Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode01
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode01
Ghag By Mahwish Urooj Episode01
باتور خان پسٹل ہاتھ میں لیے تیز تیز قدم اٹھاتا رحم دین کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سرخ آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ تیور ایسے تھے جیسے ہر چیز کو آگ لگا ڈالے گا۔ رشید اور اقبال اس کے ساتھ تھے۔وہ دونوں مسلسل اس کے غصے کو بڑھاوا دے رہے تھے اور راستے میں ملنے والے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ذبردستی گھسیٹ رہے تھے۔ باتور خان کے رعب و دبدبے سے پورا گاوں تھر تھر کانپتا تھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس کے سامنے کسی بات سے انکار کرے۔ وہ جو چاہتا دھڑلے سے کرتا پھرتا۔ وہ میر سربلند خان کا خاص آدمی تھا۔ جن کی مرضی کے بغیر گاوں میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔
گاوں کے لوگ جانتے تھے کہ اس کی منزل کون سی ہے اور اسکا مقصد کیا ہے۔کچھ دن پہلے بھی وہ رحم دین کے گھر کے باہر ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا جس پہ رحم دین اس کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کروانے گیا تھا۔ لیکن آج اس کے قدموں کی دھمک ہی ان کے دل لرزا رہی تھی۔ رحم دین جانتا تک نہیں تھا کہ کون سی قیامت لمحہ بہ لمحہ اس کے گھر کے قریب آتی جا رہی ہے۔ تنگ پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے اس کی نظر تھوڑی ہی دور نظر آتے رحم دین کے کچے مکان پر تھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ کھڑے تھے شاید انھیں بھی خبر ہو چکی تھی۔ بس ایک رحم دین ہی آنے والی قیامت سے بےخبر تھا۔ پہنچتے ہی اس نے گھر کے دروازے پہ اپنے بھاری جوتے کے نشان چھوڑے اور سامنے جا کھڑا ہوا۔ رحم دین گھر سے باہر آیا تو گھر کے باہر موجود لوگوں دیکھ کر حیران ہوا۔
اچانک فضاء میں چار فائر ہوئے۔۔ گاوں میں دہشت ناک آواز گونج گئی۔
“آج سے مسکا صرف میری ہے۔۔اگر کوئی بھی اس سے شادی کے خواب دیکھ رہا ہے تو وہ میرا دشمن ہے اور تم سب گاوں والے جانتے ہو کہ اپنے دشمن کو سوائے موت کے میں کچھ نہیں دیتا۔”
یہ کہہ کر اس نے رحم دین کو دیکھا۔۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھال کر پسٹل جیب میں رکھا اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کرتا ، دھول اڑاتا واپس ہو لیا۔وہاں موجود سبھی لوگوں کی ترحم بھری نظریں اس شخص پر تھیں جو دروازہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا۔
بوڑھے رحم دین کے قدموں میں جان نہ رہی تھی اور فضاء میں سیاہ پرندے کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔۔
وہ سامنے ہی کھڑی تھی جب رحم دین تھکے ہارے قدموں سے گھر میں داخل ہوا۔ جھکا سر ، ڈھلکتے کندھے اور بےجان قدم۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ایک ہی پل میں اتنے بوڑھے کیوں لگنے لگے ہیں۔۔اس کے بہادر بابا کیوں ڈھلتے سورج جیسے دکھائی دینے لگے ہیں۔ ان کے قدم کچی مٹی پہ اپنی چھاپ کیوں نہیں بنا رہے ہیں۔ اس کے چاند کی ٹھنڈی روشنی جیسے بابا۔۔اسے لگا جیسے اسکا دل کسی نے مٹھی میں دبا لیا ہو اور اس پہ اپنی گرفت کستا ہی جا رہا ہو۔۔
لیکن اس نے خود کو گرنے سے بچانا تھا۔۔خود کو مضبوط بنانا تھا۔ اپنے بابا کی طاقت بننا تھا۔ اس رسم کے خلاف ایک جنگ لڑنی تھی بلکہ اس جنگ کو جیتنا بھی تھا۔
رحم دین نے جھکا سر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں ان کی عمر بھر کی پونجی زمین پہ مضبوط قدم جمائے کھڑی تھی۔ اس کی سیاہ گھور آنکھوں میں چمکتے خواب روشن تھے۔ سیاہ چادر کے ہالے میں پر نور چہرہ امید کی گلابیاں لئے ان کے سامنے تھا۔ اس کے بالکل پیچھے ایک اور وجود بھی چادر کا پلو منہ میں دبائے کھڑا تھا۔ شاید وہ اپنی تکلیف کو آواز نہیں دینا چاہتی تھیں مگر ان کے چہرے پہ چھایا کرب ایک تکلیف دہ کہانی بیان کر رہا تھا جسکے آخر میں خوشی کی کوئی امید ہی نہیں تھی۔
ان کے ٹانگوں کی لرزش میں اضافہ ہوا۔
“بابا۔۔۔۔۔!!”
اس سے پہلے کہ وہ گرتے مسکاء نے تیزی سے آگے بڑھ کر ان کے لڑکھڑاتے وجود کو سنبھالا دیا۔ ذہرہ بی بی بھی فورا آگے آئیں۔ دونوں نے مل کر انھیں سہارا دیا اور انھیں کمرے میں لے آئیں۔
” مسکاء! جاو بیٹا پانی لاو اپنے بابا کے لئے۔”
وہ انھیں چارپائی پہ بٹھاتے ہوئے بولیں تو وہ فورا صحن میں رکھے مٹی کے گھڑوں کی طرف آئی اور مٹی کا پیالہ پانی سے بھر کر واپس کمرے میں آ گئی۔ذہرہ بی بی نے پیالہ اس کے ہاتھ سے لے کر ان کے منہ سے لگایا۔ ان کی سرخی مائل گندمی رنگت پھیکی پڑ چکی تھی۔
“آپ سنبھالیں خود کو۔۔اگر آپ ہی اسطرح سے ہاتھ پاوں چھوڑ دیں گے تو ہم کیسے ان لوہے کی دیواروں سے اپنی بیٹی کو نکالیں گے۔ اس کے بہتر مستقبل کے لئے ہمیں خود کو مضبوط کرنا ہے۔ اس کی معصومیت کو ہم نے اس بھیانک رسم کے ہتھے نہیں چڑھنے دینا ہے۔”
ذہرہ بی بی اور مسکاء کے پریشان چہرے کو دیکھ کر انھوں نے خود کو سنبھالا۔ انھوں نے مسکاء کو ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔ وہ قریب آ کر بیٹھ گئی۔ وہ اپنے ساتھ ہو جانے والی زیادتی کے لئے پریشان نہیں تھی بلکہ وہ ان کو کمزور پڑتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔
“مسکاء! تم میری طاقت ہو جو مجھے کبھی کمزور پڑنے نہیں دے گی۔ تمھیں دیکھ کر مجھے اپنے اندر دوڑتے خون کا احساس ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بیٹوں سے باپ کو قوت ملتی ہے مگر تمھارے ہوتے ہوئے مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں اس طاقت سے محروم ہوں۔”
انھوں نے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔ ذہرہ بی بی کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے جنھیں وہ بار بار اپنی چادر سے پونچھ رہی تھیں۔
“بابا آپ بھی میری طاقت ہیں۔۔ میری ڈھال ہیں۔” وہ ان کے سینے سے لگی تو انھوں نے اسے بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اسکے آنسو ان کے دل پہ گرنے لگے۔ انھوں نے ذہرہ بی بی کو اشارہ کیا کہ وہ اسے اس کے کمرے میں چھوڑ آئیں۔ انھوں نے اسے ان سے الگ کیا اور کمرے سے باہر لے آئیں۔
اور وہ خود آنے والے کڑے وقت کے لیے خود کو تیار کرنے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ اس لڑائی میں وہ اکیلے ہیں کوئی بھی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔۔۔ان کا اپنا بھائی بھی نہیں۔ لیکن پھر بھی انھوں نے سوچ لیا تھا وہ ایک مرتبہ اور کرم دین سے ملیں گے تا کہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔ وہ اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے جلتی آگ میں نہیں جھونک سکتے تھے۔ ان کا دل پتے کی مانند لرز رہا تھا۔
پانچ مہینے پہلے کا واقعہ انھیں یاد آیا۔ ایک معصوم چہرہ ان کی نگاہوں میں گھوم گیا۔ یہ چہرہ گلالئی کا تھا۔ پھر اس معصوم چہرے کی جگہ خون سے لت پت چہرے نے لی۔ وہ دن وہ کیسے بھلا سکتے تھے۔ وہ کیا گاوں کا کوئی بھی شخص وہ خون آشام شام نہیں بھلا سکتا تھا۔ گلالئی۔۔۔۔۔جسے اسی کے چچا کے بیٹے نے رسم “غگ” کے ذریعے اپنا پابند کر دیا تھا کیونکہ انھوں نے اسکی بری شہرت کی وجہ سے رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
بعد میں اس نے خود بھی اس سے شادی نہ کی اور نہ ہی کسی کو کرنے دی۔ گلالئی کے گھر والوں نے ان سے چھپ کر اسکا نکاح کرنا چاہا لیکن نجانے اسے کیسے معلوم ہو گیا اور نکاح کے روز ہی اسے قتل کر دیا گیا۔
آج بھی ان کے گھر ماتم کا سا سماں ہوتا۔۔۔ غفور گل اپنی لاڈلی بیٹی کے بہیمانہ قتل سے چلتی پھرتی لاش بن گیا تھا۔
رحم دین گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ ساتھ ہی چارپائی پہ لیٹی ذہرہ بی بی اٹھ کر ان کے پاس آ گئیں۔
“کیا ہوا مسکاء کے بابا۔۔کوئی برا خواب دیکھ لیا کیا؟؟”
ذہرہ بی بی نے انھیں پانی کا گلاس تھمایا۔
“نیند ہی نہیں ہے آنکھوں میں۔۔۔” انھوں نے گلاس انھیں دے کر شہادت کی انگلی سے کنپٹی کو دبایا۔
“صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔۔مسکاء کے لئے تو میں بھی بہت پریشان ہوں۔ ہماری بچی موت کے دہانے پہ کھڑی ہے۔ باتور خان نے کب سے ہمارا پیچھا لیا ہوا ہے۔ آپ صبح کرم دین بھائی کے پاس جائیں۔ آخر بھائی ہے آپ کا۔۔اتنا تو ساتھ دے گا آپکا کہ بیٹے کو سمجھائے۔۔بھلا میری پھولوں سی بچی اور اسکا کیا جوڑ۔۔ پورے پندرہ برس بڑا ہے مسکاء سے۔ چلو عمر کو چھوڑو کم از کم ایک خوبی بھی ہوتی تو ہم انکار نہ کرتے۔”
وہ جھر جھر بہتے آنسو چادر سے پونچھتے بولیں۔
“ہاں جاوں گا صبح۔۔اللہ کرے کوئی سبیل نکل آئے۔” وہ چت لیٹے چھت کو دیکھنے لگے پھر اس امید پر انھوں نے آنکھیں موند لیں کہ کرم دین۔۔۔ان کا ماں جایا۔۔۔ان کی بات ضرور سنے گا۔
“یہ وقت مناسب نہیں ہے یہاں آنے کا۔۔تمھاری جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ یہ کام میں کر لوں گا۔ تم جاو اس وقت یہاں سے۔ میں ڈھونڈ لوں گا۔”
وہ اسے الماری میں پڑی چیزوں کو الٹ پلٹ کرتے دیکھ کر فورا بولے تھے۔ انھیں ڈر تھا کہ کوئی آ نہ جائے۔ اگر کسی نے دیکھا لیا تو۔۔۔انھیں صرف اسکی فکر تھی۔ مگر وہ سن ہی نہیں رہا تھا۔ اسکی سانس دھوکنی کی مانند چل رہی تھی۔ ہاتھوں کی تیزی سے لگ رہا تھا جیسے ان میں کسی نے بجلی بھر دی ہو۔ وہ وہاں موجود ہر چیز کو الٹ پلٹ کر دینا چاہتا تھا۔ اسکا جی چاہ رہا تھا کہ وہاں موجود ہر چیز کو آگ لگا دے۔ وہی آگ جو اس کے اندر جل رہی تھی۔ جس کے شعلے اسکے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھے۔
اس نے الماری کو اسی طرح کھلا چھوڑ کر سائیڈ پہ رکھی کرسی کو ٹھوکر مار کر گرایا۔ زمان بابا نے آگے بڑھ کر کرسی کو ٹھیک کیا اور اسے بازو سے پکڑ کر اسے بٹھایا۔۔
“بابا! سب ختم ہو گیا ہے۔۔ مجھے نہیں لگتا میں اس زندان میں کچھ ڈھونڈ پاوں گا۔۔کچھ نہیں ہے یہاں۔” وہ بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے بولا۔
“حوصلہ کرو بیٹا! ایسے ہمت نہیں ہارتے۔۔تم جاو میں دیکھ لوں گا۔ اگر کچھ ضروری مل گیا تو تمھیں بتا دوں گا۔۔بڑے خان نے دیکھ لیا تو انھیں تم پہ شک ہو جائے گا اور میں نہیں چاہتا کہ تم کسی مصیبت میں پھنسو۔”
وہ اسے دلاسا دیتے ہوئے بولے۔۔
“ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔۔آپ اپنا خیال رکھیے گا اور ہاں آپ اپنی جان خطرے میں مت ڈالیے گا۔ میں آپ کو نہیں کھو سکتا۔ میرے پاس آپ کے سوا ہے ہی کون۔۔۔میں آ جاوں شہر سے پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔”
وہ انھیں سینے سے لگا کر باہر نکل گیا۔ انھوں نے اپنی آنکھیں بند کر اپنے آنسوؤں کو روکا اور الماری کیطرف آئے۔۔ہر چیز دوبارہ ترتیب سے رکھی اور کمرے سے باہر آ گئے۔۔ ابھی لاونج میں قدم رکھا ہی تھا کہ ماہ گل کچن سے نکل کر ان کے پاس آئی۔
“زمان بابا۔۔آپ کو بڑا خان حجرے میں بلا رہا ہے۔ خان بہت غصے میں تھا۔”
ماہ گل نے انھیں بتایا تو بنا کچھ کہے حجرے کیطرف چل دئیے۔ حجرے میں داخل ہوئے تو وہاں گاوں کے کچھ بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ کسی بات پہ بحث چل رہی تھی لیکن جیسے ہی سب کی نظر ان پر پڑی تو خاموش ہوگئے۔
“خان جی! خیریت ہے آپ بہت غصے میں لگ رہے ہیں۔” میر سربلند خان صوفے پہ بیٹھے اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔
“زمان خان ! میں نے تمھیں ایک کام کا کہا تھا وہ بھی تم سے نہ ہو سکا۔۔ رحم دین کسطرح کا ملگرے(دوست) ہے تمھارا کہ ایک بات نہیں مان سکتا تمھاری۔۔ او ہمارا نام نہیں لیا تھا تم نے۔۔اسے بتاتے کہ ہم نے بھیجا تھا تمھیں۔ اب دیکھو! یہ جو گاوں میں خون خرابا ہو گا اس کا زمہ دار کون ہو گا۔”
ان کی کڑک دار آواز پورے حجرے میں گونج رہی تھی۔ زمان خان سمجھ گئے کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ان کے قریب آئے۔
“خان جی میں نے تو اسے آپ کا پیغام دے دیا تھا لیکن وہ کہہ رہا تھا کہ اسکی بیٹی اور باتور خان کی عمر میں بہت فرق ہے اور وہ ابھی اسکی شادی نہیں کرنا چاہتا۔ اب میں ذبردستی تو کر نہیں سکتا تھا۔اسے حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے جو بھی فیصلہ کرے آخر وہ باپ ہے اسکا۔”
وہ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔
“یہ جھوٹ بول رہا ہے خان جی۔”
باتور خان نے حجرے میں قدم رکھا تو سبھی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ زمان بابا نے بھی مڑ کر دیکھا۔ سفید کڑک دار شلوار سوٹ پہ کالی مردانہ چادر کندھوں پہ ڈالے وہ میر سربلند خان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔وہ زمان بابا کو گھورتے ہوئے مونچھوں کو سنوارنا نہ بھولا۔
“اوئے باتور خاناں۔۔۔زمان جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ اگر کہہ رہا ہے کہ اس نے بات کی ہے تو کی ہو گی۔”
وہ کھڑے ہوئے اور باتور خان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“خان جی۔۔ اگر اس نے بات کی ہوتی تو اسکی مجال تھی کہ آپ کا نام سن کر بھی مجھے انکار کرتا۔۔لیکن خیر میں تو قصہ ہی ختم کر آیا ہوں۔ اب رکھے اپنی بیٹی کو اپنے پاس۔ایسا سبق دیا ہے کہ ساری زندگی اپنی بیٹی کو پڑھاتا رہے گا۔”
اس نے چادر کو جھٹکا دے کر کندھے پر ڈالا اور زمان بابا پہ ایک گہری نظر ڈال کر ہنسا۔
“کیا مطلب میرے شیر؟؟”
انھوں نے اسے اسطرح ہنستے دیکھ کر پوچھا۔
“وہی جو ہر نخرے کرنے والے لڑکی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔”
وہ چارپائی پہ بیٹھ کر تکیے سے ٹیک لگا گیا۔ میر سربلند خان اس کی بات کی تہہ تک پہنچ کر ہنس دیئے۔
“واہ۔۔۔اسی لئے تو میں تجھے شیر کہتا ہوں۔ اب تو ہوش ٹھکانے آ گئے ہوں گے رحم دین کے۔”
“بالکل ۔۔۔۔میں تو وہاں سے آ گیا تھا۔۔ہاں لیکن اس کی کانپتی ٹانگیں میں نے ضرور دیکھی تھیں۔”
اسکی بات پر وہاں موجود سبھی لوگ ہنس دئیے سوائے زمان خان کے۔۔
وہ سست روی سے چلتے حجرے سے باہر آ گئے۔۔ پیچھے سے آتیں قہقہوں کی آوازیں بلند ہوتی جا رہی تھیں اور ان کے دل کی رفتار مدھم۔۔۔
” مسکاء! آ کے دروازہ ٹھیک سے بند کر لو میں تمھارے چاچا کیطرف جا رہا ہوں۔”
وہ دروازے کیطرف جاتے ہوئے بولے۔
“تم بیٹھو۔۔۔میں جاتی ہوں۔” وہ اٹھنے لگی تو ذہرہ بی بی نے اسے منع کر دیا۔ وہ واپس بیٹھ کر ناشتے کیطرف متوجہ ہوگئی۔ دل تو وہیں بابا کے پاس اٹکا تھا کہ نجانے کرم دین چاچا ان کے ساتھ کیا سلوک کریں۔
“آرام سے بات کرنا آپ۔۔اور جلدی آئیے گا۔”
وہ دروازہ کھولنے لگے تو پیچھے سے ذہرہ بی بی بولیں۔ انھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو آنکھوں میں امید کے آنسو لئے وہ انھیں ہی دیکھ رہیں تھیں۔ انھوں نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئے۔
پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے ان کی نظر زمان خان پر پڑی جو وہہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ چہرے سے عیاں ہوتی پریشانی ان کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ وہ ان کے قریب آئے اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے وہہیں ان کے پاس بیٹھ گیا۔ زمان خان نے سر اٹھا کر انھیں دیکھا۔
“میں جو سن کے آ رہا ہوں کیا وہ سچ ہے؟؟” دکھ ان کے چہرے پہ بول رہا تھا۔ وہی دکھ جو رحم دین کے چہرے پہ تھا۔
“ہاں۔۔سچ ہے۔۔ کل باتور خان نے گھر کے قریب آ کر اعلان کیا ہے کہ مسکاء اسکی ہے اور جو کوئی بھی اس سے شادی کی خواہش کرے گا وہ اسے اپنا دشمن تصور کرے گا۔”
ان کی نظریں دور آسمان پر گول چکر لگاتے پرندوں پر تھیں۔
“یہ ٹھیک نہیں ہوا۔ تمھیں اسے روکنا چاہیئے تھا۔ وہ اتنی بڑی زیادتی کیسے کر سکتا ہے۔ کسی کو تو روکنا چاہیئے تھا اسے۔۔پتہ نہیں کیا ہو گیا گاوں والوں کو۔”
انھوں نے ان کی نظروں کی تعاقب میں دیکھا۔
“بس جب بدنصیبی تعاقب میں ہو تو ہر کوئی راستہ سے ہٹ جاتا ہے۔ سبھی راستہ دے دیتے ہیں کوئی رکاوٹ نہیں بنتا۔”
انھوں نے زمان خان کیطرف دیکھا۔
“میر آ گیا شہر سے۔۔؟؟” وہ کھڑے ہوئے۔
“نہیں۔۔ایک دو دن تک شاید آ جائے۔۔فون کیا تھا اس نے۔۔۔خیر خیریت سے ہے۔۔پوچھ رہا تھا تمھارا۔”
اس کے ذکر سے ایک دھیمی مسکراہٹ ان کے لبوں پر چھا گئی۔
“اس مرتبہ کافی دن لگا دئیے ورنہ تو ہفتے کے ہفتے آ جاتا تھا۔۔میرا خیال ہے تیسرا ہفتہ ہونے کو آیا ہے۔” رحم دین نے ان کی طرف دیکھا۔
“ہاں۔۔اس ہفتے آئے گا تم کہیں جا رہے ہو؟”
زمان خان نے انھیں کپڑے جھاڑتے دیکھ کر کہا۔
“میں ذرا کرم دین لالا کی طرف جا رہا ہوں تا کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکلے۔ میں اپنی بیٹی کو اس رسم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے سکتا۔”
وہ ان کیطرف پر عزم نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے۔
“چلو میں بھی ساتھ چلتا ہوں تمھارے۔”
وہ انھیں ساتھ لئے کرم دین کے گھر کی طرف چل دیئے۔
راستے بھر وہ سوچتے رہے کہ کسطرح انھیں منائیں گے۔۔جیسے جیسے گھر قریب آ رہا تھا ان کے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی۔ مسکاء کے رشتے سے انکار کرنے کے بعد سے کرم دین نے ان سے بات کرنا بھی بند کر رکھا تھا۔ راستے میں ملتے بھی تو منہ پھیر کر آگے بڑھ جاتے۔ ویسے بھی جب سے باتور خان بڑے خان کے بندوں میں شامل ہوا تھا ان کے دن بدل گئے تھے۔ رشتہ مانگنے سے پہلے بھی وہ ملتے جلتے نہیں تھے مگر رشتے کے انکار کے بعد سے تو جیسے سب ختم ہو گیا تھا۔
“کیا سوچ رہے ہو؟؟۔۔پریشان مت ہو۔۔مسکاء میری بھی بیٹی ہے۔ ہم اس کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہونے دیں۔ اگر کرم دین نے کچھ مثبت جواب نہ دیا تو کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لیں گے۔”
وہ انھیں دلاسا دیتے ہوئے بولے۔
“جیسے حالات ہو گئے ہیں مجھے امید تو نہیں ہے لیکن پھر بھی۔۔بات کر لوں تو اچھا ہے۔”
وہ دروازے پہ دستک دیتے ہوئے بولے۔۔ کچھ عرصہ پہلے یہ لکڑی کا ایک بوسیدہ دروازہ تھا جسے کھٹکٹانے کی ضرورت انھوں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی مگر آج لوہے کے بڑے گیٹ سے اندر جانے کی ہمت ان میں نہیں تھی۔
تیسری دستک پہ قریب آتے قدموں کی آواز نے انھیں متوجہ کیا اور کھٹ سے دروازہ کھلا۔۔ دروازے کے پیچھے سے کرم دین کا چہرہ نمودار ہوا۔ رحم دین کو دیکھ کر اس نے تیوری چڑھائی۔۔
“السلام و علیکم!”
رحم دین نے سلام کیا۔۔زمان خان نے بھی سر کے اشارے سے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام! کس لئے آئے ہو یہاں۔۔اگر میری مدد چاہیئے تو میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا اور باتور خان بھی گھر میں نہیں۔ وہ آ جائے تو پھر آ جانا۔”
کرم دین نے سنجیدگی سے کہا۔ وہ دروازے کو پکڑے کھڑا تھا۔ جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ انھیں اندر آنے سے روکنا چاہتا ہے۔
“تم ایک بار ہماری بات تو سن لو۔ پھر آگے تمھاری مرضی۔ ہم صلح صفائی سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔”
زمان خان آگے آیا۔
“مگر میں نے کہا نا کہ باتور خان آ جائے تو پھر آ جانا۔” وہ دروازہ بند کرنے لگے۔
“بات سن لینے میں کیا حرج ہے۔ ہمیں اندر تو آنے دو۔” زمان خان نے اسے دروازہ بند کرتے دیکھ کر کہا۔
“ٹھیک ہے آ جاو خیر اندر آ جاو۔”
زمان خان نے صلح صفائی کی بات کی تو کرم دین کو لگا شاید وہ مان گئے ہیں اور شادی کی بات کرنے آئے ہیں۔ اس لئے وہ چاہتا تھا کہ باتور خان کے سامنے ہی بات ہو لیکن پھر اسی رخ پہ سوچتے ہوئے اس نے انھیں۔ اندر بلا لیا۔
کرم دین نے ان کو بیٹھک میں بٹھایا اور باہر آ کر بیوی سے چائے تیار کرنے کا کہہ کر واپس بیٹھک میں آیا۔
“ہاں کہو کیا بات ہے۔۔۔ہوش ٹھکانے آ گئے تمھارے یا نہیں۔”
کرم دین ان کے سامنے چارپائی پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔ آواز میں طنز نمایاں تھا۔
“ہم دراصل کل کے واقعہ کے متعلق بات کرنے آئے ہیں۔ باتور خان نے جو طریقہ اپنایا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ اس رسم کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسی کی بیٹی کو یوں سب کے سامنے اپنا پابند کرنا جرم ہے۔ باتور خان سے کہو کہ اپنے الفاظ واپس لے اور مسکاء کو اس پابندی سے آزاد کرے۔اگر وہ نہ مانا تو ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“زمان خان یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے۔ تم رحم دین کے ساتھ آئے ہو اس لئے تمھیں اندر بلا لیا۔ ورنہ ہمارے خاندانی معاملے میں تمھارا کیا کام۔۔۔تم اپنی رائے اور اپنی دھمکی اپنے پاس رکھو۔ نہ تو ہمیں تمھاری رائے غورطلب لگ رہی ہے اور نہ ہی ہم تمھاری اس دھمکی سے ڈرنے والے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ تم خاموش رہو۔”
کرم دین نے زمان خان کو بیچ میں ہی ٹوک دیا۔ رحم دین کو ان کی پسند نہیں آئی۔ لیکن وہ بات بگاڑنا نہی چاہتے تھے اس لئے انھوں نے آنکھ کے اشارے سے زمان خان کو روک دیا۔
“میرا بھی یہی خیال ہے کہ آپ اور باتور خان اپنے فیصلے پر غور کریں۔ مسکاء تمھاری بھی بیٹی ہے اور اسکے تایا ہونے کی حیثیت سے آپ کو میرا ساتھ دینا چاہئے نہ کہ ایک غلط کام میں اپنے بیٹے کا ساتھ۔ میں آپ کے پاس بڑی امید لے کر آیا ہوں۔”
رحم دین نے ان کیطرف دیکھا جن کے چہرے کے تاثرات ان کی امید چھین رہے تھے۔
“تایا ہونے کی حیثیت سے تو میں اپنے بیٹے کا رشتہ بھی لے کر آیا تھا۔ تم نے اس وقت کیوں نہ سوچا کہ میں اسکا تایا ہوں اور اب جب پانی سر سے اوپر ہوچکا ہے تو تایا یاد آ گیا۔ واہ بھئی واہ کیا کہنے۔۔۔”
کرم دین کی چبھتی نظریں رحم دین کو اپنے جسم میں چھید کرتی محسوس ہوئیں۔
“اس وقت تو بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے کہ مسکاء کو تعلیم دلواوں گا اور اس کی شادی کسی پڑھے لکھے لڑکے سے کراوں گا۔ اب لے آو پڑھا لکھا انسان اور کرو اس کی شادی۔۔ہم بھی تو دیکھیں۔”
کرم دین کی زبان شعلے اگل رہی تھی۔۔زمان خان کو ان کا انداز پسند نہ آیا تو کچھ کہنے ہی لگے تھے مگر رحم دین نے روک دیا۔
“بھائی میں صرف آپ کے پاس یہ درخواست لے کر حاضر ہوا ہوں کہ اللہ کے لئے مجھ پر اور میری بیٹی پر رحم کیجئے۔ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔”
وہ منتوں پر اتر آئے تھے مگر سامنے والا بھی باتور خان کا باپ تھا جو کسی کی نہیں سنتا۔
“میرا بیٹا بھی گاوں کا سب سے کڑیل جوان ہے۔ اس جیسا نہیں ملنا تھا تمھیں لیکن تم نے خود اس کے لئے ایندھن خریدا ہے اب جلتے رہو اس آگ میں اور اسے بھی جلاو۔ ساری غلطی تمھاری ہے اب بھگتو۔ میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔”
کرم دین انھیں چبھتی نظروں سے دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا۔ رحم دین سر جھکا گیا اور ان کی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا۔
زمان خان نے رحم دین کے جھکے سر کو دیکھا اور انھیں سہارا دیئے لے آیا۔
“سچ کہتے ہیں لوگ اب خون کی تاثیر نہیں رہی۔” گھر سے باہر نکلتے ہوئے رحم دین کو پلٹتے دیکھ کر زمان خان بولے۔
“سفید جو ہو گیا ہے۔”
ان کے لہجے میں دکھ بول رہا تھا۔
ٹیکسی ڈرائیور نے اسے ہاسٹل سے کچھ ہی دور اتار دیا کیونکہ آگے کنسٹرکشن کا کام چل رہا تھا۔ اس نے ڈرائیور کو پیسے پکڑائے اور بیگ اٹھا کر کندھے پر
لٹکایا۔ چہرے پہ سنجیدگی کا پہرا تھا۔ منہ اتنا سختی سے بند کر رکھا تھا کہ کنپٹی کی رگ ابھر آئی تھی۔ وہ شروع سے ہی ایسا تھا۔ اپنی ذات تک محدود رہنے والا۔ اسکے ظاہری رویے کو دیکھتے ہوئے کسی میں بھی اس کے قریب آنے کی ہمت نہیں تھی مگر پرسنیلیٹی ایسی تھی کہ ہر کوئی کھنچا چلا آتا۔۔اپنے ڈیپارٹمنٹ میں وہ اپنے روڈ رویے اور ذہانت کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ یونیورسٹی میں صرف ٹیچرز ہی تھے جن سے وہ بات کرتا یا پھر ارحم سے۔۔۔ارحم شاہ۔۔۔اسکا جگری دوست۔۔ یہ دوستی بھی ارحم ہی کی پیداوار تھی۔۔ وہی اس کے سخت رویے کے باوجود اس کے قریب اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہا تھا۔
اور آج وہ اس کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا تھا۔ ہر جگہ دونوں ساتھ ساتھ پائے جاتے۔ دونوں کی دوستی کے چرچے پوری یونیورسٹی میں تھے۔
وہ ہاسٹل کے چوکیدار سے ملا تو کچھ ہی دور ارحم کھڑا دکھائی دیا۔ اپنے آنے کی اطلاع وہ اسے فون پر ہی دے چکا تھا۔ اس کے ساتھ کچھ اور لڑکے بھی کھڑے تھے۔ ارحم بھی اسے دیکھ چکا تھا اس لئے ان سے ہاتھ ملاتا اسکی طرف بڑھا۔
“کب سے انتظار کر رہا ہوں میں۔۔ صبح بتایا تھا تم نے کہ بس نکل رہا ہوں۔۔ ٹائم دیکھا ہے تم نے۔۔”
ارحم اس سے بغلگیر ہوتے ہوئے بولا
“یار بس ایک کام میں پھنس گیا تھا۔ آج موقع بھی ملا تھا لیکن کچھ ہاتھ نہ آ سکا۔”
اس کے لہجے کی بجھتی آنچ ارحم کو اپنے اردگرد محسوس ہوئی۔
“یار سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ تم ویسے ہی اتنے پریشان ہوتے ہو۔ اللہ مدد کرنے والا ہے۔ وہ جب چاہے گا سب کچھ تمھارے سامنے آ جائے گا اور پھر تم کیوں غم کرتے ہو میں اور بابا ہیں نہ تیرے پاس۔”
وہ اسے کب تکلیف میں دیکھ سکتا تھا۔ ہمیشہ اسکا حوصلہ بڑھاتا رہتا ورنہ وہ تو اس ایک بات کو لے کر اتنا سینسیٹو ہو جاتا تھا کہ زندگی سے دور ہوتا جاتا۔ اگر بابا اور ارحم اس کی زندگی میں نہ ہوتے وہ کب کا بکھر چکا ہوتا۔ ان دونوں نے ہی اسے سنبھال رکھا تھا۔
“تمھاری اور بابا کی ہی دی ہوئی طاقت ہی تو ہے کہ میں آج یہاں کھڑا ہوں ورنہ تو کب کا بے سراغ ہو گیا ہوتا ان کی طرح جن کا سراغ مجھے نہیں مل رہا۔”
وہ اس کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے بولا۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا ضیغم اور بہت جلد تو صرف ضیغم نہیں رہے گا۔”
وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
ارحم کا مسکراتا چہرہ اسے بھی مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔
“چل یار بہت بھوک لگی ہے۔ صبح سے تیرے انتظار میں بھوکا بیٹھا ہوں۔۔ کچھ پیٹ پوجا ہو جائے۔”
ضیغم نے سر ہلاتے ہوئے لاک کھولا اور دونوں آگے پیچھے اندر داخل ہوئے۔ارحم تو سنگل پلنگ پہ بیٹھ گیا جبکہ وہ منہ ہاتھ دھونے واش روم میں چلا گیا۔
فریش ہونے کے بعد وہ دونوں لاک لگا کر ہاسٹل سے نکل آئے۔
“بابا کیسے ہیں؟”
کھانے کا آرڈر دے کر ارحم نے اسکی طرف دیکھا۔ جو حسب معمول سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔ ایک مرتبہ ارحم نے اس سے پوچھا تھا کہ کیا کالا رنگ اس کا پسندیدہ ہے تو اس کا جواب بہت عجیب تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اس رنگ کو وہ بہت پسند ہے۔
“بابا بالکل ٹھیک ہیں۔ تمھارا پوچھ رہے تھے کہہ رہے تھے کہ اس بار آوں تو تمھیں ساتھ لے کر آوں لیکن میں نے کہا کہ تم بہت مصروف رہتے ہو اور تمھارے پاس ان سے ملنے کا ٹائم نہیں ہے۔”
ضیغم مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔
“میں مان ہی نہیں سکتا کہ ضیغم خان میرے متعلق ایسا کہہ سکتا ہے۔”
وہ کھانا کھاتے ہوئے بولا۔ اس کے اتنے اعتماد سے کہنے پر وہ مسکرا دیا۔
“ارے ہاں یاد آیا۔۔ وہ جو نئے پروفیسر آئے ہیں۔ کیا نام ہے ان کا۔۔ہاں پروفیسر محمد عقیل۔۔۔ وہ تمھارا بار بار پوچھ رہے تھے۔۔ کل صبح ہی ان سے مل لینا۔”
ضیغم ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا تو ارحم نے بھی اس کی تقلید کی۔
“ٹھیک ہے۔۔ کل مل لوں گا ان سے۔”
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔ دونوں ہوٹل سے باہر آ گئے۔ ارحم اسے ہاسٹل ڈراپ کر کے چلا گیا تھا۔ وہ دھیمی رفتار سے چلتا اپنے کمرے کی طرف آ گیا۔ لاک کھول کر اندر داخل ہوا۔ ہاسٹل میں خاموشی کا راج تھا۔ وہ ایک گہری سانس خارج کرتا۔۔ہر خیال جھٹکتا ٹیبل پہ رکھی بکس کیطرف آ گیا۔۔ ٹیبل لیمپ آن کر کے کرسی گھسیٹی۔۔ہاتھ بڑھا کر بکس کھولیں اور اردگرد سے بیگانہ ہو گیا۔
اسے اپنی منزل تک پہنچنا تھا۔۔اپنی پہچان بنانی تھی۔۔ اپنا نام مکمل کرنا تھا۔۔
جاری ہے۔۔۔
