Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode13

Ghag By Mahwish Urooj Episode13

“ظالم نے کس بے دردی سے مارا ہے۔ تجھے کیا ضرورت تھی
اس کے منہ لگنے کی۔ ایک بار پہلے بھی پٹ چکا ہے اس کے ہاتھوں مگر پھر بھی تجھے چین نہیں آتا۔ کس لئے گیا تھا اس کے پیچھے۔”
وہ باہر چارپائی پہ لیٹا تھا جب وہ دوا ہاتھ میں لئے اس کے سر پر کھڑیں ہاتھ نچا نچا کر بول رہی تھیں جبکہ باتور خان ان کے بلند آواز میں بولنے پہ غصے سے انھیں گھور رہا تھا۔
“اب مجھے کیوں گھور رہے ہو۔۔میں نے کہا تھا اس سے بھڑنے کو۔”
وہ مزید چراغ پا ہوئیں۔
“اماں۔۔۔۔تو تھوڑی دیر کے لئے اپنا منہ بند رکھے نا تو بہت اچھا ہو گا۔ تین دن ہو گئے ہیں تجھے یہ سب بلند و بانگ سناتے ہوئے۔ جنھیں نہیں بھی پتہ ان کے سامنے بھی میرا اشتہار لگا دیا ہے تو نے۔ اب اگر ایک لفظ بھی کہا تو تجھے کمرے میں بند کر دوں گا۔”
ایک تو ٹانگ کا درد کم نہیں ہو رہا تھا اور اوپر سے وہ اماں کی صلواتیں بھی برداشت نہیں ہو رہی تھیں۔
“صحیح تو کہہ رہی ہے تمھاری ماں۔۔اور تجھے پتہ ہے نا کہ بڑے خان جی نے تجھے منع کیا تھا پھر بھی تو اس سے لڑنے پہنچ گیا۔”
کرم دین کمرے سے نکل کر اس کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔
“بابا مجھے بڑے خان جی نے ہی کہا تھا۔”
اس کی بات پہ انھوں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ انھیں یقین نہیں آیا تھا۔
“جھوٹ مت بول۔۔۔مجھ سے انھوں نے کئی بار تمھیں منع کرنے کو کہا ہے۔ اب تم اپنی حرکت پہ ان کے نام کا پردہ مت ڈالو۔”
انھوں نے اسے لتاڑا۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔جب میں حجرے میں داخل ہوا تو وہ بہت غصے میں تھے۔ انھوں نے ہی مجھ سے کہا کہ اسے تھوڑا سبق سکھاوں۔”
باتور خان ٹانگ پہ ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو گیا۔
“تو ختم کر کے آتا قصہ۔۔۔۔۔مگر تم تو خود سبق سیکھ کر آ گئے ہو۔”
انھوں نے اس کی ٹانگ کی جانب اشارہ کیا۔
“قصہ ختم کر ہی دیتا اگر خان جی نے مجھے منع نہ کیا ہوتا۔”
وہ کہہ کر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
“مگر کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟”
وہ اٹھ کر اس کے پیچھے آئے تھے۔
“یہ آپ انہی سے جا کر پوچھیں۔۔ جب میں وہاں سے جانے لگا تھا تو انھوں نے مجھ سے پسٹل یہ کہہ کر لے لی تھی کہ باقی کا کام وہ اپنے ہاتھوں سے کریں گے۔”
وہ لنگڑاتے ہوئے کمرے میں چلا گیا۔ کرم دین کی نظر اسکی لنگڑاتی ٹانگ پہ تھی مگر سوچ کا ذاویہ کہیں اور تھا۔
“خان جی نے ایسا کیوں کہا۔۔۔۔۔۔”
زبیدہ خانم پرسوچ انداز میں خود سے بولیں۔
“دفع دور ہوں سب۔۔۔۔”
جب کسی نتیجے پہ نہ پہنچیں تو ہاتھ جھاڑ کر اٹھ کھڑیں ہوئیں۔ ابھی انھیں کھانے کی تیاری بھی کرنی تھی۔
زبیدہ خانم کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ مڑ کر ان کے پاس آئے تھے۔
“تم اپنی زبان کو تالا لگاو۔۔۔۔بہت چر چر کرنے لگی ہو۔ خان جی کی مرضی وہ جو چاہیں کریں۔ تمھیں کچھ سمجھ آتی ہے نہیں اور بولنے میں سب سے آگے رہتی ہو اور اگر تم نے اپنی زبان کو تالا نہیں لگایا تو میں لگا دوں گا۔”
کرم دین نے انھیں غصیلی نگاہوں سے گھورا تو وہ خاموشی سے کچن میں چلی گئیں۔
کرم دین باتور خان کے کمرے کی جانب جا رہے تھے کہ دروازے پہ دستک نے ان کے قدم بیرونی دروازے کی جانب موڑ دئیے۔
“تم۔۔۔۔۔۔۔یہاں کیوں آئے ہو؟”
زمان خان کو دیکھ کر ان کے چہرے کا زاویہ بگڑا۔
“ہاں میں۔۔۔ باتور خان کو باہر نکالو۔۔اب گھر میں کیوں چھپ کر بیٹھا ہے۔”
غصہ تو انھیں بہت تھا مگر ضبط کر گئے۔
“وہ نہیں ہے گھر پہ۔”
وہ ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے بولے۔
“تم کیسے باپ ہو۔۔۔۔تم ہر بار اپنے بیٹے کو پٹنے کے لئے بھیج دیتے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ وہ گھر میں چھپا بیٹھا ہے۔ پورے گاوں نے اسے میر سے پٹتے ہوئے دیکھا ہے۔”
زمان خان کی آنکھوں کی مسکراہٹ نے ان کے تن بدن میں آگ لگا دی۔
“مجھ سے باز پرس کرنے سے بہتر ہے کہ تم جا کر خان جی سے پوچھ لو۔ وہ تمھیں تمھارے سوال کا جواب مجھ سے بہتر دیں گے۔”
کرم دین نے طنز سے بھرپور نظروں سے زمان خان کی جانب دیکھا۔
“تم جھوٹ بول رہے۔۔۔خان جی ایسا کیوں کریں گے۔”
انھیں کرم دین کی بات کا یقین نہیں آیا۔
“تو تم خود جا کر کیوں نہیں پوچھ لیتے۔”
یہ کہہ کر وہ رکے نہیں۔۔۔
دروازہ بند ہو چکا تھا مگر زمان خان حیران و پریشان سے ابھی تک وہیں کھڑے تھے۔
وہ وہاں سے سیدھے حجرے آئے تھے۔ میر سربلند خان اس وقت حجرے میں موجود تھے۔ منشی ان کے سامنے بیٹھا حساب کتاب کرنے میں مگن تھا۔ میر سربلند خان نے انھیں حجرے میں داخل ہوتے دیکھ لیا تھا۔ اس لئے منشی کو جانے کا اشارہ کیا۔
“خان جی مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔”
وہ خشک لہجے میں بولے تھے۔ آج ان کے لہجے میں وہ تکریم مفقود تھی جو ان سے بات کرتے وقت ان کے لہجے میں محسوس ہوتی تھی۔ میر سربلند خان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“یہ کسطرح بات کر رہے ہو تم مجھ سے۔۔۔۔تم شاید بھول گئے ہو کہ تمھارے سامنے کون کھڑا ہے۔”
وہ واپس بیٹھتے ہوئے بولے۔
“میں نہیں خان جی۔۔۔۔۔آپ اپنا وعدہ بھول گئے ہیں۔”
وہ بنا پلکیں جھپکے ان کے لاپرواہ انداز کو دیکھ رہے تھے۔
“کون سا وعدہ زمان خان؟؟؟”
انھوں نے پوچھا۔
“میر ضیغم خان کو ذرا سی کھرونچ بھی نہ پہنچانے کا وعدہ۔”
وہ بنا کسی ہچکچاہٹ کے ان کی جانب دیکھتے ہوئے بولے۔
“وہ اس خاندان کا حصہ ہے۔۔۔آپ کے بھائی کی اولاد ہے۔۔۔ آپ کا خون ہے وہ۔”
انھیں خاموش دیکھ کر زمان خان کا حوصلہ بڑھا۔
“میرا خون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”
ان کا بلند قہقہہ حجرے کی خاموش دیواروں سے ٹکرایا تھا۔
“کس بھائی کی اولاد۔۔۔۔۔جسے میں نے آج تک اپنا بھائی نہیں مانا۔۔۔اس کی اولاد کو کیسے اپنا خون مان لوں اور تم ہوتے کون ہو مجھ سے یہ سب کہنے والے۔ اپنی اوقات مت بھولو۔۔ ہمارے ٹکڑوں پہ پلنے والے ایک معمولی ملازم ہو۔۔۔۔”
وہ غضب ناک نگاہوں سے زمان خان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
“کچھ بھی ہو خان جی۔۔۔۔۔اگر اس کے بعد ضیغم کو ذرا سی بھی کھرونچ آئی تو میں بھول جاوں گا کہ آپ کون ہیں اور میں کون ہوں۔”
اس کے بعد وہ وہاں رکے نہیں تھے۔
“اور ہاں۔۔۔۔۔آپ نے جس کو اس کے پیچھے بھیجا تھا وہ تو منہ چھپا کر گھر میں بیٹھا ہے۔”
انھوں نے جاتے جاتے پلٹ کر کہا اور پھر حجرے کی دہلیز پار کر گئے۔
ان کے انداز نے میر سربلند خان کے لئے جلتی پہ تیل کا کام کیا۔ وہ بھی طیش کے عالم میں کرسی کو ٹھوکر مارتے ہوئے حویلی کی طرف بڑھ گئے۔ اب جو بھی کرنا تھا بہت جلد کرنا تھا۔__________________________________________
ضیغم جا چکا تھا۔ خاموشی پورے گھر پہ چھائی ہوئی تھی۔ دو بندوں کا کام ہی کتنا ہوتا تھا جلد نپٹا کر گھر میں بولائی بولائی پھرتی۔ بابا صبح ناشتہ کر کے چلے جاتے۔ پھر ظہر کے وقت آتے اور کھانا کر واپس چلے جاتے۔ اس دوران ماہ گل ایک بار آ چکی تھیں مگر ذہرہ بی بی اور رحم دین دوبارہ نہیں آئے تھے۔ ضیغم جاتے وقت اسے ایک موبائل فون دے گیا تھا۔ پل پل بعد اسکا جی چاہتا کہ ضیغم سے بات کرے مگر وہ جب سے گیا تھا پلٹ کر کانٹیکٹ نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی بھی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ دن میں کتنی بار موبائل ہاتھ میں لیتی لیکن پھر فورا واپس رکھ دیتی۔ موسم کافی بدل چکا تھا۔ دن گرم اور رات ٹھنڈی ہوتی۔ جب سے وہ یہاں آئی تھی زمان خان باہر صحن میں ہی سوتے تھے۔
آج موسم صبح ہی سے ابرآلود تھا۔ وقفے وقفے سے کن من بارش اپنی جھلک دکھا رہی تھی۔ زمان خان کے چلے جانے کے بعد وہ کام ختم کر کے صحن میں رکھی کرسی کے جانب آ گئی۔ بارش تھم چکی تھی۔ گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو نے پورے صحن کو معطر کر دیا تھا۔ آسمان پہ کالے بادلوں کا بسیرا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ ذرد پھولوں کی مہک ہوا میں رچی تھی۔ بیٹھے بیٹھے اچانک اس نے بائیں جانب پڑی خالی کرسی کی جانب دیکھا۔
“تم مجھے بےحد یاد آو گی۔”
کوئی اس کے بےحد پاس گنگنایا تھا۔ ہلکی سی مسکان اس کے لبوں پہ چھائی تھی۔ اسکے الفاظ اسکی رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگے تھے۔ چہرے پہ شرمیلی مسکان آئی تو وہ رخ پھیر گئی جیسے ضیغم واقعی وہاں موجود ہو۔ پھر دل میں نجانے کیا خیال آیا کہ اٹھ کر کمرے میں آ گئی۔ الماری کھول کر دراز میں سے موبائل فون نکالا اور باہر آ گئی۔چیک کیا تو موبائل بند تھا۔ موبائل سوئچ آف دیکھ کر اسے خود پہ بہت غصہ آیا۔ ضیغم نے اگر کانٹیکٹ کیا بھی ہو گا تو موبائل سوئچ آف ہونے کی وجہ سے نہیں ہو پایا ہو گا۔
“وہ یہی سوچتے ہوں گے کہ میں بات نہیں کرنا چاہ رہی اس لئے موبائل سوئچ آن ہی نہیں کیا۔۔اب کیا کروں۔۔”
اس نے موبائل کو بغور دیکھتے ہوئے سوچا۔ اس کا ارادہ تو کال کرنے کا تھا مگر اب ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ کچھ دیر وہ یونہی موبائل ہاتھ میں لئے بیٹھی املتاس کے درخت کو گھورتی رہی جیسے سارا قصور اسی کا ہو پھر کچھ سوچ کر موبائل آن کیا۔ کانٹیکٹ لسٹ چیک کی تو اس میں ایک ہی نمبر ضیغم کے نام سے فیڈ تھا۔ اس نے کال ملا کر موبائل کان سے لگایا۔ بیل جا رہی تو اور بیل کے ساتھ ساتھ اس کی دھڑکن بھی بڑھ رہی تھی۔
“ہیلو۔۔۔!”
ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا اس سے ٹکرایا تھا۔ وہ کچھ بھی بول نہیں پائی۔
“مسکاء۔۔۔!”
وہی بھاری لب و لہجہ۔۔۔۔۔۔۔
“مسکاء تم ٹھیک ہو۔۔۔میں نے کتنی بار کال کی مگر نمبر بند تھا۔ پوچھ سکتا ہوں کیوں۔۔”
اس نے پوچھا۔
“مجھے پتہ نہیں چلا کہ فون آف ہے۔ ابھی آپ کو کال کرنے کی غرض سے الماری سے نکالا تو معلوم ہوا۔۔۔ ابھی آن کر کے آپ کو کال کی۔۔۔۔سوری۔۔۔”
وہ آہستہ آواز میں بولی۔
“میں نے یہ فون آپکو الماری میں رکھنے کے لئے دیا تھا کہ آپ اسے ایک طرف رکھ کر بھول جائیں۔”
آواز سے سنجیدگی چھلک رہی تھی۔
“سوری بول تو رہی ہوں۔۔اب مجھے کیا پتہ تھا کہ فون بند ہو گا۔ آپ آن کر کے دیتے نا۔”
اس کے جواب پہ اسے ہنسی تو بہت آئی مگر ضبط کر گیا۔ وہ جب سے یہاں آیا تھا ایک پل کے لئے بھی اسکا خیال اس سے دور نہیں ہوا تھا۔ فارغ ہوتے ہی وہ اسے کال کرنے کی کوشش کرتا مگر سوئچ آف کی گردان اسکا منہ چڑا رہی ہوتی۔ اس دوران وہ تھوڑا چڑچڑا بھی ہو گیا تھا۔ حالانکہ بابا کو کال کر کے ان سے اس کی خیریت دریافت کر لی تھی۔ لیکن دل کی بےچینی اس کی آواز سن کر ہی دور ہونی تھی۔
“واہ واہ۔۔۔۔کیا کہنے آپ کے۔۔ میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ اتنی ذہانت کہاں سے پائی ہے۔ ہمیں بھی بتائیے تاکہ ہم بھی تھوڑی سی ہم بھی لے آئیں اپنے لئے۔”
الفاظ تو طنزیہ تھے مگر انداز شرارت لئے ہوئے تھا۔
“سوری بول تو رہی ہوں۔۔۔اب کیا جان لیں گے میری۔”
وہ اس کے انداز پہ نروٹھے پن سے بولی۔
“جی تو یہی چاہتا ہے کہ اب آپ کی جان لے ہی لیں۔۔ کیا خیال ہے آپ کا۔۔۔لے لیں۔۔؟؟”
وہ اس کے من موہنے چہرے کو تصور میں لاتے ہوئے بولا۔
“لے تو لی ہے۔۔۔۔۔”
وہ اتنی آہستہ آواز میں بولی کہ وہ بمشکل سن پایا۔
“کہاں لی ہے۔۔۔پہلے آپ چھپتی پھرتی تھیں ہم سے اور اب حالات سبب بن گئے ہیں۔”
اسکا گھمبیر لہجہ مسکاء کے دل کے تار چھیڑ گیا۔
“مسکاء۔۔۔۔!!”
طویل ہوتی خاموشی کو ضیغم کی آواز نے توڑا۔
“جی۔۔۔۔۔”
ہمیشہ کی طرح مختصر جواب آیا۔
“تمھارے نام کا مطلب “مسکراہٹ” ہے مگر تم مسکرانے میں کنجوسی کرتی ہو۔۔۔وجہ؟؟”
وہ اسے سننا چاہتا تھا۔
“مجھ پہ “ضیغم” نام کا اثر ہو گیا ہے اس لئے۔”
وہ اسے لاجواب کر گئی تھی۔
“لگتا تو نہیں کہ تم پہ میرا کچھ اثر ہوا ہو۔۔ میں تو ایسا نہیں ہوں۔”
اس نے اسے مزید بولنے پر اکسانا چاہا۔
“آپ نے شاید ٹھیک سے سنا نہیں میں نے کہا کہ مجھ پہ آپکے نام کا اثر ہوا ہے آپ کا نہیں۔”
وہ بارش کے قطروں کو ہتھیلی میں سموتے ہوئے بولی۔ لبوں پہ دھیمی مسکان برقرار تھی اور چہرے پہ پیلے پھولوں کا عکس جھلملانے لگا تھا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔اچھا تو میرا اثر کب ہو گا؟”
اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
“جب آپ واپس آئیں گے۔”
اس نے کہہ کر کھٹاک سے فون بند کر کے ساتھ والی چئیر پہ رکھ دیا۔ اتنی بڑی بات کہہ تو دی تھی مگر اب سر پکڑ کر بیٹھی تھی۔ دل کی بات اسطرح زبان پہ آ جائے گی وہ بھی اتنے واشگاف الفاظ میں اسے اندازہ نہیں تھا۔ موبائل دوبارہ بجنے لگا تھا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا اور کال ڈسکنیکٹ کر کے موبائل گود میں رکھ دیا۔ اب اس میں ہمت نہیں تھی مزید بات کرنے کی۔ میسج ٹون پہ اس نے موبائل اٹھا کر میسج اوپن کیا۔
“مسکاء۔۔۔۔۔۔میں دوبارہ سننا چاہتا ہوں۔ پلیز کال پک کرو۔”
میسج پڑھ کر اسکے گال دہک اٹھے۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے میسج ٹائپ کیا۔
“کیا سننا چاہتے ہیں؟؟”
وہ مسکرائی۔۔۔
“جو ابھی کہا تھا۔۔۔کال پک کرو۔ ورنہ میں آج ہی آ جاوں گا۔”
اس نے دھمکی دی۔
“تو آ جائیں۔۔۔”
مسکاء ڈھیٹ بنی۔
“مسکاء۔۔۔۔۔۔۔۔میں آ گیا تو تمھاری خیر نہیں۔”
اس نے غصہ دکھایا۔
وہ اسکا میسج پڑھ کر ہنسی تھی۔ بارش تیز ہو چکی تھی۔ اس نے کرسی کو برآمدے میں رکھا اور خود پلر سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔
“اچھا۔۔۔۔۔۔”
اس نے میسج ٹائپ کر کے آسمان کی جانب نظر کی۔ رنگ ٹون ایک بار پھر سے بجنے لگی تھی۔ اسکرین پہ بلنک ہوتا نام اسکی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ کیا تھی اور کیا بن گئی اس ایک نام کی بدولت۔۔۔یہ نام اسکے لئے ایک مضبوط پناہ گاہ تھا۔۔کال مسلسل آ رہی تھی۔ اسکا دل نرم ہوا۔ اگلے ہی لمحے اس نے کال پک کی تھی۔
“جی۔۔۔۔۔”
اس نے آواز دھیمی رکھی۔
“میں سننا چاہتا ہوں تمھیں۔”
گھمبیر لہجہ اس کے دل میں ہلچل مچا گیا۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟”
وہ انجان بنی۔
“مسکاء۔۔۔!”
اس نے تنبیہی انداز اپنایا۔ وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ ضیغم نے اسے پہلی بار اسطرح ہنستے ہوئے سنا تھا۔
“آپ کب آئیں گے؟”
اس نے اسکا دھیان کسی اور سمت لے جانا چاہا۔
“جو میں پوچھ رہا ہوں وہ بتاو۔”
وہ جلدی میں لگ رہا تھا۔
“کیا پوچھ رہے تھے؟”
مسکاء نے چھیڑا۔۔۔
“فائن۔۔۔۔۔۔اللہ حافظ۔”
یہ کہتے ساتھ ہی اس نے کال کاٹ دی۔ یہ سب اس نے اتنی تیزی میں کیا کہ وہ پکار بھی نہ سکی۔ فون کیا بند ہوا اسے اپنے دل کی دھڑکن بھی رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس نے فورا کال کا بٹن پریس کیا مگر فون سوئچ آف تھا۔
اس نے نچلا لب دانتوں تلے کچل ڈالا۔_______________________________
وہ ابھی ابھی روم میں آیا ہی تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون بجی۔ ہاتھ میں پکڑا بیگ اس نے بیڈ پہ پھینکا اور پاکٹ سے موبائل نکالا۔ ارحم کالنگ پہ نظر پڑی تو وہ مسکرا دیا۔
“کہاں ہے تو خبیث۔۔۔۔؟”
ارحم کی آواز سن کر اس کے تھکے ماندے اعصاب پرسکون ہوئے۔ وہ بزنس کے سلسلے میں آوٹ آف کنٹری تھا اس لئے اسلام آباد آتے وقت وہ ارحم سے مل نہیں پایا تھا اور نہ ہی اسے اسکی ٹریننگ اسٹارٹ ہونے کا پتہ تھا۔
“یار ۔۔۔۔۔بس ہر وقت لڑتے ہی رہنا۔ کبھی پیار سے بھی بات کر لیا کرو۔ بندہ کچھ حال چال پوچھتا ہے۔”
وہ ہنستے ہوئے بولا۔
“ہاں ہاں پوچھتا ہوں تیرا حال۔۔۔۔پہلے تو یہ بتا کہ کہاں ہے اس وقت ۔۔۔مجھے ابھی ملنا ہے۔”
ارحم نے اس سے پوچھا۔
“میں تو اس وقت اسلام آباد میں ہوں۔۔۔ٹریننگ اسٹارٹ ہو چکی ہے۔”
وہ بیڈ پہ دراز ہوتے ہوئے بولا۔
“ٹریننگ شروع ہو گئی اور تو نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔”
وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا۔
“تو میری بیوی ہے کیا کہ تجھے بتانا ضروری ہے۔”
وہ بھی اسی کے انداز میں بولا۔
“اچھا۔۔۔۔۔تو بیوی کی یاد ستا رہی جناب کو۔۔۔۔”
ارحم نے اسے کلین بولڈ کیا۔ مسکاء کا چہرہ اسکی نگاہوں میں آن بسا۔۔۔وہ اسے دن میں کتنی کتنی بار کال کرتی۔۔۔اسے میسجزز کرتی مگر وہ نہ تو کال پک کرتا اور نہ ہی میسجزز کا جواب دیتا۔ بس اس کے ٹیکسٹ کے انداز کو انجوائے کرتا رہتا۔
“بکواس نہ کر۔۔۔۔۔”
وہ سر جھٹکتے ہوئے بولا۔
“اچھا یہ بتاو۔۔کب آ رہے ہو؟”
ارحم نے پوچھا۔
“فلحال تو مشکل ہے۔۔۔نیکسٹ سنڈے تم آ جاو۔”
وہ بولا تو ارحم نے او-کے کہہ کر فون بند کر دیا۔ اسکرین پہ اس کی نظر پڑی تو مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی۔
اس نے مسکراتے ہوئے میسج اوپن کیا۔
“ضیغم۔۔۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
ہر روز وہ اسے سوری کے ڈھیروں میسجزز کرتی تھی۔ ادھر ادھر کی ڈھیروں باتیں۔۔۔۔گاوں کی باتیں۔۔۔بابا کی باتیں۔۔۔وہ خود کو بمشکل جواب دینے سے روکتا۔
اس نے ہنستے ہوئے کال ملائی اور فون کان سے لگایا۔ میسج ابھی آیا تھا اس لئے جلد ہی کال ریسیو کر لی گئی۔
“کیا بات ہے۔۔۔۔کیوں تنگ کر رہی ہو؟”
وہ آواز کو بارعب بناتے ہوئے بولا۔
“ضیغم۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا۔”
وہ دھیرے سے بولی تھی۔
“آپ کا مقصد میں اچھی طرح سے جان گیا ہوں اور جب میں آوں گا تو اس بارے میں بات کریں گے۔۔۔اور کچھ کہنا ہے؟؟”
اس نے اپنا سنجیدہ انداز برقرار رکھا۔
“جی۔۔۔کہنا ہے۔”
وہ روم میں آئی۔
“کہو۔۔۔۔سن رہا ہوں۔”
شاہانہ انداز میں اجازت دی گئی۔
“وہ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکی۔
“وہ۔۔۔۔۔۔۔کیا؟؟”
اسکی سماعتیں بےقرار ہوئیں مگر اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔
“جب آپ آئیں گے تب بتاوں گی۔”
اسکا جواب سنے بغیر اس نے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔________________________________
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *