Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode12

Ghag By Mahwish Urooj Episode12

آج کی صبح بھی معمول کے مطابق تھی۔ نماز پڑھی اور پھر تلاوت کرنے کے بعد وہ کچن میں آ گئی تھی۔ ضیغم بھی نماز پڑھ کر دوبارہ سو چکا تھا۔ صبح سے ہی طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔ دل اداس تھا۔ آج انھوں نے گاوں جانا تھا۔ جہاں ماں باپ سے ملنے کی خوشی تھی وہاں ضیغم سے دوری بھی اسکی جان کھائے دی رہی تھی۔ حالانکہ وہ اپنے کسی بھی عمل سے اسے یہ باور نہیں ہونے دے رہی تھی کہ اتنے ماہ کی دوری اسکا دل بوجھل کر رہی ہے۔ خاموشی سے ناشتے کی تیاری کرتی رہی۔ بہت سے کام بھی کرنے تھے۔ اپنی اور ضیغم کی پیکنگ بھی کرنی تھی۔ ضیغم تو لیٹ اٹھے گا اس لئے اس نے صرف ایک کپ چائے ہی بنائی اور کمرے میں آ گئی۔ الماری سے اپنی ضرورت کا سارا سامان اور کپڑے سب اس نے ایک بیگ میں رکھ دئیے۔ یہاں سے جانے کا من تو نہیں تھا مگر یہاں اکیلے رہ بھی نہیں سکتی تھی۔ ذہہن مختلف سوچوں میں گھرا ہوا تھا۔ آگے نجانے کسطرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے۔ پتہ نہیں وہ پھر دوبارہ اس گھر میں آ بھی پائے گی یا نہیں۔ یہی سوچ سوچ کر اسکا دل ڈوبا جا رہا تھا۔۔ گاوں کے حالات اس سے پوشیدہ نہیں تھے اس لئے ذہہن و دل مختلف منفی خیالات کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ بوجھل دل سے اس نے اپنا تمام سامان پیک کیا۔ اس دوران چائے بھی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
“مسکاء۔۔۔۔۔!!”
وہ چائے کے کپ پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ جب ضیغم اسے پکارتا ہوا کمرے میں آیا۔
“جی۔۔۔”
وہ کھڑی ہو گئی۔
“یار بھوک لگی ہے۔۔۔ ناشتہ نہیں ملے گا کیا۔”
وہ قریب آیا۔
“جی۔۔ بس آئی۔”
وہ چائے کا کپ اٹھا کر باہر آ گئی۔ وہ بھی اسکے پیچھے آیا تھا۔ وہ ناشتہ تیار کرنے لگی جبکہ وہ اس کے مطالعے میں مصروف ہو گیا۔ اسکے چہرے کی اداسی اور خاموشی اسے صاف محسوس ہو رہی تھی۔ حالانکہ وہ بولتی بہت کم تھی اور ضیغم سے تو خود سے بات بھی نہیں کرتی تھی مگر چہرے کی اداسی اس سے چھپ نہیں سکی تھی۔
پراٹھا اور آملیٹ بنا کر اس نے ضیغم کے سامنے رکھا جو بغور اس کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
“کیا بات ہے۔۔۔طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمھاری؟”
مسکاء نے فریج سے اورنج جوس کا جگ نکال کر اسکے سامنے رکھا تو اس نے پوچھا۔
“جی۔۔۔ٹھیک ہوں۔”
مسکاء نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے چائے کا کپ اٹھا لیا۔
“تم آج معمول سے زیادہ خاموش ہو یا مجھے ایسا لگ رہا ہے۔”
وہ ناشتہ شروع کرتے ہوئے بولا۔ مسکاء کا بریڈ پہ ماجرین لگاتا ہاتھ رک گیا۔ اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ آملیٹ کے ساتھ بھرپور انصاف کرنے میں بزی تھا۔
“نہیں تو ایسا تو کچھ نہیں ہے۔”
وہ دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئی۔
“تمھارے چہرے پہ تو کچھ اور ہی لکھا ہے۔” وہ مزید بولا۔
“کیا۔۔؟؟”
وہ بےخیالی میں بولی۔
“یہی کہ تم کسی بات کو لے کر پریشان ہو۔ گاوں جانے کی وجہ سے پریشان ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بابا ہیں وہاں اور پھر رحم دین چاچا بھی ہیں۔ کچھ وقت کی بات ہے پھر میں بھی آ جاوں گا۔ تم یونہی ٹینشن لے رہی ہو۔” وہ سمجھا کہ وہ گاوں جانے کے خیال سے پریشان ہے۔
“نہیں میں پریشان نہیں ہوں۔ بس نجانے کیوں دل گھبرا رہا ہے۔”
وہ اس کے خیال کی تردید کرتے ہوئے بولی ورنہ دل تو کوئی اور ہی بولی بول رہا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ پیکنگ کر لی تم نے اپنی؟”
وہ ناشتہ ختم کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔
“جی۔۔” مختصر جواب آیا۔
“ٹھیک ہے تو کیا میری پیکنگ میں ہیلپ نہیں کرو گی؟” اس نے ٹیبل پہ جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
“آپ چلیں میں آتی ہوں۔”
وہ ٹیبل سے برتن اٹھانے لگی۔
“رائٹ میم۔۔۔۔ذرا جلدی آئیے گا۔”
وہ اس کا دوپٹہ کھینچ کر ساتھ لے جاتے ہوئے بولا۔ اس سے پہلے کہ وہ دوپٹہ اپنے ساتھ لے جاتا مسکاء نے دوپٹے پہ اپنی گرفت کسی۔ ضیغم ہنستے ہوئے دوپٹہ اس پہ اچھال گیا۔ اس کے جانے کے بعد اس نے آنکھوں میں ایک دم سے آنے والی نمی کو اندر دھکیلا اور نل کھول دیا۔
برتن دھو کر وہ روم میں آئی تو ضیغم بیڈ پہ سوٹ کیس کھول کر خود سیل فون میں مگن تھا۔ سوٹ کیس بالکل خالی تھا۔
“الماری سے سارے کپڑے نکالنے ہیں۔”
وہ کمرے میں آئی تو بنا اس کی جانب دیکھے جلدی سے بولا۔ نظریں ہنوز موبائل پہ مرکوز تھیں۔ آج وہ اسکی توجہ چاہتی تھی جبکہ وہاں نو لفٹ کا سائن بورڈ لگا تھا۔ وہ الماری کی جانب آئی۔ الماری کھول کر ایک ایک ڈریس ترتیب سے سوٹ کیس میں رکھنے لگی۔ اسکا سارا دھیان اب پیکنگ پہ تھا اس لئے وہ جان نہ سکی کہ وہ اس کی ہر موومینٹ کو اپنے موبائل میں کیپچر کرتا جا رہا ہے۔ ہر چیز رکھ کر سوٹ کیس اس نے بیڈ سے نیچے اتارا اور لے جا کر دیوار کے ساتھ رکھ دیا۔ ایک ڈریس اس نے الماری میں رہنے دیا تھا۔
“میں نے پیکنگ کر دی ہے۔ آپ جانے سے پہلے ایک بار چیک کر لیجیے گا۔”
وہ اسکی طرف دیکھ رہی تھی اور وہ تو موبائل میں ایسا گم تھا جیسا اس کے علاوہ کمرے میں کوئی اور موجود ہی نہ ہو۔ مسکاء کا دل اچاٹ ہونے لگا۔
“بہت شکریہ جناب۔”
وہ موبائل بیڈ پہ رکھ کر واش روم کی جانب بڑھ گیا تو مسکاء روم سے باہر آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد ضیغم نے اسے گلزم چاچا کے آنے کا بتایا اور اس کے بیگ کا پوچھا۔ اس کے روم کی طرف اشارہ کرنے پہ وہ کمرے سے اسکا بیگ لے آیا اور اسے اشارہ کرتا بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ مسکاء نے خود کو اس سے بہت پیچھے رہ جاتے دیکھا۔
“مسکاء ہری اپ۔۔۔ دیر ہو رہی ہے۔” ضیغم نے اسے یونہی ساکت بیٹھے دیکھ کر آواز دی۔ وہ آنسو پیتی ، گھر پہ ایک آخری نظر ڈالتی اس کے پیچھے آئی۔ کالی چادر سے اس نے خود کو اچھی طرح ڈھانپ رکھا تھا۔ ضیغم نے سامان گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ رکھا اور اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے گلزم خان کو سلام کیا۔ انھوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اس سے حال احوال پوچھنے لگے۔ وہ ان کے لمبے سوالوں کے مختصر جواب دے رہی تھی۔
ضیغم بیٹھ گیا تو انھوں نے مزید باتوں کا سلسلہ موقوف کر کے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
وہ خاموشی سے کھڑکی سے باہر دوڑتے منظر دیکھنے لگی۔
“مسکاء بیٹا۔۔! گاوں کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی نیچے جھک جانا۔”
گلزم خان نے مسکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“ارے چاچا آپ فکر نہ کریں۔ انھوں نے تھوڑی دیر میں ہی سو جانا ہے۔”
اس نے ہنستے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں گم تھی۔ اسکی غائب دماغی محسوس کرتے ہوئے اس کے مسکراتے لب سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ گئے۔ اسکے چہرے کی اداسی اس کے دل پہ چھانے لگی۔ وہ رخ پلٹ گیا تھا۔_______________________________________
گاڑی جب گاوں کی حدود میں داخل ہوئی تو ضیغم نے گلزم چاچا کو حویلی کی جانب جانے کو کہا۔ وہ اسکی بات سن کر بہت حیران بلکہ پریشان ہو گئے۔ اس نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر انھیں تسلی دی۔ انھوں نے گاڑی کا رخ حویلی کی جانب کر دیا۔ پیچھے مڑ کر مسکاء کو دیکھا تو وہ گھٹنوں پہ سر رکھے نیچے جھکی ہوئی تھی۔ وہ اس کے انداز پہ مسکرا دیا۔
گلزم خان کو اس نے مسکاء کو گھر لے جانے کو کہا اور خود حویلی کے قریب اتر گیا۔ گلزم خان تیزی سے زمان خان کی طرف آئے تھے۔ ظہر کا وقت تھا اس لئے آس پاس بالکل خاموشی تھی۔ انھوں نے جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھولا اور پھر پچھلا دروازہ کھول کر آس پاس نظر دوڑائی۔ جب مطمئن ہو کر انھوں نے مسکاء کو آواز دی اور اسکا سوٹ کیس اتارا۔ مسکاء چادر سنبھالتی گاڑی سے اتری اور ادھر ادھر دیکھے بغیر گھر کے کھلے دروازے سے اندر چلی گئی۔ انھوں سوٹ کیس اندر رکھا اور بجلی کی سی پھرتی سے دروازے کو بند کر کے تالا لگایا۔
اس کے بعد گاڑی مسجد کی جانب موڑ دی جہاں رحم دین اور زمان خان ان کا انتظار کر رہے تھے۔
مسکاء نے سوٹ کیس اندر لا کر برآمدے میں رکھا اور کولر کی جانب آئی۔ پانی پی کر باہر صحن میں رکھی چارپائی پہ ہی بیٹھ کر اس نے خود کو نارمل کیا۔ تقریبا آدھے گھنٹے بعد دروازہ کھلنے کی آواز پہ وہ اٹھ بیٹھی اور اٹھ کر پلر کے پیچھے چھپ گئی لیکن جب اس نے دروازے سے اندر داخل ہوتے رحم دین کو دیکھا تو بھاگتے ہوئے آ کر ان کے سینے سے لگ گئی۔ انھوں نے بھی اسے اپنے ناتواں بازوں میں سمیٹ لیا۔ اس کی آنکھوں سے بھل بھل بہتے آنسو اس کے سینے میں اٹھتا درد بیان کر رہے تھے۔ وہ اسکی پیٹھ سہلاتے ہوئے خود بھی رو رہے تھے۔ زمان خان بھی اپنے آنسووں پہ قابو نہ رکھ سکے تھے۔
“بس کرو بھئی۔۔۔اللہ کا شکر ہے کہ بچی خیر خیریت سے پہنچ گئی ہے ورنہ تو سچ پوچھو میرا تو دم اٹکا ہوا تھا۔”
انھوں نے رحم دین کو متوجہ کیا تو انھوں نے مسکاء کو خود سے الگ کیا اور پھر اسکا آنسووں سے تر چہرہ صاف کیا۔
“بابا۔۔۔اماں کیسی ہیں؟”
زمان خان نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا اور انھیں لے کر کمرے میں آ گئے۔
“اماں بالکل ٹھیک ہیں اور تم سے ملنے کے لئے بےچین۔۔وہ تو ابھی آ رہی تھی لیکن میں نے ہی روک دیا۔ ماہ گل بی بی کے ساتھ آ رہی ہے۔”
انھوں نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
دوسری طرف ضیغم حویلی میں داخل ہوا تو شکور باہر ہی مل گیا۔ ضیغم نے اس سے مل کر میرسربلند خان کو اطلاع دینے کا کہا۔ وہ اسے لاونج میں کھڑا چھوڑ کر وہ میر سربلند خان کو بتانے ان کے روم میں آ گیا۔
انھوں نے اسے اپنے کمرے میں ہی بلوا لیا۔
“اسلام و علیکم!”
وہ کمرے میں داخل ہوا تو میرسربلند خان یک دم کھڑے ہو گئے۔ انھیں لگا وہ ایک بار پھر کہیں سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ ان کے سامنے دراب خان کھڑا ہے۔ وہی قد کاٹھ ، وہی ذہین آنکھیں ، سرخ و سفید رنگت۔۔۔
“واعلیکم السلام!”
انھوں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اسے بیٹھنے کو کہا۔
“آپ نے مجھے بلایا تھا؟”
انھیں دیکھ کر اسکا خون کھولنے لگا تھا۔ اسکے سامنے کوئی اور نہیں اسکے ماں باپ کا قاتل بیٹھا تھا۔ انھیں گمنام موت دینے والا ظالم انسان اسکی پہنچ کے بہت قریب تھا مگر اس نے خود کو سنبھال لیا کیونکہ وہ انھیں گمنام موت نہیں مارنا چاہتا تھا۔ وہ انھیں آنے والوں کے لئے عبرت بنانا چاہتا تھا۔ ان کے منہ سے اعتراف کروانا چاہتا تھا۔
“ہاں۔۔۔۔میں نے بلوایا تھا۔ عالمزیب کو تمھاری ضرورت ہے۔ وہ کب سے تمھیں بلوانے کا کہہ رہا تھا۔ میں نے کہیں بار تمھارے باپ سے کہا کہ تمھیں یونہی شہر بھجوا دیا۔ پڑھائی وڑھائی کا یونہی جھنجھٹ پال رکھا ہے تم نے۔ یہاں کون سی کمی ہے نوکریوں کی۔”
انھوں نے اس کے بیٹھنے کے انداز کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ ان کے سامنے صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے یوں براجمان تھا جیسے انھوں نے اسے نہیں بلکہ اس نے انھیں بلایا ہو۔
انھوں نے اسکے پہناوے کے انداز کو دل ہی دل میں سراہا۔ بےخوف آنکھیں ان پہ گڑھی تھیں۔ سب کچھ کر گزرنے کا عزم لئے آنکھیں انھیں بہت کچھ سمجھا رہی تھیں۔
“بہت شکریہ آپکا۔۔۔میں اپنی مدد آپ کا قائل ہوں۔ تعلیم مکمل ہو گئی ہے۔ جہاں تک میری نوکری کا سوال ہے تو بہت جلد وہ بھی مل جائے گی۔”
اس نے اردگرد نظر دوڑائی۔
“نوکری ملنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ آجکل نوجوان ڈگری ہاتھ میں لئے خوار ہوتے رہتے ہیں تو تم کیا تیر مار لو گے۔ ہمارا منشی اب بوڑھا ہو گیا ہے۔ یہ حساب کتاب کا کام اب اس سے نہیں ہوتا۔ تمھاری پڑھائی ہمارے بھی کسی کام آئے۔”
انھوں نے طنزیہ انداز میں اس کی جانب دیکھا۔ ان کی بات پہ اس نے اپنے اندر امنڈنے والے غصے کو دبایا۔
“میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مجھے ضرورت نہیں ہے۔ میں بہت جلد اپنے پیروں پہ کھڑا ہو جاوں گا بلکہ دیکھیے اب بھی کھڑا ہوں۔”
وہ ان کے سامنے پورے قد سے کھڑا ہو گیا اور اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتے وہ کمرے سے نکل گیا۔
اس کا اسطرح سے چلے جانا ان کا خون کھولا گیا۔ ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ انھوں نے سامنے دیوار پہ دے مارا۔ کپ دیوار سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا۔
“تمھارا بھی یہی حال کروں گا میں۔۔۔۔۔میر ضیغم خان۔”
وہ قہر بھری سے نظروں سے دروازے کو دیکھ رہے تھے جہاں سے وہ ابھی گیا تھا۔_______________________________
اماں سے مل کر وہ بہت خوش تھی۔ کتنی دیر انھوں نے اسے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ زمان خان اور رحم دین بس اب یہی دعا کر رہے تھے کہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ مسکاء گاوں میں ہے۔ ورنہ بنا ضیغم کے یہاں حالات سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ انھوں نے تہیہ کیا کہ وہ اس بات کو صیغہ راز میں رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ خاص طور پر وہ مسکاء سے ملنے میں بہت احتیاط برتیں گے۔
مسکاء ماہ گل اور ذہرہ بی بی کے ہمراہ کچن میں دوپہر کے کھانے کا انتظام کر رہی تھیں۔ ضیغم ابھی تک حویلی سے واپس نہیں آیا تھا۔ زمان خان باہر صحن میں اسی کے انتظار میں بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔ رحم دین بھی پریشان تھے کہ نجانے وہاں کیا بات ہوئی ہو۔ میرسربلند خان کے مزاج سے تو وہ اچھی طرح واقف تھے۔ ضیغم بھی تو انہی کا خون تھا۔
“ارے بھئی آ جائے گا بچہ۔۔۔آپ دونوں تو اپنے انداز و اطوار سے ہمیں بھی ہولائے دے رہے ہو۔”
ماہ گل انھیں اس طرح صحن میں چکر لگاتے ہوئے دیکھ کر ان کے قریب آئی تھیں۔ کافی دیر ہو گئی تھی اسے گئے ہوئے اس لئے مسکاء بھی اب پریشان ہو رہی تھی۔ وہ کچن کے دروازے میں بیرونی دروازے پہ نظریں جمائے کھڑی تھی۔ دل ہی دل میں قرآنی آیات کا ورد جاری تھا۔
“میں خود جا کر دیکھتا ہوں۔ نجانے اب تک کیوں نہیں آیا۔”
زمان خان دروازے کی جانب بڑھے۔
“ٹھہرو۔۔۔میں بھی چلتا ہوں تمھارے ساتھ۔” رحم دین بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابھی وہ دروازے کے قریب پہنچے ہی تھے کہ دروازے پہ ہوئی دستک پہ زمان خان نے فورا ہاتھ بڑھا کر چٹخنی اتار کر دروازہ کھول دیا۔ سامنے ہی وہ لبوں پہ مسکان سجائے انھیں دیکھ رہا تھا۔
“مجھے پہلے ہی پتہ تھا بابا کہ آپ پریشان ہوں گے۔”
وہ ان کے گلے لگ گیا۔ سبھی نے اس کے خیریت سے آجانے پہ سکون کا سانس لیا تھا۔ ماہ گل اور ذہرہ بی بی اس سے ملنے کے لئے آگے بڑھیں جبکہ مسکاء باورچی خانے میں گھس گئی۔ ذہرہ بی بی اس کے سینے سے لگی آنسو بہائے جا رہی تھیں۔
“خالہ بس کریں کیا ہو گیا ہے آپ کو۔۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔ مجھے نقصان پہنچانے سے پہلے میرسربلند خان کو ہزار بار سوچنا پڑے گا اور جب وہ ہزارویں بار پہ پہنچے گا میں اسے کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں چھوڑوں گا۔”
اس نے مسکراتے ہوئے ان کے آنسو پونچھے۔
“اللہ تمھیں کبھی کچھ نہ کرے ضیغم۔۔میری عمر بھی تمھیں لگ جائے۔”
وہ محبت سے اسکا چہرہ تھامتے ہوئے بولیں۔ وہ اتنی محبت پر مسکرا دیا۔
“نیک بخت۔۔۔۔ہماری باری آئے گی یا نہیں۔”
رحم دین نے ذہرہ بی بی سے کہا جو ضیغم کو گھیرے کھڑی تھیں۔ سبھی ان کی بات پر ہنس دئیے۔ ذہرہ بی بی بھی ایک طرف ہو گئیں۔ضیغم آگے بڑھ کر ان سے ملا۔
“کیا بات ہوئی خان جی سے؟” زمان خان اس کے قریب آئے۔
“کچھ نہیں بابا۔۔۔۔مجھے بھی اپنے رعب میں لانے کی کوشش کر رہے تھے مگر میں بھی انھیں اچھی طرح باور کروا آیا ہوں کہ وہ مجھے باتور خان نہ سمجھیں۔”
وہ انھیں ساتھ لگائے کمرے میں آیا تھا اور ساری بات ان کے گوش گزار کر دی۔
“تمھیں اسطرح دو ٹوک انداز میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔”
زمان خان اس کی بات سن کر پریشانی سے بولے۔ رحم دین نے بھی ان کی تائید کی۔
“بابا۔۔۔۔وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ میں کوئی دودھ پیتا بچہ نہیں ہوں۔ میں ان سب سے لڑنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ میں انھیں کب کا سبق سکھا چکا ہوتا لیکن میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہتا۔ میں انھیں ایسی مار مارنا چاہتا ہوں کہ دوسروں کے لئے عبرت ہو اور پھر کوئی دوسرا میرسربلند خان اس گاوں میں لوگوں کی زندگیوں اور عزتوں سے نہ کھیل سکے۔”
وہ مضبوط لہجے میں بولا تو ذہرہ بی بی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسکی نظر اتاری۔
“اللہ تمھیں کامیاب کرے بیٹا۔۔ تم ہماری آخری امید ہو۔”
رحم دین کی بات پر وہاں موجود سبھی لوگوں نے آمین بولا۔
“ماہ گل کھانے کی کیا صورتحال ہے۔”
زمان خان نے ماہ گل سے پوچھا تو وہ سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ذہرہ بی بی بھی ان کے ساتھ ہولیں۔
انھوں نے کمرے میں ہی نیچے دسترخوان بچھا کر اس پہ کھانا چن دیا پھر سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد ماہ گل نے قہوہ بنایا۔ قہوہ پینے کے بعد ماہ گل تو حویلی چلی گئیں اور ان کے تھوڑی دیر بعد رحم دین اور ذہرہ بی بی بھی جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“اماں تھوڑی دیر اور رک جائیں نہ۔۔ ابھی تو آئیں ہیں آپ۔”
مسکاء نے انھیں کھڑے ہوتے دیکھ کر کہا۔
“نہیں بیٹا ہم پھر آئیں گے اور تم بھی زمان چاچا سے ہماری طرف آنے کی ضد نہیں کرنا۔ تم نے گھر سے باہر قدم نہیں نکالنا۔ بس یہ کچھ وقت کی سختی ہے پھر انشاءاللہ۔۔اللہ نے چاہا تو ہم سکھ کے دن بھی دیکھیں گے۔”
رحم دین نے بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھا۔
“انشاءاللہ۔۔! تم فکر مت کرو۔۔میری بیٹی بہت سمجھدار ہے۔”
انھوں نے محبت سے اس کے چہرے کے بگڑے زاویوں کو دیکھا۔ ضیغم بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ نظریں ملیں تو ضیغم کی آنکھوں میں جلتے چراغوں کی لو اس تک بھی پہنچنے لگی۔۔ اگلے ہی پل وہ نظریں جھکا گئی۔
“بابا ٹھیک کہہ رہے ہیں چاچا۔۔۔مسکاء بہت سمجھدار ہے۔”
ضیغم نے اس پہ نظریں جمائے کہا۔
“میں آتی رہوں گی تم سے ملنے۔۔اپنا اور زمان چاچا کا خیال رکھنا۔ ہم چلتے ہیں اب۔۔ یہاں زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں۔”
ذہرہ بی بی مسکاء کو گلے لگایا اور پھر دونوں زمان خان اور اور ضیغم کی سنگت میں دروازے کی جانب بڑھ گئے۔ ان کے جانے کے بعد زمان خان آرام کی غرض سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ ضیغم نے سامان کمرے میں لا کر رکھا اور کمرے میں موجود واحد پلنگ پہ لیٹ گیا۔ مسکاء بکس کھول کر اپنے کپڑے الماری میں ترتیب سے رکھنے لگی۔ ضیغم خاموشی سے اسے کام کرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ ضیغم کے ایک دو ڈریس الماری میں پہلے سے موجود تھے۔ موبائل ایک طرف رکھ کر وہ اٹھ کر اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ مسکاء اپنے کام میں مگن رہی۔
“کیا تم میرے جانے سے اداس ہو۔”
وہ اسکی لمبی چٹیا ہاتھ پہ لپیٹتے ہوئے بولا۔ اسکے کام کرتے ہاتھ رک گئے۔
“نہیں تو۔۔۔۔۔”
اس نے اپنی چوٹی اس کے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے کہا۔
“اچھا۔۔۔۔تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں ورنہ مجھے تو لگتا ہے کہ تم بہت اداس ہو میرے جانے سے۔”
وہ اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو بغور دیکھ رہا تھا۔ مسکاء نے کوئی جواب نہیں دیا تو اس نے مسکراتے ہوئے اسے پیچھے سے بانہوں کے گھیرے میں لیتے ہوئے اس کے بالوں پہ ہونٹ رکھ دئیے اس کے بعد وہ کمرے سے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد مسکاء کو دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔
آنسو روانی سے اسکے گال بھگونے لگے تھے۔__________________________________
وہ جسطرح یہاں سے گیا تھا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسطرح اسکے چہرے کا سکون اپنے پیروں تلے روند ڈالیں۔ وہ جسطرح ان کے سامنے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا ان کی برداشت سے باہر تھا۔وہ اس وقت حجرے میں موجود تھے۔
باتور خان حجرے میں داخل ہوا تو انھوں نے قہر بھری نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
“تم تو چوڑیاں پہن کر گھر ہی بیٹھ گئے ہو۔ ایک ذرا سی لڑکی تمھاری ناک کے نیچے سے غائب ہو گئی ہے اور تم کچھ نہیں کر پائے۔ لعنت ہے تمھاری مردانگی پہ۔”
وہ نہایت غصے میں اس پہ برس رہے تھے۔ وہ حیران تھا کہ خان جی نے اس کے ساتھ پہلے کبھی اسطرح کا رویہ نہیں اپنایا۔ وہ ان کے انداز سے خائف ہو کر خاموش ہی رہا۔
“اور وہ میر۔۔۔۔میرے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ سانس لینا دوبھر ہو گیا ہے میرا۔ اسے دیکھتا ہوں تو خون کھولنے لگتا ہے میرا۔۔کوئی بندوبست کر اسکا ورنہ میں تیرا بندوبست کر دوں گا۔”
میر کے نام سن کر تو اسکا بھی خون کھول اٹھتا تھا۔ اسکی وجہ سے جو بےعزتی اس نے برداشت کی اس کے لئے وہ اسے معاف کرنے والا نہیں تھا۔ اپنے سینے میں جلتی آگ تو وہ اسی دن بجھا لینا چاہتا تھا مگر خان جی کے منع کرنے پہ ہی وہ رک گیا تھا۔ گاوں کے لوگوں نے تو اس واقعے کو خوب اچھالا تھا۔ بچے، بوڑھے، جوان سبھی میر کی تعریف میں رطب السان رہتے تھے۔ کتنے لوگوں سے تو ہاتھا پائی بھی ہو گئی تھی اسکی۔
“خان جی آپ حکم کریں۔۔۔زندہ زمین میں گاڑ دوں گا۔”
وہ ان کے قریب آتے ہوئے بولا۔
“وہ آ چکا ہے گاوں۔”
“جی خان جی۔۔” وہ جانے کو مڑا۔
“اور ہاں ۔۔۔۔۔۔بس صرف ٹریلر دکھاو۔ باقی کا کام میں اپنے ہاتھوں سے کروں گا۔”
وہ مختصرا کہہ کر حویلی اور حجرے سے ملحق دروازے سے حویلی چلے گئے جبکہ باتور خان حجرے سے باہر نکل گیا۔ حجرے سے باہر اس کے انتظار میں کھڑے اقبال اور رشید کو اس نے مختصرا بتایا۔ وہ دونوں بھی اسکی بات سن کر خباثت سے مسکرانے لگے۔
“خان۔۔۔میں نے ابھی اسے گاوں کے بڑے میدان کیطرف جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ رحیم داد بھی ساتھ تھا۔”
اقبال نے باتور خان کی طرف جھکتے ہوئے کہا۔ پھر ایک لمحہ ضائع کیے بنا وہ میدان کی طرف بڑھ گئے۔ میدان میں اس وقت کافی لڑکے جمع تھے۔ ۔میدان کے ارد گرد کافی تعداد میں درخت تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا نے موسم کو خوشگوار کر دیا تھا۔ عصر کا وقت شروع ہونے والا تھا۔ ضیغم اور رحیم داد وہاں موجود لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
“میر۔۔۔۔باتور خان۔۔”
رحیم داد نے اسے متوجہ کیا۔ ضیغم باتور خان کو دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ باتور خان تقریبا بھاگتے ہوئے اس کے سر پہ پہنچا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ضیغم کے گریبان میں ہاتھ ڈالتا ضیغم نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے اور جھٹکا دے کر چھوڑا۔ وہ سنبھل نہ سکا اور کچھ دور جا گرا۔ اقبال اور رشید اسے فورا اٹھانے آگے بڑھے لیکن اس نے انھیں جھٹک دیا۔ آس پاس موجود لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ باتور خان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ ضیغم کی برداشت سے باہر تھے۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا مگر رحیم داد نے اسے روکا۔
“چھوڑو یار۔۔۔۔”
اس نے ضیغم کا بازو کس کر پکڑا۔
“وہ اسی لئے آیا ہے۔”
ضیغم اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑانے لگا۔ اسی دوران باتور خان آگے بڑھا۔ ضیغم نے فورا اپنا ہاتھ کھینچا۔ باقی سب لوگ بھی ان کے گرد کھڑے ہو گئے۔
“باتور خان۔۔۔میں تم سے لڑنا نہیں چاہتا۔ اس لئے یہاں سے چلتے پھرتے نظر آو۔”
ضیغم نے اسے آگے بڑھنے سے روکا۔
“آج تم مجھ سے بچ نہیں سکتے۔” اس نے قریب آتے ہوئے ضیغم پہ وار کیا۔ وہ اپنے بچاو کے لئے فورا پیچھے ہوا مگر پھر بھی اسکا ہاتھ ضیغم کے چہرے سے ٹکرایا۔ انگلی میں پہنی انگوٹھی کی وجہ سے اسکا ہونٹ ذخمی ہو گیا۔ اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس کر کے ضیغم بپھر گیا اور سیکنڈز میں وہ دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ ضیغم باتور خان کے مقابلے میں کئی زیادہ مضبوط جسامت کا مالک تھا اس لئے چند لمحوں میں اس نے باتور خان کو ڈھیر کر دیا۔ اقبال اور رشید تو ڈر کے مارے قریب ہی نہیں آئے۔
اس کے کپڑے مٹی سے اٹ چکے تھے۔ سارے لوگ ضیغم کو سراہنے لگے۔ پہلی بار گاوں والوں نے باتور خان کو پچھاڑنے والے شخص کو دیکھا تھا۔ وہ مزید اس کی درگت بناتا مگر رحیم داد نے آگے بڑھ کر اسے روک دیا۔
“آئیندہ میرے راستے میں آیا تو اپنے پیروں پہ کھڑے ہونے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔”
اس نے باتور خان کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور پھر جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے کہا۔باتور خان نے ریوالور نکالنے کے لئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا مگر اسے یاد آیا کہ آتے وقت میرسربلند خان نے اسے سمجھاتے ہوئے ریوالور اسکی جیب سے نکال لیا تھا تا کہ وہ کوئی انتہائی قدم نہ اٹھا سکے۔ میر سربلند خان کے اس عمل نے اس کے غصے کو بڑھایا تھا۔
“آئیندہ میرے سامنے آنے سے گریز کرنا۔”
ضیغم نے شہادت کی انگلی اسکی جانب اٹھا کراسے اشارہ کیا۔
“تجھے تو میں۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ باتور خان اس پہ دوبارہ حملہ کرتا کچھ لڑکوں نے مل کر اسے روکا۔ اس نے خود کو چھڑایا اور وہاں سے مغالضات بکتا چلا گیا۔ اسکی ٹانگ کی لنگڑاہٹ وہاں موجود لوگوں کے چہروں پہ مسکراہٹ لے آئی تھی۔
ضیغم بھی وہاں سے نکل آیا تھا۔ عصر کی اذان شروع ہوئی تو وہ گھر جانے کی بجائے مسجد آ گیا۔ وضو بنا کر نماز ادا کی۔ نماز پڑھ کر اٹھا ہی تھا کہ زمان خان کو اپنے بالکل پیچھے کھڑے پایا۔
“تمھیں کیا ضرورت تھی اس سے لڑنے کی۔ تمھیں پتہ ہے نا وہ پسٹل اپنی جیب میں لئے پھرتا ہے۔ اگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو۔۔۔؟؟”
زمان خان بہت غصے میں تھے۔ رحیم داد نے انھیں مسجد آتے ہوئے میدان میں ہوئے واقعے کے بارے میں بتا دیا تھا۔ وہ نماز پڑھ کر ضیغم کو مسجد میں ڈھونڈ رہے تھے کہ وہ انھیں ایک طرف نماز پڑھتا دکھائی دیا۔ وہ اس کے پیچھے کھڑے ہو کر اسکے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگے۔
“بابا۔۔۔۔وہ خود ہی اسی نیت سے میری طرف بڑھا تھا۔ پہلے کی درگت بھول گیا تھا اپنی۔۔ اب آج والی یاد رکھے گا۔”
وہ ہنستے ہوئے بولا تو ان کی نظر اس کے نچلے ہونٹ پہ پڑی۔
“یہ کیا ہوا؟؟”
وہ اس کے قریب آ کر بغور دیکھنے لگے۔
“کچھ نہیں اسکی انگوٹھی لگ گئی تھی ورنہ باتور خان میں تو اتنا دم خم نہیں کہ زمان خان کے ببر شیر کو پچھاڑ سکے۔”
وہ ان کے کندھے پہ بازو پھیلاتے ہوئے بول کر ان کے ساتھ مسجد سے نکل آیا۔
“پھر بھی میر۔۔۔۔۔احتیاط کرنی چاہیئے۔ یہ باتور خان تو بندوق چلانے میں بالکل احتراز نہیں برتتا۔ مجھ میں تمھیں کھونے کی ہمت نہیں ہے۔”
وہ اس کے زخم پہ نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔ وہ سر ہلا کر مسکرا دیا۔
“گھر چلیں۔۔ آپکی بہو مجھے تنگ کرنے لئے بیتاب ہو گی۔”
وہ شرارت سے بولا تو وہ اسکی طرف تنبیہی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ہنس دئیے۔___________________________________
مسکاء کب سے صحن میں موجود املتاس کے پیڑ پہ نظریں جمائے ان کا انتظار کر رہی تھی۔ ذرد مہکتے ٹہنیوں سے لٹکتے گچھے کے گچھے پھولوں کی نازک پنکھڑیاں ہلکی ہوا کے ٹکرانے سے روئی کے گالوں کی طرح کچے وسیع و عریض صحن پہ بکھری ہوئیں تھیں۔ یہ خوبصورت منظر دل و دماغ کو اور بھی مسخر کیے دے رہا تھا۔ پورے صحن میں اس کے پھولوں کی مسحور کن مہک پھیلی ہوئی تھی۔ دیوار کے ساتھ بنی کیاریوں میں پیلے پھول بکھرے ہوئے تھے۔ کتھئی رنگ کی پھلیاں جو ایک سے دو فٹ تک لمبی تھیں۔۔ درخت سے لٹک رہی تھیں۔ ہوا کا جھونکا جب ان سخت خول والی پھلیوں سے ٹکراتا تو ایک مدھر دھن سی بجنے لگتی۔۔ درخت سے ہوتی ہوئی اسکی نظر تا حد نظر پھیلے نیلے آسمان پہ ٹھہر گئی۔ سفید بادلوں کو ہوا اپنے ساتھ لئے جا رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر سفید کبوتروں کے ٹولے پہ پڑی جو جھنڈ کی شکل میں اس کے اوپر سے گزر کر چلے گئے تھے۔ ایک معصوم مسکراہٹ اسکے لبوں پہ سج گئی تھی۔ وہ پھر سے ان کے انتظار میں آسمان پہ نظر جمائے ہوئی تھی کہ دروازے کی آواز پہ اس کی محویت ٹوٹی۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ضیغم اور زمان خان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔ جاتے وقت زمان خان اسے کنڈی لگانے سے منع کر گئے تھے۔
“السلام و علیکم!”
مسکاء کے سلام جواب دے کر زمان خان اسے چائے کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ وہ چائے بنانے کے لئے کچن میں آ گئی۔ ضیغم بھی صحن میں لگے نل سے چہرہ دھو کر اس کے پیچھے کچن میں آ گیا۔ وہ چائے کا پانی چولھے پہ چڑھائے پانی ابلنے کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ سیمنٹ سے بنے سیلب سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
“میرے لئے بھی ایک کپ۔”
اس کی آواز پہ مسکاء نے اسکی جانب دیکھا لیکن کہا کچھ نہیں۔ چائے بنا کر ایک کپ ضیغم کو پکڑایا اور دوسرا کپ زمان خان کو ان کے کمرے میں دے آئی۔ ضیغم ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔ اس نے خاموشی سے اپنا کپ اٹھایا اور کچن سے باہر آ کر برآمدے میں رکھی کرسی پہ بیٹھ کر دھیرے دھیرے چائے کے سپ لینے لگی۔ ضیغم بھی دوسری کرسی کھینچ کر اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔
“آپ آج جائیں گے؟”
مسکاء نے اسکی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔
“یہ بات تم میری جانب دیکھ کر بھی پوچھ سکتی ہو۔”
ضیغم کی نظر اس کے سفید نرم و گداز ہاتھوں پہ تھی۔
“اتنے عرصے میں ایک بار بھی تم نے مہندی نہیں لگائی۔”
مسکاء نے اسکی طرف دیکھا جو اسکے ہاتھوں پہ نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ چائے کا خالی کپ اس نے ساتھ ہی پڑی ٹپائی پہ رکھ دیا۔ ضیغم نے بھی کپ وہیں رکھ دیا۔
“تمھارے ہاتھ بہت خوبصورت ہیں مسکاء۔”
وہ اسکا دائیاں ہاتھ ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا۔
“ٹریننگ کب ختم ہو گی۔”
ضیغم نے خوشگوار حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔ تو اسکا اندازہ ٹھیک تھا۔ وہ اسکے جانے سے اداس تھی۔
“تم کہتی ہو تو نہیں جاتا۔”
اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ جہاں اسکا عکس جھلملانے لگا تھا۔ اسے لگا جیسے اسکا دل کسی نے مٹھی میں دبا کر چھوڑ دیا ہو۔ وہ زیادہ دیر اسکی آنکھوں میں نہ دیکھ سکا اور اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لئے ہوئے وہ کرسی سے پشت ٹکا گیا۔ مسکاء نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ خاموشی ان کے اردگرد گھومنے لگی اور ضیغم سوچ رہا تھا کہ وہ کتنی جلدی اس کے دل پہ قابض ہو گئی تھی۔ اسے کبھی نہیں لگا کہ وہ مسکاء سے ایسی محبت کرے گا جو قریب ہو تو آس پاس کچھ نہیں دکھائی دیتا۔ یہ سب اسکے لئے بہت انوکھا اور نیا تھا۔ اس نے اسکا ہاتھ اپنے سینے پہ رکھ کر آنکھیں بند کر لیں تھیں۔
مسکاء بھی شاید اسی کیفیت سے گزر رہی تھی جس سے وہ گزر رہا تھا۔ کتنا ہی وقت یونہی بیت گیا۔ مسکاء نے اسکی جانب دیکھا۔ اس کی نظر ضیغم کے نچلے ہونٹ کے قریب زخم پر پڑی۔ اس نے جھک کر بغور دیکھا۔
“یہ کیا ہوا؟”
اس نے زخم کو چھوا تھا۔ ضیغم نے آنکھیں کھول دیں۔
“کچھ نہیں۔”
وہ اسکا ہاتھ تھام کر بولا۔ مسکاء نے ہاتھ کھینچ کر اسے گھورا۔
“ارے بھئی۔۔ انگوٹھی سے زخمی ہو گیا۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑنے کے لئے آگے ہوا۔۔ مسکاء فورا کھڑی ہوئی۔
“لیکن آپ نے تو انگوٹھی نہیں پہنی ہوئی۔”
وہ تفتیشی انداز میں اسے گھورنے لگی۔
“باتور خان ملا تھا۔ اسی سے مڈبھیڑ ہو گئی تھی۔ لیکن تم فکر نہ کرو اچھی خاصی ٹھکائی کر کے آیا ہوں۔”
اسکے بتانے پہ وہ پریشان ہوئی۔
“کہیں اور بھی چوٹ آئی ہے؟”
مسکاء نے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں۔۔۔۔میں بالکل ٹھیک ہوں اور یہ معمولی زخم ہے ٹھیک ہو جائے گا۔”
وہ اسے پکڑنے کے لئے آگے بڑھا۔ وہ پیچھے ہوئی۔
“میں آئنٹمنٹ لے کر آتی ہوں۔”
وہ کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
“ارے بھئی میں ٹھیک ہوں تم اپنے سوالوں کے جواب تو لیتی جاو۔”
وہ اس کے پیچھے آیا۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ ٹیوب ہاتھ میں لئے باہر آ رہی تھی۔
“یہ لیں۔۔۔لگا لیں۔”
اس نے ٹیوب ضیغم کی طرف بڑھائی۔
“تم اپنے ہاتھ کا مرہم رکھ تو ٹھیک ہو جاوں گا۔”
اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔ وہ
ٹیوب کا ڈھکن کھولنے لگی۔ ضیغم دروازہ بند کر کے مزید قریب ہوا۔ وہ کریم انگلی پہ نکال کر زخم پہ لگانے لگی تو ضیغم نے اسکی کمر میں بازو حمائل کر کے فاصلہ مٹا دیا۔
“کل میں نے چلے جانا ہے۔ پرسوں سے ٹریننگ اسٹارٹ ہو گی۔”
وہ اسے بانہوں کے گھیرے میں لئے محبت چھلکاتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے ہوئے بتا رہا تھا۔
“کتنے ماہ کی ٹریننگ ہے؟”
اس نے دوا لگاتے ہوئے پوچھا۔
“نو ماہ کی۔”
وہ بولا تو اسکا ہاتھ وہیں رک گیا۔۔اتنا عرصہ۔۔۔۔وہ تو سمجھ رہی تھی زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی ہو گی اور یہ تین ماہ بھی اسے بنا دیکھے گزارنا اسے کٹھن ترین کام لگ رہا تھا۔
“نو مہینے تو بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ میں کیسے۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کہ ہم۔۔۔۔۔۔”
وہ اپنے دل کی حالت اس سے مخفی نہ رکھ سکی تو رخ موڑ گئی۔ اس کی بات سے ضیغم کے دل میں پھول کھلنے لگے۔
“تم مجھے مس کرو گی؟”
ضیغم نے اسکے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں تو۔۔۔۔۔بابا ہیں نا یہاں۔”
اس کے جواب پہ وہ مسکرا دیا۔
“مسکاء۔۔۔۔!!”
وہ خاموش رہی۔۔۔صرف اپنے اردگرد اسکی خوشبو کو محسوس کرنے لگی۔
“تم مجھے بہت یاد آو گی۔۔”
اس نے گہری سانس کھینچتے ہوئے اسکی مہک کو اپنے اندر اتارا تھا۔
“مجھے بھی۔۔۔”
وہ بھی دھیرے سے اعتراف کر گئی۔
__________________________________
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *