Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 20)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 20)
Ehsaas By Raheela Bano
جب سے وہ نیند سے بیدار ہوئی تھی ۔وہ خُبیب سکندر ۔۔۔۔ کا ہاتھ پکڑے گھر جانے کی ضد کر رہی تھی۔۔۔۔اب میں ٹھیک ہوں ,موم اور ڈیڈ بھی آ رہے ہیں۔ میں انکو لینے آپ کے ساتھ جاؤں گی۔۔۔۔
کرن بھابھی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ نہیں جاسکیں گی۔۔۔ وہ کسی سیریس کیس میں ہاسپٹل ہی ہیں۔۔۔
آپ میری بات کاجواب کیوں نہیں دے رہے ۔۔۔۔؟ خُبیب سکندر اسکی سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔
وہ اس پر سختی بھی نہیں کر سکتا تھا ۔وہ خود پریشان تھا کے موم ڈیڈ اسکی حالت دیکھ کر کیا سوچیں گے۔۔۔۔۔؟
وہ گم صم سا بیٹھا اسکو دیکھ رہا تھا۔۔۔ دکھ کی ایک شدید لہر اسکے وجود میں سرایت کر گئی تھی۔
اسکی آنکھوں میں پھر سے پانی جمع دیکھ کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔۔
وہ اب اسکی مخروطی انگلیوں کو دیکھ رہا تھا۔ کتنی دیر ایسے ہی گزر گئی۔۔
”اِزنا۔۔۔”
جج۔۔۔جی۔۔۔
کیا بات ہے ۔۔۔۔۔؟
جو تمہیں اتنی پریشان کر رہی ہے۔۔۔۔ خُبیب سکندر اسکے ہاتھ کو ہلکے سے رب کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
میری تو زندگی ہی پریشانیوں سے گھری ہوئی ہے۔بس یہ ہی ایک احساس مجھے اندر ہی اندر مار رہا ہے۔آپ میری بات کا یقین کریں میں نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔۔میرے اندر ہمت نہیں ہے۔چلتی ہوں تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔بیٹھے بیٹھے ہاتھ سن ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ اگر لیٹ جاؤں تم کتنی دیر ٹانگیں سن ہو جاتی ہیں۔۔۔۔
کھانے پینے کو دل نہیں کرتا۔۔۔۔ جب دماغ سوچوں کی لپٹ میں آتا ہے تو وہ بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔جب جب آپ کو دیکھتی ہوں ندامت سے آنکھیں نہیں اٹھتی آپکو اپنے دکھ سے غرض ہے ۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔ جو قیامت مجھ پر ٹوٹی ہے اسکا کسی کو احساس ہی نہیں۔آنسو اسکی پلکوں سے چھلک کر اسکے گالوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔
یہ جو نصیب میں لکھا ہوتا ہے نہ وہ ہی انسان کو ملتاہے۔تمہیں اپنے چھوٹے سے دماغ پر اتنا زور دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔میں نے اپنے حقوق آدا کرنے میں کہیں بھی غفلت نہیں برتی۔مجھے دیکھ کر تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں اپنا فرض اچھی طرح نبھا رہاہوں۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے اسکی نم آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔لیکن ہاتھ ابھی تک اسکی گرفت میں تھا۔۔۔ چھوڑا اس لئے نہیں تھا کے کہیں پھر سے وہ اپنے ہوش کھو نہ دے۔۔۔اب اس نے خود ہی اسے ڈپریشن سے نکالنا تھا۔
***************************************************
ہارون سکندر۔۔۔۔ ائیرپورٹ سے سیدھے ہاسپٹل ہی گئے تھے حدید نے انہیں خبر ہی ایسی سنائی تھی۔۔۔۔ انکے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔
فوزیہ سکندر اپنے شوہر کو اتنا خوش دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔وہ خوشی کے مارے بول بھی نہیں پا رہے تھے۔جب وہ روم میں داخل ہوئے تو انکی مسکراہٹ ایک دم سمٹی تھی۔اپنے بیٹے کو شکن الود کپڑے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے انہوں نے تڑپ کر خُبیب سکندر ۔۔۔۔ کو گلے کے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔ کتنی دیر وہ اسے اپنے ساتھ لگائے کھڑے رہے تھے۔۔۔
بیڈ پر لیٹی جنت کو دیکھاجو صدیوں کی بیمارلگ رہی تھی۔۔ بازو پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔۔۔ فوزیہ سکندر نے بیڈ پر بیٹھتے اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے ۔ میں بیٹھ جاؤں وہ ڈرپ کو دیکھتی۔۔۔۔۔۔ کبھی خُبیب سکندر کو دیکھتی ۔۔۔۔۔۔۔جس نے اسے اشارے سے لیٹے رہنے کا کہا تھا۔۔۔۔
ہارون سکندر نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کے بال سنوارے تھے۔ خُبیب سکندر ۔۔۔نے انکے ہاتھوں کو پکڑ کر باری باری بوسا لیا تھا۔۔۔ اب اپنی موم کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ جو بیڈ سے اٹھتے ہی اسکے چوڑے سینے کا حصہ بنی تھی۔۔۔
ایک مہنہ اس نے کس طرح گزارا تھا۔۔۔ یہ وہی جانتا تھا۔۔۔وہ نم آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ نظروں کی پیاس جو بجھ ہی نہیں رہی تھی۔
ڈیڈ آپ لوگ گھر جا کر آرام کریں۔بہت تھک گئے ہوں گے ۔۔۔۔۔ میں نے حدید کو منع بھی کیا تھا۔۔۔۔وہ اب حدید کو گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔میرے پیارے بھیا جانی۔۔۔۔۔۔ آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں آپ کی حکم عدولی کروں گا۔۔۔ ؟میں نے تو ڈیڈ کو خوشخبری سنائی تھی۔وہ اُڑے اُڑے آپکے پاس پہنچ گئے۔۔۔۔
جنت سب کو اتنا خوش دیکھ کر پھیکا سا مسکرائی تھی۔۔۔۔ جو اب اپنی اپنی باتوں میں مشغول تھے۔
*********************************************
خُبیب سکندر ۔۔۔۔ کی آنکھ کھلی تو اسنے ادھر ادھر دیکھا وہ کمرے میں کہیں بھی نہیں تھی۔ یہ کہاں چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نے ابھی کچھ دن مکمل بیڈ ریسٹ کا کہا تھا۔۔۔۔ اسے کمرے میں نہ پا کر اسکی نیند بھک سے اڑی تھی۔
ڈاکٹر سے مشورہ کر کے اسے گھر لے آئے تھے۔۔۔۔ وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔۔۔۔ سامنے وال کلاک پر ٹائم دیکھا دن کے نو بج رہے تھے۔ وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے موبائل میں میسج چیک کرنے لگا۔۔۔۔۔پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ سوتا ہی رہا ورنہ فجر ٹائم اسکی آنکھ کھل جاتی تھی۔
دیوان پر اسکی ہر چیز ریڈی پڑی تھی۔ ونڈوکے سامنے پردے کی وجہ سے کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی آ رہی تھی۔
پردے ونڈو سے ہٹاتے ہوئے وہ وہاں کھڑا باہر کا منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔تیز دھوپ کی وجہ سے اسنے پھر سے ونڈو بند کر دی تھی۔۔۔۔ جسے اِزنا فجر ٹائم کھول دیتی تھی۔۔۔
وہ تو بہت کم ونڈو کھولتا تھا۔۔۔۔ دو دن سے فلیٹ پر بھی نہیں گیا تھا پر وہ موبائل پر ہی ساری ڈیٹیل بتا دیتے تھے۔ آج اسے ہر حال میں تھانے جانا تھا۔۔۔۔وہ عورت دن میں کئی بار فون کر کے پوچھتی تھی ۔۔۔۔اسے آج جانے کا کہا تھا۔اب وہ فریش ہونے کے لئے واش روم کی طرف بڑھا ۔
دروازہ کھلنے پر اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔ تو وہ بت بنی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اب اسنے کچھ بولنے کے لئے اپنے لب کھولے تھے۔۔۔۔ وہ ڈیڈ کہہ رہے ہیں آپ آج ریسٹ کر لیں۔۔۔ وہ سب دیکھ لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب اپنی انگلیاں مروڑتے ہوئے بتا رہی تھی۔ میری چھوڑو تم کہاں گئی تھی ۔۔۔۔؟ منع کیا تھا ۔۔۔۔۔نہ کہ نیچے قدم نہیں اتارو گی ۔۔۔۔ سمجھ نہیں آیا کہ ڈاکٹر نے کیا کہا ہے۔؟
اگر تمہارا یہ ہی حال رہا تو میں تمہیں دوبارہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروا دونگا۔۔۔اسنے نا چاہتے ہوئے بھی لہجہ سخت رکھا تھا۔۔۔
نن۔۔۔نہیں۔۔۔وہ تو بس میں کچن میں کھڑے ہو کر کام دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ اگر آپکو برا لگا ہے تو میں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔وہ اسکے قریب آتے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔میں لیٹ لیٹ کر تھک گئی ہوں، اسکی بڑی بڑی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔۔۔یہ تم بات بات پر روتی کیوں ہو۔۔۔؟
پتہ ہے تمہارے رونے سے پچے کے دماغ پر کتنا اثر پڑھے گا۔۔۔۔ بچے کی فکر ہے میری نہیں وہ منھ میں بڑبڑاتے ہوئے۔۔۔۔بیڈ پر
بیٹھ گئی تھی۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔ اسکی بڑبڑاہٹ کو سنتے ایک ہی جست میں اسکی طرف بڑھا ۔۔۔۔ مقابل کا اس لہجے میں بڑبڑانا بھی برداشت نہیں ہوا تھا۔۔۔
کیا بکواس کی ہے۔۔۔۔۔؟
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھ رہا تھا۔۔۔وہ ہی جو آپ نے سن لی ہے۔۔۔۔ اسے انکا اس طرح بات کرنا اندر تک آگ لگا گیا تھا۔وہ اندیشوں میں گھری اپنے خول سے باہر نکلی تھی ۔
اب اور نہیں سہنا مجھے ۔۔۔۔۔ زندگی پر میرا بھی حق ہے جو خوشیاں اللہ نے میرے مقدر میں لکھی ہیں ۔۔۔میں کیوں ان سے نظریں چراتی پھروں ۔۔۔۔ اگر یہ سب اپنے بچے کے لئے کر رہے ہیں ۔ یہ بچہ میرا بھی ہے۔۔۔۔ اس پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے۔۔۔۔۔ مقابل کو دیکھتے غصے میں اپنا سر جھٹکا تھا۔۔۔۔
لگتا ہے تمہیں عزت راس نہیں ہے۔۔۔
وہ اسکے اس انداز پر بھڑ بھڑ جل رہاتھا۔۔۔۔۔
عزت دی کب تھی ۔۔۔۔۔؟
جو راس آتی وہ بھی سلگتے ہوئے بولی۔۔۔
کیا کہا تم نے۔۔۔۔؟
خُبیب سکندر ۔۔۔۔ کی دھاڑ پر وہ سہم گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ جو اتنے اعتماد سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔ ایکدم نروس ہوتے اپنا رخ دوسری طرف موڑ گئی تھی۔۔۔۔۔جسم خوف سے ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔۔۔۔ وہ اسکے ہچکولے کھاتے وجود کو قہر بار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اس پر مذید سختی کرتا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے ہوش حواس سے جاتی۔۔۔دل تو کر رہا ہے تمہاری جان لے لوں۔۔۔۔ اگر دوبارہ میرے ساتھ اس طرح زبان لڑائی تو سچ میں جان لینے میں دیر نہیں کروں گا۔اسکا رخ ایک ہی جھٹکے میں اپنی طرف کیا۔
سس۔۔۔سوری جنت اسے اتنے غصے میں دیکھ کر نظریں جھکا گئی جانتی تھی۔۔۔ کچھ اور بولی تو وہ کس انداز میں اپنا غصہ اتاریں گے۔۔۔۔ اور وہ اپنی جان پر جھیل نہیں پائے گی۔۔۔۔ مقابل اب اسے چھوڑتے واش روم کی طرف بڑھا ۔۔۔۔ جس پر جنت نے سکون کا سا نس لیا تھا۔۔۔۔ دروازہ بند کرتے اسے گھور کر دیکھنا نہیں بھولے تھے۔ جنت نے بمشکل اپنے ہونٹوں پر امڈتی مسکان پر قابو پایا تھا۔۔۔۔
****************************************************
خُبیب سکندر جیل میں اس عاقب نامی لڑکے سے ملنے آیا تھا۔۔۔ وہ بلیک سوٹ میں ملبوس جو اسکی طرف پیٹھ کر کے کھڑا تھا۔۔۔ وہ تو اسکا انداز دیکھ کر حیران ہوا تھا۔۔۔۔
میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں ۔۔۔میں غریب ضرور ہوں بےغیرت نہیں ہوں۔۔۔ جان سے چلا جاؤں گا۔۔۔۔ لیکن اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔۔
ہمت تو آپ میری دیکھ چکے ہیں۔۔۔۔۔آپ یہ بات مجھ سے ہی کیوں پوچھنے آ جاتے ہیں۔۔۔۔ اپنی بیٹی سے کیوں نہیں پوچھتے وہ کس کے ساتھ بھاگ رہی تھی۔۔۔
مانتا ہوں قانون پیسے والوں کا ہے ۔۔۔۔ میرے جیسے غریب کی کیا اوقات۔۔۔۔؟
وہ خاموشی سےاسکی باتیں سن رہا تھا۔۔۔ جو گہرے درد سے بول رہا تھا۔۔۔۔۔ آواز میں اتنا رعب تھا کے وہ اسکی شکل دیکھنے کا منتظر تھا ۔۔۔۔وہ سمجھ تو گیا تھا کہ وہ کسی لڑکی کے چکر میں پکڑا گیا ہے۔۔۔۔سچ کیا ہے یہ جاننا ضروری تھا۔۔۔ اگر تم مجھے سچ سے آگاہ کرو گے تو میں ضرور تمہاری مدد کروں گا۔۔۔اسکے خاموش ہونے پر خُبیب سکندر ۔۔۔۔نے کہا۔۔۔۔ جس پر عاقب نامی لڑکے نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔
آپ کون۔۔۔۔۔؟
اب وہ اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ کیا اللہ نے اسکی دعائیں سن لی تھیں۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے اس لڑکے کو دیکھا جو چوبیس پچیس سال کا لگ رہا تھا۔۔۔ اسکا سرخ و سفید رنگ ایسے جیسے اسکے چہرے پر نور ہی نور تھا ہاتھ میں تسبیح پکڑی ہوئی تھی۔۔۔ شاید یہ اسکی ماں اور بہنوں کی دعائیں تھیں۔۔۔۔
جو ابھی تک بچا ہوا تھا ورنہ جس طرح کا کیس اس پر بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔ اسکا جیل سے نکلنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔
میں پوچھ سکتاہوں آپ کون ہیں۔۔۔۔؟
اور میری مدد کیوں کرنا چا ہتے ہیں۔؟
”تمہیں آم کھانے سے غرض ہونی چاہئے پیڑ گننے سے نہیں۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے اسے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔”
مجھے بتاؤ ایسا کیا ہوا تھا۔۔۔۔ ؟جس کی سزا تم بھگت رہے ہو۔۔۔۔ خُبیب سکندر سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
”تو پھر سنیں۔۔۔۔”
نیکی کرنے کی سزا بھگت رہا ہوں ۔۔۔۔ کہتے ہیں انسان کو حق ناحق دونوں سے بچنے کی دعا مانگنی چاہئے ۔۔۔۔۔
گرمیوں کے دن تھے۔۔۔ دوپہر کا وقت تھا۔۔۔۔ سنسان سڑک پر دور دور تک کوئی بشر نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔
ایک لڑکی کالی چادر کا نقاب کئے آ رہی تھی۔اتنی شدید دھوپ اس دن لگ رہا تھا جیسے سورج آگ برسا رہا ہو۔۔۔۔ میں موٹر سائیکل پر سوار تھا۔۔۔اسنے ہاتھ کے اشارے سے مجھے رکنے کا کہا۔۔۔ پہلے تو دل کیا کے نہیں میں چلتا ہوں ۔۔۔ دوسرے لمحے خیال آیا کہ عورت ذات ہے۔۔۔پوچھ لیتا ہوں ۔۔۔
میں نے اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر کے پوچھا تو کہنے لگی ۔۔۔۔۔ مجھے بس ا سٹاپ تک چھوڑ دیں گے ۔۔۔۔ پہلے تو دل کیا انکار کر دوں پھر سوچا کے میں بھی بہنوں والا ہوں یہ سو چتے میں نے اسے بغیر تحقیق کئے اپنے ساتھ بٹھا لیا میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ لڑکی گھر سے بھاگ کر آئی ہے۔۔۔۔
اسکے بھائی اسکا پیچھا کرتے ہوئے آئے تو میرے موٹر سائیکل پر اپنی بہن کو بیٹھا دیکھ کر مجھ پر ٹوٹ پڑے۔۔۔۔مار مار کر مجھے پولیس کے حوالے کر دیا۔۔۔۔ میری بات ہی نہیں سنی۔۔۔۔اور ان میں ایک نے اپنی ٹانگ پر گولی چلا کر مجھ پر قاتلانہ حملے کا کیس کروا کر جیل میں بند کروا دیا۔۔۔ جو ظلم انہوں نے میرے ساتھ کیا وہ آپ سن ہی نہیں سکیں گے۔۔۔۔ خیر انکی عزت تو بچ گئی ۔۔۔۔۔میں نے ہر ظلم برداشت کیا۔۔۔ لیکن اپنی بات پر قائم رہا۔۔۔ اور رہوں گا۔۔۔نہ میں نے اس پر گولی چلائی نہ میں اس گناہ کو تسلیم کروں گا۔۔۔۔۔بتاتے ہوئے اسنے کئی بار اپنے دل پر ہاتھ رکھا میرا باپ اس دنیا سے اس غم میں رخصت ہو گیا۔۔۔۔ میرے گھر والوں سے رہنے کے لئے چھت چھین لی۔۔۔۔۔
اب اگر میں جیل سے باہر آ بھی گیا تو انکے سارے خواب چھینوں گا۔۔۔۔ وہ عزت جس کو بچانے کے لئے مجھے انہوں نے پل پل مارا ہے۔۔۔ وہ ہی عزت میں انکی خاک میں ملاؤں گا۔۔۔۔۔اس کے لہجے کا درد محسوس کرتے وہ خاموش رہا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اسکی آخری باتیں سن کر وہ کافی پریشان ہوا تھا۔۔۔۔
پھر تو تمہارے باہر آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے تمہاری ماں اور بہنیں یہ سب برداشت نہیں کر سکیں گی۔۔۔۔ اتنی بہنوں کا بھائی اس طرح کی لڑایاں لڑے گا تو بہنیں دہلیز پر بیٹھی رہیں گی۔۔۔۔ ماں تو جیتے جی مر جائے گی۔۔۔۔
وہ جو انہوں نے کیا۔۔۔۔ اللہ انہیں سزا دے گا۔۔۔۔ میں تمہیں اس شرط پر باہر نکلوا سکتا ہوں کہ تم باہر آکر اس طرح کا کوئی کام نہیں کرو گے ۔۔۔۔
دو دن کا میں تمہیں وقت دیتا ہوں ۔۔۔۔ تم اچھی طرح سے سوچ لینا ۔۔۔
میں دو دن بعد آؤں گا۔۔۔۔ خُبیب سکندر یہ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔
********************************************
