Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode15

Ghag By Mahwish Urooj Episode15

“عمر خان!! تم یہ سامان جیپ میں رکھ دو میں آ رہا ہوں۔”
اس نے شوز پہنتے ہوئے با ادب کھڑے عمر خان سے کہا۔ عمر خان فورا حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اور سامان کی طرف بڑھا۔ اس کے جانے کے بعد وہ خود بھی کھڑا ہوا اور ایک نظر پورے لاؤنج پہ ڈال کر کچن کی طرف آ گیا۔ پانی کی بوتل اٹھائی اور لائٹ آف کر کے باہر آ گیا۔ دیوار پہ لگے قدآور آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس وقت وہ مکمل یونیفارم میں تھا۔ ہاتھ بڑھا کر اپنی کیپ درست کی اور مسکراتے ہوئے فلیٹ سے نکل آیا۔ فلیٹ کی چابیاں جیب میں رکھی اور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا۔ عمر خان جیپ میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اسے آتا دیکھ کر اس نے جیپ اسٹارٹ کی۔ ضیغم کے بیٹھتے ہی جیپ سڑک پہ دوڑنے لگی۔
“سر۔۔! بہت خوش لگ رہے ہیں آپ۔”
عمر خان کی نظر اسکے مسکراتے چہرے پہ ٹھہری۔
“ہاں عمر خان بہت خوش ہوں۔اتنے عرصے بعد گاوں جو جا رہا ہوں اس لئے۔”
اس نے نظریں سامنے سڑک پہ مرکوز کرتے ہوئے کہا۔عمر خان بھی سر ہلا کر سامنے دیکھنے لگا۔ بھاگتے دوڑتے منظر نظروں کی قید میں آئے بنا گزرنے لگے۔دس بجے کا وقت تھا جب وہ گاوں کی حدود میں داخل ہوئے۔ اسکا ارادہ پہلے تھانے جا کر ارائیول دینا تھا۔ اس لئے عمر خان نے جیپ کا رخ تھانے جانے والے راستے کی طرف کر دیا۔ سڑک کے دونوں جانب گھنے پیڑ تھے اور کھیت تھے۔
“سر۔۔! جب سے ہم گاوں کی حدود میں داخل ہوئے ہیں ایک گاڑی ہمارے تعاقب میں ہے۔”
وہ جو ریلیکس انداز میں بیٹھا ہوا تھا ایک دم سے سیدھا ہوا۔ رئیر ویو مرر میں چیک کیا تو اسے پیچھے آتی گاڑی دکھائی دی۔
“رفتار بڑھاو عمر خان۔۔۔”
اس نے یہ دیکھنے کے لئے کہ گاڑی واقعی ان کا پیچھا کر رہی ہے۔۔۔عمر خان سے کہا۔ عمر خان نے فورا جیپ کی رفتار بڑھائی۔ضیغم کی نظر ابھی بھی پیچھے دیکھنے والے شیشے پہ ہی ٹکی تھی۔ جیسے ہی رفتار بڑھی پیچھے آتی گاڑی کی رفتار بھی بڑھ گئی۔وہ لوگ تھانے سے کچھ ہی دور تھے۔ضیغم نے پہچاننے کے لئے تھوڑا سا سر باہر نکال کر دیکھا تو پچھلی گاڑی سے فائر کیا گیا وہ فورا پیچھے ہوا۔مگر وہ فائر کرنے والے شخص کو پہچان چکا تھا۔ اسے یہ سمجھنے میں بالکل دیر نہیں لگی کہ یہ حرکت کس کی ہو سکتی ہے۔اس پہ حملہ میرسربلند خان کے علاوہ کون کروا سکتا ہے۔
“سر۔۔!”
عمر خان نے ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر پستول نکال لیا اور فائر کرنے لئے پیچھے دیکھا۔
“عمر خان فائر مت کرنا۔۔گاڑی کی رفتار بڑھاؤ اور تھانے سے تھوڑی دور گاڑی روک دینا۔”
اس نے عمر خان سے کہا اور خود سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر تقریبا نیچے ہو کر بیٹھ گیا۔ عمر خان نے پسٹل سامنے رکھی اور گاڑی کی رفتار مزید بڑھائی۔یہ علاقہ نسبتا سنسان تھا۔ایک بار پھر فائر کیا گیا مگر عمر خان نے گاڑی نہیں روکی۔ غصے سے ضیغم کے ضبط کی طنابیں ٹوٹ گئیں تھیں مگر اس نے ایک بار بھی فائر نہیں کیا۔وہ جانتا تھا کہ شکور میں اتنا دم نہیں کہ اسکا مقابلہ کر سکے اس لئے اگر اس نے فائر کھول دیا تو وہ بھاگ جائے گا اور وہ اسے بھاگنے نہیں دینا چاہتا تھا۔
“وہ سامنے درختوں کے قریب گاڑی روک دو اور تم گاڑی سے نکل کر کسی درخت کی آڑ میں ہو جانا اور جب تک میں اشارہ نہ دوں فائر نہیں کرنا۔اسے اسی طرح قابو کرنا ہے۔”
اس نے عمر خان کو سمجھایا۔عمر خان نے گاڑی درختوں کی جانب موڑی۔ اسکی توقع کی عین مطابق ہوا۔شکور نے بھی گاڑی کا رخ موڑا۔ عمر خان نے جیپ ایک گھنے درخت کے پاس روک دی اور پسٹل اٹھا کر جیپ سے نکل گیا۔ اس سے پہلے کے پچھلی گاڑی ان کے قریب پہنچتی ضیغم نے بھی اپنی جگہ چھوڑ دی۔ وہ دونوں اپنی اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے۔شکور نے جیپ کو رکتا دیکھ گاڑی کچھ فاصلے پہ رکوا دی اور فورا گاڑی سے نکلا۔دور سے ہی جائزہ لے کر پسٹل ہاتھ میں لئے وہ آہستہ آہستہ جیپ کی جانب آ رہا تھا۔جیپ کے قریب پہنچ کر اس نے اندر جھانکا۔ اسی دوران ضیغم نے عمر خان کو اشارہ کیا۔ عمر خان درختوں کی آڑ سے ہوتا ہوا پچھلی گاڑی کے قریب پہنچا۔ ڈرائیور ابھی تک گاڑی میں ہی بیٹھا تھا۔ شکور جیپ کا چکر لگا کر درختوں کی جانب بڑھا۔ ضیغم اسے اپنی طرف آتا دیکھ الرٹ ہو گیا تھا۔شکور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اسی درخت کے قریب پہنچ گیا جس کی آڑ میں ضیغم تھا۔ ضیغم نے فورا بناء آہٹ پیدا کیے اپنی جگہ تبدیل کی۔ شکور جیسے ہی تھوڑا آگے ہوا ضیغم نے پیچھے سے اسکی گردن دبوچ لی۔ اسی لمحے شکور نے پسٹل والے ہاتھ کو حرکت دی۔ ضیغم نے اس کی ٹانگ میں ٹانگ اڑا کر اسے چاروں شانے چت کیا۔پسٹل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر کچھ دور جا گرا۔شکور بالکل بے بس ہو چکا تھا۔
“مجھ پہ حملہ کرنے سے پہلے ایک بار تو سوچ لیتے۔”
ضیغم نے اس کی کنپٹی پہ پسٹل رکھی۔
یوں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر شکور کی سٹی گم ہو چکی تھی۔
“میر مجھے چھوڑ دو۔تمھیں نہیں پتہ اگر خان جی کو پتہ چل گیا تو تمھیں ایسی جگہ پھینکیں گے کہ تم خود کو بھی ڈھونڈ نہیں پاؤ گے۔”
“ہاہاہا۔۔۔۔یہ تو وقت ہی بتائے گا۔تمھارے خان جی اپنے گناہوں سے بھرے گڑھے میں گر چکے ہیں۔بس اب میرے مٹی ڈالنے کی دیر ہے۔”
ضیغم نے اس کے دونوں بازو پیچھے اسکی کمر پہ باندھے۔
“تمھاری بھول ہے۔۔۔۔”
شکور ہنسا تھا۔
“یہ وردی پہن کر اپنی اوقات بھول گئے ہو تم۔”
“دیکھیں گے۔۔۔۔۔”
ضیغم نے اسے جھٹکا دے کر آگے کیا مگر اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا۔
“سر۔۔۔آپ ٹھیک ہیں؟”
عمر خان کی آواز آئی۔
“ہاں عمر خان میں ٹھیک ہوں۔وہ ڈرائیور بھاگ تو نہیں گیا کہیں۔۔؟”
ضیغم شکور کو لئے درخت کے پیچھے سے سامنے آیا۔”
“نہیں سر۔۔۔۔”
عمر خان نے اس شخص کو ضیغم کے سامنے دھکیلا۔ضیغم نے دیکھا کہ وہ ایک اونچا لمبا اور کرخت چہرے والا شخص تھا۔گھنی مونچھیں ، سرخ آنکھیں اور چہرے کی بائیں جانب گہرے زخم کا نشان اسے ایک جرائم پیشہ افراد کی صف میں کھڑا کر رہا تھا۔
“صاحب۔۔مجھے چھوڑ دو۔۔مجھے تو یہ شکور جھوٹ بول کر لایا تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ۔۔۔۔۔۔”
“اوئے۔۔ چپ کر۔۔۔اندھا ہے کیا پولیس کی جیپ نظر نہیں آئی تجھے۔۔جب حوالات میں تیری چھترول ہو گی نا تب تجھے پتہ چلے گا کہ ایک اے۔ایس۔پی حملہ کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔”
ضیغم کو دیکھ کر وہ ہاتھ جوڑ کر بولا مگر عمر خان نے اسے بیچ میں ہی اسکی گردن دبوچی تھی۔
“نہیں صاحب۔۔۔میرا کوئی قصور نہیں۔۔یہ مجھے ذبردستی ساتھ لایا تھا۔”
اس نے شکور کی جانب اشارہ کیا جو اسے ہی گھور رہا تھا۔
“چلو عمر خان۔۔”
ضیغم شکور کو عمر خان کی جانب دھکیلتے ہوئے بولا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔عمر خان نے دونوں کو جیپ میں دھکیلا اور خود بھی پیچھے ہی بیٹھ گیا۔ان کے بیٹھتے ہی ضیغم نے جیپ اسٹارٹ کی اور جیپ کا رخ تھانے کی جانب موڑ کر ضیغم نے ایکسیلیٹر پہ پیر کا دباو بڑھایا تھا۔
______________________________________
“خان جی۔۔۔۔۔۔”
وہ اس وقت حجرے میں بیٹھے تھے جب رشید تیز قدموں سے چلتا ہوا حجرے میں داخل ہوا۔اس کے ہوائیاں اڑے چہرے کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔منشی جو ان کے قریب ہی نیچے زمین پہ بیٹھا تھا وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
“کیا مصیبت آن پڑی ہے جو یوں بھاگے چلے آ رہے ہو؟”
انھوں نے سخت نظروں سے رشید کو دیکھا۔
“وہ جی خان جی۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔”
رشید پھولتی سانسوں کے درمیان بولا۔
“بول بھی۔۔۔کیا آفت آگئی ہے۔”
وہ منشی کو پرے ہٹاتے ہوئے رشید کے قریب آئے۔منشی بھی حیران نظروں سے رشید کو دیکھ رہا تھا۔
“وہ خان جی۔۔۔شکور تھانے میں ہے۔نیا اے۔ایس۔پی آیا ہے۔مجھے اقبال نے بتایا۔اسی نے کسی پولیس والے کو شکور کو تھانے لے جاتے دیکھا ہے۔”
رشید نے ہانپتے ہوئے بتایا۔
“تو میں کیا کروں جو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔کیا کیا ہے اس نے جو نوبت یہاں تک آ گئی۔”
وہ چارپائی پہ بیٹھتے ہوئے بولے۔
خان جی آپ چل کر ذرا اس نئے اے۔ایس۔پی کی خبر تو لیں۔آج شکور کو پکڑا ہے کل ہم میں سے کسی کو پکڑ لیا تو۔۔۔۔۔۔”
پریشانی رشید کے چہرے سے ہویدا تھی۔
“شکور نے ایسا کیا کیا ہے جو اسے پولیس پکڑ کر لے گئی ہے؟”
اس بار سوال منشی کی جانب سے آیا۔
“پتہ نہیں منشی جی۔۔۔”
رشید نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
“منشی گلاب خان سے کہو گاڑی نکالے۔۔۔۔۔”
میرسربلند خان تیزی سے حجرے کے دروازے سے باہر نکل گئے۔منشی اور رشید بھی ان کے پیچھے آئے تھے۔منشی بھاگ کر گلاب خان کو لے آیا۔گلاب خان گیراج کی طرف بڑھا۔
“گلاب خان تھانے چلو۔۔۔۔”
میرسربلندخان تیزی سے گاڑی میں بیٹھے۔
“تم یہیں رکو منشی اور رشید تم چلو ہمارے ساتھ۔”
ان کے کہنے کی دیر تھی کہ رشید فورا گاڑی میں بیٹھا۔ان کے بیٹھتے ہی گلاب خان نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
“گلاب خان تھانے چلو۔”
گلاب خان نے اثبات میں سر ہلایا اور گاڑی تھانے جانے والے راستے پہ ڈال دی۔
“ہاں بتاو۔۔۔۔حامد کو کس جرم میں اندر کیا ہے۔۔۔؟کیس کی فائل لے کر آو۔”
میرسربلند خان جب تھانے میں داخل ہوئے تو وہ سامنے ہی کرسی سنبھالے ایس۔ایچ۔او طارق خان سے باز پرس کر رہا تھا جبکہ ایس۔ایچ۔او طارق الرٹ کھڑا بغلیں جھانک رہا تھا۔لیکن جب اس نے میرسربلند خان کو آتے دیکھا تو ایک دم ریلیکس ہو کر کھڑا ہو گیا۔ضیغم کسی فائل کے مطالعے میں مصروف تھا۔اس لئے ایس۔ایچ۔او کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ نہیں پایا تھا۔
“خان جی آپ۔۔۔۔آئیے آئیے بیٹھیے۔”
ایس۔ایچ۔او کی آواز پہ ضیغم نے سامنے دیکھا تو وہاں میرسربلند خان کھڑے تھے۔ وہ فائل ٹیبل پہ رکھ کر کرسی سے پشت ٹکا گیا۔عمر خان اس کے اس قدر ریلیکس انداز پہ مسکراہٹ لبوں میں دبا گیا۔ میرسربلند خان کچھ فاصلے پہ کھڑے ہو گئے۔ ضیغم اٹھ کر ان کے پاس آیا۔
“اسلام و علیکم۔۔! میرا نام میر ضیغم خان۔۔یہاں کا نیا اے۔ایس۔پی۔”
ضیغم نے مصافحے کے لئے ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تھا۔جسے میرسربلند خان نے تھامنا ضروری نہیں سمجھا۔
“شکور کو کس جرم میں اندر کیا ہے؟”
میرسربلند خان کی بارعب آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
“ایک اے۔ایس۔پی پہ قاتلانہ حملہ کرنے کے جرم میں۔”
اس نے بڑے ریلیکس انداز میں پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے اور ان کی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔میر سربلند خان نے اسے بغور دیکھا۔مکمل یونیفارم میں ملبوس اسکی باوقار اور نڈر شخصیت کی روشنی ان کی آنکھیں چندھیائے دے رہی تھی۔انھیں ایک بار پھر سے یوں لگا جیسے میردراب خان ان کے سامنے کھڑا ہو۔ضیغم کو وہ جب جب دیکھتے اس کی آنکھوں سے انھیں آگ کی لپٹیں نکل کر اپنا گھیراو کرتی محسوس ہوتیں۔انھیں نجانے کیوں اس بات کا گمان ہونے لگتا کہ وہ سب جانتا ہے۔اس وقت بھی اسکی بےخوف نگاہیں انھیں اپنے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔عمرخان نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ضیغم کے نڈر انداز کو سراہا جبکہ ایس۔ایچ۔او اسکا انداز دیکھ کر حیران ہوا تھا۔وہ تو کچھ اور ہی سوچ رہا تھا لیکن اپنی سوچ کے برعکس ہوتا دیکھ کر اسے پھر سے اپنی نوکری خطرے میں لگنے لگی تھی۔ کتنے لوگوں کو اس نے بنا کسی کیس کے حوالات میں بند کر رکھا تھا اور تھانے میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی تھی۔
“کوئی گواہ۔۔۔؟”
انھوں نے اردگرد نظر دوڑائی۔۔۔وہاں اس وقت تھانے کا پورا عملہ موجود تھا اور سبھی انہی کی جانب دیکھ رہے تھے۔وہ سبھی ضیغم سے واقف تھے لیکن وہ اس طرح ان کے سامنے آئے گا یہ ان میں سے کسی نے نہیں سوچا تھا۔سوچا تو میرسربلند خان نے بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ اسطرح ان کے سامنے قدم مضبوطی سے جمائے کھڑا ہو گا۔
“عمرخان۔۔!!”
ضیغم نے عمر خان کی جانب دیکھا۔
“میں ہوں گواہ۔۔۔”
ضیغم کے پکارنے پر عمر خان آگے آیا۔
“تم ابھی مجھے جانتے نہیں ہو۔۔۔۔۔”
میرسربلند خان اس کے قریب آ کر دھیرے سے بولے تھے مگر ان کے لہجے کی کاٹ کو اس نے واضح طور پر محسوس کیا تھا۔
“مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے تمھیں میرسربلند خان۔۔۔”
ضیغم نے ان کا انداز انھیں لوٹایا تھا۔
“میں تم سے بحث کرنے نہیں آیا۔۔۔شکور کو چھوڑ دو۔تم لوگوں کو یقینا کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔ وہ شکار کی غرض سے آیا ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ تمھاری گاڑی ایک غلط نشانے کی زد میں آ گئی ہو۔تم یونہی اس معاملے کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔اوئے ۔۔۔۔جا کر شکور کو لے کر آ۔۔”
ضیغم سے کہہ کر وہ سامنے کھڑے ایک سپاہی سے بولے اور خود کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی جبکہ وہ سپاہی ضیغم کی طرف دیکھنے لگا۔
“اوئے سنا نہیں تم نے۔۔۔۔۔”
وہ اسے اپنی جگہ پہ کھڑے دیکھ کر دھاڑے۔
“یہ میرا تھانہ ہے۔۔آپ کی حویلی نہیں جہاں آپ یوں چلائیں گے۔اب اگر یہاں کوئی آئے گا بھی تو میری مرضی سے اور جائے گا بھی تو میری مرضی سے۔اس سے پہلے کہ میں آپکو بھی شکور کے پاس پہنچا دوں آپ یہاں سے تشریف لے جائیے۔”
وہ ٹیبل پہ ہاتھ رکھ کر ان کی طرف جھکتے ہوئے بولا۔اس کی بات ان کے اندر لگی آگ کے شعلے بھڑکا گئی۔وہ ایک پل ضائع کیے بغیر اٹھے۔
“اور ہاں۔۔۔۔۔شکور کو بھول جائیے اسے تو اب میرا باپ بھی یہاں سے نہیں لے جا سکتا آپ تو ان کے بھائی ہیں۔”
میرسربلند خان نے فورا پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔ان کی نظروں میں حیرانی دیکھ کر وہ ہنسا تھا۔ ضیغم کی بات ان کے پیروں تلے سے زمین کھینچنے کے لئے کافی تھی۔
وہ ایک پل بھی رکے بغیر تیزی سے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔۔۔رشید بھی ان کے پیچھے بھاگا تھا۔
“چلو بھئ۔۔۔شو ختم۔۔ناؤ گیٹ بیک ٹو یور ورک۔۔۔”
وہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے اپنے آفس کیطرف بڑھا۔
“مسٹر ایس۔ایچ۔او۔۔!! کیا آپ اس تھانے کے تمام کیسز کی فائلز مجھے دکھائیں گے۔”
اسے آفس کی طرف بڑھتا دیکھ ایس۔ایچ۔او نے سکون کا سانس لیا تھا مگر اگلے ہی پل ضیغم نے پھر اسے وہیں سے پکڑا جہاں سے چھوڑا تھا۔
“یس سر۔۔۔!”
اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے عمر خان کی جانب دیکھا۔ عمر خان نے کندھے اچکائے اور آفس کی طرف بڑھ گیا۔
________________________________________
“آ رہا ہوں۔۔۔۔۔”
وہ مسکاء کو اندر جانے کا اشارہ کرتے دروازے کی طرف بڑھے۔وہ فورا ہی کچن کے دروازے کے پیچھے ہوگئی تھی۔
“کون ہے۔۔۔؟”
زمان خان نے دروازہ کھولنے سے پہلے پوچھا۔
“زمان چاچا میں ہوں رشید۔۔۔۔”
رشید کی آواز انھیں حیرت میں مبتلا کر گئی۔انھوں نے پیچھے پلٹ کر مسکاء کے وہاں موجود نہ ہونے کی تصدیق کی اور دروازہ کھول دیا۔
“کیا بات ہے رشید۔۔۔۔؟؟”
انہوں نے باہر آ کر دروازہ بند کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“زمان چاچا۔۔۔۔۔کیا حال چال ہیں؟”
رشید نے خوشامدی انداز اپنایا۔
“ٹھیک ہوں۔۔۔۔یہ آج تمھیں میری طبیعت کا خیال کیسے آ گیا۔۔خیر تو ہے نا۔۔؟”
زمان خان نے سر سے پیر تک اسکا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
“میر صاحب گھر آ گئے ہیں کیا؟”
رشید نے بند دروازے کو گھورا۔
“میر۔۔؟ صاحب۔۔۔؟؟”
زمان خان نے اسے حیرت بھری نظروں سے دیکھا۔
“ہاں نا چاچا۔۔۔لگتا ہے وہ تھانے سے ابھی آئے نہیں ہیں۔ تبھی تو تم مجھے ایسے حیرانی سے دیکھ رہے ہو۔ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔۔۔”
رشید کی نظر دور سے آتی پولیس جیپ پر پڑی تو وہ وہاں سے کھسک گیا۔ زمان خان نے بھی پولیس جیپ کو آتے دیکھ لیا تھا۔
“یا اللہ خیر۔۔۔پولیس۔۔”
تھانے کے ایس۔ایچ۔او سے وہ اچھی طرح واقف تھے اس لئے جیپ کو اس طرف آتے دیکھ کر وہ پریشان ہو گئے تھے۔جیپ ان سے کچھ فاصلے پہ آ کر رک گئی۔بائیں طرف سے رحم دین نکل کر ان کے قریب آیا تھا۔ان کے چہرے پہ ایک جاندار مسکراہٹ تھی۔
“خیر تو ہے نا پولیس کی گاڑی میں کیوں آئے ہو؟”
زمان خان کی تان ابھی تک پولیس پہ ہی اٹکی ہوئی تھی۔
“اپنے بیٹے کے ساتھ آیا ہوں۔”
رحم دین مسکراتے ہوئے ان سے بغلگیر ہوئے تھے۔انھوں نے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب دیکھا لیکن ڈرائیونگ سیٹ پہ جو بھی بیٹھا تھا اس نے جیپ کا سن وائزر نیچے کر رکھا تھا اس لئے وہ چہرہ دیکھ نہیں پائے تھے۔
“کیوں پہیلیاں بھجوا رہے ہو رحم دین۔۔۔صاف صاف بتاو کس کے ساتھ آئے ہو؟”
زمان خان جھلا گئے۔
“میر۔۔۔!”
رحم دین نے پکارا۔
“میر۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟”
زمان خان کے لب ہلے۔۔۔انہوں نے میر کو جیپ کی دائیں جانب سے نکلتے اور پھر اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔وہ ان کے سامنے تھا اسی روپ میں جس میں وہ اسے دیکھنا چاہتے تھے۔وہ اتنی ہی اونچائی پہ قدم جمائے کھڑا تھا جتنی بلندی میں وہ اسے دیکھنا چاہتے تھے۔وہ دھیرے دھیرے چلتا ان کے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔زمان خان کو لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہے ہوں۔انھوں نے سختی سے آنکھیں میچ کے دوبارہ کھولیں۔
“بابا۔۔۔۔۔”
ضیغم نے ان کے بازو تھام لیے۔
“میر۔۔۔۔یہ تم ہو۔۔۔۔۔؟؟”
انھوں نے اسکے کشادہ سینے پہ ہاتھ رکھے۔انھیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ان کے بے یقین انداز پہ وہ کھل کر مسکرا دیا۔انھیں لگا جیسے میردراب خان مسکرا رہے ہوں۔انھوں نے اسے سینے سے لگایا تھا اور بےطرح رو دئیے تھے۔وہ ان کی حالت سے واقف تھا اس لئے انھیں رونے دیا۔رحم دین کی آنکھیں بھی بھر آئیں تھیں۔انھوں نے آنسو پونچھتے ہوئے زمان خان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“زمان خان یہ تو خوشی کا موقع ہے اور تم رو رہے ہو۔”
زمان خان ضیغم سے الگ ہوئے۔
“یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔”
ان کی بات پہ وہ تینوں مسکرا دئیے تھے۔
“تم نے بتایا نہیں۔۔۔۔اور۔۔۔۔”
زمان خان نے اسے سر سے پیر تک دیکھا اور پھر اسکے سینے پہ لگے اس کے نام پہ نرمی سے ہاتھ پھیرا۔
“میں آپکو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔”
اس نے ان کے کندھے پہ بازو پھیلایا اور ان کے ساتھ قدم بڑھائے۔
“تبھی تو میں کہوں یہ رشید تمھیں صاحب کیوں کہہ رہا تھا۔اس نے تمھیں شاید دیکھ لیا تھا۔”
زمان خان نے کہا۔
“ہاں وہ تھانے آیا تھا۔”
اس نے پوری بات بتانے سے گریز کیا۔
“اچھا۔۔۔۔”
زمان خان نے باہر والی کنڈی اتاری اور دروازہ کھول دیا۔وہ تینوں اندر داخل ہوئے۔ مسکاء کچن میں ہی تھی۔کھٹکے کی آواز پہ باہر آئی۔ ضیغم کو دیکھ کر اسکے قدم وہیں جم گئے۔
“مسکاء دیکھو تو کون آیا ہے۔”
انھوں نے مسکاء کو پکارا۔
“السلام و علیکم!”
وہ مسکراتے ہوئے ان کے قریب آئی تھی۔
“واعلیکم السلام۔۔! کیسی ہو تم؟”
ضیغم نے اسکے چہرے کو نظروں میں سموتے ہوئے پوچھا۔کتنی شدت سے انتظار تھا اسے اس پل کا جب وہ اسکی نظروں کے سامنے ہو گی۔ایک پل ایسا نہیں جب وہ اسے یاد نہ آئی ہو۔
“جی ٹھیک ہوں۔۔آپ کیسے ہیں؟”
مسکاء نے اس کی نظروں کی تپش محسوس کر کے نظریں جھکائیں۔
“آ جاو بیٹا اندر چلیں۔۔” زمان خان نے اندر کی طرف قدم بڑھائے۔
“یہیں بیٹھتے ہیں بابا۔۔ذرا سردیوں کی دھوپ لے لیں۔”
وہ وہیں صحن میں رکھی کرسی پہ بیٹھ گیا۔رحم دین اور زمان خان بھی چارپائی پہ بیٹھ گئے۔ مسکاء انھیں باتوں میں مصروف میں دیکھ کر کچن کی طرف آ گئی۔ قہوے کے لئے پانی رکھا۔کچن میں بنی واحد کھڑکی جو برآمدے میں کھلتی تھی جہاں سے صحن میں وہ باتیں کرتے باآسانی دکھائی دے رہے تھے۔لبوں پہ دھیمی مسکان سجائے وہ وہیں سے ضیغم کے مطالعے میں مصروف تھی۔کھلتی رنگت دھوپ کی تمازت سے سرخی مائل ہو رہی تھی۔گہرے براؤن بال سلیقے سے بنائے گئے تھے۔وہ جس وقت سے آیا تھا مسکراہٹ ایک پل کو بھی اس کے لبوں سے جدا نہیں ہوئی تھی۔ اسے وہ دن یاد آیا جب اس نے پہلی بار ضیغم کو دیکھا تھا۔ماتھے پہ سلوٹیں،سنجیدہ چہرہ،خاموش نگاہیں اور سختی سے بھینچے ہوئے لب۔۔۔۔۔وہ اس ضیغم سے قطعی مختلف لگا۔اچانک ضیغم نے بھی اسکی جانب دیکھا تو وہ گھبرا کر رخ پلٹ گئی۔
“تمھیں کیا ہوا ہے مسکاء جو ایسے آنکھیں پھاڑے پھاڑے انھیں دیکھ رہی تھی۔”
کھولتے پانی میں چینی ڈالتے ہوئے اس نے اپنی اس حرکت پر خود کو کوسا۔
“اب بار بار مجھے جتائیں گے کہ میں انھیں چھپ چھپ کر دیکھ رہی تھی۔”
اسے اگلی پریشانی نے گھیرا۔
“کہیں گے تو میں بھی کہہ دوں گی کہ میں اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی۔”
اس نے ٹرے میں کپ رکھتے ہوئے جواب سوچا اور پھر ٹرے اٹھائے باہر آ گئی۔
“مسکاء کہاں جا رہی ہو بیٹا۔۔۔۔یہیں بیٹھ جاو۔”
ٹرے اس نے ٹیبل پہ رکھی اور خود واپس کچن میں جانے لگی تو زمان خان نے اسے ضیغم کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھنے کو کہا۔
وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
“کھانے کی فکر مت کرو۔۔کھانا تمھاری ماں بنا کر لا رہی ہے۔”
رحم دین نے اسے پریشان دیکھ کر کہا حالانکہ پریشان تو وہ ضیغم کی نظروں سے ہو رہی تھی اور وہ جو کنکھیوں سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا نظریں پھیر گیا۔۔
_______________________________________
انھوں نے کمرے کی ہر چیز اٹھا کر دیوار پہ دے ماری تھی۔ ماہ گل اور باقی ملازم سبھی ان کو اس قدر غصے میں دیکھ کر ادھر ادھر ہو گئے تھے۔کمرے میں موجود ہر چیز ان کے غصے کی نظر ہو چکی تھی۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر چیز کو آگ لگا دیں۔ کسی میں بھی ہمت نہیں تھی ان کے غصے کا سامنا کرنے کی۔ وہ دائیں سے بائیں چکر لگا رہے تھے۔سب کچھ تہس نہس کر کے بھی ان کے غصے کا گراف نیچے نہیں آ رہا تھا۔
“گلاب خان کیا ہوا ہے؟”
ماہ گل بھاگتی بھاگتی گلاب خان کے پاس آئی تھیں۔
“پتہ نہیں بی بی۔۔۔۔ہم کو کہا تھانے لے چلو۔۔ہم تھانے لے گیا۔۔وہاں سے ایسا ہی آگ کا گولا بن کر آیا ہے۔۔اللہ ہی جانتا ہے کہ وہاں کیا ہوا۔”
گلاب خان رومال کندھے پہ ڈالتے ہوئے بولا۔
“اچھا تو ذرا کمرے میں جا کر دیکھو کہیں خان خود کو نقصان نہ پہنچا لے۔”
ماہ گل پریشانی سے بولیں۔
“ماہ گل بی بی۔۔۔آپ پریشان مت ہوں۔خان جی کچھ بھی نہیں کرے گا خود کو۔۔۔نقصان تو وہ ان کو پہنچائے گا جنھوں نے اسے اس حال میں پہنچایا ہے۔”
رشید ان کے بیچ آ کھڑا ہوا۔
“ہاں اس سے پوچھو۔۔۔یہ گیا تھا تھانے کے اندر۔۔”
گلاب خان نے رشید کو دیکھ کر کہا۔
ماہ گل نے رشید کی طرف دیکھا۔رشید خباثت سے مسکرانے لگا۔
“توبہ خدایا۔۔۔کیسا گندا دانت ہے تمھارا۔۔اندر کرو اسے”
گلاب خان نے اسکے پیلے دانتوں کو دیکھ کر کہا۔
“گلاب خان تم نے اپنے ٹیڑھے میڑھے دانت نہیں دیکھے کیا۔”
رشید کو اپنے دانتوں کی شان میں گستاخی پسند نہیں آئی۔
“اوئے جاؤ جاؤ۔۔۔۔۔دہ نسوار بچے(نسوار کا بچہ)۔۔۔ہمارا تو ایک دم سپا سترا دانت ہے(صاف ستھرا)۔۔یہ دیکو۔۔۔”
گلاب خان نے فورا بتیسی نکالی۔
“یا اللہ توبہ۔۔۔خدایا توبہ۔”
رشید نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔
“او خدا تم دونوں کو پوچھے۔۔۔جا کر خان جی کی خبر لو۔۔اپنے دانتوں کا فکر لگ گیا ہے۔۔مجھ سے پوچھو۔۔!! تم دونوں کا دانت بہت گندا ہے۔”
ماہ گل نے اپنی ہنسی روکی۔
“ہاں چلو ماہ گل ہم جاتا ہے تمھارے ساتھ۔”
گلاب خان ماہ گل کے ساتھ آگے بڑھا۔
“اوئے سن تو لو کہ آخر ہوا کیا ہے اور میری مانو تو ابھی مت جاو۔۔ورنہ ماہ گل تو بچ جائے گی مگر تمھارے یہ ٹیڑھے میڑھے دانت خان جی توڑ دیں گے۔اب کمرے میں یہی رہ گئے ہونگے توڑنے کے لئے۔”
رشید ان کے پیچھے آیا۔
“تم خاموش ہوتا ہے کہ نہیں۔۔۔ورنہ ہم تمھارا یہ ذرد دانت ادھر ہی توڑ دے گا۔”
گلاب خان نے رشید کو مکا دکھایا۔۔جسے دیکھ کر رشید فورا پیچھے ہٹا۔
“خدا کو مانو گلاب خان۔۔۔اپنا سفید داڑھی کو دیکھو۔”
ماہ گل نے گلاب خان کا بازو نیچے کیا۔
“ہاں رشید تم بتاو تھانے میں کیا ہوا تھا کہ خان جی اتنے غصہ میں ہے۔”
ماہ گل نے رشید کی طرف دیکھا۔ان کے پوچھنے پر رشید نے الف تا یے سارا واقعہ کہہ سنایا۔
“اوئے اپنا میر۔۔۔۔وہ زمان خان کا بچہ میر؟؟”
گلاب خان نے حیرانی سے پوچھا۔
“ہاں گلاب خان وہی۔”
رشید نے کہا جبکہ ماہ گل تو خوشی کے مارے کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی۔
“یہ تو بہت خوشی کا بات ہے۔”
گلاب خان نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
وہ آپس میں سر جوڑے مزید بھی کچھ کہہ رہے تھے کہ باتور خان کی آواز پہ پلٹے۔وہ انہی کی طرف آ رہا تھا۔رشید اسے دیکھ کر تیزی سے اس کے پاس آیا تھا۔
“خان وہ خان جی بہت غصے میں ہیں۔ اور تو کسی میں اتنا دم خم نہیں ہے آپ ہی جا کر ذرا دیکھو۔”
رشید باتور خان مکھن لگانا نہیں بھولا تھا جس سے اسکی گردن مزید تن گئی۔
“چلو۔۔۔۔۔اور ہاں تم دونوں اپنا اپنا کام کرو۔۔یہاں باتیں بنانے کے پیسے نہیں ملتے۔”
باتور خان نے جاتے جاتے ماہ گل اور گلاب خان کو پلٹ کر دیکھا اور پھر رشید کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
“ہونہہ۔۔! بڑا آیا۔۔اب انکا شامت آئے گا۔”
گلاب خان نے ماہ گل کی طرف دیکھ کر کہا اور گیٹ کی جانب بڑھ گیا۔
باتور خان اور رشید کمرے کے باہر کھڑے ہو گئے۔ باتور خان نے دروازے سے کان لگایا مگر کچھ نہ سنائی دیا۔
“لگتا ہے میرسربلند خان یخ ہو گیا ہے۔”
رشید نے دھیرے سے کہا۔باتور خان نے اسے گھور کر دیکھا۔
“وہ میرا مطلب ہے کہ خان جی کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہے۔”
رشید پیچھے ہوا۔
“خان جی۔۔۔۔آپ ٹھیک ہیں؟”
باتور خان بلند آواز میں بولا۔
“باتور خان اندر آ جاو۔۔”
میر سربلند خان کی آواز سن کر وہ اندر داخل ہوا۔کمرے کی ابتر حالت دیکھ کر اس نے انھیں حجرے میں چلنے کے لئے کہا۔وہ خاموشی سے اس کے ساتھ ہو لیے۔انھیں لئے وہ نیچے آیا۔ماہ گل نیچے ہی کھڑیں تھیں۔باتور خان نے ان سے چائے تیار کر کے رشید کے ہاتھ حجرے میں بھیجنے کو کہا تھا۔میرسربلند خان رکے بنا حجرے کی طرف جا چکے تھے۔ باتور خان بھی ان کے پیچھے آیا تھا۔وہ جب حجرے میں پہنچا تو وہ چارپائی پہ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔وہ آ کر ان کے سامنے بیٹھ گیا۔
“خان جی۔۔۔۔۔۔”
“اسکا کچھ پکا انتظام کرنا پڑے گا۔میں اسے اب ایک پل بھی برداشت نہیں کر سکتا۔”
میرسربلند خان بنا اس کی جانب دیکھے بولے۔
“خان جی اگر اس دن آپ نے مجھ سے پسٹل نہ لیا ہوتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا مگر خیر اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔۔۔۔۔۔۔آپ ایک اشارہ کریں تو چیونٹی کی طرح مسل کر رکھ دوں گا۔”
باتور خان کے چہرے کی کرختگی لہجے میں بھی در آئی تھی۔
“مجھے شک ہے کہ رحم دین کی بیٹی کا نکاح میر سے ہی ہوا ہے۔لڑکی اب بھی زمان خان کے گھر میں موجود ہے۔لڑکی کو کسی طرح اپنے قبضے میں کرو۔میں اسے اتنی آسان موت نہیں مارنا چاہتا۔میں چاہتا ہوں کہ وہ گھٹنے ٹیک کر یہاں میرے سامنے بیٹھا ہو اور مجھ سے اپنی عزت کی بھیک مانگے۔تب ہی کہیں جا کر میرے دل کو سکون ملے گا۔”
میرسربلند خان کے اندر کا جانور باہر آ چکا تھا۔
“ویسا ہی ہو گا خان جی۔۔۔۔جیسا آپ چاہتے ہیں۔” وہ داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
“تو پھر کسی عورت کو اس کام پہ لگاو۔۔۔کسی طرح وہ لڑکی گھر سے باہر آ جائے۔باقی کام آسان ہو جائے گا۔”
وہ کھڑے ہوئے۔
“خان جی۔۔۔۔صبح کے ٹائم تو گھر میں اکیلی ہی ہو گی وہ۔۔۔۔”
وہ مکاری سے ہنسا تھا اور ان کی ہنسی میں میرسربلند خان کی ہنسی بھی شامل ہو گئی تھی۔
________________________________________
“اماں آج رہ جاو نہ میرے پاس۔۔اتنے دنوں بعد تو آئی ہو۔”
ذہرہ بی بی اس کے ساتھ رات کے کھانے کے برتن دھو رہی تھیں۔جب وہ ان سے رکنے کے لئے کہنے لگی۔
“ہائے باؤلی ہوئی ہو کیا۔۔میں کیسے رہ سکتی ہوں یہاں۔”
ذہرہ بی بی نے اسے حیرانی سے دیکھا۔
“اچھا ایسے تو مت دیکھو۔”
مسکاء نروٹھے پن سے بولی۔
“چل خفا نہ ہو۔۔۔کل پھر آ جاوں گی نا۔”
ذہرہ بی بی نے اسے سینے سے لگایا۔
“وعدہ۔۔؟؟”
مسکاء نے دایاں ہاتھ آگے کیا تھا۔ذہرہ بی بی نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
“مسکاء کی ماں۔۔!! گھر نہیں جانا ہے کیا؟”
رحم دین کچن کے دروازے میں آ کر کھڑے ہوگئے۔
“جی بس آ رہی ہوں۔”
ذہرہ بی بی نے مسکاء کا ماتھا چوما اور اسے ساتھ لئے باہر آ گئیں۔
“میں ذرا ضیغم سے مل لوں۔”
وہ ضیغم کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔رحم دین اور زمان خان نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے تھے۔تھوڑی دیر بعد ذہرہ بی بی بھی آتی دکھائی دیں۔وہ مسکاء سے دوبارہ ملیں اور رحم دین کے ساتھ ہو لیں۔ان کے جانے کے بعد زمان خان نے دروازہ بند کیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔مسکاء نے کچن میں آ کر ایک آخری نظر کچن پہ دوڑائی اور لائٹ آف کر دی۔باہر آ کر صحن میں رکھی کرسیاں اٹھا کر برآمدے میں رکھیں اور برآمدے کی لائٹ بند کر کے روم میں آ گئی۔کمرے میں نائٹ بلب جل رہا تھا۔وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی بیڈ کے دائیں جانب آئی تھی۔جھک کر ضیغم کو دیکھا۔
“میں جاگ رہا ہوں۔”
وہ اسے سوتے دیکھ کر شکر کرنے کے انداز میں ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ وہ پلٹ کر بولا۔اس نے فورا ہاتھ نیچے کیے۔
“یہ کیا ہو رہا تھا؟”
ضیغم کی دائیں ابرو کمان کی طرح تنی ہوئی تھی۔
“کچھ نہیں۔۔۔۔”
وہ ہاتھ پیچھے باندھ کر مسکرائی تھی۔
“یہ شکر کس بات کا ادا کر رہی تھی۔”
وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“نہیں تو۔۔۔۔۔”
مسکاء نے نفی میں گردن ہلائی۔
“میرے آنے کا شکر ادا کر رہی تھی۔”
وہ مسکرایا تھا جبکہ وہ خاموش رہی۔
“ادھر آو۔۔۔”
ضیغم نے ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تھا۔مسکاء نے ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیا تو اس نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
“تم نے مجھ سے کہا تھا کہ جب میں آوں گا تو مجھے بتاو گی۔”
ضیغم نے اسکی سیاہ آنکھوں میں جھانکا۔
“میں نے۔۔۔۔۔؟؟ کب۔۔؟”
اس نے سیاہ آنکھوں کو مزید کھولا۔
“میں یاد دلاوں۔۔۔۔؟؟”
اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا۔
“نہیں۔۔۔۔۔”
وہ پیچھے ہوئی۔
“نہیں مجھے طریقہ آتا ہے یاد دلانے کا۔۔۔اتنے مہینے مجھے وہاں یہی تو سکھایا گیا ہے۔”
وہ اٹھنے لگی تو ضیغم نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔اس بار وہ اس کے سینے سے آ لگی۔اس نے جلدی اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا۔
“یہ کیا کر رہے ہیں؟؟”
وہ خود کو چھڑانے لگی۔
“میں تمھیں یاد دلاتا ہوں نا کہ تم نے مجھ سے کیا کہا تھا۔”
وہ اسکی مہکتی ذلفوں میں چہرہ چھپا کر بولا تھا۔
“ضیغم۔۔۔۔!!”
وہ کسمسائی تھی اور اس کی جانب سے رخ پھیر گئی۔
“پہلے تم مجھے بتاو گی کہ تم نے مجھے مس کیا تھا یا نہیں۔”
وہ اس کے شانے پہ چہرہ ٹکاتے ہوئے بولا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔بالکل بھی نہیں۔”
وہ شرمیلی مسکراہٹ لبوں میں دبا کر بولی۔
“اچھا۔۔۔۔؟؟”
وہ پیچھے ہٹھا تھا۔
“جی۔۔۔۔”
وہ رخ پھیرے پھیرے بولی۔
“تو پھر اس کی سزا ملے گی۔۔۔۔”
اس نے اسکا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے اسے شرارتی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔اس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر وہ اٹھنے لگی تھی۔
“ضیغم۔۔۔پلیز چھوڑیں۔۔۔”
مسکاء نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے آگے بڑھنے سے روکا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔آج تو سزا پکی ہے۔۔”
وہ اسے اپنی جانب کھینچ کر اس کے چہرے پہ جھکا تھا۔
“ضیغم۔۔۔۔۔!!”
مسکاء نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اسے روکا تھا۔
“ضیغم کی جان۔۔۔!!”
اس نے اسکے ہاتھ کو اپنے لبوں سے چھوا تھا۔ _______________________________________جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *