Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 24)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 24)
Ehsaas By Raheela Bano
ہارون سکندر ۔۔۔ کب سے لان میں بیٹھا تھا۔۔۔لان کی ساری لائٹ آف کروا چکا تھا۔۔۔۔ پریشانی کے عالم میں اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔۔؟
ایک طرف کرن اور حدید دونوں اپنی اپنی ضد پر قائم تھے ۔۔۔۔دوسری طرف خُبیب کا رات کو اتنی لیٹ آنا۔۔۔۔ اور سنڈے والے دن گھر سے غائب رہنا ۔۔۔۔
اسکا یوں راتوں کو لیٹ آنا وہ کسی صورت بھی برداشت کر سکتے تھے۔۔۔
وہ بچی تو ناسمجھ ہے ۔۔۔ وہ اسے ڈرتی ہی اتنا تھی۔۔۔۔۔۔ زرا سا اسکے سخت بولنے سے تھر تھر کانپنے لگتی وہ بیچاری اسے کیا پو چھے گی۔۔۔؟
موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا تو رات کے دو بج گئے تھے ۔۔۔۔ یہ کونسا ٹائم ہے گھر آنے کا۔۔۔؟
اتنی دیر میں میسج ٹون پر میسج اوپن کیا تو جنت کا تھا۔۔۔۔ڈیڈ وہ ابھی تک نہیں آئے۔۔۔۔۔۔ نہ ہی کال اٹینڈ کر رہے ہیں۔۔۔وہ ایسے میسج کر رہی تھی جیسے اسے یقین ہو کے میں جاگ رہا ہوں۔۔۔۔
آپ سو جائیں وہ ابھی لیٹ ہیں ۔۔۔ میسج ٹائپ کرتے اسے سینڈ کیا تھا۔۔۔ موبائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے عجیب سے وسوسوں میں گھر گئے تھے ۔۔۔
سکندر صاحب۔۔۔۔آپ ابھی تک جاگ رہے ہیں ۔۔۔ فوزیہ سکندر کی آواز پر وہ سیدھے ہوئے تھے۔۔۔بس نیند نہیں آ رہی تھی۔۔۔ اس لئے لان میں آگیا تھا۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائے تھے۔۔۔۔ اب فوزیہ سکندر بھی انکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
میں جانتی ہوں آپ حدید کی وجہ سے پریشان ہیں اگر اللہ انہیں اولاد دے دیتا تو شاید حالات ایسے نہ ہوتے۔۔۔۔
میں نوٹ کر رہی ہوں وہ اب تلخ سا ہو گیا ہے۔۔۔ میں تو سمجھی تھی بچوں کی شادیاں کر کے زندگی سہل ہو جائے گی۔۔۔۔ اب مجھے لگ رہا ہے کے بچے پیدا کرنے بھی مشکل نہیں ہیں پالنے بھی۔۔۔. یہ رشتوں کے مراحل ۔۔۔۔ پھر بعد آنے والے حالات انسان کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔۔۔
اپنے بچوں کو اپنی سوچ کے ساتھ لے کے چلیں ہیں۔۔۔۔ آنے والی پرائی بچیاں ہیں۔۔۔ انکی اپنی سوچ ہے۔۔۔ دو دنوں سے جنت پتہ نہیں کہاں جاتی ہے۔۔۔۔ ؟
اس نے بتانا تک گوارا نہیں کیا۔۔۔۔۔ وہ بھی مجھے ملازمہ نے بتا یا کے وہ نو بجے جاتی ہیں ۔۔۔ایک بجے کے قریب آجاتی ہیں۔۔۔ وہ اسنے مجھے بتایا تھا ۔۔۔ کہ وہ اپنی امی کی قبر پر جاتی ہے۔۔۔۔ ہارون سکندر کھڑے ہوتے بولا تھا۔۔۔لیکن اس کا اس حال میں قبرستان جانا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
وہ رنجیدہ سی بول رہی تھیں۔۔۔
اپنے دماغ پر اتنا زور نہ دو ۔۔۔۔۔۔چلو کمرے میں چلتے ہیں۔۔۔ ہارون سکندر یہ کہتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑتے روم کی طرف بڑھے۔۔۔
******************************
رات کا آخری پہر تھا۔۔۔ وہ ابھی تک نہیں آئے تھے۔۔اتنی دیر سے پہلے کبھی نہیں آئے تھے ۔۔۔ دل میں عجیب سے وسوسے آ رہے تھے۔۔۔رات کا کھانا انکی پسند کا بنایا تھا۔۔۔
آنسو اسکی گالوں سے بہتے ہوئے اسک گردن میں جزب ہو رہے تھے۔۔۔اب چلنا بھی اسے مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔ہاتھ پاؤں اسکے یخ ٹھنڈے ہو گئے تھے ۔۔۔۔دل بری طرح ڈھڑکنے لگا ۔۔۔۔
وہ بمشکل بیڈ پر آ کر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی سانس لینے میں اسے دشواری ہو رہی تھی۔۔۔
ایسا کیا کیا ہے میں نے۔۔۔۔۔۔؟
کس گناہ کی سزا دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔میرا قصور کیاہے۔۔۔؟
بس یہ ہی کہ میں ایک غریب لڑکی ہوں۔۔۔میرے آگے پیچھے کوئی نہیں۔۔۔۔بس یہ شخص مجھے اس گناہ کی سزا دینے پر تلا ہوا ہے۔۔۔اور میں یہ سزا کیوں جھیلوں۔۔۔۔؟؟
اتنی دیر میں دروازہ کھلنے کی آواز پر اسنے گردن اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔جو موبائل کان کو لگائے کمرے میں داخل ہو ئے تھے۔۔۔اس ٹائم یہ کس کو کال کر رہے ہیں ۔۔۔۔ شک اس ٹہنی پر بدگمانی کے پھول تیزی سے کھلے تھے۔۔۔۔
کہاں تھے آپ۔۔۔۔؟
وہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اترتی دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسکے مقابل آئی تھی۔۔۔
وہ اس کی ہمت پر حیران ہوا تھا۔۔۔۔
ایسے کیادیکھ رہے ہیں وہ بڑے اعتماد سے بولی۔۔۔۔؟
اب وہ خاموش گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ جو اسکے اس طرح دیکھنے پر اپنا رخ پلٹ گئی تھی۔۔۔۔
اسکی یہ حرکت دیکھ کر وہ طیش میں آ گیا تھا۔۔۔ہر طرح کی آزادی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ تم مجھ سے اس طرح سے بات کرو۔۔۔اسنے بے دردی سے کھنچتے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔
مجھے ایسی آزادی نہیں چاہئے۔۔۔۔ وہ غصے سے چیخی تھی ۔۔۔۔
”اپنی زبان کو لگام دو۔۔۔۔”
وہ انتہائی غصے کے عالم میں اس کا منھ دبوچتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔
اسے اتنے غصے میں دیکھ کر وہ تھر تھر کانپنے لگی۔۔۔۔ دل ایسے جیسے بند ہو جائے گا۔۔۔ کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔؟
اب وہ شدت گریہ میں اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔ اب اس طرح جم کے کھڑے رہنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی پنگا لینے کی۔۔۔؟
وہ اپنے آپ سے ہی الجھنے لگی۔۔۔ جبڑا انکی گرفت میں ایسے تھا جیسے ابھی ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔تکلیف کی شدت سے اسنے اپنی آنکھیں بند کی تھی۔۔۔
اچانک آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔ مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا۔۔۔۔ وہ بس ہونٹوں کو ہلا ہی سکی تھی۔۔۔اچانک جبڑے پر گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔۔۔۔۔۔
آپ بس یہ ہی چاہتے ہیں کہ میں آپ سے دب کر رہوں۔۔۔ غصے میں
اسنے چکراتے سر کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے بمشکل بولی تھی ۔۔۔ بس دھندلا دھندلا عکس دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔اپنے ہاتھوں سے بیڈ کو ٹٹولنے لگی۔۔۔۔ خُبیب سکندر۔۔۔۔ نے اسکی حالت دیکھتے اسکو تھاما تھا۔۔۔ جنت نے بری طرح اس کے ہاتھ جھٹکے تھے ۔۔۔۔ مجھے آپ کے سہارے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ وہ ہلک کے بل چیخی تھی ۔۔۔
خُبیب سکندر۔۔۔۔ اسکی حالت دیکھ کر تڑپ گیا تھا۔۔۔ پورا وجود برف کی طرح ٹھنڈا پڑھ رہا تھا۔۔۔۔ اسنے اسے تھامتے ہوئے موبائل سے کرن کو میسج کیا تھا۔۔۔۔
اب اسے گود میں اٹھا کر بیڈ پر نرمی سے لیٹایا تھا۔۔۔۔وہ ابھی تک اس حالت میں اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ یقنناً کچھ کھایا پیا بھی نہیں ہو گا۔۔۔
اسکی ہر چیز برداشت کر سکتا تھا ۔۔۔وہ اس لہجے میں بات کرے بلکل بھی نہیں برداشت کر سکتا تھا۔۔۔ بند آنکھیں لیکن پلکیں ہلکی ہلکی لرز رہی تھیں۔۔وہ ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے ماتھا مسلنے لگا۔۔۔
*******************************************************
ہارون سکندر کب سے گاڑی میں بیٹھا ۔۔۔۔۔ خُبیب سکندر کا فلیٹ سے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ اسے گئے ہوئے تقریباً دو گھنٹے ہو گئے تھے ۔۔۔۔ ہارون سکندر کے پریشانی میں پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔۔۔
یہ اتنی دیر سے یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔؟
”لیکن آج اسے ہر حال میں سچ جاننا تھا۔۔۔۔ وہ رات کے اس پہر یہاں کیا کرنے آتا ہے۔۔۔؟”
ٹیشو پیپر نکالتے اسنے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا تھا۔۔۔۔دل تو کر رہا ہے کہ اسی طرح اسکے پیچھے چلا جاؤں ۔۔۔۔۔ پر غیرت کو یہ گوارہ نہ تھا ۔۔۔ جوان بیٹا تھا۔۔۔۔ جزبات میں آ کر کچھ غلط نہ ہو جائے ۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے اسے لگا کہ کچھ دیر مزید انتظار کر لیتاہوں۔۔۔
اسی طرح خود سے الجھتے کافی ٹائم گزر گیا۔۔۔آخر کار وہ اسے آتا دیکھائی دیا۔۔۔
وہ اب اسکا گاڑی میں بیٹھنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں اسکی گاڑی روڈ کراس کرتی نظر آئی تو وہ جلدی میں گاڑی سے اترا۔۔۔
اور تیزی سے اس فلیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے بیل دی یہاں سے وہ باہر نکلا تھا۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ایک لڑکے نے دروازہ کھولا۔۔۔۔
جی آپ کون۔۔۔۔؟
میری چھوڑو۔۔۔۔ تم بتاؤ تم کون ہو۔۔۔؟
وہ اندر داخل ہوتے بولا۔۔۔۔
سر آپ ایسے کیسے اندر جا سکتے ہیں۔۔۔۔؟
وہ لڑکا بڑے اعتماد سے بولا۔۔۔۔ مجھے یہ بتاؤ ۔۔۔۔ یہ جو ابھی باہر گئے ہیں یہ کب سے یہاں آتے ہیں۔۔۔۔؟
سر جب تک آپ مجھے بتائیں گے نہیں کہ آپ کون ہیں ۔۔۔۔؟
میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔۔۔
وہ جیسے ہی آگے بڑھا اسے اور بھی کئی لڑکے نظر آئے جو خوش گپیوں میں مصروف تھے اور کچھ نیچے چٹائی بچھائے اوندھے منھ لیٹے ہوئے تھے۔۔۔۔
حیدر۔۔۔۔۔ اس بارعب پرسنالٹی والے شخص کو اندر داخل ہوتےدیکھ کر چونکا تھا۔۔۔۔۔۔ جو اسکی بات سنے بغیر اندر تک آ گئے تھے۔۔۔۔ ہارون سکندر نے رسٹ واچ پر ٹائم دیکھا تو ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔۔۔
اب اسنے سرسری نگاہ چاروں اطراف ڈالی۔۔۔اسے سوائے دس بارہ لڑکوں کے کچھ بھی نظر نہیں آیا۔۔۔
تم لوگ یہاں کیا کرتے ہو۔۔۔۔۔ ؟
وہ اپنی بھاری گمبھیر آواز میں بولے۔۔۔جی ہم گاؤں سے شہر کمانے کے لئے آئے ہیں۔۔۔۔حیدر نے اپنی طرف سے بڑی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ہارون سکندر نے اچھا پر کافی زور دیا تھا۔۔۔
تم یہاں کتنے لوگ رہتے ہو ۔۔۔۔؟
اسنے اگلا سوال کیا۔۔۔۔ اب صوفے پر بیٹھے لڑکے خوف زدہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔
جی۔۔۔۔ بارہ حیدر نے دھیمی سی آواز میں کہا اندر سے وہ خود بھی ڈر گیا تھا۔۔۔۔
دیکھیں سر آپ اپنا تعارف کروائے بغیر ہم سے کچھ بھی پوچھنے کا حق نہیں رکھتے۔۔۔۔۔وہ اپنی ہمت جمع کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ تم لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ اصل میں خُبیب کا بزنس پارٹنر ہوں ۔۔۔۔اسے یہاں سے نکلتے دیکھ کر سوچا۔۔۔۔ کہ شاید وہ یہاں رہتے ہیں ۔۔۔ جاتے جاتے اس سے ملتا جاؤں ۔۔۔۔
نہیں آپکی ان سے ملاقات کل رات دس بجے کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔۔۔اس سے پہلے نامکمن ہے۔۔۔
ٹھیک ہے میں سنڈے والے دن آجاؤں گا۔۔۔۔ہارون سکندر کو جو بات بے چین کئے ہوئے تھی شاید اسکا جواب ان سے ہی مل جائے۔۔۔۔
سر سنڈے والے دن تو بہت مشکل ہے ۔۔۔ حیدر اب اس شخص کو دیکھ رہا تھا جو پریشانی سے اپنے ماتھے کو انگلیوں کی مدد سے دبا رہے تھے۔
”کیوں۔۔۔؟”
ہارون سکندر ۔۔۔۔ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ سنڈے والے دن غریب عورتوں کے مسائل سننتے ہیں ۔۔۔ اور اس دن تو انکے پاس سر کجھانے کا ٹائم نہیں ہوتا۔۔۔۔ بلکہ نہ خود سکون کرتے ہیں ۔نہ ہمیں کرنے دیتے صوفے پر بیٹھا لڑکا منھ بناتے ہوئے بولا۔۔۔
جس پر حیدر نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔۔ جو بوجھ اتنے دنوں سے اپنے اندر لئے پھرتے تھے ۔۔ اب پرسکون سا سانس ہوا میں چھوڑا تھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں آفس میں ہی ان سے مل لوں گا۔۔۔ہارون سکندر ۔۔۔ ایک نظر ان سب پر ڈالتے ہوئے باہر کی سمت بڑھا تھا۔۔۔۔
******************************************************
خُبیب سکندر ۔۔۔ تھکا تھکاجب روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔تو سامنے بیڈ پر بکس پھیلائے بیٹھی تھی۔۔۔۔بلیک سوٹ ہم رنگ ڈوپٹہ جسے شانوں پر پھیلایا ہوا تھا۔۔۔
بلیک سلکی بال ایسے ہی کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔۔۔۔ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک۔۔۔ لگائی ہوئی تھی۔۔۔ اور اب بار بار اپنے بال کانوں کے پیچھے کر رہی تھی۔۔۔
اسنے اسکے آنے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ورنہ وہ زرا سی اہٹ پر اٹھ کر بیٹھ جاتی تھی۔۔۔ اب اسنے موبائل بیڈ پر زور سے پٹخا تھا۔۔۔ پھر بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔۔۔وہ اب ٹٹولتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
رات اسنے کہا تھا کی اسکے آنے سے پہلے سو جایا کرے پھر بھی وہ جاگ رہی تھی۔۔۔
اسکا اس طرح نظر انداز کرنا اسے آگ لگا گیا تھا۔۔۔
کچھ کھانے کو ہے ۔۔۔۔ وہ بمشکل اپنے غصے پر کنٹرول کرتے ہوئے ۔۔۔گرنے والے انداز میں دیوان پر بیٹھا تھا۔۔۔
جہاں سے آئے ہیں وہاں سے کھانے کو نہیں ملا وہ اسے دیکھے بغیر بولی تھی۔۔۔
وہ جس طرح بیٹھا تھا اسی طرح کرنٹ کھا کر اٹھا تھا۔۔۔۔۔پہلے تو اس کا انداز ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اور اب اسکی بات سن کر غصے سے اسکی آنکھوں کی سرخی بڑھی تھی۔۔۔
وہ جتنی اسکے ساتھ نرمی برت رہا تھا۔۔۔۔ وہ اتنی ہی زبان دراز ہوتی جارہی تھی۔۔۔۔
”کھانا لیکر آؤ۔۔۔۔”
وہ غصے میں دھاڑا تھا۔۔۔۔۔ جنت اسکی دھاڑ پر ایک دم اچھلی تھی۔۔۔۔
جیسے ہی اس کی نظر اسکی سرخ آنکھوں پر پڑی وہ اندر ہی اندر کانپ گئی تھی۔۔۔اسکے سفاک انداز پر تھوک نگلتے ہوئے زبان اپنے ہونٹوں پر پھیری تھی۔۔۔۔
اب وہ کھانا لینے جانے کی بجائے تکیہ سیدھا کرتے بیڈ پر آرام سے لیٹ گئی تھی۔۔جتنا میں جلتی کڑھتی ہوں اس سے زیادو آپکو جلاؤں گی۔۔۔ اسنے اپنے دل میں سوچا تھا۔۔۔
وہ کھڑا اب ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔جس نے بیڈ سے بکس کو اٹھانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔
وہ ایک قہر بار نظر اس پر ڈالتے غصے کے عالم میں روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔
جنت انہیں اتنے غصے میں جاتے دیکھ کر انکے پیچھے ہی لپکی تھی ۔۔۔۔ خود ہی تو کہا تھا آپ نے کہ میرے آنے سے پہلے سو جانا۔۔۔۔وہ پیچھے سے اونچی آواز میں بولی تھی۔۔۔۔
اِزنا ۔۔۔میں بہت غصے میں ہوں۔۔۔۔۔
بہتر یہ ہی ہے کے تم روم میں چلی جاؤ۔۔۔ وہ رکے بغیر بولا تھا۔۔۔۔مجھے بھی بھوک لگی ہے ۔۔۔۔میں نے بھی کھانا نہیں کھایا۔۔۔جواب نہ پاکر جنت اب اسکی چوڑی پشت گھور کر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
*********************************************
شام کا وقت تھا سب لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔۔ موسم کافی خوشگوار تھا۔۔۔۔ جنت روم میں لیٹے لیٹے تھک گئی تھی۔۔۔ وہ بھی لان میں سب کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے لان میں ٹہلنے لگی۔۔۔عادل انکل کی وجہ سے سب گھر جلدی آگئے تھے ۔۔۔ کرن جو حدید بھائی کے پاس روم میں تھی ۔۔۔
انکی چائے اسنے روم میں ہی بھجوا دی تھی۔۔۔۔جنت بچے ۔۔۔۔جی ڈیڈ وہ بڑے ادب سے بولی۔۔۔۔ میں تمہاری مس کے گھر گیا تھا۔۔۔۔وہ پیسے میں نے اسکے شوہر کو دے دیئے تھے۔۔۔وہ گھر پر نہیں تھی۔۔۔۔۔
ڈیڈ اس کا شوہر تو نشہ کرتا تھا۔۔۔۔ وہ اسے بتائے گا ہی نہیں وہ انکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بولی۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔ کو اسکی یہ حرکت بڑی زہر لگتی تھی۔۔۔۔ ڈیڈ وہ تو پیسے میں نے انہیں دے دیئے تھے ۔۔۔۔ وہ ہارون سکندر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔؟
جنت حیرت کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔کہیں مس نے سچ
انہیں بتا تو نہیں دیا۔۔۔۔نہیں بتایا ہو گا ۔۔۔۔ اگر بتایا ہوتا تو یہ ضرور مجھے دن رات اسکے طعنے دیتے۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔۔ اب اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کتنا بھیانک دن تھا ۔۔۔ جب وہ صفائی کرنے کے لئے گئی تھی ۔۔۔ تو اس پر چوری کا الزام لگا دیا۔۔۔۔ وہ یقین دلا دلا کر تھک گئی تھی۔۔۔۔۔کسی طور پر بھی مس نے اسکی بات کا یقین نہیں کیا۔۔۔۔؟
اسٹک سے مار مار کر اسکے ہاتھ اور جسم نیلا کر دیا تھا۔۔۔ کتنے دن وہ سیدھی سو بھی نہیں سکی تھی۔۔۔۔مار مار کر پولیس کی دھمکی دے دی تھی۔۔۔۔ پولیس کے خوف سے ۔۔۔۔اسے وہ گناہ قبول کرنا پڑا جو اسنے کیا ہی نہیں تھا۔۔۔۔؟
وہ بے یقینی کے عالم میں خُبیب سکندر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ایک دم شور کی آواز پر وہ چونکے تھے۔۔۔۔ یہ لاؤنج میں شور کیسا ہے۔۔۔۔؟
ہارون سکندر ۔۔۔۔ کے پیچھے خُبیب سکندر بھی لاؤنج کی طرف جا رہے تھے۔۔۔
یقینا کرن بھابھی کی ماما ہوں گی۔۔۔۔ وہ اپنے دل میں ایک نئی خلش لئے لاونج کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔
**************************************
تم ابھی اسی وقت میری بیٹی کو طلاق دو۔۔۔۔۔۔ تم نے امریکہ جانا ہے تو جاؤ۔۔۔۔۔ مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔پر میری بیٹی کسی صورت بھی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی ۔۔۔۔ وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ سب ہی بت بنے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ حدید جو خاموشی سے کرن کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ جیسے اسکے جواب کا منتظر ہو۔۔۔۔۔
اور وہ خاموشی سے کھڑی تھی ۔۔۔۔ کرن تم بول کیوں نہیں رہی۔۔۔۔۔؟
تم نے ایک چور کے بیٹے کا انتخاب کیا میں خاموش رہی ۔۔۔۔ ؟
بس اسے آگے ایک لفظ اور نہیں عادل صاحب کی گرج دار آواز پر۔۔۔۔۔سب ہی چونکے تھے۔۔۔۔
تم سب لوگوں نے مل کر میرے ساتھ کھیل کھیلا ہے۔۔۔۔ وہ ہلک کہ بل چیخی تھی۔۔۔۔۔
اور تم اتنے سالوں سے کہاں تھے۔۔۔۔؟
اب اچانک تمہیں اپنی بیٹی کی یاد آ گئی وہ عادل صاحب کا گریبان پکڑے کھڑی تھی۔۔۔۔
میرا گریبان چھوڑ دو۔۔۔۔ وہ غصے میں بولا تھا۔۔۔۔ میں تمہارا لحاظ صرف اس لئے کر رہا ہوں ۔۔۔ کہ تم میری بیٹی کی ماں ہو۔۔۔۔ اور کیا کہہ رہی تھی تم۔۔۔۔ ؟
چور ہے ۔۔۔۔ وہ چور نہیں تھا بلکہ تمہارا باپ اسکا قرض دار ہے۔۔۔ بہتر یہ ہی ہے ۔۔۔ کہ تم اپنا منھ بند ہی رکھو۔۔۔۔ وہ غصے میں دھاڑا تھا۔۔۔۔ کرن جو منھ پر ہاتھ رکھے سسک رہی تھی۔۔۔۔
تم ہوتے کون ہو مجھ سے اس طرح بات کرنے والے۔۔۔۔ اور میری بیٹی کے مامعلے سے دور ہی رہو تمہارے لئے یہ ہی بہتر ہو گا۔۔۔۔
کرن میرے ساتھ چلو۔۔۔۔ ثمنیہ بیگم ۔۔۔۔ اسکا بازو جکڑے ہوئے کھڑی تھی۔۔۔۔
کرن ۔۔۔ اس گھر سے کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔اب عادل صاحب اسکے مقابل آیا تھا۔۔۔۔
دیکھتی ہوں پھر مجھے کون روکتا ہے۔۔۔۔؟
اس سے پہلے کرن زمین بوس ہوتی عادل صاحب نے اسے تھام چکے تھے ۔۔۔۔ خُبیب گاڑی نکالو ۔۔۔۔ وہ اسے گود میں اٹھائے اپنی کپکپاتی آواز میں بولے تھے۔۔۔۔۔۔۔حدید کے قدم ایک دم لڑکھڑائے تھے۔۔۔
**************************************
