Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode17

Ghag By Mahwish Urooj Episode17

شہر سے واپسی پہ اسے زمان خان نے جرگے کے متعلق بتا دیا تھا۔غصہ تو اسے بہت آیا جی چاہا تھا کہ ابھی حویلی جا کر میرسربلند خان کا دماغ ٹھکانے پہ لگا دے مگر زمان خان نے اسے جانے نہیں دیا۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس سب کے پیچھے بھی میر سربلند خان کی کوئی چال ہو گی۔اچانک اسطرح سے جرگے میں سب کے سامنے اتنے بڑے راز سے پردہ اٹھانا معمولی بات نہیں تھی۔حالانکہ میرسربلند خان اچھی طرح جانتے تھے اسطرح سب کے سامنے اس راز سے پردہ اٹھنے سے ضیغم کی پوزیشن اور بھی مضبوط ہو جائے گی۔انھوں نے کچھ سوچ کر ہی اس راز سے پردہ اٹھایا تھا ورنہ تو میرسربلند خان تو اس رسی جیسا تھا جسکے جل جانے کے بعد بھی اسکا بل نہیں جاتا۔
“بابا۔۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔میں خود اس سے نپٹ لوں گا۔”
ضیغم پوری بات سننے کے بعد انھیں تسلی دیتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔لیکن زمان خان بہت پریشان تھے۔۔۔اچھی طرح جانتے تھے کہ میرسربلندخان اتنی جلدی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھا۔اس نے ضرور اپنے ذہہن میں کوئی نہ کوئی منصوبہ بنا رکھا ہو گا۔
“میر تم نہیں جانتے وہ نہایت ہی خطرناک آدمی ہے۔اب وہ تمھیں مجھ سے چھین کر نجانے کیا ثابت کرنا چاہتا ہے۔بس میں نے کہہ دیا تم حویلی نہیں جاو گے۔تم اس سے دور ہی رہو۔”
وہ چٹخنی اتار کر باہر نکلنے ہی والا تھا کہ انھوں نے اس کے سامنے آ کر اسے روکا۔انھوں نے اسکے بازو پہ گرفت مضبوط کی۔
“بابا۔۔۔کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔آپ مجھے بات تو کرنے دیں نا۔۔آپ خواہ مخواہ ہی پریشان ہو رہے ہیں۔وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔آپ مجھے ایک بار اس سے مل کر بات کر لینے دیں۔میں اگلے جرگے کی نوبت ہی نہیں آنے دوں گا۔”
ضیغم نے اپنے بازو پہ رکھے ان کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
“نہیں بس اس وقت تم نہیں جاو گے۔صبح میں بھی چلوں گا تمھارے ساتھ۔۔تم ابھی جا کر مسکاء کو لے کر آو۔جب سے گئی ہے کوئی خیر خبر نہیں ہے اسکی۔ایسے حالات میں اسکا زیادہ دیر ادھر رہنا درست نہیں ہے۔”
انھوں نے اسکا دھیان مسکاء کی طرف دلایا تو وہ گہری سانس خارج کرتا باہر نکل گیا۔کانسٹیبل فہیم کو تو اس نے آتے ہی واپس بھیج دیا تھا۔وہ خاموشی سے جیپ تک آیا۔زمان خان وہیں دروازے کے پاس کھڑے اسے جاتا دیکھتے رہے۔جیپ کے پاس پہنچ کر ایک پل کو پیچھے مڑ کر دیکھا۔زمان خان ابھی تک دروازے میں کھڑے تھے۔اس نے انھیں اندر جانے کا اشارہ کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کر جیپ ماہ گل کے گھر کے راستے پہ ڈال دی۔مسکاء کے نام پہ اسکی آنکھوں کے آگے صبح کا منظر گھوم گیا تو مسکراہٹ اسکے چہرے کا حصہ بن گئی۔اسی کے بارے میں سوچتا وہ پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ گلی کے قریب پہنچا۔گھر تک جانے والا راستہ کچا اور تنگ تھا۔اس نے جیپ ایک جانب کھڑی کی اور خود ماہ گل کے گھر تک کا راستہ پیدل طے کرنے لگا۔اچانک اسے یوں لگا جیسے کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہو۔اس نے فورا پیچھے مڑ کر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔اپنا وہم جان کر وہ آگے بڑھا۔تھوڑی دیر بعد وہ ماہ گل کے گھر کے دروازے پہ دستک دے رہا تھا۔
“کون ہے۔۔۔؟؟”
دروازے کے قریب سے ماہ گل کی آواز آئی۔
“میں ہوں بی بی گل۔۔۔میر۔۔”
وہ آس پاس گہری نظر ڈالتے ہوئے بولا۔ایک بار پھر اسے وہاں کسی اور کی موجودگی بھی محسوس ہوئی۔
“بی بی گل ابھی دروازہ مت کھولیں۔”
وہ انھیں منع کرتا۔۔دروازے پہ باہر سے کنڈی لگاتا گھر کے پچھلی جانب آیا تھا مگر وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔نیم تاریک ماحول میں کچھ خاص دکھائی نہیں دے رہا تھا۔وہ پلٹ آیا۔۔۔۔
“میر۔۔۔۔!!سب ٹھیک تو ہے نا؟” ماہ گل کی آواز پہ وہ دروازے کے قریب آیا۔
“بی بی گل دروازہ کھول دیں۔”
میر نے دروازے کے قریب جا کر دھیمی آواز میں کہا تو انھوں نے کھٹ سے دروازہ کھول دیا اور اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔
“خیر تو ہے نا میر۔۔۔؟؟”
انھوں نے اس کے اندر آنے کے بعد دروازے سے سر نکال کر باہر جھانکا تھا۔
“پتہ نہیں بی بی گل۔۔۔۔میں سمجھا شاید کوئی میرے پیچھے آ رہا ہے لیکن یہ میرا وہم بھی ہو سکتا ہے۔”
وہ اردگرد نظر ڈالتے ہوئے بولا۔
“کیا تم نے کسی کو دیکھا تھا؟”
وہ دروازہ بند کر کے اس کے پاس آئیں تھیں۔
“نہیں دیکھا تو نہیں بس مجھے لگا تھا۔آپ ذرا مسکاء کو بلوا دیجیئے۔کافی ٹائم ہو گیا ہے اور بابا بھی گھر میں اکیلے ہیں۔”
وہ واپس پلٹتے ہوئے بولا۔
“ابھی تو آئے ہو۔۔۔قہوہ پی کر چلے جانا۔”
ماہ گل نے اسے باہر کی جانب قدم بڑھاتے دیکھ کر کہا۔
“نہیں بی بی گل بس چلتے ہیں۔۔پھر کبھی سہی۔۔آپ مسکاء کو بھیج دیں۔میں باہر انتظار کر رہا ہوں۔”
وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔پینٹ کی جیب پہ ہاتھ رکھ کر اس نے تسلی کی اور آس پاس کا جائزہ لینے لگا۔
“چلیں۔۔۔”
اس نے پلٹ کر دیکھا تو مسکاء وہیں دروازے کے قریب کھڑی تھی۔اس نے خود کو سیاہ چادر میں اچھی طرح ڈھانپ رکھا تھا۔ماہ گل بھی اسی کے ساتھ کھڑی تھیں۔
“ہاں چلو۔۔۔۔بی بی گل آپ دروازہ بند کر لیں۔”
مسکاء کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ ماہ گل سے بولا۔ماہ گل نے سر ہلا کر دروازہ بند کر لیا۔
“کیا بات ہے۔۔؟؟آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔”
وہ اسکے سنجیدہ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولی۔وہ محتاط انداز میں چلتا اس کی طرف آیا تھا۔
“کچھ نہیں۔۔”ضیغم نے پاس آ کر اسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیا اور اسے لئے تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا۔مسکاء کو اس کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے لئے تقریبا بھاگنا پڑ رہا تھا۔
“آرام سے چلیں نا۔۔۔میں اتنا تیز نہیں چل پا رہی۔”
وہ گرتے گرتے بچی تھی جبکہ ضیغم اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑے اسی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔گلی کے اختتام پہ اس نے مسکاء کو اپنے پیچھے کیا اور آس پاس نظر دوڑائی۔مسکاء کو اسکے انداز سے خطرے کا احساس ہوا تو وہ بھی خاموشی سے تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ ضیغم اسے لئے تیزی سے جیپ کی جانب آیا۔اس نے مسکاء کا ہاتھ چھوڑ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔اچانک گاڑی پہ فائر کیا گیا اس کا اندازہ درست تھا۔وہاں ان کے علاوہ کوئی اور بھی موجود تھا۔وہاں اندھیرا اس قدر تھا کہ وہ اندازہ نہیں لگا پایا کہ گولی کس جانب سے چلائی گئی ہے۔اس نے اگنیشن میں چابی گھمائی اور نہایت پھرتی سے وہاں سے گاڑی کو نکالا۔ایک کے بعد دوسرا فائر نہیں کیا گیا تھا مطلب وہ جو کوئی بھی تھا صرف اسے ڈرانا چاہتا تھا۔اکیلا ہوتا تو جوابی کاروائی کرتا مگر اس وقت مسکاء اس کے ساتھ تھی اسی لئے اس نے وہاں سے نکلنا ہی مناسب سمجھا اور گاڑی کی رفتار بڑھائی۔
“یااللہ خیر۔۔۔” فائر کی آواز سن کر مسکاء بھی گھبرا گئی تھی۔
“تم نیچے جھک جاو۔” ضیغم نے اسے جھکنے کو کہا کیونکہ پیچھے آتی گاڑی اسکی نظروں سے اوجھل نہیں تھی۔وہ فورا جھک گئی۔سڑک کی دونوں جانب گھنے درخت تھے۔کچے راستے پہ جیپ ہچکولے کھاتی آگے بڑھ رہی تھی۔خاموشی محسوس کر کے ضیغم نے جیپ کی رفتار آہستہ کر دی اور اسی دوران پیچھے والی گاڑی تیزی سے ان کے قریب سے گزر گئی۔گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں اس نے گاڑی کا نمبر ذہہن نشین کیا۔چونکہ ضیغم نے گاڑی کی رفتار کم کر دی تھی اس وجہ سے کچھ ہی سیکنڈز میں وہ گاڑی اسکی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔آج چونکہ جرگے میں مسکاء اور اسکی شادی کی بات بھی کھل گئی تھی اسلیئے اسکے لئے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ یہ کام کس کا ہو سکتا ہے۔زمان خان نے اسے بتایا تھا کہ جرگے میں سبھی موجود تھے۔۔۔۔باتور خان بھی۔۔
“مسکاء۔۔۔۔”
مسکاء جو اپنے گھٹنوں پہ جھکی ہوئی تھی۔۔اس کے پکارنے پہ سر اٹھایا اور پھر ٹھیک سے بیٹھ گئی۔۔ضیغم نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی تھی۔
“کون تھا یہ۔۔۔۔۔” مسکاء کے چہرے پہ خوف کے سائے منڈلا رہے تھے۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔؟”
ضیغم نے اسکے سوال کو نظرانداز کر کے اس سے پوچھا۔
“جی میں ٹھیک ہوں۔۔۔کون تھا یہ۔۔؟”
مسکاء نے چادر درست کرتے ہوئے اپنا سوال دہرایا۔
“تھوڑے دشمن تو نہیں ہیں یہاں۔۔۔۔۔۔”
وہ جیپ اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا۔مسکاء خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔
“نجانے کب ہم اس بھنور سے نکلیں گے۔”
وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر گم سم لہجے میں بولی۔
“انشاءاللہ۔۔! بہت جلد۔۔۔۔”
وہ اسکا یخ ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولا۔
“انشاءاللہ۔۔!
وہ بھی دھیرے سے بولی تھی۔۔ضیغم نے اسکا ہاتھ ہاتھ میں دبائے جیپ کی رفتار بڑھائی۔
وہ گھر سے کچھ ہی فاصلے پہ تھے۔۔۔۔
_________________________________________
ضیغم نے راستے میں ہی مسکاء کو منع کر دیا تھا کہ وہ زمان خان سے اس بارے میں کوئی بات نہ کرے۔اس لئے مسکاء گھر پہنچ کر اس بات کا ذکر نہیں کیا لیکن وہ ضیغم کے لئے بہت پریشان تھی۔ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو جاتی جو اسکے خوف میں اضافہ کرتی جا رہی تھی۔باتور خان سے کچھ بعید نہیں تھا۔وہ تو چھپ کر وار کرنے والوں میں سے تھا۔مسکاء کو یقین تھا کہ رات کو جس شخص نے ان پر حملہ کیا تھا وہ باتور خان ہی تھا۔وہ چاہتی تھی کہ وہ سب اور ضیغم گاوں چھوڑ کر شہر چلے جائیں۔یہاں تو ہر قدم پہ خطرہ تھا۔صبح تو ضیغم آفس چلا جاتا اور پھر رات گئے لوٹتا اور وہ سارا دن گھر میں پریشان اور بولائی بولائی پھرتی۔وہ آجکل اس قدر مصروف تھا کہ بات تک کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔صبح جلدی تیار ہو کر تھانے چلا جاتا اور پھر رات کو جب آتا تو وہ سو رہی ہوتی۔ایک کانسٹیبل ہر وقت گھر کے دروازے کے باہر رہتا۔ذہرہ بی بی اور رحم دین اب باقاعدگی سے اس سے ملنے آتے تھے۔ذہرہ بی بی ہی تھیں جن سے وہ اپنے دل کا حال کہہ لیتی تھی ورنہ ضیغم کے پاس تو آجکل اس کے لئے وقت ہی نہیں تھا۔ذہرہ بی بی کے سمجھانے کے باوجود اسے ہر پل کچھ ہو جانے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔اس لئے آج اس نے سوچ لیا تھا کہ اس بارے میں ضیغم سے بات ضرور کرے گے۔اس وقت وہ اسکے لئے ناشتہ بنا رہی تھی۔ناشتہ بنا کر وہ ٹرے لئے کمرے میں آئی تو وہ بالکل تیار تھا۔اسے ناشتہ لاتا دیکھ کر وہ تیزی سے اسکی جانب آیا۔
“آج بہت ضروری کام ہے۔آج ہو سکتا ہے میں تھوڑا لیٹ ہو جاوں۔”
وہ کرسی پہ بیٹھتا، ٹرے اپنی جانب کھینچتا اس سے بولا تھا۔وہ روزانہ ناشتہ شروع کرنے سے پہلے اس سے یہی جملے بولتا تھا۔ناشتے کے دوران وہ وہاں نہیں بیٹھتی تھی مگر آج وہ خاموشی سے سر ہلاتی اسکے سامنے بیٹھ گئی۔وہ ناشتہ شروع کر چکا تھا۔مسکاء دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسائے اسے ناشتہ کرتے دیکھ رہی تھی۔اس نے اسے خاموشی سے ناشتہ کر لینے دیا۔ناشتے سے فارغ ہو کر وہ فورا اٹھا تھا۔
“مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔”
اس سے پہلے کہ وہ تیزی سے باہر نکلتا وہ تیزی سے بولی تھی۔اسے خاموشی سے اپنی جانب تکتے پا کر وہ اٹھ کر اس کے قریب آئی تھی۔
“بولیے جناب۔۔!!”
وہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔
“وہ۔۔۔۔میں کہنا چاہ رہی تھی کہ آپ۔۔۔۔۔۔”
وہ اسے اپنے قریب آتے دیکھ کر بولی تھی کہ وہ فورا بولا۔
“بس کچھ دن کی بات ہے۔۔۔پھر میرا سارا وقت تمھارا۔”
ضیغم نے اسکے سنجیدہ چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لے کر کہا تھا۔
“نہیں یہ بات نہیں ہے۔۔میں یہ کہہ رہی تھی کہ آپ۔۔۔ہم شہر چلے جاتے ہیں نا۔۔۔مجھے یہاں نہیں رہنا ہے جہاں ہر دستک موت کی دستک جیسی لگتی ہے۔آپ چھوڑ دیں یہ سب۔۔ہم یہاں سے چلے جاتے ہیں۔”
وہ اسکے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“کیا مطلب۔۔۔؟؟ کیا میرے جانے کے بعد۔۔۔ٹھہرو میں فہیم سے پوچھتا ہوں۔وہ یہاں کھڑا کیا کرتا رہتا ہے۔”
ضیغم باہر کی جانب بڑھا مگر مسکاء نے ہاتھ تھام کر روک دیا۔
“یہ بات نہیں ہے۔۔۔گھر میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔”
مسکاء نے کہا تو وہ پلٹ آیا۔
“تو پھر۔۔۔۔یہ سب۔۔”
ضیغم نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“آپ کے لئے پریشان رہتی ہوں۔”
وہ نم آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتے ہوئے بولی تو وہ مسکرا دیا تھا۔
“تم کیا چاہتی ہو میں بھاگ جاوں ان سب سے۔۔اور ہونے دوں وہ سب جو یہاں ہوتا آ رہا۔۔تم یہ چاہتی ہو کہ گاوں کی ہر دوسری لڑکی ان حالات سے گزرے جن سے تم گزر رہی ہو۔۔یا پھر ہر لڑکی کا انجام گلالئی جیسا ہو۔۔یا پھر ان جیسا جو اس رسم کی وجہ سے اپنی زندگی کے قیمتی سال کھو چکی ہیں اور بے رنگ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔انہی لوگوں کی وجہ سے جن کو میں ان کے انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔تم ان کے قدم اور بھی مضبوط کرنا چاہتی ہو تاکہ وہ جیسے چاہیں، جسے چاہیں ایسی زندگی گزارنے پہ مجبور کر دیں۔۔۔بولو کیا ایسا چاہتی ہو تم۔۔؟”
اس کے سوال پہ وہ شرمندگی سے سر جھکا گئی۔
“میں ایسا کچھ بھی نہیں چاہتی۔۔۔بس میں آپکو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔وہ ہر لمحہ آپکو نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہتے ہیں اور میں یہ سب نہیں دیکھ سکتی ہوں۔”
وہ اپنے گداز بازو اسکے گرد باندھتے ہوئے بولی۔مسکاء کے اس محبت بھرے انداز نے اسکے اندر طمانیت اور سرشاری بھر دی۔
“تو بس پھر تم دعا کیا کرو کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ٹھہروں۔”
وہ اسکے ماتھے پہ بکھرے بال سمیٹتے ہوئے بولا۔
“وہ تو میں روز ہی کرتی ہوں۔”
وہ معصومیت سے بولی۔
“اچھا۔۔۔۔۔کیا دعا کرتی ہیں آپ۔۔ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے۔”
وہ اسکی سیاہ آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
“آپ کو کیوں بتاوں۔۔”
وہ شرما کر رخ پھیر گئی۔
“ارے بھئی۔۔۔یہ کیا بات ہوئی۔۔اب میرے لئے کی گئی دعا مجھ سے ہی چھپائی جا رہی ہے۔۔ناٹ فئیر۔۔”
وہ اسکا رخ اپنی جانب موڑتا مسکراتے ہوئے بولا۔
“آپ کا فون بج رہا ہے۔”
مسکاء نے اسکی پاکٹ میں بجتے موبائل فون کی جانب اسکی توجہ دلائی۔
“چھوڑو یار۔۔۔۔ابھی تم ہی تو کہہ رہی تھی کہ یہ سب چھوڑ دیں۔”
وہ شرارتی انداز میں اسے گھیرتے ہوئے بولا۔
“میں نے یہ کب کہا۔۔۔آپ جائیں آپکو دیر ہو رہی ہے۔”
وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش میں تھی۔
“ابھی کچھ دیر پہلے خود ہی تو کہا تھا تم نے کہ میں تمھیں وقت نہیں دیتا۔”
وہ اسکا دوپٹہ ہاتھ پہ لپیٹتے ہوئے بولا۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔”
وہ اپنے دوپٹے کے بل اس کے ہاتھ سے کھولنے لگی۔
“تو کیا کہہ رہی تھیں آپ۔۔”
ضیغم اسکے سرخ پڑتے چہرے کو نظروں میں سموتے ہوئے بولا۔موبائل فون بج بج کر خاموش ہو گیا تھا۔
“آپ کو کیا ہو گیا ہے۔۔جائیں نا۔”
وہ اس وقت کو کوسنے لگی جب اسے جانے سے روکا تھا۔
“کہاں جاوں۔۔۔؟”
وہ اس کے بھورے ریشمی بالوں میں چہرہ چھپانے لگا۔ضیغم کا بے باک انداز اسکے حواس سلب کرنے لگا تھا۔وہ اپنی بانہوں کا گھیرا اس کے گرد تنگ کرنے لگا۔
“ضیغم۔۔۔۔۔آپ کو بابا بلا رہے ہیں۔”
وہ اسکے شوریدہ جذبوں پہ بند باندھتے ہوئے بولی۔
“اچھا آو چلیں۔”
ضیغم نے اسے بانہوں میں اٹھا لیا۔۔
“یہ کیا کر رہے ہیں۔۔”
وہ اسے اٹھائے دروازے کی جانب بڑھا تو وہ دھیمی آواز میں چلائی۔
“بابا بلا رہے ہیں اور تم بھی مجھے مس کر رہی ہو تو دونوں کام ساتھ میں ہی نپٹا لوں۔”
وہ مسکراہٹ لبوں میں دبائے اسے دیکھ رہا تھا۔
“اتاریں مجھے نیچے۔۔اتاریں فورا۔۔”
مسکاء نے اپنے دوپٹے کا ایک کونہ گول مول کر کے اسکے چہرے پہ پھینکا۔۔۔
“بالکل بھی نہیں۔۔۔”
وہ دائیں بائیں سر ہلانے لگا۔
“ضیغم پلیز۔۔۔۔۔اتاریں نا۔۔”
وہ مسکین سی شکل بنا کر بولی۔
“ٹھیک ہے پہلے وعدہ۔۔۔۔۔۔۔۔؟”
وہ رکا۔
“کیا۔۔۔۔؟”
اس نے دوپٹہ پھر سے اسکے چہرے پہ مارا۔۔
“میں رات کو آوں تو تم سوئی ہوئی نہ ملو۔۔۔۔۔موٹی۔”
وہ آخری لفظ دھیرے سے بولا۔
“ٹھیک ہے وعدہ۔۔۔۔۔”
اس نے سن تو لیا تھا مگر بحث میں پڑنے کی بجائے جلدی سے بولی۔
“تو ہم یہیں سے شروع کریں گے جہاں سے چھوڑا ہے۔”
وہ اسے نیچے اتارتا ہوا بولا۔
“ہونہہ۔۔۔۔۔”
وہ اس کے چہرے پہ دوپٹہ ایک بار پھر مار کر باہر بھاگ گئی اور ضیغم کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی۔
_________________________________________
“یہ جو تم کرتے پھر رہے ہو اسکا خمیازہ بھی تمھیں بھگتنا پڑے گا۔”
وہ اپنے آفس میں عمر خان کے ساتھ گلالئی قتل کی فائل کھولے بیٹھا تھا کہ میرسربلند خان بے دھڑک اس کے آفس میں داخل ہوئے تھے۔ضیغم کو ان کا انداز پسند نہیں آیا تھا مگر وہ خاموشی سے عمر خان کو دیکھ کے بولا۔
“ٹھیک ہے عمر خان۔۔تم یہ فائل لے جاو اور ڈی۔آئی۔جی صاحب کو کال کر کے ہمارے تمام پوائنٹس ڈسکس کرو۔”
ضیغم نے عمر خان کو فائل پکڑائی۔وہ اسکا اشارہ سمجھ کر فائل لے کر آفس سے نکل گیا۔
“یہ سب ختم کرو ورنہ اچھا نہیں ہوگا تمھارے لئے۔۔تم کیا سمجھتے ہو کہ یہ سب کر کے تم مجھے نیچا دکھانے میں کامیاب ہو جاو گے تو یہ تمھاری بھول ہے۔روک لو خود کو ورنہ پچھتاو گے۔”
وہ چئیر ایک طرف کرتے ہوئے بولے۔۔چہرے پہ تاثرات ایسے تھے جیسے ہر چیز کو آگ لگا دیں گے۔
“اور اگر میں یہ سب نہ روکوں تو۔۔۔۔۔؟”
وہ اٹھ کر ان کے سامنے آ گیا اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے ہوئے بولا۔
“تو اسکا انجام بہت بھیانک ہو گا۔میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ شروع تم نے کیا ہے مگر ختم میں کروں گا۔”
وہ اپنے سینے پہ انگلی رکھتے ہوئے بولے۔
“بالکل اسی طرح ختم کریں گے جسطرح آپ نے میردراب خان اور خزیمن دراب خان کو ختم کیا تھا۔”
اسکی آنکھوں کی سرخی بڑھنے لگی۔اسکی بات نے ان کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی مگر اس پہ ظاہر کیے بناء ہنسنے لگے اور پھر اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولے۔۔
“ہاں۔۔۔بالکل اسی طرح۔۔۔تم دیکھتے جاو کہ میں تمھارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔”
وہ اسے وارن کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
“تمھارا قصہ تو میں ختم کروں گا میر سربلند خان۔۔کہانی بہت لمبی ہو گئی ہے تمھاری۔۔۔”
میرسربلند خان کے اتنے کھلے اعتراف پہ اسے لگا جیسے اسکے زخموں سے خون رسنے لگا ہو۔اب جو کچھ بھی کرنا تھا جلدی کرنا تھا۔وہ جانتا تھا کہ وہ اسے روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
_________________________________________
پھر اس نے اس طریقے سے اپنے پلان کو انجام تک پہنچایا کہ سب دیکھتے رہ گئے۔جبار خان کے خلاف تو ٹھوس ثبوت پہلے ہی وہ جمع کر چکا تھا۔سب سے اہم کام جس نے میرسربلند خان کے ہاتھ ان کی پشت پہ ہی باندھ دئیے تھے وہ تھا میڈیا کے سامنے جبار خان کو لانا۔شروعات میں تو انھوں نے بہت کوشش کی کہ وہ اس بات کو میڈیا کے سامنے نہ آنے دیں مگر ضیغم نے انھیں موقع ہی نہیں دیا اور ساری حقیقت کھل گئی۔اب انھیں پیچھے ہٹنا ہی تھا کیونکہ اس کے خلاف کھڑے ہونے سے نا صرف ان کی سیاسی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ تھا بلکہ گاوں میں جو ان کی اجارہ داری قائم تھی وہ بھی ختم ہو جاتی۔لہذا خود کو بچانے کے لئے انھوں نے میڈیا کے سامنے خود کو اس معاملے سے لاعلم ظاہر کیا اور اس بات پہ یقین دلایا کہ اگر انھیں معلوم ہوتا تو بہت پہلے ہی وہ اسے قانون کے سامنے لا چکے ہوتے۔ضیغم اخبارات میں ان کے ڈپلومیٹک بیانات پڑھ پڑھ کر ہنستا رہتا۔
پھر میرسربلند خان بھی جبار خان کو سزا دلوانے میں پیش پیش رہے۔
جبار خان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔اس نے جب دیکھا کہ سب ہی پیچھے ہٹ گئے ہیں تو اس نے بھی عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا اور اسطرح یہ کیس اپنے انجام کو پہنچا۔ضیغم کی اتنی بڑی کامیابی پہ لوگ زمان خان کو مبارک باد دے رہے تھے۔اخبارات میں اس کے اس قدم کو سراہا جا رہا تھا۔
جسطرح اس نے اتنی مشکلات کا سامنا کر کے اس نے معاملے کو ہینڈل کیا تھا وہ قابل تحسین تھا۔
“ویل ڈن ینگ مین۔۔”
ڈی۔آئی۔جی صاحب نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔وہ اس وقت اسکے آفس میں موجود تھے۔
“تھینک یو سر۔۔! لیکن میری اس کامیابی کا سہرا آپ کو جاتا ہے۔آپ نے جسطرح میرا ساتھ دیا ہے۔میں اکیلا تو کچھ بھی نہیں کر پاتا۔آپ کی دی ہوئی ہمت اور حوصلے نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں اس موذی رسم کو اپنے گاوں سے دور پھینکنے میں کامیاب ہوا۔میں بہت خوش ہوں کہ میں ایسا کر پایا۔اگر میں یہ سب نہ کر پاتا تو زندگی میں کبھی بھی خود سے نظریں نہ ملا سکتا۔”
ضیغم کے چہرے پہ بیک وقت خوشی اور دکھ کے ملے جلے تاثرات تھے۔
“مجھے فخر ہے تم پہ۔۔۔اللہ تمھیں مزید کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔اب میں چلتا ہوں۔امید ہے کہ آئیندہ اسطرح کے مسائل یہاں پیدا نہ ہوں گے۔”
وہ اٹھتے ہوئے بولے۔
“انشاءاللہ۔۔۔!!”
وہ ان سے مصافحہ کرتے ہوئے بولا۔
_________________________________________
“خان جی اب پانی سر سے بہت اونچا ہو گیا ہے۔وہ تو ہم سے کہیں زیادہ چالاک نکلا۔۔آپ اور میں کچھ بھی نہیں کر پائے اور اس نے ساری بساط ہی الٹ دی۔”
باتور خان ان کے سامنے بیٹھا ہوا تھا جبکہ وہ اسکی بات پہ پہلو بدل کر رہ گئے۔
“اب تو لوگوں کی نگاہیں مجھے میرا تمسخر اڑاتی محسوس ہوتی ہیں۔”
باتور خان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسطرح سے وہ تمام حالات دوبارہ سے اپنے لئے ہموار کر لے۔میں نے تو اسے ڈرانے کی بھی کوشش کی مگر نجانے کس کا خون ہے کسی سے ڈرتا ہی نہیں۔”
اپنی بات کے اختتام پہ اس نے میرسربلند خان کی جانب دیکھا تھا۔ان کے لبوں پہ اسے مغرورانہ مسکراہٹ کھیلتی نظر آئی۔
“ہمارا خون ہے۔۔۔۔ہمارا۔۔۔اس نے ثابت کر دیا کہ اس کی رگوں میں ہمارا خون دوڑ رہا ہے۔۔۔کسی سے نہ ڈرنے والا۔۔۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا۔۔اسے دیکھتا ہوں تو اپنے خون پہ فخر ہونے لگتا ہے۔”
ان کے لہجے میں جھلکتا فخر باتور خان کو ایک آنکھ نہ بھایا۔
“خان جی۔۔۔لگتا ہے آپ دشمن کو دوست بنانا چاہتے ہیں۔”
باتور خان اپنی گھنی مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے بولا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔باتور خاناں۔۔! اگر میں ایسا چاہتا بھی ہوں تو کیا مضائقہ ہے۔آخر کو خون ہے میرا۔۔۔۔جوش تو مارے گا ہی۔۔۔اور ویسے بھی جب دشمن آپ سے زیادہ طاقتور ہو تو اسے دوست بنا لینا چاہیئے۔۔انسان فائدے میں رہتا ہے۔”
وہ باتور خان کے لال بھبوکا چہرے کو دیکھتے ہوئے بولے۔اس کے دل میں جلی حسد و جلن کی آگ انھیں مزا دینے لگی۔
“خان جی۔۔۔دشمن کو دوست وہ بنائیں جو کاہل ہوں۔میں کاہل نہیں ہوں۔۔۔آپ اسے دوست بنائیں میں تو اس سے نسلی در نسل دشمنی نبھانے والا ہوں۔”
وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔
“میں تمھیں اس قابل چھوڑوں گا تو تم دشمنی نبھاو گے۔میں تو سوچ رہا ہوں کہ اس دشمنی کواسی نسل میں اس کے انجام تک پہنچا دوں۔”
ضیغم کی آواز نے دونوں کو بیک وقت چونکنے پہ مجبور کیا۔دونوں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ مکمل یونیفارم میں اپنے سینے پہ ستارے سجائے پورے قد سے ان کے سامنے کھڑا تھا۔
“لگتا ہے آنے والے وقت کو سوچ کر ہی تمھارے باپ نے تمھارا نام رکھا تھا بلکہ ہمیں تو لگتا ہے کہ تم ہم پر گئے ہو۔۔بے دھڑک ہر جگہ گھس جانے والے۔”
میرسربلندخان بانہیں پھیلائے اسکی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔ضیغم نے ہاتھ بڑھا کر انھیں خود سے کچھ فاصلے پہ روک دیا۔
“میں دشمنوں کو اتنا سر چھڑانے کا عادی نہیں ہوں۔میرے نزدیک دشمن کو اسکی حد میں رکھنا بہتر ہوتا ہے ورنہ وہ منہ تک آنے میں ایک پل نہیں لگاتا۔”
وہ مضبوط قدم اٹھاتا باتور خان کے عین سامنے جا کھڑا ہوا۔
“ایک تیر نشانے پہ لگ جانے سے تم خود کو تیس مار خان سمجھنے لگے ہو۔”
باتور خان دو قدم مزید آگے آیا۔
“باتور خان۔۔۔میر ہمارا بھتیجا ہے۔آج سے یہ تمھارے لئے اتنا ہی اہم اور قابل عزت ہونا چاہیئے جتنا کہ ہم۔”
میرسربلندخان نے باتور خان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جبکہ ان کی بات نے ضیغم کو مسکرانے پہ مجبور کیا تھا۔باتور خان کو اسکی ہنسی اپنا تمسخر اڑاتی محسوس ہوئی۔
“میں چلتا ہوں خان جی۔۔۔آپ کو آپ کا بھتیجا مبارک ہو۔”
وہ یہ کہہ کر وہاں رکا نہیں اور تیز قدم اٹھاتا وہاں سے چلا گیا۔
“کیوں ٹھیک کہا نا ہم نے۔۔؟”
باتور خان کے جانے کے بعد انھوں نے اس سے اپنی بات کی تصدیق چاہی۔
“مجھے یہ سب نہیں چاہئیے۔”
وہ اپنے کندھے سے ان کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا۔
“تو پھر کیا چاہئیے۔۔؟”
وہ پلٹ کر صوفے پہ جا بیٹھے۔
“قادر خان۔۔۔۔۔مجھے قادر خان چاہئیے۔”
وہ پرسکون انداز میں چلتا ان کے سامنے آ بیٹھا۔
“کون قادر خان۔۔۔۔؟” وہ انجان بنے۔
“وہی قادر خان جس کے کندھے پہ بندوق رکھ کر آپ نے میرے ماں باپ کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا تھا۔”
وہ اسکی نگاہوں کی ذد میں تھے۔
“اچھا۔۔۔۔وہ قادر خان۔۔۔دراب خان نے اسکی غگ کی ہوئی لڑکی سے شادی کر لی تھی تو قادر خان نے اپنا بدلہ لیا۔سب جانتے ہیں چاہو تو گاوں میں کسی سے پوچھ لو۔۔میں اس شادی سے لاعلم تھا۔ورنہ اسے ضرور بچا لیتا۔۔۔وہ تمھاری ماں کو لے کر شہر چلا گیا تھا۔۔وہیں قادر خان نے انھیں قتل کیا اور پھر اسکے بعد اسکا کچھ پتہ نہ چل سکا کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ہم نے اسے پھر نہیں دیکھا بلکہ ہم نے تو اسے ڈھونڈنے کی بھی بہت کوششں کی مگر وہ نجانے کہاں غائب ہو گیا۔۔۔ہم تو تمھارے وجود سے بھی ناواقف تھے۔۔ورنہ تمھیں اسطرح لاوارثوں کی طرح پلنے دیتے۔”
وہ اپنی آنکھیں مسلنے لگے۔
“میں سچ جانتا ہوں لہذا آپ مجھے گمراہ کرنے کی کوشش ترک کر دیں۔”
اس نے ان کی بات کو ذرہ برابر بھی اہمیت نہ دی۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔”
وہ اسکے پاس آتے ہوئے بولے۔
“مجھے بابا سب بتا چکے ہیں۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس نے یہ آپ ہی کہ شے پہ کیا تھا اور آپ نے ہی اسے پناہ دے رکھی ہے لیکن خیر۔۔۔ وہ زیادہ دیر تک مجھ سے چھپ نہیں سکے گا۔میں اسے بہت جلد سامنے لے آوں گا۔”
ضیغم نے دروازے کی جانب قدم بڑھائے۔
“میر ضیغم خان۔۔۔۔اب بھی وقت ہے تمھارے پاس۔۔ہمارے پاس لوٹ آو۔۔ہم تمھیں اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ تم ہمارا خون ہو۔۔”
ان کی بات پہ اسکے بڑھتے قدم رک گئے مگر پھر بناء کچھ کہے کمرے سے نکل گیا۔
اسکے جانے کے بعد انہوں نے اپنا موبائل نکالا۔
“ہاں۔۔۔تم وہیں رہو۔۔۔دراب خان کا بیٹا تمھاری تلاش میں ہے۔اگر تم اسکے ہاتھ لگ گئے تو ہم دونوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونگے۔اس لئے تمھارے لئے یہی مناسب ہے کہ تم ابھی مت آو۔۔۔۔”
مختصرا کہہ کر انھوں نے موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا۔ان کی پرسوچ نظریں کسی ایک نقطے پہ رکی ہوئی تھیں۔
_________________________________________
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *