Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode06
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode07 Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode06
Ghag By Mahwish Urooj Episode06
غگ ایک قبائلی رسم ہے۔ اس رسم کے تحت کوئی بھی لڑکا لڑکی کے گھر کے باہر چار فائر کرتا ہے اور لڑکی سے شادی کا دعویدار بن جاتا ہے اور پھر کوئی اور مرداس لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا۔۔
غگ کے لغوی معنی آواز کے ہیں۔ پختون معاشرے میں ‘غگ’ ایک ایسی رسم ہے جو ایک فرد یا خاندان کے دوسرے خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون یا لڑکی کو پابند کرتی ہے کہ اس کی شادی اسی فرد سے ہوگی۔ ‘غگ’ کی صورت میں متعلقہ خاتون یا لڑکی عمر بھر کسی دوسری جگہ یا کسی دوسرے شخص سے شادی نہیں کر سکتی۔
“غگ”
از
ماہ وش عروج
اسے کہنا۔۔!
سدا موسم
بہاروں کے نہیں رہتے
سبھی پتے بکھرتے ہیں
ہوا جب رقص کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
“سارے حالات تمھارے سامنے ہیں بیٹا۔ رحم دین بہت پریشان ہے۔ گاوں میں کوئی ایسا ہے بھی نہیں جس کے حوالے ہم مسکاء کو کریں اور نا ہی باتور خان کے ڈر سے کوئی آگے بڑھتا ہے۔ اوپر سے جرگہ تو اس رسم کو ختم کرنے کو تیار ہی نہیں۔۔ انھوں نے تو باتور خان کے حق میں فیصلہ دے دینا ہے۔”
زمان خان نے اس کے سامنے پانی کا جگ رکھا۔ وہ تو کچھ اور سمجھ رہا تھا جبکہ یہاں تو کچھ اور ہی معاملہ تھا۔
“کیا سوچ رہے ہو بیٹا؟؟”
انھوں نے اسے گہری سوچ میں دیکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں بابا۔۔۔”
اس نے گلاس میں پانی انڈیلا۔
“جب یہ معاملہ نہیں تھا تب بھی میں مسکاء کو تمھارے حوالے سے ہی دیکھتا تھا۔”
ان کی بات پر اس نے انھیں حیرانی سے دیکھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔کیا میں ایسا نہیں سوچ سکتا۔۔میں جانتا ہوں کہ تمھارا سگا باپ نہیں ہوں لیکن اتنا حق تو رکھتا ہوں نا کہ تمھارے لئے ایک اچھا فیصلہ کر سکوں۔”
انھوں نے اس کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا۔
“بابا۔۔۔آپ کیسی باتیں کرتے ہیں آپ کے لئے تو میری جان بھی حاضر ہے۔ آپ حکم کریں۔”
وہ جو انکار کرنے کا سوچ رہا تھا ان کا مان رکھنے کے لئے مان گیا۔ انھوں نے اٹھ کر اسے سینے سے لگایا۔ خوشی ان کے چہرے سے چھلکی پڑ رہی تھی جبکہ اس کے چہرے پہ کسی قسم کی خوشی یا غمی کے تاثرات نہیں تھے۔
“میں جا کر رحم دین کو بتاتا ہوں۔ وہ کتنا خوش ہو گا یہ سن کر۔”
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اڑ کر رحم دین کے پاس پہنچ جائیں۔
“لیکن میری ایک شرط ہے۔”
ابھی وہ کمرے سے نکلے نہیں تھے کہ اس کی بات پر پلٹ کر اسکو دیکھا۔ وہ چہرے پہ نا سمجھی کے تاثرات لئے اسے دیکھ رہے تھے۔
“کیسی شرط؟؟”
وہ دھیرے قدم اٹھاتے اس کے قریب آئے۔
“بابا۔۔۔۔میر دراب خان کون تھے؟”
اس نے اپنے اور ان کے بیچ موجود فاصلے کو مزید کم کیا۔ انھیں اس سے ایسے سوال کی توقع نہیں تھی۔ وہ خاموشی سے اسکا منہ تک رہے تھے جبکہ وہ منتظر نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا۔
“کون میر دراب خان بیٹا؟”
ان کی بات پر اس نے سر جھٹک کر پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔
“یہ۔۔۔۔۔۔۔۔میر دراب خان۔”
اس نے تصویر ان کی آنکھوں کے سامنے رکھی۔ تصویر دیکھ کر وہ اپنی حیرت نہ چھپا سکے۔ انھوں نے اس کے ہاتھ سے تصویر لے لی۔ ان کی آنکھوں میں پہچان کی جھلک واضح تھی مگر وہ اس پہ اپنی حیرت آشکارا نہیں کرنا چاہتے تھے۔
“میں نہیں جانتا بیٹا۔۔۔کون ہے یہ؟؟”
انھوں نے تصویر اسے واپس کرتے ہوئے پوچھا۔ان کے چہرے کے آتے جاتے رنگ میر سے چھپے ہوئے نہیں تھے۔
“بابا۔۔۔۔یہ کہاں رہتے ہیں آپ مجھے بتا دیں تو میں آپکی بات ماننے کو تیار ہوں۔ ورنہ میرے نزدیک شادی اتنی اہم نہیں جتنا کہ اپنا کریئر بنانا اہم ہے۔”
وہ پلٹ کر جانے لگے تھے۔
“بابا۔۔۔۔۔۔”
اس نے انھیں پکارا۔ تصویر ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔
“ضیغم میں کچھ نہیں جانتا۔” وہ کھلے دروازے سے باہر نکل گئے۔ وہ ان کے پیچھے لپکا۔
“مجھے عقیل احمد ملے تھے۔ یہ تصویر انھوں نے ہی مجھے دی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ میں میر دراب خان کا بیٹا ہوں۔ بابا پلیز آپ مجھ سے حقیقت کیوں چھپا رہے ہیں۔میں سچ جاننا چاہتا ہوں۔ میں کون ہوں۔۔۔کیا ہوں؟؟”
اس سے پہلے کہ وہ بیرونی دروازہ پار کرتے وہ بلند آواز میں بولا۔ تصویر ابھی بھی اسکے ہاتھ میں تھی۔ زمان خان نے دروازے کی کنڈی واپس چڑھائی اور پلٹ کر اس کے پاس آئے۔ اس کی آنکھوں کی بجھی جوت کو وہ بجھانا نہیں چاہتے تھے۔ وہ کیا کرتے وہ مجبور تھے اسے کھو نہیں سکتے مگر وہ ان کے سامنے مضبوط قدم جمائے کھڑا تھا۔وہ ٹلنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔
“تم میر ضیغم خان ہو۔۔
میر دراب خان کے بیٹے۔۔
میر ابدار خان کے پوتے۔۔۔
میر سربلند خان کے بھتیجے۔۔ میر ضیغم خان ہو تم۔” ان کی سانس پھولنے لگی تھی جیسے میلوں کا سفر طے کر آئیں ہوں۔ اسے لگا جیسے وہ اب کبھی بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں پائے گا۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ اپنے سامنے انھیں زمین بوس ہوتے دیکھ رہا تھا۔ اسکا باپ اسی مٹی کا تھا جسکی خوشبو اسے خود آتی ہے۔ وہی خوشبو جس کی کشش اسے یہاں سے جانے نہیں دیتی تھی۔ جہاں سے اسکی محبت پل پل بڑھی تھی۔
“تم میرے بیٹے ہو۔۔۔میرے میر ہو۔”
ان کی دھیمی آواز اسے حواسوں میں کھینچ لائی۔ وہ بھاگتے ہوئے ان کے پاس آیا اور ان کے ڈھلتے وجود کو اپنی مضبوط پناہوں میں لیا- اس کی قمیص ان کے آنسووں سے تر ہوتی جا رہی تھی۔
“میں آپ کا بیٹا ہوں بابا۔۔۔صرف آپکا۔”
اس نے ان کے آنسو پونچھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
“میر۔۔۔۔بس اب مجھ سے مزید کچھ مت پوچھنا۔ میں تمھیں کھونے کی ہمت نہیں رکھتا۔ میں تمھیں کچھ نہیں بتا سکتا۔”
وہ اس سے الگ ہوتے ہوئے بولے۔
“بابا میں میر دراب خان سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں۔ ایک بار انھیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ صرف ایک جھلک اپنی ماں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔”
اس کے لہجے میں باپ سے ملنے کی تڑپ ان کا کلیجہ چیر گئی۔ وہ خاموشی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے انداز پہ اسکا دل ایک پل کو دھڑکنا بھول گیا۔ اس نے انھیں بیرونی دروازے سے باہر جاتے دیکھا۔ وہ بھی ان کے پیچھے آیا۔ وہ کس سمت میں جا رہے تھے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا بس ان کی تقلید میں آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ جب ہوش آیا تو وہ حویلی سے منسلک حجرے کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا۔ دھوپ کی تپش جسم کو جھلسائے دے رہی تھی۔ اس لئے اس وقت باہر کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ حجرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔ وہ ان کے پیچھے تھا۔ دل عجیب لے پہ دھڑک رہا تھا۔
وہ صحن سے گزرتے ہوئے برآمدے میں آئے۔ ادھر ادھر نظر ڈال کر مطمئن ہوئے اور پھر آگے بڑھے۔ دائیں طرف ایک تنگ سا راستہ تھا۔ جس کے دہانے پر بنی کیاری میں بوگن ویلیا اگائی گئی تھی جو اس قدر گھنی اور پھیلی ہوئی تھی کہ یہاں موجود اس تنگ و تاریک راستے کا علم شاید حویلی کے مکینوں کو بھی ہو۔ وہ ایک پل کو رکے، ایک نظر سامنے ڈالی اور پھر پلٹ کر اسے دیکھا جو ان سے کچھ ہی فاصلے پہ کھڑا تھا۔ وہ ایک گہری سانس خارج کرتے آگے بڑھے تھے۔ ہاتھ سے بوگن ویلیا کی ناذک ڈالیوں کو پرے ہٹاتے راستہ واضح کرتے جا رہے تھے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ حجرے کی پچھلی طرف پہنچے۔ میر نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو واپس جانے کا راستہ غائب ہو چکا تھا۔
“میر۔۔۔”
ان کی پکار پر وہ آگے بڑھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی جنگل میں آ گئے ہوں۔ بلند اور برگ و بار درخت ایک عجیب سا منظر پیش کر رہے تھے۔ پیروں تلے پتوں کی چرچراہٹ اور مختلف پرندوں کی آوازیں اردگرد کے سونے اور بےجان ماحول میں زندگی کا احساس جگا رہی تھیں۔ وہ حیران تھا کہ حویلی کی تزئین و آرائش یہاں سے بالکل مختلف تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے صدیوں سے یہاں کسی نے قدم تک نہ رکھا ہو۔ زمان خان خاموشی سے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ کچھ دور چلنے کے بعد اسے ایک کمرا سا نظر آیا جسکے دروازے پہ زنگ آلود تالا لگا ہوا تھا۔ اندر کی طرف کھلنے والی ایک کھڑکی بھی تھی جسکے آگے لوہے کی تنگ تنگ سلاخیں لگائی گئی تھیں۔وہ دروازے کی طرف بڑھا لیکن زمان خان نے اسے وہاں جانے سے روک دیا۔ انھوں نے اسے اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ کمرے کے بائیں جانب سے ہوتے ہوئے وہ اسکے پچھلی جانب پہنچے۔ سامنے دکھائی دیتی دیوار حجرے کی آخری حد تھی۔ دیوار کافی بلند اور مضبوط تھی اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ حجرہ اس قدر وسیع و عریض رقبے پہ پھیلا ہوا ہو گا۔ یہاں دیوار کے ساتھ موجود درختوں نے دن کی روشنی کو بھی کم کر دیا تھا۔ دور آسمان میں گول گول چکر لگاتے پرندوں کی آوازیں اس خاموشی میں واضح سنائی دے رہی تھیں۔ پیروں کے نیچے زمین کچی تھی۔ اس نے اپنے جوتوں پہ نظر ڈالی۔ جوتوں میں مقید پیر گرد سے اٹ چکے تھے اور چہرہ پسینے سے تر تھا۔
“بابا۔۔۔۔یہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں؟”
اس نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
“کیوں اپنے بابا سے نہیں ملو گے؟”
وہ سامنے دیکھتے ہوئے بولے۔
“بابا۔۔۔۔”کہاں ہیں وہ۔” اس کی آواز میں بےچینی واضح تھی۔
“وہ۔۔۔”
انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا۔ اس نے ان کی ہاتھ کی سیدھ میں دیکھا۔ دو قبریں ایک دوسرے سے کچھ ہی فاصلے بنی تھیں۔
ویران اور خاموش۔۔۔اپنے مکینوں کی طرح۔۔۔۔وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا قریب آیا تھا۔ قبر کے سرہانے لگے کتبے پہ نظر پڑی۔۔۔۔۔”میر دراب خان۔۔” اسکے خاموش لب ہلے تھے۔ وہ وہیں زمین پہ بیٹھ گیا۔
“ماں سے بھی مل لو میر ضیغم خان۔۔۔۔یہاں دوبارہ آنا تمھارے لئے خطرے سے خالی نہیں۔”
انھوں نے قبر کے پیروں کی جانب اسے سر جھکائے بیٹھے دیکھ کر اس کے کندھے پر تسلی بھرا ہاتھ رکھا۔
اس نے کچھ فاصلے پہ بنی دوسری قبر کے کتبے پہ نظر ڈالی۔ “ذوجہ میر دراب خان” اسے لگا اس کا دل پھٹ جائے گا۔ یہاں کی ویرانی اس کے اندر بھی ڈیرا ڈال رہی تھی۔
کتنی شدت تھی اسکے اندر ان منوں مٹی تلے خاموش سوئے ہوئے اشخاص سے ملنے کی۔ وہ ملے بھی تو کیسے۔۔۔۔
اسے وحشت ہونے لگی تھی۔
وہ ایک دم اٹھا اور دونوں قبروں پر گرے پتے ہٹانے لگا۔ قبروں کو صاف کرنے بعد سامنے لگے نل کے نیچے رکھی لوہے کی زنگ آلود بالٹی کو کھنگال کر پانی بھرا اور پھر دونوں قبروں پہ چھڑکاؤ کیا۔ پھر نل کے پانی سے ہاتھ دھوئے اور فاتحہ کے ہاتھ اٹھائے۔ زمان خان نے بھی اس کی تقلید کی۔ فاتحہ کے بعد زمان خان نے اسے چلنے کے لئے کہا اور جس راستے سے دونوں گئے تھے اسی سے واپس چلے آئے۔۔
جن کے ملنے کی تمنا میں گزاری تھی حیات
سامنے ہی سے وہ گزرے تو بلایا نہ گیا۔۔۔_____________________________
“بابا۔۔۔”
وہ چارپائی پہ لیٹے نجانے کیا سوچ رہے تھے کہ وہ ان کے پاوں تھامتی وہیں پیروں کیطرف بیٹھ گئی۔ اپنے پاوں پہ ایک نرم لمس محسوس کر کہ وہ سوچوں کے بھنور سے نکلے تھے۔ مسکاء کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھے۔
“مسکاء بیٹا کیا بات ہے؟”
وہ سر جھکائے ان کے پیروں کو دبانے لگی تھی۔ ان کے پوچھنے پر بھی کچھ نہ بولی۔
“ادھر آو میرے پاس۔”
انھوں نے اپنے پیروں پہ رکھا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بٹھایا۔
“ماں کہاں ہے تمھاری؟”
انھوں نے ذہرہ بی بی کے متعلق پوچھا۔
“وہ باہر ہیں بابا۔” انھوں نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ جنھیں وہ اب گود میں دھرے بیٹھی تھی۔ چہرے پہ تذبذب کے آثار نمایاں تھے۔
“بابا۔۔۔۔میں آپ سے کہنا چاہتی ہوں کہ آپ جرگے کی بات مان لیجیئے گا۔ میں اپنی وجہ سے آپکو پریشان نہیں دے سکتی۔ اماں نے مجھے سب بتا دیا ہے کہ کسطرح وہ لوگ گھر آ گئے اور آپ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تھا۔ وہ رو رہی تھی۔ ان کا دل تکلیف کی شدت سے بھر گیا تھا۔ وہ ان کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی تھی۔ اس کی آنکھ کا ایک آنسو بھی انھیں اپنے دل پہ گرتا محسوس ہوتا تھا اور آج کل جو مسائل انھیں درپیش تھے وہ پل پل مر رہے تھے۔ کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی جس پہ چل کر وہ اپنی متاع حیات کو ان درندوں سے بچا سکتے۔
انھوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے اس کے ہاتھ چہرے سے ہٹائے۔ آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھ کر ان کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔ انھوں نے اسے سینے میں چھپا لیا۔ اسکی ہچکیاں بلند ہوتی جا رہی تھیں۔
“کچھ نہیں ہوگا۔۔اگر جرگہ میری بات نہیں مانے گا۔۔میں بھی نہیں مانوں گا۔ میں تمھیں پورا تحفظ دوں گا چاہے اس کے لئے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔”
وہ اسکے آنسو پونچھتے ہوئے بولے۔
“مگر بابا ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ آپکی جان میرے نزدیک زیادہ اہم ہے نہ کہ میری شادی۔ بابا شادی کسی نہ کسی سے تو کرنی ہی ہے تو باتور خان سے سہی۔”
اس نے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی مگر وہ سر نفی میں ہلانے لگے۔
انھوں نے مسکراتے ہوئے اس کے بال سمیٹے۔
“میں اپنی بیٹی کا ایک بال تک نہ دوں بیٹی تو دور کی بات ہے۔ اگر جرگے کا فیصلہ ہمارے خلاف بھی ہوا تو میں تمھیں یہاں سے بحفاظت بھجوا دوں گا۔ شہر میں یہ لوگ ایسی کوئی حرکت کرتے ہوئے بھی دس بار سوچیں گے۔ وہاں اتنا آسان نہیں ہے یہ سب کرنا۔”
انھوں نے اسے تسلی دی۔
“تو پھر بابا میں، آپ اور اماں۔۔۔ہم شہر چلے جاتے ہیں۔”
اس کی بات پہ وہ مسکرا دئیے۔
“نہیں بیٹا۔۔۔اپنا گھر بھلا کون چھوڑ سکتا ہے۔ اس مٹی سے مجھے میرے اپنوں کی خوشبو آتی ہے۔ میں یہاں سے نہیں جا سکتا۔”
وہ اسے اپنے ساتھ لئے کمرے سے باہر آ گئے۔ ذہرہ بی بی کچے صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کر رہی تھیں۔ صحن میں تین چارپائیاں بچھی تھیں۔ رات کو وہ باہر ہی سویا کرتے تھے۔ وہ اسے ساتھ لئے چارپائی پہ بیٹھ گئے اور نظریں آسمان پہ لگا دیں۔
“مسکاء ! تمھیں پتہ ہے مجھے آسمان کیوں اتنا پسند ہے۔”
ان کی نظریں پرندوں کی قطار پہ تھی۔ ذہرہ بی بی اب پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔ میکی(miki) ان کے پیچھے پیچھے پھر رہی تھی۔ وہ اسے جھڑک بھی رہی تھیں کیونکہ وہ ادھر ادھر گھومتی پھر واپس آ کر ان کے پیروں میں لوٹنے لگتی۔ وہ مسکرا کر میکی کو دیکھتی ان کی طرف متوجہ ہوئی۔
” نہیں بابا۔۔۔۔کیوں اتنا پسند ہے؟”
اس کی نظریں بھی دور ہوتے پرندوں پہ تھیں۔
“اس لئے کہ اس میں بہت وسعت ہے۔ میں جب بھی اسے دیکھتا ہوں اس کی وسعتیں مجھے خود میں سماتی محسوس ہوتی ہیں۔ اسکی نیلاہٹ مجھے طاقت دیتی ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے یہ اسی طرح ہمارے سروں پر تنا ہوا ہے۔ جب تک مشیئت ایزدی ہے یہ یونہی تا قیامت تنا رہے گا۔ میں بھی اللہ کے حکم اور اسکی دی ہوئی طاقت کے بل بوتے پر اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔”
انھوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔
میکی اب ان کی چارپائی کے نیچے پڑے ان کے جوتوں کو اپنی منہ سے دکھیل کر دیوار کے قریب لے جا رہی تھی۔ اب ان دونوں کی نظریں میکی پر تھیں۔ میکی نے جوتے اکٹھے کیے اور ان پہ بیٹھ گئی۔ دونوں باپ بیٹی مسکرا دئیے۔
“لو یہ دیکھو زرا۔۔۔پتہ نہیں کہاں سے یہ ڈرامے سیکھے ہیں اس نے۔۔۔اچھا جوتوں پہ بیٹھنے کی کیا تک ہے۔” وہ اب میکی کی طرف آئیں تھیں۔
“مسکاء ۔۔۔بند کرو اسے اسکے ڈربے میں۔”
انھوں نے میکی کو ہٹایا۔
“اماں رہنے دیں نا۔ وہ بیچاری کیا کہہ رہی ہے۔” اس نے میکی کو گود میں اٹھا لیا تھا اور اسے لے کر ڈربے کی طرف بڑھی۔ اس نے ڈربے کا دروازہ کھول کر میکی کو اندر ڈالا لیکن وہ واپس باہر آنے کے لئے مچلنے لگی تھی۔ اس نے اسے دوبارہ اندر دھکیل کر جلدی سے دروازہ بند کر دیا۔ مسجد سے مغرب کی اذان بلند ہو رہی تھی۔ رحم دین اٹھ کر وضو بنانے چل دئیے جبکہ اس نے ایک بار پھر آسمان کی جانب نظر کی۔ نیلے رنگ میں گھلی گلابی رنگ کی آمیزش آنکھوں کو بہت بھلی اور دل کو ٹھنڈک دے رہی تھی۔
“سچ بابا۔۔۔ اس میں کتنی وسعت و گہرائی ہے اور دل میں کھب جانے والی ٹھنڈک ہے۔”
دل ہی دل میں کلمے اور درود کا ورد کرتی وہ نماز کے لئے اٹھ گئی۔ ذہرہ بی بی صحن میں رکھے تخت پہ کھڑی نیت باندھ چکی تھیں۔ وہ گہری سانس خارج کر کے وضو بنانے چل دی۔
پرندے اپنے اپنے گھونسلوں کا رخ کر رہے تھے۔ شام کی سرخی آہستہ آہستہ سیاہی میں بدل رہی تھی۔ اس نے دور افق پہ چمکتے اکلوتے ستارے پہ نظر ڈال کر نیت باندھ لی۔۔_____________________________
جب سے وہ وہاں سے واپس آئے تھے وہ اپنے کمرے میں بند تھا۔ وہ مسلسل اسے آواز دے رہے تھے مگر نہ تو وہ دروازہ کھول رہا تھا اور نہ ہی کوئی آواز دے رہا تھا۔ جب سے وہ اندر بند تھا وہ باہر اسکے کمرے کے دروازے سے لگے کھڑے تھے۔
“میر۔۔۔۔بیٹا دروازہ کھولو۔ تمھارے بابا بہت بہادر انسان تھے۔ وہ بہت ملیح طبیعت اور بہت نرم دل تھے۔ تم ان کا خون ہو۔۔۔انہی کی طرح بہادر ہو۔ جو کام وہ پورا نہ کر سکے تم کر کے دکھاو گے۔ ان کے خواب کو تعبیر تم دو گے۔ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو آج اس گاوں میں جو رہا ہے کبھی نہ ہوتا۔ خدا گواہ ہے میں نے تمھاری تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ میں بھی تمھیں اسی مقام پہ دیکھنا چاہتا ہوں جس پہ وہ دیکھنا چاہتے تھے۔ دروازہ کھول دو میر۔۔۔۔۔تمھارے اندر اسی میر خاندان کا خون دوڑ رہا ہے۔ جس کی گرمائش آج بھی ہمارے دلوں کو گرماتی ہے۔ تم ہی اس گاوں کے سایہ دار شجر ہو جس کی چھاؤں میں سستانے کی خواہش ہم گاوں والے اپنے دلوں میں دبائے بیٹھے ہیں۔۔ میں نے تمھیں یہ سب اس لئے نہیں بتایا کہ تم منہ چھپا کر بیٹھ جاو بلکہ اس لئے بتایا ہے تاکہ تم اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچاو۔ ان کا پوشیدہ جرم سب کے سامنے لاو۔ جنھوں نے تمھارے سر سے ماں باپ کا سایہ چھینتے وقت ایک پل کو نہیں سوچا۔”
وہ دروازے سے لگے اسے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے آخری الفاظ اس کے سینے پہ کسی برچھی کیطرح لگے۔ تکیے منہ سے ہٹا کر وہ دروازے کی طرف بڑھا تھا۔ دروازہ کھلنے کی آواز پہ وہ آگے بڑھے تھے۔ سامنے ہی وہ سرخ آنکھوں میں وحشت لئے انھیں دیکھ کر واپس کمرے میں پلٹ گیا۔
“میر۔۔۔۔تمھارے تایا میر سربلند خان نے ہی سازش کر کے تمھارے بابا کو اپنے راستے سے ہٹایا تھا۔ آج وہی سب ایک بار پھر سے دہرایا جا رہا ہے۔ لیکن ایک بار پھر سے وہ سب نہیں ہوگا۔ ہم وہ سب پھر سے نہیں دہرائیں گے۔ ہم لڑیں گے ان ظالموں سے اپنی آخری سانس تک۔۔۔میر۔۔۔۔! تمھاری ماں بہت نیک عورت تھیں۔ وہ بھی اس قیبح رسم کی بھینٹ چڑھنے والی تھیں لیکن میر دراب خان نے آگے بڑھ کر انھیں سہارا دیا۔ اپنی عزت بنایا لیکن یہ لوگ آستین میں چھپے سانپ سے بھی بڑھ کر ہیں۔ دوست نما دشمن ہیں۔ وہ دونوں معصوم تھے۔۔سادہ لوح تھے۔۔انھیں گلے لگا کر ان کے پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا اور کوئی نہیں تمھارا اپنا تایا میر سربلند خان ہے۔” آنسو تواتر کے ساتھ ان کی آنکھوں سے جاری تھے۔
“لیکن کیوں۔۔۔؟ ایک بھائی اپنے بھائی سے اس حد تک کیسے نفرت کر سکتا ہے کہ اسکے لئے اپنے گھر میں ہی ایسی گمنام گور بنا دی ہے۔”
وہ ان کی بات کاٹ کر بولا۔ اسے لگا اسکے دل سے خون رسنے لگا ہے۔
“سگا بھائی شاید نہ کرے ایسا مگر سوتیلے سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ جائیداد کے لالچ میں وہ اس قدر اندھے ہو گئے تھے کہ انھیں تمھاری معصوم جان پر بھی رحم نہ آیا کہ کہیں کل کو تم اس میں حصے دار نہ بن جاو۔ میں نے اس وعدے پہ انھیں روک دیا کہ میں تمھیں اپنی اولاد بنا کر پالوں گا۔ تمھیں کیا کسی کو بھی پتہ نہیں لگنے دوں گا کہ تم میر دراب خان کے بیٹے ہو مگر شومئی قسمت کہ تمھیں معلوم ہو گیا لیکن گاوں میں سوائے میرے اور میر سربلند خان کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا کہ تم میر دراب خان کے بیٹے ہو۔ جب میر دراب خان کا بیٹا اپنے کندھے پہ ستارے سجائے اس گاوں کے تھانے میں قدم رکھے گا تو پھر میں دیکھوں گا کہ یہ وقت کے خدا کیسے یہ ظلم جاری رکھتے ہیں۔”
وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔ جن میں کرب کی سرخی آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی۔
“ابھی تو فلحال ہم نے مسکاء کو اس ظلم سے بچانا ہے۔ کیا تم اس میں ہماری مدد کرو گے؟”
انھوں نے پرامید نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
“میں تیار ہوں بابا۔”
اس کے جواب پہ ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔
“میں جا کر یہ خوشخبری رحم دین کو سناتا ہوں۔ وہ بہت خوش ہو گا۔”
انھوں نے اسے گلے سے لگایا اور اسکی پیٹھ تھپتھپا کر کمرے سے چلے گئے۔ مغرب کا وقت تھا وہ گہری سانس خارج کرتا وضو بنانے چل دیا۔ جہاں تھوڑی دیر پہلے خوشیوں کا ڈیرا تھا اب وہاں سناٹے گونج رہے تھے۔اپنوں کو کھو دینے کا سناٹا۔۔
میر ضیغم خان کے دل میں اب ایک ہی غم تھا۔۔
دائمی جدائی کا غم۔۔
اپنے ماں باپ کی دائمی جدائی کا غم۔۔
میر دراب خان
اور
خزیمن دراب خان کی جدائی کا غم۔۔_________________________________
رحم دین نماز پڑھ کر ابھی گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کرنے ہی والے تھے کہ زمان خان نے آگے بڑھ کر انھیں روکا۔ رحم دین انھیں دیکھ کر حیران ہوئے وہ کچھ بولنے ہی والے تھے کہ زمان خان نے اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر انھیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اندر داخل ہو کر چٹخنی چڑھائی۔
“زمان خان کیا بات ہے؟”
انھوں نے پوچھا۔ ذہرہ بی بی بھی کچن سے نکل کر ان کے قریب آئیں تھیں۔ زمان خان کو اسطرح اندر آتے دیکھ کر وہ گھبرا گئی تھیں۔
“اندر آو۔۔۔بتاتا ہوں۔”
وہ انھیں ساتھ لئے اندر کی طرف بڑھے۔ مسکاء نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے مسکرا کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔ وہ رحم دین کو لئے کمرے میں آئے۔ رحم دین نے ان کے لئے کرسی آگے کی اور خود چارپائی پہ بیٹھ گئے۔ ذہرہ بی بی چارپائی کی پائنتی پہ ٹک گئیں۔جبکہ مسکاء دروازے کی چوکھٹ میں کھڑی تھی۔ وہ تینوں منتظر نظروں سے زمان خان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
“مسکاء بیٹا ذرا پانی تو پلاو۔”
انھوں نے مسکاء کا وہاں کھڑا ہونا مناسب نہ جان کر اسے پانی لانے بھیجا۔ وہ چلی گئی تو وہ رحم دین کی طرف متوجہ ہوئے۔
“رحم دین میں اپنے بیٹے میر ضیغم خان کے لئے تمھاری بیٹی مسکاء کا ہاتھ مانگتا ہوں۔ کیا تم میرے بیٹے کو اپنی فرزندگی میں قبول کرو گے۔۔ابھی پڑھ رہا ہے اور انشاءاللہ بہت جلد برسر روزگار بھی ہو جائے گا۔”
انھوں نے مسکراتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا۔ ان کی بات سے رحم دین پر شادئ مرگ کی کیفیت چھا گئی۔ انھیں سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دیں۔ قوت گویائی جیسے کسی نے سلب کر لی تھی۔ مسکاء جو پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑے اندر آنے والی تھی ان کی بات سن کر وہیں سے پلٹ گئی۔
“بولو نا۔۔۔رشتہ منظور ہے تمھیں۔”
انھوں نے ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا تو وہ رونے لگے۔
“اس میں رونے والی کون سی بات ہے؟”
وہ ان کے رونے پہ حیران ہوئے تھے۔
“زمان خان تم نے تو ایک جھٹکے میں مجھے ہر فکر سے آزاد کر دیا ہے۔ ہر بار میرا غم بانٹ لیتے ہو۔ تمھارے جیسا دوست تو اللہ کی طرف سے میرے لئے تحفہ ہے۔ میں کس طرح تمھارا یہ احسان اتاروں گا۔۔میرے پاس تو شکریہ کے الفاظ تک نہیں ہیں۔”
وہ ان کے ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولے۔ ذہرہ بی بی بھی انھیں تشکر بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
“مسکاء میری بھی بیٹی ہے اور پھر شروع ہی سے میرے اندر یہ خواہش پل رہی تھی کہ مسکاء میرے میر کی دلہن بن جائے۔ میں تو اس کی تعلیم مکمل ہو جانے کی غرض سے رکا ہوا تھا مگر اب حالات ہمیں انتظار کی اجازت نہیں دیتے۔ اس لئے میر کے لئے میں مسکاء کا رشتہ لایا ہوں۔ تم اب اپنا فیصلہ بتاو۔”
انھوں نے اپنے دل کی خواہش سے انھیں آگاہ کیا۔
“لیکن تم نے کہیں میر پہ ذبردستی تو نہیں کی؟”
رحم دین نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔ اگر مسکاء ان کی لاڈلی بیٹی تھی تو میر بھی انھیں بہت عزیز تھا اس لئے وہ میر کے ساتھ ذبردستی کے خواہاں نہیں تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی اس کے لئے بوجھ بنے۔
“وہ راضی ہے۔ تم اس بات کو لے کر پریشان مت ہو اور خوشی خوشی بسم اللہ کرو۔ وہ ساتھ لے کر جائے گا مسکاء کو۔۔یہاں مناسب نہیں ہے رہنا۔ بعد میں جرگے سے ہم نمٹ لیں گے۔”
زمان خان نے انھیں مطمئن کیا۔
“اگر تم ہاں کرو تو آج ہی نکاح پڑھوا کر دونوں کو گلزم خان کے ساتھ شہر بھیج دیں گے۔ باقی اللہ مالک ہے۔”
زمان خان انھیں خاموش دیکھ کر بولا تھا۔ رحم دین نے ذہرہ بی بی کی طرف دیکھا تو ذہرہ بی بی نے سر اثبات میں ہلا کر اپنی رضامندی دی۔
“ہاں تو کر دوں لیکن ڈرتا ہوں کہ کہیں ہم اپنے بچوں کو کھو نہ دیں۔ جرگے کے خلاف جا کر تو ہم ان کی جانوں کو خطرے میں ڈال ہی رہے ہیں۔”
وہ پیشانی مسلتے ہوئے بولے۔ دل میں انھیں کھو دینے کا ڈر بیٹھ گیا تھا۔ آج تک کوئی بھی ان ظالموں کا مقابلہ نہ کر سکا تھا۔ اپنا خون بہا کر بھی ان سے چھٹکارا نہیں پا سکا تھا۔
“رحم دین اللہ ہماری مدد کرے گا وہ بڑا رحیم و کریم ہے۔”
انھوں نے رحم دین کا ہاتھ تھاما۔
“تو پھر بھلا مجھے کیا اعتراض۔۔۔میرے لئے تو یہ بہت خوشی کی بات ہے۔”
ان کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو جاری تھے۔ زمان خان کا چہرہ ان کی ہاں سنتے ہی خوشی سے کھل اٹھا۔
“میں تیاری کرتا ہوں۔۔نکاح آج ہی ہو گا۔۔انشاءاللہ! اب تمھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب مسکاء میری بیٹی ہے۔”
وہ رحم دین سے بغلگیر ہوئے اور باہر نکل گئے۔ دروازے کے پاس ہی مسکاء پانی کا گلاس لئے کھڑی تھی۔ وہ خود کےرنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر گھبرا گئی۔ انھوں نے اس کے جھکے سر پہ ہاتھ رکھا اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ ابھی انھیں بہت سے کام نپٹانے تھے۔
“دیکھا ذہرہ۔۔۔اللہ نے ہمارے تاریک راستے کیسے روشن کر دیئے ہیں۔”
وہ شہادت کی انگلی اوپر اٹھاتے ہوئے بولے۔ لہجے میں خوشی اور آنکھوں میں آنسو لئے وہ انھیں دیکھ رہے تھے۔
“بےشک۔۔۔وہ بڑا مسبب الاسباب ہے۔”
ذہرہ بی بی کی آنکھیں بھی پانیوں سے بھر گئیں تھیں۔۔۔______________________________________
سنو۔۔!!
مجھے وہ خواب مت دینا
حقیقت جس کی وحشت ہو
مجھے وہ درد مت دینا
کہ جس میں بس اذیت ہو
مجھے وہ نام مت دینا
جسے لینا قیامت ہو
مجھے وہ نیند مت دینا
جسے اڑنے کی عادت ہو
میرے بارے میں جب سوچو
توجہ خاص رکھنا تم
مجھے تم سے محبت ہے
بس اسکا پاس رکھنا تم۔۔۔۔!!
اسے اندازہ نہیں کہ زندگی دراب خان کی سنگت میں اتنی حسین ہو جائے گی۔ دراب خان اسکا بےحد خیال رکھتے تھے۔ یہ چھوٹا سا گھر ان کی جنت تھا جو انھیں اپنی جان سے زیادہ تھی۔ وہ سارا دن اسے سجاتی سنوارتی۔ دراب خان کو ایک بہت اچھی جگہ جاب بھی مل گئی تھی۔ حالانکہ میر سربلند خان نے انھیں یہ جاب کرنے سے روکا تھا وہ چاہتے تھے کہ وہ گاوں آ کر اپنی زمینیں سنبھالے مگر وہ ابھی کچھ وقت اور شہر میں رہنا چاہتے تھے کیونکہ خزیمن ابھی واپس جانا نہیں چاہتی تھی۔
دونوں اپنی زندگی میں مگن تھے۔ وہ بہت خوش تھی اور واپس گاوں جانا نہیں چاہتی تھی۔ بابا سے بھی بات ہوئی تھی اسکی تو انھوں نے اسے بتایا تھا کہ گاوں میں سب ٹھیک ہے لیکن وہ چاہتے تھے کہ خزیمن اور دراب خان ابھی گاوں نہ آئیں کیونکہ یہ خاموشی ان کے دل میں کئی طرح کے وسوسے اور ڈر ڈال رہی تھی۔ سب کچھ اسطرح آرام ہو جانا ان کے لئے پریشانی کا باعث تھا۔ سب بڑھ کر حیرانی کی بات یہ تھی کہ جو لوگ اس شادی کے سراسر خلاف تھے ایک دم سے راضی کیسے ہو گئے ہیں۔ دراب خان تو بڑے بھائی کی محبت اور توجہ پا کر بہت خوش تھے۔ لیکن نور خان کو اس خون کی خوشبو میں فرق لگ رہا تھا جو سگے رشتوں سے آتی ہے۔ اس لئے بیٹی کو ایک نظر دیکھ لینے کی خواہش دل میں دبائے بیٹھے تھے۔ ان کی باتوں سے اس کے دل میں بھی ڈر بیٹھ گیا تھا۔ اس لئے دراب کے کہیں بار کہنے کے باوجود وہ گاوں جانے کے لئے خود کو تیار نہ کر سکی۔ دراب نے اسے بتایا تھا کہ خان لالا بہت بار گاوں آنے کا کہہ چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی حویلی میں ان کے ساتھ رہیں۔ میر دراب خان کی بھابی ایک بار بچوں کے ساتھ ان سے ملنے آ چکی تھی۔ ان سے مل کر تو وہ بہت خوش ہوئی تھی مگر اپنی چھٹی حس کا کیا کرتی جو اسے بار بار خبردار کر رہی تھی اور کسی انہونی کا احساس دلا رہی تھی۔
لیکن دراب خان کی بےپناہ چاہت اسے خوشیوں کی دستک پہ متوجہ کرتی۔ محبت ان کے بیچ پنپ کر تناور درخت بن چکی تھی اور اب وہ اس تناور درخت پہ کھلنے والے پھول کا انتظار کر رہے تھے جسکی کونپل پھوٹ چکی تھی۔
آج بھی وہ حسب معمول دراب خان کے آفس جانے کے بعد اپنے کاموں میں مشغول تھی کہ دروازے پہ ہونے والی دستک نے اسے متوجہ کیا۔ اس وقت کوئی نہیں آتا تھا اور دراب خان بھی شام تک آیا کرتے تھے۔ اس نے چکن کو اسی طرح باسکٹ میں رہنے دیا اور ہاتھ دھو کر بیرونی دروازے کی طرف بڑھی۔
“آپ۔۔۔۔۔”
میر سربلند خان کو اپنے دو باڈی گارڈز کے ساتھ کھڑے دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔
“ہاں بھئی میں۔۔۔کیا میں نہیں آ سکتا تھا یہاں۔”
انھوں نے اپنی چندی چندی آنکھیں خزیمن پہ گاڑتے ہوئے کہا۔
“کیوں نہیں خان لالا۔۔۔آپ کا اپنا گھر ہے۔ آئیے اندر آئیے۔”
وہ انھیں لئے ڈرائنگ روم میں آئی۔ انھوں نے اپنے دونوں باڈی گارڈز کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور خود اس کی تقلید میں اندر داخل ہوئے۔ وہ اردگرد طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے صوفے پہ براجمان ہوئے۔
“آپ کیا لیں گے چائے یا ٹھنڈا؟؟”
خزیمن نے دوپٹے کو سر پہ جماتے ہوئے پوچھا۔
“دراب نہیں ہے گھر پہ کیا؟؟”
“نہیں وہ آفس گئے ہیں۔” وہ نظریں نیچے کیے بولی۔
“آفس۔۔۔اسے کیا ضرورت ہے معمولی نوکریوں کی۔ اسے سمجھاو کہ آ کر اپنی زمینیں سنبھالے۔ میں نے تو کتنی بار کہا ہے مگر ضدی ہے وہی کرتا ہے جو جی میں آتا ہے۔تمھاری وجہ سے وہ یہاں اتنے سے گھر میں رہ رہا ہے اور لوگوں کی چاکریاں کر رہا ہے ۔ اسے سمجھاو کہ گاوں آئے۔ وہاں آ کر رہے ہمارے ساتھ۔۔یہ بھی کوئی جگہ ہے رہنے کی۔”
انھوں نے نخوت سے کہا۔
“جی۔۔۔آپ کے لئے کچھ لاوں؟” اس نے ہچکچاتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
“ہاں۔۔۔۔ایک گلاس پانی لے آو۔”
وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے بولے تھے۔ وہ کچن سے پانی لے آئی۔ پانی پیتے ہوئے ان کی نظر اس کی بے ڈول سراپے پہ پڑی تو ان کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ انھوں نے گلاس ٹیبل پہ رکھا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ایک مصیبت سے جان چھوٹی نہیں یہ دوسری بھی میرے سر پہ لا رہے ہیں۔”
منہ ہی منہ بدبداتے ہوئے وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ ان کی پیشانی کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔
“آپ رکیں نا۔۔۔دراب آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہونگے۔”
وہ انھیں جاتے دیکھ ان کے پیچھے آئی تھی۔
“نہیں۔۔۔چلتا ہوں اور دراب سے کہنا کہ کبھی گاوں آ کر ہمیں بھی خوش کر جائے۔”
وہ بنا مڑے باہر نکل گئے۔ جبکہ وہ ان کی بات پہ غور کرتی کچن میں آ گئی۔ ابھی کھانا بھی بنانا تھا اس لئے وہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔۔۔____________________________
زمان خان نے جلدی جلدی تمام انتظامات کیے اور گلزم خان کے ذریعے رحم دین کو جواب بھجوایا کہ وہ مسکاء اور ذہرہ بی بی کو لے کر ان کی طرف آئے۔ نکاح کی رسم وہیں ان کے گھر میں ہوگی اور مسکاء کا سامان بھی ساتھ لائیں تاکہ وہ اور میر فورا یہاں سے نکل سکیں۔
رات کے دس بجے کے بعد رحم دین خاموشی سے ذہرہ بی بی اور مسکاء کو لئے زمان خان کے گھر آیا۔ زمان خان باہر صحن میں کھڑے انہی کا انتظار کر رہے تھے جب وہ وہاں پہنچے۔
ماہ گل جو حویلی کی پرانی ملازمہ تھیں اور ذہرہ بی بی مسکاء کو دوسرے کمرے میں لے گئیں۔ جبکہ رحم دین زمان خان کے ساتھ دوسرے کمرے میں آ گئے جہاں میر ، مولوی صاحب، گلزم خان اور گاوں کے ایک دو بزرگ اور بھی موجود تھے۔ رحم دین نے اپنی تسلی کے لئے میر سے خود پوچھا کہ کیا وہ اس نکاح کے لئے تیار ہے۔ اس کے ہاں کرنے پر انھوں نے اسے گلے سے لگایا۔ اس کے چہرے کی خاموشی انھیں شک میں ڈال رہی تھی۔ انھوں نے زمان خان کے سامنے اپنا خدشہ ظاہر کیا مگر انھوں نے حقیقت ان پہ واضح کی کہ وہ میر کو سب بتا چکے ہیں۔
وہ بالکل خاموش تھا۔ نگاہیں ایک ہی نقطے پہ مرکوز تھیں۔
“میر بیٹا یہاں دستخط کر دو۔”
مولوی صاحب کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں لائی۔ اس نے زمان خان کی طرف دیکھا۔ انھوں نے سر ہلایا۔ اس نے مولوی صاحب کے ہاتھ سے قلم لیا۔
“یہاں۔۔۔” مولوی صاحب نے انگلی رکھ اسے بتایا۔ اس نے دستخط کر دئیے۔
مسکاء کو ذہرہ بی بی اور ماہ گل نے نکاح کی مناسبت سے تیار کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب زمان خان اور رحم دین کے ساتھ کمرے میں آئے۔ مسکاء کے اعجاب و قبول کے بعد مسکاء نے نکاح نامے پہ دستخط کر دئیے۔
انھوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور باہر نکل گئے۔ ذہرہ بی بی نے اسے سینے سے لگایا تو وہ ان کے سینے سے لگی رو دی۔۔ماہ گل نے دونوں ماں بیٹی کو الگ کیا۔
“بیٹا۔۔۔مت رو۔۔اللہ تم دونوں کو خوش رکھے اور زمانے کے سرد و گرم سے بچائے۔”
انھوں نے اسکا ماتھا چوم کر اسے دعا دی۔ کچھ دیر بعد رحم دین اور زمان خان اسے لینے آئے۔
رحم دین نے اپنی متاع حیات کو سمیٹ لیا۔ ذہرہ بی بی کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ زمان خان نے مسکاء کو الگ کیا۔
“بس بس میری بیٹی کو اور مت رلاو۔”
انھوں نے مسکاء کے آنسو پونچھتے ہوئے اسے گلے لگایا۔ ان کے انداز پہ ماہ گل سمیت سبھی مسکرا دئیے۔ وہ سب اسے لئے باہر تک آئے تھے۔ کمرے سے نکلنے سے پہلے اسکا دوپٹہ ماتھے تک لے آئیں تھیں۔
میر۔۔گلزم خان کے ساتھ باہر ہی کھڑا تھا۔
“میر۔۔۔۔میں نے اپنی بیٹی تمھارے حوالے کی۔ تم اسکا خیال رکھنا اور اپنا بھی۔ تم دونوں کے ساتھ ہماری سانسیں بندھی ہیں۔”
رحم دین میر کے قریب آئے۔
“چاچا۔۔۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا اور آپ مسکاء کی فکر مت کیجئے وہ اب سیف ہے۔”
اس نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ایک نظر مسکاء پہ ڈالی۔ جو سرخ اور کالے رنگ کے لباس میں ملبوس تھی۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ نہیں پایا تھا۔
“چلو بیٹا۔۔دیر ہو رہی ہے۔”
گلزم خان نے اسے متوجہ کیا تو رحم دین مسکاء کو لئے بیرونی دروازے سے باہر نکل گئے۔ وہ سر ہلا کر باری باری سب سے ملا جب ذہرہ بی بی کے پاس آیا تو انھوں نے بہت پیار سے اسکا چہرہ تھام کر اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔
“ذہرہ خالہ۔۔آپ پریشان نہ ہوں میں بہت جلد واپس آوں گا۔”
وہ اس کے کشادہ سینے سے لگی پھپک پھپک کر رو دیں۔ اس نے انھیں بازوں کے حصار میں لے لیا۔ پھر انھیں خود سے الگ کر کہ ان کے آنسو پونچھے اور انھیں تسلی دے کر باہر نکل آیا۔ مسکاء گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔۔
“بابا۔۔”
آخر میں وہ زمان خان کے پاس آیا تو انھوں نے اسے سینے سے لگایا۔
“خیال رکھنا اپنا۔۔۔اور مسکاء بہت اچھی لڑکی۔ مجھے یقین ہے تم اسکے ساتھ بہت خوش رہو گے۔ یہ تمھاری امانت ہے۔آج تم اسے سنبھالنے کے قابل ہو گئے ہو۔۔اس لئے تمھارے حوالے کر رہا ہوں۔”
انھوں نے ایک کالے رنگ کی فائل اسکے حوالے کی۔ وہ اسکی حیرانی سمجھ رہے تھے۔
“بابا۔۔۔۔وہ ماں کی کوئی تصویر۔۔۔”
وہ ان سے فائل لیتے ہوئے بولا۔
“اس فائل میں ہے۔۔۔ اور ایک جیتی جاگتی خزیمن تمھارے ساتھ بھیج تو رہا ہوں۔”
ان کی بات پہ وہ حیران ہوا۔
“مسکاء تمھاری خالہ کی بیٹی ہے۔ ذہرہ بھابی تمھاری خالہ ہیں۔ خزیمن بھابی کی چھوٹی بہن۔۔اور مسکاء بالکل اپنی خالہ کی طرح ہے۔۔تمھاری ماں کی طرح۔۔”
ان کی بات پہ وہ فورا گھر کے اندر آیا۔ ماہ گل اور ذہرہ بی بی صحن میں رکھی چارپائی پہ بیٹھی تھیں۔
“خالہ۔۔۔۔” اس نے انھیں پکارا۔ ذہرہ بی بی نے دیکھا تو ان کا دل دھڑک اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں محبت و عقیدت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔ وہ تیز قدموں سے ان کی طرف آیا تھا۔
وہ اسکا ماتھا چوم رہی تھیں۔
انھوں نے اس کی آنکھوں کا راز پا لیا تھا۔۔_____________________________ جاری ہے۔۔۔
