Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 18)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 18)
Ehsaas By Raheela Bano
جنت کر روٹیں بدل بدل کر تھک گئی تھی سونے کی کوشش کے باوجود بھی نیند اس پر مہربان نہ ہوئی۔۔اندھیرے میں اسے کچھ بھی دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔
رات کی تاریکی میں اسے لگ رہا تھا کہ وہ اس تاریکی میں کہیں کھو گئی ہے۔۔۔کوئی بھی نہیں ہے جو اسے راستہ بتا دے۔۔۔ کوئی ہے جو مجھے مایوسیوں سے نکال دے۔۔۔ زندگی میں کتنے بڑے بڑے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔۔۔۔ یااللہ مجھے ہمت اور حوصلہ دے۔۔۔ یااللہ میں تھک گئی ہوں۔۔۔مجھے بھی سکون چاہئے۔۔۔
میں ان کو سمجھ کیوں نہیں پا رہی۔۔۔؟
وہ یہ سوچتے الجھ سی جاتی۔۔
انکی بے رخی کا سوچ کر دل میں درد سا اٹھتا۔۔۔۔ کتنا دل کرتا تھا کے وہ پیار سے بات کریں ۔۔
کب چاہتی ہوں کے میری تعریف میں قصیدے پڑھیں۔۔۔۔ ؟
بس اتنی سی تو خواہش تھی۔۔۔ اب یہ احساس اسکے دماغ پر اتنا حاوی تھا۔۔۔ پر انہوں نے جو اپنے گرد حصار کھینچ لیا تھا ۔وہ اس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے تھے ۔۔۔۔
”کیوں مجھے قصوروار سمجھتے ہیں۔ ؟”
اب اسکی بند پلکوں کو بگھوتے آنسو تکیے کو بھگو رہے تھے ۔۔۔۔۔ کتنی دیر وہ اسی طرح بے آواز روتی رہی۔۔نیند کو بھی اس پر رحم نہیں آیا تھا ۔۔۔ جتنا ظالم اور بے رحم ساتھ لیٹا شخص بنتا اس سے زیادہ بے رحم اور ظالم یہ رات بنتی تھی۔۔۔
اسکے رونے کی آواز سن کر خُبیب سکندر کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔اسنے سائیڈ ٹیبل پر پڑا لیمپ آن کیا تھا۔۔۔۔ تم رو رہی ہو۔۔۔۔وہ نرمی سے بولا تھا۔۔۔
نہیں تو۔۔۔۔ وہ اپنے بھیگے لہجے پر قابو پاتے بولی ۔۔۔۔ اچھا پھر سو جاؤ۔۔۔ وہ لیمپ آف کرتے ہوئےبولا۔۔۔۔اتنی دیر میں آذان کی آواز پر وہ
اٹھ کے بیٹھی تھی۔آنکھیں پھر پانی سے بھر گئی تھیں۔۔۔ کوئی نہیں ہے۔۔۔جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس خوفناک تنہائی سے نکال دے ۔۔۔ یا اللہ کوئی معجزہ دیکھا دے۔۔۔۔ درد سے اسکا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔وہ اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتے۔۔۔۔بے آواز قدموں سے چلتی آہستہ سے دروازہ کھولتی روم سے باہر نکلنے ہی لگی تھی۔۔۔
کہاں جارہی ہو۔۔۔۔؟
مقابل کی آواز سن کر سکتے میں آئی تھی۔۔۔۔وہ میں نماز پڑھنے جارہی ہوں۔۔۔۔وہ قدرے دھیمے لہجے میں بولی۔۔۔۔
ادھر روم میں ہی پڑھ لو میں جاگ رہا ہوں وہ اپنی رعب دار آواز میں بولے تھے۔۔۔۔
جنت نے کمرے کی لائٹ آن کی ۔۔۔۔ تو وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔۔۔۔
آپ جاگ رہے ہیں۔۔۔۔ وہ بمشکل بولی تھی۔۔۔۔
” میں سویا ہی کب ہوں۔۔۔؟”
وہ بھی بڑے رسان سے بولے تھے۔۔۔۔ جنت ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔۔کتنی ہی دیر وہ اسے ایسے ہی دیکھتی رہی۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔اسکی آنکھوں میں اترتے رنگ دیکھ کر گہرا مسکرایا تھا۔۔۔۔
”اب کیا اسی طرح دیکھتی رہو گی۔۔۔۔ ؟”
وہ ان کی آواز پر اپنے حواسوں میں آئی تھی۔۔۔۔ اب وہ گم صم سی کھڑی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ پتہ نہیں میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔۔۔؟
وہ دل ہی دل میں ندامت محسوس کرتی واش روم کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
***********************************
خُبیب سکندر ۔۔۔۔ اپنے آفس میں بیٹھا ۔۔۔۔نم آنکھوں سے اپنےموبائل پر اپنے ڈیڈ کی تصویر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ڈیڈ اتنا کام کرتے تھے وہ یہ سوچ سوچ کر حیران ہوا تھا۔تین دن رہ گئے تھے انکے آنے میں وہ روز اپنی انگلیوں پر دن گنتا تھا۔۔۔۔۔
یہ ایک مہنہ اسے صدیوں کے برابر لگ رہا تھا۔۔۔بے شک وہ ناراض تھا لیکن اسے دیکھتا اور سنتا تو تھا۔۔۔۔ کتنی مشکل سے دن گزر رہے تھے۔۔۔۔
وہ صبح آٹھ بجے آفس آتا پھر رات نو بجے کے بعد اپنے فلیٹ پر ان لڑکوں کے پاس اور پھر بارہ بجے کے بعد وہ گھر جاتا تھا۔۔۔۔ جب سے نیا پرو جیکٹ شروع کیا تھا۔۔۔ وہ تو سونا بھی بھول گیا تھا۔۔۔بمشکل ہی دو گھنٹے سوتا تھا۔۔۔۔وہ سب بڑی مشکل سے ہینڈل کر رہا تھا۔۔۔۔ڈیڈ کے آنے پر ہی یہ پریشر کم ہونا تھا۔۔۔۔ آئی مس یو ڈیڈ وہ چئیر سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں بند کئے بولا تھا۔۔۔
گھر جاتا تو عجیب سناٹا ہوتا۔۔۔۔اسے اس سناٹے سے وحشت سی ہونے لگتی تھی۔۔۔
لیٹ جانے پر وہ والدہ سے کئی بار ڈانٹ کھا چکا تھا۔۔۔ وہ خاموش مورتی جو اب بولنا ہی بھول گئی تھی۔۔۔ اسکی سفید سرخی مائل رنگت میں پہلے کی طرح نکھار نہیں رہا تھا۔۔۔ اسکی بڑی بڑی آنکھوں پر سیاہ حلقے بن گئے تھے۔
وہ اسکے ساتھ جاگتی تھی۔۔۔ پر بات جھجک کر کرتی تھی۔۔ ان دو مہنوں میں اسکی بڑی گہری نظر اس پر ہوتی تھی۔۔۔۔ وہ موم کی غیر موجودگی میں بڑھے اچھے طریقے سے گھر کو سنبھال رہی تھی۔۔۔
تم بچی نہیں ہو اب تم خُبیب سکندر کی بیوی ہو۔۔۔خود کو ایک لڑکی نہیں ایک عورت سمجھا کرو۔۔۔۔۔اسکے خوف سے ہر بات پر اثبات میں سر ہلا دیتی تھی۔۔۔
اسکے بعد اس نے سچ میں خود کو بدل لیا تھا۔۔مزاج میں بھی کافی ٹھہراؤ آگیا تھا۔۔۔ ہر روز وہ اسے ایک نیے انداز سے متاثر کرتی۔۔۔
ہونٹوں پر سجی دھیمی مسکان اسے دیکھتے ہی اسکے ہونٹوں سے اسکے چہرے پر عیاں ہوتی تھی۔۔۔۔
جسے دیکھتے ہی وہ اپنی آنکھوں میں اترتا خمار روک نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
ایک عجیب سی ہلچل اس کے اندر برپا ہو جاتی۔۔۔۔ وہ اپنی تشنگی مٹا کر پرسکون سا سو جاتا تھا۔۔۔۔ لیکن رات وہ اسکے بعد سونہیں سکا تھا۔۔۔
کیا وہ ہر روز ہی ایسے ہی جاگتی تھی۔۔۔۔۔؟
اسکی دبی دبی سسکیاں اس وقت تو اسے اپنی بیوی سمجھتا تھا۔۔۔۔کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ بہت چھوٹی ہے۔۔۔۔
آج جلدی جا کر اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤں گا۔۔۔
اسنے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔
****************************************
خُبیب سکندر ۔۔۔۔اب عجلت میں آفس سے باہر نکلنے ہی لگا تھا۔۔۔۔ جب اچانک حیدر آفس میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ خُبیب سکندر حیدر کو یوں اچانک آفس میں دیکھ کر حیران ہوا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اس نے سختی سے منع کیا تھا۔۔۔ جتنی بھی ایمرجنسی ہو آفس میں نہیں آنا۔۔۔
سوری سر۔۔۔۔۔۔!!
اس عورت نے مجبور ہی بہت کیا ۔۔۔۔؟؟
مجھے فلیٹ میں لے جانا مناسب نہیں لگا۔۔۔۔۔۔ اس لئے میں اسے یہاں لے آیا۔۔۔۔آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔ وہ بڑے ادب سے بولا تھا۔۔۔۔۔۔
کہاں ہے وہ عورت ۔۔۔۔۔؟
اب غلطی سے بھی ایسی غلطی مت کرنا۔۔۔۔وہ اسے وارن کرتے بولا تھا۔۔۔۔
سر۔۔۔ وہ رو ہی اتنا رہی تھی۔۔۔۔ مجھے اس پر ترس آگیا۔۔۔۔تم اس طرح کرو اس سے پوری تفصیل لے لو اور اسے کہنا صبح آئے ۔۔۔۔میں زرا جلدی میں ہوں۔۔۔۔
نہیں سر۔۔۔۔۔وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے ۔میں نے تم لوگوں سے کہا تھا کہ تم ان سے پوچھ کر پھر پوری تسلی کرو گے۔۔۔۔
کہ کیا وہ سچ میں ضرورت مند ہیں۔۔۔؟
بے فکر رہے سر۔۔۔۔ہم یہ کام پوری ایمانداری سے نیکی سمجھ کر کر رہے ہیں۔۔۔۔
سر یہ مجھے سچ میں ضروت مند لگی ہے ۔۔۔۔ حیدر اپنا ماتھا مسلتے ہوئے کہا۔
بلاؤ اسے ۔۔۔۔ وہ جتنی جلدی گھر جانا چاہ رہا تھا اتنی ہی دیر ہو رہی تھی۔
موبائل پر میسج ٹون سن کر اسنے ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھایا تھا۔۔۔ اس سے پہلے وہ دیکھتا حیدر اس عورت کے ہمراہ آفس میں داخل ہوا۔۔۔
وہ عورت مکمل پردے میں تھی۔ آنکھیں بھی بمشکل نظر آ رہی تھیں۔
جی ۔۔۔۔۔بتائیں آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔؟
اس سے بات کرنے کے درمیان اسنے اپنی نگاہیں نیچی ہی رکھی تھیں۔
سر میرا بیٹا بے قصور ہے ۔۔۔۔وہ جیل میں ہے میری سات بیٹیاں ہیں ۔ میرا شوہر اس غم میں ہی دنیا سے چلا گیا ۔۔۔۔۔ میرے بیٹے نے مجھے سے قسم لی کہ اسکی بہنوں کو کسی کے گھر کام پر نہ بھیجوں۔۔۔۔ گھر تھا وہ بھی ظالموں نے لے لیا ۔۔۔ پھر بھی میرے بیٹے کو جیل سے رہا نہیں کروایا۔۔۔۔
گاؤں سے بچیوں کو شہر میں لے کر آئی ہوں۔۔۔ کرائے کا گھر ہے رہنے کے لئے چھت بھی نہیں ہے ۔۔۔ آپ بس میرے بیٹے کو رہا کروا دیں۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا۔۔۔
خُبیب سکندر نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔۔ حیدر تم ان سے پوری معلومات لے لو۔۔۔۔
جی سر۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔
میں کل یہی آپ کے پاس آ جاؤں گی ۔۔۔۔۔ اسکی بات پر خُبیب سکندر حیدر کو گھور کر دیکھتے ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھاتے آفس سے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔
اسے جاتے دیکھ کر وہ عورت بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔۔ خُبیب سکندر کے قدم وہی تھمے تھے۔سر میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔ اب وہ روتے ہوئے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔۔۔۔
اسے اپنے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی دیکھ کر اسنے اپنے جبڑے سختی سے بھنچے تھے۔ دیکھیں اس طرح کرکے آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں ۔جب میں نے کہہ دیا ہے کہ اپنی پوری کوشش کروں گا تو آپ کو میری بات پر یقین رکھنا چاہئے۔
اور اپنے بیٹے سے کہنا جو بھی بات ہے۔ مجھے سچ سچ بتائے۔۔۔ اس عورت نے اپنے بیٹا کا جرم نہیں بتایا تھا۔۔۔ جی آپ فکر نہ کریں۔وہ آپ کو سچ بتائے گا۔۔۔۔ میرا بیٹا جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔۔ میں نہ بھی کہوں تووہ آپ کو سچ ہی بتائے گا۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بڑے وثوق سے بولی تھی۔۔۔۔
اب آپ میرے ساتھ چلیں حیدر نے اسے کہا تو وہ روتے ہوئے اسکے ساتھ چل دی۔۔۔
خُبیب سکندر نے اٍزنا کو تیار رہنے کا کہنے کے لئے موبائل پر میسج کرنے کے لئے جیسے ہی موبائل آن کیا تو اسکا مسیج ۔۔۔۔میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے میں مر جاؤں گی ۔۔ آپ جلدی آ جائیں۔۔۔۔ پڑھتے ہی موبائل کوٹ کی جیب میں ڈالتا عجلت میں آفس سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔
*******************************************************
جنت نے رو رو کر خود کو ہلکان کر لیا تھا۔۔۔۔ ان کے نزدیک میری بات کی اہمیت ہی نہیں ہے۔۔۔۔ سر شدید درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔۔۔وہ بار بار مو بائل اٹھا کر دیکھتی پہلے تو میسج سین ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
اب اگر کیا ہے۔۔۔۔۔؟ تو کو ئی رسپانس ہی نہیں دیا تھا ۔اتنی دیر ہو گئی ہے ۔ اس نے دکھ سے سوچا۔۔۔۔ اندر کا ڈر اب اسے کے چہرے پر بھی عیاں تھا۔۔۔۔
وہ کونسا مجھ سے خوش ہو تے ہیں۔ جو میری فکر کریں گے ۔۔۔۔ اب میں انہیں کبھی کال نہیں کروں گی۔۔۔۔ نہ ہی میسج کروں گی۔۔۔ نہ ہی ان سے بات کروں گی۔۔۔۔ صبح کس طرح مجھ سے اتنی محبت سے بات کر رہے تھے۔۔۔۔رعب بھی بلکل نہیں ڈالا تھا۔۔۔۔
بس اتنی سی تو خواہش تھی کہ وہ پیار سے بات کریں۔۔۔۔اپنی اتنی سی خواہش پوری ہونے پر شکرانے کے دو نفل بھی پڑھ دیئے تھے۔
وقت اور حالات سے اتنا ڈر گئی تھی۔۔۔ وہ اپنے مقدر سے تو نہیں لڑ سکتی تھی۔۔۔اچھا مقدر پانے کے لئے خدا سے دعا تو کر سکتی تھی۔۔ جو وہ کرتی تھی۔۔۔
وہ چاہتے نہیں ہیں تو چاہنے لگے گے۔۔۔۔۔والدہ کے لفظ اسکی سماعتوں سے ٹکرائے تھے ۔
جو بیوی اپنے شوہر کو عزت دیتی ہے۔۔۔۔نہ۔۔۔۔۔ وہ ایک دن اسکا دل جیت لیتی ہے ۔۔۔۔۔ تم کم عمر ہو اور خوبصورت بھی۔۔۔۔اور جو تم اسے اتنی عزت دیتی ہو نہ۔۔۔۔ دیکھنا جلد ہی تم اسکا دل بدل دو گی۔۔۔۔۔
انکا پروقار اور دھیما لہجہ۔۔۔ ان کا بات کرنے کا انداز وہ تو خود ایک ساحر تھے۔۔۔۔ میں اس ساحر کو کیسے بدل سکتی ہوں۔۔۔۔وہ خود سے ہی الجھنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
”اِزنا۔۔۔۔۔۔”
وہ ابھی تو اس ساحر کے بارے میں سوچ رہی تھی۔انکے پکارنے پر اپنی آنکھیں زور سے بند کی تھی۔۔۔۔ وہ اپنے دل میں سوچ چکی تھی ان سے بات نہیں۔۔۔ کرنی۔۔۔ تو نہیں کرنی۔۔۔۔ اسنے اپنی آنکھیں ہنوز بند ہی رکھیں۔۔۔۔
” اِزنا۔۔۔۔!”سر پر مالش کرنے والے انداز میں انگلیاں پھیری تھیں۔۔۔انکے اتنے نرم لہجے پر اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔ لیکن بولی کچھ نہیں تھی۔۔۔
تمہاری طبعیت ٹھیک ہے کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔؟
وہ اس طرح انکے نرمی اور فکر سے پوچھنے پر ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔
خُبیب سکندر نے اسکے اس طرح دیکھنے پرپریشانی سے اسکی پیشانی کو چھوا۔۔۔۔۔ جو یخ ٹھنڈی تھی۔۔۔۔ وہ اب اسے کےباری باری ہاتھ پکڑ کر مالش کرنے لگا۔۔۔۔ جو برف کی طرح ٹھنڈے تھے۔خُبیب سکندر۔۔۔۔نے اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر اسکے گال کو تھپک رہا تھا۔۔۔۔۔جنت نے اپنی آنکھیں زور سے بندکر لیں۔۔۔۔ وہ اسکی فکر کو محسوس کر رہی تھی۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔نے جیب سے موبائل نکالتے کرن کو میسج کیا تھا۔۔۔۔ کہ وہ کسی اچھی سی لیڈی ڈاکٹر کو گھر بھیجے۔۔۔۔ میسج سینڈ کرتے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتے اسکی بند آنکھوں کو دیکھتے پریشانی سے پکارا تھا۔۔۔۔
“اِزنا۔۔۔۔۔ ” آنکھیں کھولو۔۔۔۔ اس ساحر کے مخصوص انداز پر ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی ۔۔۔۔۔۔ نظریں انکے چہرے کا طواف کرنے لگی۔۔۔۔وہ انکی سحر انگیز آنکھوں میں کھو گئی تھی جن میں اسکی فکر واضح نظر آ رہی تھی۔۔۔
جنت اسکی اتنی سی توجہ پر پگھلنے لگی تھی۔۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں اسکے بس ہونٹ ہی ہلے تھے۔۔۔۔ دل میں درد سا اٹھا تھا۔۔۔۔ وہ اپنا ہاتھ دل پر رکھ گئی تھی۔
یہاں درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔؟
انکی بات سن کر اسنے نفی میں سر ہلا تے اپنی لرزتی پلکوں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں وہ بمشکل بولی تھی۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ دوسری طرف رکھ موڑ گئی ۔۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے اسکا رخ اپنی اپنی طرف کیا۔۔۔۔ ابھی تک وہ برف کی طرح ٹھنڈی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آ جائے گی۔۔۔۔ وہ خود ہی دیکھ لے گی۔۔۔جنت نے ڈرتے ہوئے اسک طرف دیکھا تھا۔۔۔۔ اسکے اس طرح دیکھنے پر خُبیب سکندر نے اسے نرمی سے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔
وہ مجھے دو دنوں سے نیند نہیں آ رہی ۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔ دن میں سو جاتی ہو نہ اس لئے نہیں آتی ہوگی۔۔۔۔ وہ نرمی سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔
نہیں مجھے دن میں بھی نہیں آتی ۔۔۔۔ اب مجھے لگ رہا ہے میرا سر پھٹ جائے گا ۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولی۔۔۔۔
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔؟
خُبیب سکندر اب پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
********************************************
