Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode16

Ghag By Mahwish Urooj Episode16

چارج سنبھالتے ہی سب سے پہلے اس نے حوالات میں بند ایسے نوجوان جنھوں نے باتور خان کے خلاف یا میرسربلند کے خلاف اٹھنے کی کوشش کی تھی اور جنھیں بنا کسی کیس کے اندر کیا گیا تھا۔ان سب کو رہا کیا تھا۔یہ لوگ کئی کئی مہینوں سے ان جیلوں میں بند تھے۔
قانون کا یہاں صرف نام ہی تھا جبکہ راج تو میرسربلند خان اور اسکے ٹٹ پونجیوں کا چلتا تھا۔ایس۔ایچ او بھی انہی کا کھاتا تھا اسی لئے انہی کی زبان اس کے لئے قانون کا درجہ رکھتی تھی۔اسے یہاں پر تمام مراعات مہیا تھیں جو اسے اور کہیں جانے نہیں دیتی تھیں اور اگر کہیں ٹرانسفر ہو بھی جاتا تو میرسربلند خان سے کہلوا کر رکوا دیا جاتا تھا۔وہ بھی کب چاہتے تھے کہ وہ یہاں سے جائے اس لئے بغیر کسی ٹال مٹول کے تبادلہ رکوا دیتے تھے۔ اب اگر کوئی نیا بندہ آتا تو اسے بھی اپنے راستے پہ لانا پڑتا اور یہ ترلے ان سے بار بار نہیں ہوتے تھے۔
اس وقت بھی وہ اپنے آفس میں گلالئی کیس کی فائل دیکھ رہا تھا جب اسے آئی۔جی صاحب کی کال موصول ہوئی تھی۔انھوں نے اسے بہت ڈانٹا تھا اور واضح طور پر خبردار کیا کہ وہ میرسربلند خان جو کہ ایک سیاسی شخصیت تھے۔۔ان کے خلاف کھڑا ہو کر اپنے اور ان کے لئے مسائل نہ پیدا کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اسے شکور اور اسکے ساتھی کہ فورا چھوڑ دینے کو کہا تھا۔اس کے تفصیل بتانے کے باوجود وہ اسکی بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھے اور اسے آرڈر دیا تھا کہ فورا سے پیشتر شکور کو رہا کرے اور جا کر میرسربلند خان سے اپنے رویے کی معافی بھی مانگے۔تب سے وہ بپھرا ہوا بیٹھا تھا اور ساتھ ہی پورے عملے کی بھی شامت لائی ہوئی تھی۔وہ بھڑکتے ہوئے شکور کے پاس آیا تھا۔شکور کی آنکھوں میں کوئی خوف نہیں تھا وہ بڑے آرام سے بیٹھا اسکے لال بھبوکا چہرے کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں ان سب سے ڈر کر تمھیں چھوڑ دوں گا تو یہ تمھاری بھول ہے۔”
وہ اس کے سر پہ کھڑا اسے کڑے تیوروں سے گھور رہا تھا۔
“میر۔۔! میری فکر چھوڑ دو۔۔۔اپنے گھر کی فکر کرو۔۔جہاں تم نے رحم دین کی بیٹی کو چھپا کر رکھا ہے۔تم کیا سمجھتے ہو ہمیں پتہ نہیں چلے گا۔خان جی کو میں بتا چکا ہوں کہ تم ہی ہو جس نے رحم دین کی بیٹی سے شادی کی ہے۔”
شکور ہنسا تھا۔
“کیا بکواس کر رہے ہو۔۔کیا ثبوت ہے تمھارے پاس۔۔؟؟”
ضیغم نے اسے گریبان سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کر کے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔اسکے چہرے کے تاثرات اسکے غصے کو بھڑکانے کے لئے کافی تھے۔
“بکواس نہیں ہے۔۔تم ہی ہو جس نے رحم دین کی بیٹی سے نکاح کیا ہے۔جس لڑکی پہ باتور خان نے غگ کیا تھا۔”
وہ اپنا گریبان اس کے ہاتھوں سے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا مگر اسکی گرفت مضبوط تھی۔وہ خود کو چھڑا نہیں پایا تھا۔
“تم جانتے ہو نا کہ غگ ہوئی لڑکی سے نکاح کا کیا مطلب ہوتا ہے اور اگر تمھیں نہیں معلوم تو بہت جلد اس کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔تم جانتے نہیں ہو خان جی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے تو وہ تمھاری بیوی کو اپنے قبضے میں کر کے باتور خان کے حوالے کریں گے اور پھر تمھاری ایک گمنام قبر بنائیں گے۔”
شکور کے دھیمی آواز میں کہے گئے الفاظ اس کے اندر آگ لگا گئے۔اس نے اسے جھٹکے سے نیچے گرایا اور پھر آو دیکھا نہ تاؤ اس پہ لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ عمر خان شکور کی آواز سن کر تیزی سے اسکی جانب آیا تھا۔ضیغم کے لب سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔ماتھے پہ ابھرتی سبز لکیر اسکے شدید غصے میں ہونے کی غماز تھی۔
“سر چھوڑ دیں اسے۔۔۔۔۔۔” عمر خان نے ضیغم کو روکنا چاہا مگر اس نے اسے بھی پیچھے دھکیل دیا تھا۔شکور ادھ مرا سے آڑھا ترچھا زمین پہ پڑا تھا۔عمر خان نے آگے بڑھ کر اسکی سانس چیک کی۔
“یہ ڈھیٹ ہڈی ہے اتنی جلدی نہیں مرنے والا۔” ضیغم عمر خان کو شکور کو چیک کرتے دیکھ کر ہانپتے ہوئے بولا۔
“سر۔۔۔۔۔!”
عمر خان نے اس کی جانب حیرانی سے دیکھا۔اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس قدر جنونی بھی ہو سکتا ہے۔اگر وہ آ کر نہ روکتا تو شکور کی موت یقینی تھی۔ضیغم ماتھے پہ چمکتا پسینہ پونچھ کر وہاں سے چلا گیا۔عمر خان اسے جاتے دیکھتا رہتا اگر شکور کے کراہنے کی آواز نہ آئی ہوتی۔ اس نے کانسٹیبل کو بلایا جو جیل سے باہر کچھ فاصلے پہ کھڑا تھا۔ مگر وہ بھی جان نہیں پایا تھا کہ شکور نے ایسا کیا کہا تھا جس پہ اے۔ایس۔پی صاحب نے اسکی یہ حالت کر دی تھی۔وہ بس وہیں کھڑا اسکی درگت بنتے دیکھ رہا تھا۔
“ٹھیک ہے تم اسے پانی پلاو اور فلحال کسی کو بھی اس سے ملنے مت دینا۔”
عمر خان شکور کو کانسٹیبل کے حوالے کیا اور خود ضیغم کے آفس کی جانب آ گیا۔
“سر۔۔! کیا سوچ رہے ہیں؟”
وہ فائل کھولے بیٹھا تھا جب عمر خان اس کے آفس میں داخل ہوا تھا۔نظریں فائل پہ تھیں مگر سوچ کا محور کچھ اور تھا۔اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ کافی حد تک خود پہ قابو پا چکا تھا۔
“ہاں عمر خان۔۔آو بیٹھو۔”
عمر خان کی آواز نے اسے گہری سوچ سے نکالا تھا۔
“سر آپ نے شکور اور اسکے ساتھی کے متعلق کیا سوچا۔۔۔انھیں چھوڑ دوں؟؟”
اپنی بات کے اختتام پہ عمر خان نے اسکے پرسوچ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں۔۔۔۔شکور کو تو کسی صورت نہیں چھوڑنا۔اس پہ کڑی نظر رکھو۔کون کون اس سے ملنے آتا ہے۔۔میری موجودگی میں اور میری غیر موجودگی میں۔۔وہ میرسربلند خان کا خاص آدمی ہے۔۔بہت کام آ سکتا ہے ہمارے۔۔۔”
وہ عمر خان کی طرف بغور دیکھتے ہوئے بولا۔
“یس سر۔۔!”
عمر خان اٹھ کر جانے لگا۔
“تمھارے لئے ایک اور کام ہے۔” وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
“یس سر۔۔!”
عمر خان پلٹا تو ضیغم دھیمی رفتار سے چلتا اس کے پاس آیا۔
“علاقے کا دورہ کرو اور جبار خان کو گرفتار کرو۔گلالئی قتل کیس کی فائل تیار کرو۔میں اسے حوالات کے پیچھے دیکھنا چاہتا ہوں۔گواہ اور ثبوت مل جائیں گے۔ہر ایک شخص کو شامل تفتیش کرو اور ایس۔ایچ۔او صاحب کو بھی ساتھ لے کر جاو اور انھیں اپنے ساتھ ہی رکھنا۔”
وہ کیپ پہنتے ہوئے بولا تھا۔
“ٹھیک ہے سر۔۔۔!! لیکن آپ کہیں جا رہے ہیں کیا؟”
عمر خان نے اسے والٹ اور موبائل اٹھاتے دیکھ پوچھا۔
“ہاں میں ڈی۔آئی۔جی صاحب سے ملنے شہر جا رہا ہوں۔واپسی رات تک ہو گی۔اب چونکہ آئی۔جی صاحب میرے فرض کے راستے میں آ رہے ہیں تو اس معاملے کو میں ڈی۔آئی۔جی صاحب سے مخفی رکھنا مزید روکاوٹ بنے گا۔اس لئے یہاں کے تمام مسائل میں ان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔۔آج ہی تم جبار خان کو گرفتار کرو اور اسکا بیان ریکارڈ کرواو اور اگر اکڑ دکھائے تو ساری اکڑ اپنے ہاتھوں سے دھو ڈالنا۔میں اسے جلد سے جلد تختہ دار پہ دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ اس کے بعد مزید کوئی بھی اس گھٹیا رسم کا ارتکاب کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے۔”
عمر خان کو چند اور ضروری ہدایات دے کر وہ آفس سے نکل آیا۔ باہر آ کر اس نے وہی ہدایات ایس۔ایچ۔او طارق خان کو دی اور ساتھ ہی ساتھ اسے وارن بھی کیا کہ اگر اس نے اس کیس کے ساتھ جڑے کسی بھی مجرم کی پشت پناہی کی یا پھر انھیں ادھر ادھر کرنے کی کوشش کی تو نتائج کا زمہ دار وہ خود ہو گا۔ایس۔ایچ۔او نے اسے یقین دلایا کہ وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرے گا۔ ضیغم عمر خان کو اشارہ کرتے ہوئے تھانے سے نکل گیا۔اس کے جانے کے بعد عمر خان اور ایس۔او۔طارق بھی نکلنے کی تیاری کرنے لگے۔
وہاں سے نکلنے کے بعد ضیغم سیدھا گھر آیا تھا۔راستے میں آتے ہوئے اس نے ڈی۔آئی۔جی صاحب سے میٹنگ فکس کر لی تھی۔زمان خان اس وقت گھر میں ہی تھے جب وہ گھر میں داخل ہوا۔وہ باہر صحن میں ہی دھوپ میں بیٹھے تھے جبکہ مسکاء ادھر ادھر کے کاموں میں مگن تھی۔اس نے زمان خان کو اپنے شہر جانے کے متعلق بتایا اور شکور کی کہی ہوئی تمام باتیں بھی ان کے گوش گزار کر دیں۔اس کی بات سن کر وہ بہت پریشان ہو گئے تھے۔
“اب کیا ہو گا میر۔۔۔!! تم شہر جا رہے ہو اور اگر اس دوران خان جی نے کچھ الٹا سیدھا کر دیا تو۔۔میں کیسے سنبھالوں گا اکیلے۔۔۔تم مسکاء کو بھی ساتھ لے جاو۔۔اسطرح کم از کم وہ محفوظ تو رہے گی نا۔”
وہ پریشانی سے اس کی جانب دیکھ رہے تھے۔
“بابا۔۔۔کچھ نہیں ہو گا۔۔میں ایک کانسٹیبل عبدالرحمن کو ساتھ لایا ہوں۔وہ یہاں پہرہ دے گا۔آپ پریشان نہ ہوں اور پھر میں شام تک واپس آنے کی پوری کوشش کروں گا۔بس آپ تھوڑی ہمت رکھیں۔”
ضیغم نے مسکاء کیطرف دیکھا جو وہیں کھڑی تھی۔اس کے چہرے پہ خوف کے سائے دکھنے لگے تھے۔
“بابا۔۔۔اگر آپ ہی ہمت چھوڑ دیں گے تو کیسے ہو گا سب۔۔میں اس مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں ہی جا رہا ہوں۔آپ اسطرح کیجیئے کہ مقتدر خان سے بات کیجیئے وہ جرگے کے بڑے ہیں۔اب مسکاء میری عزت ہے۔ ہم نے مل کر اپنی بقاء کی جنگ لڑنی ہے اور اپنے گاوں اور آس پاس کے علاقے کو اس ناسور سے پاک کرنا ہے تاکہ ہمارے لوگ کھل کر سانس لے سکیں۔آپ سمجھ رہے ہیں نا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔”
وہ ان کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔انھوں نے سر اثبات میں ہلایا۔
“لیکن میرے وہاں جانے کے دوران مسکاء اکیلی ہو جائے گی۔”
“مسکاء کو میں لے جاوں گی اپنے ساتھ۔۔جب تک میر نہیں آ جاتا وہ میرے پاس رہے گی۔”
انھوں نے آواز کی سمت دیکھا۔۔ماہ گل آہستگی سے کہتی ضیغم کے پاس رکھی کرسی ان کے قریب گھسیٹ کر بیٹھ گئیں۔
“مسکاء۔۔! ایک گلاس پانی تو لاو۔”
ماہ گل نے مسکاء سے کہا تو وہ کچن میں چلی گئی۔
“مگر تم کیسے لے کر جاو گی بی بی گل؟”
زمان خان نے پوچھا۔
“میرے پاس کچھ برقعے ہیں گاوں کی عورتوں کو دکھانے لے گئی تھی۔ان میں سے ایک پہن لے مسکاء۔میری بہو بھی ایسا ہی برقع پہنتی ہے۔کسی کو شک نہیں ہو گا۔”
وہ تھیلے میں سے ایک برقع نکال کر بولیں۔ وہ کالے رنگ کا افغانی اسٹائل کا شٹل کاک تھا۔
“بی بی گل پانی۔۔۔۔۔۔۔”
مسکاء نے ہاتھ میں پکڑا گلاس ماہ گل کی جانب بڑھایا مگر نظریں چارپائی پہ پڑے شٹل کاک پہ تھیں۔وہ ان کی بات سن چکی تھی۔
“ارے واہ۔۔۔بی بی گل یہ تو ذبردست آئیڈیا ہے۔”
ضیغم نے لبوں پہ ڈر آنے والی ہنسی کو روکا۔۔ماہ گل نے داد طلب نظروں سے مسکاء کی طرف دیکھا۔
“بی بی گل۔۔میں نے یہ کبھی نہیں پہنا۔۔میں گر جاوں گی۔”
وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔
“دہ لا اوگورہ۔۔۔۔ٹول خزے اچی او دہ وئی( لو اور سنو۔۔۔ساری عورتیں پہنتی ہیں اور یہ کہہ رہی ہے)”میں گر جاوں گی۔”
ماہ گل بھی اسی کیطرح منہ بنا کر بولیں۔زمان خان اور ضیغم ان کا انداز دیکھ کر مسکرا دئیے تھے۔
“اور نہیں تو کیا۔۔۔۔۔مسکاء ذرا پہن کے دکھاو۔”
ضیغم نے اپنی ہنسی بمشکل روک کر برقع مسکاء کی جانب بڑھایا۔
“ہاں بیٹا۔۔۔لے لو۔۔اور تم بی بی گل کے ساتھ چلی جاو۔۔میں ذرا مقتدر خان سے مل آوں۔۔بی بی گل تم لے جاو گی نا مسکاء کو۔۔۔”
زمان خان نے ماہ گل سے پوچھا۔
“ہاں ہاں۔۔۔زمان خان۔۔میں لے جاوں گی اسے تم بے فکر ہو کر جاو۔”
ماہ گل نے انھیں یقین دلایا۔
“لو۔۔۔۔۔۔”
ضیغم نے ایک بار پھر بلیک شٹل کاک مسکاء کی جانب بڑھایا تھا۔اس نے ضیغم کو غصیلی نگاہوں سے گھورتے ہوئے اسکے ہاتھ سے برقع لے لیا۔۔
“اچھا تو ہم چلتے ہیں۔”
ماہ گل گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“ایسے کیسے بی بی گل۔۔۔تھکی ہوئی آئی ہیں کچھ دیر تو بیٹھیں۔۔چائے پی کر جائیں۔۔مسکاء بی بی گل کے لئے چائے بنا کر لاو۔”
ضیغم نے مسکاء کو متوجہ کیا جو برقع کے نشیب و فراز کا جائزہ لینے میں مگن تھی۔وہ برقع وہیں چارپائی پہ رکھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔ماہ گل بھی چائے کا سن کر واپس بیٹھ گئیں تھیں۔وہ چائے لے کر آئی تو ضیغم روم میں جا چکا تھا۔اس نے کپ ٹیبل پہ رکھ دیا۔
“بی بی گل۔۔! دوسرا والا برقع ہے آپ کے پاس۔۔یہ میں نے کبھی پہنا نہیں۔”
مسکاء نے ایک بار پھر برقع اٹھا لیا۔
“تو تم نے کونسا ساری عمر کے لئے پہننا ہے۔۔یہ میرے گھر تک تو جانا ہے اور نہیں گرو گی تم۔۔میرا ہاتھ پکڑ لینا۔”
وہ خالی کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسے بھی چلنے کا اشارہ کیا۔
“میر۔۔۔۔ہم جا رہے ہیں۔”
ماہ گل روم کی جانب چلی گئیں جبکہ مسکاء برقع ہاتھ میں لئے ان کے باہر آنے کا ویٹ کرنے لگی۔تھوڑی دیر بعد ماہ گل اور ضیغم باہر نکلتے دکھائی دئیے۔ماہ گل دروازے کی طرف بڑھنے لگیں تو مسکاء نے بھی ان کے ساتھ قدم بڑھائے۔
“برقع تو پہنو نا۔۔۔۔۔”
ماہ گل نے اسکی جانب دیکھا جو برقع ہاتھ میں پکڑے ان کے ساتھ چل رہی تھی۔مسکاء نے رک کر ضیغم کی طرف دیکھا جو ہنسی دبائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔گھر آنے سے پہلے وہ کس قدر غصے میں تھا لگتا تھا اسکے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی مگر مسکاء کو دیکھ کر اسکا سارا غصہ جیسے اڑن چھو ہو گیا تھا۔وہ چاہتی تھی کہ ضیغم ان سے پہلے نکلے مگر وہ بھی اس کی جھجک سمجھ چکا تھا اس لئے ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں گھسائے دروازے کی پاس کھڑا تھا۔ماہ گل نے ایک بار پھر اسکا دھیان برقعے کی جانب دلایا تو ناچار اسے پہننا پڑا۔اس کی ہونق شکل دیکھ کر ضیغم سے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو گیا۔آ نے چہرہ دروازے کی جانب کر دیا لیکن مسکاء اسے ہنستے دیکھ چکی تھی۔
“اچھا بیٹا خیر سے جاو اور خیر سے آو۔” ماہ گل نے ضیغم کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور بیرونی دروازہ پار کر گئیں۔مسکاء بھی برقعے کا اگلا حصہ گرا چکی تھی۔وہ برقعے کی جالی میں سے ضیغم کو گھورتے ہوئے گزری۔
“آہ۔۔۔۔!!”
مسکاء اسے چٹکی کاٹ کر گئی تھی۔اپنے پیچھے اس کی آواز پہ وہ ہنسی تھی۔اس نے پلٹ کر برقعے کا پلو اٹھا کر سر پہ رکھا۔۔۔ہاتھ جھاڑتے ہوئے اسے دیکھا اور واپس پلٹ کر پلو گرا کر آگے بڑھ گئی جبکہ ضیغم اس کی شرارت پہ مسکرا دیا۔ ______________________________________________
جرگے میں اس وقت گاوں کے بزرگ موجود تھے۔ابھی تک کسی کو بھی معلوم نہ ہو سکا تھا کہ ان سب کو وہاں کیوں بلایا گیا ہے۔میرسربلند خان بےچینی سے ادھر سے ادھر چکر لگا رہے تھے۔انھیں خود بھی نہیں معلوم تھا کہ مقتدر خان نے ان سے جرگہ بلانے کو کیوں کہا ہے جبکہ گاوں میں ایسی کوئی بات بھی نہیں ہوئی تھی جس کی بناء پہ جرگہ بلایا جائے۔اس لئے وہ بے قراری سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ مقتدر خان ہی اب جرگے کے بڑے تھے۔ بہت سے معاملات میں ان کے فیصلے کو مقدم مانا جاتا تھا۔سبھی ان کے انتظار میں تھے اور آپس میں چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔زیادہ تر لوگ ضیغم کے متعلق بات کر رہے تھے۔اسے سراہ رہے تھے۔انھیں امید تھی کہ ان کے گاوں سے اب یہ کالے بادل چھٹنے والے ہیں۔صبح کا انتظار اب ختم ہونے والا ہے۔
“منشی ذرا جا کر دیکھو۔۔یہ مقتدر خان کہاں رہ گیا۔آدھے گھنٹے سے ہم یہاں انتظار کر رہے ہیں۔ہمیں تو چھ بجے کا وقت دیا تھا اور خود اب تک نہیں آیا۔”
میرسربلند خان منشی سے بولے۔جو فورا اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا تھا۔ابھی وہ دروازے تک پہنچا نہیں تھا کہ مقتدر خان حجرے میں داخل ہوئے۔انھیں دیکھ کر میرسربلند خان گہرا سانس خارج کر کے چارپائی پہ گاو تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تھے مگر جب ان کی نظر ان کے پیچھے آتے زمان خان پر پڑی تو ان کا غصہ عود کر سامنے آیا تھا۔
“وہیں رک جاو زمان خان۔۔۔”
میرسربلند خان کی گرجدار آواز سن کر زمان خان کے قدم وہیں جم کر رہ گئے۔مقتدر خان نے پہلے میرسربلند خان کی جانب دیکھا۔غصے کی شدت سے ان کے چہرے کی سرخی بڑھ گئی تھی۔پھر انھوں نے پلٹ کر زمان خان سے اندر آنے کو کہا تو وہ نپےتلے قدموں سے اندر آئے تھے۔زمان خان کے چہرے پہ خوف نہیں بلکہ ایک عزم تھا جو میرسربلند خان کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔
“میں نے آپ سب کو یہاں اس لئے بلوایا ہے تاکہ آپ سب کی موجودگی میں اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے۔بات بہت بڑھ گئی ہے اور اس سے پہلے کہ اس کے نتیجے میں کوئی خون خرابا ہو۔۔۔ہمیں اس بات کو آج یہیں ختم کر دینا چاہئیے۔
مقتدر خان چارپائی پہ بیٹھتے ہوئے بولے۔زمان خان کے لئے انھوں نے اپنے قریب ہی جگہ بنائی تھی۔
“اگر آپ سب میرے فیصلے سے متفق ہوں تو یہ مسئلہ یہیں ختم ہو سکتا ہے۔”
مقتدر خان نظریں میرسربلند خان پہ مرکوز کیے جرگے کے سرداروں سے بولے۔وہ یہ نہیں جان پا رہے تھے کہ مقتدر خان کس بارے میں بات کر رہے تھے۔
“مقتدر خان پہیلیاں مت بھجواو۔۔مدعے پہ آو۔”
میرسربلند خان نے زمان خان پہ اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے مقتدر خان سے کہا۔
“ہاں مقتدر خان تم کس بارے میں بات کر رہے ہو ہم سمجھ نہیں پا رہے۔”
فراز خان مقتدر خان کی باتوں کا پس منظر جاننے کے خواہاں تھے۔
“میں باتور خان والے معاملے کی بات کر رہا ہوں۔رحم دین کی بیٹی کہیں غائب نہیں ہوئی بلکہ وہ زمان خان کی بہو کی حیثیت سے اس کے گھر میں موجود ہے۔اب وہ میر کی بیوی ہے۔”
یہ کہنے کی دیر تھی کہ میرسربلند خان تیزی سے زمان خان کی طرف آئے تھے۔اس سے پہلے کہ مقتدر خان انھیں روکتے انھوں نے زمان خان کو گریبان سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی اتنا بڑا قدم اٹھانے کی اور جرگے کے خلاف جانے کی۔”
“خان جی۔۔۔ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ایک پاک اور شرعی قدم اٹھایا ہے۔وہ ہماری عزت ہے اور ہم اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ اپنی عزت کی طرف اٹھنے والی ہر نظر کو نیست و نابود کر سکیں۔”
زمان خان نے جھٹکے سے اپنا گریبان چھڑایا۔
“میری جرگے سے درخواست ہے کہ اس مسئلے کو یہیں ختم کر دیں ورنہ ضیغم اسے اسی طریقے سے ختم کر دے گا جو طریقہ آپ لوگوں کا ہے۔”
زمان خان نے بلند آواز میں کہتے ہوئے باتور خان کو دیکھا جو مٹھیاں بھینچے انھیں دیکھ رہا تھا۔
“غگ ہوئی لڑکی سے نکاح کرنے کا انجام صرف موت ہے اور جرگہ اپنے اس فیصلے کو نہیں بدلے گا۔”
باتور خان کے الفاظ انھیں کسی تیر کی طرح لگے تھے۔
“تم آرام سے بیٹھ جاو باتور خان۔۔یہ فیصلہ کرنے کے لئے ابھی جرگے کے بڑے موجود ہیں اور اس جرگے کے بڑے ہونے کی حیثیت سے میرا فیصلہ ہے کہ اے۔ایس۔پی میر ضیغم خان اور رحم دین کی بیٹی کی شادی کو قبول کر لیا جائے اور انھیں وہی عزت اور احترام دیا جائے جو یہاں باقی شادی شدہ جوڑے کو دیا جاتا ہے اور اگر آپ میں سے کسی کو بھی میرے فیصلے پہ اعتراض ہے تو اس کے خلاف بھی ایک جرگہ بلایا جائے گا۔”
اپنی بات کے اختتام پہ مقتدر خان نے فراز خان اور باقی سب کی طرف دیکھا۔ان کی بات سن کر فراز خان اور باقی سب آپس میں صلاح مشورہ کرنے لگے۔اس دوران زمان خان کا رواں رواں دعا میں مشغول تھا۔
“ہم تمھارے فیصلے سے متفق ہیں مقتدر خان۔۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔”
فراز خان نے بلند آواز میں کہا تھا۔ان کے فیصلے سے پورے جرگے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔وہ سبھی اب اس سلسلے کو ختم کرنا چاہتے تھے۔زمان خان نے بےپناہ خوشی سے مقتدر خان کا ہاتھ تھام لیا۔ان کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو جھلملا رہے تھے۔
“مگر مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“باتور خان۔۔۔۔!”
میرسربلند خان نے تنبیہی نگاہوں سے باتور خان کی جانب دیکھا اور اسے مزید کچھ بھی کہنے سے روکا۔باتور خان خاموش ہو گیا۔
“ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔لیکن میری ایک شرط ہے کہ زمان خان میرا بھتیجا میرے حوالے کر دے۔۔”
میرسربلند خان کی شرط سن کر زمان خان کا سارا خون چہرے پہ سمٹ آیا۔
“تمھارا بھتیجا۔۔۔۔ہم سمجھے نہیں۔”
مقتدر خان اور باقی سب نے میرسربلند خان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“ہاں میرا بھتیجا۔۔۔۔میرضیغم خان۔۔میرا بھتیجا ہے۔۔۔میرے بھائی میر دراب خان کا بیٹا۔۔جسے زمان خان نے اس ڈر سے ایک عرصے تک ہم سے چھپائے رکھا کہ کہیں قادر خان اسے بھی اپنے بدلے کی بھینٹ نہ چڑھا دے۔”
میرسربلند خان نے اپنی ذہریلی پٹاری میں سے ایک آخری سانپ نکالا تھا اور اب یہ سانپ پھن پھیلائے زمان خان کو جکڑ رہا تھا۔۔ان کا چہرہ ذرد پڑا تھا۔
“زمان خان۔۔۔کیا یہ سچ ہے؟؟”
مقتدر خان نے گم سم کھڑے زمان خان سے پوچھا۔
“میری بات کتنی سچ سے اس کا اندازہ آپ سب زمان خان کے چہرے سے لگا سکتے ہیں۔مجھے تو کچھ دن پہلے ہی پتہ چلا ورنہ وہ کیوں اس طرح لاوارثوں کی طرح پلتا۔حالانکہ اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ تب سے لے کر اب تک قادر خان کا کچھ پتہ نہیں کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان۔۔۔مگر پھر بھی زمان خان نے ہمارے خون کو ہم سے دور رکھا۔کچھ دن پہلے اس نے خود ہمارے سامنے اس راز سے پردہ اٹھایا کیونکہ یہ اپنے ضمیر کی عدالت میں مزید کھڑا نہیں ہو سکتا۔میر دراب خان نے میر ضیغم خان کو اس لئے اس کے حوالے کیا تھا کہ یہ اسے ہمارے حوالے کر دے مگر یہ اپنی بےاولادی کے سامنے ہار گیا اور ضیغم کو ہم سے پوشیدہ رکھا۔ہم نے اس بات کے لئے اسے معاف کیا۔۔۔۔۔”
میرسربلند خان نے آخری کیل ٹھونکی۔ان کا سانس بند ہونے لگا۔مقتدر خان نے ان کے بےحد ذرد چہرے کو دیکھ کر ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر انھیں چارپائی پہ بٹھایا اور پانی لانے کو کہا۔میرسربلند خان کا مکروہ قہقہہ حجرے کی خاموش دیواروں سے ٹکرایا تھا۔سب لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔باتور خان اور کرم دین بھی حیران و پریشان میرسربلند خان کو دیکھ رہے تھے۔
“تم ٹھیک ہو زمان خان۔۔۔۔؟؟”
مقتدر خان نے انھیں پانی پلایا۔پانی پی کر انھیں کچھ بہتر محسوس ہوا مگر وہ اس جال سے نکل نہیں پا رہے تھے جو میرسربلند خان نے ان پہ پھینکا تھا۔
“ہاں یہ سچ ہے۔۔۔لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔۔” وہ کھڑے ہوئے اور آہستگی سے چلتے ہوئے میرسربلند خان کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔اس بار میرسربلند خان کی رنگت بدلی تھی۔
“گھبرائیں نہیں خان جی۔۔۔میں وہ سچ نہیں بتا رہا جو سب کی نظروں سے مخفی ہے۔”
زمان خان دھیرے سے بولے تھے۔
“زمان خان۔۔۔۔حقیقت سے پردہ اٹھاو۔۔ہم سچ جاننا چاہتے ہیں۔”
فراز خان کی آواز گونجی۔
“خان۔۔۔میر ضیغم خان کوئی بچہ نہیں ہے کہ میں اسے خان جی کے حوالے کر دوں۔وہ سمجھدار ہے اگر وہ ان کے پاس جانا چاہے تو میں کیوں روکوں گا۔اگر یہ خان جی کی شرط ہے تو مجھے یہ شرط منظور ہے۔”
یہ کہہ کر وہ وہاں رکے نہیں اور تیز تیز قدم اٹھاتے بیرونی دروازہ پار کر گئے۔میرسربلند خان مسکرا دئیے۔وہ جانتے تھے کہ اب آگے انھوں نے کیا کرنا ہے۔۔
_________________________________________
“یہ تو سراسر ظلم ہے۔”
تمام بات سن کر ڈی۔آئی۔جی جبران خان بولے۔ضیغم نے انھیں تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔یہ سب ان کے لئے حیرانی کا باعث تھا۔
“یہ تو بہت افسوس کی بات ہے کہ اس کے خلاف قانون بن جانے کے باوجود لوگ ابھی تک اس سے لاعلم ہیں اور جو علم رکھتے ہیں انھوں نے اندھیر مچا رکھی ہے۔اس طرح کے جرگے قبائلی ثقافت کے لئے خطرہ ہیں۔پشتون برادری کی ثقافت اس سے بہت متاثر ہو گی۔انہی لوگوں کی وجہ سے پشتون تہذیب ختم ہوتی جا رہی ہے۔قتل و غارت، اجاراداری، انتقام اور معصوم بچیوں کے ساتھ ایسا ظلم۔۔۔یہی سب رہ گیا ہے تہذیب نشان تو مٹتے جا رہے ہیں۔”
وہ افسوس سے بولے۔
“یس سر۔۔! میں یہی چاہتا ہوں کہ لوگ اس سے باخبر ہوں اور وہ مزید میرسربلند خان کے ناحق ظلم کا شکار نہ بنیں۔ورنہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور ہم اس کے خلاف جنگ کو اختتام نہیں دے پائیں گے۔مجھے اس سلسلے میں آپکی مدد کی ضرورت ہے۔میں اس کی شروعات کرنا چاہتا ہوں۔مگر کچھ لوگ میرے راستے کی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ایسی پابندیوں میں، میں کچھ نہیں کر پاوں گا۔یہی مسئلہ لے کر آپ کے پاس آیا ہوں۔”
پھر اس نے آئی۔جی صفدر عالم سے ہوئی ساری باتیں من و عن بتا دیں۔ڈی۔آئی۔جی جبران خان نے اسکی تمام بات سن کر اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ ہیں اور وہ جس طرح چاہے قانون کے دائرے میں رہ کر اس مسئلے کو ہینڈل کر سکتا ہے۔ ان کی اجازت پا کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“مگر ینگ مین۔۔۔میرسربلندخان جیسے لوگ اس معاشرے کا ایسا ناسور ہیں جو اندر ہی اندر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔اپنے ذاتی مفاد اور اپنے بےنام جذبوں کی تسکین کے لئے معصوم جانوں کا ضیاع کر رہے ہیں۔ایسے لوگ چھپ کر وار کرتے ہیں۔تمھیں بہت احتیاط سے ہینڈل کرنا ہو گا سب کچھ۔مجھے پوری امید ہے کہ تم اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہو گے۔میرے خیال میں اگر میڈیا کو اس سلسلے میں بریف کر دیا جائے تو ان لوگوں کے ہاتھ اپنی ہی پشت پہ بندھ جائیں گے۔”
وہ اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے بولے۔
“جی سر میرا بھی یہی خیال ہے۔اس معاملے میں، میں ہر حد تک جاوں گا۔”
وہ ان کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا۔وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“سب سے بڑھ کر خوشی مجھے اس بات کی ہوئی ہے کہ اس جنگ کا آغاز تم نے اپنی ذات سے کیا ہے۔مجھے فخر ہے کہ تم جیسے جوان ہماری پولیس فورس میں ہیں۔جہاں تم جیسے جوان ہوں وہاں ظلم کو مٹنے سے کون روک سکتا ہے۔مجھے پوری امید ہے کہ تم بہت جلد سب کور کر لو گے لیکن میرسربلند خان بہت گھاک آدمی ہے۔وہ آرام سے بیٹھنے والا نہیں۔تمھیں بہت محتاط رہنا ہو گا۔”
انھوں نے اسکا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔
“سر مجھے صرف آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔میرسربلندخان جیسے لوگ باہر سے شیر اور اندر سے بھیگی بلی جیسے ہوتے ہیں۔ایک جھٹکا ہی کافی ہوتا ہے انھیں ڈھیر کرنے کے لئے بشرطیکہ انھیں کسی کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔”
وہ ان کے ساتھ چلتا ان کے آفس سے باہر آ گیا۔
“تم فکر مت کرو میں تمھارے ساتھ ہوں۔”
وہ اسکا مطلب سمجھ گئے تھے۔
“ٹھیک ہے سر اب میں چلتا ہوں۔گلالئی کیس کو میں ری۔اوپن کر رہا ہوں۔اسی کیس کے ذریعے میرے ہاتھ ان کے گریبانوں تک پہنچیں گے۔”
ضیغم نے انھیں سلیوٹ کیا۔
“ٹھیک ہے ینگ مین تم شروعات کرو۔۔”
وہ اسکی طرف فائل بڑھاتے ہوئے بولے تھے۔جسے آگے بڑھ کر اس نے تھام لیا اور وہیں سے پلٹ گیا۔
وہ وہیں کھڑے اسے جاتا دیکھتے رہے۔اس کے جانے کے بعد انھوں نے کچھ ضروری کالز کیں اور آفس سے باہر آ گئے۔
_________________________________________
“عمر خان۔۔!! یہ گھر ہے۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے وہاں موجود گھروں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا۔وہ اس وقت جبار خان کو گرفتار کرنے آئے تھے۔پولیس کو دیکھ کر کچھ لوگ وہیں ان سے کچھ فاصلے پہ کھڑے ہو گئے۔عمر خان نے کانسٹبل عبداللہ کو دستک دینے کا اشارہ کیا۔وہ آگے بڑھا اور دروازے پہ دستک دی۔
“کون ہے؟”
کچھ دیر بعد نسوانی آواز سنائی دی۔
“بی بی۔۔۔جبار خان ہے گھر میں تو باہر بھیجو اسے۔”
کانسٹیبل عبداللہ نے کہا۔
“تم کون ہو؟”
بند دروازے کے پیچھے سے آواز آئی۔
“اسے کہو پولیس آئی ہے۔۔۔باہر آئے۔”
کانسٹیبل عبداللہ نے کہا۔
“اوئے اماں۔۔۔ہٹو۔۔دروازے سے چپک ہی گئی ہو۔” جبار خان دروازہ کھول کر باہر آیا۔
“سلام ایس۔ایچ۔او صاحب۔۔!”
وہ مسکراتے ہوئے ایس۔ایچ۔او طارق کی طرف بڑھا۔
“واسلام۔۔۔!!”
ایس۔ایچ۔او طارق نے کنکھیوں سے عمر خان کی جانب دیکھا جو کڑے تیور لئے جبار خان کو دیکھ رہا تھا۔
“ہم تمھیں گرفتار کرنے آئے ہیں جبار خان۔۔”
عمر خان نے اس آنکھوں کے سامنے ہتھکڑی لہرائی۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔مگر کس خوشی میں؟”
جبار خان نے عمر خان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔عمر خان نے پہلے اسے غصیلی نگاہوں سے گھورا اور پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے ہتھکڑی پہنائی اور اسے کھینچتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
“یہ کیا طریقہ ہے انسپیکٹر صاحب۔۔۔ہم شریف لوگ ہیں۔اس گاوں میں ہماری بھی کوئی عزت ہے۔مجھے میرا جرم تو بتائیں۔”
جبار خان کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس ہوا تو رک کر بولا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔اچھا قاتل کی بھی عزت ہوتی ہے۔تیرے جیسے عزت داروں کو ہم پھانسی کے تختے پہ چڑھا کر عزت دیتے ہیں۔تجھے بھی وہی عزت دیں گے جو ہم قاتلوں کو دیتے ہیں۔”
انسپکٹر عمر خان ہنستے ہوئے بولا اور قدم بڑھا دئیے۔
“لگتا ہے تمھارا دماغ ٹھکانے پہ نہیں ہے۔۔میں نے کوئی قتل نہیں کیا۔”
جبار خان نے جانے سے انکار کیا۔
” اوئے خاموشی سے چل۔۔۔۔بہت چخ چخ نہ کر۔۔گلالئی قتل کیس میں تمھاری گرفتاری کے وارنٹ ہیں ہمارے پاس۔”
ایس۔ایچ۔او طارق اسکی گردن دبوچ کر بولا۔
“میں نے گلالئی کو قتل نہیں کیا۔اسکے اپنے باپ نے اسے مارا تھا۔میرا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں۔”
جبار خان نے خود کو اسکی گرفت سے چھڑایا۔
عمر خان نے اسے گھورا اور پھر اسے بازو سے پکڑا کر پولیس وین پہ چڑھایا اور باقی سب کو بھی اشارہ کرتا گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیور کو چلنے کے لئے کہا۔
“تم لوگ مجھے جانتے نہیں ہو۔میں چھوڑوں گا نہیں تم سب کو۔۔اتنا آسان نہیں مجھے جیل میں بند کرنا۔ایک ایک دیکھ لوں گا۔”
وہاں موجود سبھی لوگوں نے جبار خان کو سنا تھا اور ان کے جانے کے بعد سبھی اپنے اپنے راستے ہو لئے مگر ایک شخص ہر چیز سے بیگانہ مٹی کو مٹھی میں بھر کر مٹھی کھول دیتا۔ہوا مٹی کو اپنے ساتھ لے اڑتی۔کتنی ہی دیر وہ اس عمل کو دہراتا رہا۔اچانک اس نے مٹھی بھر کر مٹی جبار خان کے گھر کے دروازے پہ پھینک دی اور وہیں گرنے کے انداز میں بیٹھ کر مٹھی میں مٹی بڑھتا اور دروازے پہ پھینک دیتا۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ کتنی دیر تک وہ یہ عمل دہراتا رہے گا۔
شاید تا عمر۔۔۔۔۔۔
اسکے لبوں پہ ایک ہی نغمہ تھا۔وہی نغمہ جو اسکی بیٹی گنگناتی تھی۔
اسکی گلالئی گنگناتی تھی۔۔۔
سنگہ بہ خا وا چی دا شپہ لنڈا وے سنگہ بہ خا و ا چہ د ا زر تیرے دے
(کتنا اچھا ہوتا اگر یہ رات چھوٹی ہوتی کتنا اچھا ہوتا اگر یہ جلدی گزرتی)
ثمرہ بہ خا وی کا زر سبا شی تیارہ شی لرے ، سحر زر لاڑہ شی
(کتنا اچھا ہو کہ جلد کل ہو جائے، اندھیرا ختم ہو جائے، اور روشنی ہو جائے)
دا شپی یریگم بیدار اوسم ٹولہ بگنے گم ، نہ کرارا اوسم
(رات کو ڈرتی ہوں بے چین رہتی ہوں)
دا تیرے دو شپو غم میں واخلئے، دا تورو شپو نہ رانہ خوب اوتختی۔۔
(رات کو غم آدبوچتے ہیں مجھے کالی راتوں کے باعث نیند اڑ جاتی ہے)
چپا چپا میں بے آرامہ کی اوکڑی شی، ورک خوبونہ ہم ادا شی
(رات کی چپ بہت بے آرام کر دیتی ہے ایسا لگتا ہے جیسے کچھ سنا ئی نہ دے اور خواب بھی جیسے سو جائیں)
شپہ چی پخہ شی، پہ ما لندے نورا گرانا شی تیارا خوار شی بخت زما ادا شی
(رات جب ہو جاتی ہے تو میرے لئے اور مشکل ہو جاتی ہے اندھیرے کا پھیلنا اور میری قسمت سو جاتی ہے۔)
خوب رانا لاڑ شی ، زہ بیدار اُسم بیا ٹولہ شپہ زہ نا کرارا اُسم
(نیند مجھے نہیں آتی اور میں جاگتی رہتی ہوں اور پھر ساری رات بے چین رہتی ہوں)
_________________________________________
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *