Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Last updated: 25 June 2026
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01Ghag By Mahwish Urooj Episode02Ghag By Mahwish Urooj Episode03Ghag By Mahwish Urooj Episode04Ghag By Mahwish Urooj Episode05Ghag By Mahwish Urooj Episode06Ghag By Mahwish Urooj Episode07Ghag By Mahwish Urooj Episode08Ghag By Mahwish Urooj Episode09Ghag By Mahwish Urooj Episode10Ghag By Mahwish Urooj Episode11Ghag By Mahwish Urooj Episode12Ghag By Mahwish Urooj Episode13Ghag By Mahwish Urooj Episode14Ghag By Mahwish Urooj Episode15Ghag By Mahwish Urooj Episode16Ghag By Mahwish Urooj Episode17Ghag By Mahwish Urooj Episode18Ghag By Mahwish Urooj Episode19Ghag By Mahwish Urooj Episode20Ghag By Mahwish Urooj Episode21Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj
باتور خان پسٹل ہاتھ میں لیے تیز تیز قدم اٹھاتا رحم دین کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سرخ آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ تیور ایسے تھے جیسے ہر چیز کو آگ لگا ڈالے گا۔ رشید اور اقبال اس کے ساتھ تھے۔وہ دونوں مسلسل اس کے غصے کو بڑھاوا دے رہے تھے اور راستے میں ملنے والے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ذبردستی گھسیٹ رہے تھے۔ باتور خان کے رعب و دبدبے سے پورا گاوں تھر تھر کانپتا تھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس کے سامنے کسی بات سے انکار کرے۔ وہ جو چاہتا دھڑلے سے کرتا پھرتا۔ وہ میر سربلند خان کا خاص آدمی تھا۔ جن کی مرضی کے بغیر گاوں میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔
گاوں کے لوگ جانتے تھے کہ اس کی منزل کون سی ہے اور اسکا مقصد کیا ہے۔کچھ دن پہلے بھی وہ رحم دین کے گھر کے باہر ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا جس پہ رحم دین اس کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کروانے گیا تھا۔ لیکن آج اس کے قدموں کی دھمک ہی ان کے دل لرزا رہی تھی۔ رحم دین جانتا تک نہیں تھا کہ کون سی قیامت لمحہ بہ لمحہ اس کے گھر کے قریب آتی جا رہی ہے۔ تنگ پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے اس کی نظر تھوڑی ہی دور نظر آتے رحم دین کے کچے مکان پر تھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ کھڑے تھے شاید انھیں بھی خبر ہو چکی تھی۔ بس ایک رحم دین ہی آنے والی قیامت سے بےخبر تھا۔ پہنچتے ہی اس نے گھر کے دروازے پہ اپنے بھاری جوتے کے نشان چھوڑے اور سامنے جا کھڑا ہوا۔ رحم دین گھر سے باہر آیا تو گھر کے باہر موجود لوگوں دیکھ کر حیران ہوا۔
اچانک فضاء میں چار فائر ہوئے۔۔ گاوں میں دہشت ناک آواز گونج گئی۔
"آج سے مسکا صرف میری ہے۔۔اگر کوئی بھی اس سے شادی کے خواب دیکھ رہا ہے تو وہ میرا دشمن ہے اور تم سب گاوں والے جانتے ہو کہ اپنے دشمن کو سوائے موت کے میں کچھ نہیں دیتا۔"
یہ کہہ کر اس نے رحم دین کو دیکھا۔۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھال کر پسٹل جیب میں رکھا اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کرتا ، دھول اڑاتا واپس ہو لیا۔وہاں موجود سبھی لوگوں کی ترحم بھری نظریں اس شخص پر تھیں جو دروازہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا۔
بوڑھے رحم دین کے قدموں میں جان نہ رہی تھی اور فضاء میں سیاہ پرندے کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔۔
وہ سامنے ہی کھڑی تھی جب رحم دین تھکے ہارے قدموں سے گھر میں داخل ہوا۔ جھکا سر ، ڈھلکتے کندھے اور بےجان قدم۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ایک ہی پل میں اتنے بوڑھے کیوں لگنے لگے ہیں۔۔اس کے بہادر بابا کیوں ڈھلتے سورج جیسے دکھائی دینے لگے ہیں۔ ان کے قدم کچی مٹی پہ اپنی چھاپ کیوں نہیں بنا رہے ہیں۔ اس کے چاند کی ٹھنڈی روشنی جیسے بابا۔۔اسے لگا جیسے اسکا دل کسی نے مٹھی میں دبا لیا ہو اور اس پہ اپنی گرفت کستا ہی جا رہا ہو۔۔
لیکن اس نے خود کو گرنے سے بچانا تھا۔۔خود کو مضبوط بنانا تھا۔ اپنے بابا کی طاقت بننا تھا۔ اس رسم کے خلاف ایک جنگ لڑنی تھی بلکہ اس جنگ کو جیتنا بھی تھا۔
رحم دین نے جھکا سر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں ان کی عمر بھر کی پونجی زمین پہ مضبوط قدم جمائے کھڑی تھی۔ اس کی سیاہ گھور آنکھوں میں چمکتے خواب روشن تھے۔ سیاہ چادر کے ہالے میں پر نور چہرہ امید کی گلابیاں لئے ان کے سامنے تھا۔ اس کے بالکل پیچھے ایک اور وجود بھی چادر کا پلو منہ میں دبائے کھڑا تھا۔ شاید وہ اپنی تکلیف کو آواز نہیں دینا چاہتی تھیں مگر ان کے چہرے پہ چھایا کرب ایک تکلیف دہ کہانی بیان کر رہا تھا جسکے آخر میں خوشی کی کوئی امید ہی نہیں تھی۔
ان کے ٹانگوں کی لرزش میں اضافہ ہوا۔
"بابا۔۔۔۔۔!!"
اس سے پہلے کہ وہ گرتے مسکاء نے تیزی سے آگے بڑھ کر ان کے لڑکھڑاتے وجود کو سنبھالا دیا۔ ذہرہ بی بی بھی فورا آگے آئیں۔ دونوں نے مل کر انھیں سہارا دیا اور انھیں کمرے میں لے آئیں۔
" مسکاء! جاو بیٹا پانی لاو اپنے بابا کے لئے۔"
وہ انھیں چارپائی پہ بٹھاتے ہوئے بولیں تو وہ فورا صحن میں رکھے مٹی کے گھڑوں کی طرف آئی اور مٹی کا پیالہ پانی سے بھر کر واپس کمرے میں آ گئی۔ذہرہ بی بی نے پیالہ اس کے ہاتھ سے لے کر ان کے منہ سے لگایا۔ ان کی سرخی مائل گندمی رنگت پھیکی پڑ چکی تھی۔
"آپ سنبھالیں خود کو۔۔اگر آپ ہی اسطرح سے ہاتھ پاوں چھوڑ دیں گے تو ہم کیسے ان لوہے کی دیواروں سے اپنی بیٹی کو نکالیں گے۔ اس کے بہتر مستقبل کے لئے ہمیں خود کو مضبوط کرنا ہے۔ اس کی معصومیت کو ہم نے اس بھیانک رسم کے ہتھے نہیں چڑھنے دینا ہے۔"
ذہرہ بی بی اور مسکاء کے پریشان چہرے کو دیکھ کر انھوں نے خود کو سنبھالا۔ انھوں نے مسکاء کو ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔ وہ قریب آ کر بیٹھ گئی۔ وہ اپنے ساتھ ہو جانے والی زیادتی کے لئے پریشان نہیں تھی بلکہ وہ ان کو کمزور پڑتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔
"مسکاء! تم میری طاقت ہو جو مجھے کبھی کمزور پڑنے نہیں دے گی۔ تمھیں دیکھ کر مجھے اپنے اندر دوڑتے خون کا احساس ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بیٹوں سے باپ کو قوت ملتی ہے مگر تمھارے ہوتے ہوئے مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں اس طاقت سے محروم ہوں۔"
انھوں نے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔ ذہرہ بی بی کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے جنھیں وہ بار بار اپنی چادر سے پونچھ رہی تھیں۔
"بابا آپ بھی میری طاقت ہیں۔۔ میری ڈھال ہیں۔" وہ ان کے سینے سے لگی تو انھوں نے اسے بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اسکے آنسو ان کے دل پہ گرنے لگے۔ انھوں نے ذہرہ بی بی کو اشارہ کیا کہ وہ اسے اس کے کمرے میں چھوڑ آئیں۔ انھوں نے اسے ان سے الگ کیا اور کمرے سے باہر لے آئیں۔
اور وہ خود آنے والے کڑے وقت کے لیے خود کو تیار کرنے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ اس لڑائی میں وہ اکیلے ہیں کوئی بھی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔۔۔ان کا اپنا بھائی بھی نہیں۔ لیکن پھر بھی انھوں نے سوچ لیا تھا وہ ایک مرتبہ اور کرم دین سے ملیں گے تا کہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔ وہ اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے جلتی آگ میں نہیں جھونک سکتے تھے۔ ان کا دل پتے کی مانند لرز رہا تھا۔
