Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode20

Ghag By Mahwish Urooj Episode20

گاڑی نہایت تیز رفتاری سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی۔زمان خان خاموشی سے بیٹھے تھے۔زبان خاموش تھی مگر آنکھوں سے لگاتار بہے جا رہے تھے۔اس لمحے وہ خود کو بہت بےبس محسوس کر رہے تھے۔ایک ایسا بےبس شخص جو اپنی متاع حیات کو اپنی آنکھوں سے ختم ہوتے دیکھ رہا ہو مگر اسے بچانے کی طاقت خود میں نہ پاتا ہو۔ان کا دل گواہی دے رہا تھا کہ ضیغم ٹھیک ہو گا مگر جن لوگوں کے نرغے میں وہ پھنس چکے تھے ان کا ہر حد سے گزر جانا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ضیغم کا بنا بتائے شہر جانا اور گاوں نہ لوٹنا۔۔۔۔باتور خان کی باتوں سے ڈر اور خوف انھیں اپنی گرفت میں لے چکے تھے۔انھیں اپنے دل کی رفتار کم ہوتی محسوس ہو رہی تھی مگر وہ کیا کر سکتے تھے سوائے اللہ پہ توکل کرنے کے۔۔۔دل ہی دل میں وہ وہ اپنے اللہ کے حضور دعا میں مشغول تھے۔وہی ان کی آخری امید تھا۔۔آخری سہارا تھا۔۔۔دنیا میں خود کو خدا سمجھنے والوں نے انھیں اس حال تک پہنچا دیا تھا مگر وہ آسمانوں کا بنانے والا۔۔۔۔سب دیکھ رہا تھا وہی انصاف کرے گا۔
گاڑی گاوں کی حدود سے نکل کر شہر کی حدود میں داخل ہو گئی تھی۔وہ کبھی شہر آتے نہیں تھے اس لئے راستوں سے ناواقف تھے۔ان کا گاوں ہی ان کے لئے پوری دنیا تھا۔اسی لئے انھیں معلوم نہیں تھا کہ اس وقت وہ کہاں ہیں اور یہ جگہ کون سی ہے۔جس علاقے سے وہ گزر رہے تھے تقریبا سنسان تھا۔اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں رات کے اس سناٹے کو چیرتی ہوئی اکا دکا گاڑی ان کے پاس سے تیزی سے گزر جاتی۔سڑک کے کنارے گھنے درختوں کی بہتات تھی۔وہ نظریں راستے پہ جمائے ہوئے تھے۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکے۔باتور خان نے ری ویو مرر میں انھیں اپنی سرخ آنکھوں سے گھورا۔
“جتنی بک بک کرنی تھی کر چکے۔اب صرف ہم کہیں گے اور تم سنو گے۔۔خاموشی سے بیٹھے رہو۔جہاں بھی جا رہے ہیں اب تمھیں وہیں رہنا ہے اور کسی خوش فہمی میں مت رہنا کہ تمھیں چھوڑ دیں اور نہ ہی کسی بھول میں کہ تمھیں یہاں سے کوئی چھڑا لے جائے گا۔”
باتور خان بےلچک لہجے میں بولا۔
“میں تمھارے ساتھ کہیں بھی جانے کو تیار ہوں باتور خان۔۔مگر تم لوگ ضیغم کو چھوڑ دو۔ساری غلطی میری ہے۔۔دھوکہ میں نے دیا ہے۔۔اسے حقیقت سے روشناس میں نے کروایا ہے۔بدلہ لینا ہے تو مجھ سے لو۔۔میری جان لے لو میں اف تک نہیں کروں گا۔”
وہ بہتی آنکھوں کے ساتھ ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولے۔
“ہاہاہا۔۔۔۔واہ کیا ڈائلاگ ہے چاچا۔۔۔لیکن میرے سامنے یہ ڈرامے نہ کر۔۔میں تمھیں بھی جانتا ہوں اور تمھارے اس منہ بولے بیٹے میر کو بھی۔۔اور تو فکر نہ کر ہم تجھے جہاں پہنچائیں گے وہاں اسکا ٹھکانہ بھی بنا دیں گے۔تم دونوں تا قیامت ساتھ ساتھ رہو گے۔”
باتور خان کا احساس سے عاری قہقہہ گاڑی میں گونجا۔
زمان خان منہ پہ ہاتھ رکھے خاموشی سے بیٹھ گئے۔گاڑی کی رفتار اب کسی حد تک آہستہ ہو چکی تھی۔سڑک کی دائیں جانب گاڑی ڈھلوان سے نیچے اتر گئی۔اونچے نیچے راستے سے گاڑی ہچکولے کھاتی گزر رہی تھی۔جس سے راستے کی خستہ حالی کا اندازہ ہو رہا تھا۔بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد گاڑی ایک گھر کے سامنے رک گئی۔یہاں کافی اندھیرا تھا۔باتور خان نے گاڑی سے نکل کر ان کی جانب کا دروازہ کھولا اور انھیں بازو سے پکڑ کر باہر نکالا۔ایک ہاتھ سے زمان خان کو پکڑے وہ دوسرے ہاتھ سے موبائل نکال کر کال ملانے لگا۔
“ہاں جہانگیرخان میں آ گیا ہوں۔۔دروازہ کھولو۔۔”فون پہ دروازہ کھولنے کا کہہ کر اس نے موبائل جیب میں رکھا تھا۔زمان خان کا ہاتھ ابھی تک اس نے سختی سے اپنے ہاتھ میں جکڑ رکھا تھا۔تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور اونچا لمبا اور بےتحاشا سفید رنگت والا ایک شخص برآمد ہوا۔
“لو پکڑو اسے۔۔۔اور دیکھو خان جی کا حکم ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو ورنہ وہ ہم میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔سمجھ گئے نا۔۔؟”
اس شخص کے اثبات میں سر ہلانے پر باتور خان پلٹ گیا جبکہ اس دوسرے شخص نے زمان خان کو مضبوطی سے پکڑ کر اندر کی جانب بڑھا اور اپنے پیچھے تیزی سے دروازہ بند کرتا انھیں ایک کمرے کی طرف لے آیا۔لائٹ جلا کر اس نے انھیں کمرے میں رکھی واحد چارپائی پہ اشارے سے بیٹھنے کو کہا اور واپس مڑ گیا۔اپنے پیچھے انھیں دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو وہ ایک گہری سانس خارج کرتے چارپائی پہ بیٹھ گئے۔کمرے میں پھیلی ذرد روشنی میں انھوں نے اردگرد کا جائزہ لیا۔کمرے میں اس چارپائی کے علاوہ دوسرا کوئی سامان نہیں تھا جس پہ وہ براجمان تھے۔صرف چارپائی کی دوسری جانب ایک چھوٹا سا پانی کا کولر رکھا تھا۔کولر دیکھ کر انھیں پیاس کا احساس ہوا۔لڑکھڑاتے قدموں سے وہ کولر کی جانب آئے تھے۔آس پاس نظر دوڑا کر گلاس تلاش کرنا چاہا مگر کوئی بھی برتن وہاں موجود نہیں تھا۔انھوںبنے کولر کا ڈھکن اٹھا کر پانی پیا اور واپس چارپائی پہ جا بیٹھے۔
متعدد سوچیں انھیں اپنے گھیرے میں لئے ہوئی تھیں۔انھیں اپنی پرواہ نہیں تھی غم صرف ضیغم اور مسکاء کا تھا۔ان کا رواں رواں اپنے رب کی بارگاہ میں دعاگو تھا۔منفی سوچوں کو وہ خود پہ حاوی نہیں ہونے دینا چاہتے تھے مگر باتور خان کی باتوں نے انھیں پریشان کر دیا تھا۔
“یااللہ۔۔! میرے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا۔تو ہی ہمارا مددگار ہے۔میں نے اپنے بچے تیرے حوالے کیے تو ہی ان کا حامی و ناصر ہو۔”
دعا میں اٹھے ہاتھوں پہ نظریں جمائے وہ دھیرے سے ان کے لب ہلے تھے۔
_________________________________________
“میر۔۔۔تم یہاں۔۔اس وقت کس کام سے آیا ہے؟”
گلاب خان نے میر کو جیپ سے اترتے دیکھا تو بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا تھا۔
“چاچا۔۔ بابا کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔۔کیا آپ نے ان کو دیکھا تھا؟”
ضیغم نے پیشانی مسلتے ہوئے گلاب خان کی طرف دیکھا۔گلاب خان بھی اس کی پریشان صورت دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔
“ہاں آیا تھا یہاں۔۔۔خان جی نے بلایا تھا اس کو۔۔۔میں خود لینے گیا تھا۔مگر وہ تو کافی دیر پہلے چلا گیا ہوگا۔تم تو اس وقت تھانے سے آیا ہوگا۔گھر جا کر دیکھو۔۔وہیں ہوگا اور کدھر جانا ہے اس نے۔”
گلاب خان نے نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ضیغم کو یونیفارم میں دیکھ کر اسں نے درست اندازہ لگایا۔ان کی بات سن کر اسے یقین ہو گیا کہ زمان خان اس وقت میرسربلند خان کے پاس ہی ہونگے۔مگر اتنی لاپرواہی انھوں نے کبھی کی نہیں تھی۔اگر وہ ان کے پاس کسی کام کے سلسلے میں رکے تھے تو بتائے بناء کبھی نہیں رکتے۔
“آپ نے انھیں واپس جاتے ہوئے دیکھا تھا؟”
ضیغم نے ان سے پوچھا۔
“نہ۔۔۔۔جاتے ہوئے تو نہیں دیکھا۔۔۔ہم یہاں تھا اور وہ وہاں حجرے میں تھا خان جی کے ساتھ۔”
گلاب خان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بتایا۔
“چاچا میں گھر سے ہی آ رہا ہوں۔وہ واپس گھر نہیں پہنچے۔ رحم دین چاچا نے ساری جگہ دیکھ لیا۔مگر وہ کہیں بھی نہیں ہیں۔ذرا معلوم کرو یہاں حویلی میں تو نہیں ہیں۔”
ضیغم نے آس پاس نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
“او بچے میں کہہ تو رہا ہوں۔۔وہ یہاں نہیں آیا۔۔حویلی میں نہیں ہے وہ۔اگر وہ یہاں ہوتا تو میں تم کو بتاتا نا۔چھوٹا سا سوئی تو نہیں ہے زمان خان جو مجھے نظر نہیں آئے گا۔”
وہ گلاب خان کے ساتھ قدم بڑھاتا ہوا گیٹ کے قریب آ کھڑا ہوا۔
“اچھا آپ ذرا خان جی کو بتائیں میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ابھی اسی وقت۔۔”
وہ حویلی پہ نظر ڈالتے ہوئے بولا۔
“ٹھیک ہے میں پوچھتا ہوں۔”
گلاب خان جیب سے موبائل نکال کر ضیغم سے کچھ فاصلے پہ جا کھڑا ہوا۔تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد وہ ضیغم کی طرف آیا۔
“آ جاو۔۔۔خان جی بلا رہا ہے۔”
گلاب خان نے گیٹ کھول کر اسے اندر آنے کو کہا۔ضیغم اندر داخل ہوا۔طویل راہداری سے ہوتے ہوئے وہ گلاب خان کے ساتھ اندر آیا۔رات کے اس پہر حویلی میں خاموشی کا راج تھا۔وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا گلاب خان کے ہمراہ میرسربلند خان کے کمرے پاس آ رکا۔گلاب خان دستک دے کر اندر داخل ہوا اور اسے بھی اندر آنے کا اشارہ کیا۔ذہہن مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔اگر زمان خان ان کے پاس تھے تو اسے بہت احتیاط سے بات کرنی تھی۔ان پر بپھر کر وہ اس مسئلے کو بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔
“خان جی میر آ گیا ہے۔”
گلاب خان نے انھیں بتایا۔وہ اس وقت سینے تک کمبل اوڑھے نیم دراز تھے۔آنکھیں بند تھیں۔گلاب خان کے بتانے پہ وہ آنکھیں کھول کر سیدھے ہو بیٹھے۔وہ ان کے سپاٹ دکھتے چہرے سے کوئی اندازہ نہیں لگا پایا تھا۔
“تم جاو گلاب خان۔”
انھوں نے میر کو طرف دیکھتے ہوئے گلاب خان کو جانے کو کہا تھا۔وہ مزید کچھ بولے بناء کمرے سے نکل گیا۔
“بابا کہاں ہیں؟”
ضیغم ان کے پیروں کی طرف آ کھڑا ہوا۔نظریں ان کے چہرے پہ فوکس کیے ہوئے ان سے پوچھا تھا۔
“وہ تو گھر چلا گیا تھا۔ہم نے اسے کام سے بلایا تھا۔”
انھوں نے چہرے پہ حیرانگی سجاتے ہوئے کہا۔
“میں جانتا ہوں کہ وہ یہاں آئے تھے مگر وہ یہاں سے واپس گھر نہیں پہنچے۔”
ضیغم نے آواز کو دھیما رکھا۔
“میں کب انکار کر رہا ہوں کہ وہ یہاں نہیں آیا۔۔آیا تھا پھر واپس چلا گیا اور ہم وہاں سے حویلی آ گئے۔اس کے بعد ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں گیا۔کیا حویلی میں تمھیں دکھائی دیا۔اسکا کام حجرے تک ہے۔وہیں ہماری بات ہوئی اور پھر وہ چلا گیا۔جا کر حجرے میں دیکھ لو۔۔شاید وہیں ہو۔”
یہ کہہ کر وہ لیٹ گئے۔
“اگر بابا کو کچھ بھی ہوا تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔اگلا سانس نہیں لینے دوں گا۔”
ان کے لاپرواہ انداز پہ وہ کھول کر رہ گیا اور وہ اپنے غصے پہ قابو نہ رکھ سکا۔
“تمھارے کہنےبکا مطلب ہے کہ ہم نے اسے اغواء کیا ہے۔۔۔تم پاگل ہو کیا۔۔۔سارے کاموں کا بیڑہ کیا ہم نے اٹھا رکھا ہے۔جو بھی غلط کام ہو جائے تم ہماری طرف آ جاتے ہو۔اب ہم اتنے بھی فارغ نہیں ہیں۔ایک عرصہ زمان خان نے ہماری اور ہمارے خاندان کی خدمت کی ہے۔ہم اسے اغواء کیوں کریں گے۔کبھی ایک الزام لگاتے ہو تو کبھی دوسرا۔۔جاو کہیں اور تلاش کرو اور اگر پھر بھی تمھیں ہماری بات کا بھروسہ نہیں تو حویلی کی جا کر تلاشی لے لو۔۔اگر مل جائے تو ساتھ لے جانا۔اب جاو یہاں سے۔۔یہ ہمارے آرام کا وقت ہے۔تم اے۔ایس۔پی بن گئے ہو تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی شریف آدمی کے گھر گھس آو اور بناء کسی ثبوت کے اس پہ الزام لگاو۔”
میرسربلندخان اس کے ٹپے ہوئے چہرے کو بغور دیکھ رہے تھے۔اسے اسطرح بےبس دیکھنے کی خواہش آج پوری ہوئی تھی۔وہ اسکی بےترتیب حالت سے لطف اٹھا رہے تھے۔اسکی پریشان صورت دیکھ کر انھیں مزا آرہا تھا۔ان کی خواہش تھی کہ وہ اسے اپنے سامنے گڑگڑاتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے مگر قادر خان کو وہ گرفتار کر چکا تھا۔اس لئے وہ اس پہ ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتے تھے کہ زمان خان ان کے قبضے میں ہے۔انھیں یقین تھا کہ وہ اتنی جلدی اب ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرے گا۔
“میں جانتا ہوں کہ یہ حرکت تمھاری ہی ہے میرسربلندخان۔۔لیکن یاد رکھنا میرے بابا کو ذرا سی بھی کھرونچ آئی تو میں تمھاری دنیا تہہ و بالا کر دوں گا۔”
وہ انھیں وارن کرتا وہاں سے چلا گیا۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ انہی کا کام ہے۔۔۔وہ ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا بغیر کسی ثبوت کے۔
“میر۔۔۔۔!!”
وہ گیٹ کے پاس پہنچا ہی تھا کہ پیچھے آتی گلاب خان کی پکار پہ وہ پلٹا تھا۔
“کچھ پتہ چلا۔۔۔؟”
گلاب خان اس کے قریب آیا۔
“نہیں چاچا۔۔۔۔لیکن میں جلد ہی پتہ کروا لوں گا۔”
وہ مڑ کر جانے لگا تھا کہ وہ بول پڑے۔
“حجرے میں میرے جانے کے بعد باتور خان بھی آیا تھا۔اس کے بعد سے میں اسے بھی نہیں دیکھا۔اسکا باپ بھی آیا تھا یہاں۔کہیں یہ باتور خان کا کام تو نہ نہیں۔”
گلاب خان نے اسے بتایا۔
“میں دیکھ لوں گا اسے بھی۔۔چاچا ذرا یہاں کی خبر دیتے رہنا۔اگر کوئی غیرمعمولی حرکت دیکھو تو مجھے بتانا۔”
گلاب خان نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ گیٹ پار کر گیا۔سست روی سے چلتا وہ جیپ تک آیا تھا۔گاڑی میں میں بیٹھ کر کچھ دیر اس نے ذہہن کو پرسکون ہونے دیا۔اب اگلا قدم اس نے کیا اٹھانا تھا اسی بارے میں سوچ کر اس نے جیپ اسٹارٹ کی۔ایک پل کو اس نے سوچا کہ تھانے چلا جائے مگر پھر مسکاء کے خیال سے جیپ کا رخ گھر کی جانب کر دیا۔
راستے میں اس نے انسپیکٹر عمر خان کو کال کی۔اسے اس نئی صورت حال سے آگاہ کیا۔اس سے قادر خان کے بارے میں پوچھا۔انسپیکٹر عمر خان نے اس سلسلے میں اسے بےفکر رہنے کو کہا تھا۔انسپیکٹر عمر خان نے بھی اپنا شبہ میرسربلند خان پہ ہی ظاہر کیا تھا۔اس کے مطابق بھی ان کے علاوہ کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا تھا۔وہ بھی جانتا تھا اس لئے فون پہ ہی اگلا لائحہ عمل ترتیب دینے لگا۔
_________________________________________
وہ تھکے قدموں سے گھر میں داخل ہوا۔مسکاء اسے دیکھ کر اس کی جانب دوڑی چلی آئی تھی۔اس کی سوالیہ نظروں کے جواب میں وہ چہرہ جھکا گیا تھا۔
“کچھ پتہ چلا بیٹا۔۔؟”
رحم دین اور ذہرہ بی بی بھی اٹھ کر اسکی جانب آئے تھے۔اس کا اترا چہرہ دیکھ کر تو وہ اسکا جواب جان گئے تھے مگر پھر بھی ایک موہوم سی امید کے سہارے انھوں نے اس سے پوچھا۔مسکاء کی آنکھوں سے جھر جھر آنسو بہنے لگے تھے۔رو رو کر اس نے آنکھیں سوج گئی تھیں۔اس کی سوجی آنکھیں ضیغم اسکی جانب دیکھنے سے گریز برت رہا تھا۔
“آپ لوگ پریشان مت ہوں۔۔جس کسی نے بھی یہ حرکت کی ہے میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے گمراہ کر دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ان کے علاوہ کون ہے ایسی حرکت کرنے والا۔۔آپ لوگ فکر نہ کریں مل جائیں گے بابا۔”
وہ ذہرہ بی بی اور رحم کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔اس کی کھوکھلی تسلی سے ان کے دل تو مطمئن نہیں ہونگے۔یہی تسلی وہ خود کو بھی دے رہا تھا۔
“اللہ اپنا رحم کرے گا انشاءاللہ۔”
ذہرہ بی بی نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔وہ ایک نظر مسکاء دیکھ کر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
“مسکاء۔۔۔۔! جاو بیٹا۔۔ایک کپ چائے بنا کر لے جاو اور کھانے کا بھی پوچھ لینا۔۔”
ذہرہ بی بی کی بات سن کر وہ کچن میں آ گئی۔چائے کا پانی رکھا اور جلدی سے چائے بنا کر پہلے رحم دین اور ذہرہ بی بی کو دی اور انھیں زمان خان کے کمرے میں آرام کرنے کا کہہ کر واپس کچن میں آ گئی۔اپنی آنکھوں کو انگلیوں سے دبایا اور پھر چائے کا کپ لئے اپنے کمرے میں آ گئی۔ضیغم اس وقت فون پہ بات کر رہا تھا۔اس نے خاموشی سے کپ ٹیبل پہ رکھا۔
“یہ جو ایڈریس میں نے دیا ہے فورا اس جانب کسی کو بھیجو اور مجھے تمام ڈیٹیلز دو۔میں انتظار کر رہا ہوں تمھارے فون کا۔”
کسی کو ایڈریس بتا کر اس نے موبائل وہیں ٹیبل پر رکھا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
“کھانا لاوں۔۔۔۔؟”
مسکاء نے چائے کا کپ اسے پکڑاتے ہوئے پوچھا۔ضیغم نے اس کے ہاتھ سے کپ لیتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
“تم نے کھانا کھایا۔”
ضیغم نے اس کے سرخ چہرے پہ نظر ٹکائی تھی۔مسکاء نے بھی نفی میں سر ہلایا تھا۔وہ یونیفارم تبدیل کر کے اس وقت سادہ سا لباس پہنے ہوئے تھا۔اس کے چہرے پہ بچھا تفکرات کا جال مسکاء کو اسے تسلی دینے پہ مجبور کر رہا تھا مگر الفاط ساتھ نہیں دے رہے تھے اور نا ہی وہ خود میں ہمت پا رہی تھی۔
“مسکاء یہاں آو۔۔۔”
ضیغم نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے سامنے کرسی پہ بٹھایا۔
“تم پریشان مت ہو۔۔۔بابا کل یہیں ہونگے ہمارے درمیان۔”
اس نے اپنے ہاتھ میں موجود مسکاء کے ہاتھ کو نرمی سے دبایا۔مسکاء نے جھکی پلکیں اٹھائیں تو اسکی آنکھوں میں پھیلتا پانی پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پہ پھیلتا چلا گیا۔ضیغم نے قریب ہو کر اسکے آنسو پونچھے۔
“بس اب رونا نہیں ہے۔۔مانا کہ تم روتے ہوئے مزید پیاری لگ رہی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں تمھیں رونے دوں۔”
وہ اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ کی طرف آیا۔اسے لیٹنے کا کہہ کر وہ خود بھی موبائل ہاتھ میں لئے بیڈ کی جانب آیا۔مسکاء لیٹ چکی تھی مگر نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔وہ پلکیں جھپک جھپک کر آنسووں کو اندر دھکیلنے لگی۔ضیغم فون میں مگن ہو گیا۔دونوں کا ذہہن اپنی اپنی سوچوں کے مدار میں گھوم رہا تھا۔آدھے گھنٹے کے کٹھن انتظار کے بعد اسکے موبائل کی گھنٹی بجی۔
“ہیلو۔۔۔۔۔ہاں کیا بنا؟”
فون پک کرتے ہی پوچھا تھا۔
“سر۔۔۔! وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔یہ علاقہ تو ایسی کاروائیوں کے لئے مشہور ہے مگر ایسی کوئی بھی غیر معمولی حرکت وہاں ہمیں دکھائی نہیں دی اور نہ ہی وہاں سے ہمیں کچھ ملا ہے۔۔”
اسکی بات سن کر ضیغم کی پریشانی بڑھ گئی۔
“تم لوگ اسی ایڈریس پہ گئے تھے نا؟”
اس نے ایک موہوم سی امید کے سہارے پوچھا۔
“جی سر یہی ایڈریس ہے۔۔۔ہم ابھی بھی یہی موجود ہیں۔”
“ٹھیک ہے۔۔”
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
“اب ہمارے لئے کیا حکم ہے سر۔۔؟”
دوسری جانب سے آواز آئی۔
“تم لوگ وہاں نظر رکھو اور اگر کوئی بھی ایسی ویسی حرکت دیکھو تو فورا مجھے انفارم کرو۔” ضیغم نے اسے چند ضروری ہدایت دے کر فون بند کر دیا۔
“اگر بابا وہاں نہیں ہیں تو کہاں ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دوسری کون سی جگہ ہو سکتی ہے جہاں میرسربلند خان بابا کو رکھ سکتا ہے۔حویلی میں تو نہیں رکھ سکتے تو کہاں۔۔۔۔۔۔۔”
اچانک اس کے ذہہن میں جھماکا سا ہوا۔وہ موبائل وہیں چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔مسکاء چونکہ جاگ رہی تھی اس لئے وہ بھی اس کے پیچھے باہر آئی۔
“اس وقت کہاں جا رہے ہیں؟”
مسکاء کی آواز پہ اس نے پلٹ کر دیکھا تھا۔
“آتا ہوں ابھی۔۔۔تم آ کر دروازہ بند کر لو۔”
وہ چٹخنی اتار کر باہر نکل گیا۔اس کے جانے کے بعد مسکاء نے دروازہ بند کیا اور وہیں صحن میں ضیغم کا انتظار کرنے لگی۔
ضیغم وہاں سے سیدھا حجرے آیا تھا۔حجرے کا گیٹ کھلا دیکھ کر اسے حیرانی ہوئی۔اندر کوئی بھی موجود ہو سکتا ہے اس لئے وہ تھوڑا محتاط ہوا۔قدموں کی آہٹ پیدا کیے بناء وہ اندرآیا۔برآمدے میں لگے زیروپاور بلب کی روشنی صحن تک پھیلی ہوئی تھی۔اس نے اردگرد نظر دوڑائی۔کسی کو بھی موجود نہ پا کر اس نے اپنے پیچھے آہستگی سے گیٹ بند کیا اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا صحن کے وسط میں آ کر کھڑا ہو گیا۔دائیں طرف بنی وہ تنگ و تاریک گلی بوگن ویلیاء کی گھنی شاخوں کے جال میں چھپی کسی بھی نئے آنے والے کی نظروں سے پوشیدہ رہ سکتی تھی مگر اس کی نظروں سے نہیں۔۔ایک بار پہلے بھی وہ اپنے باپ کی تلاش میں یہاں آیا اور آج ایک بار پھر وہ اپنے باپ کو ڈھونڈنے آیا تھا۔ٹارچ کی روشنی میں اس نے احتیاط سے شاخوں کو پڑے ہٹایا اور گلی میں آ کر رک گیا۔ٹارچ کی روشنی دیوار پہ پڑی تو اسکی نظریں خون کے جمے ہوئے نشان پہ پڑی تو اسکے دل کی دھڑکن میں اضافہ ہوا ۔وہ دھیرے سے آگے بڑھا۔اس کے مضبوط قدموں تلے خشک پتوں کی آواز رات کی خاموشی کو چیر رہی تھی۔پچھلی جانب پہنچ کر اس نے آس پاس نظر دوڑائی۔کچھ ہی فاصلے پہ بنت کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔وہ تیزی سے اس جانب آیا۔ٹارچ کی روشنی اس نے کمرے پہ ڈالی۔چارپائی پہ پڑے سفید کپڑے کی جانب اور تیزی سے ہاتھ بڑھا کر اٹھا لیا۔
یہ زمان خان کا رومال تھا جو ہمیشہ ان کے کندھے پہ رہتا تھا۔اس نے رومال کو ناک کے قریب لے جا کر ان کی خوشبو کو محسوس کیا۔
“میرسربلند خان۔۔۔تمھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔”
وہ رومال ہاتھ میں لئے وہاں سے نکل آیا۔
_________________________________________
وہ فریش ہو کر باہر آیا تو رحم دین اور ذہرہ بی بی صحن میں چارپائی پہ بیٹھے تھے۔مسکاء کچھ میں تھی۔وہ انھیں سلام کرتا کرسی پہ بیٹھ گیا۔مسکاء نے باورچی خانے کی کھڑکی سے اسے دیکھ لیا تھا۔اس نے جلدی سے چائے کے کپ ٹرے میں رکھے اور ناشتہ لئے باہر آ گئی۔سردی کی شدت میں اضافہ ہوا تھا۔دھوپ کی ہلکی سی تمازت دماغ پہ اچھا اثر ڈال رہی تھی۔املتاس کا پیڑ اپنے سارے پتے گرا چکا تھا۔جسکی وجہ سے دھوپ کو پورے صحن میں اپنی بہار دکھانے کا موقع مل گیا تھا لیکن املتاس کے پیڑ کی اداسی اور خاموشی روح میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔شفاف نیلا آسمان سورج کی کرنوں سے روشن تھا۔
وہ بھی ان کے قریب ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
“بابا کا رومال مجھے وہاں ملا ہے۔جس سے ایک بات تو واضح ہے کہ بابا انہی کے قبضے میں ہیں۔شکور تو لاک اپ میں ہے تو یہ کام اس بار باتور خان نے کیا ہے۔گلاب خان نے بھی کہا ہے وہ جب بابا کو چھوڑ کر باہر آئے تھے تو وہاں باتور خان آیا تھا۔”
وہ رحم دین کو بتا رہا تھا۔مسکاء نے ٹرے ان کے درمیان میں پڑی چھوٹی سی ٹیبل پہ رکھی اور کپ
اٹھا کر ضیغم کی طرف بڑھایا۔
“تو تمھیں ان کے خلاف کوئی کاروائی کرنی چاہئیے۔زمان خان کا زیادہ دیر ان کے قبضے میں رہنا ٹھیک نہیں ہے۔وہ اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔”
رحم دین بولے تو پریشانی ان کے لہجے سے ظاہر تھی۔ذہرہ بی بی بھی اسکی ساری بات سن کر پریشان ہو گئی تھیں۔
“اسی سلسلے میں تھانے جا رہا ہوں اور ہو سکتا ہے وہاں سے شہر چلا جاوں۔اس لئے آپ لوگ یہیں مسکاء کے پاس رہیں۔میں فون کے ذریعے رابطے میں رہوں گا۔”
وہ چائے کا خالی کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔رحم دین نے اس کی بات پہ اثبات میں سر ہلایا۔
“تم فکر نہ کرو بیٹا۔۔۔ہم یہیں ہیں۔”
ذہرہ بی بی نے ضیغم کو مطمئن کیا۔
“مسکاء کوئی بھی پریشانی والی بات ہو تو مجھے فون کر دینا۔عبداللہ یہیں ہو گا۔”
ضیغم نے اسکی جانب بغور دیکھا اور وہاں سے نکل آیا۔وہاں سے وہ سیدھا تھانے آیا۔تھانے میں کافی ہلچل محسوس ہو رہی تھی۔وہ جیپ ایک جانب پارک کر کے اندر آیا۔
“کیا بات ہے آپ سب اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں۔”
انسپیکٹر عمر خان کو سر پکڑے بیٹھے دیکھ کر وہ اس کے پاس آیا۔
“سر وہ۔۔۔۔۔۔”
انسپیکٹر عمر خان اٹھ کھڑا ہوا۔ایس۔ایچ۔او طارق خان اور باقی عملہ بھی وہیں موجود تھا۔
“کیا وہ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے؟ کیا بابا کے بارے میں کوئی انفارمیشن ملی ہے؟”
ضیغم نے انسپیکٹر عمر خان کی جھکے سر کو دیکھ کر پوچھا۔وہ کسی طرح کی خبر کے لئے بھی خود کو تیار کر رہا تھا۔
“نہیں سر۔۔۔۔مگر وہ۔۔۔قادر خان۔۔۔”
انسپیکٹر عمر خان نے جھکے سر کو اٹھایا۔ضیغم نے ایک گہری سانس خارج کی۔
“کیا ہوا قادر خان کو۔۔۔۔اسےڈاکٹر کو دکھانا تھا اگر طبیعت ٹھیک نہیں اسکی۔۔تم جانتے ہو نا کہ وہ کتنا اہم گواہ ہے۔”
اس کی بات سن کر انسپیکٹر عمر خان نے ایس۔ایچ۔او طارق خان کی طرف دیکھا۔اس کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔
“کوئی مجھے حقیقت بتائے گا بھی یا یونہی ایک دوسرے کو دیکھتے رہو گے۔”
اس نے ایس۔ایچ۔او کی جانب دیکھا۔
“سر قادر خان از نو مور۔۔”
انسپیکٹر عمر خان نے ضیغم کو قادر خان کے متعلق بتایا۔جسے سن کر وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“کل تک تو ٹھیک تھا۔”
وہ پریشانی سے لاک اپ کی جانب آیا۔جہاں قادر خان لاک اپ کے باہر اسٹریچر پہ موجود تھا۔اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔
“یہ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟”
وہ فورا مڑا۔
“ناشتے میں ذہر تھا سر۔۔۔جسے کھاتے ہی اچانک اس کی حالت بگڑ گئی۔ہم نے ڈاکٹر کو بلایا مگر ڈاکٹر کے آنے سے پہلے ہی یہ دم توڑ گیا۔”
اس نے تفصیل بتائی۔
“ناشتہ کون لے کر آیا تھا۔”
وہ گرجا۔
“سر حوالدار فاروق ہی لے کر آیا تھا۔اسے بھی معلوم نہیں چلا کہ یہ سب کب اور کیسے ہوا۔”
اس کی بات سن کر وہ مٹھیاں بھینچے وہاں سے باہر آیا اور حوالدار فاروق کو آواز دی۔وہ اندر آیا تو اس کے چہرے کا رنگ بھی اڑا ہوا تھا۔
“بتاو کس کے کہنے پہ تم نے ناشتے میں ذہر ملایا تھا۔اپنے پیشے اور ملک سے غداری کرتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آئی۔بتاو کس کے کہنے پہ کیا۔”
اس نے حوالدار فاروق سے پوچھا۔
“سر مجھے نہیں پتہ کہ یہ سب کیسے ہوا۔میرا اس میں کوئی ہاتھ نہیں سر۔۔آپ میرا یقین کریں۔”
حوالدار فاروق نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔
“سر حوالدار فاروق ایک محب الوطن اور ایک فرض شناس سپاہی ہے اور مجھے یقین ہے یہ حرکت اسکی نہیں ہو سکتی۔اس کے پیچھے کوئی اور شامل ہو سکتا ہے۔”
انسپیکٹر عمر خان ضیغم کے قریب آیا۔
“اس معاملے کی چھان بین کرو۔۔مجھے وہ بندہ شام تک چاہئیے۔”
ضیغم نے ایس۔ایچ۔او طارق خان کو دیکھا۔جو اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر نظریں پھیر گیا۔
“جو کوئی بھی اس میں ملوث ہے ڈھونڈ نکالو اسے۔”
انسپیکٹر عمر خان نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور پھر ضیغم کو دیکھا۔
“میں جا رہا ہوں۔۔۔تم یہاں سنبھال لینا۔اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قادر خان کو ختم کر کے انھوں نے جیت اپنے نام کر لی ہے تو یہ ان کی خوش فہمی ہے۔مکمل چھان بین کرو اور ہر ایک کو تفتیش میں گھسیٹو۔”
وہ عمر خان کی طرف دیکھتا باہر نکل گیا۔اس کے جاتے ہی ایس۔ایچ۔او طارق خان نے اپنے ماتھے کا نادیدہ پسینہ پونچھتے ہو دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے ابھی وہ باہر نکلا تھا۔
_________________________________________
“کیا بنا۔۔۔۔۔؟؟”
انھوں نے مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے فون کان سے لگایا۔
“کام ہو گیا ہے خان جی۔۔۔۔اب چت بھی ہماری اور پٹ بھی ہماری۔۔ایسی جگہ زخم لگایا ہے کہ بلبلا اٹھے گا۔”
باتور خان کی بات سن کر انھوں نے گہرا سانس لیا۔
“ہاہاہا۔۔۔شاباش!! اور زمان خان کا کیا حال ہے؟”
انھوں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
“بہت آرام سے۔۔۔۔۔آپ اسکی فکر نہ کریں ایسی قبر میں چھپایا ہے کہ ضیغم تو کیا اسکا باپ بھی وہاں نہیں پہنچ سکتا۔ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہو جائے گا مگر اب قیامت کے دن ہی ملے گا اپنے منہ بولے باپ سے۔”
وہ مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔
“واہ۔۔۔۔لیکن ہم بہت ظلم نہیں کر رہے ہیں۔پہلے اسکے اصلی باپ کو۔۔۔۔اور اب نقلی باپ کی تیار میں ہیں۔باتور خان۔۔۔۔بڑے ظالم ہیں ہم تو۔۔۔ہمیں تو ہم سے بھی چھپ کر رہنا چاہئیے۔”
انھوں نے بھی باتور خان کا ساتھ دیا۔
“راستے میں آیا ہے تو اب بھگتے۔۔۔۔۔لیکن خان جی۔۔میں یہاں صبر نہیں کروں گا۔۔مجھے مسکاء چاہئیے۔۔اسے حاصل کیے بناء میں آرام سے نہیں بیٹھوں گا۔”
باتور خان کی لہجے میں غرور بول رہا تھا۔
“چھوڑ اسے۔۔۔۔اسکا کا کرنا ہے۔اب وہ ضیغم کی بیوی ہے۔گاوں میں لڑکیوں کا کال پڑ گیا ہے کیا۔۔؟”
انھوں نے کمرے میں داخل ہوتی ماہ گل کو دیکھا۔ماہ گل ان کے لئے ناشتہ لے کر آئی تھی۔
“ماہ گل گلاب خان سے کہو کہ گاڑی تیار کرے۔ہم شہر جائیں گے بچوں سے ملنے۔”
انھوں نے ماہ گل کو ناشتے کی ٹرے ٹیبل پہ رکھتے ہوئے دیکھ کر کہا۔وہ سر ہلاتے ہوئے واپس چلی گئیں۔وہ بیڈ سے اٹھ کر صوفے پہ آ بیٹھے اور ٹرے اپنی جانب کھینچ کر ناشتہ کرنے لگے۔فون ابھی بھی ان کے کان سے لگا ہوا تھا۔
“ہاں بول باتور خان۔۔”
انھوں چائے کا کپ لبوں سے لگایا۔
“خان جی۔۔۔۔جب تک مسکاء کو اپنے ہاتھوں سے ختم نہ کر لوں۔۔میری غیرت کو سکون نہیں آئے گا۔اپنے ہاتھوں سے اسکا گلا دباوں گا تو ہی مجھے قرار آئے گا۔بس آپ کی اجازت درکار ہے۔ضیغم بھی گاوں میں موجود نہیں ہے اچھا موقع ہے۔وہ دونوں بوڑھے میرا مقابلہ تو کرنے سے رہے۔”
باتور خان نے ان سے اجازت چاہی۔
“نہیں باتور خان۔۔۔۔ابھی نہیں۔۔۔اتنی جلدی ضیغم کو دوسرا دھچکا نہیں دینا۔ضیغم کو پتہ ہے کہ اسکا باپ گاوں میں نہیں ہے اس لئے وہ اتنی جلدی واپس نہیں آئے گا۔اس لئے لوہے کو تھوڑا اور گرم ہونے دو۔گرم لوہے کو چوٹ دینے کا مزا زیادہ آئے گا۔اس لئے تھوڑا صبر کر جاو۔میں آج شہر جا رہا ہوں اور تم بھی کچھ دن آرام کر لو۔میں واپس آ جاوں تو اگلا قدم ہم مل کر اٹھائیں گے۔”
میرسربلند خان نے لہجہ آہستہ رکھا۔
“ٹھیک ہے خان جی۔۔۔جیسے آپ کا حکم۔۔لیکن میں زیادہ انتظار نہیں کروں گا۔”
باتور خان بےصبری سے بولا۔
“او ٹھیک ہے۔۔۔ٹھیک ہے۔۔کر لینا جو کرنا ہو۔۔اللہ حافظ۔۔!”
انھوں نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا اور ناشتہ کرنے لگے۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *