Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode14
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode14
Ghag By Mahwish Urooj Episode14
“اوئے شکور۔۔۔۔کہاں مر گیا ہے؟”
وہ حجرے سے حویلی کے مین گیٹ کی جانب آئے تھے۔ شکور اس وقت چوکیدار سے بات کر رہا تھا۔
“جی خان جی!”
ان کے پکارنے پہ وہ بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا تھا۔
“باتور خان کو بلا کر لاو۔۔۔بلکہ اسے اپنے ساٹھ ہی لے کر آنا۔”
وہ تیز تیز بولتے ہوئے حجرے کی طرف بڑھ گئے۔
“خان جی وہ تو۔۔۔۔۔۔۔۔”
ان کی غصیلی نظروں نے اسے خاموش کیا۔
“جی خان۔۔۔۔ابھی جاتا ہوں۔”
وہ بھاگتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ تن فن کرتے حجرے میں چلے آئے۔
کچھ دیر بعد باتور خان اور کرم دین حجرے میں داخل ہوتے دکھائی دئیے۔ شکور بھی ان کے ساتھ تھا۔ باتور خان باپ کا سہارا لئے بہت دھیرے دھیرے قدم اٹھا رہا تھا۔ انھوں نے اسے قہر بھری نگاہوں سے دیکھا۔ ان کی آنکھوں سے پھوٹتے شعلوں نے باتور خان کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ وہ نظریں جھکا گیا۔
“تو اب تک زندہ ہے۔۔۔تجھے تو شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے تھا۔ پہلے تیری ناک کے نیچے سے ایک چھٹانک بھر کی لڑکی غائب ہو گئی اور اب تو ٹکے ٹکے کے لوگوں سے مار کھاتا پھر رہا ہے۔ اگر یہی حال رہا تو وہ وقت دور نہیں جب گاوں کا بچہ بھی تجھے پتھر مار کر وہیں کھڑا تجھ پہ ہنسا کرے گا۔ اگر تو چھپ کے گھر بیٹھ گیا تھا تو چوڑیاں بھی پہن لیتا۔”
انھوں نے اس پہ طنزیہ جملوں کی بوچھاڑ کر دی۔ باتور خان نے اپنے غصے پہ قابو پایا لیکن ان کے الفاظ اس کے گرد جلتی آگ کے شعلے بڑھانے کے لیے کافی تھے۔
“خان جی۔۔۔۔۔میرا بیٹا اتنا کمزور نہیں۔۔ یہ وہاں اکیلا تھا۔ وہاں موجود گاوں کے لڑکوں نے میر کے ساتھ مل کر اسے مارا ہے۔ اس کے ساتھ تو صرف وہ چغد ہی تھے۔ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔”
کرم دین نے بیٹے کی کمزوری پہ پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی۔
“ہونہہ۔۔۔۔۔سارا گاوں تم لوگوں پہ تھو تھو کرتا پھر رہا ہے۔ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ میر سے مار کھا کر یہ گھر میں منہ چھپائے بیٹھا ہے اور یہ زمان خان کو کس نے کہا ہے کہ میں نے باتور خان سے یہ سب کرنے کے لئے کہا تھا؟”
وہ باتور خان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھ رہے تھے۔ باتور خان نے ان کی بات پہ نفی میں سر ہلایا جبکہ کرم دین نے ان کے سوال پہ نظروں کا ذاویہ بدلا۔
“تو پھر اسے کیسے پتہ چلا کہ میں نے تجھے بھیجا تھا۔
انھوں نے اسے بغور دیکھ کر سچ کا پتہ لگانا چاہا۔ باتور خان نے باپ کی جانب دیکھا جو خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔
“بابا کیا تم نے بتایا ہے زمان خان کو۔۔۔۔؟؟”
اس نے باپ کی طرف دیکھا۔
” میں کیوں بتاوں گا انھیں۔”
کرم دین نظریں ملائے بغیر بولا۔
“سچ بولو کرم دین۔۔۔۔۔”
میرسربلند خان دھاڑے۔۔۔
“وہ خان جی۔۔۔۔مم۔۔۔میں۔۔۔۔۔میرے منہ سے نکل گیا تھا۔”
کرم دین انھیں اس قدر غصے میں دیکھ کر گھبرا گیا۔
“جی تو چاہتا ہے کہ تجھے اس نمک حرامی کا مطلب بتا دوں۔۔”
میرسربلند خان نے کرم دین کو گریبان سے پکڑ کر جھٹکا دیا۔ وہ سنبھل نہ سکا اور پیچھے کھڑے شکور سے ٹکرایا۔
“خان جی معاف کر دیں۔ میرے منہ سے غلطی سے نکل گیا تھا۔”
کرم دین نے ہاتھ جوڑے۔
“دفع ہو جاو میری نظروں کے سامنے سے۔۔”
وہ رخ پھیر کر بولے۔
کرم دین نے باتور خان کی طرف دیکھا۔ اس نے بھی جانے کا اشارہ کیا۔ غصہ تو کرم دین کے اندر بھی بھر گیا تھا مگر وہ ضبط کر گیا اور بنا کسی کی جانب دیکھے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے حجرے کی دہلیز پار کر گیا۔
“خان جی۔۔۔۔میرے لئے کیا حکم ہے؟”
باتور خان میر سر بلند خان کے قریب آیا۔
“تم بھی اپنی شکل گم کرو۔۔۔اب جو بھی کرنا ہو گا میں خود کروں گا۔ ضرورت نہیں ہے مجھے تم جیسے نامردوں کی۔ میں اکیلا ہی کافی ہوں اس میر کے لئے۔۔۔ شکور۔۔!!”
انھوں نے رخ پھیرے پھیرے شکور کو پکارا۔
“جی خان جی!”
شکور ہاتھ باندھے ان کے سامنے آیا۔
“پتہ کرو میر کہاں ہے اور اپنے بندے بھیج کر زرا اسکا دماغ درست کرو۔۔اسے بھی تو پتہ چلے کہ میرسربلند خان کے سامنے سے یوں اٹھ کر جانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ ایک دو جگہ سے اگر ہڈی ٹوٹ بھی گئی تو خیر ہے جڑ جائے گی۔”
وہ شکور کی طرف دیکھ کر ہنسے تھے۔ ان کے الفاظ سے ان کی نفرت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ لیکن میر کے لئے ان کے نفرت آمیز الفاظ کی وجہ ان دونوں کی سمجھ سے باہر تھی۔ شکور سر اثبات میں ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔ میرسربلند خان نے باتور خان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا اور وہاں سے چلے گئے۔ باتور خان کا وجود شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔ کل تک جو جگہ اسکی تھی آج وہاں شکور کا راج تھا۔ اس کا جی چاہا کہ یہاں موجود ہر چیز کو تہس نہس کر دے۔۔
“اپنی بےعزتی کا بدلہ تو میں تم سے لے کر رہوں گا میر۔”
وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا حجرے کی دہلیز پار کر گیا۔_________________________________________
گرمیاں انجام بخیر ہو چکی تھیں اور جاڑا آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا کر ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔دن بہت سستی سے گزر رہے تھے۔موسم کی تبدیلی نے اسے احساس دلایا کہ سردیوں کے کپڑے اس کے پاس نہ ہونے کے برابر تھے۔ ابھی سردیوں کی شروعات ہی تھی۔ دن میں دھوپ ہوتی تھی اس لئے اتنی پرواہ نہیں ہوتی تھی مگر رات کو سردی اپنے ہونے کا پتہ دیتی تھی۔اسکا سارا دن یونہی گزر جاتا۔ گھر سے باہر بھی نہیں جا سکتی تھی اور نہ ہی کوئی اس سے ملنے آتا تھا۔ ذہرہ بی بی اور رحم دین بھی کم ہی اس سے ملنے آتے تھے۔ اسکا بہت جی چاہتا تھا کہ گھر جائے مگر اسے درپیش حالات اجازت نہیں دیتے تھے۔ضیغم سے بھی کبھی کبھار بات ہو پاتی تھی۔ دن میں ضیغم کی مصروفیت کی وجہ سے بات نہیں ہو پاتی تھی اور رات کو اس پہ نیند حاوی ہوتی۔ اب تو ضیغم نے اس کی نیند کے خیال سے اسے کال کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اکثر صبح کو آنکھ کھلتی تو موبائل کی اسکرین پہ اس کی مسڈ کالز دیکھ کر اسکا دل بوجھل ہو جاتا۔ پھر سارا دن اسی بوجھل پن میں گزار دیتی۔ خود پہ غصہ بھی آتا اور خود سے عہد بھی کرتی کہ نیند کو خود پہ حاوی نہیں ہونے دے گی مگر جیسے ہی تکیے پہ سر رکھتی دنیا و مافیا سے غافل ہو جاتی۔ اب تو اس نے کمرے میں جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔کافی دیر تک ادھر ادھر کے کاموں میں خود کو بزی رکھتی تاکہ نیند کے ہاتھ نہ لگ سکے۔اب تو جب سے موسم تبدیل ہوا تھا زمان خان کمرے میں سونے لگے تھے تو وہ صحن میں ہی چارپائی پہ لیٹ کر تاروں بھرے آسمان پہ نظریں ٹکائے اسکی کال کا انتظار کرتی رہتی مگر اب وہ اسکی روٹین سے واقف ہو گیا تھا اس لئے کال کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
آج اس نے سوچا تھا کہ وہ خود ہی کال کرے گی۔ اس لئے صبح ہی سے اسے رات کا انتظار تھا۔ زمان خان ناشتہ کر کے جا چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اس نے ان کا کمرہ صاف کیا اور پھر اپنے کمرے کی صفائی کی۔ اس کے بعد کچے صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کر کے جھاڑو لگایا۔اسے اس کام سے فارغ ہوتے ہوتے دس بج چکے تھے۔سرما کے سورج کی سنہری دھوپ املتاس کے پیڑ کے پیچھے سے چھن کر آتی کچے صحن میں پھیلتی جا رہی تھی۔ املتاس کے پھول دھوپ میں چمک رہے تھے۔ کام ختم کر کے برآمدے میں رکھی کرسی کو وہ صحن میں لے آئی اور کچھ دیر دھوپ میں بیٹھ گئی۔ وہ دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کر گرمائش پہنچانے لگی۔آہستہ آہستہ یخ بستہ ہاتھ دھوپ کی تمازت سے گرم ہونے لگے۔
“تمھارے ہاتھ بہت خوبصورت ہیں مسکاء۔” کوئی بہت پاس آیا تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں کو بغور دیکھنے لگی۔
کالج میں بھی اسکی کلاس فیلوز اسکے ہاتھوں کی تعریف کیا کرتی تھیں لیکن اس نے کبھی دھیان نہیں دیا۔صرف اس کی باتوں پر مسکرا دیتی۔
“تم نے ایک بار بھی مہندی نہیں لگائی۔”ایک جملہ اس کے کانوں میں گونجا۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو دیکھنے لگی۔ سرخ و سفید شفاف ہتھیلی پہ ننھا سا سیاہ تل جگمگا رہا تھا۔ نرم سی مسکراہٹ نے اسکے گلابی لبوں کو چھوا تھا۔ ضیغم کے ساتھ گزارے پل ایک ایک کر کے اس کی آنکھوں کے سامنے سے کسی فلم کی طرح گزرنے لگے۔ دھوپ اچھی خاصی تیز ہو چکی تھی۔ نرم مسکراہٹ لبوں پہ سجائے وہ باورچی خانے میں آ گئی۔زمان خان جاتے جاتے اسے پالک کا ساگ بنانے کا کہہ گئے تھے۔ وہ چھری اور پالک لئے اپنی جگہ پہ واپس آئی۔ پالک کی ٹوکری اور چھری اس نے کرسی پہ رکھی اور برآمدے سے ٹیبل اٹھا لائی اور وہیں بیٹھ کر ساگ صاف کرنے لگی۔ ساگ صاف کرنے کے بعد اس نے چولھے پہ چڑھایا اور آٹا گوندھنے لگی۔ اس دوران ساگ بوائل ہو چکا تھا۔ اس نے ترکاری بنائی۔۔ساتھ میں لسی بھی بنا لی۔کچن کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد وہ فریش ہونے کے لئے کمرے میں آ گئی۔ الماری سے اپنا ایک نسبتا گرم سوٹ نکالا۔۔ یہ سوٹ ذہرہ بی بی نے اس کے جہیز کے لیے بنایا تھا۔ جب زمان خان شہر آ رہے تو انھوں نے مسکاء کے لئے دیا تھا۔ جسے وہ سامان کے ساتھ واپس لے آئی تھی۔ کالے رنگ کی قمیص جس کے گلے پہ سرخ دھاگے سے ذہرہ بی بی نے خود اپنے ہاتھ سے بیل بوٹے کاڑھے تھے۔ ساتھ میں گھیردار شلوار تھی جو مسکاء کی ہی منشاء پہ انھوں نے سلوا کر دی تھی اور سرخ دوپٹے سے جوڑے کی چھب ہی نرالی تھی۔وہ فریش ہو کر نکلی تو ظہر کا وقت ہو رہا تھا۔ بالوں میں کنگھا کر کے گیلے بالوں کا جوڑا بنایا۔ کمرے میں سردی لگ رہی تھی اس لئے وہ جائے نماز اٹھا کر باہر برآمدے میں آ گئی۔ دھوپ میں جائے نماز بچھا کر نماز کے لئے نیت باندھ لی۔ جس وقت وہ نوافل ادا کر رہی تھی اسی وقت زمان خان اور رحم دین گھر میں داخل ہوئے۔ ذہرہ بی بی بھی ساتھ تھیں۔ وہ صحن میں چارپائی پہ بیٹھ گئے جبکہ ذہرہ بی بی کرسی پہ ٹک گئیں۔ مسکاء نے سلام پھیر کر دعا کی اور جائے نماز طے کر کے وہیں ٹیبل پہ رکھ دی۔ زمان خان کے ساتھ انھیں دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی۔
“مسکاء!! کھانا تیار ہے۔بہت بھوک لگی ہے۔”
زمان خان نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“جی بابا۔۔۔۔سب تیار ہے۔ بس روٹی ڈالنی ہے۔ وہ بھی بس تیار ہی سمجھیں۔ آپ لوگ ہاتھ منہ دھو لیں۔ میں کھانا لگاتی ہوں آپ لوگوں کے لئے۔”
وہ انھیں کہہ کر باورچی خانے میں آ گئی۔ ذہرہ بی بی بھی اسکے پیچھے آئیں۔
“میں تمھارے لئے گرم کپڑے لائی ہوں۔ موسم بدل گیا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ تمھارے پاس سردیوں کے کپڑے نہیں ہیں۔”
ذہرہ بی بی اسکے تیزی سے روٹی بیلتے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھیں۔ “
“شکریہ اماں۔۔۔۔میں سوچ ہی رہی تھی کہ بابا کے ذریعے آپ کو پیغام بھجواوں گی کہ میرے لئے ایک دو گرم جوڑے ہی بھجوا دیں۔”
مسکاء نے انھیں تشکر آمیز نظروں سے دیکھا۔
“ایک دو دن بعد زمان بابا کے ہاتھ میرے ایک دو پرانے گرم کپڑے بھجوا دیجیئے گا۔”
وہ روٹی توے پہ ڈالتے ہوئے بولی۔
“چلو اچھا کیا کہ تم نے کہہ دیا۔ میں نے آج تمھارے سردیوں کے کپڑوں کو دھوپ لگائی تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ پلوشے کو دے دوں گی۔اسکی ماں نے کئی بار مجھ سے کہا ہے۔ اب ایک دو اسے دے دوں گی اور باقی گھر جا کر تمھارے بابا کو دے دوں گی۔”
انھوں نے چولھا آہستہ کیا۔
“کوئی بات نہیں کل بھجوا دیجیئے گا آپ۔۔بابا کو آرام کرنے دیجیئے گا۔”
اس نے روٹی کو توے پہ سیک کر چنگیر میں رکھا اور دوسری روٹی توے پہ ڈالی۔ ذہرہ بی بی اسکی پھرتی دیکھ کر مسکرائیں۔
“میری بیٹی کتنی سمجھدار لگ رہی ہے۔”
وہ پیار بھری نظروں سے اسکا جائزہ لے رہی تھیں۔ان کی بات پہ وہ ہنس دی۔
“کیا میر آ رہا ہے آج؟؟”
ذہرہ بی بی نے اسکی تیاری کو دیکھ کر اندازہ لگایا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔آپ کو ایسا کیوں لگا؟”
میر کے نام پر اسکے روٹی بیٹے ہاتھ رکے تھے۔
“تمھاری تیاری دیکھ کر تو ایسا ہی لگ رہا ہے۔ حالانکہ زمان بھائی نے تو کوئی ذکر نہیں کیا۔”
انھوں نے دسترخوان اٹھاتے ہوئے کہا۔
“پچھلی بار آپ ہی نے تو کہا تھا کہ اتنی سادی مت رہا کرو گھر میں۔”
مسکاء نے منہ بنایا۔
“وہ تو میں نے تمھیں میر کے سامنے اسطرح سر جھاڑ منہ پھاڑ پھرتے دیکھ کر کہا تھا تاکہ تمھیں کچھ عقل ہو۔”
وہ ٹھوڑی پہ انگلی جماتے ہوئے بولیں۔
“اچھا اماں۔۔۔چھوڑو یہ باتیں۔۔یہ برتن باہر ٹیبل پہ لگا دو۔ بھوک لگ رہی ہوگی انھیں۔”
اس نے پلیٹیں ان کے ہاتھ میں دیں اور خود ایک برتن میں ترکاری نکالنے لگی۔ ذہرہ بی بی نے ان کے لئے چارپائی کے درمیان رکھی چھوٹی سی ٹیبل پہ کھانا چن دیا۔ انھوں نے کھانا شروع کیا تو مسکاء ان کے لئے لسی لے آئی۔ پھر دونوں ماں، بیٹی نے کچن میں ہی دسترخوان بچھا کر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد وہ قہوہ بنانے کے اٹھ گئی تو ذہرہ بی بی نے جلدی جلدی برتن دھو دئیے۔ برتن دھو کر ذہرہ بی بی اس کے اور ضیغم کے مشترکہ کمرے میں آ گئیں۔ مسکاء بھی قہوہ لئے وہیں آ گئی تھی۔
“اماں۔۔!! ایک بات پوچھوں؟”
وہ ان کے سامنے ٹرے رکھتے ہوئے بولی۔
“ہاں پوچھو۔۔۔”
ذہرہ بی بی نے قہوے کی پیالی اٹھاتے ہوئے اسکی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پہ تذبذب کے آثار تھے۔
“اماں۔۔۔آپ نے کبھی مجھے بتایا ہی نہیں کہ ضیغم میرے خالہ زاد ہیں۔”
اس نے قہوے کی پیالی کے کنارے پہ انگلی پھیری۔
“مجھے تو خود نکاح والے دن پتہ چلا تھا بلکہ تیرے بابا کو بھی تبھی معلوم ہوا تھا۔اگر پہلے معلوم ہوتا تو اپنے کلیجے سے لگا کر رکھتی اپنی ماں جائی کی نشانی کو۔”
ان کی آنکھوں دکھ ہلکورے لینے لگا۔
“اماں میرا مقصد آپ کو دکھی کرنا نہیں تھا۔ میں تو بس سچ جاننا چاہتی تھی۔”
اس نے ذہرہ بی بی کے چہرے پہ ڈھلک آنے والے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ انھوں نے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا اور اپنے دل کے ذخم مسکاء کے سامنے عیاں کرنے لگیں۔۔____________________________________________
میر سربلند خان بیٹے کی شادی میں مگن تھے۔ اس لئے شکور سے بات کرنے کا ٹائم ہی نہیں ملا۔
اس وقت وہ حجرے میں موجود تھے جب شکور حجرے کے دروازے سے انھیں آتا دکھائی دیا۔ اس وقت حجرے میں کچھ اور لوگ بھی تھے اس لئے انھوں نے اسے اشارے سے خاموش رہنے کو کہا۔ وہ ان کا اشارہ سمجھ کر خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا۔عالمزیب کی شادی اختتام پزیر ہو چکی تھی اس لئے کچھ لوگ اس وقت اس سے ملنے آئے تھے۔عالمزیب تو سب سے مل کر جا چکا تھا۔ اب باقی سب لوگ بھی آہستہ آہستہ اٹھنے لگے تھے۔ باتور خان شادی میں شرکت نہیں کر سکا تھا۔ کرم دین نے انھیں بتایا تھا کہ وہ شہر گیا ہوا ہے۔وہ جانتے تھے کہ وہ کس مقصد سے شہر گیا ہے اس لئے زیادہ پوچھ تاچھ نہیں کی۔ زمان خان بھی بجھے دل سے شادی کی تیاریوں میں شامل ہوئے تھے۔
جب سب لوگ چلے گئے تو شکور ان کے قریب آیا تھا۔
“ہاں شکور۔۔۔کیا خبر ہے؟”
انھوں نے نظر دروازے پہ ہی رکھی۔
“خان جی۔۔۔۔میر شہر میں نہیں ہے۔ میرے آدمیوں نے اسے بہت تلاش کیا۔ ہم نے یونیورسٹی ، اکیڈیمی۔۔۔ہر جگہ تلاش کیا مگر اس کا کچھ پتہ نہیں چلا۔”
شکور نے پیڑھی ان کے قریب کھسکائی اور اس پہ بیٹھتے ہوئے دھیرے سے بولا۔
“اوئے جانا کہاں ہے اس نے۔۔وہیں کہیں ہو گا۔”
انھوں نے ٹانگ اس کے آ گے کی جسے وہ ہلکے ہاتھوں سے دبانے لگا۔
“او جی۔۔۔ہم نے ہر جگہ دیکھا اسے۔۔وہاں لوگوں سے بھی پوچھ تاچھ کی لیکن ان میں سے بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔ اکیڈیمی والے بھی کہہ رہے ہیں کہ اس نے نوکری سے استعفیٰ دے دیا ہے اور جی وہ بتا رہے تھے کہ اسکی کوئی پکی والی نوکری لگ گئی ہے اس لئے اس نے یہ نوکری چھوڑ دی۔اس کے علاوہ وہ مزید کچھ نہیں جانتے۔”
شکور نے اپنی چندھی چندھی سی آنکھیں کھول کھول کر انھیں بتایا۔
“پکی والی نوکری۔۔۔۔۔۔”
میرسربلند خان سوچ میں پڑ گئے۔
“سرکاری ماسٹر بن گیا ہو گا۔”
انھوں نے اپنی محدود سوچ کو زبان دی۔
“میرے آدمیوں کو شک ہے کہ وہ شہر سے باہر ہے۔”
شکور نے مزید بتایا۔
“زہ خیر دے مونگ به انتظار اوکو(چلو خیر ہے ہم انتظار کر لیں گے)۔
میرسربلند خان نے سیگریٹ سلگائی۔
“اسکا باپ ہم سے بچ نہ سکا تو وہ کیا شے ہے۔ جہاں جانا چاہتا ہے چلا جائے۔اپنے سارے ارمان پورے کر لے۔اسکے باپ کو بھی ہم نے اس دنیا سے ارمانی نہیں بھیجا تو اسے بھی ایسے تھوڑی نا بھیج دیں گے۔”
انھوں نے دل میں سوچا پھر مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے شکور کو دیکھا۔ وہ بھی انھیں دیکھ کر مسکرا دیا۔
“اور خان جی۔۔۔میرے آدمیوں نے باتور خان کو بھی وہاں دیکھا تھا۔ مجھے لگتا ہے وہ بھی اسی کام سے گیا تھا۔”
شکور کے ہاتھوں میں تیزی آئی۔
“ہاہاہا۔۔۔۔اسے بھی ارمان پورا کر لینے دے۔ دونوں صورت میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔”
ان کا قہقہہ حجرے کی خاموش دیواروں سے ٹکرایا۔
“مگر خان جی۔۔۔”
شکور نے کچھ کہنا چاہا مگر انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔
“اوئے تو فکر نہ کر۔۔۔اب باتور سونے کا بھی بن کر آ جائے تو شکور نہیں بن سکتا۔”
ان کی بات پر خوشی کے مارے شکور کی باچھیں کھل گئیں۔ یہ اسکے لیے بڑی خوشی والی بات تھی کہ میرسربلند خان کی نظریں کرم اس پہ آ ٹھہریں تھیں۔ اب تو اسکے لئے اس کام کو پایا تکمیل تک پہنچانا بہت ضروری ہو گیا تھا۔
“مہربانی خان۔۔۔۔۔آپ کے لئے تو جان بھی حاضر ہے۔”
شکور کے ہاتھوں کا دباو ان کی ٹانگ پہ بڑھ گیا۔
“چل بس کر۔۔۔۔۔”
وہ ٹانگ کھینچ کر کھڑے ہو گئے۔
“میں حویلی جا رہا ہوں تو ذرا زمان خان سے جا کر کہہ کہ حویلی آ کر مجھ سے ملے۔”
وہ حویلی میں کھلنے والے دروازے کی جانب بڑھے۔
“جی خان۔۔۔۔ابھی جاتا ہوں۔”
شکور نے اٹھ کر پیڑھی چارپائی کی نیچے دھکیلی۔
“اور ہاں۔۔۔۔۔باتور خان پہ بھی نظر رکھ۔”
انھوں نے کہا تو وہ سر ہلاتا حجرے کے گیٹ کے جانب بڑھا لیکن کچھ سوچ کر رک گیا۔
“خان جی۔۔۔مجھے ایک اور بات بھی آپکو بتانی تھی۔”
وہ بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا جو اسکی بات سن کر دروازے کے پاس ہی رک گئے اور نظروں ہی نظروں میں استفسار کیا۔
“وہ جی آجکل رحم دین اور اسکی گھروالی زمان خان کے گھر کے چکر پہ چکر لگا رہے ہیں۔”
شکور آہستہ آواز میں بولا۔
“تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔وہ ایک دوسرے کی طرف آتے جاتے رہتے ہیں۔”
انھیں اسکی حیرانی کی وجہ سمجھ میں نہ آئی۔
“تاسو نه قربان شم خان جی(میں آپکے قربان جاوں خان جی) اسکی گھر والی کا کیا کام ہے جی۔ اتنے عرصے میں میں نے کبھی اسے زمان خان کے گھر جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔صرف ماہ گل ہی جاتی ہے۔ رحم دین کی گھر والی کا کیا کام۔”
وہ اپنی تئیں دور کی کوڑی لایا تھا۔
“ہیم۔۔۔۔۔۔بات تو تیری غور طلب ہے۔”
وہ پرسوچ انداز میں بولے۔
“اور جی۔۔۔۔گھر میں پورا راشن ڈلوایا ہے اس نے۔۔۔گوشت، دودھ، انڈے، سبزیاں۔۔۔۔۔اب ایک اکیلا بندہ ہے اور اتنا سب کچھ۔۔پہلے تو میر کے جانے کے بعد فرید گل کے ہوٹل سے ہی کچھ نہ کچھ کھا لیتا تھا مگر اب تو ظہر پڑھ کر گھر چلا جاتا ہے۔اور تو اور رحم دین اور مولوی صاحب کے علاوہ کسی سے بات تک نہیں کرتا۔مجھے تو دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں نے رحم دین اور اسکی گھروالی کو زمان خان کے گھر جاتے دیکھا۔ زمان خان بھی ساتھ ہی تھا۔رحم دین کا انداز ایسا تھا جیسے وہ اس بات کو کسی کے علم میں نہ لانا چاہتا ہو کہ وہ اور اسکی بی بی زمان خان کے گھر جاتے ہیں۔”
“تو تو پتہ لگا اس بات کا کہ آخر وہ دونوں اس طرح چھپ چھپ کر زمان خان کے گھر کیوں جاتے ہیں۔”
اب تو میرسربلند خان کو بھی شک ہو رہا تھا۔
“اور خان جی۔۔۔۔رحم دین کی گھروالی نے ہاتھ میں گٹھڑی بھی اٹھا رکھی تھی۔مجھے تجسس ہوا کہ گٹھڑی میں کیا ہے اس لئے میں وہیں درخت کی آڑ میں ہو کر ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔”
وہ مزید رازداری سے بولا۔
“پھر۔۔۔۔؟”
انھوں نے آگے جاننا چاہا۔
“پھر کیا جی۔۔۔۔۔ساری دوپہر گزر گئی۔ پھر عصر کے وقت دونوں میاں بیوی اسی رازداری سے باہر آئے ساتھ میں زمان خان بھی تھا۔ زمان خان نے اردگرد نظر دوڑائی اور پھر دروازے کو تالا لگا دیا۔ رحم دین اور اسکی گھروالی تو اپنے راستے ہو لئے مگر جی۔۔۔۔”
وہ خاموش ہوا۔
“اوئے مگر مگر نہ کر۔۔۔جلدی بک۔۔”
میرسربلند خان کا صبر جواب دے گیا۔
“خان جی۔۔۔زمان خان دروازے کی جانب ایسے جھکا تھا جیسے کسی سے بات کر رہا ہو۔”
اس نے اپنی باتوں کی پٹاری میں سے آخری بات نکالی۔
ان کے چہرے سے تفکر جھلکنے لگا۔
“میرا خیال ہے جی میر آپ کے خوف سے گھر میں چھپا بیٹھا ہے یا پھر زمان خان نے ہی اسے باہر نکلنے سے منع کیا ہو۔”
شکور نے ہنستے ہوئے کہا مگر ان کے چہرے پہ سوچ کی پرچھائیاں اپنا ڈیرہ جما چکی تھیں۔
“نہیں شکور۔۔۔۔میر جس انداز سے میرے سامنے آیا تھا اس سے تو یہ نہیں لگتا کہ وہ ڈرنے والا ہے۔وہ بڑا دلیر لگتا ہے اور دوسری بات بھی ممکن نہیں کیونکہ رشید نے خود میر کو گلزم خان کے ساتھ شہر جاتے ہوئے دیکھا تھا اور اگر وہ واپس بھی آیا ہوا ہے تو اتنا عرصہ گھر میں بند رہنا۔۔۔۔۔۔یہ بات ماننی مشکل ہے۔ تم ایسا کرو کہ زمان خان پہ اپنی پوری نظر رکھو۔ مجھے اسکے پل پل کی خبر چاہیئے۔”
وہ یہ کہہ کر رکے نہیں اور پچھلے دروازے سے حویلی میں داخل ہو گئے جبکہ شکور خود کو شاباش دیتا ہوا حجرے کی دہلیز پار کر گیا۔____________________________________
“بہت جلدی نہیں آ گئے تم۔۔۔”
ضیغم ارحم سے گلے ملتے ہوئے بولا۔ ارحم نے اس کی بات پہ مسکراتے ہوئے سر کھجایا اور پھر سر سے پیر تک ضیغم کو دیکھا۔ وہ اس وقت مکمل یونیفارم میں تھا۔اسکی ٹریننگ مکمل ہو چکی تھی اور آج اس آخری تقریب میں انھوں نے حلف اٹھانا تھا۔ ضیغم بہت خوش تھا۔آج کے دن کا اسے برسوں سے انتظار تھا۔آج اسے اسکے خواب کی تعبیر ملنے والی تھی۔ وہ خواب جو اس نے اور زمان خان نے مل کر دیکھا تھا۔ وہ جلد سے جلد ان کے سامنے جانا چاہتا تھا۔ جنھوں اسے اس مقام تک پہنچایا تھا۔ جنھوں نے اسکی آنکھوں میں یہ خواب سجایا تھا۔ اسکی تو خواہش تھی کہ وہ بھی یہاں آ کر یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے مگر حالات کی ہوا ابھی ان کی مخالف سمت میں چل رہی تھی۔لیکن وہ ارحم کو انوائیٹ کرنا نہیں بھولا تھا۔ وہ اپنے لئے علاقہ منتخب کر چکا تھا۔ اسے وہیں جانا تھا جس مٹی میں اسکے بابا دفن ہیں۔ جہاں اسکی ماں کی خوشبو ہے۔ جہاں داخل ہوتے اسے ایسا محسوس ہونے لگتا جیسے وہاں کی ہوا نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا ہو اور جہاں کی مٹی اسکے پیروں سے لپٹ لپٹ کر اپنا حق مانگ رہی ہو۔اسے یہ حق لوٹانا تھا۔تقریب کے بعد اس کا ارادہ تھا کہ وہ ارحم کے ساتھ ہی واپس پشاور جائے گا اور پھر وہاں سے گاوں۔۔۔۔
“کیا بات ہے میرے یار کی۔۔۔۔دل خوش ہو گیا تمھیں اسطرح دیکھ کر۔۔۔آخر تم نے اپنے خواب کو اپنی مٹھی میں کر ہی لیا۔میں بہت خوش ہوں تمھارے لیے۔”
ارحم آنکھوں میں محبت اور خوشی کے ملے جلے جذبات لئے اسے تک رہا تھا۔ اسکی بات پر وہ ہنس دیا۔
“ہاں۔۔۔۔۔مجھے بھی شدت سے انتظار تھا آج کے دن کا اور اب مزید انتظار ہے کہ میں یہی خوشی جو تمھاری آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں بابا کی آنکھوں میں بھی دیکھنے کے لئے بےچین ہوں۔”
ضیغم نے سن گلاسز پہنیں اور اسے ساتھ لئے آگے بڑھنے لگا۔
“ارے یار رکو تو سہی۔۔۔میرے پاس تمھارے لئے ایک سرپرائز ہے۔”
ارحم نے اسے روکا تو ضیغم نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا اور مڑ کر گیٹ کی جانب اشارہ کیا جہاں سے پروفیسر محمد عقیل اندر داخل ہو رہے تھے۔ ضیغم مسکراتے ہوئے ان کی جانب بڑھا۔ انھوں نے اسے سینے سے لگایا۔ کتنی ہی دیر وہ اسے سینے سے لگائے یونہی کھڑے رہے۔
“ارے بھئی۔۔۔۔۔۔تقریب ختم ہو جائے گی۔”
ارحم ان کے پاس آیا۔ وہ ہنس کر ان سے الگ ہوا۔
“سر مجھے بہت خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر۔اس نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ آپ بھی ساتھ ہیں۔”
ضیغم نے ارحم کی طرف دیکھا۔
“آج میرے بیٹے کی زندگی کا اتنا بڑا دن ہے اور میں نہ آتا۔۔۔یہ کیسے ممکن تھا۔ مجھے تو کب سے انتظار تھا کہ کب میں تمھیں اس یونیفارم میں دیکھوں گا۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ دن دکھایا۔ارحم نے مجھے بتایا تو مجھ سے بالکل رہا نہیں گیا اور میں نے اسے کہا کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر جائے۔”
وہ اسے کندھوں سے تھامتے ہوئے بولے۔ ان کی آنکھوں کی نمی ضیغم کو بےچین کر گئی تھی۔وہ آگے بڑھ کر ایک بار پھر ان کے سینے سے لگ گیا۔
“آج تمھارے بابا حیات ہوتے تو وہ تمھیں اسطرح دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ انھیں تم پر فخر ہوتا۔”
وہ اسے سینے سے لگائے بولے۔
“چلیں آڈیٹوریم میں چلتے ہیں۔تقریب کا آغاز ہونے ہی والا ہے۔”
ارحم نے گھڑی کی جانب دیکھا اور وہ دونوں سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھے۔آڈیٹوریم میں داخل ہو کر ضیغم نے پروفیسر محمد عقیل اور ارحم کو اپنے کولیگز سے ملوایا۔ پھر وہ انھیں سیکنڈ رو کی جانب لے آیا اور انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ تھوڑی دیر بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد کچھ آفیسرز نے باری باری تقریر کی اور نوجوانوں کی بہادری و ہمت کو سراہا۔ ان کی ولولہ انگیز تقریر نے وہاں موجود سبھی لوگوں کے دلوں میں وطن سے محبت کا جذبہ بیدار کیا۔۔اس کے بعد پریڈ پیش کی گئی جس کی قیادت ضیغم کر رہا تھا۔ پریڈ کے بعد تمام نوجوانوں کی حلف برداری ہوئی اور پھر مکمل اعزاز کے ساتھ ان کے شولڈرز پہ ستارے سجائے۔ارحم نے ان تمام قیمتی لمحات کو اپنے کیمرے میں مقید کیا۔
محمد عقیل کی نگاہوں میں اسکے لئے شفقت و محبت تھی۔ انھیں لگ رہا تھا جیسے میر دراب خان ان کے سامنے موجود ہو۔ وہ اپنے باپ کا پرتو تھا۔ وہی چال، وہی انداز، وہی لہجہ، حتی کے چہرے کے نقوش۔۔۔کچھ ایسا نہیں تھا جو اسے میر دراب خان سے الگ کرتا۔۔۔وہ انھی کا حصہ تھا۔
“میر دراب خان۔۔۔کاش!! آج تم بھی ہمارے درمیان موجود ہوتے۔”
ان کی آنکھوں کی نمی بڑھتی جا رہی تھی۔ جب وہ ان پاس آیا تو ان کی آنکھیں چھلک پڑیں مگر ان کے چہرے پہ مسکان سجی تھی۔انھوں نے اپنے آنسوؤں کو ہاتھ میں پکڑے رومال میں جذب کیا۔
“اب آگے کیا ارادہ ہے؟”
چائے کے دوران انھوں نے ضیغم سے پوچھا۔
“میں اپنا علاقہ منتخب کر چکا ہوں اور آپ میرے انتخاب سے اچھی طرح واقف ہیں۔”
اس نے نیپکن سے ہاتھ صاف کیے اور ان کی جانب دیکھا۔
“مجھے خوشی ہوئی جان کر کہ تم اپنے گاوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہو۔تمھارا فیصلہ بالکل درست ہے۔ گاوں کے لوگوں کی بہتری کے لیے تم ہی کچھ کر سکتے ہو۔تمھارے بابا کو بھی اپنے لوگوں سے بہت محبت تھی۔وہ ہمیشہ مجھ سے گاوں کے لوگوں کے مسائل ڈسکس کرتا رہتا ہے۔ تمھارے دادا بھی بہت اچھے اور شفیق انسان تھے۔”
ضیغم باپ اور دادا کے ذکر پہ وہ مغموم دکھائی دینے لگا۔
“تم ابھی ہمارے ساتھ ہی واپس چلو گے؟”
ارحم نے اسے اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کی۔
“ہاں۔۔۔۔ساتھ ہی چلیں گے۔۔کل مجھے ارائیول دینا ہے اس لئے آج رات گزار کر صبح گاوں چلا جاوں گا۔”
اس کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا تھا۔
“اللہ تمھیں کامیاب کرے اور تمھیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔آمین!!”
پروفیسر محمد عقیل نے اس کی جانب فخر سے دیکھا۔
“کاش میں تمھارے ساتھ جا کر میرسربلند خان کے چہرے کے تاثرات دیکھ سکتا۔”
ارحم نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“میں خود بھی یہ نظارہ دیکھنے کے لئے بیتاب ہوں۔ تم فکر نہ کرو میں تمھیں ان کے حالات ڈیٹیلز کے ساتھ بتاوں گا۔”
وہ ہنستے ہوئے بولا تو وہ بھی ہنس دئیے۔ وہ آڈیٹوریم سے باہر آ گئے تھے۔ضیغم سب سے ملکر اپنا سامان لینے چلا گیا جبکہ ارحم اور پروفیسر محمد عقیل پارکنگ کی جانب بڑھ گئے۔گاڑی روڈ کی ایک جانب کھڑی کیے وہ اسکا انتظار کرنے لگے۔تقریبا پندرہ منٹ بعد وہ انھیں آتا دکھائی دیا اس وقت وہ سادہ لباس میں ملبوس تھا۔دونوں ہاتھوں میں سفری بیگ تھامے وہ بہت تیز قدموں سے گاڑی کی جانب آ رہا تھا۔ قریب پہنچ کر اس نے بیگز گاڑی کی ڈگی میں رکھے اور خود ارحم کے ساتھ آگے بیٹھ گیا۔ اس کے بیٹھتے ہی ارحم نے گاڑی اسٹارٹ کی۔دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے وہ پشاور کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔ ارحم نے پہلے پروفیسر محمد عقیل کو ان کے گھر اتارا۔
“تم میرے گھر چلو گے میرے ساتھ۔”
وہ اسے فیصلہ کن نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“نہیں یار۔۔پھر کبھی سہی۔۔ویسے بھی میں نے صبح سویرے نکلنا ہے۔”
اس نے انکار کیا تو اس نے خاموشی سے گاڑی کا رخ فلیٹس کی طرف موڑ دیا۔
“بس یہیں روک دو۔”
ضیغم نے اسے گاڑی پارکنگ کی طرف لے جانے سے روکا۔ ارحم نے بنا کچھ کہے گاڑی اسکی بتائی ہوئی جگہ پہ روک دی۔ضیغم اس کی خاموشی محسوس کر رہا تھا۔ اس لئے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر گاڑی سے نکل گیا۔ڈگی سے اپنا سامان نکالا اور اس کی طرف آیا۔
“اللہ حافظ۔۔!! گاوں پہنچ کر تمھیں کال کروں گا۔”
ضیغم اس کی جانب جھک کر بولا۔
“ہیممم۔۔۔اپنا خیال رکھنا۔ میں انتظار کروں گا تمھاری کال کا۔۔اللہ حافظ!”
ارحم نے کہا اور اس کے ہٹتے ہی گاڑی آگے بڑھا گیا۔وہ خاموشی سے بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ فلیٹس کے قریب پہنچ کر اس نے تالا کھولا اور اندر داخل ہوا۔بیگز اس نے نیچے رکھ کر لائٹس آن کیں اور خود کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی مسکاء کی یاد نے اسے اپنے حصار میں لیا تو لبوں پہ مسکراہٹ کھیلنے لگی تھی۔ الماری سے کپڑے لئے اور واش روم چلا گیا۔شاور لینے کے بعد اس نائٹ بلب آن کر کےٹیوب لائٹ آف کردی۔
“مسکاء۔۔۔!!
ضیغم نے گہرا سانس لے کر اسکی خوشبو کو محسوس کیا پھر مسکراتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔______________________________________
“ماہ گل۔۔!!”
وہ کچن میں برتن دھو رہی تھیں جب زمان خان نے انھیں پکارا۔انھوں نے مڑ کر دیکھا تو وہ کچن کے دروازے میں کھڑے تھے۔ ماہ گل نے دوپٹے سے ہاتھ پونچھے۔ زمان خان نے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا اور اندر آ گئے۔
“کیا بات ہے زمان خاناں؟”
انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں ان سے پوچھا۔چہرے کی سلوٹوں میں سبز خال چھپ گیا تھا۔اپنے قد بد کی وجہ سے وہ پورے گاوں میں مشہور تھیں۔ خاص طور پہ ان کے چہرے کے سبز خال۔۔گاوں کی عورتیں انھیں کوچئی کہہ کر بلاتی تھیں۔ان کا ایک ہی بیٹا تھا جو کام کے سلسلے میں کابل میں رہتا تھا جبکہ بیوی اور بچے یہیں ماہ گل کے پاس ہی رہتے تھے۔چھٹی پہ احمد گل آتا تو افغانی کمبل اور دوسری چیزیں لایا کرتا تھا جو ماہ گل گاوں میں قسطوں پہ بیچا کرتی تھیں۔گاوں کی عورتیں ان کے گھر آ کر خریداری کرتی تھیں۔اس لئے اچھی خاصی گزر بسر ہو رہی تھی۔
“خان جی اپنے کمرے میں ہیں؟”
زمان خان نے ان سے پوچھا۔
“آؤ اخپل کمرہ کی دی۔۔خیر خو دے کنه زمان خاناں؟(ہاں اپنے کمرے میں ہیں۔خیر تو ہے نا زمان خان)۔
ماہ گل ان کے اسطرح آس پاس نظر دوڑانے پہ پریشان ہوئیں۔
“ہاں سب خیر ہے۔۔۔باقی گھر والے کہاں ہے؟”
گھر کی خاموشی کو دیکھ کر زمان خان نے ان سے پوچھا۔
“کل رات شہر چلے گئے سب۔”
وہ ناک چڑھا کر بولیں۔زمان خان ان کے انداز پہ مسکرا دئیے۔
“ٹھیک ہے میں جا کر مل لوں خان جی سے۔۔۔دیکھوں کس لئے بلایا ہے۔”
وہ پلٹ گئے جبکہ ماہ گل انھیں جاتا دیکھتی رہیں۔کمرے میں داخل ہونے سے پہلے انھوں نے دروازے پہ دستک دی۔اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوئے۔میرسربلند خان اپنے سامنے کچھ فائلز کھولے بیٹھے تھے۔
“ارے آو آو زمان خان۔۔۔۔کیا حال چال ہیں تمھارے۔۔ہم سے ناراض ہو کیا؟؟ ناراض ہی لگتے ہو تبھی تو دیکھو اب ہمیں تمھیں بلانا پڑتا ہے۔پہلے خود آتے تھے ہمارے پاس۔۔”
انھوں نے زمان خان کو اندر آتے دیکھ کر اپنے پاس بلایا۔زمان خان ان کے سامنے ٹیبل پہ پڑی فائلز کے ڈھیر کو دیکھ رہے تھے۔
“خان جی۔۔۔۔آپ مصروف دکھائی دے رہیں ہیں۔میں پھر آ جاوں گا۔۔میں کل ہی آ جاتا مگر کھیتوں پہ کام بہت تھا اس لئے کل نہ سکا۔”
زمان خان آگے آئے تھے۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔یہ بھی بہت ہے کہ تم ہمارے بلانے پہ آ تو گئے۔۔خیر چھوڑو۔۔۔یہ دیکھو یہ ہماری زمینوں کی فائلز ہیں۔تمھیں پتہ ہے نا کہ تمھاری زمین کے ساتھ ملحق قطعہ ہمارا ہے۔ہم وہ زمین تمھیں دینا چاہتے ہیں۔تم نے کافی عرصہ ہماری خدمت کی ہے۔اب ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ تمھارا خیال رکھیں۔۔لیکن اگر تمھیں یہ حصہ نہیں پسند تو ہم تمھاری پسند کو مدنظر رکھیں گے۔”
وہ ایک کالی فائل ان کی جانب بڑھاتے ہوئے بولے جبکہ وہ ان کی طرف حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ان کا چہرہ ہر طرح کے تاثرات سے عاری تھا۔وہ سمجھ نہیں پائے کہ آخر اس سب کا مقصد کیا ہے کیونکہ وہ اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کو اچھی طرح جانتے تھے۔ ایک ایسا شخص جو زمین و جائیداد کے لئے اپنے بھائی تک کو اس بےرحمی سے موت کے گھاٹ اتار دے کہ اسکا کوئی نشان تک باقی نہ رہے۔وہ کیسے اتنا بڑا قطعہ ان کے نام کر سکتا ہے۔
“مگر خان۔۔۔؟؟”
انھوں نے فائل کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
“ارے پریشان کیوں ہوتے ہو۔۔۔۔یہ تو ایک چھوٹا سا تحفہ ہے تمھارے لئے ہماری جانب سے۔تم نے ایک عرصہ اس خاندان کے چراغ کو اپنے گھر کے تیل سے روشن رکھا۔اسے اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہو سکے۔بہت بڑا کام ہے کسی کی اولاد کو اپنے سینے سے لگا کر پالنا۔”
وہ اٹھ کر زمان خان کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔
“آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟”
وہ ان کے چہرے پہ کچھ ایسا تلاش کر رہے تھے جس سے وہ اس عنایت کی وجہ جان سکیں مگر وہ ناکام رہے۔
“تم اتنی سی بات نہیں سمجھ سکے زمان خان۔۔۔ہمیں ہمارا بیٹا واپس کر دو۔ ہمارا خون ہمیں لوٹا دو۔ہمیں احساس ہو گیا ہے کہ ہم غلط تھے۔ اب ہم اپنے بھائی کی اولاد کو ہر پل اپنی نظروں کے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں۔اسے دیکھ کر جو محبت ہمارے دل میں بیدار ہوتی ہے تم اسکا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ہم اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔”
انھوں نے زمان خان کو کندھوں سے تھاما۔
“مگر خان۔۔۔اب یہ کسطرح ممکن ہے؟”
وہ جانتے تھے کہ اس کے پیچھے بھی میرسربلند خان کی کوئی غرض چھپی ہے مگر پھر بھی پوچھ بیٹھے۔
“بہت آسان ہے۔۔۔۔تم میر سے کہو گے کہ تم نے اپنی اولاد کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے اسے اغواء کیا تھا۔ میر دراب خان اس وقت شہر میں تھے۔ چونکہ خاندان اس شادی کے خلاف تھا اس لئے ہمیں بھی پتہ نہ چل سکا کہ میر دراب خان کی کوئی اولاد بھی ہے اور اب تم اپنے ضمیر کا بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتے اس لئے تم نے اسے حقیقت سے آگاہ کیا ہے۔”
وہ پہلے سے سب ترتیب دئیے بیٹھے تھے اس لئے بنا رکے بولے۔دوسری طرف زمان خان ان کی بنائی گئی کہانی پہ حیران و پریشان کھڑا تھا۔
“ہم اس معاملے کو جرگے میں لے جا کر تمھیں معاف کر دیں گے اسطرح میرضیغم خان ہمیں مل جائے گا۔ اس کے بدلے تم جو مانگو گے ہم تمھیں دینے کے لئے تیار ہیں۔”
وہ ان کی خاموشی کو نیم رضامندی سمجھ کر بولے۔
“خان جی۔۔۔ میر میری اولاد ہے۔۔میرا بیٹا ہے۔۔میں اپنی اولاد کا سودا کرنے سے پہلے موت کو گلے لگانا پسند کروں گا۔میں میر کو کسی بھی قیمت پر آپ کے حوالے نہیں کروں گا۔”
ان کی آنکھوں کی سرخی بڑھتی جا رہی تھی۔
“تو یہ تمھارا آخری فیصلہ ہے؟؟”
ان کے چہرے کی کرختگی ان کی آنکھوں میں سمٹ آئی۔
“جی خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اجازت دیجئیے۔”
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتے زمان خان دروازے کی طرف بڑھے۔ابھی انھوں نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ تھانے کا ایس۔ایچ۔او اندر کمرے میں داخل ہوا۔اس کے چہرے سے پریشانی چھلک رہی تھی۔
“خان جی۔۔۔۔۔۔نیا اے۔ایس۔پی آ رہا ہے۔ ابھی ابھی مجھے کال آئی ہے۔”
ایس۔ایچ۔او زمان خان کو نظرانداز کرتا تیزی سے میرسربلند خان کی طرف آیا۔ انھیں اس کی مداخلت ذرا پسند نہیں آئی مگر خود پہ قابو پا کر اسکی طرف متوجہ ہوئے۔
“تو تیرے طوطے کیوں اڑے جا رہے ہیں۔اے۔ایس۔پی ہی آ رہا ہے نا تیری موت تھوڑی نا آرہی ہے۔”
انھوں نے اپنا غصہ ایس۔ایچ۔او پہ نکالا۔
“خان جی۔۔۔۔بس آپ سنبھال لینا۔”
ایس۔ایچ۔او زمان خان کو موجود پا کر آہستگی سے بولا۔
“تو فکر نہ کر۔۔۔۔آج تک کوئی اے۔ایس۔پی یہاں ٹکا ہے جو یہ ٹکے گا۔ آنے دے اسے ہم بھی تو دیکھیں کس کا اتنا جگرا ہے۔”
انھوں نے زمان خان کی طرف دیکھتے ہوئے ان دیکھی مکھی اڑائی۔زمان خان کمرے سے باہر نکل گئے۔ان کے جانے کے بعد وہ ایس۔ایچ۔او کی طرف دیکھنے لگے۔جس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔اس کی حالت دیکھ کر انھیں ہنسی آنے لگی۔
“او کہا نا۔۔۔۔فکر نہ کر۔۔۔۔۔۔ہم ہیں نا۔”
انھوں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔ وہ سر ہلا کر وہیں بیٹھ گیا۔
“کب آ رہا ہے؟”
انھوں نے سیگریٹ سلگائی۔
“کل آ رہا ہے۔”
وہ رومال سے چہرہ پونچھتے ہوئے بولا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔جیسے ہی آئے اسے کہنا کہ حجرے میں آ کر ہم سے ملے۔”
وہ پرسوچ نگاہیں اس پہ گاڑھتے ہوئے بولے۔
“جی خان جی۔۔۔۔۔۔اب میں چلتا ہوں۔بہت کام ہے تھانے میں۔ میں چاہتا ہوں کہ باتور خان کے کہنے پہ جو لوگ حوالات میں بند ہیں انھیں چھوڑ دوں۔کوئی کیس تو ہے نہیں ان پہ۔”
وہ کھڑا ہوتے ہو بولا۔
“ہاں ٹھیک ہے۔”
وہ ان کی اجازت ملتے ہی سلام کرتا کمرے سے نکل آیا۔میرسربلند خان اب نئے اے۔ایس۔پی کے متعلق سوچنے لگے۔انھوں نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے موبائل پہ ایک نمبر ملایا اور کال ریسیو ہونے کا انتظار کرنے لگے۔
“یہ نیا اے۔ایس۔پی کون ہے۔”
انھوں نے سلام کا جواب دئیے بنا پوچھا۔
“میرسربلند خان صاحب۔۔۔۔نئی تقرریاں ہیں۔نیا بندہ ہے۔۔بہت سمجھدار۔۔آپ یقینا مل کر بہت خوش ہوں۔آپ ہی کے گاوں کا ہے۔اس نے اپنا علاقہ ہی منتخب کیا ہے۔”
دوسری جانب سے تفصیل بتائی گئی۔
“یہ کہانی بعد میں سنانا۔۔۔۔نام بتاو۔”
وہ بلند آواز میں بولے۔
“اے۔ایس۔پی میر ضیغم خان۔”
نام بتایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرسربلند خان کو لگا جیسے ان کے پیروں تلے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔وہ خاموش بیٹھے رہ گئے۔۔
“میر ضیغم خان۔۔”
انھیں لگا جیسے ہر طرف اس نام کی پکار ہو رہی ہو اور کمرے کی دیواریں ان پہ ہنس رہی ہوں۔انھوں نے موبائل دیوار پہ دے مارا۔___________________________________جاری ہے۔۔
