Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode21
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode21
Ghag By Mahwish Urooj Episode21
وہ اس وقت تھانے میں انسپیکٹر عمر خان کے آفس میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ یہاں آنا تو نہیں چاہتے تھے لیکن ضیغم نے ان سے کہا تھا کہ اس کام میں دیر نہیں ہونی چاہئیے۔باتور خان کے ڈر سے وہ یہ قدم اٹھانے سے بھی گھبرا رہے تھے۔جب سے ضیغم اور زمان خان گھر میں نہیں تھے وہ اور ذہرہ بی بی مسکاء کے پاس ہی تھے۔حالانکہ ضیغم حوالدار عبداللہ کو ان کی حفاظت پہ مامور کر گیا تھا۔ضیغم کے ہی کہنے پہ وہ باتور خان کے خلاف ایف۔آئی۔آر لکھوانے آئے تھے۔جسمانی طور پر وہ یہاں موجود تھے مگر ذہہن گھر کی جانب لگے تھے۔زمان خان کا اب تک کچھ پتہ نہ چل سکا تھا۔وہ اپنی پوری کوشش کر رہا تھا۔اسے شک تھا کہ زمان خان کو شہر میں ہی رکھا گیا ہے۔انسپیکٹر عمر خان نے بھی اسے زمان خان گاوں میں موجود نہیں ہیں۔وہ کچھ نفری لے کر میرسربلندخان کی حویلی گیا تھا۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ میرسربلند خان تو صبح سویرے ہی شہر جا چکے تھے اور باتور خان گاوں میں ہی ہے۔انسپیکٹرعمر خان اور ضیغم کو یقین تھا کہ میرسربلند خان نے یہ کام باتور خان کے ہاتھوں کروایا ہے۔انسپیکٹر عمر خان نے پہلے حویلی اور پھر حجرے کی تلاشی لی۔جہاں سے کوئی سراغ نہ مل سکا لیکن پھر ضیغم نے اسے حجرے کی دائیں طرف بنی تنگ و تاریک گلی کے متعلق بتایا جسے سب کی نظروں سے چھپانے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی اور اسے یہ بتایا کہ وہاں سے اسے زمان خان کا رومال بھی ملا تھا جو وہ ہمیشہ اپنے کندھے پہ لئے رکھتے تھے۔جو کہ میرسربلند خان اور باتور خان کے خلاف ایک مضبوط ثبوت تھا اور زمان خان کو اغواء کرنے کے بعد وہیں رکھا گیا تھا۔مزید ثبوت ملنے کی صورت میں ضیغم نے انسپیکٹر عمر خان کو وہاں دوبارہ سرچ آپریشن کیا تھا۔جہاں سے انھیں جوتوں کی ایک جوڑی بھی ملی جو کہ ان کے خیال میں زمان خان کے ہو سکتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ انھیں کچھ اور شواہد بھی ملے تھے۔
“السلام و علیکم۔۔!!” رحم دین انسپیکٹرعمر خان کے آفس میں بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آفس میں داخل ہوا۔
“واعلیکم السلام۔۔!!” وہ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔
“بیٹھئیے۔۔”
وہ کرسی سنبھالتے ہوئے بولا۔اپنی کیپ اتار کر اس نے ٹیبل کے دائیں جانب رکھ دی اور ان کی طرف متوجہ ہوا۔رحم دین بھی بیٹھ چکے تھے۔ان کے متوجہ ہوتے ہی انسپیکٹر عمر خان نے ایک ٹرانسپیرنٹ تھیلا ان کے سامنے ٹیبل پر رکھا۔جس میں سے جوتوں کی ایک جوڑی دکھائی دے رہی تھی۔
“مجھے سرچ آپریشن کے دوران وہاں سے یہ جوتوں کی جوڑی ملی تھی اور ہمیں شک ہے کہ یہ زمان خان کے ہیں۔”
انسپیکٹر عمر خان نے تھیلے کی طرف ہاتھ میں پکڑے پین سے اشارہ کرتے ہوئے انھیں دیکھا۔رحم دین نے ہاتھ بڑھا کر تھیلا اٹھا لیا۔
“ہاں۔۔۔یہ اسی کے ہیں۔”
انھیں یاد آیا کہ وہ یہی جوتے پہنتے تھے۔انھوں نے تھیلا اس کی جانب بڑھایا۔
“ٹھیک ہے۔۔”
انسپیکٹر عمر خان نے شاپر ان کے ہاتھ سے لے لیا تھا اور نیچے رکھ دیا اور انٹرکام پہ ایس۔ایچ۔طارق خان کو بلایا۔ایس۔ایچ۔او طارق خان آفس میں داخل ہوئے اور سلیوٹ کیا۔
“طارق خان۔۔رحم دین صاحب کو لے جائیں اور ان کی ایف۔آئی۔آر درج کرو اور اس کے ساتھ ہی تھوڑی دیر بعد ہی مجھے اس ایف۔آئی۔آر پہ عمل در آمد چاہئیے۔”
انسپیکٹر عمر خان نے ایس۔ایچ۔او طارق خان کی جانب دیکھا۔
“یس سر۔۔۔!”
طارق خان نے ایک بار پھر سلیوٹ کیا اور واپس مڑنے لگا۔
“آپ جائیے رحم دین چاچا۔۔۔اور بناء ڈرے اور ہچکچاتے اپنی شکایت لکھوایئے۔۔۔اور تم بھی ایک ایک تفصیل لکھو۔”
اس نے پہلے رحم دین اور ایس۔ایچ۔او طارق خان کو دیکھا۔
“میں پہلے بھی کئی بار اس سلسلے میں یہاں آ چکا ہوں مگر کسی نے بھی میری بات کو سنجیدہ نہیں لیا بلکہ میرا مذاق اڑایا گیا۔آپ ایس۔ایچ۔او صاحب سے پوچھ لیں۔میں نے ان سے درخواست کی تھی کہ اس سلسلے میں مجھ غریب کی مدد کریں مگر افسوس کہ انھوں نے میری بات پر توجہ نہ دیں۔اگر یہ اس وقت میری بات پہ سنجیدگی سے عمل کر لیتے تو آج مجھے یہ حالات نہ دیکھنے پڑتے۔۔ڈر ڈر کر زندگی نہیں گزارنی پڑتی۔۔۔۔۔مگر افسوس۔۔۔!!”
انھوں نے ایک گہری سانس خارج کی اور کھڑے ہو گئے۔ان کی آنکھوں کی نمی انسپیکٹر عمر خان کو سر جھکانے پر مجبور کر گئی تھی۔ان کی آواز میں درد ہلکورے لے رہا تھا۔۔وہ درد۔۔۔وہ تکلیف۔۔جو انھوں نے اس سارے عرصے میں جھیلی تھی۔
“میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں اور اپنے عملے کی جانب سے آپ سے معافی کا خواستگار ہوں۔”
انسپیکٹر عمر خان اٹھتے ہوئے بولا اور پھر کڑی نظروں سے ایس۔ایچ۔او طارق خان کی طرف دیکھا۔طارق خان اس کی کڑی نظروں کی تاب نہ لا کر چہرہ جھکا گیا۔عمر خان کو اس کے چہرے شرمندگی کا شائبہ تک دکھائی نہ دیا تو وہ افسوس سے سر ہلا کر رہ گیا تھا۔
“چاچا۔۔۔اب ایسا نہیں ہو گا۔۔۔آپ جائیے اور باتور خان کے خلاف غگ کرنے اور آپ کی فیملی کو اس تمام عرصے میں تکلیف سے دوچار کرنے پہ پرچہ کٹوائیے اور بھروسہ رکھیے اس بار آپ کو انصاف ضرور ملے گا۔۔میرا وعدہ ہے آپ سے کہ اب ظالم کو وہیں پہنچاوں گا جہاں اسے ہونا چاہئیے۔”
انسپیکٹر عمر خان نے رحم دین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر انھیں تحفظ کا احساس دلایا۔
“طارق خان مجھے اپنی بات دہرانے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہئیے۔”
انسپیکٹر عمر خان نے ایس۔ایچ۔او طارق خان کو طنزیہ نظروں نظروں سے دیکھا۔
“نن۔۔۔نہیں سر۔۔۔چلو چاچا۔۔۔”
وہ رحم دین کو اشارہ کرتا باہر چلا گیا۔
“آپ بےفکر ہو کر جائیں۔”
اس نے ایک بار پھر انھیں پریقین نگاہوں سے دیکھا۔اس کے یقین دلانے پر رحم دین سر ہلا کر دروازے کی طرف بڑھ گئے۔
“لیکن انسپیکٹر صاحب۔۔۔باتور خان کہیں کوئی اور قدم نہ اٹھا لے۔۔آپ جانتے نہیں ہیں اسے۔۔زمان خان ان کے قبضے میں ہے۔کہیں میرے اس قدم سے وہ انھیں نقصان نہ پہنچائیں۔ہمارے اس عمل سے کرم دین خاموش نہیں بیٹھے گا۔وہ فورا میرسربلند خان سے رابطہ کرے گا اور زمان خان۔۔۔۔۔۔خدانخواستہ۔۔۔”
رحم دین کچھ سوچتے ہوئے پلٹے تھے۔
“میں اسے بھی کچھ کرنے کا موقع نہیں دوں گا۔۔آپ بےفکر رہئیے۔آپ کو اور آپکے خاندان کو پورا پورا تحفظ دیا جائے گا۔۔۔مجھ پہ بھروسہ رکھئیے۔”
وہ مزید بولا تو رحم دیں گہری سانس خارج کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔انسپیکٹر عمرخان کی پرسوچ نگاہیں انھیں جاتے ہوئے دیکھتی رہیں۔۔۔
ان کے جانے کے بعد وہ فائل کھول کر ایک ایک پوائنٹس نوٹ کرنے لگا۔وہ بھی سوچ سوچ کر تھک گیا تھا کہ انھوں نے زمان خان کو کہاں چھپایا ہوگا۔اچانک اس کے ذہہن میں جھماکا ہوا وہ فورا اٹھا اور لاک اپ کی جانب بڑھا جہاں شکور تھا۔وہ اسے میرسربلند خان کے شہر میں موجود خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں بتا سکتا تھا۔یہی سوچ اسے شکور کے پاس لے آئی۔
_________________________________________
ایف۔آئی۔آر درج ہونے کے بعد انسپیکٹر عمر خان نے ایس۔ایچ۔او طارق خان کو باتور خان کو گرفتار کرنے کو کہا۔۔ایس۔ایچ۔او طارق خان کچھ سپاہیوں کو لے کر باتور خان کے گھر پہنچا۔انھیں ادھر ادھر سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ باتور خان گھر پہ ہی ہے اس لئے وہ سیدھے اس کے گھر آئے تھے۔ایس۔ایچ۔او جانتا تھا کہ دونوں باپ بیٹے نے خوب شور مچانا تھا اب وہ اپنے کرئیر کو لے کسی قسم کی بھی غلطی نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے وہ ہر طرح کے ردعمل کے لئے خود کو تیار کر چکا تھا۔اب اسے اپنی نوکری بچانی تھی نہ کہ ان مجرموں کو۔
“گھر پہنچنے پہ اس نے عبداللہ کو دستک دینے کو کہا۔
دستک دینے کے تھوڑی دیر بعد کرم دین نے دروازہ کھولا۔ایس۔ایچ۔او کو دیکھ کر اسکی باچھیں چر گئیں۔
“ارے آج تو بڑے بڑے لوگ ہمارے غریب خانے پہ آئے ہیں۔۔۔ٹھہرو میں بیٹھک کھولتا ہوں۔”
اس نے ایس۔ایچ۔او کو اندر آنے کا راستہ دیا اور خود واپس مڑ گیا۔ان کا رویہ ایسا تھا جیسے ایس۔ایچ۔او صاحب پہلے بھی یہاں آتے رہے ہوں۔
“ہم اندر آنے کے لئے نہیں آئے ہیں کرم دین۔۔۔۔باتور خان کو بلوا دو۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔کرم دین پہلے تو حیران ہوا پھر مسکراتے ہوئے بولا۔
“ایس۔ایچ۔او صاحب۔۔۔آپ کچھ ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔۔ہم سے کوئی غلطی ہو گئی ہے کیا۔۔اندر چلیے ساری ناراضگی دور کر دیں۔”
کرم دین خوشامدی لہجے میں بولا۔
“کرم دین تم باتور خان کو بلا رہے ہو یا میں خود اندر چلا جاوں۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان کے چہرے پہ چھائی سنجیدگی نے کرم دین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
“میں بلاتا ہوں۔”
وہ انھیں وہیں چھوڑ کر اندر کیطرف مڑ گیا۔تھوڑی دیر بعد باتور خان باہر آیا۔کھدر کا نسواری شلوار سوٹ زیب تن کیے۔۔مونچھوں کو تاو دیتا،بارعب انداز میں ایس۔ایچ۔او کیطرف بڑھا۔اس نے طارق خان سے بغلگیر ہونے کے لئے ہاتھ پھیلائے مگر طارق خان نے ہاتھ بڑھا کر اسے روک دیا۔
“کیا بات ہے ایس۔ایچ۔او صاحب۔۔۔۔کیا اے۔ایس۔پی صاحب نے معطل کر دیا ہے نوکری سے یا پھر آپ کے پوشیدہ کارہائے نمایاں ان پر ظاہر ہو گئے ہیں۔آپ کو غصے میں پہلی بار دیکھا۔۔وہ بھی ہم پر۔۔۔”
باتور خان نے مسکراتے ہوئے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا۔
“باتور خان میں تمھیں گرفتار کرنے آیا ہوں۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے دونوں باپ بیٹے کے سر پہ بم پھوڑا۔
“کس جرم میں۔۔۔”
باتور خان کے مسکراتے لب سکڑ گئے۔کرم دین کے چہرے سے بھی مسکراہٹ غائب ہوئی۔
“رحم دین نے تمھارے خلاف رپورٹ درج کروائی ہے کہ تم نے ان کی بیٹی پہ ناحق غگ کر کے اسے کہیں بھی شادی سے روکے رکھا اور انھیں تنگ کرتے رہے۔اس کام میں تمھارا باپ بھی تمھارے ساتھ شامل تھا۔اوپر سے سختی سے آرڈر ہے کہ غگ ایک غیرشرعی اور غیرقانونی عمل ہے لہذا اس کا ارتکاب کرنے والے پہ سخت سے سخت کاروائی کرنے کا آرڈر آیا ہے۔قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی لڑکی کو اسکی مرضی کے بناء شادی کے لئے مجبور نہیں کیا جائے یا پھر اسے اپنا پابند کیا جائے۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے اسکے سامنے ہتھکڑی لہرائی۔
“تم شاید بھول گئے ہو کہ میں کون ہوں۔”
باتور خان نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
“تم جیسے مجرموں کو قانون کبھی نہیں بھولتا باتور خان۔۔۔۔تم بھی کسی بھول میں مت رہنا۔تمھارے جرائم پر بھی فل اسٹاپ لگانے کا وقت آ گیا ہے۔”
ایس۔ایچ۔او نے باتور خان کا انداز اسے لوٹایا۔
“بھول تو تم گئے ہو اپنی اوقات۔۔۔ہمارے ٹکڑوں پہ پلنے والے۔۔۔”
باتور خان اس کی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا۔
“سیدھی طرح چلو۔۔۔زیادہ اکڑ دکھائی نہ تو توڑ کے ہاتھ میں دے دوں گا۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے اسے گریبان سے پکڑ کر جھٹکا دیا۔اس انداز پہ کرم دین بھڑک کر سامنے آیا۔
“تمھارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ سب باتور خان نے کیا اور وارنٹ ہے تمھارے پاس یا کسی کے کہنے پر یونہی منہ اٹھائے چلے آئے ہو۔”
“ہاہاہا۔۔۔۔۔۔یہ رہے وارنٹ تیرے ہونہار سپوت کی گرفتاری کے۔۔۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے قہقہہ لگایا۔اس کے انداز دیکھ کر باقی پولیس والے بھی حیرانی سے کھڑے رہ گئے۔ایسا پہلی بار ہوا تھا ورنہ تو وہ آج تک ان کی ہاں میں ہاں ملاتا آیا تھا۔لیکن اب وہ اس کایا پلٹ پہ خوش بھی تھے اور حیران بھی۔
“تم اسطرح میرے بیٹے کو نہیں لے جا سکتے۔۔رحم دین تو بے غیرت ہے بیٹی کا نام تھانے میں لکھوانے پہنچ گیا اور کیا تم جانتے نہیں ہو کہ رحم دین نے اپنی بیٹی کو زمان خان کے بیٹے کے ساتھ بھگا دیا تھا۔سب سے چھپا کر اسکا نکاح کروایا تھا۔اب اس سب میں میرے بیٹے کا کیا قصور۔۔۔”
کرم دین کی زبان ذہر اگلنے لگی تھی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایس۔ایچ۔او طارق خان کو اٹھا کر کہیں دور پھینک آتا۔
“اپنا منہ بند رکھو ورنہ تمھیں بھی تمھارے بیٹے کے ساتھ ہی بند کر دوں۔۔۔عبداللہ کرم دین کو بھی لے چلو۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے حوالدار عبداللہ سے کہا۔عبداللہ جو بالکل الرٹ کھڑا تھا فورا آگے بڑھا۔
“نہیں۔۔۔بابا تم پیچھے ہٹو۔”
باتور خان نے کرم دین کو پیچھے کیا اور ہاتھ ایس۔ایچ۔او کے آگے کر دئیے۔ایس۔ایچ۔او طارق خان نے ہتھکڑی باندھی۔
“مگر باتور خان۔۔۔۔۔”
کرم دین اسے روکنے کے لئے آگے بڑھے۔
“بابا۔۔۔تم خان جی کو بتا دو۔۔وہ خود ہی ان سے نپٹ لیں گے اور شام تک میں گھر میں ہوں گا۔”
وہ مڑ کر کرم دین سے کہنے لگا اور پھر کرم دین کے چہرے کے قریب آ کر اسکے کان میں کچھ کہا تھا۔
“چلو۔۔۔یہ باقی باتیں جب جیل آئے گا تمھارا باپ۔۔تب اس سے کر لینا۔”
ایس۔ایچ۔او صاحب نے باتور خان کو گاڑی کی جانب دھکیلا۔باتور خان نے قہر بھری نظروں سے سے اسکی طرف دیکھا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔کرم دین بھی اسکے گاڑی میں بیٹھتے ہی اندر کی جانب لپکا۔یقینا اسے یہ بات جلد سے جلد میرسربلند خان تک پہنچانی تھی۔باتور خان کے بیٹھتے ہی وہ بھی گاڑی کیطرف بڑھے۔
“کیوں۔۔۔۔کیسا لگا میرا انداز۔۔۔۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے باقی سب کیطرف دیکھ کر اپنی مونچھوں کو سنوارا۔
“ذبردستی سر۔۔۔۔۔”
عبداللہ نے ہنستے ہوئے اسے داد دی تو وہ سب بھی ہنستے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئے۔ان سب کے قہقہے باتور خان کو آگ لگا گئے۔
“اوئے نیچی کر آنکھیں۔۔۔ورنہ تیری آنکھیں نکال دوں گا۔”
عبداللہ نے بھی اپنی دھاک بٹھانی ضروری سمجھی۔
“چلو۔۔۔۔”
ایس۔ایچ۔او طارق خان نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ڈرائیور کو چلنے کے لئے کہا۔ڈرائیور نے گاڑی کا رخ تھانے کی جانب کر دیا۔
_________________________________________
“ہاں کیا خبر ہے عمر خان۔۔؟”
ابھی وہ ایک اہم میٹنگ سے فارغ ہو کر اپنے آفس آیا تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون بجنے پر اس نے اپنی پاکٹ سے اپنا موبائل نکالا۔موبائل کی اسکرین پہ انسپیکٹر عمر خان کا نام بلنک ہوتا دیکھ کر اس نے فورا کال ریسیو کی۔
“سر۔۔۔!! میرسربلند خان تو آج صبح ہی شہر چلے گئے۔جب میں وہاں سرچ وارنٹ لے کر پہنچا تو وہ گھر پہ موجود نہیں تھے۔ان کے چوکیدار گلاب خان نے ہی ان کے شہر چلے جانے کے متعلق بتایا اور یہ بھی کہ کچھ دن وہ شہر میں ہی رہیں گے۔فیملی بھی کافی ٹائم سے شہر میں ہی ہے۔تلاشی لینے پہ ہمیں وہاں کوئی بھی قابل گرفت چیز نہیں ملی دوسرا ملازموں کے علاوہ وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ہم نے ملازموں سے بھی پوچھ تاچھ کی۔۔۔انھیں بھی کچھ نہیں معلوم اس بارے میں۔۔۔پھر ہم نے پورے حجرے کو بھی چھان مارا۔وہاں ملنے والے شواہد اس بات کی طرف اشارہ دلا رہے تھے کہ زمان خان کو وہیں رکھا گیا تھا اور وہاں سے ہمیں ان کے جوتے بھی ملے ہیں۔رحم دین ان کی تصدیق کر دی ہے کہ زمان خان کے ہی جوتے ہیں۔۔دیوار پہ لگے خون کے سیمپلز بھی ہم نے اٹھا کر لیباٹری بھجوا دیئے ہیں۔رپورٹ جلد ہی مل جائے گی۔”
انسپیکٹر عمر خان اسے ساری تفصیل سے آگاہ کر رہا تھا اور وہ خاموشی سے سن رہا تھا۔
“اور باتور خان۔۔۔۔۔اسکا کیا بنایا؟؟”
ضیغم نے پوچھا۔
“سر وہ تو لاک اپ میں ہے۔۔اسکی تو آپ فکر ہی مت کیجئیے۔ایسا تگڑا کیس بناوں گا کہ جیل سے چھوڑنا تو دور کی بات بیل بھی نہیں ہو پائے گی۔ہمیں شک ہے کہ اسی نے قادر خان کو مروایا ہے تاکہ وہ قانون کے ہاتھوں بچ سکے۔ہنگامہ تو اس کے باپ نے بہت مچایا ہوا ہے۔لیکن میں ان دونوں کیسسز کی چارج شیٹ اسی کے خلاف فائل کروں گا۔”
انسپیکٹر عمر خان نے ایس۔ایچ۔او طارق خان کی طرف دیکھا جو وہیں ٹیبل کی دوسری جانب بیٹھا تھا۔وہ کافی دیر سے بیٹھا اسی کیس پہ انسپیکٹر عمر خان کے ساتھ ڈسکشن کے لئے آیا تھا لیکن عمر خان اسے موقع نہیں دے رہا تھا۔
“لیکن ایک بات ہے۔۔اگر میرسربلند خان کے کہنے پر کوئی آرڈر آ گئے تو پھر ہم کیا کریں گے۔۔مجبورا ہمیں۔۔۔۔”
وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہوا۔
“اسے کسی صورت نہیں چھوڑنا ہے عمر خان۔۔ایسا کرو کہ عبداللہ کو بلوا لو۔۔مزید اب اسکی ضرورت نہیں ہے۔سب سے بڑا مسئلہ باتور خان کا تھا۔مجھے ڈر تھا کہ بابا کے بعد ان کا اگلا قدم میرے گھر کی جانب اٹھ سکتا ہے۔اب باتور خان جیل میں ہے تو اس جانب سے اب مجھے سکون ہے۔تم بس باتور خان کے خلاف کیس جلدی عدالت میں پیش کرو۔۔۔بلکہ ایسا کرو کہ میڈیا کو انوالو کرو۔۔۔میڈیا کے بیچ میں آنے سے میرسربلندخان کوئی بھی قدم اٹھانے سے قاصر ہو جائے گا۔تب ہم آرام سے اس کیس کو ہینڈل کر سکتے ہیں۔ایک بار چیف جسٹس صاحب اس کیس کا نوٹس لے لیں تو اس کیس کی لگامیں خود بخود ہمارے ہاتھ میں آ جائیں گی۔میں یہاں تھا اس لئے رحم دین چاچا سے رپورٹ لکھوانے کو کہا تھا۔باتور خان کے خلاف تمھیں بہت سے گواہ مل جائیں گے۔انفیکٹ سارا گاوں ہی اس سے تنگ ہے۔وہ اس کے خلاف بڑھ چڑھ گواہی دیں۔اب اس کے سر پہ کوئی کھڑا نہیں ہوگا اور نہ میں ایسا ہونے دوں گا۔”غگ” کا ارتکاب کرنے اسے گاوں میں فروغ دینے کی وجہ سے وہ کسی بھی طرح کی نرمی کا مستحق نہیں ہے۔اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے ہمیں اسے کڑی سے کڑی سزا ہی “غگ” جیسی بیماری کا خاتمہ کر سکتی ہے تاکہ آئندہ کسی میں بھی غگ یا اس جیسی دوسری کسی بھی قبیح رسم کا ارتکاب کرنے کی جرآت نہ ہو۔”
اس کے لہجے میں عزم بول رہا تھا۔
“انشاء اللہ سر۔۔۔!! ایسا ہی ہو گا۔۔باتور خان اور میرسربلندخان جیسے لوگ اس ملک کا ناسور ہیں اور انھیں اور ان جیسے لوگوں کو ہم ضرور ان کے انجام تک پہنچائیں گے۔”
انسپیکٹر عمر خان کا پرجوش انداز دیکھ کر ایس۔ایچ۔او طارق خان نے پہلو بدلا۔
“انشاءاللہ۔۔۔!!”
ضیغم نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
“وہاں کیا امپرومینٹ ہے۔۔کچھ پتہ چلا۔۔۔کوئی سراغ۔۔؟؟”
عمر خان نے اس سے زمان خان کے متعلق پوچھا۔
“نہیں ابھی کچھ خاص کامیابی نہیں ہو سکی۔ہم اپنی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں انھیں بازیاب کروانے کی۔”
ضیغم نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔زمان خان کے ذکر پہ اس دل و دماغ میں اضطراب ہلکورے لینے لگتا تھا۔اب بھی ایسا ہی ہوا۔بہت کوشش کرنے کے باوجود کوئی بھی کامیابی نہیں ہو پا رہی تھی۔نہ دن دیکھتا نہ رات۔۔۔۔ہر پل اسے زمان خان کی جانب سے پریشانی لگی رہتی۔۔دل کو دھڑکا سا لگا رہتا۔
“باتور خان سے کچھ اگلوانے کی کوشش کرو۔۔۔وہ بہت کچھ بتا سکتا ہے۔”
ضیغم نے اسکی توجہ اس جانب دلائی۔
“سر وہ بہت ڈھیٹ ہڈی ہے۔۔۔کچھ بھی نہیں بولتا۔۔اپنے کیس کو لے کر بھی وہ کوئی پازیٹیو رسپانس نہیں دے رہا۔کچھ بھی پوچھو خاموش رہتا ہے۔میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں۔”
انسپیکٹر عمر خان نے اسے باتور خان کے متعلق بتایا جو ایک ہی “نہ” پہ اڑا ہوا تھا کہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔جہاں تک غگ کا تعلق ہے تو وہ اس بات سے بھی پیچھے ہٹ چکا ہے اور اسے بنا کسی کیس کے یہاں بند کر رکھا ہے۔سارا دن چیخ چیخ کر دہائیاں دیتا رہتا تھا کہ وہ بےگناہ ہے۔
“تم اس کا کیس جلد سے جلد عدالت میں پیش کرو اور اسکا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔وہ اتنے آرام سے تھوڑی نہ اپنی زبان کھولے گا۔ایک دو ہاتھ لگیں گے تب ہی تو کچھ بولے گا۔پریس میں معاملہ آنے کے بعد میرسربلند خان بھی کچھ نہیں کر پائے گا۔”
ضیغم نے اسے مزید صلاح دی۔
“آپ فکر نہ کریں سر۔۔۔اس معاملے کو پریس کے سامنے بریف کرنے کے بعد اس کا یہاں سے بچ نکلنا ناممکن ہو جانے والا ہے۔جہاں تک میرسربلند خان کی بات ہے تو وہ اپنی بچی کچی ساکھ گنوانا نہیں چاہے گا۔”
وہ سامنے پڑی فائل کھولتے ہوئے بولا۔
“بہت اچھے۔۔۔۔مجھے تم سے یہی امید ہے اور جب تم جیسے آفیسر پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیں ہمیں کوئی بھی مات نہیں دے سکتا۔اب میں فون رکھتا ہوں انشاء اللہ جلد ملاقات ہو گی۔”
یہ کہہ کر ضیغم نے کال ڈسکنکٹ کر دی۔دوسری جانب وہ بھی فون ٹیبل پر رکھ چکا تھا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔یہ فائل لے جاو۔”
عمر خان نے فائل اچھی طرح دیکھ کر ایس۔ایچ۔او طارق خان کے حوالے کر دی۔وہ فائل اٹھا کر جانے لگا۔
“اور ہاں۔۔۔۔اس بار کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہئیے۔۔اور ایک اور بات جو بھی کھانا قیدیوں کے لیے آئے گا سب سے پہلے تھانے کا عملہ چیک کرے گا اور پھر دیا جائے گا۔اگر اس بار کوئی بھی اونچ نیچ ہوئی تو تم سب کو ان کی جگہ پہچانے میں مجھے چند پل لگے گے۔۔۔۔اب جاو۔۔”
اسکی کہی بات کا مطلب وہ اچھی طرح سے سمجھ چکا تھا۔اس لئے خاموشی سے فائل اٹھائی اور باہر آ گیا۔ _____________________________________________
وہ اس وقت فلیٹ میں کچن میں کھڑا اپنے لئے قہوہ بنا رہا تھا۔اس وقت گھر کے ہی ہلکے پھلکے کپڑوں میں ملبوس تھا۔قہوہ کپ میں ڈال کر وہ کپ لیے لاؤنج میں آ گیا۔کپ اس نے ٹیبل پر رکھا اور خود صوفے پہ ریلیکس انداز میں بیٹھ گیا۔ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کیا۔نیوز چینل لگا کر دھیرے دھیرے قہوہ پینے لگا۔آج کی میٹنگ بہت اہم تھی۔ڈی۔آئی۔جی صاحب نے اسے ہمت دلائی تھی کہ وہ جسطرح چاہے اس معاملے کو ہینڈل کرے۔اس لئے اب وہ ریلیکس ہو کر اس معاملے پہ سوچنا چاہتا تھا۔
ٹی۔وی پہ ہیڈلائنز چل رہی تھیں۔ٹی۔وی پہ چلتی خبر پہ وہ سیدھا ہو بیٹھا۔اسکرین پہ دکھائی دیتا شخص انسپیکٹر عمر خان تھا۔اس نے فورا والیوم بڑھایا۔وہ باتور خان کیس کے متعلق میڈیا کو آگاہ کر رہا تھا۔
“ویری گڈ۔۔۔”
ضیغم نے ہاتھ میں پکڑا کپ ٹیبل پہ رکھ دیا۔انسپیکٹر عمر خان نے مسکاء کا نام ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔وہ بڑے بولڈ انداز میں انھیں تمام تفصیل سے آگاہ کر رہا تھا۔اس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ باتور خان اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور اسے ایک بااثر شخص کی پشت پناہی حاصل ہے۔ایک رپورٹر کے اس بااثر شخصیت کا نام پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وقت آنے پہ وہ اس نام کو ضرور ان کے سامنے رکھے گا۔اس کے بعد اگلی خبر چیف جسٹس کے اس کیس کا نوٹس لینے کی تھی۔جو کہ ایک اور خوشی کی خبر تھی۔چیف جسٹس نے اس معاملے کی ٹھیک سے چھان بین کرنے آرڈر دیا تھا اور اس کے پیچھے جو جو شامل ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔
خبر کے ختم ہوتے ہی اس نے انسپیکٹر عمر خان کو کال کر کے اسے اس کامیابی پہ مبارکباد دی۔عمر خان نے بھی اسکا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اس پہ اعتماد ظاہر کر کے یہ کیس اس کے حوالے کیا تھا۔عمر خان نے اسے بتایا کہ اس نے باتور خان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے اور جلد ہی اس سے اگلوا لے گا کہ اس نے زمان خان کو کہاں رکھا ہے۔کچھ ادھر ادھر باتیں کر کے ضیغم نے الوداعی کلمات کہہ کر فون بند کر دیا اور دوبارہ سے ٹیبل پہ پڑا کپ اٹھا لیا۔قہوہ ٹھنڈا ہو چکا تھا مگر پھر بھی اس نے ٹیڑھے میڑھے منہ بنا کر پی لیا۔
خالی کپ رکھ کر وہ چینل سرچنگ میں مصروف ہو گیا۔ابھی کچھ ہی ٹائم گزرا تھا کہ دروازے پہ دستک نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔وہ ریموٹ رکھ کر دروازے کیطرف بڑھ گیا۔
“ارے چاچا آپ۔۔۔۔”
رحم دین کو دیکھ کر اس نے خوشی کا اظہار کیا۔وہ اکیلے ہی دکھائی دے رہے تھے۔
“ارے برخوردار لوگ۔۔۔مصافحہ کرتے ہیں۔۔بغلگیر ہوتے ہیں۔۔سلامتی بھیجتے ہیں۔مگر یہاں تو حیرانی استقبال کر رہی ہے۔”
انھوں نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ہوئے کہا۔مگر اسکی نظر پھر بھی کہیں اور ہی اٹکی ہوئی تھی۔
“کیا بات ہے۔۔۔میرے آنے کی خوشی نہیں ہوئی تمھیں۔”
انھوں نے اس کے انداز پہ ہنسی کو لبوں میں قید ہی رکھا۔
“آپ اکیلے آئے ہیں۔۔۔ذہرہ خالہ کو بھی لے آتے۔”
اس نے انھیں اندر آنے کا راستہ دیا۔
“ارے بھئی اسکا کیا کام۔۔۔۔وہاں مسکاء اکیلی تھی۔اسے ساتھ لاتا تو مسکاء کے پاس کون رہتا۔۔۔ذرا پانی تو پلاو۔”
انھوں نے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔
“جی۔۔۔”
وہ دروازہ بند کر کے کچن کی جانب بڑھ گیا۔ابھی اس نے پانی کا گلاس انھیں پکڑایا ہی تھا کہ دروازے پہ ایک بار پھر دستک ہوئی۔
“تم رکو۔۔میں دیکھتا ہوں۔”
رحم دین گلاس رکھ کر دروازے کی جانب بڑھ گئے۔
“یہ کیا طریقہ تھا۔آپ ہمیں نیچے چھوڑ کر خود یہاں پہنچ گئے۔۔واہ بھئی۔۔۔۔یہ حال ہے۔۔”
ذہرہ بی بی انھیں پرے ہٹاتی۔۔اندر آئیں اور آخری جملہ انھوں نے ضیغم کی طرف دیکھ کر کہا۔وہ ہنستے ہوئے ان کی طرف بڑھا۔انھوں نے اسے سر پہ پیار دیا اور اس کے سینے سے لگی رہی۔
“خالہ مسکاء۔۔۔۔۔”
اس نے ان سے پوچھا۔
“السلام وعلیکم۔۔!!”
آواز کی سمت اس نے دیکھا۔بلیک شال اپنے گرد لپیٹے سرخ چہرہ لئے وہ اندر آئی تھی۔سردی کی شدت سے سرخ ہوتی ناک ضیغم کے چہرے پہ مسکراہٹ لے آئی۔
“واعلیکم السلام۔۔۔”
اس نے اسے نظروں کی گرفت میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔مسکاء بھی نظروں کا ذاویہ بدلتی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی صوفے کی جانب آئی۔
“بابا۔۔۔۔۔وہ سامان کون لے کر آئے گا اوپر۔۔۔کیا خود چل کر آئے گا۔۔آپ نے اسے ٹریننگ دی ہوئی ہے کیا۔۔؟”
اس کی بات پہ وہ مسکرا دئیے۔۔
“ارے بھئی۔۔۔یہ جوان ہے نا۔”
انھوں نے ضیغم کی طرف اشارہ کیا۔وہ ہنستے ہوئے دروازے کیطرف بڑھ گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ بیگ ہاتھ میں لئے اندر داخل ہوا۔
“مسکاء ایک کپ چائے تو بنا دو بیٹا۔۔سر میں درد ہو رہا ہے۔”
ذہرہ بی بی صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولیں۔مسکاء سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔رحم دین نے ضیغم سے زمان خان کے متعلق پوچھا۔اس نے انھیں تسلی دی کہ زمان خان جلد ہی ان کے بیچ ہونگے۔گاوں کے متعلق پوچھنے پر رحم دین نے اسے تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔وہ بہت خوش تھے۔انھوں نے اسے بتایا کہ انسپیکٹر عمر خان نے ان کا بہت ساتھ دیا۔
“ضیغم ۔۔۔۔تم گاوں میں ہوتے تو دیکھتے کہ کسطرح گاوں کے لوگوں نے باتور خان کے خلاف گواہی دی تھی۔”
وہ خوشی خوشی اسے بتا رہے تھے۔وہ بھی مسکراتے ہوئے ان کے خوشی سے چمکتے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
“بس کرم دین نے بہت تنگ کر رکھا تھا اس لئے میں انھیں لے کر یہاں آ گیا۔”
رحم دین نے یہاں آنے کی وجہ بتائی۔
“بہت اچھا کیا آپ نے۔۔۔۔ویسے بھی میں بھی یہاں ہوں اور بابا بھی انشاءاللہ مل جائیں گے۔”
وہ مسکاء کی جانب دیکھتے ہوئے بولا جو ٹرے ٹیبل پہ رکھ رہی تھی۔
“انشاءاللہ۔۔۔میرا دل گواہی دے رہا ہے زمان بھائی جلد ہی مل جائیں گے۔”
ذہرہ بی بی نے مسکاء کے ہاتھ سے کپ لیتے ہوئے کہا۔
“میں آپ لوگوں کے لیے کھانے کا بندوبست کروں۔”
ضیغم اٹھنے لگا تو ذہرہ بی بی نے ہاتھ پکڑ کر اسے روک دیا کہ گھر میں بنا لیں گے۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد مسکاء اور ذہرہ بی بی نے کچن کا رخ کیا۔دونوں نے مل کر کھانا تیار کیا۔رات کا کھانا کھانے کے بعد ذہرہ بی بی اور رحم دین آرام کی غرض سے کمرے میں چلے گئے جبکہ مسکاء کچن میں آ گئی۔وہ برتن دھو کر باہر آئی تو ضیغم لاونج میں ہی بیٹھا تھا۔وہ صوفے کی بیک سے سر ٹکائے آنکھیں موندے ہوئے تھا۔کچھ لمحے تو وہ اسے دیکھتی رہی پھر خاموش قدموں سے چلتی اس کے قریب آ بیٹھی۔اس کے پاس بیٹھنے سے ضیغم نے آنکھیں کھول دیں۔اسے اپنے قریب پا کر وہ مسکرا دیا تھا۔مسکاء نے کپ اس کی جانب بڑھایا۔۔
“بابا کا کچھ پتہ چلا۔۔؟”
مسکاء نے اس سے پوچھا۔
“میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں۔”
وہ سیدھا ہو کر بیٹھا ہی تھا کہ ٹیبل پر پڑا موبائل بجنے لگا۔اس نے تیزی سے موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔
انسپیکٹر وجدان کی کال تھی۔
“ہاں وجدان کیا خبر ہے۔۔؟”
دوسری جانب نجانے اس نے کیا کہا کہ وہ فورا کمرے کیطرف بھاگا۔
“کیا بات ہے۔۔۔۔خیر تو ہے نا۔۔؟؟”
مسکاء کمرے میں آئی تو وہ الماری سے یونیفارم نکال رہا تھا۔
“سب ٹھیک ہے۔۔۔تھانے جا رہا ہوں۔” وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔مسکاء وہیں بیڈ پہ بیٹھ گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ یونیفارم پہنے واش روم سے برآمد ہوا۔
“میں جا رہا ہوں۔۔۔تم آ کر دروازہ بند کر لو۔” وہ فائل اٹھا کر روم سے باہر نکل گیا۔مسکاء دروازہ بند کرنے کے لئے اس کے پیچھے آئی تھی۔
“اپنا خیال رکھیے گا۔”
مسکاء کی بات دروازے کیطرف اس کا بڑھتا ہاتھ رک گیا۔
“میں کال کرتا رہوں گا۔”
ضیغم نے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔اس کے جانے کے بعد مسکاء نے دروازہ کیا۔اس نے نرمی سے اپنے ماتھے کو چھوا جہاں ضیغم اپنی محبت کا ستارہ جگمگاتا چھوڑ گیا تھا جس کی نرم گرم روشنی اسے اپنے وجود کا ہالہ کرتی محسوس ہوئی۔اس کے گلابی لبوں پہ مسکراہٹ سجنے لگی تھی۔
جاری ہے۔۔۔
