولے۔
“میں بھی اسے یہی کہہ رہی تھی کہ ہاسٹل چلی جائے حالانکہ ابھی کافی دن ہیں مگر۔۔۔اس کا یہاں رہنا اب خطرے سے خالی نہیں۔” ذہرہ بی بی نے ان کی بات سے اتفاق کیا جبکہ مسکاء نے خاموشی سے سر اثبات میں ہلایا۔
“یہاں حالات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ زمان خان نے کہا ہے کہ اگر میر آ جائے تو اس کے ساتھ چلے جائیں۔اسطرح کسی کو شک بھی نہیں ہوگا۔ اسے بحفاظت چھوڑ آوں تو پھر میں اور زمان خان تھانے جائیں گے۔ اس کا اب مزید یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے۔”
وہ مسکاء کے سر پر ہاتھ رکھتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ میر آج ہی آ جائے تو اچھا ہوگا کیونکہ وہ مزید ایک بھی دن ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔
“جاو بیٹا تم تیاری کرو میں زرا تمھارے بابا کو کھانا دے دوں۔”
ذہرہ بی بی کچن کی طرف بڑھ گئیں تو وہ صحن میں لگے نل سے منہ ہاتھ دھونے لگی۔ ٹھنڈے پانی میں آنسووں کی گرمائش بھی شامل ہو رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ اسکی ماں متوجہ ہوتی وہ اپنے کمرے میں آ گئی۔ تیاری کیا کرنی تھی ۔الماری سے بیگ نکال کر اس نے اپنے گنتی کے چند جوڑے رکھے۔ زپ بند کر کے بیگ الماری میں رکھا اور الماری کے پٹ بند کر دئیے۔
ذہرہ بی بی کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ کتاب ہاتھ میں لئے خالی الزہہن چارپائی پر بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے سے اندازہ لگانا آسان تھا کہ وہ روتی رہی ہے۔ اس نے نظر اٹھا کر انھیں دیکھا۔
“اماں ۔۔۔میں آپ اور بابا کو اسطرح اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔ میرے جانے کے بعد حالات اور خراب ہو جائیں گے۔ وہ آپ لوگوں کے ساتھ نجانے کیا سلوک کریں۔”
وہ ان کے سینے سے لگی تو انھوں نے اسے بانہوں میں سمیٹ لیا۔
“بیٹا تمھارے بابا کا فیصلہ بالکل ٹھیک ہے۔ تمھارا یہاں نہ ہونا ہی صحیح ہے کیوں کہ تمھارے بابا کے تھانے جانے کے بعد حالات نجانے کیا رخ اختیار کریں اور پھر باتور خان کا کیا بھروسہ۔۔کہیں اوچھے ہتکنڈوں پہ نہ اتر آئے۔ تم منظر سے غائب ہو جاو گی تو کم از کم تمھاری طرف سے تو ہم پرسکون رہیں گے۔”
وہ اسے سینے سے لگائے سمجھا رہی تھیں۔
“مگر اماں۔۔۔”
“بس کوئی اگر مگر نہیں۔۔تم پریشان نہ ہو۔۔ہم ہیں نا۔ اب تم آرام کرو صبح جلدی جانا ہے۔”
وہ اسے آرام کرنے کی ہدایت کرتی کمرے سے نکل آئیں۔ ان کے جانے کے بعد اس نے نماز ادا کی۔ نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی مگر پھر بھی وہ آرام کی غرض سے لیٹ گئی۔۔
وہ جانتی تھی کہ آج کی رات تو کروٹ بدلتے ہی گزرے گی۔۔*************************
زمان خان حجرے میں داخل ہوا تو میر سربلند خان نے اسے آتے دیکھ کر منشی کو اشارہ کیا۔ زمان خان نے منشی کو دیکھا جو بڑے خان کے کان میں کچھ کہہ رہا تھا۔
“زمان خان میر آ گیا ہے یا نہیں؟؟” میر سربلند خان نے زمان خان سے پوچھا۔
“آج آ جائے گا خان۔۔”
وہ دھیرے سے بولے۔
“جب آ جائے تو اس سے کہو کہ ہم سے ملے۔ ہمیں نہ اسکے آنے کی خبر ہوتی ہے اور نہ جانے کی۔ تھوڑا پڑھ لکھ کیا گیا ہے اوقات بھول گیا ہے اپنی۔۔اگر ہم نے اسے آسمان کے نیچے کھڑا رہنا سکھایا ہے تو ہم اس کے سر سے یہ آسمان کھینچ بھی سکتے ہیں۔۔۔نمک حرام۔۔۔۔”
وہ زمان خان کو کڑی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کی بات انھیں کسی تازیانے کیطرح لگی۔ وہ سر جھکائے کھڑے تھے۔ اب وہ ان سے کیا کہتے کہ کسطرح وہ یہاں تک پہنچا ہے۔ ان کا بس چلتا تو وہ اسے پڑھنے ہی نہ دیتے۔ وہ ساری زندگی ان کی خدمت گزاری بھی کرتا تو تب بھی اسے یہی پکارا جاتا۔۔۔نمک حرام۔۔۔
“جی خان۔۔۔وہ جیسے ہی پہنچے گا میں آپ کے پاس بھیج دوں گا۔”
وہ سر جھکائے بولے۔
“زمان خان۔۔۔۔۔” باتور خان حجرے میں داخل ہوا اور جیسے ہی اس نے زمان خان کو دیکھا تو تقریبا بھاگتے ہوئے آ کر اسکا گریبان پکڑ لیا۔ اردگرد بیٹھے ہوئے لوگ بھی اٹھ کر ان کے پاس آ گئے تھے اور زمان خان کو چھڑانے لگے۔
“باتور خان۔۔ یہ کیا کر رہے ہو۔۔چھوڑو۔۔۔” مولوی صاحب نے اسے ٹوکا۔۔۔وہ مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں میر سر بلند خان سے بات کرنے کی غرض سے آئے۔ یہ نظارہ ان کے لئے نیا نہیں تھا مگر آج زمان خان کے ساتھ باتور خان کا رویہ انھیں ایک آنکھ نہ بھایا۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں داخل ہونے کی۔ تم ہوتے کون ہو ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑانے دینے والے۔”
باتور خان نہایت بدتمیزی سے انھیں گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ رہا تھا۔۔
“باتور خان۔۔۔۔۔چھوڑ دو زمان خان کو۔”
میر سربلند خان اس تماشے سے اچھے خاصے لطف اندوز ہونے کے بعد کھڑے ہوئے اور باتور خان کو زمان خان کو چھوڑ دینے کو کہا۔۔جب تک میر ان کی زندگی میں نہیں تھا زمان خان کی ایک الگ جگہ تھی لیکن جب سے انھوں نے میر سربلند خان کے منع کرنے کے باوجود میر کو سنبھالنا شروع کیا تو بڑے خان نے بھی انھیں ہر چیز سے الگ کر دیا۔ انھیں کچھ اور چاہیئے بھی نہیں تھا سوائے میر کے۔۔انھوں نے اپنی اولاد کی طرح پالا تھا اسے۔۔حالانکہ میر کو بڑے خان نے ہی ان کے حوالے کیا تھا۔وہ چاہتے تھے کہ میر کی تربیت اس خطوط پہ کی جائے کہ آگے جا کہ وہ ان کے کام آ سکے مگر زمان خان نے اسے ہتھیلی کا چھالا بنا ڈالا تھا۔بہانے بہانے سے اسے تعلیم دلوا رہے تھے اور پھر موقع دیکھ کر اسے شہر بھی بھیج دیا تاکہ وہ اپنا خواب پورا کر سکے۔ جو وہ بچپن سے دیکھتا آ رہا تھا۔
“چھوڑ دے باتور۔۔۔”
وہ دوبارہ بولے۔۔جس پہ باتور خان نے انھیں جھٹکا دے کر دروازے کی جانب پھینکا۔
وہ گرتے گرتے بچے تھے۔۔۔وہ کسی کے مضبوط بازو تھے جنھوں نے انھیں تھام کر انھیں گرنے سے بچایا تھا۔ انھوں نے سر اوپر اٹھا کر تھامنے والے کو دیکھا۔
“میر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ آنکھوں میں بیک وقت قہر اور نرمی لئے انھیں دیکھ رہا تھا۔ اس نے انھیں کھڑا ہونے میں مدد دی اور انھیں ایک طرف کر کے ان کے پھٹے ہوئے گریبان کو درست کیا۔۔ وہ اس وقت بھی کالے رنگ کا سادہ شلوار سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ وہاں موجود سبھی لوگوں کی نظریں اسی پہ ٹکی تھیں۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد۔۔گندمی رنگت میں سرخی لئے وہ باتور خان کی جانب مضبوط قدموں سے بڑھا۔۔ بلاشبہ وہ مردانہ وجاہہت لئے ایک بھرپور مرد تھا۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے بابا کو ہاتھ لگانے کی۔”
اس نے باتور خان کو گریبان سے پکڑا۔ اس کا دایاں ہاتھ اٹھا اور باتور خان کے چہرے پہ اپنی مکمل چھاپ چھوڑ گیا۔ باتور خان میر سربلند خان کے قدموں میں جا گرا۔ تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ باتور خان کو اپنا چہرہ سن ہوتا محسوس ہوا اور کانوں میں اس تھپڑ کی گونج اپنا اثر چھوڑ گئی۔ میر سربلند خان کے ساتھ ساتھ وہاں موجود سبھی لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ وہ حیران نظروں سے میر کو دیکھ رہے تھے۔ انھیں لگا جیسے ان کے سامنے میر نہیں میر دراب خان کھڑا ہے۔ وہ میر دراب خان جو دکھتا کڑیل اور اندر سے نرم دل تھا۔
انھیں لگا جیسے ان کا جسم بھربھری مٹی کیطرح ڈھے جائے گا۔ انھوں نے دیکھا کہ میر دراب خان ان کے قریب آتا جا رہا ہے وہ گھبرا کر پیچھے ہوئے۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر میر کو روکتا۔ زمان خان بھی حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
“بتا۔۔۔نہیں تو وہ حشر کروں گا کہ پوری زندگی اپنے قدموں پہ کھڑا نہیں ہو پائے گا۔”
میر نے باتور خان کو ان کے قدموں سے اٹھایا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے کہے ہوئے پر عمل کرتا زمان خان نے اس کی طرف بڑھ کر اسے روکا۔
“بس میر۔۔۔بڑے خان موجود ہیں یہاں۔۔۔بس کرو۔” انھوں نے باتور خان کا گریبان اس کے ہاتھوں سے چھڑایا اور اسے پیچھے کیا۔
“زمان خان اپنے بیٹے کو تمیز سکھا۔ تیرا بیٹا ہے اس لئے چھوڑ رہا ہوں ورنہ اس بدتمیزی کا انجام اچھا نہ ہوتا۔ ہماری بندوق کی ایک گولی ہی کافی تھی۔ ہمارے بندے پہ ہاتھ اٹھانا اسے بہت مہنگا پڑ سکتا تھا اگر تم نہ ہوتے۔”
میر سربلند خان کے خود کو سنبھالا۔۔
“آئندہ مجھ سے پچاس گز دور رہنا ورنہ اس سے بھی برا حال کر دوں گا۔”
وہ ان کی بات پر کان دھرے بنا باتور خان کو وارن کرتا زمان خان کو لئے حجرے سے نکل آیا۔
“رک جاو باتور خان۔۔۔اب پیٹھ پیچھے سے وار کرنے کا کیا فائدہ۔”
باتور خان اس کے پیچھے جانے لگا تو میر سربلند خان بولے۔ انکی بات نے باتور خان کو آگ لگا دی اور قدم وہہیں جم کر رہ گئے مگر دل میں تہیہ کر چکا تھا کہ میر سے اپنی بےعزتی کا بدلہ ضرور لے گا۔
“بابا۔۔! آپ ٹھیک ہیں؟؟”
وہ ان کے کپڑوں پہ لگی مٹی جھاڑے لگا۔۔
“میں ٹھیک ہوں لیکن تمھیں باتور خان سے منہ ماری نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ اب آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے۔”
وہ پریشان نگاہوں سے حجرے کے دروازے کیطرف دیکھ رہے تھے جہاں سے ابھی باتور خان بہت غصے میں نکل کر گیا تھا۔
“وہ کچھ نہیں کر سکتا بابا۔۔”
اسں نے ان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔*************************
میر سربلندخان کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ میر دراب خان سے اس قدر مماثلت رکھتا ہو گا۔ اس کی ایک نظر سے ان کے اندر ایک جنگ سی چھڑ گئی تھی۔ انھیں کب امید تھی کہ ایک دن وہ اسطرح سے ان کے سامنے آ کھڑے ہوں گے۔ حجرے میں وہ مزید رک نہیں سکے تھے اس لئے فورا وہاں سے نکل آئے تھے یہ جانے بغیر کہ ان کی پریشان صورت دیکھ کر وہاں موجود لوگ حیران تھے۔ سبھی نے ہمیشہ ان کا رعب و دبدبہ دیکھا تھا۔
گھر میں گونجتی خاموشی پر ان کے اندر کا شور غالب آ گیا۔ دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے پیشانی مسلتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہوئے۔ واسکٹ اتار کر ایک طرف پھینکی اور بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔ بند آنکھوں کے پیچھے کچھ دیر پہلے کا دیکھا چہرہ پھر نمودار ہوا۔ پٹ سے آنکھیں کھول کر وہ اٹھ بیٹھے۔ وہی ناک نقشہ ، قد کاٹھ ، روشن پیشانی ، کھڑی ناک ۔۔۔۔۔۔سب کچھ تو ویسا ہی تھا جیسا پچیس سال پہلے تھا۔ ان کی آنکھوں کے آگے وہی منظر ایک بار پھر ابھرا تھا۔۔۔میر دراب خان کے بالکل سامنے وہ کھڑے تھے۔۔۔وہ۔۔۔۔میر سربلند خان۔۔۔جس نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا تھا۔۔ جو صرف اور صرف ہرانا جانتا تھا اور ہرانا بھی چاہتا بھی۔۔جو اپنے باپ کے سامنے بھی ڈٹ جاتے تو کوئی آندھی طوفان بھی ان کے قدم اکھاڑ نہیں سکتی تھی۔ تو پھر اپنے بھائی سے کیسے ہار تسلیم کر سکتے تھے اور بھائی بھی سوتیلا۔۔۔بہادر تو میر دراب خان بھی تھے مگر دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔ وہ ایک مضبوط تناور درخت کیطرح تھے جس کی جڑیں زمیں میں دور تک پھیلی ہوئیں تھیں اور جسکا سایہ وسیع تھا۔ گاوں کے لوگ اس کے سائے میں سستانے آتے تو وہ انھیں سمیٹ لیتا۔ پھر پریشانیوں کی دھوپ میں جھلستا آدمی کیکر کے پاس تھوڑی نہ جاتا ہے وہ تو اس شجر کی چھاوں میں آتا ہے جو اسے موسم کی تمازت سے بچائے اور ٹھنڈک مہیا کرے۔۔پھر جہاں سوتیلے ہونےکی وجہ سے کڑواہٹ ہو وہاں خون کی گرمائش بھی کام نہیں آتی۔۔میر دراب خان کی سلجھی طبیعت ان کی ایک ایسی خوبی تھی جس سے وہ ہر دلعزیز تھے مگر اپنے بھائی کے دل میں چبھا ایک ایسا کانٹا تھے جس کی چبھن ہر پل محسوس ہوتی ہے۔ وہ اس کانٹے کو نکال دینا چاہتے تھے۔ جسکا موقع انھیں جلد ہی مل گیا تھا۔
دروازے پہ ہوئی دستک نے ان کو خیالوں سے نکالا۔ ملازمہ اجازت طلب کرتی اندر داخل ہوئی اور ٹرے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا۔۔ گھر میں ملازموں اور ان کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ آج ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا گھر والے سب سیروتفریح کے لئے گئے تھے۔اس لئے وہ زیادہ تر وقت حجرے میں گزارتے تھے۔ شہنیلا کے کالج کی چھٹیاں تھیں اس لئے ہاسٹل سے آتے ہی اسکی ایک ہی رٹ تھی کہ اسے مری جانا ہے۔ میر سربلندخان اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی کی کب کوئی بات ٹالتے تھے۔ اس لئے اگلے دن ہی تمام انتظام مکمل کر کے انھیں بھیج دیا۔
سر جھٹک کر انھوں نے شاہ زیب کا نمبر ملا کر فون کان سے لگایا۔
اتنے میں ملازمہ چائے رکھ کر جا چکی تھی۔
تیسری بیل پر کال ریسیو کر لی گئی۔
“ہیلو بابا جان۔۔! کیا حال چال ہیں آپ کے۔۔”
دوسری جانب سے شہنیلا کی چہکتی آواز سنائی دی۔
“بابا کی جان۔۔! میں ٹھیک ہوں۔ تم سب کیسے ہو۔۔ اور کب تک واپسی ہو گی؟”
اسکی آواز سن کر وہ سب بھول گئے۔
“بس بابا جان ۔۔۔ہم سب ٹھیک ہیں اور یہاں سب کچھ اتنا اچھا ہے کہ واپس آنے کو جی ہی نہیں چاہ رہا۔لیکن محض دو دن اور۔۔۔۔۔۔پھر ہم آپ کے پاس ہونگے۔۔”
خوشی اس کے لہجے سے چھلک رہی تھی۔
“شاہ زیب اور عالمزیب کہاں ہیں؟”
انہوں نے بیٹوں کے متعلق پوچھا۔
“شاہ زیب لالا اور عالمزیب لالا بچوں کو لے کر نکلے ہیں۔ میں اور مما یہیں ہیں روم میں ۔۔۔مما سو رہی ہیں۔آپ کہیں تو جگا دوں؟؟”
وہ مسکرائی تھی۔
“نہیں۔۔جب اٹھ جائیں تو پھر سب سے میری بات کروانا۔اپنا خیال رکھو۔۔اللہ حافظ۔”
“جی۔۔آپ بھی اپنا خیال رکھیں۔۔۔۔اللہ حافظ۔”
انہوں نے موبائل فون سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر چائے کا کپ اٹھا لیا۔ ایک مرتبہ پھر سے ان کی سوچ کا محور میر دراب خان تھے۔۔۔
میر تھا۔۔
***************
وہ تولیے سے بالوں کو رگڑتا واش روم سے نکلا تو زمان خان نے کھانے کی ٹرے چھوٹی سی ٹیبل پہ رکھی۔ کمرہ نہ بہت کشادہ تھا نہ بہت چھوٹا۔۔کمرے کے وسط میں ایک پلنگ تھا جس پہ گلابی پھولدار چادر بچھائی گئی تھی۔ پلنگ کے ایک طرف دو کرسیاں اور ایک چھوٹی ٹیبل رکھی تھی۔ دوسری طرف لکڑی کی الماری رکھی تھی۔
وہ تولیہ بیڈ پر گراتا کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ زمان خان نے دائیں بائیں سر ہلا کر اسے پیار بھری گھوری سے نوازا۔ جس پہ وہ کندھے اچکاتا مسکرا دیا۔ میر تھوڑا سا لاابالی تھا۔ چیزیں ادھر سے ادھر کر دیتا اور پھر ڈھونڈتا رہتا۔ یہ زمان خان ہی تھے جو اسکی ہر چیز سنبھال کر رکھتے تھے۔ بےترتیبی انھیں بالکل پسند نہیں تھی اس لئے اٹھے۔۔تولیے کو اسکی جگہ پہ رکھا اور واپس آ کر چئیر پہ بیٹھ گئے۔ ان کے آنے تک وہ کھانا اسٹارٹ کر چکا تھا۔ انھوں نے تھوڑا سا سالن اپنی پلیٹ میں نکالا اور کھانے لگے۔ گاہے بہ گاہے میر پہ بھی نظر ڈال دیتے۔
“بابا۔۔آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔۔جب سے گھر آئے ہیں میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بےچین اور کچھ پریشان سے ہیں۔۔کیا بات ہے۔۔کیا خان جی نے کچھ کہا ہے آپ سے یا پھر حجرے میں ہوئے واقعے کو لے کر پریشان ہیں۔”
اس نے ان کی بےچینی دیکھ کر کھانے سے ہاتھ روک دیا۔
“نہیں بیٹا میں تو رحم دین کے لئے پریشان ہوں۔” وہ اپنی پلیٹ ایک طرف کرتے ہوئے بولے۔۔پریشانی ان کے چہرے سے ہویدا تھی۔
“کیوں کیا ہوا رحم دین چاچا کو۔۔؟؟”
اس نے کرسی کو ٹیبل سے مزید قریب کیا۔ اس کے پوچھنے پر انہوں نے ساری بات اسے بتائی جسے سن کر اس نے افسوس سے سر ہلایا۔ اسے کچھ مہینے پہلے کا واقعہ یاد آیا جب گلالئی نامی لڑکی کو رشتہ نہ دینے پر اس کی شادی والے دن ہی اس لڑکے نے اسے قتل کر دیا تھا۔ تب سے گاوں میں اسکا دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس ظلمت کدے میں زبان بند کیے رہنا اس کے لئے بہت مشکل تھا اور زمان خان اسے کسی کے معاملے میں بولنے نہیں دیتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ میرسربلند خان کی نظروں میں آئے لیکن وہ اپنے گاوں کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا اس لئے وہ بہت محنت کر رہا تھا تاکہ اپنا مقصد پا سکے اور ان ظالموں کو سبق سکھا سکے جنھوں نے اس گاوں کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا تھا اور جو جی میں آتا تھا بے دھڑک کرتے پھرتے تھے۔
“تھانے جا کر رپورٹ کرتے باتور خان کے خلاف۔”
وہ سر جھٹک کر دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔
“یہاں کا ایس۔ایچ۔او بھی اس سے ڈرتا ہے۔ بڑے خان کی سرپرستی کی وجہ سے اس کا دل جو کہتا ہے وہ وہی کرتا ہے اور کسی میں ہمت نہیں کہ اسے کچھ کہہ سکے بلکہ پچھلے مہینے کی بات ہے کہ اس کے ایک آدمی نے سکول جانے والی ایک لڑکی کے ساتھ چھیڑا چھاڑی کی۔ اس کے باپ نے تھانے جا کر اس کے خلاف رپورٹ درج کروا دی۔ پولیس اسکے پیچھے آئی تو اس نے ان کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔ باتور خان کو معلوم ہوا تو اس نے اس لڑکی کے باپ کو بھی مارا اور جس نے رپورٹ درج کی اسے بھی اتنا مارا کہ وہ بیچارا کہیں دن تک بستر سے نہیں اٹھ سکا تھا۔”
اسے افسوس ہوا کہ کاش وہ یہاں ہوتا تو وہ اس باتور خان کو وہ سبق سکھاتا کہ اس کی آئیندہ نسلیں یاد کرتیں۔
“اچھا مجھے تم سے کام تھا۔ تم رہو گے یا واپس جانا ہے؟”
انھوں نے کچھ سوچتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“میرے کچھ ضروری ڈاکومنٹس یہاں رہ گئے تھے وہی لینے آیا تھا۔ صبح سویرے واپس جاوں گا۔”
وہ ان کیطرف دیکھ رہا تھا جو پھر سے بےچین دکھائی دے رہے تھے۔
“بابا۔۔آپ کو جو کہنا ہے کھل کر کہیں۔”
اس نے انھیں شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر کہا۔
“وہ دراصل رحم دین چاہتا ہے کہ کسی طرح اپنی بیٹی کو بحفاظت شہر پہنچا دے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ گاوں میں کسی کو پتہ نہ چلے۔ اس بارے میں وہ بہت پریشان تھا اس لئے میں نے اسے کہا کہ تمھارے آنے تک رک جائے۔ تمھارے ساتھ جائیں گے تو وہ محفوظ رہیں گے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور نہ ہی کسی کو شک ہو گا۔”
وہ پر سوچ نظروں سے انھیں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ان کی بات ختم ہونے پر وہ گہری سانس خارج کرتا کرسی سے پشت لگا گیا۔
“ٹھیک ہے بابا۔۔۔میں فجر کے بعد روانہ ہوں گا آپ رحم دین چاچا کو بتا دیجیئے کہ وہ تیار رہیں اور ان سے کہیے گا کہ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
یہ کہہ کر اس نے ہاتھ سے گھڑی اتار کر ٹیبل پہ رکھی اور پلنگ پہ لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔
زمان خان بھی خاموشی سے کمرے سے باہر آ گئے۔ وہ رحم دین کو بتانے اس کے گھر کی طرف چل دئیے۔
جاری ہے۔۔۔
