Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode10
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode10
Ghag By Mahwish Urooj Episode10
اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی پیش قدمی کرتا مسکاء نے اسے نرمی سے خود سے دور کیا اور کمرے کی جانب دوڑی مگر دوپٹے کا کونہ ضیغم کے نیچے ہی اٹک گیا تھا اس لئے وہ ٹیبل سے آگے ہی جا سکی۔ پیچھے مڑ کر ضیغم کو دیکھا تو وہ مسکراہٹ دبا کر مذید پھیل کر بیٹھ گیا۔ وہ وہیں کھڑے کھڑے دوپٹے کو کھینچنے لگی مگر دوپٹہ بھی اسکی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ ضیغم موبائل میں بزی ہو گیا۔ وہ خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا۔ پتہ نہیں کیوں مسکاء کو تنگ کر کے اسے مزا آنے لگا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایٹ لیسٹ وہ ری ایکٹ تو کرے۔ مگر ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنی زبان کہیں رکھ کر بھول گئی ہے۔
“چھوڑیں نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔”
کافی دیر کوشش کرنے کے بعد جب وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا تو بالآخر وہ بولی۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟”
اس نے حیرانی سے پوچھ کر موبائل ٹیبل پہ رکھا۔
“میرا دوپٹہ۔۔۔۔”
وہ اس کے لاپرواہ انداز پہ منہ بنا کر بولی جبکہ اس بار اس نے ہنسی کو ضبط کی قید سے آزاد کر دیا اور دوپٹہ اپنے نیچے سے نکلا مگر چھوڑا نہیں۔
“چھوڑ دیں نا۔۔۔”
مسکاء ایک بار پھر منمنائی۔
“چھوڑنے کے لئے تھوڑی نا پکڑا ہے۔”
وہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔انداز میں شرارت نمایاں تھی۔ وہ رخ موڑ گئی مبادہ کہیں کچھ اور ہی نہ کہہ دے اور رخ موڑے موڑے ہی دوپٹہ کھینچ رہی تھی مگر ضیغم کی گرفت مضبوط تھی وہ پورا ذور لگانے کے باوجود دوپٹہ اسکی گرفت سے چھڑا نہیں پا رہی تھی۔ چار و ناچار وہ قریب آئی تھی جبکہ ضیغم نے اسے قریب آتے دیکھ کر ٹیبل پہ پیر پسار دئیے اور دوپٹہ دوبارہ اپنے نیچے اڑس دیا۔
“اٹھیں۔۔۔۔” وہ اسکے قریب آئی تھی۔
“کیوں۔۔۔؟؟”
اس کے انداز نے شریفوں کو بھی مات دی۔
“آپکے نیچے میرا دوپٹہ پھنسا ہے۔”
اس نے ایک بار پھر دوپٹہ کھینچا۔
“تو۔۔۔۔۔۔؟؟”
لاپرواہی کی حد تھی۔
“تو آپ اٹھیے تاکہ میں اپنا دوپٹہ لے سکوں۔”
ضیغم کا انداز اسے غصہ دلانے لگا۔
“اور اگر نہ اٹھوں تو۔۔۔۔۔؟”
اب وہ ڈھیٹوں کو بھی مات دینے کے تیار ہوا۔
“تو۔۔۔۔۔۔۔”
مسکاء نے ہاتھ میں پکڑا دوپٹہ اس کے چہرے پہ پھینکا اور کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔ اس سے پہلے کے وہ دروازہ کھول کمرے میں داخل ہوتی ضیغم نے اس سے پہلے پہنچ کر بند دروازے پہ دونوں ہاتھ رکھ کر اسے گھیر لیا۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔”
وہ نروٹھے پن میں بولی۔
“کیا کر رہا ہوں؟”
وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔ اس کے انداز پہ مسکاء کی سٹی گم ہو گئی۔ وہ دروازے سے بالکل جڑی کھڑی تھی جبکہ ضیغم نے دونوں اطراف سے اسے گھیر رکھا تھا۔ دونوں کے بیچ فاصلہ نہ ہو ہونے کے برابر تھا۔ مسکاء کو اندازہ ہوا کہ وہ بناء دوپٹے کے کھڑی ہے تو اپنی حالت کے پیش نظر نظریں جھکا گئی۔ گال دہک اٹھے اور ماتھے پہ پسینے کے قطرے چمکنے لگے۔ مسکاء کی لرزتی پلکیں اسے کوئی اور ہی کہانی سنا رہی تھیں۔ ضیغم کو لگا جیسے وہ اس منظر میں کہیں کھو جائے گا۔
“جانے دیں نا پلیز۔۔۔”
اسکی باریک آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
“کبھی کہتی ہو چھوڑیں نا۔۔۔کبھی کہتی ہو جانے دیں۔۔۔میں کروں تو کیا کروں۔۔؟؟”
ضیغم نے ہاتھ اسکی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر نرمی سے اسکا چہرہ اپنے مقابل کیا۔
“ابھی جانے دیں پلیز۔۔”
مسکاء نے پہلی بار اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ اسے ضیغم کی آنکھوں میں محبت پنپتی دکھائی دی۔ وہ حیران ہوئی تھی محبت کے اس بیکراں سمندر کو دیکھ کر۔
“تو پھر کب پکڑوں۔۔؟؟
وہ شریر ہوا۔۔ مسکاء نے دوپٹے کی تلاش میں نظریں دوڑائیں جو وہیں صوفے پہ پڑا تھا۔ ضیغم نے بھی اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے دیکھا۔
“بتاو نا۔۔۔۔۔پھر کب پکڑوں؟” اس نے اسکے چہرے کے اطراف بکھرے بال سمیٹے۔ مسکاء نے کوئی جواب نہیں دیا۔ گلاب کی پنکھڑی جیسے لبوں کی کپکپاہٹ اسکی نظروں کی قید میں تھی۔
“بس کچھ وقت اور ۔۔۔۔۔۔۔پھر وہی جو میں چاہوں گا۔”
اس نے دھیرے سے اسکے لبوں کی کپکپاہٹ چرا لی تھی۔۔_______________________________________
“ہاں شکور۔۔۔۔کیا خبر ہے۔”
وہ اخبار کی ورق گردانی کرتے ہوئے شکور سے بولے۔ ناشتے کے دوران چوکیدار نے انھیں شکور کے آنے کا بتایا تو انھوں نے اسے یہیں بلوا لیا ورنہ وہ لوگوں سے زیادہ تر حجرے میں ہی ملتے تھے۔ حویلی میں لوگوں کا آنا جانا انھیں زیادہ پسند نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے خاص آدمیوں کے لئے بھی ایک حد مقرر کر رکھی تھی۔ شکور بھی ان کے خاص آدمیوں میں سے ایک تھا جو ان کے لئے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ جب سے انھیں میر پہ شک ہوا تھا انھوں نے شکور کو اس کے شب و روز کی خبر لینے کے لئے شہر بھیج دیا تھا۔ زمان خان کو تو وہ اچھی طرح جانتے تھے۔ انھیں یقین تھا کہ زمان خان نے اس معاملے میں رحم دین کی مدد ضرور کی ہو گی۔ وہ چاہتے تو زمان خان سے سچ اگلوا سکتے تھے مگر ایک تو الیکشن قریب تھے اس لئے وہ کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے تھے جن کی وجہ سے انھیں بعد میں کسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ اس لئے وہ بہت محتاط تھے۔ ایک لحاظ سے وہ زمان خان پہ بہت اعتبار بھی کرتے تھے کیونکہ انھوں نے سالوں پہلے جو وعدہ ان سے کیا تھا وہ اسے نبھا رہے تھے۔ حلانکہ حقیقت حال اب قدر مختلف تھی۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ میر سب کچھ جان چکا ہے۔ اس لئے انھوں نے اس بات کو لے کر کہ کہیں زمان خان اور رحم دین نے میر اور مسکاء کا نکاح نہ کر دیا ہو۔۔۔ شکور کو اس معاملے کی چھان بین کے لئے شہر بھیج دیا تھا۔
آج وہ شاید کوئی ضروری معلومات لے کر آیا تھا۔ انھوں نے ضیغم کو زمان خان کے حوالے کر تو دیا تھا مگر جب سے انھوں نے ضیغم کو دیکھا تھا انھیں ہر پل یہ خوف ستاتا کہ کہیں زمان خان ضیغم کو ان کے خلاف استعمال نہ کرے یا پھر وہ کہیں اسے سچ نا بتا دے۔ لہذا وہ جلد سے جلد اس معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتے تھے تاکہ وقت پر اسکا کوئی سدباب کر سکیں۔
بظاہر تو وہ اخبار کی سرخیوں میں گم تھے مگر ذہہن شکور کی طرف اٹکا ہوا تھا کہ نجانے وہ کیا معلومات لایا ہو گا۔
“سلام خان جی۔۔۔!” شکور ان کے دائیں طرف ہاتھ باندھے کھڑا ہوا۔ انھوں نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔
“کہو۔۔۔۔کیا خبر ہے؟”
وہ بنا تامل مدعے پہ آئے۔
“خان جی۔۔۔نکاح کے بارے میں تو کوئی کچھ نہیں جانتا۔ میں کسی بہانے سے میر کے دوست ارحم سے ملا تھا۔ مگر اس نے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ میر ابھی بھی ہاسٹل میں ہی رہتا ہے۔ مسکاء کے ہاسٹل سے بھی پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ اسے اس کا شوہر وہاں سے لے جا چکا ہے اور اس کے علاوہ وہ مسکاء کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔”
شکور نے رازداری برتتے ہوئے کہا۔
“ہیم۔۔۔۔اور میر۔۔۔۔”
وہ پرسوچ انداز میں اسکی طرف دیکھ رہے تھے۔
“خان جی۔۔۔میر کی وہی پہلے والی روٹین ہے۔ پہلے تو یونیورسٹی اور پھر اکیڈمی جاتا تھا اور اب امتحان ختم ہونے کے بعد صبح سے شام تک دو اکیڈمیز میں نوکری کر رہا ہے۔ چھ بجے تک وہاں سے فارغ ہو کر ایک دو گھروں میں ٹیوشنز دینے جاتا ہے۔ دیر تک وہاں سے فارغ ہوتا ہے تو ہاسٹل چلا جاتا ہے۔ پورے ایک ہفتے سے اسکی یہی روٹین ہے۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا جس سے یہ بات ثابت ہو کہ اس کی شادی ہوئی ہے۔”
اس نے ان کے پوچھنے پر میر کی روٹین بتائی۔ جس سے انھیں یہی اندازہ ہوا کہ یہ بات محض ایک خیال ثابت ہوئی۔ انھوں نے سر کے اشارے سے اسے جانے کو کہا۔
“ٹھہرو۔۔۔۔” انھوں نے شکور کو پیچھے سے آواز دی تو وہ جاتے جاتے رک گیا۔
“شہر جاو اور میر کو میرا پیغام دو کہ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں اور اگر یونیورسٹی سے فارغ ہو گیا ہے تو گاوں آ جائے یہاں اس کے لئے بہتر نوکری ہے۔کم از کم ہماری نظروں کے سامنے تو رہے گا۔ وہاں شہر میں کیا ہے۔ بس بہت پڑھ لیا اب گاوں واپس آ جائے۔”
وہ اخبار تہہ کر کے رکھتے ہوئے بولے۔
“جی خان جی۔۔۔میں آج ہی اسے آپ کا پیغام دیتا ہوں۔”
ان کے سر ہلانے پر وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ ناشتہ کرنے لگے۔ اب وہ کچھ مطمئن سے دکھائی دے رہے تھے۔ ناشتے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گئے۔صوفیہ بیگم فون پہ کسی سے بات کر رہی تھیں۔ انھیں آتا دیکھ انھوں نے الوداعی کلمات کہے اور موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
“ہم آج ہی شہر واپس جا رہے ہیں۔ شہنیلا اور شاہ زیب بھی میرے ساتھ جائیں گے۔ لنچ کے بعد ہمیں نکلنا ہے۔ میں تو کہتی ہوں آپ بھی چلیے ہمارے ساتھ۔ کچھ دن وہاں گزار کر واپس آ جائیے گا۔”
صوفیہ بیگم نے شہر کے نام پہ ان کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات دیکھ کر انھیں بھی ساتھ چلنے کو کہا۔
“کچھ ہی دن تو ہوئے ہیں تم لوگوں کو اور پھر جانے کی رٹ لگا دی ہے۔ تم نے میرے بچوں کو مجھ سے دور کر دیا ہے۔ چلو پہلے تو ان کی پڑھائی کا بہانا تھا مگر اب کیا ضرورت ہے شہر جانے کی۔ تم نے ان کو بھی اپنی طرح کر دیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب یہیں رہو۔ شہر آتے جاتے رہنا۔ میں یہاں بالکل اکیلا ہو جاتا ہوں۔”
وہ اپنی ناگواری نہ چھپا سکے۔ ان کی بات سن کر صوفیہ بیگم نے پریشانی سے انھیں دیکھا تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر وہ اپنی پہ آ گئے تو انھیں بالکل جانے نہیں دیں گے۔
“یہاں آپ کے پاس عالمزیب ہے تو سہی اور پھر آپ اس کی شادی کی بات بھی کر رہے تھے۔ ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔ آپ جانتے تو ہیں شاہ زیب کو وہ تو رکے گا نہیں اور شہنیلا کی فرینڈز بھی اسے شہر آنے کے لئے کہہ رہی ہیں۔”
وہ ان کے قریب آئیں تھیں۔ بچوں کا تو بہانا تھا درحقیقت وہ خود بھی شہری زندگی کی دلدادہ تھیں۔
“بچوں کو کہہ دو۔۔ بس اب عالمزیب کی شادی کے بعد ہی جانا۔”
وہ دو ٹوک انداز میں کہتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گئے۔ وہ خاموشی سے انھیں جاتا دیکھتی رہیں۔ ان کے جانے کے بعد انھوں نے فون کر کے گل رخ بیگم سے کل شام کی دعوت کے لیے معذرت کی اور انھیں بتایا کہ وہ عالمزیب کی شادی کے بعد شہر آئیں گی۔ دل تو ان کا نہیں چاہ رہا تھا مگر میر سربلند خان کے مزاج سے وہ اچھی طرح واقف تھیں۔ اب شہر جانے کا پروگرام تو ٹل گیا تھا تو وہ شادی کے متعلق سوچنے لگیں۔ انھوں نے ملازمہ سے کہہ کر شہنیلا کو بلوایا۔ انھوں نے جب اسے عالمزیب کی شادی کا بتایا تو وہ بہت خوش ہوئی۔ میر سربلند خان جب واش روم سے نکلے تو وہ اور شہنیلا سر جوڑے شادی کی پلیننگ میں مصروف تھیں۔ وہ پرسکون ہو گئے۔
“شادی کی پلیننگ تو ہوتی رہے گی۔ پہلے ہم نے باقاعدہ رشتہ لینے جانا ہے پھر آگے کی تیاری کرنی ہے۔” وہ شہنیلا کے پاس بیٹھتے ہوئے بولے۔
“لیکن بابا آپ نے تو کہا تھا کہ آپ نے ان سے بات کر لی ہے اور وہ اس رشتے کے لئے راضی بھی ہیں۔”
شہنیلا نے انھیں ان کی بات یاد دلائی۔
“ہاں بالکل کہا تھا لیکن آپ اور آپ کی ماما کا بھی میرے ساتھ باقاعدہ رشتہ لے کر جانا ضروری ہے۔ اس لئے ہم کل ہی جائیں گے ان کی طرف۔”
انھوں نے پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
” او۔کے بابا۔۔۔۔ہم کل ہی جائیں گے کیوں ماما ٹھیک ہے نا؟”
اس نے صوفیہ بیگم سے تائید چاہی۔ انھوں نے بھی مسکرا کر سر ہلایا۔ اب وہ ایک بار پھر سے کل کے لئے پلیننگ کرنے لگیں۔ میر سربلند خان خالص زنانہ گفتگو سے اکتا کر روم سے باہر آ گئے۔_____________________________________
“میر۔۔۔۔” وہ ابھی اکیڈیمی سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی گاڑی کی جانب بڑھ ہی رہا تھا کہ اپنے نام کی پکار پر پارکنگ کی طرف بڑھتے اس کے قدم رک گئے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو قریب آتے شکور کو دیکھ کر وہ اس کی طرف آیا۔ وہ جانتا تھا کہ شکور میر سربلند خان کا خاص ملازم تھا اور اکثر ان کے کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں شہر آتا رہتا تھا۔
“میر۔۔۔! خان جی نے تمھارے لئے پیغام دیا ہے۔”
وہ اس کا مصافحہ کے لئے بڑھا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔
“کیسا پیغام۔۔؟” وہ اس کی بات سن کر حیران ہوا۔
“انھوں نے تمھیں گاوں بلوایا ہے۔ شاید انھیں کوئی ضروری کام ہے تم سے۔”
شکور اس کی اٹھان کو رشک سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“مگر ایسا کیا کام ہے کہ انھیں تمھیں بھیجنا پڑا۔ پہلے تو مجھ سے انھیں کوئی کام نہیں پڑا۔”
وہ اردگرد نظر ڈالتے ہوئے بولا۔
“مجھے اس بارے میں زیادہ کچھ نہیں پتہ شاید انھوں نے تمھارے لئے گاوں میں ہی کسی ملازمت کا بندوبست کیا ہے۔”
اس کی بات سن کر ضیغم کے لبوں کو ہنسی نے چھوا۔
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ مجھ پہ اتنی مہربانی کیوں؟؟”
اس کے چہرے سے ناپسندیدگی چھلکنے لگی لیکن پھر بھی اس نے تحمل کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ شکور نے اس کے تفتیشی انداز پہ کندھے اچکائے۔
“تم تو ایسے تفتیش کر رہے ہو جیسے پولیس کے محکمے میں کسی اعلی عہدے پر فائز ہو گئے ہو۔ زیادہ اکڑو مت تمھیں تو ایک دن انہی کی چاکری کرنی ہے پھر اتنا غرور کس بات کا۔”
اس کی بات پر ضیغم کا قہقہہ بلند ہوا پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
“ٹھیک ہے ان سے کہہ دینا کہ کسی دن گاوں کا چکر لگاوں گا۔ ابھی فلحال تو میں فارغ نہیں ہوں۔ ایک جگہ ٹیوشن پڑھانے جانا ہے۔”
اس نے الوداعی نظروں سے اسے دیکھا۔ شکور بھی سر ہلاتے ہوئے مڑ گیا لیکن نجانے کیا سوچ کر مڑتے ہوئے بولا۔
“یہ گاڑی کب لی تم نے۔۔؟”
اس کے سوال پہ ضیغم نے اسکی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اسے گاڑی میں آتے ہوئے دیکھ چکا ہے۔
“کسی دوست کی ہے۔ وہ شہر میں نہیں ہے اس لئے کچھ دن کے لئے میرے حوالے کر گیا ہے۔” اسے بروقت بہانا سوجھا۔ وہ سر ہلاتے ہوئے مڑ گیا۔
“شکور۔۔۔۔۔کیا پچھلے دو ہفتوں سے تم میری حرکات پہ نظر رکھے ہوئے تھے۔”
شکور کے انداز پر اسے شک گزرا۔ وہ پلٹ کر اس کے پاس آیا۔
“کیا تمہی میرے بارے میں لوگوں سے پوچھ تاچھ کر رہے ہو؟”
اس نے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
“ہاں۔۔۔”
نہایت مختصر جواب آیا۔
“کیا میں اس حرکت کے پیچھے چھپی وجہ جان سکتا ہوں کہ آخر تمھیں ایسی کیا ضرورت آن پڑی۔ کیا تم مجھے جانتے نہیں ہو جو میرے بارے میں معلومات کرتے پھر رہے ہو۔”
ایک ہفتہ پہلے ارحم نے اسے بتایا کہ کوئی شخص یونیورسٹی میں اس کے متعلق پوچھ تاچھ کر رہا ہے کہ وہ کہاں رہتا ہے۔۔کس کے ساتھ رہتا ہے اور خاص طور پر شادی کے متعلق پوچھتا ہے کہ کہیں شادی تو نہیں کی۔ اسے اندازہ تو ہو گیا تھا کہ یہ سب کون کر سکتا ہے اور اس کے پیچھے کیا وجہ کارفرما ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے وہ رات کو ہاسٹل چلا جاتا تھا اور پھر کافی وقت وہاں گزار کر گھر جاتا تھا تاکہ وہ جو کوئی بھی ہے کم از کم گھر تک نہ پہنچ پائے۔ کل تک وہ سمجھ رہا تھا کہ شاید باتور خان آتا ہو کیونکہ وہ دو تین بار مسکاء کے ہاسٹل جا چکا تھا۔ مگر آج پتہ چلا تھا کہ میرسربلند خان نے اس کے پیچھے شکور کو لگا رکھا تھا۔ اس کا مطلب واضح تھا کہ ان کو شک ہو گیا تھا کہ مسکاء کا نکاح اس سے کروایا گیا ہے۔ نکاح کی بات کو لے کر وہ پرسکون تھا کیونکہ یونیورسٹی میں اسکے نکاح کا کسی کو بھی علم نہیں تھا سوائے ارحم کے۔
“میں تمھیں ڈوھونڈ رہا تھا تاکہ تم تک ان کا پیغام پہنچا دوں۔ ویسے کیا تمھیں پتہ ہے کہ رحم دین نے اپنی بیٹی کا نکاح کس سے کیا ہے۔ تم تو موجود ہو گے نا نکاح کے وقت۔۔زمان خان نے کچھ تو بتایا ہوگا تمھیں۔”
وہ اکیڈیمی کے گیٹ سے نکلتے لڑکوں پر ایک نظر ڈالتے ہوئے بولا۔
“اچھا۔۔؟؟ ویسے بڑی حیرانی کی بات ہے کہ تمھیں مجھے پیغام دینے میں دو ہفتے لگ گئے۔۔ خان جی سے کہہ دینا میں ایک دو دن میں چکر لگاوں گا۔ دیکھوں تو سہی کہ تمھارے خان جی نے میرے لئے کون سی نوکری ڈھونڈی ہے۔ رہا تمھارا دوسرا سوال تو اسکا جواب میں دینا ضروری نہیں سمجھتا۔”
ضیغم کے دوٹوک انداز پہ شکور نے پہلو بدلہ جبکہ وہ ایک نظر اس پہ ڈالتا پلٹ گیا۔
“تمھاری اکڑ تو خان جی ہی نکالیں گے میر۔۔دو جماعتیں کیا پڑھ لیں خود کو طرم خان سمجھنے لگ گیا ہے۔ خان جی کے مقابلے میں آنا چاہ رہا ہے۔ چیونٹی کی طرح مسل دیں گے وہ تمھیں۔”
شکور نے اونچی آواز میں کہا۔
“مجھے مسلنے کے خواب ضرور دیکھو مگر یاد رکھو کہ خوابوں کی تعبیر الٹ ہوتی ہے۔۔۔اللہ حافظ۔”
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں۔ شکور وہیں کھڑا اسے جاتے دیکھتا رہا۔ اس بات کا جواب تو وہ اسے دے دیتا مگر اسے میر کے ہاتھوں بنی باتور خان کی درگت اچھی طرح یاد تھی۔ اس لئے اس نے خاموشی سے وہاں سے چلے جانا مناسب سمجھا۔
ضیغم اسکے جانے تک وہیں رکا رہا۔ جب وہ جا چکا تو اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔اب اسے اس پریشانی نے آ گھیرا کہ کہیں وہ لوگ اپنی اصلیت پہ نہ اتر آئیں اور بابا کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔ اب اس کے لئے گاوں جانا ناگزیر ہو گیا تھا۔ راستے بھر وہ اسی بارے میں سوچتا رہا۔___________________________________
“زمان خاناں۔۔۔!”
وہ حجرے میں پودوں کو پانی دے رہے تھے جب ماہ گل نے انھیں پکارا۔ وہ حویلی کی طرف کھلنے والے دروازے کے پیچھے کھڑی تھیں۔ اس وقت حجرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ دن کا وقت تھا اس لئے سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ ان کا انداز ایسا تھا جیسے کسی کی نظروں میں نہ آنا چاہتی ہوں۔ کل سے وہ ان سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ آج موقع ملا تو وہ انھیں ڈھونڈتی ہوئیں حجرے کی طرف آئیں تھیں۔ان کے رازدارانہ انداز پہ زمان خان نے فورا پائپ کیاری میں پھینکا اور ہاتھ صافے سے پونچھتے دروازے کے قریب آئے تھے۔
“کیا بات ہے بی بی گل۔۔خیریت تو ہے نا؟”
اتنا سا فاصلہ بھی طے کرنے سے ان کی سانس پھول گئی تھی۔
“میر کی کوئی خیر خبر ہے یا نہیں۔”
انھوں اردگرد نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“اللہ کا شکر ہے بی بی گل۔۔سب خیریت ہے۔ کچھ دن پہلے ہی بات ہوئی تھی میری۔۔بلکہ مسکاء سے بھی بات ہوئی تھی۔ ٹھیک ٹھاک ہیں دونوں۔۔تم کچھ پریشان لگ رہی ہو خیر تو ہے نا؟”
انھوں نے ان کے چہرے پہ چھائی پریشانی بھانپ لی تھی۔
“اللہ ہمارے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ پریشانیوں نے تو جیسے ہمارے گھر کا رستہ دیکھ لیا ہے۔ جتنا دور بھاگتے ہیں اتنا ہی پیچھے آتی ہیں۔ کہاں جائیں سمجھ نہیں آتا۔ یہ لوگ خود تو چین سے جی رہیں ہیں مگر ہم غریبوں پہ زندگی تنگ کر رکھی ہے۔ اب تو اللہ ہی ہمیں بچا سکتا ہے ان ظالموں سے۔”
ماہ گل نے چادر سے اپنی آنکھیں رگڑ ڈالیں۔
“آخر بات کیا ہوئی ہے؟”
ماہ گل کے انداز نے انھیں بھی پریشان کر ڈالا۔
“خان جی کو شک ہو گیا ہے کہ مسکاء کا نکاح میر سے ہوا ہے۔ انھوں نے شکور کو پتہ کروانے کے لئے شہر بھیجا تھا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اسے کچھ بھی معلوم نہ ہو سکا۔”
ماہ گل ماتھا پیٹتی ہوئی بولیں۔ ان کی بات سن کر زمان خان کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔ ایک پل کے لئے تو جیسے ان کی گویائی سلب کر لی گئی ہو۔ بدن سے جیسے پسینہ پھوٹ نکلا تھا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ میرسربلند خان کا دھیان اس طرف اتنی جلدی چلا جائے گا۔ وہ زمین پہ بیٹھتے چلے گئے۔ ماہ گل ان کی پیلی رنگت دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔
“زمان خان۔۔۔سنبھالو خود کو۔۔ کچھ نہیں پتہ چلا ہے ان کو۔ شکور نے آ کر ان کے خیال کی تردید کر دی ہے۔ تم نے تو ایسے ہاتھ پیر چھوڑ دئیے جیسے میں نے خدانخواستہ کچھ اور کہہ دیا ہو۔ میرے منہ میں خاک جو ایسا کچھ کہوں۔ ٹھہرو میں تمھارے لئے پانی لاتی ہوں۔”
وہ صحن میں دھرے پانی کے کولر سے ان کے لئے پانی لے آئیں اور سہارا دے کر انھیں پانی پلایا۔ تھوڑی دیر بعد ان کی رنگت کچھ بحال ہوئی۔
“میں نے کہا کہ شکور کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوا۔ اس نے آکر میر سربلند خان کو کہہ دیا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ وہ پورا ایک ہفتہ میر کے پیچھے رہا لیکن اس نے ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اوپر سے مسکاء ہاسٹل میں بھی نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے مسکاء کے کالج اور ہاسٹل کی کسی لڑکی کو پیسے دے کر اس سے بھی معلومات لینے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے صرف اتنا ہی بتایا کہ مسکاء کو اسکا شوہر آ کر لے گیا ہے۔”
ماہ گل نے تفصیل بتائی تو ان کی جان میں جان آئی۔
“پھر خان جی نے کہا؟”
انھوں نے پانی کا کٹورا زمین پہ رکھا۔
“ان کے چہرے سے تو یہی اندازہ لگایا میں نے کہ انھیں یقین ہو گیا ہے۔ ویسے بھی شکور ان کا خاص آدمی ہے۔ لیکن انھوں نے شکور سے کہا ہے کہ واپس شہر جا کر میر سے کہے کہ میرسربلند خان جتنی جلدی ہو سکے اس سے ملنا چاہتے ہیں۔ شہر کی نوکری چھوڑے اور گاوں آ کر رہے۔ انھوں نے اس کے لئے کام دیکھ رکھا ہے اور پہلی فرصت میں وہ آ کر ان سے ملے۔”
ماہ گل نے مزید بتایا۔
“ٹھیک ہے میں میر سے کہتا ہوں کہ کوئی ضرورت نہیں یہاں آنے کی۔”
وہ دیوار کا سہارا لیتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ہاں ۔۔۔۔میر کو منع کر دو۔ ویسے بھی اگر وہ یہاں آیا تو مسکاء اکیلی ہو جائے گی۔”
ماہ گل بھی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“میں چلتی ہوں کہیں کسی نے دیکھ لیا تو مسئلہ بن جائے گا۔”
یہ کہہ کر وہ جھپاک سے اندر چلی گئیں اور دروازہ بند کر دیا۔ ان کے جاتے ہی زمان خان نے جھک کر زمین سے کٹورا اٹھایا اور واپس صحن میں رکھے کولر پہ رکھ دیا۔ کیاری کی پاس آ کر انھوں نے پائپ اٹھا لیا اور جامن کے ننھے سے پودے کی طرف بڑھے۔ اس کی نازک سی شاخوں پہ تازہ پتے نکلے تھے۔ انھوں نے پائپ اس کی طرف کیا پھر آس پاس کے پودوں کو بھی پانی دیا۔
“تمھارا دھیان کہاں ہے زمان خان۔”
میر سربلند خان کی آواز پہ وہ چونک گئے۔
“خان جی کہیں نہیں۔۔ بس ذرا میر سے ملنے کو جی چاہ رہا ہے۔ مہینہ ہونے کو آیا ہے اس نے مڑ کر چکر ہی نہیں لگایا۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کے پاس سے ہو آوں۔”
انھوں پائپ ایک بار پھر کیاری میں ڈال دیا۔ پانی تیزی سے کچی مٹی کو بھگونے لگا۔
“تیرا رنگ تو ذرد پڑا ہوا ہے؟”
انھوں نے ان کی ذرد رنگت کی طرف اشارہ کیا۔
“بس خان جی۔۔ناتواں جسم ہے۔ بوڑھا ہو گیا ہوں۔ آپ کہیں تو چلا جاوں؟”
انھوں نے دوبارہ پوچھا۔
“ہاں ٹھیک ہے چلے جاو۔۔ لیکن واپسی پہ اسے ساتھ لے آنا۔ یہاں بہت کام ہیں۔ اب تم تو سنبھال نہیں پاو گے تو تمھاری جگہ وہی سب دیکھ لے گا۔”
میرسربلند خان نے کہا تو انھوں نے سر ہلا کر رضامندی دے دی۔
“میں حویلی میں ہوں کوئی آئے تو جواب کر دینا۔”
ایک نظر ان پہ ڈال کر وہ حجرے کا بیرونی دروازہ پار کر گئے۔ انھوں نے سوچا کہ میر کو لے ہی آئیں گے ساتھ تاکہ اگر تھوڑی بہت شک کی کیل ہو ان کے دماغ میں تو وہ بھی نکل جائے۔ انھوں نے نل بند کیا اور گلزم خان کے گھر کی طرف چل دئیے۔ جی تو چاہ رہا تھا کہ رحم دین اور ذہرہ بی بی کو بھی ساتھ لے چلیں لیکن ابھی یہ مناسب نہیں تھا۔
گلزم تو تیار تھا۔ آج اس نے کسی کام سے شہر جانا بھی تھا۔ اس لئے شام سے پہلے نکلنے کا عندیہ لے کر وہ رحم دین کی طرف آ گئے۔ رحم دین کو معلوم ہوا تو ان کا بھی مسکاء سے ملنے کو جی چاہا مگر زمان خان کے سمجھانے پر خاموش ہو گئے۔ ذہرہ بی بی نے مسکاء کے کچھ کپڑے اور ضرورت کی چیزیں بھی انھیں دیں۔ زمان خان نے اپنا چھوٹا سے موبائل فون رحم دین کو دے دیا تاکہ وہ ان سے رابطے میں رہ سکیں۔
وہاں سے وہ فورا چلے آئے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
رحم دین کے گھر ہی میں انھوں نے میر کو اپنے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔
ان کے آنے کا سن کر وہ بہت خوش تھا۔ اسکا رزلٹ بھی آ گیا تھا۔ یہ خوشخبری وہ ان کے آنے پر ہی انھیں دینا چاہتا تھا۔
گھر آ کر انھوں نے اپنا چھوٹا سا سفری بیگ تیار کیا۔ عصر میں ابھی بہت ٹائم تھا اور یہ وقت ان سے کٹ ہی نہیں رہا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ ایک بار پھر حویلی جا کر میر سر بلند خان کو اپنے جانے کا کہہ آئے اور ساتھ ہی ساتھ ماہ گل کو بھی اپنے جانے کی اطلاع دے دیں گے۔ وہ حویلی آ گئے۔ ماہ گل سے پوچھ کر وہ ان کے کمرے میں آئے تھے۔
“تم نے تو آج ہی تخت سفر باندھ لیا۔ ایک دو دن ٹھہر کر چلے جاتے۔”
انھیں ہاتھ میں پکڑی فائل ٹیبل پر رکھی۔
“خان جی۔۔۔پھر واپس آ کر شادی کے انتظامات بھی تو دیکھنے ہیں۔”
زمان خان نے سر جھکائے جھکائے جواب دیا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ کیسے جاو گے؟”
انھوں نے ٹیبل سے چائے کا کپ اٹھایا۔
“وہ جی۔۔۔گلزم خان جا رہا ہے آج کسی کام سے شہر۔۔اسے ہاسٹل کا پتہ بھی معلوم ہے تو اسی کے ساتھ جاوں گا۔”
زمان خان نے انھیں بتایا۔ میرسربلند خان نے سر ہلا کر اجازت دی تو وہ ان کا شکریہ ادا کر کے وہاں سے نکل آئے۔ وہاں سے وہ سیدھے کچن میں آئے جہاں انھوں نے ماہ گل کو اپنے شہر جانے کا بتایا۔ وہ ان کے جانے کا سن کر بہت خوش ہوئیں تھیں۔ اتنی دیر میں عصر کی اذان کی آواز سنائی دی تو وہ ماہ گل کو خدا حافظ کہہ کر حویلی سے نکل آئے۔ اب ان کے قدم گاوں کی اکلوتی مسجد کی جانب گامزن تھے۔________________________________________
گلزم خان کو معلوم نہیں تھا کہ میر اب ہاسٹل میں نہیں رہتا اس لئے وہ زمان خان کو ہاسٹل لے آیا۔ میر گیٹ کے پاس ہی کھڑا ان کا انتظار کر رہا تھا۔ میر کو انتظار کرتا دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے۔ جی چاہتا تھا فورا گاڑی سے نکل کر اسے سینے سے لگا لیں۔ گلزم خان نے گاڑی ایک طرف روکی تو انھوں فورا اپنے دل کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا۔ کتنے پل وہ اسے یونہی سینے سے لگائے کھڑے رہے۔ باپ بیٹے کے ملاپ پہ گلزم خان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“آج میری باری بھی آئے گی یا کل تک انتظار کرنا پڑے گا۔”
گلزم خان ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔ ان کی بات پر دونوں باپ بیٹا مسکراتے ہوئے الگ ہوئے۔ ان سے سلام دعا کے بعد گلزم خان نے اپنی راہ لی۔ ان کے جانے کے بعد ضیغم انھیں گاڑی کی جانب لے آیا۔
“ارحم کی گاڑی کافی پرانا ماڈل نہیں۔ اسے کب سے شوق ہونے لگا پرانی گاڑیوں کا۔”
انھوں نے گاڑی کے بونٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔ ضیغم مسکرا دیا۔
“یہ میری گاڑی ہے بابا۔۔۔آپ کی گاڑی ہے۔”
وہ گاڑی میں بیٹھا اور ان کے لئے بھی فرنٹ ڈور کھول دیا۔
“تم نے بتایا ہی نہیں۔۔کب خریدی گاڑی۔”
زمان خان نے بیٹھتے ہوئے اسے گھورا۔
“او۔ہو بابا۔۔۔کہا تو ہے ہماری گاڑی ہے۔”
ان کی گھوری کا بھی اس پہ کوئی اثر نہ ہوا۔
“میر۔۔۔۔”
وہ تنبیہی انداز میں بولے تو وہ ہنس دیا۔
“کیا بات ہے بڑے خوش دکھائی دے رہے ہو۔۔لگتا ہے مسکاء بہت خیال رکھتی ہے میرے بیٹے کا۔”
انھوں نے اسکی مسکراہٹ کو محبت بھری نظروں سے دیکھا۔
“مسکاء۔۔۔۔اور خیال۔۔۔بابا وہ بہت تنگ کرتی ہے مجھے۔”
“چلو اب جھوٹ مت بولو۔۔مسکاء ایسی نہیں ہے۔۔بہت خیال رکھنے والی بچی ہے۔ تبھی تو تمھاری بتیسی اندر نہیں ہو رہی۔”
اسے خوش دیکھ کر وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے۔
“ارے بابا کہاں خیال رکھنے والی بچی ہے۔۔صرف تنگ کرتی ہے اور جہاں تک بتیسی کی بات ہے تو وہ آپکی آمد کی خوشی ہے۔ ورنہ تو اسے جس وقت دیکھتا اسی وقت تنگ ہونا شروع ہو جاتا ہوں۔”
وہ معنی خیزی سے بولا۔
“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟؟”
انھوں نے پوچھا۔
“کچھ نہیں بابا۔۔۔یہ گاڑی بابا کی ہے۔ گاوں آتے وقت انھوں نے پروفیسر محمد عقیل کے حوالے کی۔ یہ میری امانت تھی ان کے پاس۔۔انھوں نے مجھے لوٹا دی۔”
وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ یہ بات بتاتے وقت جو کرب اس کی آنکھوں میں تھا اسے صرف وہی محسوس کر سکتے تھے۔
“اللہ انھیں اسکا اجر دے۔۔۔کہاں ملتے ہیں آجکل کے زمانے میں ایسے لوگ۔۔اس وقت بھی انھوں نے تمھارے بابا کا بہت ساتھ دیا تھا۔۔میں اس فرشتہ صفت انسان سے ضرور ملنا چاہوں گا۔۔لے کر جاو گے نا مجھے ان کے پاس؟”
انھوں نے اس سے پوچھا۔
“جی بابا میں لے چلوں گا آپ کو۔”
اس کے کہنے پر انھوں نے سر ہلایا اور بھاگتے دوڑتے منظر میں کھو گئے۔ کچھ دیر بعد انھوں نے دیکھا کہ گاڑی ایک نسبتا پرانی عمارت کے سامنے جا رکی ہے۔ انھوں نے جھک کر کھڑکی سے بلند عمارت کو دیکھا۔ آس پاس لوگوں کی کافی چہل پہل تھی۔ اس نے عمارت کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی اور انھیں گاڑی سے نکلنے کا عندیہ دے کر خود بھی گاڑی سے نکل آیا۔ گاڑی لاک کی اور پھر زمان خان کے کندھے پہ بازو پھیلا کر انھیں ساتھ لئے بلڈنگ کی سیڑھیاں طے کر کے فلیٹ کے پاس آن رکا۔ چابی نکال کر لاک کھولا اور انھیں ساتھ لئے اندر داخل ہوا۔ باہر کی بہ نسبت اندر کی حالت کافی اچھی تھی۔ مختصر سامان اور صاف ستھرا لاونج دیکھ کر انکی طبیعت خوش ہو گئی۔کچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔
“آپ بیٹھیں بابا۔۔۔میں ذرا آپ کی لاڈلی کو دیکھ لوں۔”
وہ انھیں وہیں صوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کرتا کچن کی طرف آ گیا۔ جہاں مسکاء کھانے کی تیاری میں مگن تھی۔
“بابا آگئے ہیں۔”
اس نے فریج میں سے ٹھنڈے پانی کی باٹل نکالی اور اسے انفارم کر کے کچن سے نکل گیا۔ مسکاء نے جلدی سے ہاتھ دھوئے اور تولیے سے ہاتھ پونچھتی باہر آئی تھی۔ زمان خان اسے آتا دیکھ خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسکاء بھی آنکھوں میں آئی نمی کو پیچھے دھکیلتی ان کے قریب آئی۔
“السلام و علیکم چاچا۔۔!”
اس نے سلام کیا۔ ضیغم اس کیطرف بغور دیکھ رہا تھا۔ شاکنگ پنک پھولدار قمیص پہ شاکنگ پنک سادہ دوپٹہ اور بلیک سادہ سے ٹراؤزر میں ملبوس وہ اور دنوں سے بہت مختلف لگ رہی تھی۔ اس سے پہلے اس نے یہ لباس اسے پہنتے نہیں دیکھا تھا۔ گلابی رنگت خوشی سے دمک رہی تھی۔ وہ زمان خان سے سب کے متعلق پوچھ رہی تھی۔ وہ اسے ساری باتیں بتا رہے تھے جو ذہرہ بی بی نے انھیں اس سے کہنے کے لئے کہی تھیں۔ کانوں میں چھوٹی چھوٹی گولڈ کی بالیاں تھیں۔ سلیقے سے بنائے گئے بال اب لاپرواہی سے چہرے کے اطراف لٹوں کی صورت بکھرے ہوئے تھے۔ وہ لبوں پہ مسکراہٹ سجائے نہایت محویت سے اسے تک رہا تھا اور جانتا تھا کہ اس کی نظروں کی تپش اس تک بھی پہنچ رہی ہے لیکن وہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز برت رہی تھی۔
“میں آپکے لئے چائے لے کر آتی ہوں۔”
وہ اس کی نگاہوں کے ہٹیلے پن سے گھبرا کر اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ مسکاء کے جانے پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
“تم روز اسی طرح اسے گھورتے ہو یا یہ موقع آج ملا ہے تمھیں؟”
انھوں نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا۔
“میں تو اس لئے گھور رہا تھا کہ آتے ہی آپکو باتوں پہ لگا دیا۔ نہ چائے نہ ٹھنڈا۔۔۔کچھ نہیں آتا اس لڑکی کو۔”
وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر خفت سے مسکراتے ہوئے بولا۔ انھوں نے اس کی بات پہ سر ہلایا۔
“یہ اسی طرح مجھے تنگ کرتی ہے۔”
وہ مزید بولا۔
“چائے۔۔۔”
مسکاء نے ٹرے ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔ اس کی نظروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اسکی بات سن چکی ہے۔
“شکریہ بیٹا۔۔ “
انھوں نے کپ اٹھا لیا۔ چائے وہ بہت شوق سے پیتے تھے لیکن ضیغم کا معاملہ بلکل الٹ تھا۔ وہ چائے کا شوقین نہیں تھا۔ جب کبھی موڈ ہوتا تو بنانے کو کہہ دیتا۔
“میرے لئے نہیں لائی۔”
وہ واپس جانے لگی تو وہ اسے روکنے کی غرض سے بولا۔
“تم تو اس ٹائم چائے نہیں پیتے نا۔” زمان خان پلیٹ سے بسکٹ اٹھاتے ہوئے اسکی جانب دیکھا۔
“کبھی کبھی پی لیتا ہوں۔”
وہ ان کی کڑی نظروں سے جزبز ہوتے ہوئے بولا۔
“میں دیکھ رہا ہوں تمھیں۔۔۔سدھر جاو۔”
انھوں نے ایک بار پھر اسے تنبیہی نگاہوں سے گھورا جبکہ وہ میں نے کیا کیا کی عملی تصویر بنے انھیں دیکھ رہا تھا۔ مسکاء پلٹ کر جا چکی تھی اور وہ اسے میرسربلند خان کے متعلق بتانے لگے۔
مسکاء نے لاونج میں ہی ان کے لئے کھانا چن دیا۔ کھانے کے دوران ضیغم نے انھیں اپنی شاندار کامیابی کے متعلق بتایا اور یہ بھی کہ وہ بہت جلد اپنے سینے پہ ستارے سجائے گاوں آئے گا۔ وہ اتنے خوش ہوئے کہ اٹھ کر اسے سینے سے لگایا۔ آخر کو انکا خواب پورا ہونے جا رہا تھا۔
بہت رغبت سے کھانا کھانے کے بعد مسکاء نے ان کے لئے قہوہ بنایا اور خود بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ ضیغم کی نظریں ایک بار پھر اسی کا طواف کرنے لگیں۔قہوہ پینے کے دوران انھوں نے ایک بیگ مسکاء کو دیا جو ذہرہ بی بی نے اس کے لئے دیا تھا۔ وہ بیگ لیے کمرے میں آ گئی۔ کھول کر دیکھا تو اس میں اس کے کپڑے، جوتے اور ضرورت کی دوسری چیزیں بھی موجود تھیں۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ آنسو پونچھ کر بیگ الماری میں رکھا۔ ابھی الماری کے پٹ بند کرنے ہی والی تھی کہ ضیغم کمرے میں داخل ہوا۔
“یہ کمرا بابا کے لئے ٹھیک ہے۔ وہ یہیں سو جائیں گے۔ تم ایسا کرو کہ میرے روم میں آ جاو۔”
وہ کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔ اس کی بات سن کر تو مسکاء کے قدم وہیں جم گئے اور دل کی رفتار بڑھ گئی۔ ویسے بھی وہ آس پاس ہوتا تو اس کی جان نکل جاتی تھی حالانکہ اس دن کے بعد سے اس نے پھر کوئی کارستانی نہیں کی تھی مگر پھر بھی اسکے ساتھ ایک ہی روم میں۔۔۔یہ سوچ کر ہی اسے اختلاج ہونے لگا تھا۔۔
“کیا سوچ رہی ہو؟”
وہ اس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑتے دیکھ چکا تھا۔۔ ہنسی ضبط کرتے ہوئے بولا۔
“میں یہاں ٹھیک ہوں۔۔آپ اور زمان چاچا وہاں سو جائیں نا۔”
وہ معصومیت سے بولی۔
“واہ واہ کیا کہنے آپکے۔۔۔میری بیوی تم ہو نا کہ وہ۔۔تھوڑی دیر میں آجانا۔”
وہ دو ٹوک انداز میں کہتا پلٹ کر جانے لگا۔
“مگر میں تو پہلے بھی یہیں سوتی تھی۔”
وہ کسی بھی طرح اسے ٹالنا چاہتی تھی۔ وہ سر جھٹک کر اسکے پاس آیا۔
“پہلے کی بات اور تھی۔ ہمارا یوں الگ رہنا انھیں پریشان کرے گا۔ جب وہ چلے جائیں تو تم واپس یہاں شفٹ ہوجانا۔۔۔ہیم۔۔؟”
اس نے اسے سمجھانے کے بعد تائید چاہی تو اسے نا چاہتے ہوئے بھی سر اثبات میں ہلانا پڑا۔
“چلو شاباش۔۔۔کمرہ درست کر کے آ جاو اور ہاں بابا کے لئے پانی رکھ جانا تاکہ انھیں کوئی تکلیف نہ ہو۔” وہ تو کہہ کر روم سے نکل گیا مگر اسکی جان پہ بن آئی۔ وہ تو ایک پل اس کے سامنے ٹک نہیں پاتی کجا کہ ساری رات اسی کے روم میں گزارنا۔ یہی سوچ سوچ کر نروس ہو رہی تھی کہ زمان خان کمرے میں داخل ہوئے۔
“ارے تم ابھی یہیں ہو۔۔ضیغم تو چلا گیا ہے کمرے میں۔۔جاو تم بھی آرام کرو۔”
انھوں نے اسے وہیں کھڑے دیکھ کر پوچھا۔
“جی بس جا رہی ہوں۔۔ آپ کو کچھ چاہیئے تو نہیں۔”
اس نے الماری میں سے اپنے کپڑے لئے اور کمرے سے جانے لگی کہ ان کے پکارنے پر پلٹی۔
“تمھارے کپڑے یہاں کیوں ہیں۔۔ضیغم ٹھیک تو ہے نا تمھارے ساتھ۔”
انھوں نے اسے بغور دیکھا۔ وہ جب سے آئے تھے نوٹ کر رہے تھے کہ دونوں میں نارمل میاں بیوی جیسی بول چال نہیں ہے۔
“جی۔۔۔۔جی سب ٹھیک ہے۔۔وہ دراصل ہمارے روم کی الماری چھوٹی ہے اس لئے میں اپنے کچھ کپڑے یہاں رکھتی ہوں۔”
اسے بروقت بہانا سوجھا۔
“ٹھیک ہے جاو اب آرام کرو۔” انھوں بیڈ کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
“آپ کے پانی لے آوں پھر جاتی ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ روم سے باہر جانے لگی۔
“میں خود لے لوں گا بیٹا۔۔ تم جاو سو جاو۔۔تھک گئی ہوگی۔”
ان کے کہنے پہ وہ روم سے باہر آ گئی۔ لاونج کی لائٹ آف کر کے وہ ضیغم کے روم میں آئی۔ کمرے میں نائٹ بلب کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ضیغم بیڈ پہ سو رہا تھا۔ سو رہا تھا یا سونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا وہ سمجھ نہ سکی۔پورے کمرے پہ ایک طائرانہ نظر ڈالتی بیڈ کے قریب آئی۔ پھر آہستہ سے دائیں طرف کروٹ لے کر لیٹ گئی اور نیند آنے کی دعا کرنے لگی۔ اس کے اتنی خاموشی سے لیٹ جانے پہ ضیغم کے لبوں پہ مسکراہٹ چھا گئ۔ __________________________________جاری ہے۔۔
