Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode18
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode18
Ghag By Mahwish Urooj Episode18
قادر خان کا ضیغم کے ہاتھ لگ جانا سب کچھ ختم ہونے کے مترادف تھا۔اس سے پہلے کہ وہ ہر اس چیز سے ہاتھ دھو بیٹھتے جو ان کی دسترس میں تھی۔۔انھیں کچھ ایسا کرنا چاہیئے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔پہلے تو انھوں نے سوچا تھا کہ ضیغم کو اپنا لیں مگر اب جبکہ وہ ماضی میں ہوئی ہر بات سے واقف تھا اسے اپنے دام میں کرنا بہت مشکل تھا۔قادر خان کا نام اور اسکے بارے میں اتنی انفارمیشن۔۔۔۔۔۔۔یقینا زمان خان نے ہی اس راز سے پردہ اٹھایا ہوگا۔۔
ان کا ارادہ قادر خان کو منظر عام سے ہٹانا نہیں تھا مگر دراب خان اور خزیمن کے نکاح کے وقت دراب خان کا دوست شہر سے کسی میڈیا کے بندے کو بھی ساتھ لایا تھا۔اس لئے انھیں ڈر تھا کہ کہیں پروفیسر محمد عقیل ان کی بات کا یقین نہ کرے اور خود ان سے ملنے کے لئے گاوں آجائے تو وہ اس معاملے کو سنبھال نہ سکیں گے۔کیونکہ اگر قادر خان پکڑا گیا تو اس بات کے چھپنے کے چانسز ایک پرسنٹ بھی نہیں ہیں کہ وہ حقیقت پولیس سے چھپائے گا کیونکہ گاوں والے اس بات سے واقف تھے کہ یہ قتل قادر خان نے ہی اپنا بدلہ لینے کے لئے کیا تھا۔لہذا انھوں نے قادر خان کا منظر سے ہٹ جانا ہی بہتر سمجھا۔اپنی طرف سے تو انھوں نے بہت محتاط طریقے سے یہ جوا کھیلا تھا اور زمان خان کے وعدے پہ بھی انھیں مکمل بھروسہ تھا کیونکہ وہ جانتے تھے زمان خان کبھی بھی ضیغم کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالے گا۔اس لئے وہ اسکی جانب سے بےخوف تھے۔مگر اب حالات پھر سے انھیں اسی سمت لے آئے تھے جہاں سے بھاگنے میں انھوں اپنی پوری قوت صرف کر دی تھی۔
اب اس نہج پہ انھیں اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ انھوں نے زمان خان کی بات مان کر اپنے پیر پہ خود کلہاڑی ماری ہے۔اسی وقت ضیغم سے بھی جان چھڑا لیتے تو آج انھیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ان کے اندر بار بار یہ احساس بیدار ہو رہا تھا کہ وہ اکیلے پڑتے جا رہے ہیں۔ان کے بچے اپنی خوشیوں میں مگن ہیں۔بیوی کو ان کی پرواہ نہیں اور ضیغم کا خوف ان دل و دماغ پہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔انھیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔وہ اس دوراہے پہ کھڑے تھے جہاں سے نہ آگے جایا جا سکتا تھا اور نہ پیچھے۔۔۔
قادر خان ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔انھوں نے اسے بہت محفوظ مقام پہ رکھا تھا مگر اب وہ جگہ بھی اب انھیں محفوظ نہیں لگ رہی تھی۔ضیغم کے انداز سے انھیں لگ رہا تھا کہ وہ بہت جلد اس تک پہنچ جائے گا۔اب انھیں پہلی فرصت میں قادر خان کو کسی کے بھی علم میں لائے بغیر وہاں سے نکال کر کہیں اور پہنچانا ہو گا۔اس جگہ کا بھی شکور کے علاوہ کسی کو علم نہیں تھا اور شکور کو ضیغم نے بند کر رکھا تھا۔اگر اسے شک ہو گیا کہ شکور اس بارے میں جانتا ہے تو ضیغم کا قادر خان تک پہنچنا اور بھی آسان ہو جائے گا۔
“اتنی آسانی سے تو میں ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہوں میر ضیغم خان۔۔۔بےشک تم میرا ہی خون ہو مگر تم اس باپ کے بیٹے ہو جسے میں نے ایک ہی جھٹکے میں مار گرایا تھا۔تم نے اگر یہ جنگ شروع کر ہی دی ہے تو میں بھی پیچھے نہیں رہوں گا۔اب میں تم سے اپنے طریقے سے لڑوں گا اور میرے طریقے میں چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری ہی ہوتی ہے۔”
وہ چہرے پہ گہری سوچ کی پرچھائیاں لئے ہوئے خود سے بولے تھے۔
تھوڑی دیر بعد انھوں نے گلاب خان کو بلا کر کہا کہ وہ ابھی اسی وقت زمان خان کو بلا کر لائے۔گلاب خان کے جانے کے بعد انھوں موبائل نکال کر ایک کال ملائی اور فون کان سے لگا لیا۔کچھ دیر بات کرنے کے بعد انھوں نے فون بند کر دیا۔اب وہ اپنا آخری داو کھیلنے جا رہے تھے جس کا انھیں پورا یقین تھا کہ جیت انہی کی ہو گی۔
“خان جی۔۔! گلاب خان زمان خان کو بلا لایا ہے۔وہ دونوں اس وقت حجرے میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔گلاب خان آپ کو حجرے میں بلا رہا ہے۔”
ماہ گل دروازے پہ ناک کرتی کمرے میں آئیں تھیں۔
“ٹھیک ہے۔۔۔تم جاو۔۔”
وہ سر ہلا کر چلی گئیں۔ان کے جانے کے بعد وہ اپنے گرد گرم چادر اچھی طرح لپیٹ کر کمرے سے باہر آ گئے۔ان کا ذہہن اس وقت مختلف ذہریلی سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔جب وہ حجرے میں داخل ہوئے تو زمان خان ان کا انتظار کر رہے تھے۔انھیں آتا دیکھ کر زمان خان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔میرسربلند خان نے گلاب خان کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا جو ابھی تک وہیں موجود تھا۔وہ ان کا اشارہ سمجھ کر وہاں سے چلا گیا۔
“خان جی۔۔۔۔آپ نے مجھے بلایا تھا۔”
زمان خان نے انھیں سپاٹ چہرے کے ساتھ چارپائی پہ براجمان ہوتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔زمان خان اب تک کھڑے تھے۔
“ہاں۔۔۔بیٹھو۔۔”
وہ گاو تکیے سے ٹیک لگاتے ہوئے بولے۔زمان خان ان کے بالکل سامنے بیٹھ گئے۔کچھ پل یونہی گزر گئے۔میرسربلند خان کی نظریں فرش پہ ٹکی تھیں۔کچھ دیر پہلے سپاٹ دکھنے والے چہرے پہ اب گہری سوچوں کا سایہ لہراتا دکھائی دے رہا تھا۔زمان خان نے ان کی غیرمعمولی خاموشی کو محسوس کیا۔وہ دل ہی دل میں گھبراہٹ کا شکار تھے۔بظاہر تو سب کچھ ٹھیک ہوتا دکھائی دے رہا تھا مگر اب بھی وہ پوری طرح مطمئن نہیں تھے۔انھیں اس بات کا یقین تھا کہ میرسربلند خان ہاتھ میں آئی لگامیں چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھے۔دوسری جانب گاوں کے کچھ لوگ باتور خان کو اکسا رہے تھے۔اسے بےغیرتی کا طعنہ دینے لگے تھے۔جس کی وجہ سے وہ دہکی ہوئی آگ کیطرح سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے کر جلا کر خاکستر کرنا چاہتا تھا۔یہ لوگ ایسا ناسور تھے جو علاج کے باوجود مندمل نہیں ہوتا اور پھیلتا ہی جاتا ہے۔
“خان جی۔۔۔میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے۔”
زمان خان نے فضول خیالات کو جھٹک کر ان سے پوچھا۔
“زمان خان تم نے ہم سے کیا ہوا وعدہ توڑ دیا ہے۔اب ہم بھی اپنے وعدے سے آزاد ہیں۔”
میرسربلند خان نے زمان خان کی طرف دیکھا۔ان کی بےتحاشا سرخ آنکھیں زمان خان کو کسی انہونی کا احساس دلانے لگیں تھیں۔
“کون سا وعدہ۔۔؟”
زمان خان نے اپنے لہجے کو پرسکون رکھا۔
“وہی وعدہ جو تم نے ہمارے ساتھ اس حجرے کے پچھلی جانب کیا تھا۔۔۔مجھے حیرانی ہے کہ اتنی جلدی تم بھول کیسے گئے۔تم تو اس احسان کو بھی بھول گئے جو ہم نے ضیغم کو تمھارے حوالے کر کے کیا تھا۔مگر اب جبکہ تم اپنا وعدہ بھول گئے اور ضیغم کے سامنے ساری حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے تو ہم بھی وہی کریں گے جو ہم نے کہا تھا۔”
میرسربلند خان کا بےلچک لہجہ زمان خان کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑا گیا۔۔۔
_________________________________________
وہ ابھی تھانے میں داخل ہوا تھا۔انسپیکٹر عمر خان اسے دیکھ کر اس کے پاس آیا تھا۔
“سر۔۔! عمر خان نے سلیوٹ کیا۔
“سب ٹھیک ہے؟”
“جی سر سب ٹھیک ہے۔۔۔لیکن۔۔”
انسپیکٹر عمر خان نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔ضیغم کی نظر ایس۔ایچ۔او طارق پہ ٹکی ہوئیں تھیں جو اس وقت اپنے سامنے کوئی فائل کھولے اردگرد سے بےخبر اسکے مطالعے میں غرق تھا۔صاف ظاہر تھا کہ خود کو بےخبر ظاہر کرنے کی بھرپور ایکٹنگ ہو رہی تھی۔ضیغم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے ایس۔ایچ۔او طارق کی جانب اشارہ کیا۔
“یہ صاحب ٹھیک ہیں نا۔۔۔کوئی بہتری؟”
ضیغم نے انسپیکٹر عمر خان سے پوچھا۔آواز اس نے دھیمی رکھی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایس۔ایچ۔او طارق خان کے کان یہیں لگے ہونگے۔
“یس سر۔۔۔۔میرے ہوتے ہوئے آپ اس سے بےفکر رہیئے۔”
عمر خان نے آفس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ضیغم سر ہلاتے ہوئے آفس کی طرف بڑھ گیا۔عمر خان اسکے پیچھے ہی تھا۔
“میں نے آج ایک ضروری کام سے جانا تھا۔تم نے آج ہی ملنے کو کہا تو آنا پڑا۔۔بولو کیا بات ہے؟”
ضیغم نے کیپ اتار کے ٹیبل پہ رکھی اور اسے بھی اشارہ کرتے ہوئے بیٹھ گیا۔
“سر۔۔! شکور کا کیا کرنا ہے۔آپ کے کہنے پہ میں کوئی ایف۔آئی۔آر بھی درج نہیں کی۔میں زیادہ دن اسے حوالات میں نہیں رکھ سکتا بنا کسی کیس کے۔آپ کہیں تو۔۔۔۔۔”
انسپیکٹر عمر خان نے اسے تھانے بلانے کا مقصد بتایا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔مجھے اس سے کچھ پوچھنا ہے اگر تسلی بخش جواب دے دیا تو پھر بتاوں گا کہ اسکا کیا کرنا ہے۔”
ضیغم اٹھ کر باہر نکل گیا۔
“لگتا ہے بہت دل لگ گیا ہے تمھارا یہاں۔۔کوئی واویلا نہیں۔۔کوئی شور نہیں۔۔”
ضیغم حوالات میں بند شکور کو بغور دیکھ رہا تھا۔وہ سر گھٹنوں میں دئیے بیٹھا تھا۔اسکے بلانے پہ بھی شکور کے ساکت وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی۔
“کھولو۔۔۔”
ضیغم نے پاس کھڑے سپاہی سے تالا کھولنے کو کہا۔اس کے کہنے پہ الرٹ کھڑے سپاہی نے تالا کھول دیا۔سپاہی نے اسے اندر جانے کا راستہ دیا اور خود ایک جانب کھڑا ہو گیا۔شکور نے کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں کی۔وہ ایک پیر پہ دباو ڈال کر شکور کے قریب بیٹھ گیا۔
“میں تم سے مخاطب ہوں۔۔۔مر گئے ہو کیا؟”
ضیغم نے ہاتھ سے معمولی سا دباو ڈال کر اسے دھکیلا۔جس سے وہ اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکا اور ایک طرف لڑھک گیا۔
“کیا مسئلہ ہے۔۔اب یہاں تو سکون سے رہنے دو۔”
شکور واپس سیدھا ہوتے ہوئے بولا۔
“یہ تھانہ ہے۔۔تمھارے خان جی کا حجرا نہیں جہاں تم یہ ایکٹنگ کرو گے۔سیدھی طرح جواب دو جو پوچھوں گا۔”
ضیغم نے اسے بازو سے پکڑ اپنی جانب کھینچا۔
“کیا پوچھنا چاہتے ہو؟”
شکور نے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کرانا چاہا مگر ضیغم کی گرفت مضبوط تھی۔
“اگر تم مجھے سچ سچ بتا دو تو میں تمھیں چھوڑ دوں گا۔”
ضیغم کی بات پہ شکور نے اسکی جانب دیکھا۔
“ایسا کیا پوچھنا چاہتے ہو۔۔۔”
شکور کے چہرے پہ حیرانی تھی۔
“قادر خان کہاں ہے؟”
ضیغم نے اسکے چہرے پہ نظریں گاڑھیں۔ضیغم نے غور کیا کہ قادر خان کا نام سن کر اسکے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔اس نے اپنا تیر نشانے پہ لگنے پہ خود کو شاباش دی۔اس نے اب تک اسی وجہ سے اسے پکڑ رکھا تھا کہ وہ میرسربلند خان کا خاص آدمی تھا اور بیرونی کاموں میں آگے آگے رہتا تھا۔اسکا شہر میں بھی آنا جانا رہتا تھا۔ضیغم کو شک تھا کہ قادر خان شہر میں کہیں روپوش ہے۔اس لئے شکور اسکے لئے آخری کنجی تھا جس یہ وہ یہ تالا کھول سکتا تھا۔
“میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم نے اور تمھارے خان جی نے اسے ایک عرصے سے شہر میں ہی کہیں چھپا رکھا ہے۔تم اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔۔۔اگر آرام سے بتا دو گے تو تمھارے حق میں بہتر ہو گا ورنہ اپنا حدف پورا کرنے کے میرے پاس اور بھی بہت سے طریقے ہیں اور تم تو اگلے چند منٹوں میں سب کچھ اگل دو گے۔”
ضیغم نے شرٹ کی آستینیں فولڈ کیں۔
“کون قادر خان۔۔۔۔۔؟؟”
اب اسکے چہرے پہ قادر خان سے شناسائی کی ایک بھی رمق باقی نہیں تھی۔۔وہ خود کو سنبھال چکا تھا۔
“عارف خان۔۔۔!!”
ضیغم نے حوالات سے باہر کچھ فاصلے پہ کھڑے عارف خان کو بلند آواز میں پکارا۔
“جی سر۔۔۔!”
وہ تیزی سے اندر آیا۔
“یہ دو مجھے اور تم جاو۔”
اس نے اسکے ہاتھ میں پکڑے موٹے سے ڈنڈے کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔عارف خان نے ڈنڈا اسکے ہاتھ میں دیا اور خود باہر آ گیا۔ڈنڈا دیکھ کر شکور کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
“سیدھی طرح بتا رہے ہو یا۔۔۔۔۔”
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
“میں نے کہا نا کہ میں کسی قادر خان کو نہیں جانتا۔”
شکور نے صاف انکار کیا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔”
ضیغم نے کھڑے ہو کر ڈنڈے پہ گرفت مضبوط کی اور ہاتھ ہوا میں بلند کیا۔
“بتاتا ہوں۔۔۔بتاتا ہوں۔۔”
اس سے پہلے کہ ڈنڈا اسکی پیٹھ پہ بجتا شکور اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے کچھ فاصلے پہ جا کر کھڑا ہو گیا۔ ضیغم نے ہاتھ نیچے کیا اور اسکی جانب بڑھا۔
“بولو۔۔۔۔”
ضیغم نے آستینیں سیدھی کیں۔
“وہ شہر میں ہے۔۔۔۔۔”
شکور کی نظر اسکے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے پہ تھیں۔
“وہ شہر میں ہے۔۔۔یہ تو میں بھی جانتا ہوں۔تم یہ بتاو کہ اسے شہر میں کہاں چھپا رکھا ہے۔”
ضیغم نے اس سے پوچھا۔
“مجھے صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ وہ شہر میں ہے۔اس کے علاوہ میں کچھ نہیں جانتا۔”
شکور نے اسے یقین دلایا مگر ضیغم اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔
“مجھے جھوٹ سخت ناپسند ہے۔”
ضیغم نے اسے گریبان سے پکڑ کر دیوار کی جانب دھکیلا۔شکور توازن برقرار نہ رکھ سکا اور دیوار سے ٹکرا کر نیچے گرگیا۔ضیغم ایک بار پھر ڈنڈا اٹھا کر اسکی جانب بڑھا تھا۔شکور ابھی سنبھل نہ پایا تھا کہ ضیغم کے ایک ہی وار سے دہرا ہو گیا۔اس سے پہلے کہ وہ اس پہ مزید اپنا غصہ نکالتا شکور بول پڑا۔
“خان جی کی شہر والی حویلی میں۔۔۔”
شکور اپنی پیٹھ ملنے لگا تھا۔
“عارف خان اس پہ کڑی نظر رکھنا۔۔کوئی بھی اس سے ملنے نہ پائے۔”
ضیغم بلند آواز میں کہتا حوالات سے باہر نکلا۔
“تم نے کہا تھا کہ تم مجھے چھوڑ دو گے۔۔تم ایسے نہیں جا سکتے۔۔۔میر۔۔۔۔”
شکور اسکی بات سن کر چیخنے لگا تھا جبکہ ضیغم نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔
“اوئے۔۔۔۔چپ کر کے بیٹھ جا۔۔۔اب آواز نہ آئے تیری۔”
عارف خان نے ڈنڈا جیل کی سلاخوں پہ مار کر اسے دیکھا۔شکور اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر خاموش ہو گیا۔اب یہاں سے نکلے گا تو میرسربلند خان اسے نہیں چھوڑے گا۔اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔لیکن اب کیا ہو سکتا تھا سوائے سر پکڑ کر بیٹھنے کے اور اس نے یہی کیا تھا۔
_________________________________________
وہ بنا کسی کو بتائے پشاور آ گیا تھا۔ڈی۔آئی۔جی صاحب سے مل کر اس نے تمام تفصیل بتائی۔وہ ان سے اجازت چاہتا تھا مگر تمام تفصیل سننے کے بعد انھوں نے اسے ابھی ایسا کرنے سے منع کیا کیونکہ اس کیس کی کوئی ایف۔آئی۔آر درج نہیں تھی۔
“یہ اتنا آسان نہیں ہے جبکہ تمھارے بقول وہاں کے تھانے میں اسکا کوئی ریکارڈ بھی نہیں۔ہم اس کیس کو ری۔اوپن بھی نہیں کر سکتے کیونکہ کوئی کیس ہی نہیں ہے۔اوپر سے تم الزام بھی کس پہ لگا رہے ہو جو کہ ایک سیاسی شخصیت ہے اور تمھارے تایا بھی ہیں۔
ڈی۔آئی۔جی صفدر اسے سمجھاتے ہوئے بولے۔
“مگر سر میں اپنے والدین کے قاتلوں کو اسطرح نہیں چھوڑ سکتا۔ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔انھیں اس رسم کی بھینٹ چڑھایا گیا تھا۔یہ سب برداشت کرنا میرے لئے بہت مشکل ہے۔”
ضیغم کے چہرے پہ تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔
“میں تمھاری فیلنگز سمجھتا ہوں مگر اس مسئلے کو ہم اس طرح ہینڈل نہیں کر سکتے۔”
انھوں نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔وہ ان کی جانب خاموشی سے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔
وہاں سے نکلتے ہوئے وہ یہ سوچ چکا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔اس نے یہ کام اکیلے ہی کرنا تھا۔ارحم سے ملنے کا پلان کینسل کرتا وہ میرسربلند خان کی رہائش گاہ آیا۔دروازے پہ ایک بڑا سا تالا لگایا گیا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے کافی عرصے سے یہاں کوئی نہیں آیا ہو۔۔میرسربلندخان کی شہر میں دو رہائش گاہیں تھیں۔ایک ڈیفینس میں اور دوسری یہ جو ایسے علاقے میں تھی جہاں اتنی آبادی نہیں تھی۔ اس نے بنگلے کا چاروں جانب سے جائزہ لیا۔بنگلے کی پچھلی جانب بھی ایک چھوٹا سا داخلی دروازہ تھا۔دروازہ اندر سے بند تھا جس کا مطلب تھا کہ جو کوئی بھی یہاں رہتا ہے وہ آنے جانے کے لئے یہ دروازہ استعمال کرتا ہے۔آس پاس کافی خاموشی تھی۔وہ اردگرد کا اچھے سے جائزہ لینے کے بعد وہ وہاں سے پروفیسر محمد عقیل کے گھر آیا تھا۔وہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور گلالئی کیس میں کامیابی حاصل کیلئے انھوں نے اسے مبارکباد دی۔۔کچھ وقت ان کے پاس گزار کر وہ فلیٹ آ گیا تھا۔اسے رات کو یہاں سے نکلنا تھا۔انسپیکٹر عمر خان کو وہ اپنے اگلے پلان کے بارے میں بتا چکا تھا۔اس نے اسکی ہمت بڑھائی۔اسے تمام تفصیل سے آگاہ کرنے کے بعد وہ تیاری کرنے لگا۔رات نو بجے کا انتظار اسکے لئے بہت کٹھن ثابت ہو رہا تھا۔
وہ سستی سے بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا۔اسکا ارادہ تو تھوڑی سی نیند لینے کا تھا مگر وہ سو نہیں پا رہا تھا۔جیب سے موبائل نکال کر وہ ان تصویروں کو بغور دیکھنے لگا جو میرسربلندخان کے بنگلے کی تھیں۔ہر اینگل سے اس نے کافی پکچرز بنائی تھیں۔موبائل کی اسکرین کو ٹچ کرتے ہوئے وہ کچھ دیر تصویر کو غور سے دیکھتا اور پھر اگلی تصویر کی جانب بڑھتا۔گھر کی تصویریں ختم ہو گئیں اور مسکاء کی پکچرز جو اس نے ٹریننگ پہ جانے سے پہلے اسی روم میں کھینچی تھیں دیکھنے لگا۔جس سے اسکا دھیان بٹ گیا۔وہ ہر تصویر پہ رک کر اسے زوم کرتا اسکے ایک ایک نقش کو دل میں اتار رہا تھا۔اس کا دل شدت سے اس سے بات کرنے کو چاہنے لگا۔اس نے مسکاء کا نمبر ملا کر موبائل کان سے لگایا۔
“ہیلو۔۔! آپ کہاں ہیں ضیغم۔۔؟
پہلی ہی بیل پہ فون اٹھا لیا گیا۔۔مسکاء کی آواز سن کر اس کے جلتے دل پہ سکون کی پھوار برسنے لگی۔
“میں آپ کے دل میں۔۔۔۔”
وہ تکیے سے ٹیک لگاتا ریلیکس ہو کر لیٹ گیا۔
“ضیغم میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔آپ کہاں ہیں اس وقت۔۔۔۔۔؟”
مسکاء کی سنجیدہ آواز سنائی دی۔
“میں بھی مذاق نہیں کر رہا۔۔”
ضیغم نے لہجے میں سنجیدگی سمو کر کہا۔
“آپ ٹھیک سے بات نہیں کر سکتے تو میں فون بند کر رہی ہوں۔”
وہ دھمکی دینے لگی۔
“کیا یار۔۔۔۔تمھیں تھوڑی سی لفٹ کیا کرائی تم تو بیوی جیسا بی ہیو کرنے لگی ہو۔۔زیادہ سر پہ نہ ہی چڑھاتا تو اچھا تھا۔”
وہ اسے چھیڑنے سے باز نہ آیا۔
“کہاں ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔؟”
مسکاء نے اسکے کان کا پردہ پھاڑنے کی کوشش کی۔ضیغم نے موبائل کو کان سے کچھ فاصلے پہ کیا۔
“میں آپکے دل، گردے، پھیپھڑے، دماغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اسے ایک ایک حصہ گنوانے لگا۔۔۔۔آگے بھی بولتا مگر وہ کال کاٹ چکی تھی۔اس نے ہنستے ہوئے دوبار کال کی۔
“کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟”
مسکاء پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولی تھی۔
“ارے واہ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کہنے۔۔ہماری بلی اور ہم ہی کو میاوں میاوں۔۔۔”
وہ لبوں پہ پھیلتی مسکراہٹ کو نہ روک سکا جبکہ وہ خاموش رہی۔
“مسکاء۔۔۔۔۔!”
ضیغم نے اسکی خاموشی محسوس کرتے ہوئے اسے پکارا تھا۔
“میں شہر آیا ہوا ہوں کسی کام کے سلسلے میں۔۔رات تک آ جاوں گا۔”
وہ خاموش رہی تو وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔
“کم از کم آپ بتا کر تو جاتے نا۔۔میں اور بابا یہاں کتنے پریشان ہیں۔۔آپ کو کچھ احساس ہے۔۔”
اسکے لہجے میں پریشانی محسوس کر کے وہ شرمندہ ہوا۔اسے انھیں بتا کر آنا چاہئیے تھا۔
“اور اتنی رات کیوں ہے واپسی۔۔۔۔؟”
مسکاء نے اس کے اتنی رات کو آنے پہ اعتراض کیا۔
“کچھ کام ہے نا۔۔۔بتایا تو ہے۔”
ضیغم اس کے انداز پہ مسکرا دیا۔
“ٹھیک ہے۔۔اپنا خیال رکھیں۔۔اللہ حافظ۔”
اسے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتی وہ بولی۔
“اچھا بھئی۔۔۔۔لیکن یہ اللہ حافظ کس خوشی میں۔۔ابھی تو ٹھیک سے بات بھی نہیں ہوئی۔۔”
وہ پھر پٹری سے اترنے لگا۔
“اب آپکو کام نہیں ہے۔۔۔؟”
مسکاء نے مسکراہٹ دبائی۔
“آپ بھی تو ایک کام ہیں۔۔۔۔”
وہ اسے بھڑکانے والے لہجے میں بولا تھا اور وہ بھڑک بھی گئی۔
“کیا۔۔۔۔کیا۔۔؟؟میں کام ہوں۔۔۔۔۔۔؟”
اس نے اونچی آواز میں پوچھا۔
“کچھ عشق کیا کچھ کام کیا۔۔۔۔
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔۔”
ضیغم کا بھاری لہجہ اسکے دل تک راستہ بنانے لگا۔ایک مدھر سی مسکراہٹ مسکاء کے گداز لبوں پہ ٹھہر گئی۔۔
“عشق فیض احمد فیض نے چھوڑا ہے۔۔میں نہیں چھوڑنے والا۔۔۔نہ تمھیں نہ تمھارے عشق کو۔۔”
اسکی بات سن کر مسکاء ہنس دی۔۔
“میرا بھی یہی ارادہ ہے۔۔”
مسکاء کی کھنکتی ہنسی اسکے کانوں رس گھولنے لگی۔۔
“سنو اے ہم سفر میری
مجھے تم سے یہ کہنا ہے
مجھے تم سے محبت تھی
مجھے تم سے محبت ہے
میرے دن رات میں تم ہو
میری ہر بات میں تم ہو
خوشی کے جتنے موسم بھی
تمہارے ساتھ دیکھے ہیں
میرے جیون کا حاصل ہیں
تمہارے نام کے جگنو،
تمہارے لمس کی خوشبو،
تمہارے پیار کا جادو
میری رگ رگ میں شامل ہیں۔۔
میں اپنی ذات کے چاہے کسی موسم میں رہتا ہوں۔۔
ہر اک موسم تمہارا ہے
تمہارا ساتھ پیارا ہے
میرے ہر پل میں رہتی ہو
جو میرا دل ہے پاگل سا
اسی پاگل میں رہتی ہو
سنو! تم سے یہ کہنا ہے
کہ تم میری محبت سے کبھی مت بدگماں ہونا
کہ میری زندگانی کے سبھی رستے جو سچ پوچھو
تمہاری سمت آتے ہیں۔۔
میں تم سے دور رہ پاؤں یہ اب ممکن نہیں جاناں۔۔!!
سنو۔۔!
عہد محبت کی مجھے تجدید کرنی ہے
پرانی بات ہے لیکن مجھے پھر بھی یہ کہنی ہے
مجھے تم سے محبت تھی، مجھے تم سے محبت ہے
ہر اک موسم تمہارا ہے
تمہارا ساتھ پیار ہے
سنو اے ہمسفر میری۔۔۔!!”
ضیغم کی محبت خوشبو کی مانند اسکے اردگرد ٹھہرنے لگی تھی۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے آنکھیں موند گئی۔۔۔
_________________________________________
اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں اس نے گاڑی کو سڑک کی ایک جانب کھڑا کیا۔یہ بنگلے کی پچھلی جانب تھی۔سامنے سے جانا اس نے مناسب نہیں سمجھا۔اس وقت یہ علاقہ نسبتا خاموش اور سنسان سا لگ رہا تھا۔وہاں موجود اکا دکا گھروں میں بھی موت کی سی خاموشی تھی۔وہ ٹارچ اور پسٹل جیب میں رکھتا آگے بڑھا۔آس پاس گہری نظر رکھتا وہ آگے بڑھ رہا تھا۔بنگلے کے قریب پہنچ کر وہ دیوار پہ چڑھنے لگا۔دیوار پہ لگے جنگلے کی مدد سے وہ باآسانی دیوار پہ چڑھ گیا۔اس نے ایک بار پھر پیچھے دیکھا اور نیچے چھلانگ لگا دی۔اس جانب بھی ایک چھوٹا سا لان تھا۔دیوار کے ساتھ درخت بھی اگائے گئے تھے۔بالکل اندھیرا ہونے کے باعث اسے ٹھیک سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔صرف کچھ ہی فاصلے پہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں بلب کی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔وہ دھیرے سے آگے بڑھا تھا۔یہ کمرا باقی گھر سے بالکل الگ بنا ہوا تھا۔وہ دروازے کے قریب پہنچ گیا۔دروازہ اندر سے بند تھا۔اس نے دروازے پہ ناک کیا۔
“خاور۔۔۔۔کیا بات ہے؟”
اندر سے آواز آئی۔۔۔
“قادر خان۔۔۔میں ہوں۔۔۔شکور۔۔۔خان جی آئے ہیں تم سے ملنے۔”
ضیغم نے آواز کو کسی حد تک تبدیل کیا۔
“کیا۔۔۔؟؟خان جی آئے ہیں؟”
قادر خان نے فورا دروازہ کھول دیا۔اس سے پہلے کہ وہ حقیقت سے واقف ہوتا ضیغم اسے دھکیلتا اندر داخل ہو گیا۔قادر خان سمجھ نہیں پایا تھا اور حیرانی سے آنے والے کو دیکھنے لگا تھا۔ضیغم نے دیکھا وہ ایک سانولی رنگت اور درمیانے قد کا شخص تھا۔عمر پچاس سے پچپن کے لگ بھگ تھی۔صحت بھی کچھ خاص نہیں تھی۔
“کون ہو تم۔۔۔۔؟”
وہ ضیغم کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔اچانک اسکے ذہہن میں جھماکا ہوا۔
“تم۔۔۔۔دراب خان کے بیٹے؟”
قادر خان کا اتنا کہنا تھا کہ ضیغم نے ہاتھ میں پکڑا رومال اسکے ناک پہ رکھا۔کچھ ہی پلوں میں اس نے ہاتھ پیر ڈھیلے چھوڑ دیئے۔اب اس میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ ضیغم کا مقابلہ کرسکتا۔ضیغم نے اسکے بےہوش وجود کو اٹھایا اور باہر کی جانب لپکا۔گاڑی کے قریب پہنچ کر اس نے اسے گاڑی میں لٹا دیا اور خود پھرتی سے ڈرائیونگ سیٹ پہ آیا۔
کچھ دیر میں گاڑی گاوں جانے والی سڑک پہ تیزی سے گامزن تھی۔۔
عمر خان کو اس نے بتا دیا تھا۔وہ اسکا انتظار کر رہا تھا۔قادر خان اب تک بے ہوش تھا۔رات بارہ بجے کے قریب وہ گاوں میں داخل ہوا۔گاڑی کا رخ تھانے کی جانب تھا۔تھانے پہنچ کر اس نے قادر خان کو انسپیکٹر عمر خان کے حوالے کیا۔ایس۔ایچ۔او طارق خان کے چہرے پہ حیرانی تھی۔
“سر۔۔۔!! یہ کون ہے؟”
ضیغم اور عمر خان نیم بے ہوش قادر خان کو اندر لے کر آئے۔
“عمر خان کے ساتھ مل کر اسے اندر لے جاو اور شکور کے ساتھ حوالات میں بند کر دو۔۔باقی باتیں صبح ہوں گی۔”
ضیغم ایس۔ایچ۔او طارق خان کا سوال نظرانداز کرتے ہوئے بولا۔وہ اسکے کہنے پر سر ہلاتا آگے بڑھا۔وہ دونوں قادر خان کو لے آگے بڑھے۔ضیغم ان کے پیچھے ہی تھا۔عارف خان نے انھیں آتے دیکھ کر تالا کھولا۔دونوں نے مل کر قادر خان کو اندر لٹا دیا۔شور سن کر سوئے ہوئے شکور کی آنکھ کھل گئی۔وہ آنکھیں ملتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“شکور۔۔۔۔تمھارے ساتھی کو لے آیا ہوں میں۔”
ضیغم نے قادر خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شکور سے کہا۔شکور نے مدھم لائٹ کی روشنی میں نیچے لیٹے ہوئے شخص کو غور سے دیکھا۔قادر خان کو دیکھ کر اسکی ادھ کھلی آنکھیں پوری کھل گئیں۔وہ حیرانی سے ضیغم کو دیکھنے لگا۔
“یہ۔۔۔یہ تو قادر خان ہے۔”
وہ پریشان چہرہ لئے قادر خان کو دیکھ رہا تھا جو بےسد نیچے زمین پہ پڑا ہوا تھا۔
“ہاں۔۔۔قادر خان۔۔۔تم اسکے بغیر خود کو ادھورا محسوس کر رہے ہو گے تو میں نے سوچا تمھاری تنہائی دور کر دوں۔”
ضیغم اس پہ ایک طنزیہ ہنسی اچھال کر وہاں سے چلا گیا۔باہر وہ دونوں اسکے منتظر تھے۔
“ابھی یہ بات باہر نہیں نکلنی چاہئیے جب تک میں نہ کہوں۔”
وہ دونوں سے کہتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔وہ دونوں کافی دیر تک وہیں کھڑے رہے جبکہ تھانے میں اب خاموشی کا راج تھا۔
_________________________________________
جاری ہے۔۔۔۔۔
