930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 2)

Ehsaas By Raheela Bano

کوثر صدیق جنت کا ہاتھ پکڑے مسلسل رو رہی تھی۔جنت مجھے گھر لے چلو مجھے یہاں نہیں رہنا میں زندگی کے جو چند سانس ہیں اپنے گھر میں لینا چاہتی ہوں۔

خدا کے لئے میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔مجھے یہاں سے لے چلو۔ جنت اپنی ماں کے دونوں ہاتھ پکڑے سسک پڑی تھی۔

” یاالہی”۔۔۔

یہ کیسا درد ہے۔۔۔۔ ؟

”کہ ۔۔۔میں اپنی ماں کو تسلی بھی نہیں دے سکتی۔۔۔۔یا الله ۔۔۔ غریبی لکھی تھی تو بے بسی نہ لکھتا۔۔۔بے بسی لکھی تھی تو یہ بیماری نہ لکھتا”

” یا اللہ ”غریبی بھی جھیل رہی ہوں۔۔۔۔اور بے بسی بھی لیکن ۔۔۔۔۔۔ماں کی بیماری نے مجھے توڑ کر رکھ دیا ہے۔”یا اللہ” ۔۔۔ماں کی اس بیماری نے مجھے مانگنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔”

مجھ سے یہ میری آخری امید مت چھیننا۔۔۔میری دنیا تو اپنی ماں سے شروع ہوتی ہے اپنی ماں پر ہی ختم ہوتی ہے۔۔۔”یا الہی”تو اپنے بندے سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے ۔میری ماں اور میری تڑپ سے اتنا بے نیاز کیوں ہے؟

ہم پر رحم کیوں نہیں آتا۔۔۔۔؟؟

وہ ابھی اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے رب سے شکوہ کر رہی تھی ۔۔اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس کرتے سر اٹھا کر پیچھے دیکھا۔۔۔ ہارون سکندر کو دیکھ کر وہ جلدی سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔

جنت۔۔۔مجھے خُبیب۔۔۔۔ نے بتایا ہے۔کہ تمہارے رشتےدار ہیں اگر آپ لوگ کہیں تو میں ان سے بات کرتا ہوں۔ہارون سکندر ۔۔۔۔نے پرکھتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھا جو اب اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔

انکل ایسے رشتے دار جنہوں نے۔۔۔۔۔میری ماں کو دھکے دےکرگھرسے باہر نکال دیا۔۔۔جو بھائی بہنوں کامان ہوتے ہیں اس نے پلٹ کر اپنی بہن کی خبر نہیں لی۔۔۔ پتہ ہے میں اپنے تایا کے گھر گئی میری تائی نے مجھے ملازموں سے کہہ کر باہر نکلوا دیا۔۔۔یہ تھی ان کی نظر میں میری اوقات۔۔۔۔۔

” سچ کسی نے کہا ہے۔۔۔۔جب اپنی اوقات کسی کی نظر میں دیکھ لو تو پھر کبھی اس جگہ دستک مت دو”۔

کوثر صدیق ۔۔۔۔۔جو ناسمجھی کے عالم میں اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر بہہ رہے تھے۔۔۔جنت میری بچی۔۔۔۔

تکلیفوں سےگزرے بغیر کیسے پتہ چلے گا۔۔۔۔۔؟

میرا رب مشکلوں کو دور کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

بن مانگے ہی مل جائے۔۔۔۔۔ تو کیسے یقین ہو گا۔۔۔کہ۔۔۔۔ میرا رب دعاؤں کو سننے والا ہے۔۔۔۔

سب دروازے جب تک بند نہ ہوں۔۔۔ تو کیسے پتہ چلے گا۔۔۔۔کہ۔۔۔اللہ کے فضل کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔۔۔۔

وہ ایک نظر اپنی بیٹی اور ہارون سکندر کی طرف دیکھتے گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔۔۔

*******************************************

ہارون سکندر۔۔۔۔کوثر صدیق کی فائل پکڑے گم صم سا بیٹھا اپنے ماضی میں کھو گیا تھا ایسے ہی ہاسپٹل میں ڈاکٹر نے اس کی ماں کے بارے میں بتایا تھا تین سال کا تھا جب باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔۔۔۔پندرہ سال کی عمر میں ماں بھی اسے اس بھری دنیا میں تنہا چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔

اسے اپنا مٹی کا کچا گھر یاد آیا۔۔۔اسے وہ وقت یاد آیاجب اسے بھوک لگی گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا وہ بیس کلومیٹر سفر پیدل کر کے اپنے دوست عادل۔۔۔۔۔ کے گھر کھانے کی غرض سے گیا۔۔۔۔لیکن ضمیر نے نے مانگنے کی اجازت نہ دی۔۔۔۔

وہاں اس کے ماموں شہر سے آئے تھے اسے ملازم کی ضروت تھی۔۔۔۔عادل کے کہنے پر بھوکا پیاسا اس کے ماموں کے ساتھ شہر روانہ ہوا۔۔۔وہاں پر ایک سال کام کیا۔۔۔۔

جب تنخواہ کا مطالبہ کیا تو اس نے چوری کے الزام میں اسے جیل بجھوا دیا۔۔۔۔ اسکی زندگی میں کتنا کٹھن وقت تھا۔جیل میں گزارے ہوئے وہ چند ماہ یاد آئے تھے۔ارحم صاحب۔۔۔۔وہ بھی بے گناہ پکڑا گیا تھا۔اسنے اپنے ساتھ ہارون سکندر کی بھی ضمانت کروا لی تھی۔

سولہ سال کی عمر میں ہارون سکندر۔۔۔۔ نے پہلاسبق سیکھا تھا ۔

کہ کسی کے سامنے خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا۔۔۔۔۔

اگر وہ عادل کے ماموں کو اپنی جیب کا بھرم نہ دیتا تو وہ کبھی بھی اس پر اتتنا گھٹیا الزام نہ لگاتا۔۔۔۔۔۔۔

خالی جیب ہونے کے باوجود اس نے ارحم صاحب ۔۔۔۔۔ کے سامنے خود کو بہت مضبوط انسان ظاہر کیا تھا۔ ہارون سکندر نے گاؤں جا کر اپنی زمین ٹھیکے پر دے دی۔۔۔

لاہور آ کر ارحم صاحب۔۔۔۔ کے مشورے سے کالج میں ایڈمشن لے لیا۔۔اور سیکنڈ ٹائم ایک میڈیکل سٹور پر جاب کرنے لگا۔

ایم بی اے کے دوران یونی میں فوزیہ نامی لڑکی اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔۔۔۔

اس نے ہارون سکندر ۔۔۔۔۔کی زندگی میں تنہائی کو ختم کر دیا۔۔۔۔۔ہارون سکندر نے دس سال تنہائی کاٹی تھی جب کبھی وہ اپنے ان لمحوں کو یاد کرتا تو لرز جاتا تھا۔اپنی تعلیم کے دوران مختلف کمپنیوں میں کام کیا۔۔۔۔۔

ایم بی اے مکمل ہونے کے بعد گاؤں میں اپنا گھر اور زمین بیچ کر لاہور میں ہی اپنا بزنس شروع کیا۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اسے اتنا نوازہ۔۔۔ آج اسکا شمار ملک کے نامور بزنس مین میں تھا۔اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ہارون سکندر ۔۔۔۔نے اپنا ماضی اپنی بیوی اور بچوں پر عیاں نہیں کیا تھا ۔

آج اس لڑکی کو روتے تڑپتے دیکھ کر اسے اپنا ماضی یاد آیا تھا۔

انکل۔۔۔۔۔۔

اسکی آواز پر ہارون سکندر نے اپنی بند آنکھیں کھولی تھی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔

”جی بچے۔۔۔۔ہارون سکندر ۔۔۔۔۔نے پیار سے کہا تھا۔”

انکل۔۔۔۔ڈاکٹر نے کیا کہا ہے۔۔۔۔۔۔؟

میں امی کو گھر لے جا سکتی ہوں۔ہارون سکندر۔۔۔۔۔ نے حقیقت اس سے چھپائی تھی۔ وہ وقت سے پہلے اسے اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

نہیں بچے۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے کہا ہے۔۔۔۔؟ کہ ابھی تک وہ ٹھیک نہیں ہوئیں جیسے ہی کچھ بہتر ہوں گی ،تو ہم انہیں لے جا سکتے ہیں۔ہارون سکندر ۔۔۔۔۔نے ٹھہر ٹھہر کر اسے بتایا تھا۔

لیکن انکل ۔۔۔۔۔ امی ضد کر رہی ہیں۔ آپ ہی بتائیں میں کیا کروں۔۔۔۔؟ مجھ سے انکی حالت دیکھی نہیں جا رہی وہ بھیگے لہجے میں بولی تھی۔

میں ایک بار پھر ڈاکٹر سے بات کر کے دیکھتا ہوں یہ کہتے ہوئے ہارون سکندر۔۔۔۔۔ نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔جنت اس فرشتہ صفت انسان کو دیکھ رہی تھی۔ جس نے اس برے وقت میں اسے تنہا نہیں چھوڑا تھا۔

****************************************”********

ہارون سکندر۔۔۔۔۔ کمرے کے وسط میں مضطرب سا چکر لگا رہا تھا۔ اتنے دنوں میں اسے اس بچی کے ساتھ انسیت سی ہو گئی تھی۔ بلکہ اب اس کا دل بلکل بھی انہیں تنہا چھوڑنے کو نہیں تھا۔یہ سن کر ہی اس کا دل لرز گیا تھا ،کہ جنت نو سال کی تھی جب سے اس کی والدہ فالج کی حالت میں ہے۔

”یا اللہ” اتنی بڑی آزمائش۔۔۔۔۔۔وہ مرد ہو کر بری طرح لرز گیا تھا۔

چھوٹا سا گھر لیکن ہر چیز نفاست سے رکھی ہوئی تھی۔دونوں کمروں میں سامان پرانا تھا۔پر بڑی نفاست سے رکھا گیا تھا۔صحن ٹوٹا پھوٹا لیکن صاف ستھرا تھا۔

وہ آج ہاسپٹل سے واپسی پر ان کے گھر ہی ٹھہرا ہوا تھا۔انکل۔۔۔۔۔وہ جنت کی پکار پر اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔

جنت بچے۔۔۔۔۔جی انکل ۔۔۔۔جنت نے بڑی فرمانبرداری سے کہا۔۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ تم اپنے ماموں سے رابطہ کرو ہو سکتا ہے تمہاری والدہ انہیں دیکھ کر کچھ سنبھل جائیں۔۔۔۔۔۔انکل۔۔۔۔۔ آپ امی سے خود بات کریں۔

شاید وہ آپ کی بات مان لیں۔۔۔۔۔اور میں آپ کے لئے کیا بناؤں۔۔۔۔۔؟کچھ منگوانے کی ضروت نہیں ہے میں نے کھانا آڈر کر دیا ہے۔جنت انہیں دیکھ کر پھیکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اتنا بڑے آدمی ہیں۔

جنت نے دل ہی دل میں اسے ڈھیروں دعاؤں سے نوازا تھا۔۔۔

*******************************************

ہارون سکندر۔۔۔۔ چار دنوں بعد اپنے گھر آیاتھا۔اپنے روم میں انٹر ہوتے ہی پہلی نظر بیڈ پر لیٹی اپنی بیوی پر پڑی ۔۔۔۔۔ جو اسے دیکھتے ہی بیڈ سے نیچے اتری تھی۔

ہارون سکندر ۔۔۔۔نے اپنی بیوی کی حالت دیکھ کر خود کو کوسا تھا۔وہ روتے ہوئے اس کے سینے سے لگی تھی۔

آپ کہاں چلے گئے تھے۔۔۔۔؟

میری کال بھی اٹینڈ نہیں کر رہے تھے۔وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ کہیں نہیں گیا تھا میری جان!!

ہارون سکندر۔۔۔۔۔ نے پیار سے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھے تھے۔

اسکی آنکھوں سے لگ رہاتھا کہ وہ رات بھر سوئی نہیں تھی۔۔۔۔

کمال کرتی ہو بیگم ۔۔۔۔اب تو بچوں کے بھی بچے ہو گئے ہیں۔اگر وہ آپ کو اسطرح دیکھ لیں تو کیا سوچیں گے۔۔۔۔؟

اس میں شک نہیں اس کی بیوی اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کی وہ اس سے اتنے دن دور رہاتھا۔ وہ ابھی تک اسکے سینے کے ساتھ لپٹی شدت سے رو رہی تھی۔ہارون سکندر۔۔۔۔۔ نےاسے اپنے سینے سے الگ کرتےہوئے اسکے آنسو اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کرتے ہوئے اسے نرمی سے بیڈ پر بٹھایا تھا۔۔۔۔۔

جانتا تھا آفس سے جب وہ واپس آتا تھا تو وہ اسے پورے دن کی روداد سناتی تھی۔اور اب تو چار دنوں کی خبریں تھیں۔ہارون سکندر۔۔۔۔ بڑی دلچسپی سے اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا۔ جو آج اسے کچھ بتانے کی بجائے منھ بنا کر بیٹھی اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔

سوری بیگم۔۔۔۔وہ اپنی بیوی کو ایک منٹ بھی ناراض نہیں دیکھ سکتا تھا۔

فوزیہ سکندر۔۔۔۔۔۔ نے اپنے اتنے چاہنے والے شوہر کو دیکھ کر دل میں اپنے رب سے اسکی زندگی کی دعا مانگی تھی۔ان چار دنوں میں ا سے احساس ہوا تھا۔۔۔۔ کہ وہ اپنے شوہر کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتی۔۔۔۔

وہ خدا کا شکر ادا کرتے اسکے کندھے پر اپنا سر رکھے آنکھیں موند گئی تھی۔۔

***************************************

جنت کی جب آنکھ کھلی۔۔۔۔ اتنی تیز دھوپ دیکھ کر جلدی سے اپنے ساتھ والی چارپائی پر لیٹی اپنی امی کو د یکھا۔۔۔ جو اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔امی آپ نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں ۔۔۔۔ اتنی دھوپ میں لیٹی ہوئی ہیں ۔۔۔

وہ جلدی سے اپنی امی کو گود میں اٹھاتی کمرے میں جا کر بیڈ پر نرمی سے لیٹایا تھا۔۔۔۔

جنت مجھے لیٹنا نہیں ہے مجھے بیٹھنا ہے۔۔۔۔ امی میں باہر سے چارپائیاں اٹھا لوں۔۔۔۔ پھر آپ کو بیٹھاتی ہوں۔۔۔۔وہ جلدی سے باہر جاتے اپنے کھنڈر نما گھر کو دیکھا جس کا سارا فرش ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔

وہ جھاڑو بھی بڑی مشکل سے لگاتی تھی ۔۔۔۔ جب اماں ہوتی تھی۔۔۔ تو کتنا خیال رکھتی تھیں ۔۔۔۔ اب وہ تنہا سب کام کرتی تھیں ۔

اماں اب تو مہنوں بعد چکر لگاتی تھیں وہ بھی اپنے گھر کو جب دیکھنے آتی تو اسے کپڑے اور جوتے دے جاتی تھیں۔۔۔اب وہ اپنی چھوٹی بیٹی کے پاس رہتی تھیں۔۔۔۔ابا کی ڈیتھ کے بعد وہ زبردستی ہی اپنے ساتھ لے گئیں تھیں ۔۔۔

اللہ ایک در بند کرتا ہے تو دوسرا کھول دیتا ہے۔۔۔۔وہ چہرا اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔۔ جسے وہ بارہ سال کی عمر سے دیکھتی آ رہی ہے۔۔۔۔اس فرشتہ صفت انسان نے جیسے اس کے سارے دکھ ہی ختم کر دیئے تھے۔۔۔۔

وہ تصور میں اس شخص کو سوچتی رہتی تھی۔۔۔ وہی تو ایک چہرا تھا ۔۔۔۔ جو اسے اچھا لگتا تھا اسنے کبھی اس پر غلط نظر نہیں ڈالی تھی۔۔۔۔ وہ اب اسکے خیالوں میں کھو ئی یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اس دن کے بعد دوبارہ ہاسپٹل نہیں آ ئے تھے۔۔۔۔اسکی شرم نے اجازت نہیں دی کہ وہ ان کے بارے میں انکل سے پوچھ لے پردعا اسکے لئے ضرور کرتی تھی۔۔۔

لیکن وہ اللہ سے اپنی غریبی کا شکوہ کرنا نہیں بھولتی تھی۔آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہنے لگے۔۔۔۔ اسکی ماں نے تو کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا۔۔۔۔ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے اپنا تن من سب کچھ ہی تو مار دیا تھا۔۔۔

جنت۔۔۔۔ جی امی آئی ۔۔۔۔وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آئی تھی۔۔۔۔اب وہ پیڈسٹل فین اٹھاتے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔

**************************************