Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghag By Mahwish Urooj Episode09

Ghag By Mahwish Urooj Episode09

“آج گاوں میں بڑی چہل پہل ہے۔۔خیر تو ہے نا؟” ذہرہ بی بی نے ان کے سامنے لسی کا گلاس رکھا اور خود بھی ان کے سامنے ہی بیٹھ گئیں۔ وہ جو کھانا کھا چکے تھے اب ہاتھ لسی کے گلاس کی طرف بڑھایا۔
“کچھ خاص نہیں۔۔وہ میر عالمزیب خان آ گیا ہے نا تو سب اسی سے ملنے جا رہے ہیں۔ پتہ ہے نا سب کو کہ بڑے خان جی سے بھی زیادہ گرم مزاج ہے اسکا۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اسے باتور خان والے معاملے کی بھنک نہ پڑ گئی ہو۔ وہ اور دماغ کا ہے کہیں باتور خان کے ساتھ مل کر کوئی اور مسئلہ نہ بنا دے۔ اگر اسے معلوم ہو گیا تو اس نے دوبارہ سے جرگہ بلوا لینا ہے اور اب مجھ میں مزید سکت نہیں کہ اسطرح کے جرگوں کا سامنا کر سکوں۔”
وہ پرسوچ نگاہوں سے انھیں دیکھ رہے تھے۔
“اللہ اپنا رحم کرے گا۔۔زمان خان سے پوچھا بچوں کا کہ کیسے ہیں۔”
جب سے مسکاء گئی تھی ان کے دل کو صبر نہیں تھا۔
“ہاں۔۔۔زمان خان بتا رہا تھا کہ باتور خان مسکاء کے کالج تک پہنچ گیا تھا۔ اس نے وہاں کافی ہنگامہ کیا تھا۔ چوکیدار کو مارا بھی ہے اس نے اور دھمکیاں بھی دی ہیں۔”
رحم دین کی نظر ڈربے سے نکلنے کی کوشش کرتی مکی پر تھی۔
“یااللہ۔۔۔خدا غارت کرے اس باتور خان کو۔۔یہ سکون سے جینے کیوں نہیں دیتا ہمیں۔ نجانے میری بچی کس حال میں ہو گی۔”
وہ کلیجہ تھام کر رہ گئیں۔
“اللہ نے اپنا کرم کیا کہ وارڈن کو گلزم خان نے مسکاء کے نکاح کے متعلق بتا دیا تھا۔ وارڈن نے میر کو بلوا کر مسکاء کو اس کے ساتھ ہی بھیج دیا۔ میر ہے اس کے ساتھ فکر مت کرو۔”
انھوں نے ذہرہ بی بی کے ہوائیاں اڑتے چہرے کو دیکھ کر انھیں تسلی دی۔ میر کا سن کر انھیں تھوڑا سکون ہوا۔
“مسکاء کے بابا۔۔۔کیا ہم ان سے ملنے نہیں جا سکتے۔ ایک بار جا کر ذرا مل آئیں گے۔”
انھوں نے اپنے دل کی بات کو زبان دی۔
“نہیں یہ ممکن نہیں ابھی۔۔پتہ نہیں کیوں مگر میرا دل کہتا ہے کہ بڑے خان اسطرح آرام سے بیٹھنے والوں میں سے نہیں۔ انھوں نے ضرور اپنے بندے میرے اور زمان خان کے پیچھے لگائے ہوں گے تا کہ حقیقت حال جان سکیں کہ نکاح ہوا بھی ہے یا نہیں اور اگر ہوا ہے تو کس سے ہوا ہے۔”
انھوں نے انکار کیا تو وہ بجھے دل کے ساتھ برتن اٹھا کر کچن میں آ گئیں۔ اتنے میں دروازے پہ ہوئی دستک نے دونوں میاں بیوی کو متوجہ کیا۔ رحم دین انھیں اشارہ کر کے دروازے کی جانب بڑھ گئے جبکہ وہ وہیں کچن کی چوکھٹ میں کھڑی تھیں۔ دروازہ کھلتے ہی اقبال نے اندر جھانکا۔
“سلام چاچا۔۔۔۔۔خان جی نے حجرے میں بلوایا ہے۔”
وہی ہوا جسکا انھیں ڈر تھا۔ وہ ذہرہ بی بی کو دروازہ بند کرنے کا کہہ کر خود باہر نکل گئے۔
انھوں نے راستے بھر اقبال سے کوئی بات نہیں کی۔ حالانکہ وہ سوال پہ سوال کرتا رہا تھا۔ جب وہ لوگ حجرے میں داخل ہوئے تو وہاں کرم دین اور باتور خان کے علاوہ میر سربلند خان بھی موجود تھے۔ میر سربلند خان کے ساتھ میرعالمزیب خان بھی براجمان تھے۔ رحم دین نے وہاں موجود لوگوں پر سلامتی بھیجی۔
“واعلیکم السلام رحم دین! کیا حال ہے تمھارا۔۔جرگے والے دن کے بعد سے تو تم دکھائی ہی نہیں دئیے۔”
میرسربلند خان نے سیگریٹ زمین پہ پھینک کر پاوں سے مسل دیا۔
“خان جی۔۔۔وہ گھر والی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور گھر میں اور کوئی تھا نہیں دیکھ بھال کو تو میں۔۔۔”
“تو تم زنانی کی پٹی سے لگے بیٹھے تھے۔”
انھوں نے رحم دین کی بات کاٹی۔ ان کی بات پر سبھی ہنسنے لگے۔ رحم دین پہ ان کی بات بہت ناگوار گزری مگر وہ چپ رہے۔
“بیٹھ جاو رحم دین۔۔۔۔” عالمزیب نے انھیں بیٹھنے کو کہا۔ وہ ان کے سامنے چارپائی پہ بیٹھ گئے۔
“دیکھو۔۔! رحم دین میں نے تمھیں یہاں اس لئے بلایا ہے کہ تم سے سارا معاملہ جان سکوں۔ ویسے تو مجھے بابا نے سب بتا دیا ہے مگر میں تمھارے منہ سے سننا چاہتا ہوں اور جاننا چاہتا ہوں کہ آخر باتور خان میں کیا کمی تھی کہ تمھیں اسطرح جرگے کے خلاف جا کر فیصلہ کرنا پڑا۔”
عالمزیب خان نے رحم دین سے پوچھا۔
“چھوٹے خان مجھے نہیں لگتا کہ میں نے جرگے کے خلاف جا کر کوئی گناہ کیا ہے۔ اپنی اولاد کے لئے فیصلہ کرنے کا حق مجھے میرا دین دیتا ہے۔ جرگے کا فیصلہ میرے نہیں بلکہ باتور خان کے حق میں تھا تو میں کیسے مان لیتا اور جہاں تک غگ کا تعلق ہے تو میں اس غیر شرعی اور غیرقانونی رسم کو ماننے سے شروع ہی سے انکاری تھا۔ باتور خان نے رشتہ دیا۔۔میں نے مناسب نہ سمجھا اور سہولت سے انکار کر دیا مگر اس نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور میری اور میرے خاندان کی زندگی اجیرن کر دی۔ کسی نے بھی میرا ساتھ نہ دیا۔ غلط ہونے کے باوجود سب باتور خان کا ہی ساتھ دے رہے تھے۔”
رحم دین عالمزیب کی جانب دیکھ کر بولے۔ وہ میرسربلند خان کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہے تھے۔
“لیکن جرگے کے خلاف جانے کا مطلب سمجھتے ہو رحم دین۔ جرگہ ہماری شان ہے۔ پختون کی پہچان ہے۔ تمھاری اس حرکت کی وجہ سے ہماری ثقافت پہ کیا اثر پڑے گا اس بات کا اندازہ ہے تمھیں۔ تم نے تو ہماری شان مٹی میں رول دی۔”
عالمزیب خان رحم دین کی اٹھی ہوئی گردن کو ناگواری سے دیکھ رہا تھا۔
“مجھے جرگے اور اس کی شان سے کوئی انکار نہیں اور نہ میرے اس عمل سے جرگے کی شان کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس کی نیو رکھی ہے تاکہ یہاں جہاں قانون نہ ہونے کے برابر ہے اس سے مستفید ہوں سکیں اور اپنے مسائل کا مناسب حل تلاش کر سکیں۔ مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ مضبوط جڑیں جن کی آبیاری ہمارے آباواجداد نے کی تھی چند شرپسند لوگوں کی وجہ سے وہ جڑیں اب کھوکھلی ہو گئیں۔ پرانی ثقافت کو چھوڑنے کے حق میں میں بھی نہیں ہوں مگر جس چیز سے ہمیں کوئی فائدہ نہ ہو اسے چھوڑ دینا ہی مناسب ہے۔ آج جرگے جیسی ثقافت کے بل بوتے پر کمزور کو مزید کمزور اور طاقتور کو مزید طاقتور کیا جا رہا ہے۔”
وہ اپنی بات کہہ کر خاموشی سے انھیں دیکھنے لگے۔ میرسربلند خان کے ماتھے کے بل اور باقی سب کے چہروں پہ غصہ ان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھا لیکن اب جب کہ وہ قدم آگے بڑھا ہی چکے تھے تو اپنے فیصلے سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا ان کے لئے ٹھیک نہیں تھا۔
“تو تمھارا کیا مطلب ہے ہم نے یہاں ظلم روا رکھا ہے۔”
میرسربلند خان اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔
“خان جی۔۔ظلم تو ہوا تھا گلالئی کے ساتھ۔۔اس معصوم کا کیا قصور تھا کہ اسے اتنی سفاکی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ آپ چاہتے تو اس ظلم کو روک سکتے تھے مگر آپ اور آپ کے جرگے نے اس معصوم کو کوئی تحفظ نہ دیا۔ اس کا باپ سر پہ مٹی ڈالے گاوں کی گلیوں میں اپنی بیٹی کو تلاش کرتا پھرتا ہے۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔”
گلالئی کے ذکر پہ ان کا لہجہ بھیگ گیا تھا۔ اس کا غم وہ اپنے دل پہ محسوس کرتے تھے۔
“اسکا قاتل دندناتا پھر رہا ہے۔ خان جی ظلم کی شکل ایسی نہیں تو کیسی ہوتی ہے۔ میں خوش ہوں کہ میں نے اپنی بیٹی کو مضبوط ہاتھوں میں دیا ہے اور اسے اس ظلم کی بھینٹ چڑھنے نہیں دیا۔”
وہ اٹھے اور دھیرے قدموں سے حجرے سے باہر چلے گئے۔
“دیکھا آپ نے چھوٹے خان۔۔اگر آپ مجھے ابھی اجازت دیں تو اس سے پہلے کہ یہ ہمیں ڈسے میں اس سانپ کا سر یہیں کچل دوں۔”
باتور خان کی برداشت سے باہر ہو گیا تو وہ رحم دین کے پیچھے جانے کے لئے اٹھا۔ مگر کرم دین نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روک دیا۔
“بیٹھ جاو باتور خاناں۔۔۔میں نے دیکھ بھی لیا اور سن بھی لیا۔ اسے تو میں خود دیکھ لوں گا۔”
عالمزیب داڑھی کھجاتا پرسوچ نگاہوں سے حجرے کے دروازے کو دیکھ کر بولا۔
“تم لوگ پتہ کرواو کہ آخر شادی ہوئی بھی ہے یا نہیں۔۔اور اگر ہوئی ہے تو کس سے ہوئی ہے۔” عالمزیب کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔
“خان مجھے تو لگتا ہے کہ زمان خان نے ہی اس سلسلے میں کوئی مدد کی ہوگی۔ پتہ نہیں کیوں مجھے اسی پہ شک ہے ورنہ رحم دین تو شہر جاتا بھی نہیں تھا۔ وہاں اتنی جلدی اور من پسند رشتہ مل جانا۔۔بات کچھ ہضم نہیں ہوتی۔”
کرم دین میرسربلند خان رازدارانہ انداز میں بولا۔ مگر آواز اتنی بلند تھی کہ وہاں موجود سبھی نے باآسانی سن لی۔ اس کی بات سن کر ایک خیال اچانک ان کے ذہہن میں بجلی کیطرح کوندا۔ انھوں نے کرم دین کی طرف دیکھا۔
“میر۔۔۔۔۔۔۔۔” کرم دین کے خاموش لب ہلے تھے اور ایک طوفان تھا جو میرسربلند خان کو اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس ہوا۔ باتور خان تو ان کی بات کی تہہ تک پہنچ کر ہکابکا رہ گیا۔ ان میں سے کسی کا دھیان اس طرف نہیں گیا تھا۔ عالمزیب بھی باپ کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔
“بابا۔۔۔یہ کیسے ممکن ہے۔ زمان خان بےوقوف نہیں ہے کہ اپنے بیٹے کے لئے ایسا فیصلہ کرے گا۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ غگ ہونے کی وجہ سے میر کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اور وہ باتور خان سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہوا ہوگا۔”
عالمزیب ان کے قریب آیا۔
“ممکن ہے۔۔۔زمان خان ایسا کرنے سے کبھی گریز نہیں کرے گا۔ جب سے یہ بات شروع ہوئی ہے اس نے ایک پل کے لئے بھی رحم دین کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو دونوں کو ختم کرنا آسان ہے۔ کسی طرح بھی ایسے حالات پیدا کر لئے جائیں کہ وہ گاوں آ جائیں پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
انھوں نے اپنی مقناطیسی نگاہیں باتور خان پہ ڈالیں۔
باقی سب بھی انکا اشارہ سمجھ گئے۔
“اسکے باپ کے ساتھ ہی اسکی قبر بھی بناوں گا۔” ان کے ہونٹ ہلے تھے مگر کوئی بھی انکا آخری جملہ سن نہیں سکا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے حجرے سے باہر نکل گئے۔_______________________________
آج صبح سے ہی موسم ابرآلود تھا۔ کالے بادل آسمان کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے تھے۔ گرمی کا ذور ٹوٹ گیا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا طبیعت پہ اچھا اثر ڈال رہی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ جب سے وہ یہاں آئی تھی وقت کی رفتار بہت دھیمی ہو گئی تھی۔ چھوٹا سا فلیٹ تھا اس لئے کام جلدی ختم ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد پورے فلیٹ میں بولائی بولائی پھرتی تھی۔ شروع کے کچھ دن ضیغم لنچ پہ گھر آ جایا کرتا تھا مگر کچھ دن سے وہ بہت لیٹ آنے لگا تھا۔ اکثر تو رات ہو جاتی۔ اسے اس کی روٹین کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں جاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ نہ اس نے کبھی پوچھا اور نہ ضیغم نے اسے بتایا۔ وہ دونوں ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے تھے۔ ضروری بات کے علاوہ ان کے درمیان کوئی بےتکلفی نہیں تھی۔
وہ جس وقت آتا وہ اپنے کمرے میں ہوتی اور جس وقت جاتا تب بھی اپنے روم میں ہوتی۔ تین دن پہلے کے واقعے کے بعد سے وہ کافی محتاط ہو گئی تھی۔ کم ہی اس کے سامنے آتی۔ صبح اس کے جانے سے پہلے ناشتہ تیار کر کے ٹیبل پہ چن دیتی اور اپنے لئے ایک کپ چائے بنا کر روم میں آ جاتی۔ وہ ٹائم کا بہت خیال رکھتا تھا یا شاید اسے ایسا لگتا تھا۔ وقت پہ آنا وقت پہ جانا۔ جب اس کے آنے کا وقت ہوتا وہ روم میں آ جاتی۔ اس کے پاس ڈوپلیکیٹ چابی ہوتی تھی اس لئے دروازہ کھولنے جیسے کام سے وہ آزاد تھی۔ ضرورت کی ہر چیز بنا کچھ کہے گھر میں موجود ہوتی تھی اور رات کو بھی وہ خود اپنے لئے کھانا گرم کر لیتا۔
اب بھی وہ کام ختم کر کے باہر لاونج میں بیٹھی اپنے کپڑے طے کر رہی تھی۔ صبح ہی سے اماں اور بابا اسے بہت یاد آ رہے تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد آنسو پلکوں کی باڑ پار کر جاتے۔ بارش شروع ہو چکی تھی۔ دن میں بھی رات کا سا سماں تھا۔ اس موسم میں وہ اماں سے پکوڑے اور املی کی چٹنی بنواتی تھی۔ چیزیں تو یہاں بھی موجود تھی مگر ماں کی یاد نے دل بھاری سا کر دیا تھا۔ کپڑے طے کرکے الماری میں رکھے اور کمرے سے نکل آئی۔ وال کلاک پہ نظر ڈالی۔ ابھی ضیغم کے آنے میں کافی وقت تھا اس لئے وہ لاونج میں رکھے صوفے پہ لیٹ گئی۔ بارش کی آواز اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔ جس سے اس کی شدت کا اندازہ ہو رہا تھا۔ اماں بابا کے بارے میں سوچتے اور انھیں یاد کرتے کرتے نجانے کس وقت اس کی آنکھ لگ گئی۔
مغرب کی نماز ادا کرکے وہ گھر میں داخل ہوا تو مکمل اندھیرے نے اسکا استقبال کیا۔ پلٹ کر دروازہ بند کیا اور سوئچ بورڈ کی جانب آیا۔ ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی تو پورا لاونج روشن ہو گیا۔ وہ باہر کی جانب کھلتی کھڑکیوں کی جانب آیا۔ ایک نظر باہر ڈالنے کے بعد کھڑکیوں کو بند کیا۔ کھڑکیاں بند ہونے سے بارش کی آواز آنی بند ہو گئی۔ وہ پلٹا تو وہیں رک گیا۔ سامنے ہی صوفے پہ وہ بےخبر سو رہی تھی۔ دوپٹہ ڈھلک کر نیچے گر گیا تھا۔ تیز سبز رنگ کے سادہ سے سوٹ میں اسکی اجلی رنگت ستاروں کو ماند کر رہی تھی۔ چہرے پہ بلا کی معصومیت تھی۔ اسے اندازہ ہوا کہ جب کبھی بھی وہ اسے غور سے دیکھ رہا ہوتا تو وہ سو رہی ہوتی تھی۔
“سلیپنگ بیوٹی۔۔۔”
اپنے لبوں پہ آئے دو لفظوں کو سوچ کر وہ مسکرا دیا۔
اسے وہ لمحہ یاد آیا جب گاوں سے آتے ہوئے گاڑی میں اسکی سانس کی آواز سن کر اسکا جی چاہا تھا کہ وہ ایک بار مڑ کر اسے دیکھے۔۔اسے خود پہ کیا ہوا جبر بھی یاد آیا تھا۔ صرف کچھ پل لگے تھے اسے اپنے اور اس کے درمیان موجود فاصلے کو مٹانے میں۔۔۔
اب وہ اس کے قریب دو زانوں بیٹھا اس کے ایک ایک نقش کو بغور دیکھ رہا تھا۔
“مسکاء۔۔۔۔۔” اس نے اسے دھیرے سے پکارا تھا۔ اپنے ہاتھ کی پشت اسکے برف جیسے گالوں پہ پھیرتے ہوئے اسکے لب مسکرا دئیے تھے۔ نیم وا سرخی مائل لب خود پہ نازاں دکھائی دئیے۔ اسے فیصلہ کرنے میں صرف چند لمحے لگے تھے۔ وہ دھیرے سے اسکے چہرے پہ جھکا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی خواہش کو تکمیل کے مراحل تک لے جاتا مسکاء کی آنکھ کھل گئی۔ اسے خود پہ یوں جھکے دیکھ کر وہ اسے دھکیل کر اٹھی تھی۔ خود کے اسطرح پیچھے دھکیلے جانے پہ وہ بھی ہوش میں آگیا۔ وہ فورا صوفے سے نیچے اتری اور بنا دوپٹے کے کمرے کی جانب دوڑی۔
ضیغم نے دوپٹہ اٹھا کر صوفے پہ رکھا۔
“مجھے خود پہ قابو رکھنا چاہیے تھے۔ کیوں میں اسے دیکھ کر اپنے حواس کھو دیتا ہوں۔”
اس نے خود کو ڈانٹا اور اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
کمرے میں آ کر وہ اپنی دھڑکنوں کو اعتدال پہ لانے کی کوشش کرنے لگی مگر بپھرتی دھڑکنیں کسی کے نام کی لے پہ بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ وہ دہکتے گالوں پہ پانی کے چھینٹے ڈالنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ واش روم سے باہر آ گئی۔ نیند تو آنکھوں سے اڑ چکی تھی۔ وہ کھڑکی کی جانب چلی آئی۔ ہاتھ بڑھا کر پردہ کھینچا۔ بارش پھر سے شروع ہو چکی تھی۔ اسکی گرم سانسوں کی حدت وہ ابھی اپنے چہرے پہ محسوس کر رہی تھی۔ اسکا یہ رویہ ایک الگ سا احساس مسکاء کے دل میں جگا رہا تھا۔ محبت انگڑائی لے کر بیدار ہو چکی تھی۔ ______________________________
وہ دونوں اس وقت پروفیسر محمد عقیل کے آفس میں تھے۔ ارحم چائے اور اسنیکس سے اچھا خاصا انصاف کرنے میں مگن تھا۔ جبکہ ضیغم کا تو موڈ آج صبح ہی سے کافی خراب تھا۔ مسکاء کا رویہ اس کے لئے حیران کن تھا۔ آج معمول کے مطابق جب وہ اٹھا تو دماغ بالکل فریش تھا۔ رات والا واقعہ اس کے ذہہن سے بالکل محو ہو چکا تھا۔ بھوک بھی شدید لگ رہی تھی اس لئے وہ جلدی سے ریڈی ہو کر گنگناتا ہوا روم سے باہر آیا۔ جلدی سے کچن کا رخ کیا مگر ٹھنڈا چولہا دیکھ کر اس نے اچھنبے سے مسکاء کے روم کے بند دروازے کو دیکھا۔
اس نے آگے بڑھ کر دروازے پہ ناک کیا۔ ایک بار، دو بار۔۔۔مگر اس نے دروازہ نہ کھولا۔ وہ واپس کچن میں آیا۔ فریج کھول کر جائزہ لیا مگر وہاں جوس بھی نہیں تھا۔ جو وہ روز اس کے لئے بنا کر رکھتی تھی۔ چائے وہ اتنے شوق سے نہیں پیتا تھا اسلیئے وہ اس کے لئے جوس یا ملک شیک بنا کر رکھتی تھی۔ آج دونوں میں سے ایک بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو فریج بند کر کے وہ کچن سے باہر آیا۔ مسکاء اسے دیکھ کر حیران ہوئی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ اب تک جا چکا ہو گا اس لئے روم سے باہر آئی تھی۔
“کیا آج ناشتہ نہیں ملے گا؟”
وہ اسے دیکھ کر مسکرایا جبکہ مسکاء کے سپاٹ چہرے پہ کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں ابھرا۔ وہ بناء کوئی جواب دیئے کچن میں چلی آئی۔ وہ اس کے انداز پہ مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے آیا تھا۔ وہ چائے کا پانی رکھ رہی تھی۔
“مجھے چائے نہیں پینی ہے۔” وہ اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا۔ مسکاء نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ وہ اس وقت وائٹ ٹی شرٹ اور جینز پہنے ہوئے تھا۔ ہاف سلیوز میں اس کے کسرتی بازو نمایاں تھے۔ ہلکی ہلکی داڑھی سے سجا چہرہ تروتازہ لگ رہا تھا۔ وہ اسکی نظروں کا ارتکاز دیکھ کر اس کے قریب آیا تھا۔ اس نے پلٹ کر ابلتے ہوئے پانی میں پتی ڈالی۔ ضیغم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اس کے گرد بازوں کا حصار باندھا۔ وہ کرنٹ کھا کر مڑی اور اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھکیلا۔ اس کی گرفت چونکہ اتنی مضبوط نہیں تھی اس لئے وہ ٹیبل سے ٹکرایا۔
اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اسطرح اسے پیچھے دھکیلے گی۔ چہرے پہ موجود نرم تاثر ایک دم سے غائب ہوا تھا۔ آنکھوں میں غصہ لئے وہ اسکی طرف بڑھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑتا وہ تیزی سے کچن سے نکل گئی۔ وہ اسکے پیچھے باہر نکلا تھا مگر وہ کمرے میں بند ہو چکی تھی۔
“مسکاء۔۔۔! باہر آو۔”
اسکی غصیلی آواز سن کر وہ لرز اٹھی۔ یہ جو اس نے کیا۔۔ایک غیر ارادی عمل تھا۔ وہ دوپٹہ منہ پہ رکھے دروازے سے دور ہوتی رہی تھی۔
“مسکاء۔۔۔! اوپن دا ڈور۔۔۔” اس نے بھڑکتے ہوئے دروازہ بجایا۔ مگر مسکاء اب اس کے غصے سے خوفزدہ تھی۔دروازہ کھول کر اس نے اپنی شامت تھوڑی بلوانی تھی اس لئے اندر بیڈ پہ چپکی بیٹھی رہی۔
کچھ دیر تو وہ وہیں کھڑا اپنے غصے پہ قابو پاتا رہا اور پھر غصے سے دروازے کو گھورتا بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اسی غصے بھرے انداز میں وہ ریش ڈرائیونگ کرتا یونیورسٹی پہنچا تھا۔ ڈیپارٹمنٹ میں دخل ہوا تو ارحم اسے اپنے انتظار میں کھڑا نظر آیا۔ اسے دیکھ کر وہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس آیا تھا۔
“کہاں تھے تم؟؟ کب سے ویٹ کر رہا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں جب سے بھابھی آئی ہے تم نے تو گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا ہے۔”
وہ اسکے سرخ ہوتے چہرے پہ دھیان دئیے بنا بولا۔ وہ خاموش رہا۔
“کیا ہوا ہے؟؟ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔؟”
ارحم نے اسکی غیرمعمولی خاموشی کو نوٹ کیا تو پوچھا۔ جبکہ وہ سر نفی میں ہلاتا آگے بڑھ گیا۔ مسکاء کے ذکر پہ ایک بار پھر اسکا خون کھولنے لگا تھا۔ ارحم بھی اسکے پیچھے آیا تھا اور اب وہ دونوں پروفیسر محمد عقیل کے آفس میں بیٹھے تھے۔ وہ اس سے کچھ ضروری ہدایات دے رہے تھے۔ اسے سمجھا رہے تھے کہ وہ اپنے تایا میر سربلند خان کو عدالت کے ذریعے نوٹس بھیجے۔ مگر وہ ابھی اس بات کے حق میں نہیں تھا۔
“انکل۔۔۔میں ابھی اپنے کیرئیر پہ فوکس کرنا چاہتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ جائیداد ، یہ دولت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ میرے بازوں میں اتنا دم ہے کہ میں اپنے بل بوتے پہ کچھ کر سکوں۔ اس سیڑھی کا وہ استعمال کریں جنھیں خود پہ بھروسہ نہ ہو۔”
وہ چائے کا کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے بولا۔
“مگر بیٹا۔۔۔۔”
انھوں نے اسے سمجھانا چاہا مگر وہ ابھی میر سربلند خان کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا کہ وہ سب جان گیا ہے۔
“ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمھاری مرضی۔۔ رزلٹ کب تک آ رہا ہے اور آگے کا کیا پلین ہے؟”
انھوں نے اپنے لئے چائے بناتے ہوئے پوچھا۔
“نیکسٹ منتھ آئے گا اور آگے انشاءاللہ پولیس فورس جوائن کروں گا۔ میرے ملک اور میرے گاوں کو میری بہت ضرورت ہے۔ میں انھیں اس گھٹن بھری فضاء سے نکالنا چاہتا ہوں جس میں میں خود بھی سانس نہیں لے سکتا۔ جن کے لئے پرانی روایات کو چھوڑنا ایسا ہی ہے جیسے کھٹمل سے بچنے کے لئے کمبل جلا دیا جائے۔ میں انھیں اس اندھی تقلید کی قطار سے نکالنا چاہتا ہوں۔ انھیں اس بات کا احساس دلانا چاہتا ہوں کہ وہ کمزور نہیں ہیں بلکہ کمزور وہ لوگ ہیں جو ان کی معصومیت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مجھے گلالئی کے مجرموں کو تختہ دار تک پہنچانا ہے۔” وہ آنکھوں میں مضبوط ارادہ لئے اور آواز میں جرآت لئے بولا۔ چہرہ مزید سرخ ہو گیا تھا وہ اس کے خیالات جان کر بہت خوش ہوئے۔
“مجھے تم پہ فخر ہے بیٹا۔ تم جیسے نوجوان ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں۔۔ اس قوم کے لئے آب حیات ہیں۔ کاش تمھارے بابا آج زندہ ہوتے تو تمھیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔”
ان کی آنکھوں میں نمی ڈولنے لگی تھی۔
“اور بیٹا جی۔۔۔۔آپ کے کیا ارادے ہیں؟”
انھوں نے ارحم کو دیکھا۔
“یہ صرف کھانے پینے کا ارادہ لے کر پیدا ہوئے ہیں۔”
اس نے ارحم کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے جواب دیا جو اب پلیٹ میں بچا آخری بسکٹ بھی اٹھانے کے لئے آگے ہوا تھا لیکن ضیغم کے گھورنے پر واپس سیدھا ہو بیٹھا۔ یہ دیکھ کر پروفیسر محمد عقیل کو اپنی ہنسی پہ قابو پانا مشکل ہو گیا اور ان کا بلند قہقہہ آفس میں گونجا۔
“سوری سر۔۔۔ایکچولی یہ بسکٹس بہت ٹیسٹی تھے۔” وہ مسکراتے ہوئے بسکٹس کی پلیٹ کی جانب اشارہ کیا۔ وہ ہنس دئیے اور پلیٹ اٹھا کر بچا ہوا آخری بسکٹ بھی اسے آفر کیا۔ جو ارحم نے ہنستے ہوئے اٹھا لیا۔
“ضیغم۔۔۔تم نے کچھ نہیں لیا۔۔چائے بھی اب تک ادھوری ہے۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمھاری؟”
انھوں نے اس کے سرخ چہرے کو بغور دیکھا۔
“ارے نہیں سر۔۔۔آج کل یہ ڈٹ کر ناشتہ کر کے آتا ہے۔ مسکاء بھابھی۔۔۔۔۔۔۔”
“تم تھوڑی دیر کے لئے خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔” اس سے پہلے کے ارحم کی زبان قینچی کی طرح شروع ہو جاتی وہ اسے گھورتے ہوئے بولا۔ اس نے اسکی دکھتی رگ پہ جو ہاتھ رکھ دیا تھا۔
“ارے ہاں ضیغم۔۔۔تم کب ملوا رہے ہو ہماری بیٹی سے ہمیں؟؟”
انھوں نے فائل اسکی طرف بڑھائی۔
“انکل۔۔۔۔وہ۔۔۔۔”
وہ فائل لیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“وہ ۔۔۔وہ نہیں۔۔۔۔میں اور تمھاری آنٹی اس سنڈے کوتمھارا ڈنر پہ انتظار کریں گے۔”
وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ ارحم نے بھی ان کی تقلید کی۔
“مگر۔۔۔۔”
وہ ہچکچایا۔
“بس۔۔۔۔میں اور کچھ نہیں سنوں گا۔ اس سنڈے۔۔ یاد رہے گا نا؟”
انھوں نے ہاتھ مصافحہ کے لئے اس کی طرف بڑھایا۔ جسے اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے تھام لیا۔ وہ دونوں ان سے مل کر باہر آگئے۔۔___________________________________
“کہاں گئے تھے تم؟” مسجد کی طرف جاتے رحم دین نے زمان خان کی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔
“چھوٹے خان نے بلایا تھا تو ان سے ملنے گیا تھا۔” وہ ان سے گلے ملتے ہوئے بولے اور پھر دونوں نے مسجد کی طرف قدم بڑھائے۔ نماز ادا کرنے کے بعد وہ وہیں مسجد میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے ایک ایک کر کے گرانے لگے۔ آنکھین یوں بند تھیں جسے کچھ بھی نہ دیکھنا چاہتی ہوں۔زمان خان انھیں بغور دیکھ رہے تھے۔
“کیا کہا چھوٹے خان نے؟”
زمان خان نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ انھوں نے آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھا۔
“وہی سب کچھ۔۔۔ انھیں اس بات کا یقین نہیں کہ میں نے مسکاء کا نکاح کر دیا ہے۔ وہ ایک بار پھر سے جرگہ کروانا چاہتے ہیں۔ لیکن میں صاف صاف جتلا آیا ہوں کہ میں مزید کسی قسم کے جرگے کا حصہ نہیں بنوں گا۔اب چاہے میری جان ہی کیوں نہ لے لیں میں انھیں اس بات کو آگے بڑھانے نہیں دوں گا۔”
یہ کہہ کر انھوں نے دوبارہ آنکھیں موند لیں اور زبان پہ ورد جاری ہو گیا۔
“بہت اچھا کیا تم نے۔۔ بس ہمارے مشکل کے دن اب ٹلنے والے ہیں بہت جلد میرا بیٹا یہاں ہو گا۔ پھر دیکھوں گا کہ کون اس کے سامنے ٹک پاتا ہے۔ میرا ببر شیر۔۔۔میرا ضیغم۔۔”
ان کے لہجے میں فخر بول رہا تھا۔ محبت بول رہی تھی۔ یہی فخر رحم دین کی رگوں میں بھی دوڑنے لگا۔
“بچوں کی کوئی خیر خبر؟”
رحم دین نے بند آنکھیں کھولیں۔
“ہاں۔۔۔اللہ کا شکر ہے دونوں ٹھیک ہیں۔ میری کل ہی بات ہوئی ہے میر سے۔ وہ بتا رہا تھا کہ وہ محمد عقیل سے بھی ملا تھا۔”
انھوں نے آواز دھیمی رکھی۔
“کون محمد عقیل۔۔۔؟؟” رحم دین سیدھے ہو بیٹھے۔
“ارے وہی۔۔۔جو میر دراب خان کا دوست تھا۔ یاد نہیں نکاح کی تقریب میں شہر سے آیا تھا۔ جن کے ساتھ دراب خان اور خزیمن بھابھی شہر گئے تھے۔”
انھوں نے رحم دین کو یاد دلایا۔
“ہاں۔۔ہاں یاد آیا۔۔ بڑا ہی بہادر اور سجیلا نوجوان تھا۔ کیسے یہاں آ کر اس نے سب سنبھال لیا تھا۔ دراب خان اسے دیکھ کر کتنا خوش تھا۔ تجھے اور مجھے اس کا خاص خیال رکھنے کا کہا تھا انھوں نے۔”
رحم دین کی آنکھوں کے آگے نکاح کے روز کا منظر چھا گیا۔
“ہاں۔۔۔۔وہی۔۔۔میر بتا رہا تھا کہ وہ اسکی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور انھوں نے ہی گاوں کا ایڈریس دیکھ کر اس سے دراب خان کے متعلق پوچھا تھا۔”
وہ انھیں ساری تفصیل بتانے لگے۔
“کہاں ملتے ہیں آجکل تیرے جیسے اور محمد عقیل جیسے دوست۔”
رحم دین نے محبت سے ان کی طرف دیکھ کر کہا تو ان بات پر وہ مسکرا دئیے۔
“چل گھر چلتے ہیں ذرا میری بیٹی سے بھی میری بات کروا دے ورنہ سوچے گی کہ باپ نے رخصت کر کے بھلا دیا ہے۔”
وہ اٹھتے ہوئے بولے۔ زمان خان بھی سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور دونوں مسجد سے نکل کر گھر کی طرف روانہ ہوئے۔
جاتی گرمیوں کے دن تھے۔ عصر کے بعد ہلکی ہلکی ہوا طبیعت پہ اچھا اثر ڈال رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ گھر کا دروازہ بجا رہے تھے۔ ذہرہ بی بی نے دوسری دستک پہ دروازہ کھول دیا۔ زمان خان سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔
“مسکاء کی ماں۔۔۔اچھی سے چائے تو پلواو۔۔” ذہرہ بی بی کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
وہ دروازہ بند کر کے صحن میں بچھی چارپائیوں کی جانب آ گئے۔ چارپائی پہ بیٹھتے ہوئے زمان خان نے موبائل نکال کر میر کا نمبر ملایا جبکہ رحم دین منتظر نظروں سے انھیں دیکھ رہے تھے۔ تیسری بیل پہ میر نے کال ریسیو کی۔
“السلام و علیکم بابا۔” اس کی ہشاش بشاش آواز نے ان کے اندر طاقت بھر دی۔ وہ جو گاو تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے پھرتی سے سیدھے ہوئے۔
“واعلیکم السلام بیٹا۔۔۔کیا حال چال ہیں؟”
انھوں نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا۔
“بالکل ٹھیک بابا۔۔۔ابھی کل ہی تو بات ہوئی تھی۔ خیر سے فون کیا آپ نے۔۔طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی؟”
وہ ان کے اتنی جلدی کال کرنے پہ پریشان ہوتے ہوئے بولا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں اور ایک دن بعد میں دوبارہ فون نہیں کر سکتا کیا؟”
وہ ہنستے ہوئے بولے تو رحم دین بھی مسکرا دئیے۔ ضیغم بھی ان کے انداز پہ ہنس دیا۔
“ارے نہیں بابا۔۔۔آپ کا جب جی چاہے آپ کال کر سکتے ہیں۔”
وہ بیڈ پہ نیم دراز ہوتے ہوئے بولا۔
“اچھا میری بات سن۔۔۔مسکاء کہاں ہے؟” انھوں نے ذہرہ بی بی کی جانب دیکھا جو ٹپائی رکھ کر اس پہ ٹرے رکھ رہی تھیں۔ انھوں نے جلدی جلدی پکوڑے اور ساتھ پودینے کی چٹنی بنا لی تھی۔ مسکاء کا نام سن کر خوشی سے وہیں رحم دین کے ساتھ چارپائی پہ ٹک گئیں۔
“بابا۔۔۔۔وہ اپنے کمرے میں ہے۔” وہ بناء سوچے سمجھے بولا۔
“اپنے کمرے میں کیا مطلب۔۔۔؟؟” ان کے اسطرح پوچھنے پہ وہ سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
“وہ۔۔۔وہ بابا۔۔۔میرا مطلب ہے کہ وہ کمرے میں ہے۔” وہ بات سنبھالتے ہوئے بولا۔
“اور تو کہاں ہے؟”
انھوں نے بال کی کھال اتارنے کی کوشش کی۔
“میں۔۔۔۔؟؟ میں باہر لاونج میں ہوں۔ کچھ ضروری کام کر رہا تھا۔”
اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“اچھا اچھا ٹھیک ہے۔۔ یہ تیرے چاچا چاچی اس سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ذرا آواز دے کر بلا اسے۔”
زمان خان بھی اپنے نام کے ایک تھے۔
“جی۔۔۔۔مسکاء۔۔! اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے پکارا۔ وہ جو ابھی شاور لے کر نکلی تھی۔ اس کی آواز سن کر گھبرا گئی۔ دوپٹہ کھول کر لیا اور گیلے بالوں میں برش پھیرنے لگی۔ اس کی آواز ایک مرتبہ پھر آئی۔۔ آج کل وہ اس کے سامنے آنے سے کترانے لگی تھی۔ پہلے تو سوچا کہ نہیں جاتی وہ خودی چپ ہو جائے گا۔ لیکن پھر اس کے بار بار پکارنے پہ وہ ڈرتے ڈرتے باہر آئی۔
“جی۔۔” وہ دروازے کے پاس کھڑے کھڑے بولی۔ ضیغم اس کے انداز سے سمجھ گیا کہ اس کا سامنا کرنے سے وہ ڈر رہی ہے۔ اچانک اسے بدلہ لینے کی سوجھی۔
“رحم دین چاچا بات کرنا چاہ رہے ہیں۔” وہ وہیں صوفے پہ بیٹھے بیٹھے بولا۔
بابا کا سن کر وہ فورا اس کے پاس آئی تھی۔ ہاتھ بڑھا کر فون لینا چاہا تو ضیغم نے ہاتھ تھام کر کھینچا۔
“آہ۔۔۔۔۔۔”
وہ جو اس حملے کے لئے تیار نہیں تھی اس قریب گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی۔
“ارے بھئی آرام سے۔۔۔۔یہ لیں بابا بات کریں۔”
اس نے اس کے ہاتھ میں فون دیا اور خود اس کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے اور اسکے درمیان رہے سہے فاصلے کو بھی ختم کر دیا۔ اس سے بدلہ لینے کا اس سے اچھا موقع اسے پھر کب میسر آنا تھا۔
مسکاء نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر وہ گرفت اور بھی مضبوط کر گیا۔ وہ بالکل اس کے ساتھ جڑی بیٹھی تھی۔
“بات کرو نا۔۔۔” ضیغم اسکے ہوائیاں اڑتے چہرے کو دیکھ کر مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا اور موبائل والا ہاتھ اس کے کان کے قریب لے جا کر اسے بات کرنے کا اشارہ کیا۔
“ہیلو۔۔۔۔” چار و ناچار اسے بولنا پڑا۔ مزید کوئی حرکت کر کے وہ اسکے غصے کو ہوا نہیں دینا چاہتی تھی اس لئے چپکی بیٹھی رہی۔
“کیسی ہے میری بیٹی؟؟” انھوں نے پوچھا۔
“میں ٹھیک ہوں بابا۔۔۔آپ اور اماں کیسے ہیں؟” وہ اس کی گہری نظروں کو خود پہ پڑتے محسوس کر رہی تھی۔ بات تو ان سے کر رہی تھی مگر دھیان ضیغم پر تھا۔ وہ ابھی تک اسے اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا۔ یوں جیسے کبھی بھی چھوڑنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔۔یا یوں جیسے اس سے ضروری کوئی دوسرا کام نہ ہو۔
وہ اسے اپنے اور اماں کے متعلق بتا رہے تھے اور وہ ضیغم کی گرم نگاہوں کی تپش خود پہ رینگتی محسوس کر رہی تھی۔
تیز ہوتی دھڑکن اور سانسوں کا شور ضیغم کو مسکرانے پہ مجبور کر گیا۔ وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ اس وقت وہ اسی دن والے گہرے سبز رنگ کے لباس میں تھی۔ بھیگی زلفوں نے اسکی پشت کو بھگو دیا تھا۔ بالوں سے پانی کے قطرے گر کر ضیغم کے بازو کو بھی بھگو رہے تھے۔ وہ مسلسل اسے تنگ کیے جا رہا تھا۔ کبھی اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا۔۔کبھی چہرے کو چھوتا۔۔ کبھی گردن پہ انگلی پھیرتا۔۔۔
وہ بابا کی ہر بات کا جواب ہوں ہاں میں دے رہی تھی۔ الفاظ جیسے کہیں کھو سے گئے تھے۔
“ٹھیک سے بات کرو نا۔۔۔” اس نے اسکے بھیگے بالوں میں اپنا چہرہ چھپایا۔ مسکاء کو لگا جیسے اسکا دل اسکے کانوں میں دھڑکنے لگا ہو۔
“یہ لو اپنی اماں سے بات کرو۔”
ان کی آواز اسے میلوں دور سے آتی سنائی دی۔ اب فون بند کر کے بھاگ بھی نہیں سکتی تھی۔ اماں سے بھی بات کرنے کو جی چاہ رہا تھا۔ کان سے موبائل ہٹا کر اس نے اسے التجائی نظروں سے دیکھا مگر وہاں تو اس کے چہرے پہ نہ ہم کسی کے نہ ہمارا کون کا سا انداز تھا۔
اماں کی آواز میں اس سے بات کرنے کی خوشی چھلک رہی تھی۔ وہ اس سے پوچھ رہی تھیں کہ میر کیسا ہے؟
“بتاو نا کہ میر کیسا ہے؟” فون سے آتی ذہرہ بی بی کی آواز پہ وہ دھیرے سے بولا۔
“جی اماں۔۔۔وہ ٹھیک ہیں اور میرا خیال بھی رکھتے ہیں۔”
وہ بازو سے اسے خود سے پرے کرتے ہوئے بولی۔ مگر وہ پھر سے اسکے قریب ہوا تو وہ دور ہٹنے لگی۔ اماں نے اسے اپنا اور میر کا خیال رکھنے کی ہدایت کر رہی تھیں۔
“انھیں بتاو کہ تم میرا ذرا خیال نہیں رکھتی ہو۔” اسکی بات پہ مسکاء نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ ہنس دیا۔ اس نے دھیرے سے اس کی گردن پہ ہونٹ رکھ دئیے تھے۔
مسکاء کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر دور جا گرا۔۔______________________________
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *