Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode05
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode05
Ghag By Mahwish Urooj Episode05
وہ کام سے فارغ ہو کر رحم دین کو دیکھنے ان کے گھر کی طرف جا رہے تھے۔ ابھی وہ کچھ ہی دور تھے کہ رحم دین کے گھر کے باہر انھیں کافی ہجوم نظر آیا۔ کل جیسی ان کی حالت تھی وہ گھبرا گئے تھے۔ دل میں عجیب عجیب وسوسے آ رہے تھے۔ وہ تقریبا بھاگتے ہوئے وہاں پہنچے تھے۔ انھیں باتور کے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ قریب پہنچ کر وہ بھیڑ کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے۔ اردگرد کھڑے لوگوں نے انھیں دیکھ کر راستہ دیا۔
“نکل باہر چاچا۔۔۔۔تیری یہ مجال کہ تو میرے خلاف رپورٹ درج کروائے گا۔”
باتور خان بلند آواز میں رحم دین کو بلا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ دروازے پہ بھاری جوتوں کی ضرب بھی لگاتا جا رہا تھا۔ لکڑی کا بند دروازہ مسلسل لگنے والی ضربوں سے اپنے انجام کو پہنچنے والا تھا۔
“ارے بےغیرت باہر نکل۔۔۔ہم تجھے عزت دے رہے تھے لیکن تم اس قابل ہی نہیں ہو۔ بھائی ہو کر کیسا دھوکہ دیا ہے مجھے۔ بیٹی کا نام تھانے میں لکھواتے وقت شرم نہیں آئی تمھیں۔ اب گھر میں چھپ کہ بیٹھ گئے ہو۔”
انھیں جب سے پتہ چلا تھا کہ رحم دین باتور خان کے خلاف رپورٹ درج کروانے تھانے گیا تھا تو دونوں باپ بیٹا آپے سے باہر ہو رہے تھے۔
“یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں۔۔ہٹو۔”
زمان خان نے باتور خان کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا جو ایک بار پھر دروازے کیطرف بڑھ رہا تھا۔ ان کے اس اقدام پر باتور خان بپھر کر ان پر جھپٹا اور انھیں دھکا دیا۔ زمان خان سنبھل نہ سکے اور کچھ فاصلے پہ کھڑے لوگوں سے ٹکرا کر گرے۔ کندھے پہ پڑا سفید رومال دور جا گرا۔کچھ لوگ انھیں اٹھانے ان کی طرف بڑھے۔ وہ سب افسوس سے یہ سب ہوتا دیکھ رہے تھے مگر کوئی بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ باتور خان غصے سے ان کی طرف بڑھا۔
“تم یہ سب بہت غلط کر رہے ہو۔ تمھاری انہی حرکتوں نے ہمیں مجبور کیا ہے تھانے جانے پر۔”زمان خان بلند آواز میں بولتے ہوئے زمین پہ ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ باتور خان ان کی بات سن کر آپے سے باہر ہو گیا۔
“رک جاو باتور خان۔”
کرم دین جو بیٹے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے اس کی طرف بڑھ رہے تھے رحم دین کی آواز پہ مڑے تھے۔ باتور خان کے زمان خان کی طرف بڑھتے ہاتھ رک گئے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو رحم دین دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ وہ زمان خان کو چھوڑ کر ان کی طرف بڑھا۔
“میں رپورٹ درج کروانے گیا تھا۔ تم دونوں باپ بیٹے نے مجھے بےکار میں پریشان کر رکھا ہے۔ میں اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی مرضی سے جہاں جی چاہے گا کروں گا۔ تم دونوں کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے۔”
رحم دین آنکھوں میں غصہ لئے باتور خان کو دیکھ رہے تھے۔ جن لوگوں نے کبھی رحم دین کو اونچی آواز میں بولتے نہیں سنا تھا انھیں اس طرح سے اپنے حق کے لئے لڑتے دیکھ کر حیران تھے۔
“چلو یہاں سے اور آئندہ میرے گھر کے آس پاس بھی نظر نہ آو۔”
زمان خان کو دیکھ کر ان میں مزید ہمت آئی تھی۔ باتور خان ان کے قریب آیا۔
“واہ چاچا۔۔۔۔کیا بات ہے۔ کلیجے میں ٹھنڈک بھر دی تو نے۔”
وہ ہاتھ ان کے کندھے پہ رکھتے ہوئے بولا۔
“جاو باتور خان۔۔۔۔تھانے میں رپورٹ تو میں درج نہیں کر سکا تمھارے خلاف کیونکہ وہاں بھی تمھارے خیر خواہ بیٹھے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں اپنی بیٹی کا رشتہ تمھیں نہیں دوں گا۔”
رحم دین نے اپنے کندھے سے اس کا ہاتھ ہٹایا اور زمان خان کی طرف بڑھے۔
“تم ٹھیک ہو زمان۔۔۔کوئی چوٹ تو نہیں آئی۔” رحم دین نے ان کے مٹی سے اٹے کپڑے جھاڑتے ہوئے پوچھا۔
“میں تو ٹھیک ہوں مگر تم سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ تمھاری طبیعت کیسی ہے کیونکہ آج میں جس رحم دین کو دیکھ رہا ہوں وہ کل والے رحم دین سے بہت مختلف لگ رہا ہے۔”
زمان خان انھیں بازوں سے تھامتے ہوئے بولے۔
“چاچا۔۔۔۔یہ انداز تمھیں بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔”
وہ بلند آواز میں بولا۔ جس پر رحم دین نے دیکھا کہ وہ دراوزے کی چوکھٹ تھامے کھڑا ہے۔ رحم دین کو اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا۔ وہ اور زمان خان فورا اسے روکنے کے لئے بھاگے مگر وہ گھر کے اندر قدم رکھ چکا تھا کرم دین نے بیٹے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں شاباش دی۔۔ رحم دین جیسے ہی قریب پہنچے باتور خان دروازہ بند کر کے اندر سے کنڈی لگا چکا تھا۔
“باتور خان باہر نکلو۔۔۔۔یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے۔ کرم دین لالا! باتور خان کو کہیں کہ فورا باہر آئے۔” وہ کرم دین سے کہہ کر پاگلوں کی طرح دروازہ بجانے لگے۔ زمان خان نے بھی ان کا ساتھ دیا۔
“یہ دروازہ تو اب نہیں کھلے گا چاچا۔۔ تم نے میری غیرت کو للکارہ ہے اب تو بھی دیکھے گا اور یہ سارا گاوں بھی کہ باتور خان کیا کرتا ہے۔ بابا۔۔۔۔۔۔مولوی صاحب کو لے آو اور ساتھ ہی ساتھ بڑے خان کو بھی۔ آج یہ سب یہیں انجام کو پہنچائے گا باتور خان۔”
وہ اندر سے باآواز بلند بولا۔
“لالا۔۔۔باتور خان یہ ٹھیک نہیں کر رہا۔ آپ اسے روکیں اور باہر آنے کو کہیں۔”
وہ ہاتھ جوڑے بھائی کے سامنے کھڑے تھے۔
انھیں مسکاء کو شہر بھیجنے کا اپنا فیصلہ بالکل درست لگا۔ اب اگر مسکاء یہاں ہوتی تو وہ کیسے یہ سب روک پاتے لیکن انھیں ڈر تھا کہ اگر انھیں معلوم ہوگیا کہ مسکاء گھر میں موجود نہیں ہے تو یہ بات جرگے می اٹھائی جائے گی اور جرگے میں جو فیصلہ ہو گا وہ اس سے اچھی طرح واقف تھے۔۔جبکہ یہاں ان کا ساتھ دینے والا صرف ایک زمان خان تھا۔
وہ خاموشی سے زمان خان کو دیکھنے لگے۔
“یہ صحیح طریقہ نہیں ہے باتور خان۔۔۔ہم تمھاری بات مان لیں گے۔تم دروازہ کھول دو اور ہمیں اندر آنے دو۔” زمان خان نے مصالحت سے کام لیا۔
“بابا۔۔۔۔۔آپ گئے نہیں اب تک؟؟”
باتور خان نے زمان خان کو ان سنا کر دیا۔
“جا رہا ہوں بیٹا۔”
رحم دین دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیے لبوں سے لگائے انھیں دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں التجاء تھی جبکہ وہ ان پر ایک اچٹتی نظر ڈال کر آگے بڑھ گئے۔
ذہرہ بی بی باتور خان کو دیکھ کر کچن سے نکلیں۔ کتنی دیر سے اس نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا تھا رحم دین کو وہ باہر جانے نہیں دے رہی تھی اور اب وہ گھر کے اندر آ گیا تھا۔
“باتور خان۔۔۔”
وہ اس کے پاس آئیں۔ آنے والے وقت کا سوچ کر ان کا دل پتے کی مانند لرز رہا تھا۔ان کی پکار پہ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سرخ و سفید رنگت۔۔ گرے شلوار سوٹ پہ کالی واسکٹ پہنے۔۔۔چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد۔۔۔چوڑے شانے اور ہاتھ میں پسٹل لئے وہ ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بلاشبہ وہ ایک کڑیل جوان تھا۔ چہرے سے غصہ چھلک رہا تھا۔ کالی سیاہ آنکھیں حد سے گزر جانے کا عزم لئے ان پہ مرکوز تھیں۔
اگر اس میں تھوڑے بھی سدھار کی گنجائش ہوتی تو وہ کبھی اس رشتے سے انکار نہ کرتیں مگر بظاہر دیکھنے والا یہ سرخ و سفید شخص دل سے سیاہ اور ظالم تھا۔
“بیٹا۔۔۔یہ تم کیا کر رہے ہو۔۔ یہ مسئلہ صلح صفائی سے بھی حل کیا جا سکتا ہے۔”
وہ ڈرتے ڈرتے اس کے قریب آئیں تھیں۔
“چاچی۔۔۔۔اب صلح صفائی کا وقت گیا۔ جا کر مسکاء کو تیار کرو۔ آج میں نکاح کر کے ہی یہاں سے جاوں گا۔”
وہ ان کے پاس سے گزر کر کمرے میں چلا گیا۔ وہ گھبرا کر اس کے پیچھے آئیں۔
“مگر بیٹا اس طرح نکاح کرنا مناسب نہیں۔ گاوں کے لوگ کیا کہیں گے۔”
ذہرہ بی بی نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ وہ چارپائی پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔ دایاں پاوں مسلسل متحرک تھا۔ جس سے اسکی دلی کیفیت واضح تھی۔ یہ خیال ہی اس کے لئے بہت خوش کن تھا کہ کچھ ہی دیر میں وہ اسکی ہو جائے گی جسکی خواہش وہ دو مہینے سے دل میں لئے گھوم رہا تھا۔
“ذہرہ چاچی۔۔۔جا کر مسکاء کو تیار کرو۔”
وہ حیران تھا کہ اتنا شور شرابا سن کر بھی وہ کمرے سے باہر نہیں آئی تھی۔ مگر اگلا خیال اسے مطمئن کر رہا تھا کہ ڈر کے مارے رحم دین چاچا نے کمرے میں بند کر دیا گیا ہوگا۔ اس نے خاموش بیٹھی ذہرہ بی بی کی طرف دیکھا تو وہ خاموشی کمرے سے باہر نکل آئیں۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ اگلا پل انھیں کیا دکھانے والا تھا۔ وہ دوپٹہ درست کرتی مسکاء کے کمرے کی چوکھٹ پہ بیٹھ گئیں۔۔
انھوں نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ مسکاء یہاں نہیں تھی۔ مگر پھر بھی دل کی دھڑکن بڑھتی ہی جا رہی تھی کیونکہ ان ظالموں سے انھیں اچھائی کی کوئی توقع نہیں تھی۔۔بہتے آنسووں کو وہ دوپٹے میں جذب کر رہی تھیں۔ باہر سے مسلسل آتیں رحم دین اور زمان خان کی آوازیں انھیں کمزور کر رہی تھیں۔ رحم دین کبھی باتور خان کو آواز دیتے تو کبھی ذہرہ بی بی کو پکارتے مگر وہ باتور خان کے ڈر سے دروازے تک جا نہیں پا رہیں تھیں۔________________________________
عقیل احمد انھیں اپنے گھر لے گئے تھے حالانکہ دراب خان نے انھیں منع بھی کیا تھا لیکن وہ بضد تھے رات کا کھانا وہ ان کے ساتھ کھائیں گے۔ رحمہ بھابی نے فون کر کے گھر آنے کی تاکید کی تھی۔ اس لئے وہ مان گئے اور خزیمن کو لئے وہ عقیل احمد کی طرف آ گئے۔ عقیل احمد کی فیملی نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ وہ سب بہت خوش دلی سے خزیمن سے ملے۔ اسے اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ آج پہلی بار ان سے ملی ہے۔ دراب خان تو عقیل احمد کے ساتھ آتے رہتے تھے۔ عقیل احمد کی والدہ انھیں اپنے بیٹوں کیطرح چاہتی تھی۔ اس لئے ان کے استقبال میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ کچھ رسمیں بھی کیں اور ان کے لئے ایک پر لطف ڈنر کا اہتمام بھی کیا۔
نازک اندام سی دلہن انھیں بہت پسند آئیں حالانکہ وہ دلہنوں والے روایتی لباس میں نہیں تھی۔ ہلکا پھلکا سا سرخ جوڑا۔۔جس کے دامن اور گلے پہ نفیس سی کڑھائی ہوئی تھی۔ یہ جوڑا اماں نے اسکی شادی کے لئے ہی تیار کروا کر رکھا تھا۔ میک اپ سے مبرا چہرہ قدرتی رنگوں سے سجا تھا۔ کانوں میں سونے کی نازک سی بالیاں ، دوپٹہ نفاست سے سر پہ دھرے وہ بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی۔ سبھی اسے اسپیشل پروٹوکول دے رہے تھے۔ عقیل احمد کی والدہ اس سے اس کی فیملی کے متعلق پوچھ رہی تھیں جن کا وہ مسکراتے ہوئے مختصر جواب دے رہی تھی۔ خود پہ مرکوز سب کی نظریں اسے کنفیوز بھی کر رہی تھیں مگر ان کا پیار اسے پراعتماد بھی بنا رہا تھا۔ خزیمن ان ملنسار اور اتنی محبت کرنے والے لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوئی تھی۔ نکاح کے بعد تک تو وہ یہ سوچ کر پریشان تھی کہ میر دراب خان نجانے کس طبیعت کے مالک ہونگے مگر گاڑی میں جسطرح انھوں نے اس کا خیال رکھا وہ خود پہ رشک کرنے لگی تھی اور اب اسے یہاں ان سب کے بیچ خود پہ گزرنے والے حالات جیسے بھول سے گئے تھے۔ رحمہ بھابی نے اسے بہت اپنائیت کا احساس دلایا تھا۔
میر دراب خان بھی وقفے وقفے سے اس کے من موہنے روپ کو نظروں میں قید کرتے۔ نہ کوئی گلال ، نہ کوئی غاذہ۔۔۔اتنی سادگی میں بھی وہ ان کے ہوش اڑائے دے رہی تھی۔ کہیں کوئی متوجہ نہ ہو جائے اس لئے انھوں نے اپنی نظروں پہ قابو پایا اور عقیل کے ساتھ ادھر ادھر کی باتوں میں مگن ہو گئے۔
“بہت شکریہ یار ۔۔۔تم نے بہت ساتھ دیا۔ اب اجازت دو”
کھانے کے بعد دراب خان نے ان سے جانے کی اجازت کی چاہی۔
“نہیں بیٹا۔۔ایسے کیسے بھلا۔۔ نئی نویلی دلہن کو لے کر اس وقت کہاں جاو گے۔ تم تو اتنا عرصہ ہاسٹل میں رہے۔ اب جب تک گھر کا بندوبست نہیں ہو جاتا تم یہیں رہو ہمارے پاس۔”
صالحہ بیگم نے انھیں روکا۔
“ارے نہیں آنٹی۔۔آپکی اتنی محبت کا بہت شکریہ۔ جب تک پراپر بندوبست نہیں ہوتا ہم کسی ہوٹل میں رہ لیں گے۔”
انھوں نے سہولت سے انکار کیا۔
“یار۔۔۔امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ اس وقت تمھارا بھابھی کے ساتھ کسی ہوٹل میں رکنا مناسب نہیں ہے۔ تم یہیں رہو ہمارے ساتھ۔”
رحمہ نے بھی عقیل احمد کا ساتھ دیا۔ سب کے اتنے اسرار پہ انھوں نے خزیمن کی طرف دیکھا جو انھیں ہی دیکھ رہی تھی۔ ان کے دیکھنے پر وہ نظریں جھکا گئی۔ انھیں عقیل کی بات مناسب لگی۔
” ٹھیک ہے جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔”
مسکراتے ہوئے انھوں نے حامی بھری۔
“یہ ہوئی نا بھائیوں والی بات۔”
عقیل احمد خوشی سے ان سے بغلگیر ہوئے۔ صالحہ بیگم نے مسکرا کر ان کے سر پہ ہاتھ رکھا۔
“رحمہ بیٹا دلہن کو اس کے کمرے میں لے جاو۔ تھک گئی ہوگی۔ تھوڑا آرام کر لے اور بیٹا تمھیں کچھ بھی چاہیئے ہو رحمہ سے کہہ دینا شرمانا نہیں۔ اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔”
وہ خزیمن کے پاس آئیں۔ رحمہ اسے لئے کمرے میں آ گئی۔ کمرا بہت صاف ستھرا تھا۔ ملازم اس کا اور دراب خان کا سامان ان کے کمرے میں رکھ گیا تھا۔
رحمہ اسے لئے بیڈ کی طرف بڑھیں۔
“تمھیں کچھ بھی چاہیئے ہو تو بلا جھجک مجھے بتانا۔”
اس نے اس کی کمر کے پیچھے تکیہ درست کرتے ہوئے کہا۔
“ایک گلاس پانی چاہیئے بھابھی۔”
وہ رحمہ کے پلٹنے سے پہلے بولی۔ وہ مسکرا کر سر ہلاتے ہوئے کمرے سے چلی گئی۔ تھوڑی دیر میں وہ پانی کا جگ اور گلاس لئے کمرے میں داخل ہوئی۔ پانی کا گلاس رحمہ نے اس کی طرف بڑھایا۔
“بھابھی آپ کھڑی کیوں ہیں۔۔بیٹھئیے نا۔”
پانی پی کر گلاس سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے وہ قریب ہی کھڑی رحمہ سے بولی تھی۔
“نہیں تم آرام کرو۔ اتنا لمبا سفر بھی اور پھر یہاں ہم نے بھی تمھیں بہت تنگ کیا۔”
رحمہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“ارے نہیں بھابھی۔۔۔ آپ سب کی محبت نے تو مجھے تازہ دم کر دیا ہے۔”
اس نے محبت سے رحمہ کا ہاتھ تھاما تو وہ مسکرا دی۔
“تم پریشان مت ہونا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ عقیل مجھے اور امی کو تمھیں اور دراب بھائی کو درپیش حالات کے متعلق بتا چکے ہیں۔ دراب بھائی بہت اچھے اور خیال رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ تمھیں بہت خوش رکھیں گے۔”
رحمہ نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔
“انشاء اللہ!”
وہ مسکراتے ہوئے نظریں جھکا گئی تھی۔ رحمہ پیار سے اسکا چہرہ تھپتھپاتی کمرے سے نکل آئی۔ اس نے بیڈ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔_____________________________________
دروازہ بجاتے بجاتے ان کے ہاتھ شل ہو گئے تھے۔ سانس پھولنے لگی تھی اوپر سے گرمی کی شدت۔۔۔ان کے اعصاب جواب دینے لگے۔ زمان خان نے ان کے ذرد چہرے کو دیکھا تو انھیں بیٹھ جانے کو کہا۔ وہ چوکھٹ کے ساتھ کمر ٹکا کر زمین پر بیٹھ گئے۔ پسینے سے تر ہوتے کپڑے ان کی ابتر حالت کی گواہی دے رہے تھے۔ لوگوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔ ان کی حالت دیکھ کر زمان خان کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔
“باتور ۔۔۔۔دروازہ کھولو۔”
انھوں نے بلند آواز سے اسے پکارا۔ جسے اس نے سن کر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ مایوسی سے ساتھ کھڑے گل رحیم کو دیکھ رہے۔
“بڑے خان۔”
زمان خان گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رحم دین کو دیکھ رہے تھے کہ گل رحیم نے میر سربلند خان کو آتے دیکھ کر انھیں بتایا۔ زمان خان اور رحم دین نے گل رحیم کے متوجہ کروانے پہ سامنے دیکھا۔ بڑے خان کے ساتھ کرم دین اور مولوی صاحب بھی تھے۔ زمان خان اٹھ کھڑے ہوئے۔ رحم دین نے مولوی صاحب کو دیکھ کر سر جھکا دیا۔
“رحم دین۔۔۔۔یہ کیا بیوقوفی کر رہے ہو۔ خاندان کا مسئلہ تھا تھانے جانے کی ضرورت کیا تھی۔ پورے گاوں میں خود کو شرما کر رکھ دیا ہے۔ تم سے ہم نے کہا تھا کہ یہ رشتہ دے دو۔ اپنے لئے مسائل اس نہج پہ تم نے خود پہنچائے ہیں۔ اب سنبھال نہیں پا رہے ہو تو زمین بوس ہوئے کیوں بیٹھے ہو؟؟”
میر سربلند خان کی گرجدار آواز رحم دین کو قریب سے سنائی دی تو اس نے گھٹنوں میں دیا سر اٹھایا۔
“خان جی۔۔۔باتور خان سے کہیے کے دروازہ کھول دے۔ میں اپنی بیٹی کا ایک بال بھی اسے نہ دوں رشتہ تو دور کی بات ہے۔”
رحم دین دروازے کے سہارے کھڑے ہوئے۔ یہ سن کر کرم دین اور میر سربلند خان کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا۔
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔خان جی کی بات کو رد کرتے ہوئے تمھیں ذرا شرم نہ آئی۔۔۔ساری زندگی جن کی چاکری کرتے رہے ہو۔۔جن کے سامنے سر جھکائے ، ہاتھ باندھے کھڑے رہے ہو۔۔۔آج ان کے سامنے اونچی آواز میں بولتے ہوئے زبان نہیں کانپی تمھاری۔۔۔ہاں ہاں تمھیں کیوں شرم آئے گی۔ تم نے تو شرم بیچ دی ہے۔”
کرم دین کا بس چل نہیں رہا تھا کہ کسطرح بھائی کا منہ بند کر دیں۔ لیکن ان کی بات کا رحم دین پہ کوئی اثر نہ ہوا۔ انھوں نے پلٹ کر دروازہ بجایا۔
“باتور خان۔۔۔”
میر سربلند خان نے باتور خان کو پکارا۔ ان کے پکارنے کی دیر تھی کہ باتور خان نے دروازہ کھول دیا۔ وہ دروازے کے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر اندر آنے کا راستہ روکے کھڑا تھا۔ رحم دین نے دیکھا ذہرہ بی بی مسکاء کے دروازے کے باہر نیچے زمین پر بیٹھی ہیں۔ وہ فورا باتور خان کو ہٹا کر ان کے پاس گئے۔ ان کے پیچھے زمان خان اور میر سربلند خان نے بھی اندر قدم رکھا۔ انھوں نے مولوی صاحب اور کرم دین کو اندر آنے کا راستہ دیا۔ ان کے اندر آنے کے بعد میر سربلند خان کے اشارہ کرنے پر کرم دین نے اقبال اور راشد کو بھی اندر بلایا اور دروازہ بند کر دیا۔ باہر کھڑے سبھی لوگ خاموشی سے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
“خان جی یہ سب اسطرح مناسب نہیں ہے۔ آپ ہی سمجھائیے ان کو۔”
وہ ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ انھیں مسکاء کی غیر موجودگی کا علم ہو۔ اگر انھیں معلوم ہو جاتا کہ وہ شہر جا چکی ہے تو اس مسئلے کو جرگے میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا اور جرگے نے بھی باتور خان کا ہی ساتھ دینا ہے۔ ایک تو گاوں میں کوئی اور آگے نہیں بڑھے گا مسکاء سے شادی کے لئے کیونکہ باتور خان نے رسم ‘غگ’ کا ارتکاب کر کے مسکاء کو اپنا پابند کر دیا اور باتور خان کے خلاف جانے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔
“زمان خان یہ تمھارا معاملہ نہیں ہے۔اس لئے بہتر ہو گا کہ تم اس میں مت بولو۔”
انھوں نے زمان خان کو اپنے سامنے سے ہٹایا اور رحم دین کے پاس آئے۔ رحم دین جو ذہرہ بی بی کو دلاسہ دے رہے تھے انھیں دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
“خان جی۔۔۔ابھی میری گھر والی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ نکاح پھر کسی دن کر لیں گے۔”
رحم دین نے ان سے ہاتھ جوڑ کر التجا کی۔
“رحم دین نکاح نامے پہ سائن تمھاری گھر والی نہیں بلکہ تمھاری بیٹی نے کرنے ہیں۔ اسے لے کر آو۔۔نکاح آج ہی ہو گا۔ چلیے مولوی صاحب ہم کمرے میں چلتے ہیں۔ رحم دین تم لڑکی کو لے آو۔”
وہ رحم دین سے کہہ کر کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ باقی سب بھی ان کے پیچھے کمرے میں چلے گئے۔ زمان خان اور وہ دونوں میاں بیوی صحن میں تنہا ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ رحم دین اور ذہرہ بی بی کے تو ہاتھ پاوں پھول گئے تھے۔ زمان خان نے رحم دین کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی اور انھیں لئے کمرے میں آ گئے۔
“مسکاء کو نہیں لائے رحم دین؟؟”
ان کے اندر داخل ہونے پہ کرم دین نے پوچھا۔
“خان جی۔۔۔۔۔وہ۔۔۔مسکاء۔۔۔”
“میں خود لے کر آتا ہوں اسے خان جی۔”
باتور خان ان کی بات کاٹ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ رحم دین اس کے پیچھے بھاگے۔ ذہرہ بی بی اسے آتے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“رکو باتور۔۔۔۔”
وہ دروازے کے قریب پہنچا ہی تھا کہ رحم دین نے اسے بازو سے تھام کر روکنے کی کوشش کی۔
“چھوڑو چاچا۔۔۔تم اور تمھاری بیٹی ایسے نہیں مانو گے۔”
اس نے ناگواری سے ان کا ہاتھ جھٹکا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ صاف ستھرا کمرا اپنے مکین کی غیر موجودگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ وہ غصے سے باہر نکلا اور رحم دین کو گریبان سے پکڑ کر جھٹکا۔
“مسکاء کہاں ہے چاچا؟؟”
باتور خان کی گرجدار آواز سن کو وہ سب بھی کمرے سے باہر آ گئے۔ذہرہ بی بی اور زمان خان رحم دین کو اس کے چنگل سے چھڑانے کے لئے پورا زور لگا رہے تھے مگر اس کی گرفت مزید سخت ہوتی جا رہی تھی۔
“چاچا کہاں ہے مسکاء۔۔۔جواب دے۔۔”
اس نے انھیں جھٹکا دے کر چھوڑا۔ وہ خود کو سنبھال نہ سکے۔ اپنے نڈھال ہوتے وجود کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگے۔ زمان خان نے انھیں سہارا دے کر اٹھایا۔
“باتور خان رکو۔”
اسے ان کی طرف بڑھتا دیکھ کر میرسربلند خان نے باتور خان کو روکا۔
“خان جی۔۔۔انھوں نے مسکاء کو بھگا دیا ہے یہاں سے۔۔بول جواب دے۔۔کہاں چھپایا ہے اسے۔۔تم کسی بھول میں مت رہنا چاچا۔۔پاتال سے بھی ڈھونڈ لاوں گا اسے۔۔ مجھ سے زیادہ دیر چھپ نہیں سکتی۔”
وہ رحم دین کو قہر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے ان سے بولا۔
“او۔۔۔حوصلہ کر۔۔۔ٹھنڈا ہو۔۔لڑکی نے کہاں جانا ہے۔۔او یہیں ہو گی گاوں میں کسی سہیلی کے گھر گئی ہوگی۔۔بتا رحم دین کہاں ہے مسکاء؟”
انھوں نے رحم دین کی طرف پرسوچ نظروں سے دیکھا۔
“خان جی۔۔۔میں اسے ہاسٹل چھوڑ آیا ہوں۔ اس کے امتحان شروع ہیں۔۔واپس آ جائے گی۔”
آخر رحم دین بتانا ہی پڑا۔
“جھوٹ بول رہا ہے خان جی۔۔۔اس نے کہا تھا کہ اگلے مہینے ہے امتحان۔ اس نے چالاکی سے اسے یہاں سے نکالا ہے۔ ورنہ ہمیں پتہ کیوں نہیں چلتا اور یہ طریقہ بھی اسے زمان خان نے بتایا ہوگا۔”
کرم دین انھیں جھڑک کر بولا۔ میر سربلند خان نے رحم دین کی طرف دیکھا۔
“خان جی۔۔۔رحم۔”
وہ آنکھوں میں درخواست لئے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے۔
“اب اس کا فیصلہ جرگہ کرے گا۔ دو دن ہیں تمھارے پاس رحم دین۔۔اسے شہر سے لے کر آو۔”
یہ کہہ کر وہ رکے نہیں اور باقی سب کو بھی اشارہ کرتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ باتور خان نے ایک طنزیہ مسکراہٹ رحم دین اور زمان خان کی طرف اچھالی اور مونچھوں کو تاو دیتا دروازے کی چوکھٹ پار کر گیا۔۔
رحم دین اپنے نڈھال وجود کے ساتھ وہیں ڈھے گئے۔ ذہرہ بی بی آنکھوں میں آنسو لئے دیوار کے ساتھ کھڑی تھیں۔ ان کی نظریں دروازے کی چوکھٹ پہ جیسے جم سی گئیں تھیں۔۔________________________________
وہ بنا آہٹ کمرے میں داخل ہوئے۔ سامنے دیکھے بنا پلٹ کر دروازہ بند کیا۔ پھر دھیمی چال چلتے بیڈ کے قریب آئے۔ وہ تکیے سے ٹیک لگائے سو رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے تک نفاست سے سر پہ سجا دوپٹہ کھسک گیا تھا۔ سنہری مائل بھورے بال گردن اور چہرے پہ بکھرے تھے۔ مخروطی ہاتھ گود میں دھرے تھے۔ میک اپ سے بےنیاز چہرے کی معصومیت انھیں اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔ گھنی پلکیں گلابی عارضوں پہ جھکی دھوپ میں سائے کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ان کا جی چاہا کہ وہ اس کے رخسار پہ بکھرے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے ہٹائیں۔
یہ خواہش دل میں لئے وہ قریب آ گئے۔ سانسوں کا ردھم اس کی گہری نیند کو ظاہر کر رہا تھا۔ انھوں نے ہاتھ بڑھا کر واپس کھینچ لیا۔
دماغ انھیں روک رہا تھا جبکہ دل شرارت پہ آمادہ تھا۔ دل و دماغ کی جنگ میں آخر دل کی جیت ہوئی۔ وہ بیڈ کے کراون پہ ہاتھ ٹکا کر اسکے چہرے پہ جھکے تھے۔ ان کی پرتپش سانسیں اس کے چہرے سے ٹکرانے لگی تھیں۔ وہ تھوڑا سا کسمسائی تو ان کا دل جیسے سینے سے باہر آنے کو بےتاب ہونے لگا۔
شرارتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے انھوں نے اس کے چہرے پہ پھونک مار کر چہرے سے بال ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔بال تو چہرے سے کیا ہٹنے تھے خزیمن کی آنکھیں نیند سے ہٹ گئیں۔ اس نے انھیں خود پہ اس طرح جھکے دیکھا تو ہڑ بڑا کر سیدھی ہوئی۔ وہ چونکہ اس کے چہرے کے پرکیف نظارے میں ایسے محو تھے کہ اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں۔ نتیجتا خزیمن کے اچانک اٹھنے کی وجہ سے اس کا سر ان کے کشادہ سینے سے ہلکے سے ٹکرایا۔
“وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے انھیں خود پہ جھکے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ اس کے چہرے میں کھوئے اردگرد سے بیگانہ تھے۔ ان کے اسطرح دیکھنے پر وہ خود میں سمٹ کر نظریں جھکا گئی۔ اچانک ان کا ہاتھ اس کے ماتھے اور گردن پہ بکھرے بال سمیٹنے لگا۔ لب خاموش تھے لیکن ان کے بیچ کی پرکیف خاموشی بول رہی تھی۔ وہ اس کے چہرے پہ جھکے تھے۔ خزیمن نے ان کے اس اقدام کو روکنے کے لئے جلدی سے کشن سے اپنا چہرہ ڈھکا۔
میر دراب خان مسکرا دئیے اور اس کے ہاتھ سے کشن لئے سیدھے ہوئے۔ خزیمن نے جلدی سے پاوں سمیٹے اور دوپٹہ درست کیا۔ وہ وہیں اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئے اور گود میں رکھا اس کا نرم و نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ وہ اپنے ہاتھوں کی گرمی سے ذائل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ ان کے انداز اس کے ہوش اڑائے دے رہے تھے۔
“خزیمن میں آپ سے لمبے چوڑے وعدے تو نہیں کروں گا مگر اپنی پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو کبھی کوئی تکلیف نہ ہو۔ آپ میری زندگی میں بہار کی مانند آئی ہیں اور اپنی بہار کو میں کبھی خزاں میں بدلنے نہیں دوں گا۔”
انھوں نے اس کے سفید ہاتھ کو اپنے لبوں سے چھوا۔ خزیمن نے اپنا ہاتھ ان کی گرفت سے چھڑانا چاہا مگر وہ گرفت اور بھی مضبوط کر گئے۔
“یہ ہاتھ میں نے کبھی نہ چھوڑنے کے لئے تھاما ہے اس لئے آپ یہ بیکار سی کوشش مت کیجیے۔”
ان کے انداز پہ اس کے چہرے پہ گلال بکھر گیا۔ اپنی بات کے جواب میں اس کے چہرے پہ کئی رنگ بکھرتے دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ انھوں نے اپنے ہاتھ کی پشت اس کے گلابی رخسار پہ پھیری۔ انھیں لگا جیسے یہ رنگ ان کی ہتھیلی پہ بھی بکھر گئے ہوں۔
“آپ بےحد خوبصورت ہیں خزیمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں۔۔میں بہت عام سا شخص۔”
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولے۔
“نہیں تو۔۔۔۔۔۔آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ آپ بھی بہت اچھے ہیں۔”
وہ دھیرے دھیرے بولتی انھیں اپنے دل کے بےحد قریب لگی مگر دل شرارت پہ آمادہ تھا۔
“صرف اچھا۔۔۔۔”
وہ شوخ ہوئے۔
“نہیں۔۔۔میرا مطلب ہے کہ بہت اچھے ہیں۔” اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔ دراب نے اپنی مسکراہٹ کو قید ہی رکھا۔
“اچھا۔۔۔کتنا اچھا ہوں میں؟؟” وہ مزید قریب ہو کر اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگے۔ وہ ان کی شرارت کو بھانپ کر نظریں جھکا گئی مگر لبوں پہ کھیلتی مسکراہٹ کو روک نہ سکی۔ اس کے گلابی لبوں کی مسکان دیکھ کر وہ خود کو روک نہ سکے اور اسکے چہرے پہ جھکے تھے۔
“خزیمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ان کے لب گنگنائے تھے۔۔۔۔۔_________________________________
دو دن بعد انھوں عقیل احمد کے ساتھ جا کے ایک چھوٹا سا فلیٹ خریدا۔ فلیٹ انھیں بےحد پسند آیا تھا کیونکہ تھوڑا بہت پہلے سے فرنشڈ تھا۔ اچھا خاصا کشادہ فلیٹ تھا۔ جو تھوڑا بہت ضرورت کا سامان کم تھا انھوں نے سوچا بعد میں لے لیں گے۔ کچھ تھوڑی بہت شاپنگ انھوں نے خزیمن کے لئے بھی کی اور عقیل کی فیملی کے لئے بھی تحفے خریدے۔
ان کا ارادہ تھا کہ آج ہی وہ شفٹ ہو جائیں گے کیونکہ وہ عقیل پہ مزید بوجھ نہیں بننا چاہتے تھے۔ آج صبح انھوں میر سربلند خان سے بھی بات کی تھی۔ انھوں نے اسے منع کیا تھا کہ شہر میں مستقل رہائش نہ کریں مگر وہ جانتے تھے کہ فلحال ان کا گاوں سے دور رہنا ہی ٹھیک ہے۔ اس لئے انھوں نے ان کو سہولت سے منع کر دیا اور وعدہ کیا کہ کچھ وقت بعد وہ گاوں واپس آ جائیں گے۔
گھر آنے کے بعد انھوں اپنے لائے ہوئے تحفے سب کو دئیے۔ رحمہ اور صالحہ بیگم کے لئے انھوں نے ڈریس خریدے تھے جو انھیں بےحد پسند آئے۔ خزیمن انھیں بہت محبت سے دیکھ رہیں تھیں۔ اس کی نرم نظریں وہ خود پہ محسوس کر رہے تھے۔ سب نے ایک خوشگوار ماحول میں چائے پی۔
چائے کے بعد وہ صالحہ بیگم کے پاس آئے اور انھیں فلیٹ کے متعلق بتایا۔ صالحہ بیگم بہت ناراض ہوئیں۔
“آنٹی اس میں اتنا ناراض ہونے والی کیا بات ہے اور پھر ہم کون سا اتنا دور ہیں آتے جاتے رہیں گے بلکہ آپ لوگ اب ہماری طرف آئیے گا تاکہ ہمیں بھی خدمت کا کوئی موقع ملے۔”
انھوں نے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے محبت سے ان کیطرف دیکھا۔
“بیٹا خزیمن اکیلے سب کیسے کرے گی۔ ابھی تو اس کے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری۔”
انھوں نے خزیمن کی طرف دیکھا۔ دو ہی دن میں وہ انھیں بےحد عزیز ہو گئی تھی۔
“ارے آنٹی۔۔۔خزیمن اکیلی کب ہے میں ہوں نا اس کے ساتھ۔۔۔اور اتنا کام نہیں ہے گھر میں کافی سے زیادہ فرنشڈ خریدا ہے میں نے۔۔بس جو تھوڑا بہت ہے وہ ضرورت کے مطابق لیتے رہیں گے۔”
دراب نے انھیں تسلی دی۔
وہ آج ہی شفٹ ہونا چاہتے تھے اپنے گھر میں۔۔لیکن صالحہ بیگم نے انھیں کھانے تک روک لیا۔ کھانا کھا کر انھوں نے ان سے اجازت چاہی۔ ان کی ضد پہ صالحہ بیگم نے اپنی دعاوں میں انھیں رخصت کیا۔ جب وہ لوگ پہنچے تو دس بجے کا وقت تھا۔
خزیمن کو بھی فلیٹ بہت پسند آیا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ میر دراب خان کا ساتھ۔۔۔ان کی سنگت۔۔ان کا پیار۔۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اللہ کا شکر ادا کرتی۔
انھوں نے اسے فلیٹ دکھایا۔۔کچن ، ڈرائنگ روم۔۔ہر چیز خزیمن کی پسند کے مطابق تھی۔
“دراب۔۔۔۔۔۔یہ سب کتنا خوبصورت ہے۔۔سچ مجھے بہت پسند آیا۔”
خوشی اس کی آنکھوں سے چھلک رہی تھی اور دراب خان یہی خوشی اس کے چہرے اور آنکھوں میں دیکھنا چاہتے تھے۔ آخر میں وہ اسے لے کے بیڈ روم اپنے اور اسکے مشترکہ بیڈ روم میں آئے۔ یہ کمرا باقی کمروں سے تھوڑا بڑا تھا اور بہت خوبصورتی سے سجا ہوا تھا۔ نرم گداز قالین۔۔گرے رنگ کے خوبصورت پردے۔۔کمرے میں سامان بہت مختصر تھا اس لئے کمرہ کافی کشادہ لگ رہا تھا۔
“پسند آیا۔۔؟؟”
انھوں نے پیچھے سے اس کے گرد اپنے مضبوط بازوں کا حصار باندھا اور اس کے بالوں کو لبوں سے چھوا۔
“بہت۔۔۔۔”
خزیمن نے ان کی مضبوط ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھے۔اس کے ہاتھوں کی نرمی دراب کو اپنے ہاتھوں میں گھلتی محسوس ہوئی۔ انھوں نے اپنی گرفت کو مزید مضبوط کیا۔
“دراب۔۔۔۔”
خزیمن نے انھیں پکارا تھا۔ وہ آنکھیں موندیں اس کی مہک کو اپنی ذات کے قلعے میں محسور کر رہے تھے۔
“ہیم۔۔۔۔۔”
ان کا سر اس کے کندھے پہ ٹک گیا تھا۔
“آپ۔۔۔۔۔آپ بہت اچھے ہیں اور۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ خاموش ہوئی۔
“اور۔۔۔۔۔۔۔۔”
بند آنکھوں کے پیچھے وہی انھیں دکھ رہی تھی۔
“اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ سے بےحد محبت کرتی ہوں۔”
انھوں نے مسکرا کر اس کی گردن پہ لب رکھے۔۔ان کی محبت اس کے دل کی رفتار کو بڑھا رہی تھی۔
“میں بھی۔۔۔۔۔۔۔”
ان کی مدھم اور گھمبیر آواز اسے اپنے دل میں گونجتی محسوس ہوئی۔
سورج کی آنکھ مچولی گھنے بادلوں کے ساتھ جاری تھی۔
وہ جاڑے کا سورج۔۔۔۔
اور۔۔۔
وہ یخ بستہ پرچھائی۔۔۔۔_______________________________
حجرے میں سبھی موجود تھے۔
اردگرد چارپائیاں بچھی تھیں۔ گاو تکیوں سے ٹیک لگائے معزز افراد ایک لاچار شخص کو گھیرے کھڑے تھے۔ کچھ لوگ تو باتور خان کو شاباش دے رہے تھے اس اقدام پہ۔۔۔مگر کچھ اس کی بےحسی کو دیکھ دیکھ کر کڑ رہے۔
رحم دین سر جھکائے کھڑے تھے۔
ہر طرف سے انھیں مختلف جملے سننے کو مل رہے تھے۔ زمان خان بھی وہیں موجود تھا۔
میر سربلند خان چونکہ گاوں کے جرگے کا ایک اہم رکن تھے اس لئے ان کے کہنے پر ہی یہ جرگہ بلایا گیا تھا۔
“ہاں رحم دین۔۔ بولو۔۔۔تمھیں کچھ کہنا ہے؟”
میر سر بلند خان کی آواز گونجی تو سبھی لوگوں کے ہونٹ جیسے سل سے گئے تھے۔۔ باتور خان کی استہزایہ نظریں رحم دین پہ گڑی تھیں۔
“خان جی۔۔۔۔میں اپنی بیٹی کی شادی باتور خان سے نہیں کروں گا۔”
رحم دین نے وہی الفاظ دہرائے جو وہ کب سے کہے جا رہا تھا۔
“غگ ہو جانے کے باوجود۔۔۔؟؟”
انھوں نے مزید پوچھا۔
“جی۔۔۔خان جی۔۔۔۔میں ایسی کیسی رسم کو نہیں مانتا۔”
باتور خان نے مٹھیاں بھینچیں۔
“لیکن ہم یہ بےغیرتی اس گاوں میں برداشت نہیں کر سکتے۔ تم تو لگتا ہے شرم لحاظ ہر چیز بھول گئے ہو۔ کوئی بھی تمھاری بیٹی سے شادی نہیں کرے گا سوائے باتور خان کے۔۔اس لئے بہتر ہو گا کہ تم اس رشتے کے لئے آرام سے مان جاو۔۔ورنہ ہمیں اور بھی طریقے آتے ہیں۔”
وہ تھوڑی دیر کو خاموش ہوئے۔
“جرگے نے تمام حالات کے پیش نظر ایک فیصلہ کیا ہے کہ تم کل شہر جا کر مسکاء کو لے آو تاکہ اس مسئلے کو کوئی حل دیا جا سکے۔”
ان کی بات پہ سبھی معزز افراد نے سر اثبات میں ہلایا۔ وہ دیکھ رہے تھے یہاں کوئی بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ وہ سر جھکائے بیرونی دروازے کی طرف بڑھے۔ کندھے ایسے ڈھلکے ہوئے تھے جیسے ان پر کوئی بھاری بوجھ لدا ہو۔ زمان خان ان کے پیچھے لپکے۔۔
باتور خان نے مسکرا کر مونچھوں کو تاو دیا اور میر سربلند خان کی طرف دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ رہے۔ آہستہ آہستہ لوگ وہاں سے جانے لگے تھے۔۔
سب لوگ جا چکے تھے صرف وہی تھے۔۔
جو یہی تو چاہتے تھے کہ گاوں میں وہی ہو جو وہ چاہتے ہیں۔۔
اور۔۔۔۔
وہی ہونے جا رہا تھا جو وہ چاہتے تھے تو وہ خوش کیوں نہ ہوتے۔ سب کو اپنی انگلیوں پہ نچانے والے یہ بھول گئے تھے کہ ان کی دراز رسی کو کھینچنے والی ذات کبھی بھی انھیں منہ کے بل گرا سکتی ہے۔ بس وقت آنے کی دیر ہے۔۔۔
“باتور۔۔۔۔۔۔”
انھوں نے اسے پکارا۔
“جی۔۔۔۔۔خان جی۔”
وہ ان کے قریب آیا۔
“ہم نے کوشش کی ہے کہ گھی سیدھی انگلیوں سے نکل آئے۔ لیکن اگر گھی سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنے میں دیر نہیں ہونی چاہئیے۔”
وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولے۔
“خان جی۔۔۔۔۔۔آپ بالکل فکر ہی نہ کریں۔۔”
اس کا جواب سن کر وہ اسکے مزید قریب آئے۔
“اور ہاں۔۔۔۔۔۔۔وہ میر۔۔۔۔۔حلق کا کانٹا بن گیا ہے۔ اسے نکالنا تمھارا کام ہے۔”
وہ اسے اشارہ کر کے آگے بڑھ گئے جبکہ وہ داڑھی کھجاتا وہیں چارپائی پر بیٹھ گیا۔
میر کا نام سن کر اسے اپنی بےعزتی یاد آ گئی۔ وہ تو کب کا منتظر تھا کہ خان اسے کہیں اور وہ اس سے اپنی بےعزتی کا بدلہ لے۔
اور آج اجازت مل گئی تھی۔۔
“میر۔۔۔۔۔میں شدت سے منتظر ہوں تمھارا۔ اب کی بار تمھیں شہر تو کیا ایسی جگہ بھیجوں گا جہاں کبھی واپس نہیں آ سکو گے۔
وہ خود سے کہتا ہنس دیا تھا۔۔۔______________________________
“اسلام و علیکم گلزم خان چاچا۔” مسکراتی آواز پہ انھوں نے پلٹ کر دیکھا تھا۔ نیلی جینز پہ سفید شرٹ پہنے وہ قد آور شخص انھیں کسی کی یاد دلا گیا۔ مسکراتے لب اور مسکراتی آنکھیں۔۔۔انھوں نے ایک پل کو آنکھیں موند لیں۔
“ارے چاچا۔۔۔نیند میں ہو کیا۔” اس نے انھیں آنکھیں بند کرتے دیکھ کر ان کا شانہ ہلایا۔
“کچھ نہیں بیٹا۔۔۔بس یونہی۔۔آو نہ چلیں۔۔تمھارے بابا کو بہت انتظار ہے تمھارا۔ آتے وقت مجھے بار بار تاکید کرتے رہے کہ تمھیں لے کر جلدی پہنچوں۔”
وہ اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے بولے۔
“تو آپ بتائیے نا کیا وجہ کہ بابا نے بلایا ہے مجھے۔۔میرا تو ابھی ارادہ نہیں تھا جانے کا۔۔کچھ ہی دن میں ایگزامز اسٹارٹ ہو جائیں گے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ ایگزام کے بعد ہی آوں گا۔ مگر انھوں نے فون کر کے کہا کہ آپ کے ساتھ آ جاوں۔ بہت ضروری بات کرنی ہے۔گاوں میں تو سب خیر ہے نا چاچا؟؟”
اس نے بیگ پچھلی سیٹ پہ پھینکا اور ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا۔ زمان خان نے اسے رات کو فون کر آنے کو کہا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ شاید انھیں کچھ ایسا مل گیا جو وہ اسے دکھانا چاہتے ہیں۔ اسے بھیجتے وقت انھوں نے اس سے کہا تھا کہ اگر انھیں کچھ بھی معلوم ہوا تو وہ اسے گاوں بلوا لیں گے۔
“ہر بار گاوں جاتے وقت تو اتنے خوش نہیں ہوتے جتنے آج لگ رہے ہو۔۔”
انھوں نے اس کے مسکراتے چہرے سے نظر چرائی۔
“ہے ایک بہت ہی بڑا سیکرٹ جو آج ڈسکلوز ہونے جا رہا ہے۔”
وہ خود سے بولا۔ اس سوچ نے اسکے چہرے کی چمک کو بڑھا دیا تھا۔ گلزم خان نے سر ہلاتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی۔
“ویسے چاچا۔۔۔۔بات کیا ہے آپ بہت خاموش لگ رہے ہیں۔ گھر میں تو سب خیریت ہے نا؟”
اس نے انھیں خاموش دیکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں بیٹا۔۔۔۔بس گاوں کے خانان سے تو تم واقف ہو۔ کسی زندہ کے پیچھے پڑ جائیں تو اسے قبر میں پہنچا کر دم لیتے ہیں۔”
وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے افسوس سے بولے۔
“کیوں چاچا۔۔۔کیا ہوا؟”
اس کے پوچھنے پر انھوں نے رحم دین کے ساتھ پیش آنے والے حالات کہہ سنائے۔ اسے سب سن کر بہت افسوس ہوا۔ اسے وہ چھوٹی سی لڑکی یاد آئی۔
“بہت افسوس کی بات ہے چاچا۔۔۔دنیا چاند پہ پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی بھی پستیوں میں پڑے ہیں۔ نیچے سے چمکتے چاند کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے لیکن پاس جانے کی ہمت نہیں رکھتے۔ بس کچھ ہی وقت ہے چاچا۔۔۔۔ان سب کا علاج جلد ہی کروں گا۔”
وہ ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
“اللہ تمھیں زندگی دے بیٹا۔۔وہ تمھارا محافظ ہو۔۔”
انھوں نے اسے دعا دی۔
“آمین!” وہ بولا۔
“یہاں کیوں رک گئے چاچا؟” انھیں گرلز کالج کے پاس رکتے دیکھ کر اس نے پوچھا۔
“وہ مسکاء بیٹی کو بھی لے کر جانا ہے ساتھ۔۔ جرگے کا فیصلہ ہے کہ مسکاء کو گاوں لایا جائے۔”
وہ گاڑی سے نکلتے ہوئے بولے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اسے ان کے ساتھ آتی دکھائی دی۔ بڑی سی چادر میں اپنا نازک سا وجود ڈھانپے وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی قریب آتی جا رہی تھی۔۔
آج وہ سفید لباس زیب تن کئے ہوئے تھی۔دودھیا پاوں میں سمپل سے بلیک کھسے پہنے وہ بہت اچھی لگ رہی تھی یا شاید اسے لگ رہی تھی وہ اندازہ نہیں لگا پایا۔
اسے اسکی سیاہ گھور آنکھیں یاد آئیں۔ اسے اپنی بےخودی پہ بہت غصہ تھا۔ گھر میں کسطرح وہ اسے دیکھ کر ہوش گنوا بیٹھا تھا۔ لیکن جلد ہی خود پہ قابو پا لیا تھا۔ اس کے خیال سے اس کے پاس ان بیکار کے کاموں کے لئے وقت نہیں تھا۔
وہ اپنی سوچوں میں اتنا مگن تھا کہ جب گاڑی اسٹارٹ ہوئی تو اسے ہوش آیا۔
سر جھٹک کر اس نے گہری سانس لی۔ گاڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔
پتہ نہیں کیوں اس کے دل میں ایک ہی خواہش ابھر رہی تھی کہ کاش یہ سفر کبھی نہ ختم ہو۔
اور وہ ذات اپنے بندے کے دل کے سارے راز جانتی ہے جو وہ کبھی کبھار خود سے بھی چھپاتا ہے۔
یقینا یہ سفر طویل ہونے والا تھا۔
دن سے رات تک۔۔۔
رات سے دن تک۔۔۔۔۔۔
یقینا۔۔۔۔
زندگی سے موت تک۔۔۔۔______________________________جاری ہے۔۔۔
