Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 9)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 9)
Ehsaas By Raheela Bano
طوفانی بارش تھم چکی تھی۔۔۔۔ اب ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔۔۔ وہ کمرے کی چھت کو دیکھ رہا تھا جو کونے سے ٹپک رہی تھی۔۔۔اسکے نیچے پڑا ڈسٹ بین پانی سے بھر گیا تھا۔۔۔۔وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بال جکڑے بوسیدہ کرسی پر بیٹھا تھا۔۔۔۔ اسکے اندر کا طوفان کسی بھی طور پر تھم نہیں رہا تھا۔ ساری رات جاگ کر گزاری تھی۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔۔۔اسنے طویل سانس لیتے ہوئے چئیر کی بیک پر سر ٹکاتے ہوئے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔ دل میں درد سا اٹھا تھا۔۔۔اندر وہموں کا شور کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔قسمت نے اسے کہاں لا کر کھڑا کر دیا تھا۔۔۔۔ وہ اپنا دکھ بھی کسی سے بانٹ نہیں سکتا تھا۔۔۔۔ اسے اب اسی درد کے ساتھ جینا تھا۔۔۔
وہ نظریں پھیرےاسکے نیم بے ہوش وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ جس نے رات بھر اسکا قہر برداشت کیا اسکی دی گئی ہر سزا اپنے وجود پر جھیلی پر ایک سسکی تک نہیں لی تھی۔۔۔۔۔
شاید اسے باور کروا رہی تھی کہ وہ اسکی دی گئی ہر سزا جھیل لے گی۔۔۔
جب تک یہ اپنا منھ نہیں کھولو گی ۔۔۔دن رات میرے قہر کا نشانہ بنو گی۔۔۔۔ وہ اسکے نیم بے ہوش وجود کو ایک ہی جھٹکے سے اٹھاتے واش روم کی طرف بڑھا۔۔۔ جس کے دروازے دونوں کمروں میں کھلتے تھے ۔۔۔ شاور چلا کر اسکو نیم بے ہوشی میں ہی شاور کے نیچے کھڑا کیا تھا۔۔۔۔
جنت نے پانی گرنے سے اپنی بمشکل آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔۔ کھول کے پھر زور سے بند کر لیں۔۔۔۔خُبیب سکندر نے قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔ہاتھوں میں پکڑے وجود سے شدید نفرت ہو گئی تھی۔۔۔
دروازے پر دستک ہو رہی تھی۔۔۔۔ دینے والا اتنا ڈھیٹ تھا ۔۔۔۔کہ دے ہی رہا تھا۔۔۔۔ وہ اسے کھڑا کرتے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔
بارش تھم چکی تھی۔۔۔۔ بس ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔۔۔آپی میں ہوں جلدی دروازہ کھولو۔۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے دروازہ کھولا تھا۔ ایک بچہ جو کپڑوں کا شاپر لئے کھڑا تھا۔۔۔وہ یہ کپڑے ہیں ۔آپی سے کہنا شام تک پریس کر دے۔۔ یہ پیسے ۔۔۔۔اسنے تین سو روپے خُبیب سکندر کی طرف بڑھائے۔۔۔تمہیں نہیں پتہ اسکی شادی ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔
نہیں وہ اصل میں ہم اپنی نانو کے گھر گئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ چلو شاباش بھاگ جاؤ۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پاتے کہا۔۔۔۔ پتہ نہیں اور کیا کیا کام کرتی ہو گی۔۔۔۔؟
وہ دروازہ بند کرتے غصے سے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔
*********************************************
صبح سے وہ بھوکی پیاسی کمرے میں بند تھی۔۔۔اتنی شدید گرمی اور کمرے میں پنکھا بھی نہیں تھا۔ رات کے دس بج گئے تھے ۔اب وہ پچھتا رہا تھا۔۔۔۔ کہ کیا ضرورت تھی اسے اکیلے چھوڑ کر جانے کی۔۔۔۔
وہ بدتمیز دستک ہی اتنی زور زور سے دے رہا تھا۔۔۔اسے ناچاہتے ہوئے بھی جانا پڑا اور وہ واش روم سے ہی دوسرے روم میں چلی گئی اور وہ خوف سے واش روم میں بھی نہیں آئی تھی ۔۔۔۔وہ اسکے غصے کی وجہ سے دروازہ نہیں کھول رہی تھی۔۔۔
اِزنا۔۔۔۔دروازہ کھولو ۔۔۔۔
اب وہ اسے پیار سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔ آپ پھر رات کی طرح مجھے باندھ دیں گے۔۔۔وہ ہچکیاں لیتے بولی تھی۔۔۔۔ اسکی آواز سن کر اسے کے دل کو تسلی ہوئی تھی۔۔۔
کہا نہ کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔۔وہ اپنے غصے کو کنٹرول کئے نرم لہجے میں بولا۔۔۔۔
آپ مجھ سےرات والی بات تو نہیں پوچھیں گے ۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔
کچھ نہیں پوچھوں گا۔۔۔ جلدی سے دروازہ کھولو۔۔۔۔ نہیں پہلے آپ مجھے بتائیں۔۔۔۔ورنہ میں مر جاؤں گی دروازہ نہیں کھولوں گی۔۔۔۔ تم میری اچھی بیوی ہونہ۔۔۔۔۔اچھی بیویاں شوہر کی ہر بات مانتی ہیں۔۔۔وہ بچوں کی طرح اسے بہلا رہا تھا۔۔۔۔
میرے پاس کپڑے نہیں ہیں۔۔۔۔۔ وہ ہچکیاں لیتے بولی تھی۔۔۔۔وہ ابھی تک رو رہی تھی۔۔۔
اس نے ملازم سے ضرورت کی ساری چیزیں منگوا لی تھیں۔۔۔ زندگی میں پہلی بار کسی کی اتنی منتیں کر رہا تھا۔۔۔۔ ورنہ کسی کی جرأت نہیں تھی کہ اسکے سامنے کوئی اونچی آواز نکال لے۔۔۔۔۔
پہلے میرا ڈریس دیں میں چینج کروں گی۔۔۔ میری ساری فراک پھٹی ہوئی ہے۔۔۔واش روم کادروازہ کھلا ہے ۔۔۔ کمرے سے اٹھا لو میں باہر ہی بیٹھا ہوں۔۔۔۔وہ بہت زیادہ شرمیلی تھی۔۔۔رات اسنے ایک لمحے کے لئے اپنی آنکھیں نہیں کھولی تھیں۔۔۔
دروازے پر بار بار دستک ہو رہی تھی ۔۔۔وہ رات کے دس بجے دروازے پر دستک ہونے پر چونکا تھا۔۔۔
اس ٹائم کون آسکتا ہے۔۔۔۔؟
غصے سے اپنی مٹھیاں بھنچی تھی۔۔۔ لیکن کوئی آواز نہ پا کر وہ غصے سےدروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی وہ فوراً دروازے کے پیچھے کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔ جنت آپی وہ دروازے کے پیچھے سے نکلتے اسکے سامنے آیا تھا۔۔۔۔۔
کیا بات ہے۔۔۔۔؟
اس ٹائم کیا کرنے آئے ہو۔۔۔؟
وہ اصل میں میری امی کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔ روٹیاں بنوانی تھی۔۔۔۔یہ کونسا ٹائم ہے۔۔۔ روٹی بنوانے کا ۔۔۔۔۔ وہ غصے میں بولا۔۔۔۔ چلو نکلو یہاں سے ۔۔۔۔ اور سنو ۔۔۔۔ اپنی امی کو بتا دینا کہ اسکی شادی ہو گئی ہے۔۔۔
پر انہوں نے تو ہمارے پیسے دینے ہیں۔۔۔ پچھلےمہنے کے بھی بیس ہزار رہتے ہیں۔۔۔
کس چیز کے اتنے زیادہ پیسے دینے ہیں۔۔۔ پتہ نہیں مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔اچھا چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔۔۔ وہ اپنا ماتھا مسلتے ہوئے بولا۔۔۔۔نہیں آپ رہنے دیں جنت آپی کو بتا دینا۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔؟؟
میں آج آپ لوگوں کے سارے پیسے دے دونگا۔۔۔۔ نہیں آپ رہنے دیں ۔۔۔۔مجھے پیسے دے دیں۔۔۔۔ میں اپنی ماما کو دے دونگا ۔۔۔۔جنت آپی خود میری ماما کو دے دیں گی۔۔۔۔
وہ چھوٹا سابچہ اس سے بحث کر رہا تھا۔۔۔خُبیب سکندر نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے اسکے ساتھ ساتھ ہی چل رہا تھا۔۔۔۔ اس ٹائم میرے پاپا گھر میں ہونگے آپ میری ماما کو صبح دے دینا۔۔۔۔۔۔ اگر وہ آپ سے کچھ پو چھیں تو آپ بہانہ بنا دینا۔۔۔۔
کیا بہانا بنا دوں۔۔۔۔؟
وہ بچے کو دیکھتے ہوئے بولا جو بہت باتونی تھا۔۔۔۔جنت آپی ہمارے سکول میں پڑھتی ہیں۔۔۔ پر اب تو وہ آتی نہیں ہیں۔۔۔
اب کیوں نہیں آتی۔۔۔؟
وہ اب بچے کی باتوں سے محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔۔ انکے پیپر ہوگئے ہیں کس کلاس کے۔۔۔ میٹرک کے۔۔۔۔ محترمہ نے میٹرک کے پیپر بھی دئیے ہیں۔۔۔
یہ ہمارا گھر ہے۔۔۔۔وہ بیل بجاتے ہوئے بولا۔۔۔ تھوڑی دیر میں دروازہ کھلنے کی آواز پر اسنے نے دیکھا۔۔۔ ایک ادھیڑ عمر شخص اسکو گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
دیکھنے میں ہی وہ شرابی لگ رہا تھا۔۔۔پاپا یہ مجھے چھوڑنے آئے ہیں۔۔وہ زبان ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے بولا تم تو روٹی پکوانے گئے تھے ۔۔۔ وہ گھر نہیں ہے۔۔۔۔ اسکی شادی ہو گئی ہے۔۔۔ اچھا تم اندر چلو میں بازار سے لے آتا ہوں۔۔۔۔۔ یہ اگر پہلے ہی لے آتے وہ بچہ منھ میں بڑابڑایا تھا۔۔۔۔
وہ باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔ آپ یہی کھڑے رہیں میں اپنی ماما کو بلا کر لاتا ہوں وہ بچہ اپنے پاپا کو دوسری گلی میں مڑتے دیکھ کر بولا۔۔۔۔
ٹھیک ہے جلدی بلا کر لاؤ۔۔۔۔۔۔میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے۔۔۔۔۔وہ ابھی بات کر ہی رہے تھے ۔۔۔اتنی دیر میں وہ عورت خود ہی آگئی تھی۔۔۔ ماما یہ جنت آپی کے سارےپیسے دینے آئے ہیں۔ اور پوچھ رہے تھے اتنے پیسے کس چیز کے دینے ہیں ۔
اچھا تم اندر چلو وہ عورت اسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔ جی جنت نے آپ کے کتنے پیسے دینے ہیں ۔۔۔ ساٹھ ہزار ۔۔۔۔۔ وہ عورت اسے گھورتے ہوئے بولی ۔۔۔اتنے پیسے اسنے کس چیز کے دینے ہیں ۔۔۔۔ اسنے میرا زیور چوری کیا تھا۔۔۔۔؟
اسکی بات پر خُبیب سکندر نے اپنے ہاتھ کی مٹھی زور سے بھنچی تھی۔۔۔۔آپکو یقین ہے کہ آپکا زیور اسی نے چوری کیا تھا۔۔۔۔ گھر میں وہی کا م کرتی تھی اسی نے ہی چوری کیا اور کون کر سکتا ہے۔۔۔ وہ تو شکر کرے میرے شوہر نے اسکی بیمار ماں کا خیال کرتے ہوئے اسے جیل نہیں بھیجا بلکہ اسکے کہنے پر اسکی ماں تک کو نہیں بتایا۔۔۔۔اتنے دنوں سے وہ سکول کی صفائی کرنے بھی نہیں آئی۔۔۔ اسکا وہ بھی ہزار رہتا ہے۔۔۔
سکول کی صفائی کے آپ اسے کتنے پیسے دیتی تھیں۔۔۔۔وہ میں اس سے فیس نہیں لیتی تھی۔۔۔ خُبیب سکندر نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی قسمت کا کس طرح ماتم منائے۔۔۔۔
۔ماما اسکی شادی ہو گئی ہے۔۔ وہ بچہ ضرورت سے زیادہ ہی تیز تھا۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے اپنی جیب سے والٹ نکالتے ہوئے اس میں سے گنے بغیر کئی پانچ پانچ ہزار کے نوٹ اسے پکڑائے تھے۔۔۔۔جسے وہ عورت اب گن رہی تھی۔۔۔یہ دس ہزار روپے۔۔۔۔ اسنے دس ہزار روپے۔۔۔۔۔خُبیب سکندر کی طرف بڑھائے۔۔۔۔ یہ بھی آپ رکھ لیں۔۔۔یہ کہتے ہوئے وہ وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔۔آنکھوں کی سرخی حد درجہ بڑھی تھی۔۔۔۔
************************************************
رات اتنی ہو گئی تھی ۔۔۔وہ ابھی تک نہیں آئے تھے ۔۔۔وہ کہاں چلے گئے ہیں۔۔۔۔؟
جنت گھٹنوں میں منھ دئیےشدت سے رو تے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔۔ یا اللہ تو جانتا ہے نہ میں نے چوری نہیں کی۔۔۔۔تو یہ بھی جانتا ہے ۔۔۔یہ کسی کو نہیں پتہ۔۔۔۔ میرا شوہر تو پہلے ہی بھکارن سمجھ کر مجھ سے نفرت کرتا ہے۔۔۔۔ اگر اسے پتہ چل گیا کہ میں چور۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔وہ بھکارن کے ساتھ مجھے چورنی کا بھی لقب دے دیں گے۔۔۔۔
اللہ جی ۔۔۔۔آپ جانتے ہیں نہ میں نے چوری نہیں کی۔۔۔۔ میں کیا بتاتی۔۔۔
میں کیوں مانگتی ہوں۔۔۔۔۔۔؟
یااللہ لوگ کتنے ظالم اور جھوٹے ہیں۔۔
میں مر جاؤں گی پر انہیں کبھی نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔وہ ضرور ڈیڈ کے پاس گئے ہونگے۔۔۔۔یا اللہ وہ ڈیڈ کے پاس نہ گئے ہوں۔۔۔۔
یا اللہ اب تو۔۔میرا شوہر بھی مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔۔۔۔میں انکے اتنے سارے پیسے کہاں سے دونگی۔۔۔۔۔؟
اب تو میری مدد کرنے والا بھی کوئی نہیں۔۔۔میں اماں کو کیا بتاؤں گی۔۔۔۔؟
کہ وہ مجھے چھوڑ کر کیوں گئے ہیں۔۔۔۔؟
نہیں اماں کو نہیں بتاؤں گی ڈیڈ کو سب سچ سچ بتا دونگی۔۔۔ وہ میری بات کا یقین کریں گے۔۔۔۔۔
وہ تو مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں دروازہ بھی باہر سے لگا گئے ہیں۔۔۔۔
اب میں گھر ڈیڈ کے پاس کیسے جاؤں گی۔۔۔۔۔؟
اگر کوئی دروازہ کھول کر اندر آگیا۔۔۔۔ یا اللہ اس مشکل وقت میں میری مدد فرما۔۔۔۔۔میری حفاظت فرما۔۔۔۔۔ امی دیکھ تیری جنت کتنا تڑپ رہی کوئی بھی اسکو چپ کرانے والا نہیں۔۔۔
مجھے کیوں چھوڑ کر گئی ہو۔۔۔۔۔؟
مجھے نہیں زندہ رہنا یا اللہ اگر مجھے زندگی دینی ہے تو عزت سے جینے کی دے ۔۔۔۔۔ زلت کی زندگی سے مجھے موت دے دینا۔۔۔۔۔ وہ ہاتھوں میں چہرا چھپا کر بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔۔
**********************************************
خُبیب سکنرر ۔۔۔ کی آنکھ کھلی موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا دن کے گیارہ بج گئے تھے۔۔۔رات سو چتے الجھتے اسکی کب آنکھ لگی اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا۔۔۔۔سامنے کرسی پر سوٹ پریس کرکے رکھا ہوا تھا۔۔۔ ٹیبل پر پانی کا جگ گلاس بھی پڑا تھا۔۔۔۔
سونے کے باوجود بھی سر بوجھل بوجھل سا ہو رہا تھا۔۔۔ مچھر دانی میں سو جاتا تو شاید اتنا زلیل نہ ہوتا۔۔۔
یہ بھکارن پتہ نہیں کہاں ہے۔۔۔ ؟
ادھر اُدھر دیکھنے کے باوجود بھی جوتے نظر نہ آئے۔۔۔۔جیسے ہی کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔
وہ دوسری طرف کونے میں بیٹھی جوتے صاف کر رہی تھی۔۔۔ اسے کھڑا دیکھ کر۔۔۔۔۔ جلدی سے جھکتے ہوئے جوتے اسکے پاس رکھے۔۔۔جنہیں وہ پہنتا ہوا جلدی سےواش روم میں گھس گیا۔۔۔۔
شاور لینے کے بعد جب وہ باہر نکلا تو خود کو کافی بہتر محسوس کر رہا تھا۔۔۔
جنت کو ناشتا لگاتے دیکھ کر وہ وہیں سنگل بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔وہ آپ یہ سب کھانے کے عادی نہیں ہیں۔۔۔ گھر میں جو تھا میں نے وہی بنا لیا۔۔۔۔ وہ آلو والے پراٹھے کے ساتھ چائے پکڑاتے ہوئے بولی۔۔۔۔ جنت نے انکی طرف دیکھنے سے گریز کیا تھا۔۔۔۔۔ شادی سے پہلے وہ جس چہرے کی دیوانی تھی ۔۔۔۔اب اس سے وحشت ہونے لگی تھی۔
والدہ سے وہ آلو والا پراٹھا فرمائش کر کے بنواتا تھا۔۔۔۔ لیکن اسنے اسے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ وہ خاموشی سے پراٹھا کھانے لگا۔۔۔۔ جو اسنے بہت ٹیسٹی بنایا تھا۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے اسکی طرف دیکھا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔رونے کی وجہ سے اسکے گال اور ناک سرخ ہو رہا تھا
ناک میں نتھلی بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ نتھلی نکالنے کی وجہ سے ناک سوجا ہوا تھا۔۔۔
ماں جی کی آواز پر دونوں چونکے تھے۔۔۔۔ ماں جی۔۔۔ آپ نے ہمیں بلا لیا ہوتا ۔۔۔۔خُبیب سکندر نے ادب سے کہا۔۔۔۔
جیتے رہو بیٹے اللہ تم دونوں کو خوش رکھے۔۔۔۔ ماں جی دونوں کو باری باری پیار دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ اماں یہاں بیٹھ جائیں وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
جنت ۔۔۔۔تمہاری طبعیت ٹھیک ہے ۔۔۔ ماں جی ۔۔۔۔ بغور اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ جی اماں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ بس ہلکا سا بخار ہے۔۔۔۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔
یہ تمہارا بخار اتر کیوں نہیں رہا۔۔۔۔؟
خُبیب بیٹا مجھے لگتا ہے کے اسے ٹائیفائیڈ ہو گیا ہے ۔آج اسکو ڈاکٹر کے پاس لے جانا۔۔۔میں لے جاتی۔۔۔ لیکن میں بھی واپس جارہی ہوں غازی ۔۔۔۔کو چھٹی نہیں ہے۔۔۔
آپ ہمارے ساتھ چلی جائیں ہم بھی آج ہی جارہے ہیں۔۔۔۔۔ آپ کو چھوڑ کر آگے نکل جائیں گے۔۔۔ میری خیر ہے ۔۔۔میری بچی کو چھوڑ کر نہ آگے نکل جانا وہ مسکراتے ہوئے بڑی بات کر گئی تھیں۔۔۔ وہ ماں جی کی بات پر ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔۔
جنت یہ سن کر حیران ہوئی تھی۔۔۔ یہ تو ایک ہفتے کے لئے رک رہے تھے۔ کہ میری اصلیت دیکھ کر جائیں گے۔۔۔۔ اب ایسا کیا ہوگیا کہ آج ہی جا رہے ہیں۔۔۔؟
جنت نے ایک نظر انہیں دیکھتے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔وہ گہری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
********************************
