Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode19
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode19
Ghag By Mahwish Urooj Episode19
“خان جی۔۔۔”
زمان خان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ایک عجیب سے احساس نے ان کا گھیراؤ کیا۔
“باتور خان۔۔۔۔!!”
میرسربلند خان بھی کھڑے ہو گئے اور حجرے کے داخلی دروازے کی جانب دیکھا۔ان کے چہرے پہ چھائی عجیب سی مسکراہٹ زمان خان کو خوف میں مبتلا کیے دے رہی تھی۔انھوں نے بھی دروازے کی جانب دیکھا۔جہاں سے باتور خان اندر داخل ہوا۔ان کا ذہہن اچانک مسکاء کی جانب گیا۔وہ گھر میں اکیلی تھی۔باتور خان ان کی جانب آ رہا تھا۔وہ نہیں جانتے تھے کہ اگلے پل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
“ضیغم قادر خان کو ڈھونڈ رہا ہے۔کیونکہ اسے معلوم ہو گیا ہے کہ اسکے ماں باپ کو قادر خان نے قتل کیا ہے اور وہ بھی میرے کہنے پہ۔۔”
میرسربلند خان دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے زمان خان کے قریب آئے۔
“خان جی۔۔۔۔مجھے اس بارے میں کچھ۔۔۔۔”
“سارا گاوں جانتا ہے کہ اس کے باپ کو قادر خان نے اپنے بدلے کی آگ بجھانے کے لئے قتل کیا تھا مگر تم یہ بات بھول گئے شاید۔”
میرسربلند خان اور باتور خان زمان خان کو گھیرے کھڑے تھے۔ان کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
“ڈرو مت زمان خان۔۔۔۔وہ کیا ہے کہ بڑی مچھلی کو پکڑنے کے لئے چھوٹی مچھلی کو چارہ بنانا ہی پڑتا ہے۔”
میرسربلند خان ان کے پریشان چہرے کو دیکھ کر ہنستے ہوئے بولے۔
“خان جی۔۔۔۔میں سمجھاوں گا اسے۔۔”
زمان خان پلٹ کر جانے لگے۔
“ارے چاچا۔۔۔کہاں بھاگ رہے ہو۔۔”
باتور خان نے زمان خان کو بازو سے پکڑ کر روکا۔
“خان جی۔۔۔”
زمان خان نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے میرسربلند خان کی جانب دیکھا۔
“باتور خان۔۔۔۔زمان خان اب ہمارا مہمان ہے۔۔اس کی خوب اچھے سے خاطر تواضع کرنا تمھارا کام ہے۔مجھے کوئی شکایت نہ ملے۔۔”
میرسربلند خان نے مسکرا کر باتور خان کی جانب دیکھا اور وہیں سے پلٹ گئے۔ان کا رخ حویلی کی جانب تھا۔
“خان جی آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔چھوڑو باتور خان۔”
زمان خان نے میرسربلند خان کو جاتے دیکھکر باتور خان سے کہا۔
“زیادہ اچھل کود مت کرو چاچا۔۔۔تمھارا لاغر وجود اس قابل نہیں کہ میرا وار جھیل سکے۔اس لئے سیدھے سیدھے چلو۔۔جہاں میں لے جاوں۔”
باتور خان نے زمان خان کو آگے کی جانب دھکیلا۔۔وہ گرتے گرتے بچے تھے۔
“زمان خان تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔۔نمک حرامی کی۔۔میں نے تم پہ احسان کیا اور تم نے وہ احسان میرے منہ پہ دے مارا۔۔اب بھگتو۔۔۔تم باپ بیٹے کو ایسی سزا دوں گا کہ سارا گاوں یاد کرے گا۔۔۔لے جاو اسے باتور خان۔۔۔۔۔اسکا بیٹا خود ہی دوڑتا ہوا آئے گا۔”
میرسربلند خان نے پلٹ کر کہا۔۔۔ان کے لہجے کی سختی اب چہرے سے بھی جھلکنے لگی تھی۔
“خان جی۔۔۔۔آ۔۔۔آپ جانتے نہیں ہیں میرے بیٹے کو۔۔وہ نہ تو بزدل ہے اور نہ بیوقوف۔۔اسے پالا میں نے ہے مگر اسکی رگوں میں دوڑتا خون میردراب خان کا ہے۔۔۔آپ کا ہے۔۔جو اپنے اور اپنے دشمن کے درمیان فاصلہ رکھنا نہیں جانتا۔۔وہ ضرور اس کام کو پورا کرے گا جسکا اس نے ارادہ کیا ہے۔۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اسے کمزور کر دیں گے تو یہ آپ کی بھول ہے۔۔۔وہ شیر ہے۔۔اس چوٹ سے بپھر تو سکتا ہے مگر ڈر نہیں سکتا۔”
وہ بلند آواز میں کہہ رہے تھے جبکہ باتور خان انھیں اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے پچھلی گلی کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“ایک بار آ تو لینے دو اسے۔۔میں اسے بھی اسی جہان کی سیر کراوں گا جسکی اسکے ماں باپ کو کروائی تھی اور تم فکر مت کرو۔۔۔۔جو بھی ہو گا تمھاری آنکھوں کے سامنے ہوگا۔”
وہ یہ کہہ کر رکے نہیں اور تیزی سے حویلی کے اندر کھلنے والے دروازے سے حویلی میں چلے گئے۔
“تم کیوں اپنی موت کو دعوت دے رہے ہو باتور خان۔۔جانے دو مجھے۔۔۔”
وہ باتور خان کی گرفت سے اپنا بازو چھڑانے لگے۔
“چاچا۔۔۔۔بس بہت ہو گیا۔”
یہ کہہ کر باتور خان نے انھیں دیوار کی جانب دھکا دیا۔ان کا سر دیوار سے جا ٹکرایا۔۔ان کی پیشانی سے خون کا فوارہ پھوٹ نکلا۔۔اگلے ہی پل وہ حواس کھو بیٹھے تھے۔۔باتور خان نے انھیں اٹھا کر اپنے کندھے پہ ڈالا اور حجرے کی پچھلی جانب آ گیا۔جب اس میں انھیں مزید سنبھالنے کا یارا نہ رہا تو اس نے انہیں کندھے سے اتارا۔وہ ابھی تک حواس سے بیگانہ تھے۔ادھر ادھر دیکھنے پہ باتور خان کو سامنے ایک کمرہ سا دکھائی دیا۔اس نے ایک بار پھر ان کے بے ہوش وجود کو اٹھایا اور کمرے کی جانب بڑھا۔
اس نے کمرے کے دروازے کو ٹھوکر مار کر کھولا۔اندر دھول مٹی کا ایک غبار تھا جو اس کے نتھنوں سے ٹکرایا۔کمرے کے وسط میں ایک چارپائی پڑی تھی۔اس نے انھیں چارپائی پہ ڈالا اور تیزی سے وہاں سے باہر آ گیا۔اس نے دروازے پہ باہر سے کنڈی لگائی۔وہاں دروازے سے کچھ ہی فاصلے پہ اسے زنگ آلود تالا پڑا ہوا دکھائی دیا۔اس نے تالا اٹھا کر دروازے پہ لگانا چاہا مگر زنگ آلود ہونے کی وجہ سے تالا بند نہیں ہو رہا تھا۔وہ تالے کو بند کیے بغیر وہاں سے نکل آیا۔
حجرے کی اگلی جانب آ کر اس نے ایک طرف لگے نل سے ہاتھ منہ دھویا اور حویلی آ گیا۔جہاں میرسربلند خان اسکا انتظار کر رہے تھے۔
_________________________________________
“پتہ نہیں بابا کہاں چلے گئے ہیں اماں۔۔۔مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے۔مغرب کی نماز پڑھ کر آئے ہی تھے کہ دروازے پہ دستک ہوئی تھی۔میں کچن میں تھی اس وقت۔۔۔چائے بنا رہی تھی ان کے لئے۔۔خاموشی پہ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو وہ دروازہ سے باہر کھڑے کسی سے بات کر رہے تھے۔کچھ دیر بعد دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔میں کچن سے باہر آئی تو گھر میں نہیں تھے۔میں نے سوچا کسی کام سے گئے ہونگے کچھ دیر میں آ جائیں گے۔مگر اب تک نہیں لوٹے۔”
بہتے آنسووں کے درمیان وہ انھیں بتا رہی تھی۔
“پریشان مت ہو۔۔۔تمھارے بابا دیکھنے گئے ہیں نا۔۔یہیں کہیں ہونگے۔۔ضیغم کہاں ہے۔۔؟؟”
اس کی بات سن کر تو ذہرہ بی بی بھی پریشان ہو گئی تھیں کیونکہ زمان خان اتنے لاپرواہ نہیں تھے اور اب جبکہ انھیں پتہ تھا کہ مسکاء بھی اکیلی ہوتی ہے گھر میں۔۔۔
آج صبح سے ہی مسکاء انھیں بہت یاد آ رہی تھی۔رحم دین گھر آئے تو وہ انھیں ساتھ لئے مسکاء سے ملنے چلی آئیں۔لیکن یہاں آ کر معلوم ہوا کہ زمان خان کافی ٹائم سے کہیں گئے ہوئے ہیں۔۔۔وہ بھی بنا بتائے اور اب تک نہیں لوٹے ہیں۔۔مسکاء کا تو رو رو کر برا حال ہو رہا تھا۔
“ضیغم کہاں ہے مسکاء۔۔؟؟”
انھوں نے اس سے دوبارہ پوچھا۔
“وہ کل شہر گئے تھے۔۔۔میری بات ہوئی تھی کہہ رہے تھے رات تک آ جائیں گے۔”
مسکاء نے آنسو پونچتے ہوئے انھیں بتایا۔
“اسے بتایا تو نہیں۔۔۔۔؟”
وہ اس سے ضیغم کی بابت پوچھ رہی تھیں کہ دروازہ کھلنے کی آواز پہ انھوں نے پلٹ کر دیکھا۔رحم دین اندر داخل ہو رہے تھے۔
“بابا۔۔۔۔۔ملے زمان بابا۔۔؟ ساتھ نہیں لائے انھیں آپ؟”
مسکاء تیزی سے اٹھ کر ان کے پاس آئی تھی۔ذہرہ بی بی بھی ان کے پیچھے آئی تھیں۔انھوں نے ذہرہ بی بی کی جانب دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔
“ہر جگہ دیکھ لیا۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔کسی نے بھی اسے مغرب کے بعد سے نہیں دیکھا۔جس جس سے پوچھا یہی کہہ رہا تھا کہ مسجد میں ہی دیکھا تھا۔”
رحم دین تھکے ہارے قدموں چلتے ہوئے انھیں وہیں کھڑا چھوڑ کر چارپائی پہ آ بیٹھے جبکہ مسکاء تو خاموشی سی وہیں کھڑی رہ گئی۔
“ڈسپینسری میں دیکھا۔۔؟ کیا پتہ طبیعت خراب ہو تو وہاں چلے گئے ہوں۔”
ذہرہ بی بی مسکاء کو تھامے ان کے پاس آئیں۔
“وہاں بھی گیا تھا۔۔۔نہیں ہے وہاں بھی۔”
وہ کندھے پہ پڑے رومال کو سر کے گرد لپیٹتے ہوئے بولے۔
“بابا۔۔۔حویلی۔۔۔وہ حویلی گئے ہونگے۔۔آپ بی بی گل سے پوچھ آتے۔”
مسکاء نے انھیں پرامید نظروں سے دیکھا کہ شاید وہ وہاں نہ گئے ہوں۔
“وہاں سے ہو آیا ہوں۔۔۔بی بی گل سے تو کسی نے ملنے ہی نہیں دیا اور نہ ہی کسی نے زمان خان کو دیکھا ہے۔۔تم ضیغم سے بات کرو۔”
رحم دین نے مسکاء کی جانب نظر کی۔۔رونے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔اس نے اندر آ کر موبائل اٹھایا۔۔رحم دین اور ذہرہ بی بی کے آنے سے پہلے بھی وہ ضیغم کو کئی بار کال کر چکی تھی مگر اس کا فون مسلسل بند جا رہا تھا۔۔ایک بار پھر اس نے نمبر ڈائل کیا مگر نمبر بند تھا۔
وہ ہاتھ سے پیشانی مسلتی باہر آگئی۔
“بابا ان کا نمبر بند جا رہا ہے۔۔”
وہ کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولی۔
“مجھے تو لگتا ہے جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
رحم دین کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئے۔۔
“اللہ نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو۔۔۔۔آپ کی بات سے تو میرے دل میں ہول اٹھ رہے ہیں۔۔اللہ خیر کرے۔”
ان کی بات سن کر ذہرہ بی بی دل تھام کر بولیں۔جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
“مسکاء۔۔۔ادھر آو۔۔۔”
مسکاء کے چہرے کی اڑتی رنگت دیکھ کر ذہرہ بی بی نے اس کے لئے اپنے قریب جگہ بنائی۔۔وہ ان کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔۔ذہرہ بی بی کے سینے سے سر ٹکا کر دل ہی دل میں وہ ان دونوں کے لئے دعاگو تھی۔۔
گھڑی کی سوئیاں ایک بجے کا وقت بتا رہی تھیں جب دروازے پہ دستک ہوئی۔وہ صحن میں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔دستک کی آواز پہ رحم دین فورا اٹھے اور دروازے کی طرف بڑھے۔
“پوچھ کے کھولیے گا دروازہ۔۔۔۔”
اپنے پیچھے ذہرہ بی بی کی آواز پہ ان کے قدم پل بھر کو تھم گئے تھے۔۔پلٹ کر ان کی جانب دیکھا اور پھر سر ہلا کر آگے بڑھ گئے۔
“کون۔۔۔۔۔؟”
دروازے کے قریب پہنچ کر انھوں نے آہستگی سے پوچھا۔۔
“میں ہوں چاچا۔۔۔ضیغم۔۔۔”
وہ رحم دین کی آواز سن کر حیران ہوا تھا۔رحم دین نے فورا دروازہ کھول دیا۔ضیغم اندر داخل ہوا۔
“السلام و علیکم چاچا۔۔۔۔آپ یہاں اس وقت۔۔۔سب خیریت تو ہے نا۔۔مسکاء۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے ان کے بالکل پیچھے دیکھا۔۔مسکاء کو دیکھ کر اس نے سکون کی سانس لی لیکن اگلے ہی پل اس کے آنسووں سے دھلے سرخ چہرے پہ نظر پڑی تو پریشانی سے اس کی طرف بڑھا۔
“مسکاء۔۔۔کیا بات ہے تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟”
ضیغم نے اسے بازوں سے پکڑ کر بغور سے اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔
“ضیغم۔۔۔۔بابا۔۔۔۔۔”
ضیغم کو ماحول میں کسی کمی کا احساس ہوا۔
“بابا۔۔۔۔۔؟ کہاں ہیں بابا؟”
وہ چاروں طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔زمان خان کے کمرے کی لائٹ بھی بند تھی۔
“تم بیٹھو۔۔۔۔”
رحم دین نے اسے کرسی پہ بٹھایا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گئے۔انہوں نے اسے ساری بات بتائی۔
“میں جانتا ہوں کہ یہ کام کس کا ہے اور میں چھوڑوں گا نہیں اسے۔۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی جانب لپکا۔
“بیٹا یہ وقت وہاں جانے کا نہیں۔۔۔اور اگر انھوں نے کیا ہے تو وہ تمھیں بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔میں گیا تھا۔کسی نے کچھ بھی نہیں بتایا۔وہاں بھی سب نے خود کو لاعلم ظاہر کیا ہے۔”
رحم دین نے اسے روکا۔
“چاچا۔۔۔وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا اور جو طریقہ اس نے اپنایا ہے یہ اسے بہت مہنگا پڑے گا۔اگر بابا کو کچھ بھی ہو گیا تو میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔”
وہ اپنا ہاتھ چھڑاتا تیزی سے باہر نکل گیا۔
“ضیغم۔۔۔بیٹا رکو۔۔”
رحم دین اس کے پیچھے دوڑے تھے۔مسکاء اور ذہرہ بی بی بھی ان کے پیچھے باہر آئیں تھیں مگر وہ رکا نہیں۔کچھ دیر تو رحم دین وہیں کھڑے اسے جاتا دیکھتے رہے پھر سست قدموں سے واپس لوٹ آئے۔
_________________________________________
“اب آپ دیکھیئے گا خان جی شکار کیسے خود ہمارے جال میں پھنستا ہے۔اس بار ایسا سبق سکھاوں گا کہ سب بھول جائے گا۔”
وہ داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔میرسربلند خان بھی اسکی بات سن کر مسکرا دئیے۔
“پھنستا ہے نہیں۔۔سمجھو پھنس گیا۔۔جیسے ہی اسے معلوم ہوگا وہ اسے بازیاب کروانے ضرور آئے گا۔کب سے انتظار تھا مجھے اس وقت کا۔۔میں اس کے چہرے پہ وہی بےچارگی دیکھنا چاہتا ہوں جو اس باپ کے چہرے پہ دیکھی تھی۔۔میں چاہتا ہوں کہ وہ گڑگڑا کر مجھ سے معافی مانگے اور میں اسے دھتکار دوں۔”
میرسربلندخان کی گردن غرور سے تن گئی تھی۔۔لہجے میں طاقت کا نشہ بول رہا تھا۔
“خان جی۔۔۔زمان خان کا کیا کرنا ہے؟”
باتور خان نے پوچھا۔
“اسے وہیں پڑا رہنے دو۔۔۔لیکن دیکھو خیال رکھنا کہیں مر ور نہ جائے۔۔کھانا پینا دیتے رہنا۔”
وہ اپنے گرد چادر اچھی طرح لپیٹتے ہوئے بولے۔
“لیکن خان جی۔۔۔اگر میر سب کچھ جانتا ہے تو وہ اپنے ماں باپ کی قبروں سے بھی واقف ہو گا اور اگر وہاں سے واقف ہے تو زمان خان کو وہاں رکھنا ٹھیک نہیں۔اسے کہیں اور پہنچانا ہو گا۔وہاں تو وہ آسانی سے پہنچ جائے گا۔”
باتور خان نے اپنی سرخ آنکھیں ان پہ مرکوز کرتے ہوئے کہا۔
“بات تو تمھاری ٹھیک ہے۔۔۔میں اتنی آسانی سے بازی پلٹنے نہیں دے سکتا۔تم ایسا کرو کہ کل رات کے وقت زمان خان کو شہر والے بنگلے میں پہنچا دو لیکن احتیاط کرو کہ قادر خان سے اسکا سامنا نہ ہو۔ایک دو دن بعد اسکا پکا بندوبست کر لیں گے۔بہت ستا لیا ان دونوں نے ہمیں۔۔اب ہماری باری ہے۔۔ناکوں چنے نہ چبوا دئیے تو میرا نام بھی میرسربلند خان نہیں۔”
وہ مٹھیاں بھینچ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ٹھیک ہے میں ابھی لے جاتا ہوں۔۔کل تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔”
باتور خان دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ابھی وہ دروازہ کھولنے ہی والا تھا کہ گلاب خان تیزی سے اندر داخل ہوا۔
“کیا بلا پڑ گئی ہے جو ایسے بھاگے چلے آ رہے ہو؟”
باتور خان نے اسے وہیں روک دیا۔
“خان جی باہر کوئی بندہ آیا ہے آپ سے ملنے کے واسطے۔۔۔کہہ رہا ہے کہ اسے ایس۔ایچ۔او طارق خان نے بھیجا ہے۔کوئی پیغام دینا ہے آپکو۔”
گلاب خان نے باتور خان کی جانب دیکھے بغیر میرسربلند خان سے کہا۔
“بھیج دو اسے یہیں۔۔”
ان کے کہنے پہ وہ واپس پلٹ گیا۔
“ضرور کو ضروری پیغام ہو گا جو اس نے اس وقت کسی کو بھیجا ہے۔”
باتور خان واپس اپنی جگہ پر آ بیٹھا۔
“ہیم۔۔۔۔۔دیکھتے ہیں۔”
ان کی پرسوچ نظریں دروازے پہ ٹکی ہوئیں تھیں۔پیشانی پہ شکنوں کا جال ایک بار پھر ابھر آیا تھا۔تھوڑی دیر بعد وہ شخص اندر داخل ہوا۔سادہ سے لباس میں ملبوس اس شخص کو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔باتور خان بھی بغور اس غیر شناسا شخص کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔اس نے بھی اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
“ہاں بولو۔۔۔کیا پیغام دیا ہے طارق نے؟”
وہ اس کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔
“طارق نے کہا ہے کہ اے۔ایس۔پی میر ضیغم خان ابھی کچھ دیر پہلے کسی قادر خان کو پکڑ کر لایا ہے۔وہ اس وقت حوالات میں ہے بےہوشی کی حالت میں۔۔انسپیکٹر عمر خان کو اس پہ کڑی نظر رکھنے کو کہا ہے اور سختی سے منع کیا ہے کہ کسی کو بھی شکور اور قادر خان سے ملنے نہ دیا جائے۔”
اس بار رنگ اڑنے کی باری ان دونوں کی تھی۔میرسربلندخان تو ایسے کھڑے رہ گئے جیسے کسی نے ان سے قوت گویائی چھین لی ہو۔باتور خان بھی حیران پریشان کھڑا تھا۔
“یہ کیسے ممکن ہے؟؟ وہ قادر خان تک کیسے پہنچ گیا۔وہاں کے بارے میں اسے کس نے بتایا؟”
انھوں نے غصے سے اپنے گرد لپٹی چادر اتار کر دور پھینک دی۔
“مجھے نہیں پتہ۔۔۔بس مجھے اتنا کہا گیا ہے کہ یہ خبر میں آپ تک پہنچا دوں۔اب میں چلتا ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ شخص پلٹ گیا۔
“میں اس کمینے کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔سمجھتا کیا ہے خود کو۔۔وہاں تک کیسے پہنچا وہ اور کس کی مدد سے۔۔۔”
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسطرح اس تنگ ہوتی گلی سے نکلیں۔۔وہ جتنا بھاگنے کی کوشش میں تھے وہ اتنا ہی ان کے گرد گھیرا تنگ کرتا جا رہا تھا۔
“مجھے تو لگتا ہے اس سلسلے میں شکور نے اس کی مدد کی ہو گی۔۔ہو سکتا ہے اس نے سختی سے کام لے کر اس سے قادر خان کے بارے میں اگلوا لیا ہو۔۔ایک دو تھپڑ سے ہی سچ بول دیا ہو گا اس نے۔۔آپ ایس۔ایچ۔او سے بات کریں اور دونوں کا قصہ اندر ہی تمام کر دیں۔ان دونوں نے مزید کوئی گل افشانی کر دی تو ہم تو اور پھنس جائیں گے۔ہمارے خلاف تگڑے ثبوت اس کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔”
باتور خان نے مزید ان کے پیروں تلے سے زمین کھینچی۔
“بکواس بند کرو۔۔۔تم لوگ نمک حرام ہو۔۔۔کسی کام کے نہیں ہو۔۔تم لوگوں کی وجہ سے آج میں اس ناکامی کا منہ دیکھ رہا ہوں۔تمھارے کہنے پہ میں نے اب تک قادر خان کا قصہ ختم نہیں کیا کیونکہ تم کہتے رہے وہ بات تو کب کی ختم ہو چکی اسکے زندہ رہنے سے ہمیں کوئی نقصان نہیں۔۔۔اب دیکھ لو۔۔۔۔۔۔”
انھوں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
“خان جی۔۔۔۔مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ اس تک پہنچ جائے گا اور پھر سارا قصور تو اس ڈرپوک شکور کا ہے۔مر جاتا پر آپ کے خلاف زبان نہ کھولتا۔”
اس کی بات پہ انھوں نے اسے غضبناک انداز میں گھورا۔
“دفع ہو جاو یہاں سے۔۔۔۔ابھی اور اسی وقت زمان خان کو کسی محفوظ مقام پہ پہنچاو اور اس بار اگر غلطی ہوئی تو سب سے پہلے تمھیں ختم کروں گا۔اب دور ہو جاو میری نظروں کے سامنے سے۔”
میرسربلند خان نے اس کی جانب سے رخ پلٹ کر کہا۔وہ کچھ پل تو خاموشی سے کھڑا رہا مگر پھر تیز قدم اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔اتنی بےعزتی پہ اسکا خون کھول رہا تھا۔اب اس سے پہلے کے قانون کے ہاتھ اس تک پہنچتے اس کے لئے شکور اور قادر خان کو انجام تک پہنچانا بہت ضروری ہو گیا تھا۔
جبکہ دوسری طرف میرسربلند خان ضیغم کے ایسے وار پہ غصے سے پیچ و تاب کھا کر رہ گئے۔پہلے تو وہ سوچ رہے تھے کہ زمان خان کو مہرہ بنا کر ضیغم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے مگر اب قادر خان اس کے ہاتھ لگ چکا تھا۔اگر قادر خان نے اس کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کر لیا تو سب ملیا میٹ ہو جائے گا۔اب انھیں اس بات پر پردہ رکھنا ہو گا کہ زمان خان ان کے قبضے میں ہے۔اگر ضیغم قادر خان کو ختم کر دے تو ان کی بلا سے۔۔۔لیکن اگر ضیغم نے قادر خان کو ان کے خلاف استعمال کیا تو خود کو بچانا ان کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ساتھ ہی ساتھ ایک بات ان کے حق میں جا رہی تھی کہ دراب خان اور خزیمن کے قتل کی کوئی ایف۔آئی۔آر درج نہیں کی گئی تھی۔ان کے علاوہ کون تھا جو ایسا کرتا۔۔انھوں نے اس وقت بھی اس معاملے کو جرگے کے ذریعے ختم کر دیا تھا کہ وہ مزید خون خرابا نہیں چاہتے اور قادر خان چونکہ فرار ہے تو جب وہ مل جائے گا وہ اسکا فیصلہ بھی کر دیں گے۔اس طرح بڑی چالاکی سے انھوں نے دراب خان اور خزیمن کیطرح ان کے دہرے قتل کو بھی زمین میں دفنا دیا تھا۔لیکن اب گڑھے مردے پھر سے ان کے سامنے آ کھڑے ہوئے تھے۔
“ضیغم تم تو ہمارے بھی باپ نکلے۔۔۔۔۔۔لیکن خیر شیر کا شکار کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔تم آسمان پہ چاہے جتنا بھی اونچا اڑ لو۔۔میں تمھیں زمین میں دھنسا کر چھوڑوں گا۔”
انھوں نے ایس۔ایچ۔او طارق کا نمبر ملا کر فون کان سے لگایا۔دوسری جانب بیل جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔انھوں نے موبائل ایک طرف ڈال دیا اور خود کمرے سے باہر نکل گئے۔
_________________________________________
سر میں اٹھتی درد کی ٹیسیں انھیں ہوش میں لے آئیں۔نیم وا آنکھوں سے انھوں نے اپنے اردگرد کے ماحول کو پہچاننے کی کوشش کی۔اندھیرا ہونے کی وجہ سے انھیں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔وجود اس قدر نڈھال تھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پا رہے تھے۔انھوں نے ہاتھ پھیر کر اپنے اردگرد پڑی چیزوں کو محسوس کرنا چاہا۔ہمت کر کے انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی۔ان کے ہلنے سے خستہ حال چارپائی کی آواز خاموش ماحول میں سنائی دی۔
“مسکاء۔۔۔۔۔ضیغم۔۔!!”
انھوں نے نحیف آواز میں مسکاء اور ضیغم کو پکارا۔کچھ دیر انتظار کے بعد بھی جواب نہ پا کر انھوں نے ایک بار پھر دونوں کو پکارا۔اس بار آواز تھوڑی بلند تھی۔مگر وہ ان کے قریب ہوتے تو آواز دیتے۔۔وہ تھک کر واپس لیٹ گئے۔اندھیرے میں چھت کو گھورنے لگے۔انھیں اپنے ہاتھ گرد سے اٹے ہوئے محسوس ہوئے۔ان کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔انھیں یاد نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس قدر بیمار کب ہوئے تھے اور نا سمجھ پا رہے تھے کہ درد کی شدت کس حصے میں زیادہ ہے۔اچانک انھوں نے اپنا ہاتھ ماتھے پہ رکھا تو درد کی ایک شدید لہر ان کے رگ و پے میں سرایت کر گئی۔۔انھیں یاد آیا کہ باتور خان نے انھیں دھکا دیا تھا۔ان کے ماتھے پہ کچھ جما ہوا تھا۔وہ ایک بار پھر اٹھ کر بیٹھ گئے۔ہوش میں آ جانے سے اب انھیں سردی کا احساس ہونے لگا تھا۔ان کی سانس پھولی ہوئی تھی جیسے میلوں کا سفر طے کر کے آئے ہوں۔
“باتور خان۔۔۔۔۔۔۔۔”
دھیرے دھیرے سوچ کی گرہیں کھلنے لگیں تو انھیں سب یاد آنے لگا۔۔مگر ابھی بھی وہ جان نہ سکے تھے کہ وہ کہاں ہیں۔درد کی شدت میں اضافہ ہوا تو وہ ایک بار پھر لیٹ گئے۔۔تقریبا بیس منٹ بعد انھیں کسی کے قدموں کی آواز آئی۔وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔آنے والے نے ٹھوکر مار کر دروازہ کھولا اور ٹارچ کی روشنی ان پہ ڈالی۔چندھیا دینے والی روشنی نے انھیں آنکھیں بند کر لینے پر مجبور کیا۔
“چل اٹھ۔۔۔۔۔”
کسی نے انھیں بازو سے پکڑ کر کھڑا کرنا چاہا۔وہ باتور خان کی آواز پہچان گئے تھے۔
“باتور خان ۔۔۔مجھے جانے دو۔۔میرے بیٹے کو جیسے ہی معلوم ہوگا۔وہ تم لوگوں تک پہنچنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگائے گا۔”
وہ سنبھل کر چارپائی سے اترے۔
“ابھی تک تیری اکڑ نہیں ختم ہوئی۔۔۔تیرے بیٹے کو تو ہم نے کب کا اوپر پہنچا دیا۔اب تیری باری ہے۔”
باتور خان نے انھیں دروازے کی جانب دھکیل کر ہنستے ہوئے کہا۔
“جھوٹ بول رہے ہو تم۔۔۔۔تم میں اتنی ہمت نہیں کہ میرے شیر تک پہنچ سکو۔وہ تم لوگوں کو جہنم واصل کرے گا۔۔۔دیکھ لینا۔”
انھوں نے مضبوطی سے دروازے کو پکڑ کر خود کو گرنے سے بچایا۔
“خاموشی سے چلو۔۔۔۔”
باتور خان نے انھیں دھکا دیا تو وہ سنبھل نہ سکے اور دروازے سے باہر جا گرے۔باتور خان نے آگے بڑھ کر انھیں اٹھایا۔ان کی آنکھوں پہ پٹی باندھی اور انھیں اپنے ساتھ تقریبا گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھا۔ انھیں راستے سے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔وہ انھیں لئے تیز تیز قدم اٹھاتا حجرے سے باہر لے آیا۔اس نے انھیں گاڑی میں دھکیلا اور خود تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ پہ آ گیا۔
“کہاں لے جا رہے ہو مجھے۔۔۔۔؟”
انھوں نے سیدھے ہوتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“تیرے بیٹے کو تو پہنچا دیا ہے۔اب تیری باری ہے۔لیکن تو فکر نہ کر میں تجھے میر کی لاش دیکھے بنا نہیں ماروں گا۔آخر اتنا تو تیرا حق بنتا ہے کہ اپنے منہ بولے بیٹے کی لاش سے لپٹ کر ماتم کرے۔”
باتور خان نے انھیں ذہنی طور پر ٹارچر کرنا چاہا۔
“جھوٹ ہے یہ۔۔۔۔”
زمان خان تڑپ کر بولے۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔کیوں وہ شہر نہیں گیا ہوا۔۔۔وہیں مارا ہے اسے ہم نے۔اب تجھے بھی وہیں لے جانا ہے تاکہ تو بھی اس کی آخری رسومات میں حصہ لے سکے۔۔اب ہم اتنے بھی سنگ دل نہیں کہ تجھے اس کا آخری دیدار بھی نہ کرنے دیں۔”
باتور خان کا قہقہہ اور اس کے الفاظ ان کا سینہ چیر گئے۔
“ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔”
ان کی آنکھوں سے سیل رواں بہہ کر ان کے چہرے اور آنکھوں پہ بندھی پٹی کو بھگوتا جا رہا تھا۔
“چہ۔۔چہ۔۔چہ۔۔۔افسوس۔۔! چاچا ہم تو تجھے تیرے بیٹے سے ملوا رہے ہیں اور تو رو رہا ہے۔۔دیکھ رو نہیں۔۔اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔سب کا مقصد پورا ہو جائے گا۔۔خان جی کو دو اور قبریں بنانے کی چاہ ہے وہ پوری ہو جائے گی۔۔میری چاہ مسکاء ہے۔۔مجھے مل جائے گی۔۔ہائے مسکاء۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے آوارہ لہجے میں مسکاء کا نام لیا۔
“چپ کرو غلیض انسان۔۔۔تمھاری تو غیرت کو آگ لگ گئی ہے۔میری پاکیزہ بیٹی کا نام بھی اپنی گندی زبان پہ نہ لانا ورنہ زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔”
انھوں نے کھڑے ہو کر آواز کی سمت دونوں ہاتھ بڑھا کر اسکے بال مٹھیوں میں جکڑ کر کھینچے۔”
باتور خان بلبلا اٹھا۔
“ذلیل کمینے۔۔۔”
وہ اب اس پہ مکے برسائے جا رہے تھے۔وہ اس وقت فل سپیڈ میں گاڑی دوڑا رہا تھا۔اس سچویشن میں اسے گاڑی چلانا دشوار ہو رہا تھا۔
“پیچھے ہو۔۔۔”
باتور خان نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں پیچھے دھکا دیا۔وہ سیٹ سے ٹکرائے تھے۔آنسو تواتر سے ان کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔باتور خان نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔اس کے لب سختی سے بھینچ گئے تھے۔
_____________________________________
جاری ہے۔۔۔
