Ghag By Mahwish Urooj NovelR50731 Ghag By Mahwish Urooj Episode07
Rate this Novel
Ghag By Mahwish Urooj Episode01 Ghag By Mahwish Urooj Episode02 Ghag By Mahwish Urooj Episode03 Ghag By Mahwish Urooj Episode04 Ghag By Mahwish Urooj Episode05 Ghag By Mahwish Urooj Episode06 Ghag By Mahwish Urooj Episode07 (Watching)Ghag By Mahwish Urooj Episode08 Ghag By Mahwish Urooj Episode09 Ghag By Mahwish Urooj Episode10 Ghag By Mahwish Urooj Episode11 Ghag By Mahwish Urooj Episode12 Ghag By Mahwish Urooj Episode13 Ghag By Mahwish Urooj Episode14 Ghag By Mahwish Urooj Episode15 Ghag By Mahwish Urooj Episode16 Ghag By Mahwish Urooj Episode17 Ghag By Mahwish Urooj Episode18 Ghag By Mahwish Urooj Episode19 Ghag By Mahwish Urooj Episode20 Ghag By Mahwish Urooj Episode21 Ghag By Mahwish Urooj Last Episode
Ghag By Mahwish Urooj Episode07
Ghag By Mahwish Urooj Episode07
ی خاموشی میں گاڑی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ لوگ شہر کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔ خاموشی اس قدر گہری تھی کہ اسے وحشت ہونے لگی تھی۔ گلزم خان گاڑی چلاتے ہوئے وقفے وقفے سے اباسیاں بھی لے رہے تھے۔ مسکاء بھی اس خاموشی سے تھک کر سو چکی تھی۔ حالانکہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے خود سے نا سونے کا عہد کیا تھا کیونکہ پچھلی بار کی باتیں ابھی تک اس کے ذہہن سے محو نہیں ہوئی تھیں مگر ایک تو ذہنی تھکاوٹ اور اوپر سے رات کی خاموشی۔۔وہ زیادہ دیر نیند سے آنکھیں نہیں چرا سکی تھی۔
میر گود میں فائل دھرے بیٹھا تھا آنکھیں ایک ہی نقطے پہ مرکوز تھیں۔ بہت خواہش ہونے کے باوجود وہ فائل کھول کر نہ دیکھ سکا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس فائل میں کیا ہے۔ آتے وقت وہ ان سے پوچھ بھی نہیں پایا تھا۔
ذہہن و دل تو وہیں حجرے کی پچھلی طرف ہی چھوڑ آیا تھا۔ آنکھوں کے آگے کتبوں پہ لکھے نام گھوم رہے تھے۔ وہاں سے واپس آتے ہوئے اس نے دل میں کئی بار خود سے عہد کیا تھا کہ اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گا۔ دنیا کے سامنے میرسربلند خان کا مکروہ چہرہ لائے گا۔
“خاموش کیوں ہو میر؟”
ان کے پوچھنے وہ خیالات کی دنیا سے باہر آیا۔ تھوڑی دیر کے لئے تو وہ بھول ہی گیا تھا کہ وہ کہاں ہے۔
“کچھ نہیں چاچا۔۔۔میں نے کیا سوچنا ہے۔” اس نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے ان کی طرف رخ کیا۔
“چاچا۔۔۔کیا آپ نے میرے بابا کو دیکھا تھا؟”
اس کے سوال پہ وہ چونک گئے۔
“کیا زمان خان تمھیں سب بتا چکا ہے؟” انھوں نے اپنی تسلی کے لئے پوچھا۔
“جی۔۔۔”
مختصر جواب دے کر وہ پھر سے سیدھا ہو بیٹھا۔ روشنیوں سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ شہر کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔
“دیکھا ہی نہیں ملا بھی ہوں۔ تمھاری اٹھان بالکل اپنے باپ جیسی ہے۔ ہم میں سے کوئی اس بات سے واقف نہیں تھا کہ تم میر دراب خان کے بیٹے ہو۔ ہم تو تمھارے بچپن سے اب تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ تم زمان خان کے لے پالک بیٹے ہو۔ یہ تو آج تمھارے نکاح سے پہلے اس نے ہم پہ یہ راز کھولا اور یہ جان کر ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ تم اس گاوں کے محسن کے بیٹے ہو۔ تمھارے بابا اور دادا بہت عظیم لوگ تھے۔ دوسروں کی چھوٹی سی چھوٹی تکلیف پہ پہاڑ کی طرح کھڑے ہو جانے والے۔۔دوسروں کے لئے اپنی جان تک کی پرواہ نہ کرنے والے۔ تمھارے بابا تو ہر مشکل کے آگے تن کر کھڑے ہو جانے والوں میں سے تھے۔”
وہ میر دراب خان کو یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے تھے۔
“تو پھر اتنے اچھے شخص کے ساتھ اتنا برا کیسے ہونے دیا آپ لوگوں نے؟”
اس نے تاحد نظر پھیلے ہوئے سیاہ چمکتے ستاروں کو دیکھا۔ اس کی بات پہ انھوں نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔ خاموشی ایک بار پھر ان کے اطراف گھومنے لگی تھی۔ وہ منتظر نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا۔ اس خاموشی میں مسکاء کی سانس کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی تھی۔ اس کا جی چاہا کہ ایک پل کو پیچھے مڑ کر دیکھے مگر دل پہ جبر کرنا آج ہی تو اس نے سیکھا تھا۔۔۔
“چاچا؟؟؟”
اس نے انھیں متوجہ کیا۔
“ہمیں تو اندازہ نہیں تھا کہ قادر خان اسطرح ان سے بدلہ لے گا۔ ہمیں تو لگا تھا کہ سب ٹھیک ہو گیا ہے۔ لیکن اگلی صبح ہمیں ان کے قتل کی خبر ملی۔ سارا گاوں اس واقعے پر آبدیدہ تھا۔ اس پہ ظلم یہ کہ کسی کو ان کا آخری دیدار بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انھیں کہاں دفن کیا گیا۔ ہمیں صرف یہ پتہ تھا کہ میرسربلند خان انھیں شہر لے گئے تھے۔”
“اور قادر خان۔۔۔۔؟؟”
میر نے ان سے پوچھا۔
“قادر خان کو تو اس واقعے کے بعد سے کسی نے دیکھا ہی نہیں۔”
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔ اس نے دھیان دیا تو وہ لوگ ہاسٹل کے گیٹ کے پاس تھے۔
“ابھی تو مجھے مسکاء کو یہاں چھوڑنے کا کہا ہے لیکن تم جلد ہی کوئی انتظام کر لو پھر مسکاء کو یہاں سے آ کر لے جانا۔ اس کا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں۔۔۔۔مسکاء بیٹا۔۔۔اٹھ جاو۔”
انھوں نے مسکاء کو پکارا۔ وہ کسمسا کر اٹھ بیٹھی۔ مندی مندی آنکھوں سے اس نے اپنے اطراف دیکھا۔ گلزم چاچا دوسری طرف کا دروازہ کھولے اسکا سامان اتار رہے تھے۔ اسے جاگتے دیکھ کر انھوں نے شفقت بھری مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔ میر کو آگے بیٹھے دیکھ کر وہ فورا گاڑی سے اتری۔
“کافی رات ہو گئی ہے۔ میں مسکاء بیٹی کو اندر چھوڑ کر آتا ہوں اور وارڈن سے بات بھی کر لوں گا۔”
وہ گاڑی میں بیٹھے میر سے بولے۔ اس کے سر ہلانے پہ وہ مسکاء کو لے کر آگے بڑھے۔ وہ خاموشی سے ان کو جاتے دیکھتا رہا۔
تھوڑی دیر بعد گلزم چاچا واپس آتے دکھائی دئیے۔
“میں نے ان کو کہہ دیا ہے کہ مسکاء سے کوئی بھی ملنے آئے تو نہ ملنے دیا جائے اور نا ہی کسی کو بتایا جائے کہ وہ یہاں ہے۔”
انھوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اسے دیکھا تھا اور پھر گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ کچھ دیر بعد وہ اسے بھی ہاسٹل چھوڑ گئے اور ایک ذہہنی تھکاوٹ بھرے دن کا اختتام ہوا۔
روم میں آ کر اس نے اپنا سفری بیگ وہیں دروازے کے قریب پھینک دیا۔ روم خالی تھا۔ ہاتھ میں پکڑی فائل اس نے اسٹڈی ٹیبل پہ رکھ دی اور خود واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔____________________________________________
“آج خان لالا آئے تھے۔”
دراب خان کا پانی کے جگ کی طرف بڑھتا ہاتھ وہیں رک گیا۔ انھوں نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ جو اب ان کے لیے گلاس میں پانی انڈیل رہی تھی۔
“اتنے حیران کیوں ہو رہے ہیں آپ۔۔کیا وہ یہاں نہیں آ سکتے۔”
وہ گلاس انھیں پکڑاتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔ پیاس کا احساس ہوا تو انھوں نے گلاس منہ سے لگایا۔
“کس وقت۔۔۔اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں۔ ایک فون کر دیتی میں فورا آ جاتا یا میرے آنے تک ہی روک لیتی۔”
وہ پانی کا گلاس ٹیبل پہ رکھتے ہوئے بولے۔
“میں نے بہت کہا کہ آپ کے آنے تک رک جائیں مگر شاید انھیں کوئی کام تھا اس لئے چلے گئے۔ وہ آپکی جاب کو لے کر خفا ہیں کیا؟”
اس نے ان کی پلیٹ میں چاول ڈالتے ہوئے پوچھا۔ کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو ان کے نتھنوں سے ٹکرائی تو وہ اپنی پلیٹ کی جانب متوجہ ہوئے۔
“ہاں ناراض ہیں تھوڑے سے لیکن تم فکر مت کرو۔ وہ میرے بڑے بھائی ہیں کب تک ناراض رہ سکتے ہیں مجھ سے۔۔ ویسے کھانا تو لاجواب بنا ہے۔ آج کوئی اسپیشل ڈے ہے جو اتنی اچھی خوشبو آ رہی ہے۔ روز تو اتنی اچھی خوشبو نہیں آتی۔۔لگتا ہے کہیں باہر سے منگوایا ہے۔”
انھوں نے اس کے پریشان چہرے کو دیکھ کر کہا اور حسب معمول اس نے نتھنے پھلا کر ان کی طرف دیکھا۔ اسکا یہ بچوں جیسا انداز انھیں بہت بھاتا تھا۔ جان بوجھ کر کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے جس سے اسکے چہرے کے امپریشنز چینج ہو جاتے۔
ان کے چہرے کی مسکراہٹ اس کے دل میں گدگدی کرنے لگی مگر پھر بھی اس نے اپنی تیکھی سی ناک پھلا کر ان کے آگے سے پلیٹ اٹھا لی۔
“ارے ارے۔۔۔۔۔یہ کیوں؟”
انھوں نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے پلیٹ کو دوسری جانب سے پکڑا۔
“خودی پکائیں اور خودی کھائیں۔”
خزیمن نے پلیٹ کو اپنی جانب کھینچا۔ دراب خان ہنس دئیے۔ انھوں نے پلیٹ اس کے ہاتھ سے لے کر اپنے سامنے رکھی اور اسے کھینچ کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔
“اب کہیں۔۔۔۔کیا کہہ رہی تھیں آپ؟”
انھوں نے اسکے گرد اپنے بازوں کا گھیراو تنگ کر کے اس کے اٹھنے کی ساری راہیں مسدود کر دیں۔
“دراب ۔۔۔۔کیا کر رہے ہیں۔ چھوڑیں مجھے۔” شرم سے اس کے چہرے پہ گلال بکھر گیا۔ وہ اس کے چہرے پہ بکھرتے رنگوں کو دلچسپی سے دیکھ رہے تھے جبکہ وہ لجا کر ان سے چہرہ چھپا رہی تھی۔
“میں آپ سے کیا کہہ رہی ہوں اور آپ کیا کر رہے ہیں۔” وہ ان کے بازوں کا حصار توڑنے کو کوشش کرتے ہوئے بولی۔
“کیا کر رہا ہوں؟”
انھوں نے اسکی کمر پہ اپنی پیشانی ٹکاتے ہوئے پوچھا۔
“چھوڑیں نا دراب پلیز۔۔۔”
وہ ان کی طرف رخ موڑ کر بولی۔
“ایک شرط پہ کہ آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کھانا کھلائیں گی۔”
انھوں نے اس کی ہاتھ کی پشت پہ اپنے ہونٹ رکھے۔
“اور اگر نہ کھلاوں تو۔۔۔۔؟؟” وہ شرارتی ہوئی۔
“تو بیٹھی رہیے یونہی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔” خزیمن نے چمچ والا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا جس پہ وہ مسکرا دئیے۔ وہ ان کی گود سے اٹھی اور کرسی ان کی کرسی کے قریب گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
“وہ کہہ کر گئے ہیں کہ گاوں آ کر ہمیں بھی آ کر خوش کر جاو۔”
خزیمن نے محبت سے ان کے کان کھینچے۔
“ہاں جائیں گے۔۔لیکن فلحال تمھارے لئے سفر مناسب نہیں۔ ہم خیر سے تین ہو جائیں تب جائیں گے۔”
انھوں نے اسے آنکھ ماری۔ جس پہ خزیمن نتھنے پھلا کر اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔۔”دراب خان کے قہقہے بلند ہونے لگے۔ وہ اٹھ کر اسکے پیچھے گئے تھے۔
“ہم نہ ہوں گے تو بھلا کون منائے گا تمھیں
یہ بری بات ہے ہر بات پہ روٹھا نہ کرو”
دراب خان نے اسکی گردن کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے کہا جبکہ وہ رخ موڑے یونہی نروٹھے انداز میں برتن الٹ پلٹ کرتی رہی۔ انھوں نے اس کا رخ اپنی طرف موڑ کر اسکی پیشانی چومی۔
“جائیے میں نہیں بولتی آپ سے۔”
وہ نروٹھے لہجے میں بول کر ان سے رخ موڑنے لگی لیکن انھوں نے اسے رخ موڑنے نہیں دیا اور اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے انھوں نے اسے خود سے قریب کیا۔ وہ اسکے چہرے پہ جھکے تھے۔
خزیمن کے چہرے پہ گلال بکھرا اور یہ گلال ان کی پیش قدمیوں کو بڑھا رہا تھا۔_________________________________
مسکاء کو رخصت کر کے وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے۔ اب انھیں کسی بھی پرواہ نہیں تھی۔ ذہرہ بی بی بھی بہت خوش تھیں۔ سب سے بڑھ کر خوشی انھیں اس بات کی تھی کہ میر ان کا بھانجا تھا۔ جب زمان خان نے اس بارے میں انھیں بتایا تھا تو انھیں یقین ہی نہیں آیا تھا۔
وہ ابھی دوپہر کا کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ دروازے پہ ہونے والی دستک نے انھیں متوجہ کیا۔ ذہرہ بی بی اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھنے لگیں تو انھوں نے روک دیا اور خود نل سے ہاتھ دھو کر دروازے کی طرف بڑھ گئے۔
“کون ہے؟؟”
چٹخنی اتارنے سے پہلے انھوں نے پوچھا۔
“میں ہوں چاچا رحم دین۔۔ رشید۔”
رشید کی آواز پہ ان کا دل دھڑکا تھا۔
“کیوں رشید۔۔۔خیر ہے؟”
انھوں نے خود کو تسلی دیتے ہوئے اس سے پوچھا۔ دروازہ انھوں نے بند ہی رہنے دیا تھا۔
“ہاں چاچا۔۔۔۔خان جی نے جرگے میں بلایا ہے۔ سبھی موجود ہیں۔ تمھارا انتظار ہو رہا ہے۔ تم جلدی آو۔۔میں جا رہا ہوں۔”
انھوں نے بنا کوئی جواب دئیے دروازہ کھول کر دیکھا۔ آس پاس کوئی نہیں تھا صرف رشید انھیں جاتا دکھائی دیا۔ دروازہ بند کر کے وہ واپس جھکے کندھوں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔ ذہرہ بی بی نے ان کے چہرے پہ پریشانی دیکھی تو وہ سیدھی ان کے پیچھے کمرے میں آئی تھیں۔
“کیا ہوا مسکاء کے بابا۔۔کہاں جا رہے ہیں؟”
انھوں نے پوچھا۔
“جرگے سے پیغام آیا ہے۔ وہیں جا رہا ہوں۔ بڑے خان جی نے بلایا ہے۔”
ذہرہ بی بی دل تھام کے رہ گئیں۔
“اب کیا ہوگا۔۔جرگے میں نکاح کا مت بتائیے گا۔” وہ انھیں جاتے دیکھ کر بولیں۔
“نکاح کا بتانا ضروری ہے اگر نہیں بتایا تو مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ ویسے بھی ہم پہلے کون سے سکھی ہیں۔”
وہ رومال کندھے پہ رکھتے ہوئے بولے۔
“لیکن بتا دیا تو وہ انھیں نہیں چھوڑیں گے۔ باتور خان کا پتہ ہے نا آپ کو۔۔۔اوپر سے بڑے خان بھی اسی کا ساتھ دیں گے۔ نکاح کا بتا دیا تو میرے بچوں کی جان خطرے میں پڑ جائے گی۔”
وہ پریشان چہرہ لئے ان کے سامنے کھڑی تھیں۔
“کچھ نہیں ہوتا۔ میں صرف یہ بتاوں گا کہ میں نے اسکی شادی شہر میں کر دی ہے۔ میر کا نام ہم نہیں لیں گے۔تم پریشان مت ہو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا اور مسکاء تک پہنچنا اتنا آسان نہیں۔ بس تم دعا کرو کہ اللہ سب بہتر کرے۔”
وہ انھیں تسلی دے کے آگے بڑھ گئے۔
“آمین۔۔!”
وہ ان کے پیچھے دروازہ بند کرنے آئیں تھیں۔ ان کے جانے کے بعد اللہ کے حضور خشوع و خضوع سے دعا کرنے لگیں۔ انھوں نے اپنے بچوں اللہ کی امان میں دیا تھا۔ اب وہی ان کا حامی و ناصر تھا۔ انھیں امید تھی کہ اللہ سب بہتر کرے گا۔______________________________________________
مسکاء کو رخصت کر کے وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے۔ اب انھیں کسی بھی پرواہ نہیں تھی۔ ذہرہ بی بی بھی بہت خوش تھیں۔ سب سے بڑھ کر خوشی انھیں اس بات کی تھی کہ میر ان کا بھانجا تھا۔ جب زمان خان نے اس بارے میں انھیں بتایا تھا تو انھیں یقین ہی نہیں آیا تھا۔
وہ ابھی دوپہر کا کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ دروازے پہ ہونے والی دستک نے انھیں متوجہ کیا۔ ذہرہ بی بی اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھنے لگیں تو انھوں نے روک دیا اور خود نل سے ہاتھ دھو کر دروازے کی طرف بڑھ گئے۔
“کون ہے؟؟”
چٹخنی اتارنے سے پہلے انھوں نے پوچھا۔
“میں ہوں چاچا رحم دین۔۔ رشید۔”
رشید کی آواز پہ ان کا دل دھڑکا تھا۔
“کیوں رشید۔۔۔خیر ہے؟”
انھوں نے خود کو تسلی دیتے ہوئے اس سے پوچھا۔ دروازہ انھوں نے بند ہی رہنے دیا تھا۔
“ہاں چاچا۔۔۔۔خان جی نے جرگے میں بلایا ہے۔ سبھی موجود ہیں۔ تمھارا انتظار ہو رہا ہے۔ تم جلدی آو۔۔میں جا رہا ہوں۔”
انھوں نے بنا کوئی جواب دئیے دروازہ کھول کر دیکھا۔ آس پاس کوئی نہیں تھا صرف رشید انھیں جاتا دکھائی دیا۔ دروازہ بند کر کے وہ واپس جھکے کندھوں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔ ذہرہ بی بی نے ان کے چہرے پہ پریشانی دیکھی تو وہ سیدھی ان کے پیچھے کمرے میں آئی تھیں۔
“کیا ہوا مسکاء کے بابا۔۔کہاں جا رہے ہیں؟”
انھوں نے پوچھا۔
“جرگے سے پیغام آیا ہے۔ وہیں جا رہا ہوں۔ بڑے خان جی نے بلایا ہے۔”
ذہرہ بی بی دل تھام کے رہ گئیں۔
“اب کیا ہوگا۔۔جرگے میں نکاح کا مت بتائیے گا۔” وہ انھیں جاتے دیکھ کر بولیں۔
“نکاح کا بتانا ضروری ہے اگر نہیں بتایا تو مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ ویسے بھی ہم پہلے کون سے سکھی ہیں۔”
وہ رومال کندھے پہ رکھتے ہوئے بولے۔
“لیکن بتا دیا تو وہ انھیں نہیں چھوڑیں گے۔ باتور خان کا پتہ ہے نا آپ کو۔۔۔اوپر سے بڑے خان بھی اسی کا ساتھ دیں گے۔ نکاح کا بتا دیا تو میرے بچوں کی جان خطرے میں پڑ جائے گی۔”
وہ پریشان چہرہ لئے ان کے سامنے کھڑی تھیں۔
“کچھ نہیں ہوتا۔ میں صرف یہ بتاوں گا کہ میں نے اسکی شادی شہر میں کر دی ہے۔ میر کا نام ہم نہیں لیں گے۔تم پریشان مت ہو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا اور مسکاء تک پہنچنا اتنا آسان نہیں۔ بس تم دعا کرو کہ اللہ سب بہتر کرے۔”
وہ انھیں تسلی دے کے آگے بڑھ گئے۔
“آمین۔۔!”
وہ ان کے پیچھے دروازہ بند کرنے آئیں تھیں۔ ان کے جانے کے بعد اللہ کے حضور خشوع و خضوع سے دعا کرنے لگیں۔ انھوں نے اپنے بچوں اللہ کی امان میں دیا تھا۔ اب وہی ان کا حامی و ناصر تھا۔ انھیں امید تھی کہ اللہ سب بہتر کرے گا۔______________________________________________
وہ اس چھ منزلہ عمارت کے سامنے کھڑا تھا۔ یہاں تک تو آ گیا تھا مگر آگے جانے ہمت نہیں تھی اس میں۔۔مگر اسے ماضی کے ساتھ نہیں رہنا تھا بلکہ آگے بڑھنا تھا۔ ایک گہری سانس خارج کرتا وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ دوسری منزل پہ پہنچ کر اس نے آمنے سامنے بنے دونوں فلیٹس کے دروازوں پہ نظر ڈالی۔ نمبر چیک کر کے وہ آگے بڑھا۔ چابیوں کا گچھا اس کے دائیں ہاتھ میں تھا جس پہ اسکی گرفت بڑھتی جا رہی تھی۔ تیسری منزل پہ اسے اسکا مطلوبہ حدف مل گیا۔ فلیٹ پہ چسپاں نمبر اس نے زیر لب دہرایا۔ یہ نمبر اسے اچھی طرح ازبر ہو گیا تھا۔دروازے کا کی ہول زنگ آلود ہو چکا تھا۔ اس نے کی رنگ میں موجود چار چابیوں میں سے ایک کو کی ہول میں ڈال کر گھمایا۔۔کی ہول زنگ آلود ہونے کی وجہ سے جام ہو گیا تھا۔ اس نے ایک بار پھر چابی کو بھرپور زور دے کر لاک کھولنے کی کوشش کی۔ اس بار لاک کھل گیا۔ دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔ یہ دو کمروں اور لاؤنج پر مشتمل ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ ہر چیز گرد سے اٹی ہوئی تھی۔ لاؤنج میں ایک ٹرپل سیٹر صوفہ رکھا تھا اور صوفے کے سامنے ٹیبل رکھی ہوئی تھی۔ دونوں چیزیں گرد سے اٹی ہوئیں تھیں۔ اس کے دل کی حالت عجیب سی ہونے لگی۔ وہ ایک چابی سلیکٹ کرتا ایک دروازے کی طرف بڑھا۔ تھوڑا سا زور لگانے پر لاک کھل گیا۔ اس نے دروازے کی ناب کھول کر اندر جھانکا۔۔یہ ایک چھوٹا سا کچن تھا۔ وہ اندر آ گیا۔ برنر کے پیچھے ایک کھڑکی تھی جو کھلی ہوئی تھی۔ اس نے کھڑکی سے جھانکا تو روشن دن آنکھوں میں چبھنے لگا۔ وہ پلٹا۔۔ کچن میں ایک چھوٹی گول ٹیبل بھی رکھی تھی جس کے گرد چار کرسیاں سجی تھیں۔ کچن میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ وہ باہر آ گیا۔ اب اس کے قدم باقی دو کمروں کی جانب بڑھے۔ اس نے باری باری دونوں دروازوں کو کھولا۔
دونوں بیڈ رومز تھے۔ ایک میں کنگ سائز بیڈ تھا۔۔بیڈ کے دونوں اطراف سائیڈ ٹیبلز تھیں۔ بیڈ کی ایک جانب ٹرپل سیٹر صوفہ رکھا تھا۔ کھڑکیوں پہ موجود دبیز پردوں نے کمرے میں ہلکی سی تاریکی پھیلا رکھی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی تو ہر چیز واضح دکھنے لگی تھی۔
وہ ایک طرف دیوار کے ساتھ رکھی الماری کی جانب آیا۔ یہ خوبصورت نقش و نگار سے سجی لکڑی کی الماری تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر دونوں پٹ کھول دیئے۔ الماری میں ایک جانب پرانے ڈیزائینز کے لیڈیز ڈریسز اتنی نفاست سے رکھے تھے کہ لگتا تھا جیسے ابھی کوئی ترتیب دے کر گیا ہے۔ دوسرے حصے میں مردانہ کپڑے تھے۔ ایک دو شلوار سوٹ اور باقی پینٹس شرٹس اور ٹائز تھیں۔ الماری کے نیچے کچھ ڈراورز بھی تھے۔ اس نے انھیں کھولا۔ دو ڈراورز تو خالی تھے جبکہ ایک میں کچھ چھوٹی موٹی استعمال کی چیزیں تھیں۔ اس میں ایک ایلبم بھی رکھا تھا۔ میر نے البم نکال کر دراز بند کر دی۔ وہ البم ہاتھ میں لئے وہیں زمین پہ بیٹھ گیا۔ البم میں کل سات پکچرز تھیں۔
وہ ایک ایک تصویر کو بغور دیکھ رہا تھا۔ یہ اسکی ماں باپ کی تصاویر تھیں۔ ان کے روشن چہروں پہ خوشی و اطمینان رقصاں تھے۔ پرنور چہروں پہ ایک دوسرے کی محبت کی چاندنی سجی تھی۔
آخری تصویر شاید شادی کے دن کی تھی۔ یہ ایک گروپ فوٹو تھا۔ان میں سے کسی چہرے بھی وہ واقف نہیں تھا سوائے اپنے ماں باپ اور اپنے باپ کے ساتھ کھڑے ایک اور شخص کے۔۔
وہ شخص اس کے باپ کے کندھے پہ ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ سبھی چہروں پہ مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔
یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ یونیورسٹی کے پروفیسر محمد عقیل تھے۔۔
اس نے تمام تصویروں کو ایک بار پھر سے دیکھا۔ بےدھیانی میں اسکی گود میں البم سے ایک تصویر گری۔ جو شاید لگائی نہیں گئی تھی۔
اس نے الٹ کر دیکھا۔۔۔
اس تصویر میں اس کی ماں کی گود میں ایک سال کا بچہ تھا۔ وہ دونوں اس بچے کا منہ چوم رہے تھے۔
یہ بچہ کوئی اور نہیں میر تھا۔۔
میر ضیغم خان۔۔۔
اب وہ تصویر کو سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔۔
یہ دکھ بہت بڑا تھا جو اسے ساری زندگی جھیلنا تھا۔۔______________________________
اگلے دن ارحم اپنے گھر میں کام کرنے والی زیتون اور اسکی بیٹی کو لے آیا۔ دونوں نے اپنی موجودگی میں صفائی کروائی۔ پھر کام ختم ہونے کے بعد وہ دونوں چائے اور کچھ کھانے پینے کا سامان لے آئے۔ اس نے ارحم کو نکاح کے متعلق بتا دیا تھا۔ پہلے تو وہ اس سے بہت ناراض ہوا مگر پھر بعد میں تمام حالات جاننے کے بعد ناراضگی ختم کر دی۔ ارحم نے ہی اسے فلیٹ میں رہنے کی صلاح دی تھی۔ پہلے تو وہ نہیں مان رہا تھا مگر پھر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ماننا پڑا۔ ارحم تو اسے مسکاء کو بھی یہیں لانے کا کہہ رہا تھا مگر وہ اس بات پہ بالکل راضی نہ ہوا۔
وہ دونوں لاونج می بیٹھے اپنی باتوں میں مگن تھے جب زیتون ان کے لئے چائے بنا کر لے آئی۔
“صاحب یہ کچن کے لئے کچھ ضرورت کے سامان کی لسٹ ہے۔ اگر ابھی لے آتے ہیں تو میں کل تک کے لئے کھانا بنا دیتی ہوں۔”
زیتون نے لسٹ ارحم کو پکڑائی۔
“نہیں بس ٹھیک ہے۔ ہم خود دیکھ لیں گے۔ تم جانتی نہیں ہو میرا یار بہت اچھا کھانا بنا لیتا ہے۔ ہم خودی کچھ کر لیں گے۔”
ارحم نے لسٹ پینٹ کی پاکٹ میں اڑستے ہوئے کہا۔
“ہاں بس بہت شکریہ تمھارا۔۔یہ لو کچھ پیسے رکھ لو۔”
ضیغم نے کچھ پیسے اس کی طرف بڑھائے۔
“شکریہ صاب جی۔۔اب میں چلتی ہوں۔ اگر آپ کہیں تو میں دو دن بعد آ کر صفائی کر جایا کروں گی۔”
وہ پیسے اپنے دوپٹے کے کنارے میں لپیٹ کر باندھتے ہوئے بولی۔
“نہیں زیتون تم اب گھر جاو۔۔صاب کی بیوی ہے وہ آ کر سب کچھ سنبھال لے گی۔”
ارحم نے ضیغم کو شرارتی نظروں سے دیکھا۔ ضیغم نے اسے صرف گھورنے پہ اکتفا کیا مگر ارحم پر اسکی گھوریوں کا اثر کم ہی ہوتا تھا جبکہ زیتون دونوں کو دیکھ کر کھی کھی کرنے لگی۔ اب کی بار ضیغم کی گھوریوں کا رخ اسکی جانب ہو گیا۔
“ٹھیک ہے صاب جی۔۔ اللہ حافظ۔”
وہ گھبرا کر بیٹی کو لئے چلی گئی۔ ارحم نے اٹھ کر دروازہ بند کیا۔ اب دونوں خاموشی سے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔
“اب کیا کرنا ہے؟” ارحم نے چائے کا خالی کپ ٹیبل پہ رکھا۔
“کس کے بارے میں؟” ضیغم نے بھی اسکی تقلید کرتے ہوئے کپ ٹیبل پہ رکھ کر اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“مسکاء بھابھی کے بارے میں۔۔۔اور کس کے بارے میں۔”
ارحم نے اسکی طرف رخ موڑا۔
“مسکاء۔۔۔۔۔۔۔۔”
ضیغم کے لبوں نے بےآواز حرکت کی۔ اسکی نگاہوں میں کالی چادر میں لپٹا نازک سراپا آن سمایا۔”میں تمھارے ساتھ ایک جیتی جاگتی خزیمن کو بھیج تو رہا ہوں۔” اسے بابا کے الفاظ یاد آئے جو انھوں نے اس سے تب کہے تھے جب اس نے ماں کی تصویر ان سے مانگی تھی۔ ” مسکاء بنی بنائی خزیمن ہے۔” اس کے کانوں میں ان کا ایک اور جملہ گونجا۔
“میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔” ارحم نے اسکا کندھا ہلایا۔
“ابھی نہیں یار۔۔۔۔ابھی وہ وہیں رہے۔ ایگزامز ہو جائیں پھر سوچوں گا اس بارے میں۔ فلحال میرا اسے یہاں لانے کا کوئی موڈ نہیں۔”
اس نے دل کی رضامندی پہ دماغ کا پتھر رکھا۔۔دل نے تو ارحم کی بات پہ لبیک کہا تھا مگر ابھی وہ اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ اسے یہاں لاتا۔
“چلو ٹھیک ہے تمھاری مرضی۔۔میں نے تمھارے لئے ہی کہا تھا۔ کم از کم تمھیں اس اکیلے پن سے تو نجات ملے گی اور پھر اس گھر کو بھی تو اسکی ضرورت ہے۔”
ارحم نے اٹھتے ہوئے کہا۔
“کہاں جا رہے ہو؟” ضیغم نے اسے اٹھتے دیکھ کر اس سے پوچھا۔
“یہ سامان لے آتا ہوں۔ تم بھی چلو ساتھ۔”
اس کی بات پہ ضیغم بھی سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے دونوں کپ ٹیبل سے اٹھا کر کچن میں جا کر رکھے اور اپنی چابیاں چیک کرتا اس کے پیچھے آ گیا۔ خریداری کے بعد ضیغم اسے ہاسٹل لے آیا۔ ارحم باہر گاڑی میں ہی اسکا ویٹ کرنے لگا۔ وہاں سے اس نے اپنا کچھ سامان جو رہ گیا تھا۔۔لیا اور دوستوں سے ملتا واپس آگیا۔۔
“کل کسی اچھے وکیل سے مل کر یہ کاغذات بھی دکھا دیں گے۔”
گھر واپس آ کر اس نے ارحم کو وہ فائل دی جو اسے بابا نے گاوں سے آتے وقت دی تھی۔ جس میں اس فلیٹ کے کاغذات تھے جو اسکی ماں کے نام پہ تھے۔ جبکہ فائل میں کچھ اکاونٹس کی ڈیٹیلز بھی تھی اور کچھ دوسرے پیپرز بھی تھے۔
“ہاں۔۔! میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔”
ضیغم نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔۔ اب دونوں فائل کھولے بیٹھے تھے اور کل وکیل سے مل کر یہ پیپرز دکھانے کا سوچ رہے تھے۔ امتحانات شروع ہونے سے پہلے وہ یہ معاملات سیٹل کرنا چاہتا تھا۔_______________________________
اللہ نے انھیں چاند سے بیٹے سے نوازہ تھا۔ دراب خان اور خزیمن بہت خوش تھے۔ انھوں نے یہ خبر سب پہلے میرسربلند خان کو فون کر کے سنائی تھی۔ بظاہر خوش ہونے والے میرسربلند خان کو پریشانیوں نے آ گھیرا۔ وہ تو کچھ اور ہی سوچے بیٹھے تھے لیکن ہوا ان کی مخالف سمت میں چل رہی تھی۔ وہ دل ہی دل میں پریشان ہوتے چھوٹے بھائی کو مبارکباد دے رہے تھے۔
انھوں نے ایک بار پھر دراب خان کو گاوں آ کر رہنے کو کہا تھا۔ دراب نے ان سے وعدہ کیا کہ جیسے ہی خزیمن تھوڑی بہتر ہوں گی وہ ہمیشہ کے لئے گاوں آ جائیں گے۔۔ مگر ایک تو خزیمن بار بار انکار کر دیتی تھی اور پھر وہ جاب بھی چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ حالانکہ انھیں اس جاب کی ضرورت نہیں تھی۔
لیکن اب انھوں نے خان لالا سے وعدہ کر لیا تھا کہ وہ جلد ہی واپس گاوں آ جائیں گے۔
اب تو ضیغم بھی سال کا ہو گیا تھا مگر خزیمن گاوں جانے کے لئے راضی نہیں تھی لیکن آخرکار انھوں نے خزیمن کو تیار کر ہی لیا تھا۔ آج انھوں نے نکلنا تھا گاوں کے لئے۔۔۔دراب نے اس سے کہا تھا کہ وہ آفس سے جلدی چھٹی لے کے آ جائیں گے۔ انھوں نے اسے ضرورت کا تقریبا سارا سامان رکھنے کو کہا تھا مگر اس نے ضرورت کا کچھ سامان ہی لیا تھا۔ ہاں البتہ ضیغم کا تقریبا سارا سامان تھا۔ خزیمن کا وہاں ایک دو دن سے زیادہ رکنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ حویلی میں ایک دن گزار کر باقی کے دن اپنے ماں باپ کے ساتھ گزارے گی۔ وہ میرسربلند خان کی نظریں اور انداز تخاطب نہیں بھولی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ دل سے اس شادی کے لئے خوش نہیں ہیں بس اوپر اوپر سے شو کرتے ہیں کہ وہ اس شادی سے خوش ہیں۔ اس نے اس بات کا ذکر دراب خان سے بھی کیا تھا مگر وہ یہ کہہ کر اس بات کو ٹال گئے کہ ان کا انداز ہی ایسا ہے مگر پھر بھی اسکا دل نہیں مان رہا تھا۔ آج انھوں نے گاوں جانا تھا تو دل میں عجیب عجیب سے وسوسے گھر کر گئے تھے۔ اس کا دل گھبرا رہا تھا لیکن وہ دراب خان کی خوشی کے آگے خاموش تھی۔ وہ اسے بتاتے رہتے تھے کہ وہ گاوں کے لوگوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے خاص کر تعلیم کو لے کر ان کے عزائم بہت بلند تھے اور اس خواب کو پورا کرنے کے لئے ان کا گاوں جانا بہت ضروری تھا۔
وہ ایک سفری بیگ تیار کیے دراب خان کا انتظار کر رہی تھی۔ صبح کے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ ضیغم سو چکا تھا اور دراب ابھی تک آئے نہیں تھے۔ وہ جلے پیر کی بلی کی طرح گھر میں گھوم رہی تھی۔ کبھی کچن میں جاتی تو کبھی کمروں میں۔ اس گھر سے اسے بہت انس تھا۔ وہ لاونج میں بیٹھی تھیں جب ڈور بیل بجی۔ پیپ ہول سے جھانکا تو اسے دراب خان کا چہرہ دکھائی دیا۔ اس نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا۔
“السلام و علیکم! تم تیار ہو۔ میں ٹیکسی لے آیا ہوں۔ ضیغم کہاں ہے؟”
وہ چہرے پہ اپنوں سے ملنے کی خوشی لیے اندر داخل ہوئے۔۔پلٹ کر دروازہ بند کیا اور اسے ساتھ لگائے بیٹے کے متعلق پوچھا جو آس پاس دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
“کیوں ہماری گاڑی کو کیا ہوا؟” اس نے پوچھا۔
“وہ میں عقیل کو دے آیا ہوں۔ ویسے بھی گاوں میں ہے میری گاڑی۔۔ضیغم سو رہا ہے کیا؟”
انھوں نے گاڑی کے متعلق بتایا۔
“جی۔۔” وہ بجھے دل سے بول کر ان سے الگ ہوئی۔
“خزیمن تم خواہ مخواہ دل میں وہم پال رہی ہو۔ گاوں میں سب ٹھیک ہے اور پھر ہمیں کیا غم جب خان لالا ہمارے ساتھ ہیں۔ تم بالکل بھی پریشان نہ ہو۔میں ہوں نہ تمھارے ساتھ۔”
انھوں نے اس کے اترے چہرے کو دیکھتے ہوئے اسے ساتھ لگا کر تسلی دی۔ جس پہ وہ سر ہلاتی ضیغم کو لینے چلی گئی۔ وہ بھی اسکے پیچھے کمرے میں آ گئے۔ الماری کھول کر اس میں سے ایک فائل نکالی۔
“یہ کیا ہے؟”
خزیمن نے ضیغم کو سینے سے لگائے پوچھا۔
“کچھ ضروری کاغذات ہیں۔” وہ بیگ اٹھاتے باہر نکل گئے۔ وہ بھی ایک نظر کمرے پہ ڈال کر باہر آ گئی۔
“تم چل کر نیچے گاڑی میں بیٹھو میں لاک لگا کر آتا ہوں۔”
ان کے کہنے پر اس نے ضیغم کو صوفے پہ لٹایا۔ چادر اوڑھ کر ضیغم کو اٹھایا اور گھر سے باہر آ گئی۔ ضیغم کو کسی قیمتی اثاثے کی طرح سینے سے لگائے وہ سیڑھیاں اترنے لگی مگر ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھنا نہیں بھولی تھی۔
ٹیکسی میں بیٹھ کر وہ دراب خان کا انتظار کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسے آتے دکھائی دئیے۔ خزیمن کے ساتھ پیچھے بیٹھ کر انھوں نے ٹیکسی والے کو چلنے کے لئے کہا۔ راستہ لمبا تھا اس لئے اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگالی۔ ضیغم اس کی گود میں تھا۔ دراب خان اپنے ساتھ لائی فائل میں گم تھے۔ ضیغم کے نام انھوں نے اکاونٹ کھلوایا تھا۔جس کی ڈیٹیل وہ عقیل احمد کے پاس چھوڑ آئے تھے۔ گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔
خزیمن خاموشی سے تیزی سے دوڑتے گزرتے مناظر میں گم تھی۔ نجانے کس وقت اسکی آنکھ لگ گئی۔ بیدار ہوئیں تو شام کے سائے پھیل چکے تھے۔ گاڑی حویلی کے دروازے سے اندر داخل ہو رہی تھی۔ اس نے ساتھ بیٹھے دراب خان کو دیکھا جو ضیغم کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ ضیغم بھی باپ بھی ان سے اپنی زبان میں بات کر رہا تھا۔
مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔
“چلو جی میرے بیٹے کا گھر آ گیا۔” انھوں نے اسے اٹھتے دیکھ کر اشارہ کرتے ہوئے ضیغم کو لئے گاڑی سے اترے۔ زمان خان جو گھر کی جانب لوٹ رہا تھا۔۔ بھاگتا ہوا ان کی جانب آیا۔ انھوں نے ضیغم کو خزیمن کے حوالے کیا اور اس سے بغلگیر ہوئے۔۔اس سے خیر خیریت پوچھی۔۔۔خزیمن نے بھی زمان خان کو سلام کیا اور سب کی خیریت دریافت کی۔
“زمان خان میرے بیٹے میرضیغم خان سے ملو۔ دیکھو بالکل میرے جیسا ہے نا؟؟”
دراب خان نے ضیغم کو خزیمن سے لے کر زمان خان کو دیا۔ زمان خان نے سر اثبات میں ہلا کر بچے کو چوما اور دعا دی۔
“خان لالا کہاں ہیں؟” دراب خان نے خزیمن کی سنگت میں حویلی کے داخلی دروازے سے اندر جاتے ہوئے پوچھا۔ زمان خان نے ان کے پوچھنے پر انھیں بتایا کہ وہ اندر ہی ہیں اور بےچینی سے ان کے منتظر ہیں۔
جب وہ لاونج میں داخل ہوئے تو میرسربلند خان انھیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھے۔ بڑے پرجوش انداز میں وہ دراب خان سے ملے۔ دراب خان بھی ان کے سینے سے لگ گئے۔ انھیں ان سے باپ کی خوشبو آتی تھی۔ سوتیلے ہونے کے باوجود وہ انھیں بہت عزیز تھے۔ آج وہ ان سے اسطرح ملے تو انھیں بےحد خوشی ہوئی۔
خزیمن نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ان کے رویے میں اتنی تبدیلی دیکھ کر خزیمن بہت حیران ہوئی۔ انھوں نے آگے بڑھ کر ضیغم کو زمان خان سے لیا۔
“ارے ہمارا چھوٹا شیر تو بالکل ہمارے بڑے شیر جیسا ہے لیکن ناک ہم پر گئی ہے۔” وہ ضیغم کو پیار کرتے ہوئے بولے تو دراب خان مسکرا دئیے۔ خزیمن نے بھی ان کا انداز دیکھ کر اپنے دل میں گونجتے وہموں سے جان چھڑائی۔
“تم لوگ تھک گئے ہو گے۔ فریش ہو جاو اور تھوڑا آرام کر لو تو پھر مل کر رات کا کھانا کھائیں گے۔۔زمان خان اپنے چھوٹے خان جی کو ان کے کمرے تک لے جاو۔”
انھوں نے زمان خان سے کہا اور ضیغم کو خزیمن کے حوالے کیا۔
“خان لالا۔۔۔بھابھی اور بچے دکھائی نہیں دے رہے۔ وہ لوگ گھر پہ نہیں ہیں کیا؟” دراب خان نے چاروں جانب نظریں دوڑائیں۔
“نہیں۔۔۔تمھاری بھابھی بچوں کو لے کر میکے گئی ہوئی ہے دو دن سے۔ میں نے فون کر کے تمھاری آمد کا بتا دیا ہے کل تک آ جائیں گے وہ لوگ۔ تم لوگ آرام کرو۔”
انھوں نے دراب خان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے تو پھر ڈنر پہ ملاقات ہوتی ہے۔” دراب خان ان سے کہتے ہوئے زمان خان کے پیچھے چل دئیے۔ جو ان کا سامان پکڑے ان سے آگے تھا۔
“اس دن کا تو ہمیں شدت سے انتظار تھا میردراب خان۔۔ڈنر تو تمھارے شایان شان ہی کرنا پڑے گا آخر کو تم میر ابدار خان کے بیٹے ہو۔”
میرسربلند خان کے مسکراتے لب سکڑ گئے اور چہرے پہ نرمی کی جگہ سختی نے لے لی۔۔___________________________
اچھے ماحول میں پر لطف ڈنر کرنے بعد اب وہ اپنے کمرے میں موجود تھے۔ یہ انہی کا کمرہ تھا۔ کمرے میں قالین سے لے کر کرٹنز تک ہر چیز نئی اور قیمتی تھی۔ انھوں نے بھابھی کی چوائس کو سراہا تھا۔ضیغم بےبی کاٹ میں لیٹا کاٹ میں لٹکے چمکتے چاند ستاروں کر پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسکی حرکتوں کو وہ مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔خزیمن واش روم میں تھی۔ انھوں نے سامنے دیوار پہ لگے وال کلاک پہ نظر ڈالی۔ گھڑی کی سوئیاں گیارہ کا ہندسہ پار کر گئ تھیں۔ ٹائم دیکھ کر انھیں تھکاوٹ کا احساس ہوا۔ وہ بستر پہ آگئے۔ نرم و گداز بستر پہ لیٹتے ہی وہ نیند میں کھو چکے تھے۔ خزیمن جب واش روم سے نکلی تو وہ سو چکے تھے مگر ضیغم کی غوں غاں جاری تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے ضیغم کی طرف بڑھی۔ نائٹ بلب آن کیا اور ٹیوب لائٹ آف کر کے وہ اسے لئے بیڈ پہ آ گئ۔ دراب خان پیٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے ان کے ماتھے پہ بکھرے بال سمیٹے اور ضیغم کو سلانے لگیں۔ کمرے میں پھیلی خواب آنگیز روشنی نے اگلے کچھ لمحوں میں انھیں غافل کر دیا۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب پیاس کے احساس سے ان کی آنکھ کھلی۔ خزیمن اور ضیغم گہری نیند میں تھے۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے ضیغم کے پھولے رخساروں پہ اپنے لب رکھے اور پانی کے لئے کمرے میں نظر دوڑائی۔ پانی نہ پا کر وہ بنا جوتوں کے ہی روم سے باہر آگئے۔ حویلی میں مکمل خاموشی کا راج تھا۔ کچن کی طرف بڑھتے ہوئے ان کی نظر خان لالا کے کمرے سے آتی روشنی پر پڑی۔ وہ حیران ہوتے ہوئے ان کے کمرے کی جانب بڑھے۔ کمرے سے ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھیں۔ یعنی ان کے کمرے میں کوئی اور بھی موجود تھا۔ وہ بہت دھیمی آواز میں بات کر رہے۔ قریب جا کر انھیں معلوم ہوا کہ دروازہ ٹھیک سے بند نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ اندر داخل ہوتے اپنا نام سن کر چونک گئے۔
“قادر خان۔۔!”
قادر خان کا نام سن کر دراب خان کا ماتھا ٹھنکا تھا۔ وہ دروازے سے مزید قریب ہوئے۔
“آج یہ قصہ ختم ہو جانا چاہئے قادر خان۔۔میں کسی کو بھی یہ پتہ نہیں لگنے دینا چاہتا کہ دراب کا کوئی بیٹا بھی ہے۔ تینوں کو ختم کرنے کا یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔ کل تک پورے گاوں کو پتہ چل جائے گا ان کے بارے میں اور میں ایسا بالکل بھی نہیں چاہتا۔ وہ لوگ اپنے کمرے میں ہیں۔ کام کر کے تم کہیں غائب ہو جانا۔ ویسے بھی سب کو پتہ ہے کہ تم سے دشمنی مول لے کر دراب خان نے خزیمن سے شادی کی تھی۔ تم ان کی تاک میں تھے کہ وہ کب گاوں آئیں اور تم اپنی بےعزتی کا بدلہ لو اور آج یہ موقع پا کر تم نے ان سے اپنی بےعزتی کا بدلہ لے لیا۔ ہمارا بھی کام ہو جائے گا اور تمھارا بھی نام ہو جائے گا۔”
یہ آواز ان کے بھائی کی تھی۔ انھیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ ان سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ ان کی جان لینے کے درپے ہیں۔
“اور آئیندہ کوئی بھی جرگے کے خلاف جانے سے پہلے دس بار سوچے گا۔ خان میں تو یہ کام اسی رات کرنے کا سوچ رہا تھا مگر آپ نے ہی روک دیا تھا۔ لیکن آج میں ان کے خون سے اپنی بےعزتی کا بدلہ ضرور لوں گا۔ آپ بےفکر رہیئے میں انھیں اگلا سانس لینے نہیں دوں گا۔ یہ تین گولیاں ان کے سینے میں اتار کر ہی میرے سینے میں جلتی بدلے کی آگ بجھے گی۔”
قادر خان کی کرخت آواز کمرے میں گونجی۔ دراب خان اپنے کمرے کی طرف دوڑے۔ اس سے پہلے کہ انھیں پتہ چلے وہ یہاں سے نکل جانا چاہتے تھے۔ لیکن شومئی قسمت ان کی بدحواسی میں دوڑنے کی وجہ سے سائیڈ پہ رکھا سٹیل کا گلدان گر گیا۔ رات کی خاموشی میں گلدان کی آواز نے ارتعاش پیدا کیا۔ کمرے میں موجود دونوں لوگ آواز سن کر باہر آئے۔ قادر خان آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ میرسربلند خان نے اسے اندر کی جانب واپس کھینچ کر دروازہ بند کر لیا۔انھوں نے لاؤنج میں صوفے کے پیچھے چھپے دراب خان کو دیکھ لیا تھا۔
“چھوڑو کہ کمرے تک چلا جائے۔ پسٹل تو ہے نا تمھارے پاس؟” انھوں نے قادر خان سے پوچھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
یہ جان کر کہ انھیں معلوم نہیں ہوا۔ دراب خان سکون کا سانس لیتے ہوئے خاموش قدموں سے کمرے کی جانب بڑھے۔ انھوں نے خزیمن کو آواز دی اور ضیغم کو اٹھایا۔ خزیمن ہڑبڑا کر اٹھی۔ انھوں نے منہ پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کو کہا۔ خزیمن ان کے چہرے پہ گھبراہٹ کے آثار دیکھ کر فورا بیڈ سے اتری۔ وہ انھیں اور ضیغم کو لیے کمرے سے باہر آئے۔ ان کا رخ باہر کی جانب تھا۔ نیم بند دروازے سے میرسربلند خان اور قادر خان انھیں باہر کی جانب جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔ وہ دونوں بھی خاموشی سے ان کے پیچھے آئے تھے۔
دراب خان گیراج میں کھڑی گاڑیوں کی جانب آئے تھے۔ خزیمن نے ان سے کچھ بھی نہ پوچھا۔ وہ جان گئی تھی کہ سانپ انھیں ڈسنے کے لئے اپنے بل سے باہر آ گیا ہے۔ یہاں ان کی گاڑی موجود نہیں تھی اور باقی دونوں گاڑیاں لاکڈ تھیں۔ وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے حجرے کا رخ کیا۔ وہ جانتے نہیں تھے کہ ان کے دشمن دبے پیر ان کے پیچھے ہی ہیں۔ وہ حجرے کی پچھلی جانب آئے تھے۔ انھیں یاد تھا کہ اس طرف باہر کی جانب کھلتا ایک دروازہ تھا۔ انھوں نے سوچا کہ شہر کی طرف جاتی سڑک وہاں سے قریب ہے۔ وہ کسی سے بھی لفٹ لے لیں گے۔ پچھلی جانب آ تو گئے تھے مگر دروازہ انھیں کہیں بھی نظر نہ آیا۔ حجرے میں سوئے ہوئے زمان خان کی نیند قدموں کی آواز سے کھل گئی۔ وہ ویسے بھی بیدار نیند سوتا تھا۔ اس کی بیوی میکے گئی ہوئی تھی۔ گھر میں کوئی اور تھا نہیں اس لئے گھر جانے کی بجائے وہ وہیں سو گیا تھا۔ اس نے بڑے خان جی اور قادر خان کو ہاتھ میں پسٹل پکڑے حجرے کی پچھلی جانب دوڑتے ہوئے دیکھا۔ وہ فورا چارپائی سے اترا اور ان کے پیچھے گیا۔ قادر خان کو دیکھ کر اسے میردراب خان کا خیال آیا۔
“یہاں سے تو باہر نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے دراب۔۔اب کیا کریں؟” خزیمن نے سوئے ہوئے ضیغم کو سینے سے لگائے بھیگی آنکھوں سے ان کی جانب دیکھا۔
“چلو۔۔۔” وہ واپس پلٹے مگر سامنے ہی قادر خان کو پسٹل کا رخ ان کی جانب کیے کھڑے دیکھ کر ان کا دل دھڑکا۔ انھوں نے خزیمن کو اپنے پیچھے کیا۔ قادر خان کے بالکل پیچھے کچھ فاصلے پر میرسربلند خان کھڑے تھے۔ لبوں پہ طنزیہ مسکراہٹ لئے وہ دراب خان کو دیکھ رہے تھے۔
“خان لالا۔۔۔یہ سب کیا ہے۔۔کیا آپکی وہ محبت ڈھکوسلا تھی۔ آخر کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب میرے ساتھ۔۔کیا بگاڑا ہے میں نے آپکا؟”
میرسربلند خان ان کی بات پر ہنسے۔
“تم سے تو مجھے شدید نفرت ہے دارب خان۔ میری زندگی میں تم صرف اور صرف میری ہر چیز پہ قبضہ کرنے آئے ہو۔ یہ سب کچھ میرا ہے جس میں تم حصے دار بننے آ گئے ہو اور وہ محبت تو اپنے شکار کو جال میں پھنسانے کے لیے تھی اور دیکھو شکار جال میں پھنس بھی گیا ہے۔ قادر خان تمھیں کس بات کا انتظار ہے۔” ان کی زبان ذہر اگل رہی تھی۔ دراب خان کو اپنی سماعتوں پہ یقین نہ آیا۔
“اگر آپ کو یہ جائیداد اور دولت چاہئیے تھی تو مجھے کہتے میں سب کچھ آپ کو دے دیتا اور اب بھی دینے کو تیار ہوں بس مجھے اپنی بیوی بچے سمیت یہاں سے جانے دیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو اپنی شکل بھی نہیں دکھاوں گا۔”
“تمھیں اپنی نظروں سے دور کرنے کا انتظام میں خود کر چکا ہوں۔ قادر خان۔۔۔”
انھوں نے بلند آواز میں قادر خان کو پکارا۔ قادر خان نے یکے بعد دیگرے دو فائر کیے۔ فائر کی آواز سن کر زمان خان دوڑتے ہوئے گلی کے اختتام پہ پہنچا۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ دراب خان اور خزیمن خون میں لت پت زمین پہ گرے ہوئے تھے۔ خزیمن نے ضیغم کو سینے سے ابھی تک لگائے رکھا تھا جو اب رو رہا تھا۔ اب قادر خان کا نشانہ ضیغم تھا۔
“خان جی۔۔۔یہ کیا کیا آپ نے؟” زمان خان دوڑتے ہوئے میرسربلند خان کے پاس آیا۔ قادر خان اور میر سربلند خان اسے دیکھ کر گھبرا گئے۔۔ زمان خان دراب خان اور خزیمن کی جانب آئے۔۔دراب خان میں ابھی سانس باقی تھی۔ انھوں نے زمان خان کا دامن تھام لیا۔
“زمان خان۔۔ضیغ۔۔۔ضیغم۔۔۔مم۔۔۔میرے کمرے میں ایک نیلی فائل۔۔”
ان کا سر ڈھلک چکا تھا۔ خون آلود ہاتھ زمان خان کے دامن پہ اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔ اپنی سفاک موت کا نشان چھوڑ گیا تھا۔۔وہ دونوں خاموش ہو چکے تھے۔ اس کا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ اپنے اتنے پیارے خان کو یوں بےحس و حرکت دیکھ کر اس کا دل خون کے آنسو رونے لگا۔
“زمان خان آگے سے ہٹ جاو اور بچے کو وہیں رہنے دو۔ یہ بھلا اکیلا ماں باپ کے بنا کیسے رہے گا۔ اسے بھی ان کے ساتھ ہی بھیج دینا چاہئیے۔”
انھوں نے اسے ضیغم کو اٹھاتے دیکھ کر کہا۔
“خان جی۔۔۔اتنا ظلم مت کریں۔ یہ معصوم جان ہے۔ اسے چھوڑ دیں خان۔۔۔میں آپکے پیر پڑتا ہوں۔”
وہ بچے کو گود میں لیے ان کی طرف بڑھا اور ان کے پیر تھام لئے۔ انھوں نے نخوت سے اپنے پیر چھڑائے۔
“ٹھیک ہے۔۔۔لیکن اس کے لئے میری کچھ شرائط ہیں اگر منظور ہے تو بولو۔”
ایک خیال ان کے ذہہن میں آیا۔
“میں ہر شرط ماننے کو تیار ہوں خان۔”
وہ ضیغم کو سینے سے لگا کر روتے ہوئے بولے۔۔میرسربلند خان قادر خان کو اشارہ کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
جبکہ وہ ضیغم کو سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے۔۔ انھیں ضیغم کر بچانا تھا۔ چاہے اس کے لئے انھیں کچھ بھی کرنا پڑے۔۔___________________________________
جاری ہے۔۔۔
